اسلام کے نزدیک ایک عورت اپنی نوع کے اعتبار سے مردکی تابع محض نہیں بلکہ اس کی اپنی علحٰیدہ مکمل شحصیت ہے۔ وہ دین ودنیا دونوں اعتبارات سے اپنا پورا وجود رکھتی ہے۔ اسے اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے ،دین کی خدمت کرنے ، تعلیم حاصل کرنے ، ملازمت یا کاروبارکرنے ، ملکیت حاصل کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے اور کسی تخلیقی کام میں اپنی صلاحیت ظاہر کرنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا ایک مرد کو ہے۔اس کا دین اور اس کی دنیا دونوں کسی کی تابع نہیں ۔ وہ ہر اعتبار سے اپنی شحصیت مالک ہے ۔ اس کی حقیقت کے دینی پہلو کو قرآن مجید نے یوں بیان کیاہے۔  تفصیل سے پڑھئے

اِنَّ المُسْلمینَ والْمُسْلمٰتِ وَالْمُوْمِنینَ والْمُومناتِ والقٰنِتِینَ وَالقٰنِتٰتِ وَالْصٰدِقِیْن وَالْصّٰدِقٰت والصٰبرین ولصٰبرٰتِ والخشعین والخشعٰتِ والمُتصدِّقین والمتصدقٰتِ والصآ ءِمین والصّٰءِمت والحٰفیظین فُرُوْجَہُمْ وَالحٰفِظٰتِ والذّٰکرینَ اللہَ کثیراً وَّالذٰکرٰتِ اعَدَّ اللہُ للھُمْ مغْفِرَۃًوَّاجْرَعظیمْاً
" مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ،مومن مرد اور مومن عورتیں ،فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں ، راست بازمرد اور راست بازعورتیں ، صابر مرد اور صابرعورتیں ، عاجزی کرنے والی مرد اور عاجزی کرنے والے عورتیں ، صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں ، روزہ رکھنے والے مرداور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کرنے والے مرداور عصمت کی حفاظت کرنے والی عورتیں ، اللہ کو یاد کرنے والے مرد اور اللہ کو یاد کرنے والی عورتیں ، یقیناًان سب کے لئے اللہ نے مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔" 

درج بالا آیت میں جن صفات کا ذکر ہوا ہے وہ تعداد میں دس ہیں ۔ ان دس صفات میں اسلام اور اسلامی اخلاق وکردار کے تمام پہلو سمٹ آئے ہیں ۔ ان کا تعلق حقوق اللہ سے بھی ہے اور حقوق العباد سے بھی۔ اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عبادت و اطاعت اور اُخروی درجات و فضائل میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی تفریق نہیں۔ جنس کی بنیاد پر دونوں کے درمیان کوئی امتیازنہیں۔جہاں تک دنیا اور اس کے مال و اسباب کا تعلق ہے اس ضمن میں قرآن مجید نے یہ اصول بیان کیاہے۔

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌُ مِمَّا اکْتَسِبُوْ وَلِنِّسَآءِ نَصیْبٌُ مِمَّااکْتَسَبْنَ وَسْءَلُوااللہَ مِنْ فَضْلِہٖ اِنَّ اللّٰہَ کاَنَِ بِکُلِّ شَیْیءٍ عَلِیماً (نساء 4- آیت 32-)
" جوکچھ مردوں نے کمایا ہے (یا کماتے ہیں)۔ اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے (یاکماتی ہیں) ۔اس کے مطابق ان کا حصہ ہے۔ "

سورۃ نساء میں بنیادی طور پر ان دنیوی مالی امور اور دوسرے معاملات پر بحث کی گئی ہے جو مردوں اور عورتوں مثلاً میاں بیوی یاخاندانی رشتہ داروں کے مابین وجود میں آتے ہیں۔ درج بالا آیت کے معاًبعد قانون وراثت کی ایک شق بیان ہوئی ہے اور اس کے بعد میاں بیوی کے آپس کے تعلقات کے ضمن میں یہ ہدایت دی گئی ہیں۔گویا سیاق وسباق (context) سے یہ بات واضح ہے کہ اس آیت کا تعلق اصلاً دنیوی زندگی سے ہے۔ اور اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ایک خاتون کو تعلیم حاصل کرنے ،ملازمت یاکاروبار کرنے ، جائیداد کی خرید وفروخت غرض یہ کہ اپنی شحصیت کے تعمیر کرنے کا اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا کہ کسی مرد کو ہے۔
اسی مفہوم کی اور بہت سی آیات قرآن مجید میں جابجا ارشاد ہوئی ہیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اصلاً مرد و عورت میں کوئی فرق نہیں ۔ ان کے درمیان ذمہ داریوں کے بوجھ اٹھانے میں فرق ہوسکتا ہے(جیساکہ آگے اس کتاب میں تفصیل آئے گی) ۔تاہم دونوں ہی انسان ہیں اور دونوں کے بنیادی حقوق و مراعات یکساں ہیں ۔ارشاد ہے۔

اَنِّی لااُضیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْکُمْ مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ (آل عمران3 - آیت 95- )
" میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں۔ خواہ مرد ہو یا عورت ، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔"

سورۃ توبہ میں پروردگار نے تمام مومن مردوں اور تمام مومن عورتوں کو ایک دوسرے کا دوست ،مددگار اور معاون قرار دیاہے۔گویا عورتیں عمومی طورپر مردوں کی تابع نہیں ۔ بلکہ ان کے برابر اور ان کی دوست ہیں۔البتہ ذمہ داریوں کے اعتبار سے مخصوص حالات میں حفظ مراتب ہو سکتاہے۔ جیسے حاکم اور شہری کا فرق۔

وَالْمُوْمِنونَ وَالْمُومِنَاتْ بَعْضُھُم اَوْلِیآءُ بَعْضٍ یَاْمُرُوُنَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرْ وَیُقِیْمُونَ الّصَّلوٰۃَ وَیُوْتُونَ الزَّکَوٰۃ وَیُطِیْعُونَ اللہَ وَرَسُولَہ‘ اُولٰٓءِکَ سَیَرُحُمُہُم اللہُ اِنَّ اللہَ عزیزُ‘حَکِیمْ۔(توبہ 9- ،آیت 71- )
" مومن مرد اور مومن عورتیں ،یہ سب ایک دوسرے کے دوست (اور مدگار ومعاون )ہیں۔ بھلائی کی تلقین کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ۔نماز قائم کرتے ہیں اور زکواۃ اداکرتے ہیں ۔اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہوکر رہے گی۔ یقیناًاللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے۔"

یہی وجہ ہے کہ دور نبوی ؐ میں عورتیں دین کا علم بھی حاصل کرتی تھیں ، دنیا کا علم بھی حاصل کرتی تھیں۔ زراعت بھی کرتی تھیں ۔ تجارت اور صنعت و حرفت کاکام بھی کرتی تھیں اور اپنی جائیداد اور مال و اسباب کا انتظام بھی سنبھالتی تھیں۔حضرت عائشہؓ کے متعلق تو سبھی جانتے ہیں کہ ان سے ہزاروں کی تعداد میں احادیث روایت کی گئی ہیں۔ ان سے مروی احادیث کی تعداد دو ہزار دو سو دس ہے۔(صدارت الذھب جلداول)
امام ابن قیم نے دور نبوی ؐ کے صحابہ وصحابیات میں جو فقیہہ (Jurists)تھیں اور جنہوں نے قانونی معاملات پر اپنی آراء دیں اور فیصلے کئے۔اُن کی فہرست مرتب کرکے واضح کیاہے کہ ان میں ایک بڑی تعداد خواتین کی تھی۔ مثلاً حضرت عائشہؓ ،حضرت ام سلمہؓ ، حضرت حفصہؓ ، حضرت صفیہؓ ، اُم عطیہ ، اُم صبیہ ، لائلہ بنت قائم ، اسماء بنت ابوبکر،ام شریک ۔ خولہ، بنت ام درداء، عتیقہ بنت زید ، سہلہ بنت سہیل، جویریہ ، میمونہ، فاطمہ بنت قیس، ام ایمن ، ام یوسف، اور عاصریہؓ وغیرہ ان میں شامل ہیں۔ (اعلام الموقعین ۔ جلد اول)
دور صحابہ کی تاریخ مرتب کرنے والی کتابیں ایسی صحابیات کے تذکروں سے بھری پڑی ہیں جنہوں نے دینی علم کے مختلف شعبوں میں کمال حاصل کیا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ بے شمار بڑے علماء نے انہی خواتین سے دین کا علم حاصل کیا۔ پورے دور صحابہؓ میںیہ ایک عام طریقہ تھا کہ لوگ امہات المومنین کے پاس اپنے دینی مسائل کے حل کیلئے رجوع کرتے تھے۔ مگر ان کے علاوہ بھی بے شمار خواتین اس معاملہ میں مشہور ہیں۔ مثلاً بنت ربعی بنت معوذؓ ایک بڑی عالمہ تھیں۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت ابن عمرؓ ان سے سیکھتے تھے۔ بہت سے آدمیوں نے ان سے حدیث روایت کی ہے مثلاً سلمان بن یاسر، عباد ابن ولید ، نافع مولا ابن عمر ۔ اسی طرح فاطمہ بنت قیس چند بہت بڑے علماء مثلاً ابن مسیب ،عروہ ابن زبیر اور شعبی کی استاد تھیں۔ (الاسیتعاب فی الا اسماء والاصحاب)
سعد بن وقاصؓ کی بیٹی عائشہ بھی بہت بڑی عالمہ تھیں۔ ان کے شاگردوں میں امام مالک ،ایوب سختیانی اور حکم بن عتیبہ جیسے علماء وفقہاء شامل تھے۔ (تہذیب الشہذیب جلد دوازدھم)۔ اسی طرح امام شافعی جیسے عظیم انسان نے علم حدیث سیدہ نفسیہؒ سے حاصل کیا جو حضرت حسنؓ کی پوتی تھیں۔(وفیات الاعیان الابن خلکان ۔ جلد دوم)
یہی حال دنیوی علم و ادب کا تھا۔ مثلاً شاعری کے میدان میں بیسیوں صحابیات کا ذکر آتاہے جن میں حضرت خنساء ،سودہؓ ، صفیہؓ،عاتکہؓ ، مریدیہؓ، ام ایمنؓ اور کئی دوسرے نام شامل ہیں ۔ طب اور جراحت (میڈیسن اور سرجری) کے ضمن میں رفاضہ اسلمیہؓ ، ام مطاع ؓ ، ام کبغہؓ ، صمنہ بنت حجشؓ ،ام عطیہ ؓ اورام سلیمؓ کے علاوہ کئی دوسری صحابیات بہت مشہور تھیں۔ (طبقات ابن سعد،اصابہ)
دور صحابہ میں خواتین کا لکھنا پڑھنا اور دنیاوی علم حاصل کرنا بالکل عام تھا۔اس ضمن میں گنتی کے حوالے سے اگر ہمیں عورتوں کی تعداد کم نظر آتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس زمانے میں تعلیم اس طرح عام نہ تھی جیسے آج ہے۔طبقات ابن سعد کے مطابق عام عورتیں بھی حساب کتاب کر سکتی تھی اور تحریر کر سکتی تھیں۔ (طبقات ابن سعد۔جلد ہشتم)۔ "الادب المفرد" کے مطابق خواتین لکھتی بھی تھیں اور ان کے جوابات بھی بھیجتی تھیں۔
اس زمانے میں خواتین اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں اور خود زراعت کاکام بھی کرتی تھیں۔ احادیث کی سب سے اہم کتاب صحیح بخاری میں حضرت سہل بن سعد ایک صحابیہ خاتون کا قصہ بیان کر تے ہیں۔ جس کے اپنے کھیت اور باغات تھے۔ وہاں وہ ایک نہر کے کنارے سلق (ایک سبزی) اگایاکرتی تھیں۔ ہر جمعہ کو حضرت سہل بن سعد اور چند دوسرے صحابی ان کے ہاں جاتے اور وہ سلق اور جو کے کھانے سے مہمانوں کی تواضع کرتیں۔ (صحیح بخاری۔)
صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، ابوداؤد اور ابن ماجہ کی روایت کے مطابق حضرت جابرؓ بن عبداللہ نے اپنی خالہ کاقصہ بیان کیا۔ جن کو ان کے شوہر نے طلاق دی تھی۔ طلاق کے بعد جب وہ عدت (یہ اس مدت کو کہتے ہیں جو اندازاً تین مہینے بنتا ہے، جس میں خاتوں کے لئے دوسرا نکاح ممنوع ہوتاہے)گزار رہی تھیں تو انہوں نے چاہا کہ عدت کے دوران میں وہ اپنے کھجور کے باغ میں سے کچھ درختوں کے پھل کاٹ کر فروخت کریں۔ لیکن ایک شخص نے انہیں مشورہ دیا کہ اس مدت میں گھر سے نکلنا صحیح نہیں ۔ اس پر وہ حضورؐ کے پاس گئیں اور پوری تفصیل بیان کی۔ حضورؐ نے انہیں ہدایت کی کہ " اپنے باغ میں جاؤ ۔ کھجور کے درخت کے پھل کاٹو اور انہیں فروخت کرو۔اس طرح تم صدقہ دینے کے قابل بھی ہو سکتی ہو اور اس رقم سے کوئی کام بھی کرسکتی ہو جو آخرت میں تمہارے لئے اجر کا باعث ہو۔" اس واقعہ سے یہ معلوم ہوتاہے کی حضورؐ کے وقت میں خواتین زراعت اور تجار ت دونوں کرتی تھیں۔
صحیح بخاری ہی کی روایت کے مطابق حضرت ابوبکرؓ کی صاحبزادی ، اسما ء، جن کی شادی حضرت زبیرؓ سے ہوئی تھی وہ وہاں جاتی تھیں اور زراعت میں اپنے خاوند کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔
اس زمانے میں خواتین آزادانہ طور پر تجارتی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی تھیں۔ اس امت کی سب سے محترم خاتون حضرت خدیجہؓ ایک تاجر تھیں۔ بہت سی صحابیات مثلاً حضرت خولہؓ ، الخمیہؓ، ثقافیہؓ اور بنت مکرمہؓ خوشبو کی تجارت کرتی تھیں۔( بحوالہ اصابہ فی تمیز الصحابہ۔ جلد چہارم)
طبقات ابن سعد میں اسے بہت سے واقعات بیان ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ صحابیات نہ صرف یہ کہ زراعت و تجارت اور صنعت وحرفت کرتی تھیں۔ بلکہ وہ اپنے شوہروں سے آزادانہ طورپر کام کرتی تھیں۔ مثلاً حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی اہلیہ ایک ماہر کاریگر تھیں۔ ایک دن وہ حضورؐ کے پاس آئیں اور پوچھا، " میں ایک کاریگر عورت ہوں ۔ چیزیں بناتی ہوں اور بیچتی ہوں ۔ لیکن میرے شوہر اور بچوں کا کوئی ذریعہ روزگار نہیں۔ کیا میں اپنی آمدنی ان پر خرچ کرسکتی ہوں۔ اس پر حضورؐ نے جواب دیا" یقیناًتم کرسکتی ہوں۔ اس کا تمہیں اجر ملے گا" یہ روایت الاصابہ فی تمیز الصحابہ جلد چہارم میں موجود ہے۔
ایک اور واقعہ کے مطابق ایک دفعہ خولہ بنت ثعلبہ اور ان کے شوہر کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ اس سلسلہ میں جب وہ حضور ؐ کے سامنے پیش ہوئے تو حضور ؐ نے شوہر سے فرمایا کہ پروردگار کی طرف سے اس معاملہ میں کوئی حکم نازل ہونے تک اپنی بیوی سے دور رہے ۔اس پر حضرت خولہؓ نے کہا کہ " اے اللہ کے رسول ! اس کے پاس تو گزارے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کا خرچ تومیں برداشت کرتی ہوں۔"
ایک صحابیہ حضرت قائلہ حضورؐ کے پاس تشریف لائیں اور کہا۔
" میں ایک عورت ہوں جو چیزوں کی خرید و فروخت کرتی ہوں (یعنی تاجرہوں)"۔ پھر اس نے تجارت کے متعلق بہت سے سوالات پوچھے۔
ایک اور صحابیہ حضرت عامرہؓ بیان کرتی ہیں کہ وہ اپنی کنیز کو ساتھ بازار گئیں ۔ اور وہاں سے ایک بڑی مچھلی خریدی۔ وہیں بازار میں حضرت علیؓ بھی موجود تھے۔انہوں نے وہیں بازار میں حضرت عامرہؓ سے وہ مچھلی خریدلی۔
اس طرح کے کئی اور واقعات طبقات ابن سعد جلد ہشتم میں موجود ہیں جو اپنے موضوع پر سب سے مستند کتاب ہے۔
حضورؐ کی اہلیہ حضرت سودہؓ دباغت میں بڑی مہارت رکھتی تھیں۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق انہوں نے فرمایا۔" ہماری ایک بھیڑمرگئی ۔ تو ہم نے اس کی کھال اتار کر اس کو دباغت دی اور پھر اسے کھجوروں کے ذریعے بالکل نرم کرلیا۔" (صحیح بخاری۔)
دور صحابہؓ میں خواتین نے کئی دفعہ اجتماعی طورپر بھی مختلف امور سرانجام دئے ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کتاب الا عتصام کی روایت کے مطابق ایک دفعہ بہت سی خواتین اجتماعی طورپر حضورؐسے ملنے گئیں اور ان سے درخواست کی کہ آپؐ ہفتے میں ایک دن ان خواتین کی دینی تعلیم و تربیت اور سوال وجواب کے لئے مخصوص کردیں ۔چنانچہ حضورؐ نے ان کی بات مان لی۔ ایک صحابیہ حضرت اسماءؓ بنت زید گفتگو میں بہت مہارت رکھتی تھیں۔ ایک دفعہ خواتین نے انہیں اپنا نمائندہ مقرر کرکے حضور ؐ کے پاس بھیجا تاکہ وہ آپ ؐ سے کچھ سوالات کریں۔( الاستیعاب فی الاسماالاصحاب)
دور صحابہؓ میں خواتین کو ایسے ذمہ دار مناصب بھی حوالے کئے جاتے تھے۔ جن کی وہ اہل ہو تی تھیں۔ مثلاً شفا بنت عبداللہ کے متعلق تاریخی روایات میں آتاہے کی حضرت عمر فاروقؓ نے انہیں بازاروں کے نگران افسر کی ذمہ داری دی تھی تاکہ وہ قیمتوں پر نگاہ رکھیں۔
یہ امر معلوم ہوجانے کے بعدکہ دینی اخلاقی اور تمام انسانی حقوق کے حوالے سے مرد و عورت عمومی طور پر اصلاً ہم پلہ وہم مرتبہ ہیں ۔ہمارے سامنے چند سوالات آتے ہیں۔
ایک یہ کہ اس بات کاکیامطلب ہے کہ حضرت حواؓ کی پیدائش حضرت آدم ؑ کی پسلی سے ہوئی دوسرایہ کہ اس بات کا کیا مطلب ہے کہ عورتیں ناقص فی الدین اور ناقص فی العقل ہیں؟ تیسرا یہ کہ اس بات کی صحیح توجیہہ کیاہے کہ مرد عورتوں پر قوام ہیں۔ چوتھا یہ کہ کیا خواتین کی دیت آدھی ہے اور پانچواں یہ کہ کیا واقعی اسلامی عدالتوں میں عورت کی گواہی مرد کی نسبت آدھی تصور کی جاتی ہے؟
ان تمام سوالات کا جواب اور ان کی صحیح وضاحت تو اپنے اپنے مقام پر آئے گی ۔ اس بات کے موضوع کے اعتبار سے یہ مناسب ہے کہ پہلے سوال کی وضاحت کی جائے۔
یہ بات کہ حوا کو آدم ؑ کی پسلی سے پیدا کیاگیا؛ بائبل اور تلمود کا بیان ہے۔ وہاں سے مسلمانوں کے ایک گرو ہ میں ،قرآن مجید کی ایک آیت اور بخاری کی ایک روایت کا مفہوم صحیح طور پرنہ سمجھنے کی وجہ سے ، یہ بات در آئی ہے۔
قرآن مجید میں سورۃ نساء کی پہلی آیت درج ذیل ہے۔

یَاایُّھَاالنَاسُ اتَّقُوْْْ رَبَّکُم الَّذِیْ خَلَقکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍوَّخَلَقَِ منْھَا زَوْجَھَاوَبَثَّ مِنْھُمَارِجَالًاکَثِیراً وَّ نِسآءً۔ (نساء ۴۔ آیت ۱)
"اے لوگو ، اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک ہی جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سارے مرد اور عورتیں پھیلادیں۔"

یہاں ’خلق منھا زوجھا‘ کی وضاحت میں دو امکانات ہوسکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ " اسی نفس سے اس کا جوڑا بنایا" اور دوسرا یہ کہ " اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا۔ " پہلا امکان لیجیئے تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ آدم کو پیدا کر کے پھر اس کے اندر سے حوا بنائی اوردوسرا امکان لیجئے تومطلب یہ بنتا ہے کہ پہلے انسان کا ہیولا بنایاگیا اور پھر اسی ہیولے میں سے آدم و حوا علٰیحدہ علیحدہ بنائے گئے۔
قرآن مجید کو سمجھنے کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ اگر کسی ایک جگہ کسی آیت کے معنی واضح نہ ہو رہے ہوں تو اسی طرح کی دیگر آیتوں کو لے کر معنی سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بالکل اسی طرح کی آیت سورۃ نحل میں آئی ہے۔ ارشاد ہے۔

وَاللہُ جَعَلَ لَکُمْ مِنْ اَنْفُسَکُمْ اَزْوَاجَاً وَجعلَ لَکم مِنَّ اَزْوَاجِکُمْ بَنِیْنَ وَحَفَدَۃً وَّ رَزَقَکُمْ مِّنْ اطَّیّٰبٰتِ (نحل16- ،آیت72- )
" وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے تمہاری ہم جنس بیویاں بنائیں اور اسی نے ان بیوں سے تمہیں بیٹے پوتے عطا کیے اور اچھی اچھی چیزیں تمہیں کھانے کو دیں۔ "

اس آیت میں من انفسکم ، کے معنی ’من جنسکم‘ ہی کے لئے جاسکتے ہیں( یعنی وہی ترجمہ جوہم نے اوپر تحریر کیا ہے)۔ اس لئے کہ ہماری بیویاں الگ ہی پیداہوتی ہیں، ہماری پسلیوں سے تو پیدا نہیں ہوتیں۔
اسی طرح کی ایک سورۃ روم میں آئی ہے۔ ارشاد ہے۔

وَمِنْ آیٰتِہٖ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسَکُمْ اَزْوَاجًا لِتَسْکُنُوآ اَلَیْھَاَ وَجَعَلَ بَیْنَکمُ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً ۔اِنَّ فِی ذَالِکَ لاآ یٰتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکُرُوُنْ o ( روم 30- ،آیت 21)
"اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو۔ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیداکردی۔ یقیناًاس میں غور وفکر کرنے والے لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔"

اس آیت میں ’من انفسکم‘ کے معنی صرف اور صرف ’من جنسکم‘ ہی لئے جاسکتے ہیں ۔ اس لئے کہ ہماری بیویاں الگ ہی پیداہوتی ہیں،ہماری پسلیوں سے پیدا نہیں ہوتیں۔
جب ہم ان دونوں آیتوں کی روشنی میں سورۃ نساء کی آیت ا یک کا مفہوم اخذکرتے ہیں تو یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ یہاں بھی آیت کا مفہوم من جنسکم (اُسی کی جنس سے) کا ہے۔اس لئے کہ قرآن مجید کے مختلف حصے ایک دوسرے سے متضاد معنی نہیں دیتے۔ بلکہ سارا قرآن یک رنگ و یک معنی ہے۔
اس کے بعد ہم کتب روایات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔اس ضمن میں ایک روایت حضرت ابوہریرہؓ کے واسطے سے ہے۔ یہ روایت صحیح بخاری کتاب النکاح اور کتاب احادیث الانبیا میںآئی ہے۔ یہی روایت صحیح مسلم کتاب الرضا ع میں آئی ہے۔ ہرجگہ روایت کے الفاظ مختلف ہیں ۔ایک ہی روایت کے درج ہو نے میں الفاظ کااختلاف بالکل قدرتی ہے۔ اس لیے کہ ہر روایت دراصل اس بات کا بیان ہوتی ہے کہ ایک شخص نے حضورؐ سے کوئی بات سنی ۔ اس نے وہ بات اگلی نسل میں ایک اور فرد کو بتادی۔ اس نے آگے اگلی نسل میں ایک اور فرد کو بتادی اور اس طرح یہ روایت حدیث کے مرتب کرنے والے اور اس کو کتابی شکل دینے والے کے پاس حضورؐ کی وفات کے تقریباً دوسوسال بعد پہنچی۔یہ ظاہر ہے کہ اس دوران اصل الفاظ میں کمی بیشی ہوجاتی ہے۔ اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو مفہوم سامع نے سمجھاہے وہ پہنچ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی صحابی سے ایک روایت جب مختلف واسطوں سے امام بخاری ، امام مسلم یا حدیث کی کتاب مرتب کرنے والے کسی بھی فرد کے پاس پہنچی تو اس کے الفاظ میں کمی بیشی ہوگئی۔ اور اسی لئے یہ لازم ہے کہ سب سے پہلے توہرروایت کو قرآن مجید کی روشنی میں سمجھاجائے جو دین اسلام کی بالکل یقینی بنیادی دستاویز ہے۔ اور پھر یہ کہ ہرحدیث کو اس سے ملتی جلتی باقی حدیثوں کی روشنی میں دیکھ کر اسے سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ ایسانہیں ہوناچاہیئے کہ ہرحدیث کوپڑھ کراُس سے آزادانہ مطلب نکالا جائے۔ اس لئے کہ کسی بھی حدیث میں کسی بھی طرح کی کمزوری کاداخل ہوناممکن ہے۔
اس مختصر بحث کے بعد اب ہمارے لئے یہ ممکن ہے کہ ہم اس متعلقہ روایت پر غوروفکر کریں ۔ اس واقعہ کے راوی صرف ایک صحابی حضرت ابوہریرہؓ ہیں۔ ان کے علاوہ کسی دوسرے صحابی سے یہ روایت بیان نہیں ہوئی ۔یوں لگتاہے کہ حضور ؐ کسی محفل میں سامعین کو اس امر کی نصیحت کررہے تھے کہ وہ اپنی بیویوں سے اچھا سلوک کریں۔ ان سے خیر خواہی کریں۔ ان کے ساتھ گزاراکریں۔ اس کو بہت زیادہ قانون قاعدہ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہ کریں۔ ان کے ساتھ حکمت کے ساتھ برتاؤ کریں۔ اوراگر کبھی بیوی مسائل پیداکرنے لگے ،منہ بسورنے لگے ، بلاوجہ شکوک و شبہات اور شکوے شکایات کرنے لگے، تب بھی بہت پیار سے اس کو سمجھانے کی کوشش کی جائے۔ چنانچہ اس ضمن میں حضورؐ نے بیوی کی نفسیات کو پسلی سے تشبیہ دی کہ اگر پسلی کو بالکل سیدھا کرنے کی کوشش کی جائے( یعنی اس کے ساتھ خالصتاً قاعدے ،قانون والا برتاؤ کیاجائے) اور اسے سو فیصد تابع رکھنے کی کوشش کی جائے تووہ ٹوٹ جائے گی یعنی میاں بیوں کے درمیان طلاق واقع ہو جائے گی۔
ظاہر ہے کسی خاص موقع پر لوگوں کوسمجھانے کے لئے یہ بڑی خوبصورت مثال ہے۔ ایسی مثالیں قرآن وحدیث میں جگہ جگہ آئی ہیں۔ اور ان سے مراد ہمیشہ ان کے بامحاورہ ادبی معنی ہی ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک بات کومختلف رایوں نے مختلف طریقوں سے بیان کیاہے۔" وہ پسلی سے پیداہوئی ہیں" " عورت پسلی سے پیداکی گئی ہے " عورتیں پسلی سے بنی ہے" " عورتیں پسلی کی مانند ہے۔"
اس اخری روایت نے جو صحیح مسلم کتاب الرضاع میں بیان ہوئی ہے، یہ بات یوں کہی ہے۔ ’’اِنَّ المراۃَ کا لضِّلع۔‘‘ اس نے بات بالکل واضح کردی ہے۔ لگتا ہے کہ اصل الفاظ یہی تھے۔ باقی راویوں نے اپنے فہم اور ذوق کی بناء پر الگ پیرائے اختیار کئے۔ ویسے اگرباقی فقروں کو بھی اگر غور سے دیکھاجائے توصاف معلوم ہوتاہے کہ بات بطور مثال کہی جارہی ہے ۔کیونکہ ان میں سے کسی روایت میں بھی پہلی خاتون یعنی حضرت حوا کا ذکر نہیں ۔اس میں الْمرْاَۃ یعنی ہر عورت اور عورتوں کی پوری صنف کا بیان ہے۔ اور یہ حقیقت ہرکس وناکس پرواضح ہے کہ عورتیں پسلی سے نہیں بلکہ مردوں کی طرح تخلیق کے تمام مراحل سے گزرتی ہیں۔
پس درج بالابحث سے یہ بات ثابت ہوتاہے کہ عسائیت اور یہودیت کے برعکس اسلام میں اس بات کاکوئی تصور نہیں کہ عورت، مردکی پسلی سے پیداہوکر روزاول سے ہی اس کے تابع ،زیرنگیں اور زیردست ہے۔
Labels:
Reactions: 
1 Response
  1. Ali Zain Says:

    MashAllah baht zabardast blog hai ap ka .ye first time complete Urdu blog dekha hai may nay


Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers