تہجد سے مراد رات کے پچھلے پہر اٹھ کر اللہ کے حضور جھک جانا اور نوافل ادا کرنا ہے۔ تہجد وہ نفل نماز ہے جس کے لئے حکم الٰہی موجود ہے۔ امت مسلمہ کو اس کا حکم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔ آپؐ نے صحابہ کرام کو اس کی تلقین بھی کی اور ترغیب بھی دی۔
قرآن کریم میں آپؐ کو اس طرح حکم دیا گیا:
”اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد کرو یہ خاص تمھارے لئے زیادہ ہے قریب ہے کہ تمھیں تمھارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمھاری حمد کریں“(ترجمہ کنزلایمان: سورۃ بنی اسرائیل آیت ۷۹)
سورۃ الدھر آیت ۲۶ میں ارشاد ہے:
”رات کے وقت اس کے سامنے سجدے کرو اور بہت رات تک اس (اللہ کی) تسبیح بیان کیا کرو۔“
سورۃ طور آیت ۴۹ میں ارشاد ہے:
”اور رات کو بھی اس کی تسبیح پڑھو اور ستاروں کے ڈوبتے وقت بھی۔“
ان آیات مبارکہ کے مطابق نماز تہجد، سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک زائد فرض نماز تھی جس کا مقصد آپؐ کے درجات کو مزید بلند کرنا ہے (کیوں کہ نبی معصوم ہوتا ہے۔ اس سے گناہ سرزد نہیں ہوتے) مقام محمود وہ مقام یا درجہ ہے جو قیامت کے روز رسول عربی کو عطا کیا جائے گا۔ اسی مقام سے آپؐ امت مسلمہ کی شفاعت فرمائیں گے۔
احادیث میں تہجد نماز کی بے حد فضیلت آئی ہے۔ نفل نمازوں میں یہ اللہ تعالٰی کی پسندیدہ ترین عبادت ہے، لیکن یہ عبادت نہ تو نبی کریمؐ پر فرض یا واجب تھی اور نہ ہی آپؐ کی امت پر!
نماز تہجد ۔ ترغیب، تاکید اور فضائل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تہجد کی نماز سنت ہے۔ یہ وہ نفل نماز ہے جو تمام نفلی نمازوں پر بھاری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اس کا اہتمام فرمایا اور صحابہ کرام کو بھی اس کی تلقین اور ترغیب دی۔
اس حوالے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے:
”تم تہجد ضرور پڑھا کرو ، کیوں کہ وہ تم سے پہلے صالحین کا طریقہ اور شعار رہا ہے۔ یہ تمھارے رب کا قرب حاصل کرنے کا خاص وسیلہ ہے۔ یہ گناہوں کے برے اثرات کو مٹانے والی اور گناہوں کو روکنے والی ہے“
(ترمزی شریف)
سورۃ آل عمران آیت ۱۱۳ تا ۱۱۵ میں فرمان الٰہی ہے:
”سارے کے سارے یکساں نہیں، بلکہ ان اہل کتاب میں ایک جماعت حق پر قائم رہنے والی بھی ہے جو راتوں کے وقت بھی کلام اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدے بھی کرتے ہیں۔ یہ اللہ تعالٰی پر اور قیامت کے روز پر ایمان بھی رکھتے ہیں۔ بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں۔ برائیوں سے روکتے ہیں۔ بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں۔ یہ نیک بخت لوگ ہیں۔ یہ جو کچھ بھی بھلائیاں کریں، ان کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور اللہ تعالٰی پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے۔“
ایک اور مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز درمیانی رات کی نماز تہجد ہے۔“
(مسلم، حاکم، ابن ماجہ، ترمزی)
ایک اور حدیث مبارکہ میں آیا ہے: ”اللہ تعالٰی رات کے آخری حصہ میں بندے سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ پس اگر ہو سکے تو تم ان بندوں سے ہو جاؤ جو اس مبارک وقت میں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔“
(ترمزی شریف)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالٰی رات کے آخری تہائی حصہ میں آسمان سے دنیا کی طرف نزول کر کے فرماتا ہے کہ کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اسے عطا کروں؟ کوئی ہے جو مجھ سے بخشش اور مغفرت طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں؟“
(بخاری شریف)
نماز تہجد دراصل قبولیت دعا کا وقت ہے، اس لئے اس وقت جو بھی مانگا جائے وہ دنیا و آخرت میں ضرور ملے گا۔ آیات قرآنی اور احادیث مبارکہ کی رو سے نماز تہجد ، نفلی عبادت ہے اور دیگر نفلی عبادات میں افضل ترین ہے۔ اس کا درجہ فرض نماز کے بعد سب سے افضل ہے، اس لئے اس کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔
نماز تہجد کا افضل وقت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نماز تہجد کا افضل وقت رات کا آخری حصہ ہے۔ اس میں کم از کم دو رکعت اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعت ادا کی جاتی ہیں۔ (بخاری)
اگر رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے کی ہمت نہ ہو تو عشاء کی نماز کے بعد بھی چند رکعت تہجد کی نیت سے پڑھی جا سکتی ہے مگر اس سے ثواب میں کمی ہو جاتی ہے۔
دیگر نفل نمازوں کی طرح نماز تہجد بھی گھر ہی میں پڑھنی افضل ہے۔
رات کی نفل نماز میں افضل یہ کہ دو دو رکعت کر کے پڑھی جائیں۔ تہجد کی رکعت بھی دو دو کر کے پڑھی جاتی ہیں۔
نماز تہجد کا طریقہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تہجد کی نماز نصف شب کے بعد بیدار ہو کر پڑھی جاتی ہے۔ نبی کریمؐ کبھی نصف رات کے کچھ دیر بعد یا کبھی رات کے پچھلے پہر اٹھتے، اللہ کی تعریف بیان کرتے، مسواک کرتے پھر وضو کرتے اور نماز تہجد میں مشغول ہو جاتے تھے۔ تہجد کی نماز اپنی دلی کیفیت کے مطابق قرآنی آیات پڑھی جائیں۔ مثلاً دل میں عجز و نیاز کی کیفیت ہو تو لمبی سورتیں پڑھی جائیں اور بیماری، کمزوری ، تھکاوٹ وغیرہ کی صورت میں چھوٹی یا درمیانی سورتوں کی تلاوت کی جائے۔ تہجد کی نماز میں معمول سے زیادہ طویل سجدہ کرنا سنت رسولؐ ہے۔ نماز تہجد کی رکعتوں کی تعداد کم ازکم دو اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعت منقول ہے۔ ویسے احادیث میں بارہ رکعات تک کا ذکر ملتا ہے، آٹھ رکعات پر زیادہ اتفاق ہے۔
وتر نماز تہجد کا حصہ ہیں، اس لئے جتنی بھی رکعت پڑھنا چاہیں، ان میں تین رکعت وتر شامل کر لیں۔ مثلاً اگر گیارہ رکعت تہجد کی نماز میں پڑھنے ہیں تو پہلے دو دو کر کے آٹھ رکعت نفل پڑھ لیں اور پھر تین رکعات وتر کی پڑھ لی جائیں۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers