جب کچھـ لوگ اسلام قبول کر چکے تهے تو ابو بکر رضي الله عنه نے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسرار کیا کہ اسلام کے پیغام کو عام کرنے کا وقت آگیا ہےاور خوف اور چهپنےکے دن گئے۔ آخر کار آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابوبکر رضي الله عنه کى اس تجويز کو مان گئے اور سب مسلمان ایک گروه کى شکل میں خانہ کعبه کے ارد گرد جمع ہو گئے۔ ہر شخص نے ایک کونا لے لیا اور لوگوں کو اسلام کى دعوت دینے لگا۔ ابوبکر رضی الله عنہ پہلے خلیفه تهے جنهوں نے لوگوں کو الله اور رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف دعوت دى۔ جب وہاں پر بیٹهے ہوئے لوگوں نے ابوبکر رضي الله عنه اور دوسروں مسلمانوں کى الله اور اسلام کے متعلق باتیں سنیں تو ان کے اندر ایک آگ سی بهڑک اٹهی اور انهوں نے مسلمانوں کو مکوں اور پتهروں سے مارنا شروع کر دیا۔ عتبہ نے ابوبکر رضی الله عنه پر چهلانگ لگائی اور اپنے چمڑے کى چپّلوں سے ابوبکر رضي الله عنه کے مبارک چہرے کو مارنا شروع کر دیا اور آپ رضي الله عنه کو زمین پر گرا دیا۔ عتبہ پهر آپ کے اوپر آنپڑا اور آپ کے پیٹ اور چہرے پر حمله کرنے لگا۔ تفصیل سے پڑھئے

آخر کار ابوبکر رضي الله عنه کے قبیلے نے عتبہ کو آپ رضي الله عنه پر سے ہٹايا اور دﻫمکی دى کہ اگر ابوبکررضي الله عنه انتقال کر گئے تو وه بدلے میں عتبه کا سر قلم کر دیں گے۔ ابوبکررضي الله عنه خون میں لت پت بیہوش لیٹے ہوئے تهے اور ان کا چہره پہچانا بهی نہیں جا رہا تها۔
رات کے وقت ابوبکر رضي الله عنه پر زندگی کےکچھـ آثار دکهائی دینے لگے۔ کیا آپ کو معلوم هے کے ان کے پہلے الفاظ کیا تهے؟
ابوبکر رضي الله عنه نے ہوش ميں آتے ہی سوال کيا "رسول الله صلى الله علیه وآله وسلم کا کیا حال ہے؟ رسول الله کا کیا حال ہے؟"
ابوبکر رضي الله عنه کی والده نے ان کو کهانا دینے کى کوشش کی لیکن آپ نے انکار کر دیا۔ "میں اس وقت تک کهانے کو ہاتھـ نهیں لگاٶں گا جب تک کہ مجهے یقین نہیں آجاتا کہ رسول الله صلى الله علیه وآلہ وسلم خیریت سے ہیں"۔
ابوبکر رضي الله عنه کے بے حد اسرار کی بنا پر ان کو دارالارقم اٹها کر لے جايا گيا ۔ جب ابوبکر داخل ہوئے اور نبی پاک صلى الله علیه وسلم نے آپ کى حالت دیکهی تو آپ صلى لله علیه وسلم رو پڑے اور ابوبکر رضي الله عنه کو گلے سے لگا لیا۔ آپ صلی الله علیه وسلم نے ابوبکر رضي الله عنه کو گلے سے لگائے رکها اور مسلمان ان کے ارد گرد جمع ہو گئے۔
مثالی شخصیات (رول ماڑلز)۔ اپنی کتاب "رسالت المعلم" میں جمال عابدین لکھتے ہیں کہ ٢ سال کى عمر میں یا شاید اس سے بهی پہلے بچے عادتاً ہر چیز کى نقل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔۵ یا ٦ سال کی عمر میں جب بچہ کنڑرگارٹن یا پہلی جماعت میں ہوتا ہے تو اس کى نقل کرنے کی عادت عروج تک پہنچ چکى ہوتى ہے، چاہے اس کو اچهے یا برے کى تمیز ہو یا نہ ہو۔ آہسة آہسة اس کے نقل کرنے کى عادتوں میں ایک روانی سى آجاتی ہے لیکن یہی عادتیں اس کى پرورش میں ایک اہم کردار ادا کرتى ہیں۔
ابن خلدون اپنے مقدمه میں اس مسئلے کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "بچوں پر سب سے زیاده رعب ان کے رول ماڑلز کا ہوتا ہے۔ ابتدائی عمر میںعموماً بچے یہ سمجهتے ہیں کہ بڑے جو کچهـ بهی کرتے ہیں وه صحیح اور اچها ہوتا ہے۔ اور وه یہ خیال رکھتے ہیں کہ ان کے ماں باپ سب والدین میں سے سب سے اچهے ہيں اور بلکل صحیح ہیں"۔
بچے بتائے جانے سے نہیں سیکهتے بلکہ وه مثال سے سبق لیتے ہیں۔ بچوں کے سامنے روزه رکهنے کے حکم کی کتنی اہمیت ہو گی اگر حکم دینے والا شخص خود کها پى رہا ہو؟ اسى لیئے الله تعالى کے نزدیک ایسا رؤيه سخت ناپسندیده ہے جس میں ایک شخص دوسرے کو تو نیکى کی تلقین کرے لیکن خود اس پر عمل نہ کرے۔ ظاہر ہے کہ ایسے شخص کى باتوں میں کیا اہمیت ہوگى اگراس کا کردار اس کے احکام سے مختلف ہو!
١۔ جو کوئى مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو کوئى بهى مخلوق زمین میں ہے الله کى تعریف کرتى هے اور وہى سب سے طاقتور اورسب کچھـ جاننے والا هے۔
٢۔ اے ایمان لانے والوں! تم ان چیزوں کا ذکر کیوں کرتے ہو جن پر تم خود عمل نہیں کرتے؟
٣۔الله تعالى کو سب سے زیاده نفرت اس سے ہے کہ تم ان چیزوں کا ذکر کرتے ہو جن پر تم خود عمل نہیں کرتے۔ سورة الصف
صحیح مسلم میں رسول الله صلى لله علیه وآله وسلم فرماتے ہیں کہ: "قیامت کے دن ایک شخص لایا جائے گا اور اس کو جہنم کى آگ میں پهینک دیا جائے گا۔ آگ میں رہنے والے اس کے گرد جمع ہو جائیں گے اور پوچهیں گے کہ: اے الله کے بندے! تم وہی شخص نہیں جو دوسروں کو نیکى کرنے کو کہتے تهے اور برائى کرنے سے منع کرتے تهے تو وه شخص جواب دے گا که ہاں میں دوسروں کو نیکى کرنے کو کہتا تو تها مگر خود نہیں کرتا تها اور برائى کرنے سے منع کرتا تو تها لیکن خود برائى کرتا تها۔
اس تنبیہ کی سختی ان ضرررساں ذخموں سے جنم لیتى ہے اور انسانی شخصیت کو کاٹ ڈالتی ہے جب بچہ دیکهتا هے کہ اس کے رال ماڈلز صحیح کام کى بجائے غلط کام کر رہے ہیں۔ ایمان اور عمل میں اختلاف کى بناء پر ہم قیامت کے دن ہزاروں جانوں کے برباد ہونے کا باعث بن سکهتے ہیں۔
رول ماڑلز کى اس تلاش میں ہى تو ہم ابو بکر صدیق جیسى خوبیوں والی شخصیت کى طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
جب نبى پاک صلى لله علیه وآله وسلم پر پہلى دفعه قرآن پاک نازل ہوا تو اسلام کی دعوت دینے کے لیۓ سب سے پہلے وه جس شخص کے پاس گئے وه شخص ان کے سب سے نزدیک دوستوں میں سے تهے اور وه تهے ابوبکر ۔ جب ابوبکر کو معلوم ہوا کہ رسول پاک صلى لله علیه وآلیه وسلم کو نبى ہونے کا درجہ عطا کیا گیا ہےتو انہوں نے فوراً اعلان کیا کہ " میں نے کبهى آپ سے جهوٹ نہیں سنا۔ میں الله تعالى کى واحدانیت کى گواہى دیتا ہوں اور کہ آپ صلى لله علیه وآله وسلم الله کے نبى ہیں"۔ بعد میں نبى پاک صلى لله علیه وآله وسلم نے فرمایا کہ کوئى شخص ایسا نہیں تها جس کوانہوں نے اسلام کی دعوت دی ہو اور اس نے ان سے اسلام کے متعلق بحث نہ کى ہو سوائے ابوبکر کے۔
ان چند آیات کے ساتھـ جو کہ ابوبکر رضي الله عنہ کو یاد تهیں آپ رضي الله عنہ سب کو دین اسلام کى دعوت دینے چل پڑے۔ جلد ہى آپ نے عثمان، الزبير، عبدالرحمن بن عوف، ابوعبيدہ اور طلحہ رضي الله عنهم کو مسلمان کر دیا تها-یہ دس میں سے چھے صحابہ ہیں (بمع ابوبکرکے) جن کو اس دنیا ہی میں رہتے ہوئے جنت کی بشارت مل گئی تھی۔ اور قیامت کے دن یه سب ابوبکر رضي الله عنه کى نیکیوں میں شمار ہوگا۔
اسلام کے شروع دنوں میں ابوبکر اکثر دکانوں اور گهروں کے گرد پهرتے اور مسلمان غلاموں پر ظلم ہوتا دیکهتے۔ وه دیکهتے تهے کہ جس وقت سورج کى کڑکتى دهوپ میں زمین تپ رہی ہوتى تھی امیہ بلال رضي الله عنہ کو دوپہر میں کهینچتے ہوئے سہره میں لے کر جاتا ۔ امیہ بلال کو اس تپتى هوئى زمیں پر لٹا دیتا اور مزید ظلم کے لیۓ وزنى پتهر آپ کے سینے پر رکهـ دیتا۔ بلال کچهـ نہ کہتے سوائے اس کہ "احد احد- ایک، صرف ایک"۔ ابوبکر آپ کو دیکهتے اور آہسته آواز میں بلال سے فرماتے وه واحد (الله) ہی آپ کو بچا لے گا!"۔
ابوبکر امیہ کے پاس گئے اور اس سے بلال کو ۵ اوقیہ میں خریدنے کى خواہش ظاہر ‍‌فرمائی۔ امیہ آپ کى بات سن کر بڑا حیران هوا لیکن فوراً مان گیا۔ اس نے کہا "لے جاٶ بلال کو اس میں کچهـ اچهائی نہیں ہے"۔ بات پورى ہونے پر امیہ خوش ہوکر ابوبکر کو بتانے لگا "اگر تم نے ١ اوقیہ سے بھی زیاده دینے سے انکار کرتے تو بهى میں تمہیں بلال بیچ دیتا" جس پر ابوبکر نے جواب دیا "اور اگر تم ١٠٠ اوقیہ سے کم میں بیچنے سے انکار کرتے تب بهى میں خرید لیتا!"۔
فتنہ پهیلانے والے لوگ کہتے ہیں کہ ابوبکر نے بلال کو صرف اس لیۓے رہا کیا تها کیونکه ابوبکر بلال کے قرﺽ دار تهے۔ قرآن پاک میں ان آیات میں جن کى تلاوت آخر وقت تک کے جائے گى الله تعالى نے ابوبکر کى نیت کے بارے میں صاف صاف بیان کیا ہے:
١٨- وه شخص جو که اپنا مال اپنے نفس کو پاک کرنے کے لئیے خرچ کرتا هے۔
١٩- اور اس کى سوچ میں بدلے کا کوئى امکان نہ ہو جس میں کسى قسم کا انعام لوٹانا پڑے۔
٢٠- سوائے اس کہ کے وه الله کى خوشنودى چاهتا هو الله جو سب سے بڑا هے۔
٢١- وه یقیناًً رضا مند ہونگے (جب وه جنت میں داخل ہونگے)
سورت الیل۔
آخرى آیت دوباره پڑہیۓ۔ الله ابوبکر رضي الله عنه کو بتا رہے ہیں کے وه ان کو مطمئن کر دینگے۔
الله اکبر! فرﺽ کریں کے الله سبحان وتعالى آپ کو یہى بات بتائیں۔ کیا دنیا میں آپ کے لیے کوئی اور چیز اس آیت سے زیاده قیمتى هوگى؟
یه ابوبکر رضي الله عنه تهے۔ خلیفته الرسول۔ جب عمر بن العاص مسلمان ہوئے تو رسول الله نے ان کو ایک فوج کا سردار بنا دیا۔
عمر بن العاص کا خیال تها کہ اس کى وجہ یہ تهى کہ آپ صلی لله علیه وسلم ان سے سب سے زیاده محبت کرتے تهے۔ اس لیے جب فوج واپس آئی تو عمر آپ کے پاس آکر بیٹهے اور سب کے سامنے سوال کیا "یا رسول لله آپ سب سے زیاده کس سے محبت کرتے ہیں؟" آپ نے جواب دیا "عائشه رضي الله عنه" عمر چونک گئے پهر سوال کیا "اور مردوں میں؟" آپ صلی لله علیه وسلم نے جواب دیا "عائشه رضي الله عنه کے والد سے!" یعنى ابو بکر رضي الله عنه۔
دوسرا حصه "ہمارے رول ماڈلز کون ہین؟"
کیا آپ کبھی اپنے بچوں کے ساتھـ یا پهر اپنے پڑوسى کے بچوں کے ساتھـ بیٹهے ہیں؟ ان کو باسکٹ بال دے کر ان کے کهیلنے کا انتظار کریں پهر دیکهيں کہ یہ کیا باتیں کرتے ہیں کهیلتے ہوئے۔ سب سوائے چند کے کسی کافر باسکٹ بال کهلاڑی کا نام لیں گے۔ آپ مائکل جارڈن اور اس جیسے دوسروں کا نام سنیں گے۔ بال کو نیٹ میں ڈالتے وقت یہ نام بچے دلى خوشى سے لیں گے ۔
غور سے سنیے تو وه اصل میں کیا کہ رہے ہیں۔ وه معصومیت میں دنیا والوں سے کہ رہے ہیں کہ "میں بڑا ہو کر کافر باسکٹ بال کھلاڑی بننا چاہتا ہوں مائکل جارڈن کی طرح"۔ پهر حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے جب بچہ بڑا ہو کر یونیورسٹی جائے گا اور باسکٹبال کو نیٹ میں بڑى مہارت سے ڈالے گا لیکن سورۃ الفاتحه بغیر اٹکے نهیں پڑھ پائے گا۔
قیامت کے دن یه تمام عارضی دیوتا ان سب کو قبول کرنے سے انکار کر دیں گے جنهوں نے ان کو اپنا رول ماڈل تسلیم کیا تها اور ان کے گناہوں کو نقل کیا تها۔ دلچسپ بات یه هے که ریباک(Reebok) نے ان عارضی دیوتا میں سے ایک کا اشتہار بنایا تها جس میں کهلاڑى باسکٹبال کو نیٹ میں ڈنک کرنے کے بعد کیمرے کى طرف آتا هے اور بتاتا هے "صرف چونکے میں نے بال ڈنک کیا اس کا مطلب یه تو نهیں که میں تمهارے بچوں کو پالنے کى ذمہ داری لونگا" سبحان لله صرف اگر بچوں اور ان کے والدین کو اس بات کا مطلب معلوم هوتا۔
اصل رول ماڈلز کی طرف دیکهیں اور ان بچوں کى طرف جو ان کو مانتے تهے۔ عائشه رضي الله عنه کا ذکر هے کے نبى پاک صلی لله علیه وسلم صبح کے وقت اور شام کے وقت آتے تهے۔ ایک دن آپ دوپہر کے وقت آئے تو آپ سمجهـ گئیں کہ کوئى بات هے۔ ابوبکر رضي الله عنه نے دروازه کهولا تو آپ صلی لله علیه وسلم نے فرمایا که الله تعالى نے آپ کو مدینه کى طرف حجرت کی اجازت دے دى تهی۔ ابوبکررضي الله عنه نے خوشى سے پهولتے هوئے کہا "دونوں ساتھـ؟! یا رسول لله! دونوں ایک ساتھـ؟!" آپ نے جواب دیا "ایک سا ساتھـ " جس پر ابوبکر رضي الله عنه رو پڑے۔
عائشه رضي الله عنه کا کہنا ہے کہ "مجهے پهلے کبهى یقین نہ تها که کوئی خوشی کے آنسو بهى رو سکتا هے جب تک کہ میں نے اپنے والد کو اس دن روتے ہوئے نه دیکها جب نبى پاک نے انہیں ہجرت کی خوشخبرى دى"۔
اگر ہم ہجرت کے واقعے پر غور کریں تو دیکهیں گے کہ اس میں سب اہم شخصیات، سوائے ابوبکررضي الله عنه کے، کم سن بچے تهے۔ عائشه اور ان کے بهائى عبدالرحمن۔ اسماء کو ابوجہل نے تھپڑ مارا تها جب وه ان کو اپنے والد (کی ہجرت) کے بارے میں بتانے سے گریز کر رہى تهیں۔
ابوبکر اور رسول الله کے لیۓ مدینه کے راستے کا رہنما بهى کم عمر کا لڑکا تها۔ سبحان الله یہ کم سن بچے ان میں سے تهے جو کہ جوان ہوکر دنیا کے سب سے بہترین شخصیت بنے۔ اور کیوں نہیں بنتے جب ان کے رول ماڈل رسول الله صلى الله علیه وآله وسلم اور ابوبکر جیسے لوگ تهے۔
دعوت اسلام اور جہاد مدینه کے دس سال کے بعد جب نبی پاک صلی الله علیه وسلم کا انتقال ہوا تو عمررضي الله عنه نے سب لوگوں کو اکهٹا کیا، ساتھـ ہى اپنى تلوار کو تیز کیا اور اعلان کردیا کہ "محمد صلى الله علیه وآله وسلم کا انتقال نہیں ہوا ہے وه الله کے پاس بلائے گئے ہیں جیسے کہ موسی کو الله تعالى نے اپنے پاس بلایا تها اور آپ ضرور واپس آجائیں گے جیسا کہ موسی واپس آگئے تهے۔ جس نے بهى کہا کہ آپ کا انتقال ہو گیا ہے میں اس کا قلم کر دونگا"۔
ابوبکررضي الله عنه کو آپ کے انتقال کى خبر ملى۔ آپ نے اپنے آپ کو تیار کیا اور جلد آپ صلی لله علیه وسلم کے گهر کى طرف روانه ہوئے۔ جب آپ وہاں پہنچے تو نبى پاک صلی لله علیه وسلم کفن میں لیٹے ہوئے تهے۔ آپ نے کفن آپ صلی لله علیه وسلم کے چہرے مبارک سے اٹها یا اوررسول الله کى پیشانى پر پیار کیا اور فرمایا "آپ زندگى اور موت میں مبارک ہیں"۔ آپ رضي الله عنه پهر باہر آگئے جہاں عمر رضي الله عنه لوگوں سے مخاطب تهے اور آپ نے فرمایا "بیٹهـ جاؤ، عمر" ۔ پهر آپ نے الله کى تعریف کى اور فرمایا "جو شخص بهى محمد صلى الله علیه وآله وسلم کى عبادت کرتا تها اس کو آپ صلی لله علیه وسلم کے انتقال کى اطلاع دے دو اور جو کوئى بهى الله کى عبادت کرتا ہے اس کو بتا دو کے الله زنده جاوید ہے یعنى اس کو کبهى موت نہیں آئے گى"۔ پهر آپ نے اس آیت کى تلاوت کى "محمد صلی لله علیه وسلم صرف ایک پیغمبر ہیں۔ بہت سے پیغمبر آپ سے پہلے آئے اور گئے ہیں۔ اگر ان کا انتقال ہو جائے یا وه مارے جائیں تو کیا تم (دین سے) پلٹ جاٶ گے؟"
عمر رضي الله عنه فرماتے هیں "جب میں نے وه آیت سنے تو میرے گهٹنے نرم پڑ گئے، جیسے میں گرا تو مجهـ کو یقین ہو گیا که آپ صلی الله علیه وسلم اب ہم میں نہیں رہے"۔
کچهـ ہى عرصے بعد ابوبکر رضي الله عنه نے اسامه رضی الله عنہ کى فوج کو بهیجا۔ اسامه کی عمر اس وقت صرف ١٨ برس تهی جس عمر میں ہمارے بچے بارہويں جماعت میں ہوتے ہیں۔ اس عمر میں انہوں نے ایک پورى مسلمان فوج کى سربراہى کى اور فتح حاصل کر کے لوٹے۔ اس فتح کے ذریعے انہوں نے ان سب کے دلوں میں خوف پیدا کر کردیا جو مدینه پر حمله کرنا چاہتے تهے۔
اسامه مدینه سے باہر جا رہے تهے اور ابوبکر ان کے گهوڑے کے ساتھـ زمین پر چل رہے تهے۔ اسامه نے کہا "آپ یا تو میرے ساتھـ سوارى کریں گے یا پهر میں آپ کے ساتھـ زمین پر چلونگا"۔ آپ نے جواب دیا "نہ میں سوارى کرونگا اور نہ ہی تم نیچے آٶ گے۔ مجهے کیا نقصان ہوگا اگر میں الله کى راه میں دن میں ایک گهنٹا بهى اپنے پاٶں گرد میں آلود کر ڈالوں"۔ واقعى اسامه اپنے مقام پر اسى لیے پہنچے کیونکہ ان کے پاس ابوبکر جیسے رول ماڈل تهے۔
مسلمانوں کو سمجهـ تهی که رول ماڈلز کى کیا اہمیت ہوتی ہے۔ عامربن عتبہ رحیم ا لله نے اپنے بیٹے کے استاد کو نصیحت کی "پہلى اصلاح جو آپ میرے بیٹے کى کریں وه اپنے آپ کى اصلاح ہونی چاہیے۔ بےشک ان کى نگاہیں آپ کى نگاہوں میں بندهى ہوتى ہیں۔ ان کى نظر میں وه سب کچهـ اچها ہے جو آپ کرتے ہیں اگرچہ وه غلط بهی ہو۔ اور غلط وه ہے جو آپ نہیں کرتے چاہے وه اچها کام ہى ہو"۔
بہت سے والدین کو سمجهـ ہے کہ صحیح رول ماڈلز کیسے ہونے چاہیئے۔ یہ رہى ایک مثالی بات پورى کرنے کے لئیے۔ ایک کنڈرگارٹن کلاس میں ایک غیر مسلم استاد نے کلاس کے ہر بچے سے پوچها کہ وه بڑے هو کر کیا بننا چاہتے ہیں۔ ایک نے کہا "میں بڑا هو کر سپاہی بننا چاہتا ہوں" دوسرے نے کہا "فائرمین" اور پهر ایک مسلمان بچے نے کہا "میں بڑا ہو کر صحابی بننا چاہتا ہوں"
"صحابی وه کیا ہوتا ہے؟"۔
والدین اور اساتذه کے ملاقات کا وقت آیا تو اس بچے کے ماں باپ سے استاد نے سوال کیا "یہ صحابى کیا ہوتا ہے آپ کا بیٹا بڑا ہوکر صحابی بننا چاہتا ہے" جس پر اس کے والدین نے جواب دیا "جب بهے ہمیں موقع ملتا هے هم اپنے بچوں کو نبى پاک کے صحابہ کرام کے قصے سناتے ہیں۔ وه اس کے رول ماڈل بن گئے ہیں۔ اور جب وه بڑا ہو جائے گا وه بلکل صحابہ کرام کی طرح بننا چاہے گا"۔
کیا ہم اپنے بچوں کے لئیے یه نہیں چاہتے؟
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers