باوجود ایک کلمہ گو مسلمان اور قرآن کی موجودگی کے تقدیر کے مسلے کو ایک الکھی ہوئی گھتی بنا کر رکھ دیا گیا ہے جو نہایت قابل افسوس بات ہے تقدیر کے متعلق اکثر یہ سوالات کیے جاتے ہیں ، جب ہمارے لیے ایک کام کرنا پہلے ہی سے لکھ لیا گیا ہے تو پھر وہ کام کرنے پر ہمیں سزا کیوں دی جاتی ہے ؟ ہر کام اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے اگر میں قتل کروں اس میں مرضی تو اللہ کی شامل ہوتی ہے سزا مجھے کیوں دی جاتی ہے ؟   تفصیل سے پڑھئے
مری تقدیر میں جو کچھ لکھ دیا گیا ہے میں اسکی بجا آوری پر مجبور ہوں پھر مجھ سے مواخذہ کیوں؟؟؟ وغیرہ وغیرہ
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ذہنوں میں یہ گمراہ کن سوالات اسلیے پیدا ہوئے اور ہوتے ہیں کہ ہم نے اپنے قرآن کو مختلف غلافوں میں اچھی طرح لپیٹ کر طاقچوں میں سجا رکھ اہے اگر بھولے سے اٹھا بھی لیتے ہیں تو فقط ثواب کی لالچ میں چند سطر میں پڑھ لیتے ہیں اس پر سوچتے نہیں اگر ہم اسے سمجھ کر پڑھتے تو ہمیں یہ حقیقت معلوم ہوتی کہ جو سوالات ہمارے ذہنوں میں آ رہے ہیں قرآن نے انہیں کافروں اور مشرکوں کا عقیدہ قرار دیا ہے ،
سورۃ الانعام آیت 148 میں ارشاد ہے
اب مشرک کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اور نہ ہمارے باپ دادا شرک کرتے ،اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کرتے اسی طرح ان لوگوں نے بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ انہوں نے میرا عذاب چکھا ،آپ کہہ دیجئے اگر تمہارے پاس ان باتوں کا کوئی چبوت ہے تو اسے سامنے لاؤ بلکہ تم تو فقط خیالی باتوں پر چلتے ہو اور صرف تخمینہ ہی کرتے ہو۔
اگر ایک بدمعاش شراب پیتا ہے سرِعام بدفعلی کرتا ہے،گالی گلوچ بک کر دوسروں کی عزت کو اچھالتا ہے ،چند سکوں کے حصول کے لیے ایک بے گناہ کا خون بہاتا ہے ،کیا یہ حکم اسے اللہ دے رہا ہے کیا یہ سب خرافات وہ رحیم و کریم کی مرضی سے کر رہا ہے ؟؟؟ نعوذ باللہ ،اللہ تعالیٰ تو سورۃ الاعراف آیت 28 میں ارشاد فرماتا ہے ،
اور جب یہ لوگ کوئی برا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اسی طرح اپنے باپ دادا کو یہ کام کرتے دیکھا ہے اور اللہ نے بھی ہمیں یہی حکم دیا ہے آپ کہہ دیجئے بلا شبہ اللہ کسی کو بے حیائی کا حکم نہیں کرتا تم اللہ کے ذمے کیوں ایسی باتیں بناتے ہو جسکا تمہیں کچھ بھی علم نہیں ،
یہ تو رہا اس بہتان کا جواب جو ہم اپنی لاعلمی اور نادانی سے اللہ کی ذات پر لگاتے ہیں آیئے اب ذرا ان آیات ربانی پر ایک نظر ڈالیں جو صرئح طور پر ہمارے اس نام نہاد اور بے بنیاد عقیدے کو رد کرتی ہیں ،
بے شک اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ یہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں ،سورۃ یونس
(اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا کہ جس با ت کا میں خود حکم کروں اور پھر اسی پر سزا بھی دوں یہ ایک انسان بھی نہیں کر سکتا اور کرے گا)
جو بھی برا عمل کرے گا اسی کے مطابق بدلہ پائے گا۔
تم پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی ہے ۔
اگر ہمارا قرآن پاک کی صداقت پر کامل ایمان ہے تو اب ہمیں تقدیر کے بارے میں کسی طرح کی الجھن کا شکار نہیں ہونا چاہیے ہمیں قرآن کی اس وضاحت پر مطمئن ہونا چاہیے کہ تقدیر فقط ہمارے ہی کئے ہوئےاعمال کی پیشگی اندراج ہے ،پیشگی اندراج کے متعلق رب العزت سورۃ الحدید آیت 22،23 میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ،کوئی مصیبت نہ اس دنیا میں آتی ہے اور نہ ہی تمہاری جانوں پر مگر وہ میں نے روشن کتاب لوح محفوظ میں لکھ دی ہے اس سے قبل کہ میں ان جانوں کو پیدا کروں یہ میرے لیے بالکل سہل اور آسان کام ہے،
پیشگی اندراج کی ایک عمدہ اور بے مثل نمو نہ خود قرآن پاک ہے ،جو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے 23 سالہ زندگی پر محیط تمام تر وقعات ،سوالات اور جوابات کے ساتھ حضور کی نبوت سے کروڑں اربوں برس پہلے ہی لکھ کر لوح محفوظ میں محفوظ کر لیا گیا تھا اور آپ کی پیدائش پر ایک ہی مبارک رات میں آسمان دنیا میں اتارا گیا ،حضور انور کی نبوت کے بعد جیسےجیسے وہ واقعات ظہور میں آتے گئے جو قرآن پاک میں درج تھے ویسے ویسے موقع محل کے اعتبار سے آیات مبارکہ نازل ہوتی رہیں ،کفار مکہ جو جو سوال پوچھتے ،قرآن پاک میں مسطور جواب بذریعہ وحی نازل ہوتے رہے ،
جو رب پوری 23 سالہ راتیخ کو اربوں سال پہلے اپنے کامل علم و حکمت کے تحت لکھ سکتا ہے کیا وہ اپنے ایک بندے کے اعمال کا پیشگی اندراج نہیں کر سکتا ؟؟ا
الغرض مذکور بالا حقائق کی روشنی میں تقدیر بلاشبہ ہمارے ہی اعمال کی پیشگی اندراج کا مکلمل ریکارڈ ہے ،اللہ تعالیٰ کی ذات حکمااپنے بندوں سے کوئی کام نہیں کرواتا ،ہم اپنے اعمال کی بجا آوری میں قطعی خود مختار رہیں اسی لیے اپنے کئے ہوئے ہر اچھے برے عمل کے لیے اپنے رب کے سامنے جواب دہ ہیں
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers