جسے پہلے " مولتان " کے نام سے جانا جاتا تھا ۔۔ تو آئیں ملتان شریف کے بارے میں جانتے ہیں۔۔۔ ملتان کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اور اسے پہلے مولتان کے نام سے پکارا جاتا تھا اس کا شمار دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ بہت سے شہر آباد ہوئے مگر گردش ایام کا شکار ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ، لیکن شہر ملتان ہزاروں سال پہلے بھی زندہ تھا اور آج بھی زندہ ہے ۔ ملتان کو صفحہ ہستی سے ختم کر نے کی کوشش کرنے والے سینکڑوں حملہ آور خود نیست و نابود ہو گئے آج ان کا نام لیوا کوئی نہیں مگر ملتان آج بھی اپنے پورے تقدس کے ساتھ زندہ ہے اور مسجود ملائک بنا ہوا ہے ، شیخ الاسلام حضرت بہائو الدین زکریا ملتانی(رح) نے ایسے تو نہیں کہا تھا-  تفصیل سے پڑھئے
ملتان ما بجنت اعلیٰ برابراست
آہستہ پابنہ کہ ملک سجدہ می کنند
ملتان کے بارے جس ہستی نے یہ لافانی شعر کہا، وہ ہستی خود کیا تھی؟ اس کا اپنا مقام اور مرتبہ کیا تھا؟ اور اس نے انسانیت کیلئے کیا کیا خدمات سرانجام دیں؟ اس بات کی تفصیل کیلئے ایک مضمون نہیں بلکہ کئی کتب کی ضرورت ہے،
حضرت بہاؤ الدین زکریا کی شخصیت اور خدمات بارے کچھ کتب مارکیٹ سے مل جاتی ہیں مگر اس میں مذکور مضامین کی حیثیت سطحی ہے، زکریا سئیں کو نئے سرے سے جاننے اور نئے سرے سے دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔
غوث العالمین، شیخ الاسلام حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی 27 رمضان 566ھ حضرت مولانا وجیہہ الدین محمد قریشی کے ہاں پیدا ہوئے، صغیر سنی میں والد ماجد کا انتقال ہو گیا، یتیمی کی حالت میں تعلیم اور تربیت کے مراحل طئے ہوئے اور عین جوانی میں عازم سفر سلوک بنے،
بغداد پہنچ کر حضرت شہاب الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ سے روحانی فیض حاصل کیا، سہروردی سئیں نے خرقہ خلافت عطا فرمایا اور آپ کو ملتان پہنچ کر دین کیلئے کام کرنے کی تلقین فرمائی، ملتان میں ان دنوں ہندوؤں کا غلبہ تھا اور پرہلاد جی خود تو موحد تھے اور خدا کا انکار کرنے والے اپنے بادشاہ باپ سے جنگ بھی کی مگر پر ہلاد جی کی وفات کے سینکڑوں سال بعد ان کے مندر پر بت پرست غالب آ گئے اور پرہلاد جی کا مندر ہندو مذہب کا مرکز بنا ہوا تھا،
ملتان پہنچ کر آپ نے تبلیغ شروع کر دی، پرہلاد مندر کے متولیوں کے غیر انسانی رویوں سے نالاں لوگ جوق در جوق حضرت کی خدمت میں پہنچ کر حلقہ اسلام میں داخل ہونے لگے، آپ نے شروع میں مدرستہ الاسلام قائم کیا اور بعد میں اسے دنیا کی سب سے بڑی پہلی اقامتی یونیورسٹی کی حیثیت دیدی، آپ نے تعلیم کے ساتھ تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا، جو بات میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آج دین سکھانے کیلئے کسی نے بستر اور کسی نے کلاشنکوف اٹھا لی ہے، اس کے مقابلے میں حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی (رح) نے کیا طریقہ کار اختیار کیا؟ یہ غور طلب ہے۔
شاہ رکن عالم
غوث العالمین نے اپنی اقامتی یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ مختلف عالمی زبانوں مثلاً سنسکرت ،پنجابی ، بنگالی ، سندھی ، فارسی ، عربی ، جادی ، برمی ، مرہٹی اور انڈونیشی وغیرہ کے شعبے قائم کیے ، اور مذکورہ زبانوں کے طلبہ کو تعلیم سے آراستہ کر کے گروپ تشکیل دئیے اور ان گروپوں کو جماعتوں کی شکل میں کو تجارت اور تبلیغ کی غرض سے مختلف ممالک کیلئے روانہ کیا ۔ تجارت کیلئے ہزاروں اشرفیوں کی صورت میں خود سرمایہ مہیا فرماتے اور ہدایت فرماتے رزق حلال کے حصول کیلئے تجارت کرنی ہے اور خدا کی خوشنودی کیلئے تبلیغ بھی ، وفود کو روانگی سے پہلے پانچ باتوں کی نصیحت فرماتے۔
تجارت میں اسلام کے زریں اصولوں کو فراموش نہ کرنا۔
چیزوں کو کم قیمت منافع پر فروخت کرنا
خراب چیزیں ہرگز فروخت نہ کرنا بلکہ انہیں تلف کر دینا ۔
خریدار سے انتہائی شرافت اور اخلاق سے پیش آنا۔
جب تک لوگ آپ کے قول و کردار کے گرویدہ نہ ہو جائیں ان پر اسلام پیش نہ کرنا۔
اسی زمانے دریائے راوی ملتان کے قدیم قلعے کے ساتھ بہتا تھا اور اسے بندرگاہ کی حیثیت حاصل تھی ، کشتیوں کے ذریعے صرف سکھر بھکر ہی نہیں منصورہ ، عراق ، ایران ، مصر کا بل دلی اور دکن تک کی تجارت ہوتی اس طرح ملتان کو دنیا بہت کے بڑے علمی تجارتی اور مذہبی مرکز کی حیثیت حاصل ہوئی اور صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں حضرت بہاو الدین زکریا ملتانی(رح) نام اور پیغام پہنچا، آپ کے پیغام سے لاکھوں انسان حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور آپ نے لوگوں کے دلوں میں اس طرح گھر بنا لیا کہ آٹھ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی لاکھوں انسان ننگے پاؤں اورسر کے بل چل کر آپ کے آستانے پر حاضری دیتے ہیں اور عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔
میرے سامنے ملتان کے معروف آرٹسٹ سئیں ضمیر ہاشمی کے چند فن بارے موجود ہیں ، ان فن پاروں میں قلعہ ملتان کی قدامت کو پنسل ورک ‘‘ کے ذریعے عیاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے قلعہ کی فصیل دکھائی گئی ہے ، پرہلاد مندر کا نقشہ انہدام سے پہلے کی شکل میں موجود ہے اور شاہ رکن عالم کا دربار پر انوار بھی جلوہ افروز ہے ۔ قلعہ ملتان کتنا قدیم ہے؟ اس بارے کہا جاتا ہے کہ یہ پانچ ہزار سال پرانا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ اس سے بھی قدیم ہو ، اس بات پر تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ ملتان اور قلعہ ملتان کا وجود قبل از تاریخ دیو مالائی دور سے بھی پہلے کا ہے ، قابل افسوس امر یہ ہے کہ حملہ آوروں نے ہمیشہ اس قلعے کو نشانہ بنایا اور اسے فتح کرنے کے بعد خوب لوٹ مار ہوتی رہی مگر اسے بحال کرنے کی صورت پیدا نہ ہو سکی ، 1200قبل مسیح دارانے اسے تباہ کیا ،325 قبل مسیح سکندر اعظم نے اس پر چڑھائی کی پھر عرب افغان سکھ اور انگریز حملہ آوروں قدیم قلعہ ملتان کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ، اب فرزندان ملتان اور سرائیکی وسیب کے تمام باسیوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی سابقہ کوتاہیوں پر غور کریں اور اپنے وسیب کے ساتھ ہونیوالی پانچ ہزار سالہ زیادتیوں کی تلافی کریں اور اپنی عظمت رفتہ کو پہنچائیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ملتان ایک شہر ہی نہیں ایک تہذیب اور ایک سلطنت کا نام بھی ہے ۔
372ہجری کتاب ’’حدود العالم بن المشرق الی المغرب‘’ میں ملتان کی حدود بارے لکھا ہے کہ قنوج کے راجہ اور امیر ملتان کی سرحدیں جالندھر پر ختم ہوتی تھیں’’ سیر المتاخرین‘‘ میں اقلیم ملتان کی حدود اس طرح بیان کی گئی ہیں کہ ملتان اول دوم و سوم اقالیم سے زیادہ فراخ ہے کیونکہ ٹھٹھہ اس صوبہ پر زیادہ ہوا ہے فیروز پور سے سیوستان تک چار سو تیس کوس لمبا اور چتوڑ سے جیسلمیر تک ایک سو آٹھ کوس چوڑا ہے دوسری طرف طول کیچ اور مکران تک چھ سو ساٹھ کوس ہے اس کے خاور ﴿مشرق﴾ رویہ سرکار سرہند سے ملا ہوا ہے شمالی دریائے شور میں اور جنوبی صوبہ اجمیر میں ہے اور باختر﴿مغرب﴾ میں کیچ اور مکران ہے ۔ ابوالفضل نے اپنی مشہور عالم کتاب آئین اکبری میں ملتان کی حدود یہ بیان کی ہیں ، صوبہ ملتان کے ساتھ ٹھٹھہ کے الحاق سے پہلے یہ صوبہ فیروز پور سے سیوستان تک ۶۲۴کروہ تھا چوڑائی میں کھت پور سے جیسلمیر تک۶۲۱ کروہ تھا ٹھٹھہ کے الحاق کے بعد یہ صوبہ کیچ اور مکران تک وسیع ہوگیا ، اس کا یہ فاصلہ ۰۶۶ کروہ تھا ، مشرق میں اسکی سرحدیں سرہند سرکار سے شمالی میں پشاور سے جنوب میں اجمیر کے صوبے اور مغرب میں کیچ مکران سے ملتی تھیں ، کیچ اور مکران پہلے صوبہ سندھ میں شامل تھے ملتان کے صوبے میں تین سرکاریں ﴿ملتان خاص دیپال پور اور بھکر﴾ تھیں اور کل اٹھاسی پراگنے ﴿ضلعے ﴾تھے۔ ملتان کی وسعت اور عظمت پر تاریخ آج بھی رشک کرتی ہے ، ملتان کے قدامت کے ہم پلہ دنیا میں شاید ہی کوئی شہر ہو ، پاکستان میں جن شہروں کو مصنوعی طریقے سے ملتان سے کئی گنا بڑے شہر بنایا گیا ہے، آج سے چند سو سال پہلے یہ ملتان کی مضافاتی بستیاں تھیں اس بات کی شہادت حضرت داتا گنج بخش(رح) نے اپنی کتاب’’کشف المجوب‘‘ میں ’’لاہور یکے از مضافاتِ ملتان‘‘ فرما کر دی ہے ۔ ملتان کے حوالے سے فارسی کے شعر‘’ چہار چیزاست تحفہ ملتان ، گردو گرما گداوگورستان‘‘ گرد کا مطلب ہے کہ یہاں آندھیاں بہت آتی ہیں ۔ گرما کا مطلب ہے کہ گرمی بہت ہوتی ہے ، گدا [2] کا مطلب ہے کہ یہاں اللہ والے بہت لوگ ہیں اور گورستان کا مطلب ہے کہ یہاں قبرستان بہت ہیں۔ گرمی کے حوالے سے ’’گرمے‘‘ کی بات کوچھوڑ کر محققین کو اس بات پر غور کرنا چاہئیے کہ دنیا کی امیر کبیر شہر ، دنیا کی بہت بڑی تہذیب ، دوسرا سب سے پرانا قدیم شہر اور دنیا کی بڑی سلطنت کو گورستان میں کس نے تبدیل کیا ؟ ایک وقت تھا جب یہ سلطنت سمندر تک پھیلی ہوئی تھی اور عروس البلد لاہور اس کا ایک مضافاتی علاقہ ہوتا تھا۔ ساہیوال، پاکپتن، اوکاڑہ، میاں چنوں، خانیوال، لودھراں، مظفرگڑھ اور بھکر تمام اس کے علاقے تھے۔ مگر یہ تاریخی شہر رفتہ رفتہ تقسیم در تقسیم ہوتا گیا۔تاریخی سلطنت (صوبہ ملتان) اور آج تین تحصیلوں تک محدود ہوگیا ہے۔
مشہوراولیاءکرام کے مزارات
اس شہر کو اولیاء کا شہر کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں کافی تعداد میں اولیاء اور صوفیاء کے مزارات ہیں۔ مشہور مزارات میں
حضرت شاہ شمس تبریز(رض)
حضرت بہاولحق (رض)
بی بی نیک دامن
حضرت بہاوالدین زکریا ملتان(رض)
حضرت موسیٰ پاک شہید (رض)
حضرت سید احمد سعید کاظمی(رض)
حضرت حافظ محمد جمال (رض)
حضرت بابا پیراں غائب(رض) اور بہت سے اولیاء کرام کے مزارات یہاں پر ہیں۔
مضافات میں حضرت مخدوم رشید(رض) شاہ صاحب کا مزار بھی موجود ہے جو کہ وہاڑی روڈ پر واقع ہے۔
ملتان کے قدیم دروازے
ملتان کے قدیم دروازوں کے نام یہ ہیں۔
پاک گیٹ
اس کا نام پاک گیٹ اس وجہ سے ہے کہ اس سے 300 فٹ اندر کی طرف ایک بزرگ شيخ سيد ابوالحساب موسى پاک شہيد کا مزار ہے، جو کہ سید حامد بخش گیلانی کے بیٹے تھے۔
دیگر دروازے
حرم گیٹ
بوہڑ گیٹ
دہلی گیٹ
دولت گیٹ
لوہاری گیٹ
مشہورمقامات
حسین آگاہی
گھنٹہ گھر
عزیز ہوٹل
قدیر آباد
پیراں غائب
سمیجہ آباد
شاہ رکن عالم کالونی
نیو ملتان
ملتان کینٹ
ڈیرہ اڈہ
ممتاز آباد
گلگشت کالونی
واپڈا ٹاون
کھاد فیکٹری
نشتر ہسپتال
سول ہسپتال
نواب پور
مخدوم رشید
بستی ملوک
بستی خداداد
مظفرآباد
قلعہ کہنہ قاسم باغ
دولت گیٹ
سوئی گیس کالونی
بہاوالدین زکریا یونیورسٹی
مشہورسوغات
حافظ کا ملتانی سوہن حلوہ
حافظ عبدالودود کا سوہن حلوہ
ریواڑی کی مٹھائی
دلمیر کے پیڑے
حرم گیٹ کی کھیر
لال کرتی کینٹ کا دودھ
لال کرتی کینٹ کی چانپ
نواب ہوٹل کا نمکین گوشت
ملتان کے موضوعات

تاریخ
تاریخ ملتان تاریخ پنجاب سکندر اعظم مملکت يونانی ہند موريا کشان سلطنت محمد بن قاسم محمود غزنوی مغلیہ سلطنت مہاراجہ رنجیت سنگھ نواب مظفر خان برطانوی راج تاریخ پاکستان
شہر اور معیشت:
پاکستان کے اضلاع
تعلیم اور ثقافت:
بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی پاکستان قومی کرکٹ ٹیم سرائیکی لہجہ پاکستان میں اسلام مزار شاہ علی اکبر منکا ملتان عجائب گھر قلعہ ملتان
مذہبی شخصیات:
حامد سعید کاظمی سید عطاء اللہ شاہ بخاری
سیاسی شخصیات:
حامد رضا گیلانی سکندرحیات خان حنا ربّانی کھر شاہ محمود قریشی شوکت ترین صادق حسین قریشی محمد وصی ظفر مخدوم جاوید ہاشمی مخدوم سجاد حسین قریشی یوسف رضا گیلانی
انضمام الحق ، صائمہ مظہر کلیم
کھیل
ملتان کرکٹ اسٹیڈیم ملتان ٹائیگرز
انتظامی تقسیم
ملتان ضلع ملتان تحصیل ملتان شہر تحصیل ملتان صدر تحصیل جلال پور پیروالہ تحصیل شجاع آباد
تعلیمی ادارے
بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers