جلال الدین اکبر سلطنت مغلیہ کے تیسرے فرماں رو (بابر اعظم اور ہمایوں کے بعد)، ہمایوں کابیٹا تھا۔ ہمایوں نے اپنی جلاوطنی کے زمانے میں ایک ایرانی عورت حمیدہ بانو سے شادی کی تھی ۔ اکبر اُسی کے بطن سے 1542ء میں امر کوٹ کے مقام پر پیدا ہوا۔ ہمایوں کی وفات کے وقت اکبر کی عمر تقریباً چودہ برس تھی اور وہ اس وقت اپنے اتالیق بیرم خان کےساتھ کوہ شوالک میں سکندر سوری کے تعاقب میں مصروف تھا۔ باپ کی موت کی خبر اسے کلانور ضلع گورداسپور (مشرقی پنجاب) میں ملی۔ بیرم خان نے وہیں اینٹوں کا ایک چبوترا بنوا کر اکبر کی رسم تخت نشینی ادا کی اور خود اس کا سرپرست بنا۔ تخت نشین ہوتے ہی چاروں طرف سے دشمن کھڑے ہوگئے ۔ ہیموں بقال کو پانی پت کی دوسری لڑائی میں شکست دی۔ مشرق میں عادل شاہ سوری کو کھدیڑا۔ پھر اس نے اپنی سلطنت کو وسعت دینی شروع کی۔ اکبر کی سلطنت بنگال سے افغانستان تک اور کشمیر سے دکن میں دریائے گوداوری تک پھیل گئی۔ اکبر نے نہایت اعلٰی دماغ پایا تھا۔ ابوالفضل اور فیضی جیسے عالموں کی صحبت نے اس کی ذہنی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشی ۔ اس نے اس حقیقت کا ادراک کر لیاتھا کہ ایک اقلیت کسی اکثریت پر اس کی مرضی کے بغیر زیادہ عرصے تک حکومت نہیں کر سکتی۔ اس نے ہندوؤں کی تالیف قلوب کی خاطر انہیں زیادہ سے زیادہ مراعات دیں اور ان کے ساتھ ازدواجی رشتے قائم کیے۔ اکبر نے ایک ہندو عورت جودھا باءی سے بھی شادی کی جو کہ اس کے بیٹے جہانگیر کی ماں تھی۔ جودھا باءی نے مرتے دم تک اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ نیز دین الہٰی کے نام سے ایک نیامذہب بھی جاری کیا۔ جو کہ ایک انتہا پسندانہ اقدام تھا اور اکبر کے ہندو رتنوں کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ تھا۔ دین الہًی کی وجہ سے اکبر مسلمان امراء اور بزرگان دین کی نظروں میں ایک ناپسندیدہ شخصیت قرار پایا۔ وہ خود ان پڑھ تھا۔ لیکن اس نے دربار میں ایسے لوگ جمع کر لیے تھے جو علم و فن میں نابغہ روزگار تھے۔ انھی کی بدولت اس نے بچاس سال بڑی شان و شوکت سے حکومت کی اور مرنے کے بعد اپنے جانشینوں کے لیے ایک عظیم و مستحکم سلطنت چھوڑ گیا-
ترک بادشاہ بابر کا بیٹا ہمایوں جب فرید خان ( شیر شاہ سوری ) سے شکست کھا کراپنے بھائیوں کے پاس لاہور پہنچا کچھ دن وہاں رہا اسی دوران اس کا ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام جلال الدین اکبر رکھا گی کچھ دن بعد اُسے خبر ملی کے شیر شاہ سوری کی فوج اُسے تلاش کرتی ہوئی لاہور کی طرف آ رہی ہے تو وہ تو سندھ ایران فرار ہوا اور وہاں سے وآپس کابل جا پہنچا ، اُس کے بعد اس کے بیٹے کی پر ورش کی ذمے داری اس کے بھائییوں پر آ پڑی ۔ اکبر کے چچا نے اسے رکھ تو لیا لیکن اس کی تعلیم و تربیت کی طرف کوئی توجہ نہیں ۔ ہمایوں نے جب دوبارہ تخت حاصل کیا تو اکبر کی پرورش کے لئے بیرم خان کو استاد مقرر کیا جس نے اسے جنگ کے سارے داؤ سکھا دئے اور وہ بہت جلد تیر اندازی اور تلوار بازی میں ماہر ہو گیا۔ ایک دن بیرم خان نے ایک درخت پر ایک سیب لٹکا دیا اور جب وہ ہوا سے خوب ہلنے لگا تو اکبر کو نشانہ لگانے کا حکم دیا۔ نشانہ خطا ہو گیا تو استاد نے کہا : تیر کا نشانہ لیتے ہوئے ہوا کی سمت اور رفتار کا بھی خیال رکھنا چاہیے اور نشانہ لیتے ہوئے ہدف کے علاوہ اور کہیں توجہ نہیں ہونی چاہئیے، دوسری مرتبہ نشانہ صحیح لگا۔
ایک بار بیرم خان اکبر کو جنگل میں لے گیا وہاں اس نے ایک جنگلی بھینسا کو غصہ دلا کر اکبر کی طرف بھیج دیا۔ بھینسا جیسے ہی اکبر پر حملہ آور ہوا اکبر نے اس کی آنکھ کا نشانہ لے کر تیر چلایا جو صحیح بیٹھا اور جانور گر کر تڑپنے لگا۔ بیرم خان نے اکبر کو شاباشی دیتے ہوئے کہا : یہ تمہارا آخری امتحان تھا۔ جھولتے ہوئے سیب پر نشانہ لگاتے ہوئے تمہارے دل میں دشمن کا خوف نہیں تھا۔ میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ خوف کی حالت میں تم گھبرا تو نہیں جاتے اور صحیح نشانہ لے سکتے ہو یا نہیں۔
اکبر تیرہ سال کی عمر میں تخت نشین ہوا اور پچاس سال تک ہندوستان پر حکومت کی ۔

نوٹ : - ہم لوگ ظہیر الدین بابر اور اُس کی نسل کے باقی بادشاہوں کو مغل بادشاہ کہتے ہیں ، جو کہ غلط ہے ، تاریخ بتاتی ہے کہ ظہر الدین بابر نسلا برلاس ترک تھا ۔
 مگر یہ حقیقت ہے ، کئی سال پہلے جب میں نے ظہیر الدین بابر کی تاریخ پڑھی تھی تو میں بھی حیران ہوا تھا ، بابر کا باپ عمر شیخ مرزا فرغانہ (ترکستان) کا حاکم تھا ۔ بابر باپ کی طرف سے تیمور اور ماں کی طرف سے چنگیز خان کی نسل سے تھا۔ عمرشیخ مرزا کبوتر بازی کا بہت شوقین تھا ، ایک روز اپنے کبوتر خانے کے بالا خانے سے گر کر مر گیا تھا ، اور یوں ظہیر الدین بابر 12 سال کی عمر میں اپنی باپ کی چھوڑی ہوئی چھوٹی سی ریاست کا حکمران بنا تھا ، اشکنانیوں نے اُسے اور باقی تمام چھوٹی چھوٹی ترک و تاجک ریاستوں پر قبضہ کر لیا ، بابر نے اپنی جان بخشی کے لیے اپنی بہن کی شادی اشکنانی بادشاہ سے کر دی تھی ، کئی برس تک ادھر اُدھر بھٹکنے کے بعد بابر صرف سو دو سو فوجیوں کے ساتھ کابل پر حملہ آور ہوا ، کابل کے حکمران نے بغیر لڑے حکومت نوجوان بابر کے حوالے کر دی ، بابر نے باقاعدہ پہلی حکومت کابل میں قائم کی تھی ، کچھ عرصہ بابر کابل میں رہ کر فوجی تیاری کرتا رہا اس کے بعد 1525 یا 1526 ء میں بابر نے ہندوستان پر حملہ کیا اُس وقت ہندوستان پر ابراھیم لودھی کی حکومت تھی ، پانی پت کی لڑائی ظہیر الدین بابر اور ابراھیم لودھی کے درمیان لڑی گئی تھی ، اس جنگ میں پنجاب کے ہندو راجاؤں نے ابراھیم لودھی کا ساتھ دیا تھا اور پہلے پہل اُن ہندو راجاؤں اور خصوصا راجا رانا سنگھا ( کچھ مورخین نے لکھا ہے کہ خود راجا سنگھا نے ہی بابر کو ہندوستان پر حملہ کرنے کے لیے اُکسایا تھا ) نے بابر کو مغل ( لٹیرا ) کہا تھا ، بابر کے بعد اُس کی اولاد میں کسی نے بھی اپنے لیے مغل کا لفظ استعمال نہیں کیا ، بلکہ یہ لوگ اپنے آپ کو مرزا یا بیگ کہتے تھے ، بیگ ترک زبان میں بادشاہ کی قریبی مصاحب کو کہتے ہیں ، 1757 کی پہلی جنگ کے بعد سے ہی انگریزوں کے ایجنٹ مقامی سرداروں اور چھوٹے چھوٹے راجاؤں نے ایک بار پھر انہیں مغل کہنا شروع کر دیا تھا ، اور یہ لفظ مقامی لوگوں کو بغاوت کے لیے اپنے ساتھ ملانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا ، بعد مین تو یہ لفظ ہی مستعمل ہو گیا بلکہ اج اگر کسی کو کہا جائے کہ ظہیر الدین بابر برلاس ترک تھا تو وہ حیران ہو جاتا ہے ۔ تزک بابری ظہیر الدین بابر کا دیوان ہے اور جو کہ فارسی اور تاجک زبان میں ہے اور آج بھی تاجکستان کی یونیورسٹیز کے نصاب میں شامل ہے ۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers