بھگت سنگھ کا کردار چی گویرا کی مانند کرشماتی تھا، لیکن پاکستان میں اسے گروہی تاریخ کے سائے میں دفن کردیا گیا ہے۔ برطانوی اقتدار کے خلاف بھگت سنگھ کی جدوجہد کو یاد کرنے کے لیے ان کی برسی کے موقع پر پنجاب لوک رس کی جانب سے فرید ٹاؤن میں ایک مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔ مختلف اداروں کے لگ بھگ پانچ درجن طالبعلموں، تھیٹر کے رضاکاروں اور ثقافتی کارکنوں نے اس مذاکرے میں حصہ لیا، جس کے لیے لخت پاشا، پنجابی ڈرامہ نگار، نقاد اور سیاسی کارکنوں نے سہولت فراہم کی۔  تفصیل سے پڑھئے
مذاکرے کی میزبان میمونہ امجد نے کہا کہ پنجاب کے نوجوان بھگت سنگھ کی جدوجہد سے بہت کم واقف ہیں، حالانکہ وہ فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے گاؤں بونگہ میں پیدا ہوئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہماری تاریخ کی کتابیں اس موضوع پر خاموش ہیں، اور ہمارے سرکاری نصاب میں انہیں زیادہ تر ہندوستان کے ایک سکھ ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔‘‘
طارق بن زیاد کالونی کے ایک رہائشی چوبیس برس کے عبدالمقدم نے حاضرین کو بتایا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں بھگت سنگھ کا نام نہیں سنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ پہلا موقع ہے کہ میں اس عظیم انقلابی سے متعارف ہوا ہوں، اور میں محسوس کرتا ہوں کہ میں نے اپنی تاریخ کے ایک اہم باب کو فراموش کردیا ہے۔‘‘
چک 87/6 آر سے آئی ہوئی ثمینہ نے کہا کہ برطانوی حکمرانوں کے خلاف انقلابی تحریک میں بھگت سنگھ کا کردار چی گویرا کی مانند پُرا اثر اور کرشماتی تھا، لیکن پاکستان میں اس طرح کے کرداروں کو گروہی تاریخ کے سائے میں دفن کردیا گیا ہے۔
لخت پاشا نے زور دیا کہ بھگت کو ناصرف ہندوستان بلکہ پاکستان میں بھی شہید قرار دیا گیا، اس لیے کہ ان کی جدوجہد کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں تھی، بلکہ پستی میں پڑے ہوئے لوگوں کی بہتری کے لیے تھی۔
مذاکرے کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ بھگت سنگھ کے کردار آزادی کے مجاہد کو لازماً تاریخ کی کتابوں میں تسلیم کیا جائے۔
اس موقع پر ایک قرارداد بھی پاس کی گئی، جس میں حکومت پنجاب پر زور دیا گیا کہ وہ اس انقلابی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے شادمان چوک پر ایک یادگار کی تعمیر کرے۔
بھگت سنگھ پنجاب کے حقیقی ہیروز میں سے ایک ہیں، جو سرحد کے دونوں اطراف اسکالرز اور عام لوگوں کی دلچسپی کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
بھگت سنگھ کی ولادت لائلپور ڈسٹرکٹ کے کشن سنگھ اور ودیاوتی کے گھر میں ستائیس ستمبر 1907ء کو ہوئی۔
ان کی تعلیم لاہور میں ہوئی، ان کی سیاسی سرگرمیوں کے تمام اہم واقعات، بشمول ان کے مقدمے، جسے لاہور تنازعہ کیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ان کی قید، سیاسی قیدیوں کے حقوق کے لیے ان کی یادگار بھوک ہڑتال، جس میں انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ حصہ لیا، بالآخر ان کی لاہور سینٹرل جیل میں پھانسی، سب یہیں رونما ہوئے۔
ان کے ایک انقلابی ساتھی شیو ورما سے جب پوچھا گیا کہ بھگت سنگھ نے دیگر انقلابیوں سے کیا مختلف کیا تھا، تو انہوں نے جواب دیا تھا ’’بھگت سنگھ ہمارا غیرمتنازع نظریاتی رہنما تھا۔‘‘
بھگت سنگھ سوشلسٹ انقلاب کے حامی تھے۔ ہر قسم کے طبقات سے پاک اور مساویانہ بنیادوں پر ہندوستانی معاشرہ کی تشکیل کرنا چاہتے تھے۔ ضلع لائل پور کے موضع بنگہ میں پیدا ہوا۔ جلیانوالہ باغ امرتسر کی خونریزی اور عدم تعاون کی تحریک کے پرتشدد واقعات کاان کے ذہن پر گہرا اثر ہوا۔ انہوں نے 1921ء میں نیشنل کالج میں داخلہ لیا۔ 1927ء میں لاہور میں دسہرہ بم کیس کے سلسلے میں انہیں گرفتار کرلیا گیا اور پھر لاہور کے شاہی قلعے میں قید کردیا گیا۔
جب انہیں ضمانت پر رہائی ملی تو انہوں نے نوجوان بھارت سبھا بنائی اور کچھ ہی عرصے کے بعد انقلاب پسندوں میں شامل ہوگئے۔
دہلی میں مرکزی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بھگت سنگھ اور بی کے دت نے اسمبلی ہال میں دھماکا پیدا کرنے والا بم پھینکا۔ وہ دنوں گرفتار ہوگئے اور عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی۔
1928ء میں سائمن کمیشن کی آمد پر لاہور ریلوے سٹیشن پر زبردست احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس میں لالہ لاجپت رائے رائے زخمی ہوگئے۔ اس وقت لاہور کے سینئر سپرٹینڈنٹ پولیس مسٹر سکاٹ تھے۔ انقلاب پسندوں نے ان کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا۔ لیکن ایک دن پچھلے پہر جب مسٹر سانڈرس اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ پولیس لاہور اپنے دفتر سے موٹر سائیکل پر دفتر سے نکلے تو راج گرو اور بھگت سنگھ وغیرہ نے ان کو گولی مار ہلاک کر دیا۔
بالآخر کشمیر بلڈنگ لاہور سے ایک رات تمام انقلاب پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ لاہور کے سینٹرل جیل کے کمرۂ عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ بھگت سنگھ اور دت اس سے قبل اسمبلی بم کیس میں سزا پا چکے تھے۔ مقدمہ تین سال تک چلتا رہا۔ حکومت کی طرف سے خان صاحب قلندر علی خان اور ملزمان کی طرف سے لالہ امرد اس سینئر وکیل تھے۔ بھگت سنگھ اور سکھ دیو کو سزائے موت کا حکم دیا گیا اور 23 مارچ 1931 کو ان کو پھانسی دے دی گئی۔ فیزوز پور کے قریب، دریائے ستلج کے کنارے، ان کی لاشوں کو جلا دیا گیا۔ 

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers