کئی بچے مسلسل دو گھنٹے چیخ چیخ کر والدین سے لیپ ٹاپ / کمپیوٹر استعمال کرنے کی اجازت مانگتے رہتے رہتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے مدتوں سے ”وکٹ حاصل کرنے کو ترسا“ ہوا باؤلر امپائر سے ”ایل بی ڈبلیو“ آؤٹ کی اپیل و التجا کر رہا ہو، مگر ان کی اپیل اتنی سختی سے مسترد کر دی جاتی ہے کہ انہیں محض ”پندرہ منٹ“ کے لئے بھی لیپ ٹاپ / کمپیوٹر چلانے کی اجازت نہیں ملتی بلکہ سختی سے سکول سے ملا ہوم ورک مکمل کرنے کا کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس کئی چالاک بچے خود بخود ہی صرف ”پندرہ منٹ“ میں اپنا ہوم ورک مکمل کر کے نہ صرف بے پناہ شاباشیاں حاصل کرلیتے ہیں بلکہ پھر اس کے بعد ”اگلے دو گھنٹے“ تک کامیابی سے لیپ ٹاپ / کمپیوٹر بھی استعمال کرتے چلے جاتے ہیں۔
۔
ڈاکٹرز کے بقول صرف اور صرف ”پندرہ منٹ“ مسکراتے رہنے یا سمائل دینے سے انسانی صحت کو اتنا فائدہ پہنچ جاتا ہے جتنا دو گھنٹے نیند پوری کرنے سے ملتا ہے۔۔
۔
بہت سی لوگ بہترین کوالیٹی والی کنگھی کے ذریعے کافی دیر تک اپنے بال کنگھی کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن ”پندرہ منٹ“ کے بعد بھی ان کے بال دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے سری لنکن فاسٹ باؤلر لاسیتھ ملنگا سامنے کھڑا ہو۔
۔
کئی لوگ اچھی تصویر کھنچوانے کے لئے ”پندرہ منٹ تک“ کیمرے کو گھورتے ہوئے ”رنگ برنگی سمائلز“ دیتے رہتے ہیں مگر جیسے ہی ”پندرہ منٹ“ کی سخت محنت و کوشش کے بعد سست ترین کیمرہ مین کیمرے کا بٹن دبانے میں کامیاب ہوتا ہے، اسی وقت انہیں زوردار قسم کی چھینک آجاتی ہے اور یوں ساری بد قسمت سمائلز گھاس نوش فرمانے چلی جاتی ہیں۔۔
۔
ایک سروے کے مطابق اکثر لوگ پہلی بار الارم بجنے کے بعد اگلے ”پندرہ منٹ“ تک ضرور دائیں بائیں ”پاسے“ مارتے اور جمائیاں لیتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد ہی مکمل بیدار ہو پاتے ہیں۔
۔
کئی لوگ فیس بک پر اپنی پروفائل پکچر شئیر کرتے ہیں تو محض پندرہ سیکنڈز کے اندر ہی انہیں پندرہ لائیکس مل جاتے ہیں۔ لیکن اگلے ”پندرہ منٹ“ کے بعد پیج کو ”ری فریش“ مارنے پر معلوم ہوتا ہے کہ آدھے لائک کم ہو کر کامیابی سے نالائق سوری ”کم یابی“ سے ”نالائک“ ہو چکے ہیں۔
۔
کئی بار مدد کے حصول کے لئے کسی ادارے کی ”کسٹمر سروس سینٹر“ جائیں تو رش کی وجہ سے پندرہ منٹ بعد باری آتی ہے۔ ایسے میں اگر پندرہ منٹ کے بعد بھی سروس سینٹر والا یہ پوچھے کہ ”کیا میں آپ کی کوئی خدمت کر سکتا ہوں؟“، تو مجبوری میں یہ جواب دینا پڑتا ہے کہ:۔ ”نہیں حضور والا!۔ میں تو صرف آپ کی خدمت میں سلام عرض کرنے کے لئے ہی ”پندرہ منٹ“ سے”عشاق“ کی لائن میں کھڑا ہوں“۔
۔
کئی بچے اتنے ذہین اور لائق ہوتے ہیں کہ امتحانات میں جو پرچہ باقی بچے تین گھنٹوں میں حل کرپاتے ہیں، وہ صرف ”پندرہ منٹ“ میں ہی حل کر کے فاتحانہ چہرہ لئے امتحانی ہال سے باہر نکل آتے ہیں۔
کئی سٹوڈنٹس تو مکمل تین گھنٹے تک بھی پیپر حل کرتے ہی رہتے ہیں۔ ایسے سٹوڈنٹس آخری ”پندرہ منٹ“ کے دوران اس قدر خوبصورت ہینڈ رائٹنگ سے لکھتے ہیں کہ ان کے اندر کسی ڈاکٹر کی روح سما جانے کا گمان ہوتا ہے۔
۔
لیکچر کا وقت شروع ہونے کے ”پندرہ منٹ“ بعد تک بھی اگر استاد کلاس میں داخل نہ ہو تو اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہوتا ہے کہ استاد جی نے آج مکمل چھٹی کرنی ہے۔۔
۔
کئی مرتبہ موبائل پر ”کسی اہم شخصیت کی طرف سے“ ایسا عجیب و غریب قسم کا ایس ایم ایس یعنی میسیج آجاتا ہے کہ انسان اس کو ”پندرہ منٹ“ تک گھور گھور کے دیکھنے کے بعد بھی مکمل طور پر سمجھ نہیں پاتا۔ اور جب سمجھ آجاتی ہے تو اس کا جواب سوچنے اور لکھنے میں بھی ”پندرہ منٹ“ با آسانی صرف ہو جاتے ہیں۔
۔
استاد بشیر کے ایک دوست کو بے تحاشا سگریٹ پینے کی عادت تھی۔ استاد جی نے بارہا اسے یہ عادت ترک کرنے کا مشورہ دیا۔ کل اس نے ”محفل بشارت“ میں استاد بشیر کو یہ خوش خبری سنائی کہ اس نے سگریٹ نوشی کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ استاد جی بہت خوش ہوئے اور پوچھا کہ یہ فیصلہ کرنے کے بعد کیسا محسوس ہو رہا ہے؟۔ کہنے لگا بہت ہی اچھا محسوس ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ صرف پندرہ منٹ بعد ہی مجھے اپنا فیصلہ توڑنا پڑ گیا تھا۔ اور وہ پندرہ منٹ میری زندگی کے مشکل ترین لمحات تھے۔۔ دوبارہ سگریٹ پینا شروع کر ہی دی ہے تو اچھا کیوں محسوس نہ ہو؟۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔استاد جی نے یہ سن کر اسے دل کی گہرائیوں سے ”در فٹے منہ“ کا تحفہ عنایت فرمایا
۔
بڑے بھائی کے ایک دوست کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو اس نے فوری طور پر فون کر کے بھائی کو اطلاع دی۔ بھائی نے پوچھا: ”برخوردار کس پر گیا ہے؟“۔ انتہائی ادب و احترام سے بولے کہ حضور والا! ابھی تو وہ ”پندرہ منٹ“ پہلے ہی پیدا ہوا ہے، مجھے تو کسی ”آلو کی طرح“ ہی گول مٹول سا لگ رہا ہے۔
۔
پندرہ منٹوں کی انسانی زندگی کے لئے کیا اہمیت ہے، اب اسے واپڈا والے بھی بخوبی جان اورپہچان گئے ہیں؟۔ جی ہاں، کیا کبھی آپ نے سوچا تھا کہ لوڈ شیڈنگ کے لئے اب بجلی کلاک یا گھڑی کے مطابق کوئی گھنٹہ مکمل ہونے پر جانے کی بجائے ”پندرہ منٹ“ اوپر ہونے پر جایا کرے گی؟۔۔۔۔ لیکن اب ایسا حقیقت میں ہوتا ہے۔ لاہور ہو یا پنڈی، فیصل آباد ہو یا ملتان ، غرض اکثر جگہوں پر اگر لوڈ شیڈنگ شیڈول کے مطابق ہو رہی ہو تو آپ کو لائٹ ایک، دو، تین، چار یا پانچ بجے جانے کی بجائے سوا ایک، سوا دو، سوا تین، سوا چار یا سوا پانچ بجے ہی جاتی دکھائی دیتی ہے۔ پہلے تو مجھے اس انقلابی تبدیلی کی کوئی بھی منطق، لاجک اور وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔ اب سمجھ آئی کہ پندرہ منٹوں کی انسانی زندگی پر اس قدر اہمیت دیکھ کر واپڈا اور اس کی ڈسٹریبیوشن کمپنیز نے یہ قدم اٹھایا۔ سوچا آپ کو بھی وجہ بتا ہی دی جائے۔ اور نہیں تو کیا۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers