انسان کی زندگی کے مراحل میں ایک اہم مرحلہ شادی بیاہ کا ہے۔ اسلام نے اسے سادگی سے انجام دینے کی ترغیب دی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دودو، تین تین ، چار چار سے نکاح کرلو۔ لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ عدل نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو‘‘۔ )۳:۴(نکاح کی اہم بات مہر کی ادائیگی ہے اس کے بغیر نکاح نہیں۔ حضرت علی ؓ کانکاح جب حضرت فاطمہؓ سے کرنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا تو حضرت علیؓ سے کہا کہ تمہارے پاس مہرمیں دینے کے لئے کچھ ہے تو انھوںنے کہا کہ زرہ کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ پھر اللہ کے رسولؐ نے اس زرہ کو فروخت کرکے مہر کی ادائیگی اور کچھ ضروری سامان کی فراہمی کی ہدایت کی۔   تفصیل سے پڑھئے
قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ )فرض جانتے ہوئے( ادا کرو، البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کا کوئی حصہ تمہیں معاف کردیں تو اسے مزے سے کھاسکتے ہو‘‘۔ )۴:۴)
برصغیر میں عموماً اسلام کے مزاج کے خلاف عمل ہورہا ہے ۔ جب اسلامیہاں آیا تو بہتسے لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے ۔ لیکن یہاں کے رسم ورواج کا قلادہ مکمل طور سے اتار نہ سکے۔ بلکہ اسلام میں بھی ان رسومات کو جگہ دے دی۔چنانچہ شادی بیاہ کی نامعقولاور خلاف شرع رسومات کے ارتکاب میں بڑے بڑے دیندار حضرات کو کوئی تامل نہیںہوتا۔ اِلا ماشاء اللہ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’تم میں سے جو کسی برائی کو دیکھے تو اسے چاہئے کہ وہ اس کو اپنے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہ ہوتو زبان سے اس کوروکے ، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہوتو دل سے اس کو برا سمجھے، او ریہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے‘‘۔
مرد فطری طور پر اپنے گھر کا سربراہ ہے اور سربراہ کی ذمے داری ہے کہ وہ گھر کےافراد کو راہ راست پر رکھے اور اس سے ان کو منحرف نہ ہونے دے۔ اس مقام پر فائز مرد کے یہ قول شایانِ شان نہیں ہے کہ شادی کی رسومات میں بیوی میری بات نہیں مانتی، بچے نہیں مانتے، یہ اس کے شیوہ مردانگی کے بھی خلاف ہے۔
کیونکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’مرد عورتوں پر قوام ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں‘‘۔)۳۴:۴(
مذکورہہدایات کی روشنی میںسوچنا چاہئے کہ منکرات سے سمجھوتہ ایمان کو کس پستی میں ڈھکیل رہا ہے۔ حضرت ابن عمرؓ کی روایت کردہ حدیث میں ہے:
’’خبردار! تم سب کے سب نگراں اور ذمے دار ہو اور تم سب سے اپنی اپنی رعیت )ماتحتوں( کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ حاکم وقت لوگوں پر حکمراں و ذمے دار اور نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت )ملک کے عوام( کی بابت بازپرس ہوگی۔ مردگھر والوں پر نگراں ہے اور اس سے ان کی بابت پوچھا جائے گا۔ عورت اپنے خاوند کے گھر اور اس کے بچوں کی نگراں ہے اور اس سے ان کی بابت باز پرس ہوگی، غلام اپنے آقا کے مال کا نگراں ہے اور اس سے اس کی بابت پوچھا جائے گا۔ اچھی طرح سن لو ! تم سب نگراں اورذمے دار ہو اور تم سب سے اپنے اپنے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘۔
اس حدیث کی روشنی میں جائزہ لیاجائے کہ شادی بیاہ میں ہونے والی خلاف شرع رسومات و خرافات سے اپنے ماتحتوں کو بچانے میںکیا کردار ہم نے ادا کیا ہے۔ہرشخص آخرت کی باز پرس کو سامنے رکھے۔ ہماری شادی بیاہوں کی بیشتر رسوماتنقالی پر مبنی ہیں یا مغرب کی حیا باختہ تہذیب اور زمانۂ جاہلیت کی خرافات سے ماخوذ ہیں۔
قدیم و جدید جاہلیت کا مجموعی مزاج اور اسلامی تعلیمات سے یکسر بے اعتنائی کا نمونہہے۔ ایسی شادی میں ذوق وشوق سے شریک ہوکر حوصلہ افزائیجاہلی طریقوں کو فروغ دینا ہے۔ آخرت میں ہر شخص کا وہ مقام واضح ہوکر سامنے آجائے گا ،جس کا ہیولی اس نے اپنے عمل وکردار سے تیار کیا ہوگا ۔اللہ کے نا پسندیدہ شخص کا جو مقام ہوگا، اس کا اندازہ رسومات جاہلیہ کے دلدادہ ہر مرد اور عورت کو کرلینا چاہئے۔
حضرت جریرؓ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا،تو اس کو خود اس پر عمل کرنے کا اجر بھی ملے گا اور ان کا بھی اجر ملے گا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے، بغیر اس کے کہ ان کے اجروں میں کچھ کمی ہو اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ ایجاد کیا تو اس پر )اس کے اپنے عمل کا بھی(بوجھ ہوگا اور ان سب کے گناہوں کا بھی بوجھ ہوگا جو اس کے بعد اس برائی پر عمل کریں گے، بغیر اس کے کہ ان کے بوجھوں میں کوئی کمی ہو‘‘۔ )صحیح مسلم:۱۰۱۲)
اس حدیث کی روشنی میں شادی بیاہ کی جاہلانہ رسوم اور اسراف و تبذیر پر مبنی بھاری بھرکم اخراجات کا مقام سنتِ سیئہ )برے طریقے(کا ہے۔ کسی خاندان میںسادگی سے نکاح کرنے کا رواج تھا، رسومات سے بچا جاتا تھا۔ لیکناگراس خاندان کے کسی فرد نے نامعقول رسومات کا آغاز کیا تو اس کے بعد اس خاندان میں جتنے لوگ بھی اس میں ملوث ہوںگے ان سب کے گناہوں کا بوجھ اس پہل کرنے والے کو بھی ملے گا۔اسی طرح شادی بیاہ میں سادگی، پردے کی پابندی، بھاری بھرکم اخراجات سے اجتناب ایسی خوبیاں سنت حسنہ )اچھے طریقے(کی صف میں آتی ہیں۔ جو شخص اپنے خاندان میںاچھے طریقے سے شادی کرنے میں پہل کرے گا اور بعد میں لوگ اس کی پیروی کرتے ہوئے خرافات ورسومات سے بچ کر شادیاں کریں گے تو پہل کرنے والے کو ان سب کی نیکیوں کا اجر بھی ملے گا۔
ایک اہم معاملہ لباس کا ہے۔ اس سلسلے میں حدیث میں کیا حکم ہے اس کو دیکھیں:
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جس نے دنیا میں شہرت کا لباس پہنا، اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا، پھر اس میں جہنم کی آگ بھڑکائے گا‘‘۔ )سنن ابن ماجہ:۳۶۰،سنن ابوداؤد:۴۰۲۹)
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسباب ووسائل سے نوازا ہوتو عمدہ لباس پہننا جائز ہی نہیں احسن بھی ہے۔ اس حدیث میں جس لباس کوممنوع قرار دیا گیا ہے اس کی چند صورتیں ہیں:ایک تو یہ ہے کہ انسان اس نیت سے لباس زیب تن کرے کہ لوگوں میں اس کے لباس کی عمدگی اور شان وشوکت کا چرچاہو۔ دوم یہ کہ معاشرےکے عام عرف کے خلاففیشن آمیز لباس پہنے تاکہ شہرت ہو۔ سوم یہ کہ انسان اسباب و وسائل ہونے کے باوجود ریاکاری کے طور پر مساکین کے طرز کا لباس زیب تن کرے تاکہ لوگ اسے پارسا ،متقی اور پرہیزگار سمجھیں۔چہارم یہ کہ نمود و نمائش کی نیت سے کسی مخصوص قسم کا لباس اختیار کیاجائے۔ آج کل شادی بیاہمیں بسا اوقاتایسے لباس کا انتخاب کیا جاتا ہے جس کو فلموں میں کام کرنے والےحیا باختہ افراد پہنتے ہیں۔ پنجم یہ کہ ایسا لباس زیب تن کیا جائے جس کو پہننے کے باوجود جسمعریاں رہے۔شادی بیاہ میں ہماری عورتوں کا لباس بالعموم اِن بے اعتدالیوں کا مظہر ہوتا ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ آج کی مائیں اپنی بچیوں کو تین چار سال کی عمر ہی سے عریاں لباس پہناتی ہیں گویا کہ وہ اُن کے مستقبل کو بھی تاریک کرنا چاہتی ہیں اور گھر کے باشرع افراد اس پر کم ہی توجہ دیتے ہیں۔
سہ روزہدعوت اخبار کے۲۵؍اپریل۲۰۱۳ء کے شمارے میں خبرونظر کے کالم میں آسام کے ایک واقعے کا ذکر کیاگیا ہےایک چار سال کی بچی فاطمہ نرسری میں پڑھتی ہے۔ ننھی سی بچی کے اسکارف پر اس کے والدین کو اس قدر اصرار ہے کہ اس کے لئے وہ ہائی کورٹ تک جانے کو تیار ہوگئےجبکہآج کل مسلم شہریوں کے لئے مسائل پیدا کئے جارہے ہیں۔ بچی کے اسکارف پہننے پر اسکول انتظامیہ کو اعتراض تھا کہ بچی اسکارف پہن کر اسکول آتی ہے جو عیسائی اسکول کے ضابطۂ لباس کوڈ کے خلاف ہے۔ اس واقعے سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ آج بھی مسلم معاشرے میں ایسے ذی شعور افراد موجود ہیں جو اسلامی تشخص کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
اسراف اور نمود ونمائش
شادی بیاہ میں جھوٹے وقار کا بھی عموماً مظاہرہ کیا جاتاہے مثلاً کسی خاتون کے پاسزیور نہیں ہوتاتو وہ شادی میں شرکت کرنے کے لئے مانگے گئےزیور پہن کر جھوٹے وقار کااظہار کرتی ہے۔ حتیٰ کہ بعض دفعہ دلہن کو بھی مانگے ہوئے زیور پہناکر غلط تاثر دیا جاتا ہے۔چنددن بعد وہ زیور دلہن سے لے کر اصل مالکوں کو دے دیا جاتا ہے۔ یہ جھوٹی کارروائیفساد اور بگاڑ کا سبب بھی بنتی ہے— اب سونے کے بجائے مصنوعی زیورات کثرت سےبازار میں آگئے ہیں جو دیکھنے میں بالکل سونے کے معلوم ہوتے ہیں مگر ان کی مالیت محض چند سو روپے ہوتی ہے جبکہ سونے کے اصل زیورات کی مالیت اب لاکھوں میں ہے۔ دھوکہ دہی کی یہ صورت اب اختیار کی جانے لگی ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ سونے کے زیورات ہیں۔ بعد میں جب حقیقت حال سامنے آتی ہے تو فساد کا باعث بنتی ہے۔ یہ سب طریقے ناجائز و ممنوع ہیں اور فساد وبگاڑ کا باعث ہیں۔ مکروفریب کی یہ ضرورت اس لئے پیش آتی ہے کہ دیگر بہت سی خرافات کے ساتھ سونے کے زیورات کو بھی شادی کا ایک لازمی حصہ بنا دیاگیا ہے جبکہ شریعت نے ایسی کوئی ہدایت نہیں کی۔ایک حدیث میں آتا ہے جو حضرت اسامہ بن زیدؓ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے اپنے بعد ایسا کوئی فتنہ نہیں چھوڑا جو عورتوںکے فتنے سے زیادہ مردوں کے لئے نقصاندہ ہو‘‘۔ )صحیح بخاری:۵۰۹۶(یعنی مردوں کیلئے سب سے بڑا فتنہ عورتوں کافتنہ ہوگا جو میرے بعد رونما ہوگا۔ حالانکہ اصلاً عورت کا وجود انسا ن کیلئے راحت و آسائش اورامن و سکون کا باعث ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمِنْ اٰ یَاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَکُم مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجاً لِّتَسْکُنُوا إِلَیْھَا وَجَعَلَ بَیْنَکُم مَّوَدَّۃً وَرَحْمَۃً۔)سورہ الروم:۲۱(
’’اللہ کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہارے ہی نفس جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرواور اس نے تمہارے درمیان محبت و رحمت پیدا کردی‘‘۔
عورت کا وجود مرد کیلئے ناگزیر ہے۔وہانسانی زندگی کے دوپہیوں میں سے ایک پہیہ ہے۔ اس کے باوجود اس کو مرد کیلئےفتنہ کیوں قرار دیاگیا ہے؟ اس کی وجہ مرد کی یہ عام کمزوری ہے کہ گرچہ قوامیت کا مقام اللہ تعالیٰ نے مرد کو عطا کیا ہے، لیکناس نے عورت کو دینی تعلیم وتربیت سے آراستہ نہیں کیا ،رسوم ورواج کی پیروی میں اپنی قوامیت عورت کے سپرد کرکے خود محکومیت کا درجہ اپنے لئے پسند کرلیا، بالخصوص شادی بیاہ کےاس بے اعتدالی کا رسوم ورواج مظہر ہیں۔ان تمام معاملات میں مردوںنے پسپائی اختیار کرلی ہےاور اپنے مردانہ اختیارات عورت کو دے دیئے ہیں۔ بگڑے ہوئے معاشرے میںشادی بیاہ میں وہی ہوگا جو شریعت سے بے نیاز عورت کہے گی اور کرے گی، مرد کا کام محض اس کے حکم کی بجا آوریہے یہاں تک کہ عورت کے مطالبات پورے کرنے کے لئے اس کے پاس اگروسائل نہیں ہیں تو وہ رشوت لے گا،آمدنی کے حرام ذرائع اختیار کرے گا، قرض لے گا، حتیٰ کہ سودی قرض لینے سے بھی گریز نہیں کرے گا، پھر ساری عمر قرض کے بوجھ تلے کراہتا رہے گا۔ ہونے والے داماد کو سونے کی انگوٹھی پہناکر اپنی اور اس کی آخرت کی بربادی کا سامان کیاجائے گا۔ شادی کے پورے ہفتے ناچ گانے وغیرہ کے ذریعے سے اہل محلہ کی نیند خراب کی جاتی رہے گی۔
شادی کے موقع پر ساز کی شرعی حیثیت
شادی کے مروجہ رسموں میںخوشی کے شادیانے اور باجے بھی ہیں، شادی سے قبل کئی دن تک نوجوان لڑکیاں شادی والے گھر میں راتوں کو گھنٹوں گانا بجاتی اور گاتی ہیں ۔ اہل محلہ کی نیند خراب ہوتی ہے۔بارات کے ساتھ بینڈ باجے کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں فلمی گانوں کی دھنوں پر سازو آواز کا جادو جگایا جاتا ہے اور اب منگنی کے موقع پر بھی ایسا کیا جانے لگا ہے۔شادی والے گھر کے سامنے گلی میں بہت سے لوگ میوزیکل شو کا اہتمام کرتے ہیں جس میں نوجوان حصہ لیتے ہیں، بے حیائی پر مبنی حرکتوں سے لوگوں کے ایمان واخلاق کو برباد کیاجاتا ہے۔شادی ہال نکاح اور ولیمے کی تقریبات اول سے آخر تک میوزک کی دھنوں سے گونجتا رہتا ہے اوراس طرح نکاح اور ولیمے کی بابرکت تقریبات بھی شیطان کی آماجگاہ بنی رہتی ہے۔بعض حضرات ان تمام خرافات اور شیطانی رسومات وحرکات کے جواز کے لئے ان احادیث سے استدلال کرتے ہیں جن میں شادی اور عیدیعنی خوشی کے موقع پر چھوٹی بچیوں کو دف بجانے اور نغمے و ترانے گانے کی اجازت دی گئی ہے۔
محمد بن حاطبؓ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حرام اور حلال کے درمیان فرق کرنے والی چیز دف بجانا اور نکاح میں آواز بلند کرنا ہے‘‘۔ )سنن نسائی:۳۲۷۱(
اس سے صرف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خاص موقعوں پر دف بجایا جاسکتا ہے اور گیت گایا جاسکتاہے ، جس کا مقصد نکاح کا اعلان کرنا اور خوشی کا اظہار کرنا ہے تاکہ شادی خفیہ نہ رہے۔ اس لئے یہ حکم بھی دیاگیاہے : ’’نکاح کا اعلان کرو‘‘۔ )صحیح ابن حبان:۱۲۸۵(یعنی علانیہ نکاح کرو، خفیہ نہ کرو ، اس حکم سے مقصود خفیہ نکاحوں کا سدباب ہے آج کل ولی کی اجازت کے بغیر خفیہ نکاحبصورت لومیرج، سیکرٹ میرج اور کورٹ میرجہورہے ہیں۔ عدالتیںان کو سند جواز دے رہی ہیں۔ حالانکہ یہ نکاح باطل ہیں، منعقدہی نہیں ہوتے۔بہرحال دف بجانے کاکام صرف چھوٹی یعنی نابالغ بچیاں کرسکتی ہیں، بالغ عورتوں کو اس کی اجازت نہیں ہے اورنہ مردوں کو اس کی اجازت ہے۔ پھر یہ کام محدود پیمانے پر ہو نا چاہئے ، محلے کی یا خاندان اور قبیلے کی بچیوں کو دعوت دے کر جمع نہ کیاجائے — موجودہ حالات میں اظہار مسرت کے رائج طریقے ناجائز ہیں۔ شادی بیاہ کے موقعوں پر لوگ اللہ ورسولؐ کے احکام کوپس پشت ڈال دیتے ہیں اورمنہیات کادیدہ دلیری سے ارتکاب کرتے ہیں۔ مہندی کی رسم اور اس میں نوجوان بچیوں کا سرعام ناچنا ، گانا ، ویڈیو اور فلمیں بنانا، بے پردگی اور بے حیائی کاارتکاب، بینڈباجے ،میوزیکل دھنیں اور میوزیکل شو، آتش بازی وغیرہ یہ سب غیروں کی نقالی ہے اور اسلامی تہذیب و روایات کے یکسر خلاف ہے۔ اسلام سے اس کا نہ کوئی تعلق ہے اورنہ ہوسکتا ہے۔
جہیز معاشرے کاایک ناسور
مروجہ جہیز ایک لعنت ہے اس کے باعثصرف خاندان تباہ وبرباد ہورہے ہیں ،آپس میں نفرت ، دشمنی اور باہمی عداوت کی بنیادیں پڑ رہی ہیں۔مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی کتابکاایک اقتباس ملاحظہ ہو:’’لڑکی والوں سے کسی رقم یاخاص چیز کا مطالبہ یا من مانی فرمائش اور مالی و اقتصادی منافع کے حصول کی شرط جس کو بعض علاقوں میں ’’تل‘‘ بعض مقامات پر ’’گھوڑا جوڑا‘‘ بعض جگہ ’’جہیز‘‘ کی معروف ومتداول اصطلاح سے جانتے ہیں۔ رہتے سہتے یا مال ودولت کی اس بڑھی ہوئی حرص اور لالچ کی وجہ سے اس مسلم معاشرے کے لئے اس ماحول میں جس میں دینی تربیت و تعلیم کی کمی ہے، اس شرعی و فطری شریفانہ و تمدنی ضرورت کی تکمیل کو پہاڑ کاٹ کر جوئے شیر لانے سے کم دشوارنہیں بنا دیا ہے‘‘۔ دراصل یہ غیرفطریچلن ہندو رسم ورواج کا نتیجہ ہے ، جس کے برےاثرات سے مسلم معاشرہ بھی محفوظ نہیں رہ سکا ہے۔ ہندو سماج میں ماں باپ کے ترکے میں لڑکیوں کو کوئی حصہ نہیں ملتا۔اس لئے وہ شادی کے موقع پر لڑکی کو جہیز کی شکل میں مال ودولت دیتے ہیں۔ پہلے یہ رسم ہندو ئوں میں اونچے طبقے تک محدود تھی لیکن آج اس کی جڑیں پسماندہ طبقات تک پیوست ہوچکی ہیں،اب یہ مرض مسلم معاشرے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ آج کا ہندوستانی معاشرہلالچی اور حریص بن گیا ہے ، جس کا خمیازہ حوا کی بیٹی کو بھی بھگتنا پڑ رہا ہے۔ صنف نا زک کو خودکشیکے لئےمجبور کیا جارہا ہےکیونکہ والدین کے پاس جہیزمیں دینے کے لئے مال و اسباب نہیں ہے۔ آج مسلم معاشرے میں مروجہ جہیز کا جواز نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤ‘‘۔ )سورۃ النساء:۲۹(
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کسی عورت سے نکاح چار باتوں کی وجہ سے کیا جاتا ہے: )۱(مال کی وجہ سے )۲(خاندان کی وجہ سے )۳(خوبصورتی کی وجہ سے )۴(یا اس کی دینداری کی وجہ سے۔ پھر فرمایا کہ تم دیندار عورت سے نکاح کرو‘‘۔ اس کی مزید شرح ایک دوسری حدیث میں اس طرح ہے : ’’تم عورتوں سے ان کے حسن کی وجہ سے نکاح مت کرو، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان کا حسن انہیں تکبر میں مبتلا کرکے ہلاک کردے، اور ان سے مال و دولت کی بنا پر بھی نکاحمت کرو، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان کا مال ودولت انہیں سرکش بنا دے۔ لیکن تم دینداری کی بنا پر ان سے نکاح کرو‘‘۔ )ابن ماجہ)
کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو کچھ چیزیں شادی کے موقع پر عطا فرمائی تھیں۔ مگراصل واقعہ یہ ہے کہ حضرت فاطمہؓ کے مہر کی رقم سے یہ چیزیں خریدی گئی تھیں۔سیرت نگاروں کے بیان کے مطابق حضرت علیؓ کے پاس مہر میں دینے کے لئے صرف ایک زرہ تھی جو انھوں نے بطور مہر معجل دے دی تھی۔ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فروخت کرا دیا اور اس رقم کا استعمال بستر، تکیہ اور کچھ چیزیں مہیا کرانے میں کیا۔
اگرمروجہ جہیزکی قسم کا کوئی تصور ہوتا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بقیہ بیٹیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ فرماتے لیکن یہ بات واضح ہے کہ آپؐ نے سوائے فاطمہ کے کسی دوسری بیٹی کو کوئی چیز فراہم کرنے کی صلاح نہیں دی۔ حضرت علیؓ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت میں تھے اور آپؐ کے پاس رہا کرتے تھے۔ حضرت علیؓ کی زرہ کو فروخت کرکے کچھ سامانمہیا کرانے میں آپ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ شریک ہوئے۔ اس لئے اس خرابی کے خلاف تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ اس میدان میں نوجوان طبقے کو آگے بڑھ کر اصلاحی قدم اٹھانا ہوگا۔
Labels: , ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers