وہ ایک چڑیا تھی جو کانٹے دار تاروں کے جنگلے میں پھنس گئی تھی۔ اس نے آزاد ہونے کے لیے پَر پھڑپھڑائے۔
اس کوشش میں اس کی ایک طرف کی پسلی زخمی ہوگئی اور وہ جنگلے میں جھولنے لگی۔ ایک رحم دل لڑکے نے اسے مصیبت میں دیکھا تو نہایت احتیاط سے جنگلے سے باہر نکال کر گھر لے آیا اور اس کی مرہم پٹی کرکے چھوڑ دیا۔ چڑیا نچلی پرواز کرتی ہوئی ایک درخت پر جا بیٹھی۔ سب سے پہلے اس نے چونچ کی مدد سے پٹی کھولی اور پھر زخم کے اردگرد کے بال نوچ ڈالے۔ تین دن بعد چڑیا کا زخم بالکل ٹھیک ہوگیا۔ اس نے اپنا علاج سورج کی کرنوں سے کیا تھا۔ایک چڑیا ہی کیا ہر پرندہ اور چوپایہ زخمی یا بیمار ہونے کی صورت میں اپنا علاج خود کرتا ہے۔ وہ انسانوں کی طرح ڈاکٹروں اور طبیبوں کے پاس نہیں جاتا۔
آئیے دیکھتے ہیں حیوانی دنیا کے باسی اپنا علاج خود کس طرح کرتے ہیں؟
پہاڑی چوہے زخمی ہوجائیں تو اپنے زخموں کو جراثیم اور دھول سے بچانے کے لیے ان پر درخت کا گوندھ لگا لیتے ہیں۔ اسی طرح ریچھ بھی اپنے زخموں کو صاف کرنے کے بعد انہیں گوند یا صاف مٹی سے چھپالیتا ہے اور پانی سے بھی بچائے رکھتا ہے۔ماہرین کے مشاہدے کے مطابق ہُدہُد اپنی ٹوٹی ہوئی ہڈی پر گیلی مٹی یا درختوں کی باریک جڑوں کا پلستر سا باندھ لیتا ہے اور چند دن بعد بالکل ٹھیک ہوجاتا ہے۔
جب کوئی جنگلی جانور زخمی ہوجاتا ہے تو وہ وہ اپنا ٹھکانہ تبدیل کرکے کسی پرسکون جگہ پر چلا جاتا ہے اور دوا کے طور پر مختلف اقسام کی جڑی بوٹیاں کھاتا ہے۔ شیر اور بھیڑیئے جیسے گوشت خور جانور بیمار ہونے کی صورت میں گوشت کھانا چھوڑ دیتے ہیں اور سبزیوں پر گزارہ کرتے ہیں، ریچھ کی پرہیزی غذا ان دنوں میں بیر اور جڑیں ہوتی ہے اور ہرن درختوں کی چھال کھاتا ہے۔حیوانوں کی ان حفاظتی تدابیر کا مشاہدہ کرتے ہوئے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ وہ ان پودوں اور جڑی بوٹیوں کا علم رکھتے ہیں جو مختلف بیماریوں میں فائدہ دیتی ہیں۔
یہ نکتہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پرانے زمانے میں انسان نے علم طب کی ابتدائی باتیں جانوروں ہی سے سیکھی تھیں۔ مثلاً نیولا سانپ کومارنے کے بعدایک خاص پودے کی پتیاں کھالیتا ہے جو سانپ کے زہر کو زائل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مرغی برسات کے دنوں میں اپنے بچوں کو (اس موسم کی بیماریوں سے بچانے کی خاطر) نرم نرم گھاس تلاش کرکے کھلاتی ہے۔ بندر کو ’’جلدی‘‘ بیماریوں میں نیم کی کونپلیں توڑ توڑ کر کھاتے دیکھا گیا ہے۔
جب جنگلی جانور بخار میں مبتلا ہوتے ہیں تو ایسی جگہ ڈیرہ ڈالتے ہیں جو نہ صرف سایہ دار ہوتی ہے بلکہ وہاں کی ہوا صاف اور پانی بھی قریب ہوتا ہے۔ بخار کی شدت کم ہونے یا بخار ٹوٹنے تک وہ صرف پانی پیتے ہیں اورکچھ کھاتے نہیں۔ اسی طرح جس جانور کو جوڑوں یا عضلات کی تکلیف ہوتی ہے وہ ایسی جگہ رہائش اختیار کرتے ہیں جہاں سورج کی روشنی براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
آخری عمر میں یعنی بڑھاپے میں ریچھ اور دوسرے کئی جانور گرم چشمے تلاش کرتے ہیں اور روز باقاعدگی سے وہاں جاکر غسل کرتے ہیں۔ جن جانوروں کو جوئیں یا پسو پڑجاتے ہیں وہ مٹی میں لوٹنیاں لگاتے دیکھے گئے ہیں۔ آپ اس عمل کو ’’غسل خاکی‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ماہرین کے مشاہدے کے مطابق جانور موسمی تبدیلیوں کے ساتھ اپنی غذائیں بھی تبدیل کرتے ہیں۔ انڈے دینے والی چڑیاں کیلشیم کی کمی پوری کرنے کی غرض سے ساحل سمندر پر جاکر گھونگھے چن چن کر کھاتی ہیں اور ہرنیاں میلوں دور تک ایسے پانی کی تلاش میں جاتی ہیں جس میں کیلشیم کی مقدار زیادہ ہو۔
جب کسی زخمی عضو کے ٹھیک ہونے کا امکان صفر ہوجائے تو ڈاکٹر مجبوراً اسے کاٹ دیتے ہیں تاکہ دوسرے جسمانی حصے خطرے سے محفوظ رہیں۔ آپ کو یہ جان کر یقیناً حیرت ہوگی کہ جانور بھی اس آخری طریقہ علاج کی شُدبُد رکھتے ہیں۔ جب وہ ایسی صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں تو اپنے ناقابل علاج عضو کو مختلف طریقوں سے جسم سے علیحدہ کردیتے ہیں۔ جب کسی جانور یا پرندے کا کوئی عضو جال میں پھنس جاتا ہے تو وہ اسے دانتوں یا چونچ کی مدد سے کاٹ کر آزاد ہوجاتا ہے کیونکہ یہ بے زبان بھی جانتے ہیں کہ زندگی ایک عضو سے زیادہ قیمتی ہے۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers