بہت سے رسم و رواج ایسے ہیں جن کا ہماری تہذیب و ثقافت سے کوئی تعلق نہیں۔ ترقی کا دارومدار اس پرہے اور نہ ہی اخلاقی لحاظ سے ان کی کوئی تُک بنتی ہے۔ جیسے ویلنٹائن ڈے، بسنت اور اپریل فول۔۔۔۔۔۔ ان میں سے آپ کسی کے بھی پس منظر میں چلے جائیں حیران اور ششدر رہ جائیں گے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ! اپریل فول (April Fool) کس واقعے کی یاد میں منایا جاتا ہے؟ اس کی تاریخ اور پس منظر سے آپ حواس باختہ ہوجائیں گے۔۔۔۔۔۔ مختصر ہے کہ اسپین پر عیسائیوں نے قبضہ کے بعد مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہادیں۔ قتل وغارت سے تھک کر مسلمانوں کا جلدازجلد خاتمہ کرنے کے لیے بادشاہ فرڈی نینڈ نے شاطرانہ چال چلتے ہوئے اعلان کروایا کہ یہاں مسلمانوں کی جان محفوظ ہے اور نہ ہی مال۔ اس لیے ہم نے انہیں ایک اور اسلامی ملک میں بسانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جو مسلمان وہاں جانا چاہتے ہیں حکومت انہیں بذریعہ بحری جہاز بھجوادے گی۔ یہ سن کر لاتعداد مسلمان جہاز پر سوار ہوگئے۔ سمندر کے بیچ جاکر فرڈی نینڈ کے گماشتوں نے جہاز میں سوراخ کردیا اور خود حفاظتی کشتیوں کے ذریعے بچ نکلے۔ چشمِ زدن میں پورا جہاز مسافروں سمیت غرق ہوگیا۔ اس پر عیسائی دنیا بڑی خوش ہوئی اور مسلمانوں کو ''بے وقوف'' بنانے پر بادشاہ کو زبردست داد دی۔ اس روز یکم اپریل تھا۔ فرڈی نینڈ کی شرارت اور مسلمانوں کو ڈبودینے کی یاد میں مغربی دنیا میں یکم اپریل کو اپریل فول منایا جاتا ہے۔
اپریل فول والی رسم کی وجہ سے ہر سال ہزاروں لوگ تکلیف اور پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں اور بعض تو اپنی جان سے بھی ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں۔ گزشتہ سال کے دو چار واقعات ملاحظہ فرمائیں جو کہ صرف ''اپریل فول'' کی وجہ سے پیش آئے ہیں۔
یہ یکم اپریل کی ایک نیم گرم سہ پہر کا ذکر ہے کہ خالد کو اس کے کسی دوست نے فون کرکے ''فول'' (بے وقوف) بنایا کہ آپ جلدی گھر آئیں کیونکہ گھر میں ڈکیتی کی واردات ہورہی ہے۔ خالد نے فون ریسیو کرنے کے بعد آؤ دیکھا نہ تاؤ، بس ''15'' ڈائل کرکے پولیس کو اطلاع دی کہ فلاں جگہ میرے گھر میں ڈاکو سامان لوٹ رہے ہیں، آپ سے مدد کی فوری درخواست ہے۔ جب چند ہی منٹ بعد خالد پولیس کے ہمراہ اپنے گھر پہنچا تو ان کے گھر والے بڑے آرام سے شام کی چائے مع لوازمات نوش فرمارہے تھے۔ اس نے فوراً اپنے دوست کو فون کیا تو دوسری طرف سے اس کے دوست نے فون ریسیو کرتے ہوئے کہا: ''اپریل فول۔''
نواسی نے اپنی نانی کو فون کرکے بتایا: ''امی جان کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے، شدید چوٹیں آئیں ہیں۔'' نانی بے چاری غم کی ماری دہلی کالونی سے گلشن آتے ہوئے پورے راستے میں خشک ہونٹوں سے اپنی پیاری بیٹی کی صحت کے لیے دعائیں کرتی ہوئی جب گھر پہنچی تو وہ واشنگ مشین میں کپڑے دھورہی تھی۔ نانی کو دیکھ کر نواسی کے منہ سے بے ساختہ نکلا: ''اپریل فول۔''
حافظ جہانزیب کے گھر ان کے ایک دوست نے مٹھائی کا ڈبہ یہ کہہ کر بھیجا کہ یہ آپ کے لیے ہدیہ ہے۔ جہانزیب نے اس کو قبول کرلیا۔ اتفاق سے دوسرے دن جہانزیب کے ایک استاذ تشریف لائے تو خاطر تواضع کرنے کے لیے مٹھائی کا ڈبہ اپنے محترم استاذ کے سامنے رکھ کربڑے احترام سے عرض کیا: ''آپ مٹھائی لیجیے۔'' یہ کہہ کر وہ چائے لینے کے لیے پلٹا۔ جب استاذ نے ڈبہ کھول کر مٹھائی کا پیس اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو ڈبے کے اندر کیلے کے چھلکے، گندی تھیلیاں، گارا اور پتھر تھے۔ جہانزیب چائے لے کر آیا تو اس کے محترم استاذ غصے سے جاچکے تھے اور ڈبے میں یہ ''فول'' بنانے والی اشیا موجود تھیں۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کچھ کیا ہوا۔ اس نے وہ ڈبہ اُٹھایا اور اپنے دوست کی طرف چل پڑا۔ جب اس کے پاس پہنچا تو یکدم اس نے کہا: ''اپریل فول۔'' جہانزیب چونکہ اس ''اپریل فول'' والے بےہودہ اور تکلیف دہ مذاق سے ناآشنا تھا، اس لیے وہ غصے سے چراغ پا ہورہا تھا۔ اس نے جہانزیب کو بہت ہنسانے کی کوشش کی، لیکن جہانزیب اپنے محترم استاذ کی ناراضی کی وجہ سے سخت نالاں تھا۔''
حمزہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ حسبِ معمول وہ یکم اپریل کو بھی اسکول گیا۔ دو بجے کے قریب حمزہ کے کزن نے اس کے گھر فون کرکے بتایا کہ حمزہ کو اسکول سے واپس آتے ہوئے اغوا کرلیا گیا ہے۔ جب اس کے والد کے کان میں یہ الفاظ پڑے تو ان کو دل کا اٹیک ہوگیا۔ پانچ منٹ کے بعد حمزہ کے کزن نے دوبارہ فون کرکے کہا: ''اپریل فول۔''
یہ چند ایک ریورتاژ ہیں جو بطورِ نمونہ پیش کی گئیں۔ نجانے اس جیسے کتنے واقعات ہیں جس کا سبب صرف جھوٹ اور جھوٹا مذاق ہے، جس کے ذریعے سادہ لوح افراد کے لیے جدید تعلیم اور مغربی کلچرل کے دلدادہ نوجوان تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شریعت کے اعتبار سے بھی ایسا مذاق ممنوع ہے کیونکہ جھوٹ، دھوکا دہی، دوسروں کو تکلیف دینا، کسی کو بے وقوف بنانا، کسی کا مذاق اُڑانا حرام ہے۔ قرآن پاک کی سورۃ حجرات میں آتا ہے: ''اے ایمان والو! کسی کا مذاق نہ اُڑاؤ ، ممکن ہے وہ تم سے اچھا ہو۔''
ہمیں تہذیبی اور اخلاقی لحاظ سے پوری طرح آزادانہ فیصلہ کرلینا چاہیے کہ کیا یکم اپریل کے دن کسی مسلمان کو بے وقوف بناکر اس کو تکلیف میں مبتلا کرنا درست ہوسکتا ہے؟ ایک مسلمان کا دوسرے کے ساتھ جھوٹ بول کر ایسا سنگین مذاق کرنا جس میں دوسرے کی قیمتی جان جانے کا بھی اندیشہ ہو، روا ہوسکتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر ہمیں ان تمام رسم و رواج کو چھوڑنے پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا اور ابھی سے ان کے آگے آ ہنی رکاوٹوں سے مضبوط بند باندھنا ہوگا۔۔۔۔۔۔ ورنہ ہماری آنے والی نسلیں ان پر اسی طرح عمل پیرا ہوں گی جیسے ہمارے اسلاف اپنے مذہبی اور شرعی احکام و امور پر عمل پیرا تھے۔ ابھی سے ہمیں اپنے معاشرے سے ان تمام رسموں کو ختم کرنا ہوگا جو آگے چل کر ایک ناسور کی شکل میں تبدیل ہوجائیں۔
اس دن کسی کو ایسا فون کرنے سے پہلے، مٹھائی دینے سے پہلے، حادثہ کی اطلاع دینے سے پہلے، کسی پر گندگی پھینکنے سے پہلے ''اپریل فول'' کی ابتدا اور انجام کے بارے میں ہزار بار سوچنا ہوگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی مزاحیہ اطلاع سے کوئی زندگی ہار جائے اور آپ اس جان لیوا مذاق پر ہمیشہ پچھتاتے رہیں۔

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers