پندرہ سال پہلے ولادیمیر پوتن نے پہلا صدارتی انتخاب جیتا تھا۔ ان کے حق میں باون اعشاریہ چورانوے فیصد رائے دہندگان نے رائے دی تھی۔ گذشتہ پندرہ برسوں سے اعلٰی ترین حکومتی عہدوں پر متمکّن رہنے کے دوران پوتن صریح اندازے لگاتے ، چٹکلے چھوڑتے اور برجستہ باتیں کرتے رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
1۔ "بول و براز میں تر کرنا"
پوتن نے اپنا سب سے اہم بیان شاید ستمبر 1999 میں بطور وزیر اعظم دیا تھا۔ "روسی طیارے چیچنیا میں تخصیصی طور پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر وار کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے، چاہے دہشت گرد کہیں بھی کیوں نہ ہوں ۔ ۔ ۔ ہم دہشت گردوں کا ہر جگہ پیچھا کریں گے۔ مطلب یہ کہ ، آپ مجھے پہلے ہی معاف کر دیں، ہم انہیں بیت الخلاء میں بھی جا پکڑیں گے، ہم بالآخر انہیں بول و براز میں نہلا دیں گے۔ بات ختم ہو گئی اور بس۔"
2۔ "وہ غرق گئی"
ستمبر 2000 میں معروف ٹی وی چینل سی این این پر لیری کنگ کو انٹرویو دیتے ہوئے اس سوال پر کہ "کرسک" نام کی روسی آبدوز کے ساتھ کیا بیتی؟ پوتن نے مختصرا" جواب دیتے ہوئے کہا: "وہ غرق ہو گئی"۔ صدر کے اس جواب پر روس میں بڑی لے دے ہوئی۔ بہت سوں نے صدر مملکت کے جواب کی مذمّت کی، اسے سنکی پن پر مبنی جواب قرار دیا۔ مگر خود لیری کنگ نے صدر روس کا انٹرویو کرنے کے دس سال بعد "کرسک" سے متعلق ان کے جواب کو "لاجواب" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ "ٹیلی ویژن کے ان درخشاں لمحوں" میں ایک لمحہ تھا جس پر ناظرین کا بھرپور ردعمل ہوتا ہے۔
3۔ سرکاری عمّال کے پاس کم از کم دماغ ہونا چاہیے۔
ایک پریس کانفرنس میں صدر موصوف نے ہیلیری کلنٹن کے اس بیان کا جواب دیا کہ پوتن روح سے خالی ہیں۔ " میرے خیال میں سرکاری عمّال کے پاس کم ازکم دماغ ہونا چاہیے۔ بین الحکومتی تعلقات بنانے کے لیے قیادت کو جذباتی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنے ملک کے بنیادی مفادات پیش نظر رکھنے چاہییں"۔
4۔" کس سے بات کی جائے"
"کیا میں صاف ستھرا جمہوریت پسند ہوں؟ بلاشبہ، میں مطلقا" صاف ستھرا جمہوریت پسند شخص ہوں۔ پر کیا آپ جانتے ہیں کہ دکھ کا معاملہ کیا ہے؟ بات یہ ہے کہ ایسا بس میں ہی ہوں، میرے جیسا دنیا میں اور کوئی نہیں۔ مہاتما گاندھی کے ویہانت کے بعد کوئی بچا ہی نہیں جس کے ساتھ بات کی جا سکے" صدر پوتن نے 2007 میں گلہ کیا تھا۔
5۔  سویت یونین نواز
ان کے سوویت یونین سے متعلق موقف بارے صحافی صدر سے اکثر استفسار کرتے رہے ہیں۔ 2005 میں انہوں نے کہا تھا کہ "سوویت یونین کا انہدام، صدی کی مہیب ترین جغرافیائی سیاسی بربادی تھی" پھر پانچ برس گذر جانے کے بعد کہا تھا:"بھلا کس کو سوویت یونین کے انہدام کا افسوس نہیں ہے، اس کو جس کے سینے میں دل نہیں اور وہ جو اس کو پہلے کی ہی مانند استوار کرنے کا خواہاں ہے اس کے پاس دماغ نہیں ہے"۔
6۔ کریمیا روسی ہونے کے علاوہ اور کچھ ہو نہیں سکتا
2014 میں کریمیا اور سیویستوپل کے روس کے ساتھ الحاق کے بعد سربراہ مملکت نے کہا تھا:"لوگوں کے دلوں میں، ان کے شعور میں کریمیا روس کا اٹوٹ انگ تھا اور وہ ایسا ہی اب تک سمجھتے ہیں۔ درحقیقت کریمیا روسی ہونے کے علاوہ اور کچھ ہو نہیں سکتا"۔
7۔اگر برلسکونی ہم جنس پرست ہوتا ۔ ۔ ۔
"برلسکونی پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ عورتوں کے ساتھ رہتا ہے۔ اگر وہ ہم جنس پرست ہوتا تو اسے کوئی انگلی بھی نہ لگاتا"۔
8۔ برا عیسائی
میں غالبا" برا عیسائی ہوں۔ جب کوئی ایک کال پر تھپڑ مارے تو اگلا گال آگے کر دینا چاہیے۔ لیکن میں ایسا کرنے کے فی الحال اخلاقی طور پر تیار نہیں ہوں۔ اگر ہمیں کوئی تھپڑ مارے تو جواب میں تھپڑ مارنا چاہیے ورنہ وہ اسی طرح ہمیں تھپڑ مارتا رہے گا" پوتن نے 2012 میں اعتراف کیا۔
9۔ خدا نے ہمیں برابر کا بنایا ہے

ستمبر 2013 میں اخبار "دی نیویارک ٹائمز" میں پوتن کا مضمون شائع ہوا تھا جس میں باراک اوبامہ کی جانب سے امریکییوں کو تخصیصی قوم قرار دیے جانے پر تبصرہ کیا گیا تھا۔ "لوگوں کو یہ احساس دلانا بہت خطرناک ہے کہ وہ خود کو تخصیصی سمجھنے لگ جائیں، چاہے آپ کا مقصد کوئی بھی کیوں نہ ہو۔ جب ہم خدا کے کرم کے خواستگار ہوتے ہیں تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ خدا نے ہمیں ایک جیسا بنایا ہے" صدر روس نے اوبامہ کو یاد دلایا۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers