مویشیوں میں گائے ایک بہت معصوم اور بے ضرر سا جانور ہے۔ ہندو تو اس کو مقدس سمجھ کر پوجا کرتے ہیں۔ اس بیچاری کے متعلق ایک واقعہ مشہور ہے۔ ایک چودھری کے پاس بہت سے مویشی تھے۔ ایک دن چودھری کو ایک سلوتری ملنے آیا تو چودھری نے اس سے پوچھا کہ اس کے مویشی کچھ کمزور ہوتے جا رہے ہیں ان کا علاج کیسے کیا جائے؟ سلوتری نے علاج یہ بتایا کہ ان کو باقاعدگی کے ساتھ نمک کھلایا جائے انشاء اللہ سب فٹ ہو جائیں گے۔ چودھری نے گائوں کے میراثی کو بلوا بھیجا جو ان دنوں بے روزگار تھے۔ میراثی کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ ہر روزچودھری کی موجودگی میں مویشیوں کو نمک کھلایا کرے۔ علاج شروع ہو گیا۔ چودھری بیٹھا ہے۔ میراثی نمک لیکر بھینس کی طرف بڑھا تو بھینس نے ٹوڈ ماری۔ میراثی کے ہاتھ سے نمک نیچے گر گیا۔  تفصیل سے پڑھئے
پھر وہ بیل کی طرف گیا تو بیل نے پھنکارنا شروع کردیا۔ جس جس مویشی کی طرف وہ بڑھتا تو اس کے سینگوں کے خوف سے پیچھے ہٹ جاتا۔ ادھر ذرا دور سے چودھری واچ کر رہا تھا۔ ادھر میراثی کو اپنی نوکری خطرے میں پڑتی معلوم ہوئی۔ اب اس نے کیا یہ کہ اس گلے میں گائے کو چن لیا۔ ہر بار نمک لیکر آتا اور چودھری کی نظر بچا کرسارے کا سارا نمک بیچاری گائے کو کھلا دیتا۔ ہر ایک ٹوڈ مارنے والے جانور کے نمک کا حصہ بھی اس گائے کا منہ کھول کر اسے کھلا دیتا۔ چودھری بھی خوش اور میراثی کی نوکری بھی پکی۔ پر بیچاری گائے حال و بے حال ہو کر اپھرا گئی۔ بیمار ہوگئی۔ ایسا معصوم جانور اگر گم ہو جائے یا گواچ جائے تو اس بیچاری گواچی گائے کا کیا حال ہوگا۔ اس بیچاری کا Basic مسئلہ یہ ہے کہ وہ بھولی ہے۔ بے ضرر ہے ٹوڈ نہیں مارتی۔ اس گائے کی نسل بہت سے انسانوں میں بھی پھیل چکی ہے۔ سادہ دل لوگوں کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہوتا ہے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی ڈیوس میں چار پانچ پاکستانی زیرتعلیم تھے۔ ان میں ایک چودھری صاحب فیصل آباد زرعی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے آئے ہوئے تھے۔ ان کی بیگم بھی ساتھ تھیں۔ بڑے اچھے لوگ تھے۔ ہفتے میں ایک آدھ دفعہ وہ ہمیں کھانے پر بلاتے۔ پلائو ، قورمہ اور پتہ نہیں کیا کیا Dishes بنا کر ہماری خاطریں کرتے۔ امریکہ میں اتنا لذیذ پاکستانی کھانا میسر آنا بڑی نعمت تھا۔ وہ ایسا کیوں کرتے؟ وہ اس طرح کہ جب بھی ملتے تو سب لوگ کہتے، واہ جی واہ آپ جتنا مہمان نوازCouple تو آج تک دیکھا ہی نہیں۔ اور بھابی تو دنیا کی بہترین Cook ہیں۔ وہ بے چارے اپنی ساری saving لٹا کر ہم برچھوں کو پلائو، زردہ کھلادیتے۔ کھانا وانا کھا کر ان کی عدم موجودگی میں ہم مفت خورے کھلی مارتے اور چودھری کواصل نام سے بھی یاد نہ کرتے۔ اس کا نام چودھری پٹھے چک رکھ دیا ہوا تھا۔ آج کہیں وہ Couple مل جائے توان کے قدموں میں بیٹھ کر ان سے معافی مانگنے کو دل چاہتا ہے۔ کتنے عظیم اور اچھے لوگ تھے مگر تھے گواچی گائیں جنہیں ان دنوں ہم نمک کھلا رہے تھے۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ لوگ جو ان کی معصومیت کو Exploit کررہے تھے وہ خود بڑے پاٹے خاں تھے۔ بالکل نہیں۔ ہرایک انسان سے اس سے بھی زیادہ چالاک اور ریاکار لوگ موجود ہوتے ہیں۔ کہیں وہ نمک کھلا رہے ہوتے ہیں تو کہیں وہ یہ بھی نہیں جان سکتے۔ کہ ان کو خود کہیں اور سے نمک کھلوایا جا رہا ہوتا ہے۔ ان کو تب پتہ چلتا ہے جب ان کا پیٹ اپھرنا شروع کردے۔ ہم بیک وقت نمک کھا بھی لیکن ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی کھلوا رہے ہوتے ہیں۔ یہ کھیل ہر سطح پر ہرجگہ جانتے ہوئے یا ناداستہ جاری رہتا ہے۔ کوئی شادی کی تقریب لے لیں یا کوئی SocialGathering ہر انسان کسی کوملنے پر اس کا جائزہ لینا شروع کر دیتا ہے۔ جائزہ یہ کہ اس کو Cultivate کرے میں اس سے کیا فائدہ مل سکتا ہے۔ اگر کسی فائدے کا کوئی امکان نہیں تو منہ سکیڑ کر کسی اور کا رخ کردیتے ہیں۔ غریب طبقہ سوچتا ہے مجھے مڈل کلاسیا سمجھا جائے۔ وہ اچھے کپڑے پہن کر شائستہ گفتگو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مڈل کلاسیے لوگوں کی حالت سب سے ناگفتہ بہ ہے۔ تقریبوں میں جانے سے پہلے خاص طور پر خواتین کئی کئی دن سوچتی ہیں کہ کونسا لباس پہنا جائے۔ ہیرے کی انگوٹھی کہیں سے مل جائے توکیا بات ہے۔ مڈل کلاس والے چاہتے ہیں کہ انکو Elite class میں جگہ مل جائے۔ اسی کوشش میں بے چارے یہ اہتمام کرتے ہیں اور یہ ہو بھی کیوں نہ، کیونکہ پارٹیوں میں خواتین کی اکثر گفتگو کا موضوع Shopping ہوتا ہے۔ کبھی شاہ توس کی تعریف ہو رہی ہوتی ہے اور کبھی بتایا جا رہا ہوتا ہے کہ ہم نے فلاں فلاں چیز دبئی سے خریدی، کوئی امریکہ کا ذکر کر رہی ہوتی ہے تو کوئی لندن کن، مڈل کلاس کے لوگ فٹ ہونے کی کوشش کرتے ہیں پر پارٹیوں سے واپسی میں سوائے Frustration کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ Eliteکلاس جو صرف اور صرف پیسے کے زور پر اپنا سکہ جمائے رکھنا چاہتی ہے ان میں سیاستدان، کرپٹ افسر بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی اتھارٹی کے زور پر پھنے خانوں کی صف میں جا بیٹھتے ہیں۔ کسی چھوٹے آدمی کو use کرنا ہو تو وقتی طور پر اس سے دوستی بھی کرلیتے ہیں ورنہ اپنے آپ کو یہ خلائی مخلوق سمجھتے ہیں۔ شاید یہی لوگ ہیں جن کے لئے اللہ پاک فرماتے ہیں کہ ان کے کرتوتوں کو ان کیلئے خوشنما بنا دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم سب چھوٹے لوگ ہوں یا مڈل کلاسیے یا اونچی سوسائٹی والے، کیا سب گواچی گائیں نہیں؟ فرق یہ ہے کہ ہم سب نے ایک دوسرے کو ٹوڈ مارنے شروع کر رکھے ہیں۔ (کتاب’’ چھپن چھپائی ‘‘سے اقتباس) ٭…٭…٭

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers