میں جب بھی اداس ہوتا ہوں ، اس کے پاس چلاجاتا ہوں ۔ اس کے پاس تھوڑا وقت گزار کر پرسکون ہوجاتا ہوں ۔ خلوص، محبت اور سچائی کے چند لمحات میں زمان و مکان کی قید سے آزادی کا ناقابل بیان احساس ہوتا ہے ۔ میں اس کا تعارف نہ کرنے کا پابند ہوں ۔ اس لئے یہاں میں اسے صرف بابا جی کہوں گا۔
میں نے کہا بابا جی کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے مسکرا کراجازت دی تو میں نے اپنا حال یوں بیان کیا کہ:
"میں کیسے خود کو احساس جرم سے بری کروں؟ شیشے کے صاف گلاس میں مجھے پانی کا رنگ سرخ کیوں لگتا ہے اور جب میں کھانا کھالیتا ہوں تو ایسا کیوں لگتا ہے کہ جیسے حرام کھایا ہو۔ اپنے معصوم اور پیارے بیٹے کو پیار کرتے ہوئے دل میں خلش سی محسوس ہوتی ہے ۔ دسمبر کی سرد راتوں میں گرم کمرے میں کمبل اوڑھے سردی کا احساس کیوں ہوتا ہے اور دوستوں کے ساتھ ہنستے ہنستے اچانک آنکھوں میں آنسو کیوں آجاتے ہیں؟
زندگی کتنی پر آسائش ہے ، کوئی کمی نہیں ۔ دنیا کتنی خوبصورت ہے، سفر آسان ہے ۔ میڈیا آزاد ہے ۔ پوری دنیا ہمارے 'لیپ ٹاپ' پر ہے ۔ جس سے چاہو رابطہ کرلو، جو مرضی دیکھو ، جو چاہے خریدوفروخت ، جیب میں کریڈیٹ کارڈز ہیں لیکن پھر بھی ہم خوش نہیں ۔"
مجھے خاموش دیکھ کر بابا جی نے گہری سانس لی اور میرے دائیں ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں دبا کر کہا:
"سب کا یہی مشورہ ہوگا کہ ماہر نفسیات کے پاس جاؤ تاکہ وہ تمہارا علاج کریں ۔
ماہر نفسیات سکھائے ، سمجھائے گا کہ گلاس بھی صاف ہے اور پانی بھی صاف ہے، کیا ہوا جو کروڑوں لوگ آلودہ پانی پی رہے ہیں ، اور لاکھوں کو آلودہ پانی بھی میسر نہیں ۔ کھانا آرام اور سکون سے کھاؤ، کیا ہوا جو کوئی بھوک سے مر رہا ہو۔ اپنے بچوں سے کھیل لیا کرو، کیا ہوا جو کئی معصوم بچے بمباری ، دھماکوں اور بیماریوں سے رو ز مر رہے ہیں ۔ کیا ہوا جو غریب لاوراث و لاچار لاتعداد خاندان سخت سردیوں میں بغیر چھت کے کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہیں ۔ سب بھول کر ہنسا کرو ، بلکہ قہقہے لگایا کرو کیونکہ یہ صحت کے لئے ضروری ہے ۔
کیاہوا جو مجبور اور غمزدہ لوگوں کے آنسو روتے روتے خشک ہوگئے ہوں۔ لوگوں سے رابطے میں رہا کرو ۔ سوشل میڈیا پر ، اسکائپ پر، پورپ خلیج اور پوری دنیا میں رشتہ داروں اور دوستوں سے بات کرلیا کرو ۔ کیا ہوا جو محلے میں یا چند کلومیٹر کی دوری پر رہنے والی خالہ، ماموں یا نانی سے ملے مہینے گزر گئے ہوں۔
صدقہ خیرات کیا کرو ، چندے دیا کرو ۔ کیا ہوا جو پڑوس میں یا رشتہ داروں میں کسی نے اپنے بچوں کے لئے عید پر بھی کپڑے نہ بنائے ہوں ۔ ذہن پربوجھ مت ڈالا کرو ۔
کیا ہوا اگر بے حس بن جاؤ؟"
پھر بابا جی نے ایک گہری سانس لی اور کہا کہ بیٹا ماہر نفسیات اور کیا سکھائے گا تجھے اور کیا سمجھائے گا ؟ کون ڈاکٹر اور کون مریض ، کیا بیماری اور کیا اس کا علاج ۔ اگر یہ علاج ہے تو اس سے تم بیمار ہی اچھے ہو۔
یہ بیماری نہیں بلکہ احساس ہے ، ادراک ہے، عنایت ہے کہ تم محسوس کر رہے ہو۔ دنیا کا نظام جب سے چلا آرہا ہے تب سے یہ مسائل چلے آرہے ہیں ۔
اللہ رب العزت نے انسان، جانور اور تقریباً تمام مخلوقات کو جوڑوں میں تخلیق فرمایا۔ یہاں تک کہ جزیات، احساسات احکام سب کچھ جوڑوں میں بنایا ۔ مرد/عورت ، غم/ خوشی ، درد/ دوا ، نفرت/ محبت ، حلال/ حرام ، عدل/ ظلم ، جنت اور جہنم ۔
انسان ہر لمحے امتحان سے گزر رہا ہوتا ہے اور ہمارا ہر ایک قول اور فعل صحیح یا غلط ہوتا ہے کوئی بھی کام ایک وقت میں غلط اور صحیح نہیں ہو سکتا یا تو کوئی حق پر ہوتا ہے یا ناحق پر اور یہیں سے انتخاب کا مرحلہ شروع ہوتا ہے ۔
اسی کو صاف نیت کہتے ہیں ، صداقت کہتے ہیں اور معرفت کہتے ہیں اور توحید کی طرف ہمارا سفر شروع ہوتا ہے اور اس سفر کا آغاز اور انجام دونوں کامیابی ہے ۔ چاہے سفر طویل ہو یا مختصر۔ ہماری زندگی کا ایک ایک لمحہ ، دن ، رات، ہر فیصلہ، رشتہ ، جذبات ،احساسات ، ترجیحات، نوکری ، کاروبار ، وزارت ، امامت تمام معلومات توحید کے دائرے میں آجاتے ہیں اور ہم باطل کو چھوڑ کر حق کے راستے پر چل پڑتے ہیں پھر ہمارا ہر فعل عبادت بن جاتا ہے ۔
بڑے بڑے کام کرنے سے انسان بڑا نہیں ہوتا بلکہ چھوٹے چھوٹے کام صحیح طریقے سے کرنے سے انسان ضرور بڑا ہو جاتا ہے ۔
کوئی بھی اکیلا معاشرے کے مسائل حل نہیں کر سکتا لیکن اپنے محلے اور خاندان کے مسائل میں کمی لا سکتا ہے ۔
ہم سارے راستوں سے کانٹے نہیں ہٹا سکتے لیکن جس راستے سے گزر ہو اس سے تو کانٹے ہٹا سکتے ہیں ۔
اپنے رشتہ داروں سے ہفتے میں نہیں تو مہینے میں ایک دفعہ مل سکتے ہیں ۔ ہم میں سے ہر ایک خود اپنے حقوق کے ساتھ اگر اپنی ذمہ داریوں کا بھی احساس کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ذہن کے اسمان سے پریشانی کے بادل نہ چھٹ جائیں اور مایوسی کی سیاہ رات کے بعد ایک نئی صبح طلوع نہ ہو جس کی صاف ہوا ہماری روح تک پہنچے اور شبنم کے قطرے گلشن حیات کو تروتازہ رکھیں ۔
میرا ہاتھ چھوڑ کر بابا جی خاموش ہوگئے ۔
میں نے ان کے ہاتھ کو تھپتھپایا اور بغیر کچھ کہے چلا آیا ۔
میں نے جان لیا کہ ہمیں ماہر نفسیات کی نہیں، ماہر معاملات کی ضرورت ہے۔

Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers