وہ: ہاں بھئی کون سا موبائل استعمال کر رہے ہو آج کل؟
میں: یہ والا!
وہ: او ہو یہ تو سستا موبائل ہے بھئی تم یہ والا موبائل استعمال کرو؟
میں: بھائی ان دونوں میں صرف لمبائی، چوڑائی کا فرق ہے، باقی کیا فرق ہے؟ مجھے کیا پڑی اتنا مہنگا و نازک موبائل خریدوں؟
وہ: میرے دوست معذرت کے ساتھ اگر معاشرے میں اپنی ساکھ بنانی ہے تو تمہیں یہ سستا موبائل ترک کرنا ہوگا!
میں: یار یہ کیا بات ہوئی؟ مطلب میرا خاندان، حشب، نسب، تعلیم اور ملازمت چھوڑ کر لوگ میری اوقات کا حساب میرے موبائل سے لگائیں گے؟
وہ: ہاں! ایسا ہی ہے، جب تک تمہارے ہاس یہ لیٹسٹ، ۱۵ یا ۲۰ میگا پکسل والا کواڈ کور موبائل نہیں ہوگا، لوگ تمہیں منہ نہیں لگائیں گے، چاہے تم کتنے ہی شریف کیوں نہ ہو! کتنے ہی خاندانی کیوں نہ ہو! بھائی اسی کو اٹینڈرڈ کہتے ہیں۔
میں: ارے بھاڑ میں جائے یہ اسٹینڈرڈ میں تو اپنا پرانا موبائل بھی ترک نہ کرتا لیکن اس کا اسپیکر خراب ہوگیا تھا، اسی لیئے بدلنا پڑا، بھلا بتائو یہ کہاں کی عقلمندی ہے بندہ اہنے کئی مہینوں کی تنخواہ ایک موبائل میں جھونک دے۔ اصل کام اسکا رابطہ کرنا ہے، لیکن اب تصویر بھی اسی سے کھینچیں، گانا بھی اسی پر سنیں، نیٹ بھی اسی پر چلائیں، اور گیم بھی اسی پر کھیلیں؟ یہ سب چیزیں تو ہمارے پاس پہلے سے ہی ہیں۔ بار بار کیوں خریدیں؟
وہ: تم سمجھے نہیں! ماڈرن ہونا بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ بھئی تم کماتے کیوں ہو؟ اپنے اوپر خرچ کرنے کے لیئے ناں؟
میں: نہیں میں فضول خرچیوں کے لیئے نہیں کماتا ہوں، مجھے ان پیسوں سے گھر چلانا ہوتا ہے، بل بھرنے ہوتے ہیں، بچت کرنی ہوتی ہے! مجھے پاگل کتے نے نہیں کاٹا کہ اپنی خون پسینے کی کمائی جیب میں لیئے گھوموں کہ کوئی بھی چور آکر مجھے لوٹ لے۔ جو ہے اسی پر قناعت کرنے پر یقین رکھتا ہوں۔
وہ: نہیں تم دقیانوس اور کنجوس انسان ہو!
میں: اگر اپنی چادر دیکھ پیر پھیلانے کو دقیانوس اور کنجوس ہونا کہتے ہیں، تو ہاں میں یہ دونوں ہوں، لیکن نہ میں میں فضول خرچ ہوں، نہ ہی مجھے کنزیمرازم کا مرض لاحق ہے۔ میری عزتِ نفس اتنی بلند ہے کہ اپنے اصل و باطن پر قناعت کروں، جھوٹی شان و شوکت اور ظاہری چیزوں سے سکون کشید نہیں کرتا ہوں۔
مندرجہ بالا مکالمہ ہم اکثر دیکھتے ہیں۔ ہمارے اکثر دوست نمود و نمائش کی غلام گردش میں پھنس کر اپنے مقصدِ حیات کو ہی بھول جاتے ہیں۔ اگر اچھے کپڑے پہننے سے کوئی بڑا آدمی بن جاتا تو ہر دکان کا مالک معاشرے کا سب سے بڑا آدمی ہوتا۔ کیونکہ سب سے مہنگا موبائل وہی سب پہلے وہی رکھتا، سب سے اچھے کپڑے وہی پہنتا، سب سے اچھے جوتے، چشمے، کوٹ، پرفیوم۔ ہر چیز میں دکان کا مالک سب سے آگے ہوتا۔
لیکن ذرا غور کیجیئے گا، دکان دار کبھی مہنگا اور نیا سامان استعمال کرتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے۔ وہ سب سے مضبوط چیز رکھتے ہیں، جسے حرفِ عام میں ’لوہا لاٹ‘ کہتے ہیں۔ مضبوظ، ٹکائو پرانا موبائل، مضبوط کپڑا جو اکثر جینز ہی ہوتی ہے۔ یہ تو ہم ہیں جن کو وہ اشتہاروں سے بے وقوف بناتے ہیں، جن ’ماڈلز‘ کے ہاتھ میں ہم یہ نت نئے ’ماڈلز‘ دیکھتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ان کو استعمال بھی کرتے ہوں۔ ہمیں روز نئی ٹوپیاں پہنائی جاتی ہیں، اور ہم پہنتے ہیں۔ سرمایہ دار ہم ہی سے خوب محنت لیتے ہیں، پھر ہمیں، ہمارا ہی بنایا ہو سامان مہنگے ترین داموں پر بیچ دیتے ہیں۔ اور جب ہم میں سے کوئی سوال کرتا ہے کہ بھائی یہ اتنی زیادہ قیمت کس بات کی ت ہمیں بتایا جاتا ہے، یہ برینڈ کے پیسے ہیں۔
وہ برینڈ جو خلأ میں ہے، ہم اسے چھو نہیں سکتے ہیں، یہ صرف ایک خیال ہے ایک سراب لیکن بھئی، لگے پڑے ہیں ہم پیسے لٹانے میں۔ ذرا رکیں، اور غور کریں! سوچیں! پھر خریدیں اور خریدنے کے بعد پھر سوچیں کے کب تلک ایک چیز کو چلانا ہے۔ ایویں پیسے نہ پھینکیں! ورنہ یہ غلام گردش جسے انگریزی میں کنزیومرازم کہتے ہیں ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گی!
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers