میں سچ کی جستجو میں ہوں! کرہ ارض پر بستے انسان کی 18 ویں اور 19 ویں صدیاں تو سامراج نے تباہ کر ڈالیں جب کہ 20ویں صدی اقوام متحدہ کی دروغ بیانی اورحقائق سے چشم پوری کی نذر ہو گئی ۔ ویت نام، قبرص ، کانگو، فلسطین ، کشمیر اسی دور کی خون آشام داستانیں ہیں۔ انہی برسوں میں نیویارک کی امپائر اسٹیٹ بلڈنگ کی بلندیوں پریٹھے عدل پروروں کے زیر نگرانی سچ کے لاشے پر تاریخ کا کفن لپیٹا گیا ۔    تفصیل سے پڑھئے
کشمیر کی بات ہوجائے، کہا گیا کہ الحاق کی ایک دستاویز تھی اور اس پر حاکم وقت کے دستخط ثبت ہوئے تھے، اس لیے الحاق جائزتھا اور اسی لئے آج بھی الحاق جائز ہے لیکن تاریخ کے نہاں خانوں سے مورخین اور مستشرقین کی تحریروں نے صدائیں اٹھانا شروع کر دی ہیں۔
الیسٹر لیمب [Alastair Lamb] ، اسٹینلے واپرٹ [Stanley Wolpert] اور اینڈریو وائٹ ہیڈ [Andrew Whitehead] کے لکھے حقائق اب چیخ چیخ کر اعلان کررہے ہیں کہ واقعات کو دروغ بیانی کی چادر تلے پوشیدہ رکھا گیا ہے ۔
ہندوستان کی طرف سے دنیا کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ 27/اکتوبر 1974 کی صبح سری نگر کے ہوائی اڈے پر اس کے فوجی دستے اترنے سے پہلے ہی 26/اکتوبر کو مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنی ریاست جموں و کشمیر کے ہندوستان سے الحاق کی دستاویز پر دستخط ثبت کر دئیے تھے۔ معروف برطانوی مورخ اور محقق الیسٹر لیمب نے مسئلہ کشمیر اور اس سے پھوٹنے والے انسانی المیے پر تین (3) کتب تصنیف کی ہیں۔
پہلی کتاب کا عنوان ہے:
Birth of a Tragedy: Kashmir, 1947
دوسری کتاب کا عنوان ہے:
Incomplete Partition: Genesis of the Kashmir Dispute 1947-1948
تیسری کتاب اس عنوان کے تحت شائع ہوئی تھی :
Kashmir: A Disputed Legacy, 1846-1990
اینڈ ریو وائٹ ہیڈ کی کتاب:
A Mission in Kashmir
کے زیر عنوان منظر عام پر آئی تھی جبکہ اسٹینلے واپرٹ نے اپنی تصنیف کاعنوان رکھا تھا:
Shameful Flight: The Last Years of the British Empire in India, 2006
اور 27/اکتوبر 1947ء کے دو ایام میں واقع ہونے والے حادثات کو السٹر لیمب یوں بیان کرتا ہے:
دہلی کے برطانوی ہائی کمیشن میں موجود ریکارڈ سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ ہندوستان کا سکریٹری برائے منسٹری آف اسٹیٹس وی پی مینن 26/اکتوبر کر جموں نہیں گیا۔ جب سری نگر پر مجاہدن کا دباؤ بڑھا تو ریاست کے وزیر اعظم مہر چند مہاجن اور مینن نے مہاراجہ ہری سنگھ کو اس بات پر رضامند کر لیا کہ وہ کشمیر چھوڑے اور جموں چلا جائے اور پھر دونوں نے دہلی کے لئے پرواز لے لی اور 26/اکتوبر صبح 8 بجے صفدر جنگ کے ہوائی اڈے پر اترے۔
السٹر لیمب کے مطابق مہاراجہ 26/اکتوبر کے دن کشمیر سے جموں کی طرف سفر کر رہاتھا جب کہ 27/اکتوبر کی صبح آٹھ بجے ہندوستانی فوج سرینگر کے ہوائی اڈے پر اتری ۔ مہاراجہ نے الحاق کی دستاویز پر کب اور کہاں دستخط کئے جب کہ یہ دستاویز تو وی پی مینن 27/دسمبر کو بذات خود لے کر دستخطوں کے حصول کی خاطر مہاراجہ کے پاس پہنچا تھا۔ یہ بات اس نے اپنی خود نوشت LOOKING BACK میں تحریر کی ہے۔
السٹر لیمب نے ایک اور حیرت انگیز سچ کا بھی انکشاف کیا ہے ۔ لکھتا ہے کہ جب 27/اکتوبر کو آٹھ بجے صبح ہندوستانی فوج کے دستے سری نگر کے ہوائی اڈے پر اترے تو یہ دیکھ کر حیرت میں ڈوب گئے کہ پٹیالہ رجمنٹ کے جوانوں نے پہلے سے ہی ہوائی اڈے کے چاروں طرف اپنی توپیں نصب کررکھی تھیں ۔ گویا الحاق کے فیصلے سے پہلے ہی فیصلہ ہو چکا تھا تو پھر یقیناً اس پہلے کے فیصلے کے لئے منصوبہ سازی تو بہت ہی پہلے کی گئی ہوگی۔
اپنی کتاب A MISSION IN KASHMIR میں برطانوی محقق اینڈریو وائٹ ہیڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ الحاق کی دستاویز جب مہاراجہ نے 27/اکتوبر 1947ء کے دن جموں میں دستخط کئے تھے تب تک ہندوستانی فوج کو سری نگر کے ہوائی اڈے پر اترے کئی گھنٹے گزر چکے تھے ۔
امریکی مورخ اسٹینلے واپرٹ کے مطابق پاکستان میں مامور پہلے ہندوستانی ہائی کمشنر سری پراکاسا [Sri Prakasa] نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن [Lord Mountbatten] سے کہا تھا کہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لئے ہندوستان کو چاہئے کہ کشمیرپاکستان کے حوالے کردے۔
اور پھر ایک اور نقطہ!
ہندوستانی دعوؤں کے مطابق مہاراجہ 26/اکتوبر 1947 کی ابتدائی ساعتوں میں سری نگر سے فرار ہوا اور سہ پہر کے وقت جموں پہنچا جہاں وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے نمائندے وی پی مینن نے اس سے ملاقات کر کے اس کے دستخظ لئے تاہم حالیہ برطانوی تحقیق ایک مختلف کہانی سناتی ہے ۔
اس کے مطابق مہاراجہ 26/اکتوبر 1947ء کی شام کو جموں پہنچا اور منسٹری آف اسٹیٹس کا سکریٹری وی پی مینن موسم خراب ہونے کی وجہ سے 26/اکتوبر کو جموں کے لئے پرواز نہ لے سکا اور 27/کو وہاں پہنچا ۔ اس وقت تک ہندوستانی فوج سری نگر میں اتر چکی تھی۔
وی پی مینن کا یہ دعویٰ کہ اس نے بذات خود 26/اکتوبر کو جموں میں مہاراجہ سے دستاویز پر دستخط لئے تھے جھوٹا ہے کیونکہ بہت سے مبصرین نے اس دن وی پی مینن کو دہلی میں دیکھا تھا۔
سچ کے لاشے پر سکوت کا کفن لپیٹا جاچکا ہے۔
اور ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کی اونچائیوں پر بیٹھے لوگوں کو وہ سوا لاکھ قبریں دکھائی نہیں دے رہی ہیں جو زمین کے رخسار پر آنسو بن کر عدل کی منتظر ہیں ۔ ان شہ نشینوں کو بیواؤں اور یتیموں کی آہ و بکا بھی سنائی نہیں دے رہی ۔ انہیں اپنی وہ قرار دادیں بھی یاد نہیں جن میں وعدہ کیا گیا تھا کہ سرزمین کے مالکوں کو اپنے آئندہ کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا۔
7 لاکھ کی قابض فوج ہندوستانی استبداد کو دوام دینے کے لئے سری نگر کے کوچہ و بازار کو برسوں سے خون میں ڈبو رہی ہے اور کوئی اقوام متحدہ کے کرم خوردہ اوراق میں سے اپنا ہی فرمودہ نکال کر اس کا مطالعہ نہیں کرتا ۔
"کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی استصواب رائے کا حق دیاجائے گا۔"
تو جیسا کہ کرہ ارض پر بستے انسان کی 20ویں صدی اقوام متحدہ کی دروغ بیانی اور حقائق سے چشم پوشی کی نذر ہوگئی تو پھر یوں تو ہوگا کہ جب کسی کی شہ رگ پر قبضہ رہے گا اور سچ کے کفن پر دروغ بیانی کا غبار پھیلایا جائے گا تو مظلوم و محروم ایٹم بم اور غوری اور شاہین جیسے انڈے تو بنائے گا اور یہ مرغیوں کے نیچے رکھنے کے لئے ہرگز نہیں ہوتے!!
(سفارتخانۂ پاکستان ریاض میں منعقدہ یوم یکجہتی کشمیر کی تقریب میں پڑھا گیا مقالہ)

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers