غیرت خان اسی مشہور جہانگیری امیر، خواجہ عبداللہ فیروز جنگ (۱۷۔شوال۱۰۵۴ھ) کا بھتیجا تھا، جس کے لیے ’’ماثر الامرا‘‘ کے مصنف نے لکھا ہے کہ ’’وہ (خواجہ عبداللہ) ناصرالدین احرار کے خاندان سے تھا اور خواجہ حسن نقشبندی جیسے اہل دل بزرگ کا بھانجا تھا۔ پھر بھی وہ ذاتی طور پر ایک انتہائی بے رحم ظالم شخص تھا‘‘ خان جہان لودھی نے جب اس مشہور جہانگیری امیر، خواجہ عبداللہ کو گرفتار کر کے، شیخ فرید بکھری (مؤلف ذخیرۃ الخوانین) کے ہاتھوں دس ہزار روپے خرچے کے لیے بھیجا تو اس موقع پر خواجہ عبداللہ اور شیخ فرید بکھری کے درمیان دلچسپ گفتگو ہوئی، جو اس طرح تھی:          تفصیل سے پڑھئے
عرض کیا: نواب صاحب (آپ) نے خدا کی راہ میں کتنی جنگیں کی ہیں اور کتنے کافروں کے سر تن سے جدا کر دیے ہیں؟
کہا: (تقریباً ) دو لاکھ تک۔ آگرے سے پٹنہ تک ان کی کھوپڑیوں کے ٹیلے بنے ہوئے ہیں!
عرض کیا کہ، البتہ ان میں کافی بے گناہ مسلمانوں کے سر بھی ہوں گے؟ ناراض ہو کر کہنے لگے، پانچ لاکھ کافر، عورتوں اور مردوں کو قید کر کے بیچ دیا ہے، جو سب بعد میں دین اسلام میں داخل ہوئے۔ وہ اپنی اوالاد سمیت بڑھتے جائیں گے اور قیامت تک ان کی تعداد کروڑوں تک پہنچ جائے گی۔(۲)
آخر میں یہ دعویٰ کیا کہ:
’’اگر کوئی حساب کتاب ہوا بھی تو میزان میں میرے کھاتے میں چھان بین کے بعد مسلمان زیادہ رہیں گے‘‘۔
شیخ فرید نے لکھا ہے کہ جب یہ مکالمہ انھوں  نے واپس آ کر خان جہان کے آگے بیان کیا تو انھوں نے کہا کہ :
’’عجب ہے اس شخص پر جو ایسے خوشگوار عملوں پر فخر کرتا ہے اور کوئی شرم نہیںآتی‘‘۔
لیکن ان نازیبا عملوں (اعمالی نکوھیدہ) کے باوجود بھی ’’ماثرالامرا‘‘ کے مصنف کا کہنا ہے کہ (ہندوستان) ہندوپاک کے سادہ طبع اور وہمی مسلمان اس کو کرامات کا صاحب سمجھتے تھے اور ان کے حضور نذرونیاز پیش کرتے تھے۔(۴)
خواجہ کا مگار کا باپ
اس عجیب کردار کے مالک خواجہ عبداللہ فیروز جنگ کے دو بھائیوں کے نام’’ماثرالامرا‘‘ اور دوسری کتب میں آئے ہیں۔ یعنی ایک خواجہ یادگار اور دوسرا خواجہ برخوردار لیکن غیرت خان، جن کا اپنا نام خواجہ کا مگار تھا، ان کے باپ کا نام ’’ماثرالامرا‘‘ وغیرہ میں ان کے بھائیوں کے نام کے وسیلے سے بھی کہیں بیان نہیں ہوا ہے۔ مغلیہ تاریخوں میں غیرت خان کو صرف ’’فیروز جنگ کا بھتیجا‘‘لکھ کر بات کو ختم کیا گیاہے(۵) البتہ انگریز تاریخ نویس ایلیٹ کی کتاب ’’تاریخ ہند‘‘ میں ’’ماثر جہانگیری‘‘ کے تعارفی نوٹ میں ان کے باپ کا نام ’’سردار خان‘‘ (۶) ظاہر کیا گیاہے۔ ان کے لیے مزید کہا گیا ہے کہ جہانگیری تاجپوشی کے چودھویں سال، وہ مغل دربار میں داخل ہوا اور ان کو حاجی پور ، مونگیر اور بہار میں کچھ زمین جاگیر کے طور پر عطاہوئی۔
 غیرت خانی لقب
شاہجہان کے پرانے حکومتی دور میں خان جہان لودھی اور دریا خان کی بغاوتیں مغل تاریخ کے مشہور واقعات ہیں۔ ویسے بھی خان جہان مغل سلطنت کے باغی ہونے کی حیثیت سے وہ ہمیشہ بادشاہ کے عتاب میں آتے رہے۔ لیکن شاہجہان کے اس عتاب سے زیادہ ان کے اور فیروز جنگ کے درمیان جو ذاتی دشمنی تھی، وہ ہی حقیقت میں ان کے لیے موتمار ثابت ہوئی۔ خان جہان کے دل میں سلطنت کے خلاف گرچہ جو ارادے اور منصوبے تھے، تو وہ دریا خان کے مارے جانے سے پہلے ہی ختم ہو چکے تھے اور پھر وہ فقط گمنامی کے کسی ایسے کونے میں چھپ کر زندگی بسر کرنا چاہتے تھے، جہاں وہ حکومت کی نظروں سے پوشیدہ رہیں اور آئندہ کے لیے بادشاہ کے دل سے ہمیشہ کے لیے اتر جائیں لیکن ’’ماثرالامرا‘‘ کے مصنف کے کہنے کے مطابق ، وہ جہاں بھی گیا، فیروز جنگ نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ یہاں تک کہ خان جہان کو کہیں بھی بچ جانے کی امید باقی نہ رہی تو وہ زندگی سے بیزار ہو گیا(۷) بالآخر وہ کالنجر(۸) سے بیس کوسوں دور، سہیرہ کے کنارے یکم رجب ۱۰۴۰ھ ۱۶۳۱ء کو فیروز جنگ سے مقابلہ کرتے ہوئے مارا گیا۔
عبداللہ فیروز جنگ کا بھتیجا خواجہ کامگار، جو اس وقت تک ترقی کر کے ایک ہزار پیادوں اور چار سو سواروں کے منصب تک پہنچ چکا تھا۔ سات دن کے بعد ۸ رجب کو اپنے چچا فیروز جنگ کا کیا گیا یہ نیا شکار یعنی خان جہان شہید کا سرلے کر بادشاہ سلامت کے حضور میں پہنچا۔ بادشاہ اس وقت تاپتی ندی کے کنارے کشتیوں میں آرامی ہو کر مُرغابیوں کے شکار سے دل بہلا رہاتھا (۹) اس انسانی شکار پر نظر پڑتے ہی نہ صرف اعلیٰ حضرت ، صاحب قرآن ثانی کی زبان مبارک سے ’’شکر افضال الاھی‘‘ کا کلمہ نکلا اور ’’کوس شادمانی‘‘ بجا نے کا حکم فرمایا لیکن فیروز جنگ کے اس دوڑائے ہوئے غلام، خواجہ کامگار کے بخت اور اقبال کے نقارے پر بھی عروج اور بلندی کا ڈنکا لگا۔ یعنی اسی وقت ان کو خلعت اور گھوڑے اور پانچ سو پیادوں اور دو سو سواروں کے اضافے کے علاوہ غیرت خان کے لقب سے سرفراز فرمایا۔ شاہی دربار کے شعرائ، جو ایسے خداداد موقعوں کی تلاش میں بیٹھے ہوتے تھے، ان میں سے ایک (۱۰) کے منہ میں، خان جہان لودھی (۱۱) کے خون سے جمے ہوئے سر کو دیکھتے ہی پانی بھر آیا اور فوراً ایک گرما گرم رباعی ہاتھ میں لے کر آگے بڑھے اور عرض کیا:
این مژدۂ فتح ازپیٔ ھم زیبا بود
این کیف دوبالا چہ نشاط افزا بود
از رفتن دریا سر پیرا ہم رفت
گویا سر او حباب (این) دریا بود (۱۲)
اُس شاعر نے اس فرشی رباعی کے بدلے کیا انعام جیتا، وہ تو معلوم نہیں لیکن مغل شاہی غیرت کا جلوہ خواجہ کامگار کی غیرت خانی کی صورت میں اسی موقع پر نمایاں ہوا۔
خواجہ کامگار اپنے منصوبوں، اعزازوں اور سواروں کی ان مزید حاصلات کے بدلے، اپنی اس غیرت خانی کی بنا پر کبھی بھی تاریخ کے دربار میں باریابی حاصل نہ کر سکا اور نہ ہی تاریخ کی غیرت اپنے گورستان میں اس کی قبر پر کوئی کتبہ لگا کر، انھیں کوئی دائمی حیات بخش کرنے کے لیے کبھی تیار تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے لیے خود ان کی اپنی سوانح میں ہمیں یہ تین عنوانات صاف اور بڑے حروف میں لکھے ہوئے ملتے ہیں:
(۱)         جس وقت دہلی میں شاہ جہان آباد کی بنیادیں پڑیں، اس وقت وہ وہاں کے ناظم اور عمارات کے نگران تھے۔ ۲۔         جہانگیری دور پر انھوں نے ماثر جہانگیری نام سے ایک کتاب لکھی جو ایک نہایت معتبر کتاب سمجھی جاتی ہے۔ ۳۔         مغل تسلط کے دور میں وہ ٹھٹھے کے صوبیدار مقرر ہو کر آئے اور وہاں کی مٹی ہی میں اسے ابدی آرام نصیب ہوا۔
جہاں تک مذکورہ واقعات سے ان کی زندگی کے پہلے دو واقعات ہی ہند۔پاکستان کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے بزرگوں کے لیے غیرت خان کی طرف متوجہ ہونے کے لیے کافی ہیں لیکن میری ذاتی دلچسپی کا خاص مقصد ان کی زندگی کا تیسرا واقعہ ہے ، جس کی بناء پر آج میں تاریخ کے عالموں کے اس عظیم اجتماع کی خدمت میں غیرت خان کی زندگی اور ان کی آخری آرامگاہ کے متعلق چند صفحات پیش کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔
 دہلی کی حکومت
شاہ جہان کی تخت نشینی کے دسویں سال یعنی ربیع الثانی ۱۰۴۷ھ کی ۲۳ تاریخ ’’گوہر بحر خلافت‘‘ یعنی بادشاہ زادے محمد اورنگزیب بہادر کو جس نے آگے چل کر خود اپنے باپ کو گرفتار کر کے اپنا قیدی بنایا، بادشاہ سلامت نے دولت آباد روانہ کیا تاکہ وہ وہاں سے لشکر لے کر کافر (۱۳) بھرجی کے ملک بکلانہ پر، جو دولت، خوشحالی اور موافق آب و ہوا سے مشہور تھا۔ حملہ کر کے ان کو مغل سلطنت میں شامل کر دے۔ اسی دن غیرت خان کو بھی دہلی کی گورنری کا فرمان مرحمت ہوا۔ ’’بادشاہ نامہ‘‘ کی عبارت یہ ہے:
۲۳ ربیع الثانی (۱۰۴۷ھ) کو عبداللہ خان فیروز جنگ کے بھتیجے غیرت خان کو خلعت اور ایک ہزار پیادوں اور ۱۰۴۰ سواروں کا اضافی منصب اور اصالت خان کی جگہ دارالحکومت کے صوبے دہلی کی نظامت کے عہدے سے سرفراز کیا گیا(۱۴)۔
شاہجہان کی تخت نشینی کے بارھویں سال، شاہجہان آباد کی شاہی عمارات اور لال قلعے کی بنیادیں رکھی گئیں، ان کی نگرانی غیرت خان کے سپرد ہوئی۔ شاہنواز خان کے کہنے کے مطابق: ’’…مذکورہ… صوبے کے حاکم صاحب اعتبار (غیرت خان) ۵ ذی الحج ۱۰۴۸ھ کو تجویز کیے گئے نقشے کے مطابق (عمارات اور قلعے) کی بنیادیں ڈالنے کا کام ہاتھ میں لیا (۱۵)
نئے سال کی ابتدا میں یعنی ۹ محرم ۱۰۴۹ھ ۱۶۳۹ء کو لال قلعے کی بنیادیں بھرنا شروع ہوئیں۔ اس کے بعد چار ماہ تک جو بھی سامان اور مصالحہ موجود تھا، وہ بنیادوں میں ڈال کر جیسے ہی کام ختم کیا گیا (۱۶) ویسے ہی ’’ماثرالامرا‘‘ کے مصنف کے کہنے کے مطابق غیرت خان کے بخت کا ستارہ چمکا اور ان پر ٹھٹھہ کی صوبیداری نوازش ہوئی اور وہ اسی طرف روانہ ہو گیا (۱۷)۔ ’’بادشاہ نامہ‘‘ کے مؤلف نے اس تبادلے کی تاریخ ۱۱ جمادی الاول ۱۰۴۹ھ بتائی ہے اور لکھا ہے کہ:
’’۱۱تاریخ (جمادی الاول ۱۰۴۹ھ) اللہ وردی خان کو ایک ہزار پیادوں اور ایک ہزار سواروں کے اضافے کے ساتھ پانچ ہزار پیادوں اور پانچ ہزار سواروں کا منصب عطا کر کے غیرت خان کی جگہ دارالحکومت والے صوبے دہلی کی صوبہ داری سے سرفرازی بخشی گئی اور رخصتی فرمائی گئی‘‘ (۱۸)
 ماثر جہانگیری
غیرت خان کی تالیف ’’ماثر جہانگریری‘‘ کا نام خافی خان (۱۹) اور ’’ماثر الامرائ‘‘ کے علاوہ خود کے مؤلف نے ’’جہانگیر نامہ‘‘ لکھا ہے۔ اس کتاب کے متعلق شاہنواز خان کی رائے یہ ہے:
’’…مذکورہ…(مؤلف ماثر جہانگیری) کسی بات کو بڑھانے اور گھٹانے کے بغیر ’’اقبال نامہ جہانگیری‘‘ کے مصنف کے متعلق (جو مرثیہ گوئی میں بے اختیار گرفتار تھا) اور خاص طرح جہانگیر کے شہزادگی والے دور کی بغاوت کے واقعات تفصیل کے ساتھ بیان کیے ہیں‘‘ (۲۰)    
اس سلسلے میں خافی خان کا کہنا ہے کہ:
’’عقل کے صاحبوں سے پوشیدہ نہیں کہ جہانگیر کے شہزادگی والے دور میں بغاوت کے حالات، محمد قاسم فرشتہ اور دوسرے مؤرخین ، جو جنت مکانی کے ہمعصر تھے۔ بادشاہ کے ملاحظے کے خیال سے فقط اشاروں ہی اشاروں میں بیان کیا ہے لیکن میرزا کامگار، مخاطب بہ غیرت خان، حمید اللہ خان؟ کے بھتیجے ، جنت مکانی کا احوال پیش کرنے میں خاصی تفصیل سے کام لیا ہے اور معتمد خان کے متعلق بھی سچ لکھنے میں کوئی کمی نہیں کی ہے، اور کافی حالات شہزادہ محمد سلیم کے شہزادگی والے دور کی بغاوت کا بیان بھی کیا ہے… الخ‘‘
تاریخ نویسوں کی ان آراء سے کتاب کی اہمیت اور مؤلف کی مشاہدہ نگاری اور واقعات کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنے میں جو صلاحیت تھی، اس کا مکمل طو رپر اندازہ ہو سکتا ہے۔
غیرت خان نے یہ کتاب شاہجہان کی تاجپوشی کے تین سال بعد یعنی ۱۰۴۰ھ (۱۶۳۰ئ) میں ختم کی (۲۱)
 ٹھٹھہ کی حکومت
جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ غیرت خان سے دہلی کی نظامت کی باگ ڈور لینے کے لیے اللہ وردی خان ۱۱ جمادی الاول ۱۰۴۹ھ کو شاہی حضور سے رخصت یاب ہوا۔ بعد میں وہ بھی دہلی پہنچا اور کب غیرت خان سے دہلی کی نظامت واپس لی ۔ اس کی کوئی خبر نہیں۔ بہرحال تقریباً ساڑھے تین ماہ کے بعد ۱۶ شعبان ۱۰۴۹ھ کو جب شاہجہان کا بل سے واپس لاہور منزل انداز ہوا تو غیرت خان وہاں آ کر شاہی دربار میں حاضر ہوا (۲۲) تقریباً ڈھائی ماہ لاہور میں رہ کر ’’تماشای شگوفۂ شفتالو‘‘ سے دل سے خوب لطف اندوز ہو کر ۲۵ شوال ۱۰۴۹ھ کو جب ’’فتح اور کامرانی کے شاہانہ پرچم ’’خوش بخت وقت کا انتخاب کر کے، کشمیر جانے کے لیے ہوا میں پھڑکنے لگے اس وقت تک غیرت خان شاہی دربار میں موجود تھا (۲۳) اچانک بادشاہ کا سسریمٰین الدولہ آصف خان، جو اسی زمانے میں لاہو رکا حاکم تھا، بیمار پڑ گیا، اس لیے بادشاہ سلامت لاہورکی قلعداری غیرت خان کے سپرد کرکے، خود کشمیر روانہ ہو گیا (۲۴)۔ لاہور کی یہ قلعداری چار ماہ تک غیرت خان کو حاصل رہی، جس کے بعد ٹھٹھہ کے حاکم خواص خان کے تبادلے کی وجہ سے ۴ ربیع الاول۱۰۵۰ھ غیرت خان کو فوراً ٹھٹھہ جانے کا حکم صادر ہوا اور لاہور کی قلعداری ذوالفقار کے سپرد ہوئی۔
چوتھی تاریخ (ربیع الاول ۱۰۵۰ھ) کو غیرت خان، جس کو لاہور کی قلعداری کے عہدے کی سرفرازی حاصل تھی۔ ۵۰۰ پیادوں کے اضافے کے ساتھ ۳۰۰۰ پیادوں اور ۲۰۰۰ سواروں کا منصب حاصل کر کے خواص خان (۲۵) کی جگہ پر ٹھٹھہ کی صوبیداری سنبھالنے کے لیے وہاں سے فارغ ہوا اور لاہور کی قلعداری ذوالفقار خان کو جو یہاں تک بڑے شان والے بادشاہزادے مراد بخش کی خدمت خاص میں مقرر تھا، مرحمت کی گئی(۲۶) اور اسی وقت یہ بھی حکم خاص صادر ہوا کہ وہ یعنی غیرت خان فوراً روانہ ہو جائے اور بنا دیر جاکر اپنا نیا عہدہ سنبھال لے (۲۷)۔
سندھی مؤرخ میر علی شیر قانع ٹھٹوی نے ’’تحفتہ الکرام‘‘ میں ٹھٹھے کے مغل صوبیداروںکی جو فہرست دی ہے وہ ترتیب یا تاریخ کے لحاظ سے غلط بھی ہے اور نامکمل بھی ہے۔ چنانچہ غیرت خان کا نام اور ذکر ان میں موجود ہی نہیں (۲۸) اور ان میں شاہجہان کے اوائلی دور کے صوبیداروں کے نام اور حالات بھی غائب ہیں، کیونکہ یہ ہی کتاب ’’لبِ تاریخ سندھ‘‘ کا ماخذ ہے، اس لیے ان میں و ہی کمی بیشیاں موجود ہیں۔ ’’اب تاریخ سندھ‘‘ میں بھی سال فقط قیاس کی بناء پر دیا گیا ہے اور اس میں سندھ کے مغل صوبہ داروں کی پیش کی گئی فہرست میں بھی اسی طرح غلط ہے۔
 وفات
غیرت خان ٹھٹھہ میں جو بھی عرصہ رہا ان کی تفصیلات ہمیں اس لیے معلوم نہیں ہو سکتیں کیونکہ سندھ کے تمام تاریخی ماخذات ان کے دور میں واقعات اور حالات سے خالی ہیں۔ مغل تاریخوں سے ہمیں صرف یہ پتا چلتا ہے کہ غیرت خان ٹھٹھہ میں ۱۰۵۰ھ کو وفات پا گئے، اس کی اطلاع ۷ذو الحج ۱۰۵۰ھ کو شاہجہان کو ملی اور اسی دن بادشاہ نے ٹھٹھہ کی حکومت کی باگ ڈور شاد خان کے حوالے کر دی۔
’’سات تاریخ (ذی الحج)… اس تاریخ کو جب بادشاہ کے ہاں یہ اطلاع آئی کہ ٹھٹھہ کے صوبیدار غیرت خان، زندگی کی منزلیں پوری کر چکے ہیں، تب شادخان کو (۲۸) خلعت اور تلوار اور پانچ سو پیادوں اور پانچ سو سواروں کے اضافے کے ساتھ دو ہزار پیادوں اور ستائیس سو سواروں کا منصب عطا کر کے ایک گھوڑا مرحمت کیا گیا اور مذکورہ صوبے کی صوبیداری سے سرفراز کیاگیا‘‘ (۲۹)۔
 مدفن
غیرت خان کی زندگی کا خاتمہ ٹھٹھہ میں ہوا۔ کسی بھی مؤرخ نے یہ نہیں لکھا کہ کہاں کی سر زمین نے اس کے بے جان جسم کو اپنے ہاں پناہ دی۔ یعنی اس کی مٹی کہاں کی مٹی سے مل گئی اور کہاں کی ایک گز زمین میں ابدی آرام نصیب ہوا۔
اس مقالے میں میرا مقصد غیرت خان کی سوانح حیات بیان کرنا نہیں تھا۔ اس لیے کہ جہاں تک ان کی زندگی کے حالات کا تعلق ہے تو اس کو بالکل سطحی نمونے پر چھوڑتا ہوا، میں آگے ہی بڑھتا گیا ہوں۔ میری اصل منشا یہ تھی کہ میں تاریخ کے عالموں کی خدمت میں یہ ظاہر کروں کہ حضرت ننگرٹھٹھ کی خاک پاک نے ہی ہمیشہ کے لیے غیرت خان کے خاکی جسم کو اپنے پاس جگہ دی ہے اور مکلی کے بے مثل تاریخی قبرستان میں ہی دائمی طو رپر آرامی ہیں۔
مکلی ٹکری پر میرزا عیسیٰ ترخان ثانی (۳۰) کے مقبرے کی مغربی پشت سے دیوار کے کچھ فاصلے پر اونچی سطح کے تین الگ الگ چبوترے ہیں۔ پہلے چبوترے پر سفید پتھر کی ایک قبر ہے جس پر یہ کتبہ موجود ہے۔
ندا رسید کہ وی واصل خدا شد
گفت غمین مباش کہ فردوس ساختہ روشن۔۱۰۵۲ھ
اس کے بعد ایک اور چبوترا ہے جس میں ابھی صرف ایک ہی قبرباقی رہ گئی ہے، اس پر یہ کتبہ موجود ہے:
رحلت نمودن مرحومی مغفوری
خواجہ محمد لطیف بتاریخ بست
وششم شہر شوال دو شنبہ۔۱۰۵۲ھ
اسی چبوترے پر ایک پتھر کا کتبہ میں نے کسی زمانے میں دیکھا تھا جس پر یہ شعر کندہ تھا:
سال وفات آن سعید، جست چو طبع خرد
از نفس مشک بیز پیکر روحانیان۔۱۱۳۵ھ
اسی طرز اور اسی سلسلے کا تیسرا اور سب سے آخری چبوترا، مذکورہ دونوں چبوتروں کے ساتھ ملا ہوا ہے اسی پر بھی ایک قبرباقی رہ گئی ہے،بغیر پتھروں کے بنی ہوئی، اس قبر پر کسی زمانے میں چُن کے گچ کا پلستر چڑھایا گیاتھا۔ اسی چبوترے پر میں نے آج سے چھے سات برس قبل ایک کتبہ دیکھاتھا، جو نیچے گرا پڑا تھا۔ یہ کتبہ غیرت خان کے مزار کا تھا۔ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ مجھے جہاں سے یہ کتبہ ملا تھا، اسی چبوترے اور وہاں کی ہی کسی قبر کا کتبہ تھا یا وہ کسی آس پاس کی قبر سے الگ ہو کر کہیں گر پڑا تھا اور وہاں سے کسی نے اٹھا کر اسی چبوترے پر رکھ دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ مکلی کے مقبروں کی دیکھ بھال ، صفائی اور حفاظت کا اہتمام جو اب موجود ہے ایسا پہلے نہیں تھا اور اسی کسمپرسی کے لمبے عرصے میں بے شمار تاریخی قبریں مٹ گئیں اور زمین دوز ہو کر ملبے میں گم ہو گئیں۔
میری ذاتی قیاس ہے کہ غیرت خان کی قبر انہی تینوں چبوتروں میں سے کسی ایک پر موجود ہونی چاہیے اور ہو گی بھی۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ یہ قبر اسی چبوترے میں ہے جہاں سے مجھے یہ کتبہ ملا تھا بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ ہی چُن سے پلستر کی گئی قبر ہو۔ میرا یہ قیاس اس لیے بھی قابل اعتماد ہے کہ آس پاس کے مقبروں کے اس حلقے میں دوسرے مغل حکمرانوں اور امیروں کی قبریں موجود ہیں۔
 کتبہ
کتبہ ایسے ہی سفید پتھر پر کندہ ہے،  جو عام طور پر مکلی کے مقبروں پر استعمال ہوا ہے۔ کتبے کے پتھر کی لمبائی اور چوڑائی ۱۸×۳۵ ہے (۳۱) اور اس پر دو سطرمیں یہ عبارت اور تاریخ کندہ ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
گفت ۳۲ تاریخ ازمیان نام غیرت خان برابر۔ باقی
باقیٔ آن سال تاریخ و فاتش راشمار۔ ۱۰۵۰ھ
لفظ’’تاریخ‘‘ کے اعداد ۱۲۱۱، لفظ ’’غیرت خان‘‘ کے اعداد ۲۲۶۱ سے نکال لیے جائیں تو وفات کا سال ۱۰۵۰ھ نکلتا ہے، جو کتبے کے دونوں مصرعوں کے درمیان ہندسوں میں لکھا ہوا موجود ہے۔
یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ’’تاریخ‘‘ کس نے بنائی ہے۔ ’’مفتاح التواریخ‘‘ میں یہ شعر موجود ہے لیکن کتاب کے مؤلف نے تاریخ لکھنے والے کا نام نہیں لکھا ہے۔ کتاب کے متعلق عبارت یہ ہے:
’’(غیرت خان)…نام پدرش سردار خان بود، درسن یک ہزار و پنجاہ ہجری… فوت کردہ و عزیزی در تاریخ فوتش این بیت خوب یافتہ‘‘۔
’’لفظ تاریخ ازمیاں نام غیرت خان برابر، باقیٔ آن راتو در ابجد بگیروبرشمار‘‘(۳۳) یہ بیت اور کتبے پر کندہ بیت میں تھوڑا سا لفظی فرق ہے، جو ظاہر ہے۔
حوالہ جات
۱۔          یہ مقالہ پاکستان ہسٹری کانفرنس کے گیارھویں سالانہ اجلاس مورخہ ۳۰ مارچ ۱۹۶۱ء میں پڑھا گیا۔ ۲۔         ’’ذخیرۃ الخوانین‘‘ کی اصل عبارت یہ ہے:
’’قریب پنج لک آدم از ذکور و اناث کفرہ اسیر کردہ فروختہ ام و ھمہ مسلمان شدہ اند، و توالد و تناسل آنہاتا دور قیامت ارب کھرب آدم می شود…‘‘ (خطی نسخہ، راقم الحروف کی ملکیت۔ ص: ۲۶۸)
۳۔         ماثرالامرا۔ جلد۲، ص:۷۷۵ اور اس کے بعد۔ ۴۔         ماثر الامرا۔ جلد۲، ص:۸۶۳۔ ۵۔         یہ نام بیل صاحب نے ’’مفتاح التواریخ‘‘ میں دیا ہے۔ ۶۔         ماثرالامرا۔ جلد۲، ص: ۸۶۳۔ ۷۔         امپیریل گزیٹیئرxivص ۳۱۰(۱۹۰۸ئ)۔ ۸۔         دیکھیے خافی خان۔ جلد۱، ص: ۴۴۲۔ ۹۔         طالب کلیم ہمدانی۔ ۱۰۔        خان جہان لودھی جب قندھار کا صوبہ دار تھا، تب ملتان کے ساتھ بکھر بھی ان کی جاگیر میں شامل تھا اور خان خانان کے ساتھ ٹھٹھ کی مہم اور فتح میں بھی غالباً شریک تھا۔ ان کی شہادت کی تاریخ یہ ہے:
’’آہ و نالہ از افغان برآمد‘‘
’’آہ‘‘ اور ’’نالہ‘‘ کے اعداد (۹۲)’’افغان‘‘ کے اعداد (۱۱۳۲) سے کاٹ لینے سے تاریخ کا سال (۱۰۴۰ھ) نکلتا ہے۔
۱۱۔         ’’خافی خان‘‘۔ جلد ۱، ص: ۴۴۴۔
دوسرے شعر کا پہلا مصرعہ اس طرح ہے:
’’از کشتن دریا، سر پیدا ھم رفت‘‘
’’پیدا خان‘‘ اصل میں خان جہان کانام تھا۔ اسی شعر میں دریا کے قتل کا اشارہ’’کشتن دریا‘‘ سے کر کے ، بعد میں خان جہان کے سر قلم کیے جانے کے لیے ’’سر پیدا ھم رفت‘‘ کہا گیا ہے۔
۱۲۔        ’’بادشاہ نامہ‘‘۔ جلد ۱، ص: ۲۸۰۔ ۱۳۔        ’’ماثرالامرا‘‘۔ جلد ۲، ص:۸۶۴۔
ڈاکٹر برگسThe Chronology of Modern India (P.92 )میں ۲۵ ذی الحج (۲۹۔اپریل ۱۹۳۹ء تاریخ دی ہے۔
۱۴۔        ’’ماثر الامرا‘‘ جلد ۲، ص: ۸۶۴: جلد۳، ص: ۴۶۳ اور ’’عمل صالح‘‘ جلد۳۔ ۱۵۔        غیرت خان سے اللہ وردی خان نے جائزہ لیا (’’ماثر الامرا‘‘۔ جلد۱، ص: ۲۱۰)اور دو سال اور کچھ دنوں کے بعد جب دریا کی طرف سے لال قلعہ کی دیوار دس گز بڑھ چکی ہے، اس سے ملا مرشد شیرازی عرف مکرمت خان نے نظامت کا جائزہ لیا۔ (’’ماثرالامرا‘‘۔ جلد ۲، ص: ۴۶۰۔۴۶۲) ۱۶۔’’بادشاہ نامہ‘‘۔ جلد ۱، ص:۱۵۸۔ ۱۷۔        ’’خافی خان‘‘۔ جلد۱، ص:۴۴۲۔ ۱۸۔ ’’ماثر الامرا‘‘۔ جلد ۲، ص: ۸۶۵۔ ۱۹۔        اسٹوری ۵۶۳۔ ریو، جلد۱، ص: ۲۷۵ ’’ماثر جہانگیری‘‘ کے دیباچہ کا حوالہ۔ ۲۰۔        ’’بادشاہ نامہ‘‘۔ جلد ۲، ص: ۱۶۸۔ ۲۱۔        اس دور کے واقعات کی چند تاریخیں ’’بادشاہ نامہ‘ کی روایت کے مطابق اس طرح ہیں:
۱۷ ۔ ربیع الثانی ۱۰۴۸ھ کو شاہجہان آگرہ سے لاہور روانہ ہوا۔
۱۵۔ رجب ۱۰۴۸ھ لاہور پہنچا۔
۱۔ذی القعد ۱۰۴۸ھ لاہور سے کابل کی طرف روانہ ہوا۔
۲۵۔ربیع الثانی ۱۰۴۹ھ کابل سے لاہور واپس ہوا۔
۲۱۔ جمادی الثانی ۱۰۴۹ھ لاہور پہنچے۔
۱۶۔ شعبان ۱۰۴۹ھ غیرت خان دہلی سے آ کر لاہور میں حاضر ہوا۔
۲۵ ۔ شوال ۱۰۴۹ھ بادشاہ لاہور سے کشمیر کی طرف روانہ ہوا اور غیرت خان کو لاہور کا قلعدار مقرر کیا۔
۲۲۔        بادشاہ نامہ جلد ۲، ص: ۱۷۹۔ ۲۳۔       دولت خان مَئی، جوخواص خان کے نام سے مشہور تھا (مئی شبہ ایست از طوائف بھٹی کہ در صوبہ پنجاب میرسم زمینداری و قطاع الطریقی می گزرانند)۔ پہلے شیخ مرتضیٰ خان فرید بخاری کا ’’رومال بردار‘‘ تھا اور ہمیشہ شیخ کے ساتھ حضور میں جاتاتھا۔ ماثرالامرا کے مصنف کاکہنا ہے کہ ’’چوں سر آغاز بہار، حسن نظر فریبی داشت‘‘ حضور جنت مکانی یعنی حضرت جہانگیر بادشاہ ضل اللہ کی ان پر ’’نگاہ کرم‘‘ فرماتا تھا اور شیخ کی وفات کے بعد اسی شاہی کرم کی نگاہ نے ان کو ہمیشہ کے لیے اپنا بنایا اور جب اسی طرح شہنشاہ ِ ہند سے وابستہ ہو گیا، تب ’’دولت خانی‘‘ کے ساتھ ساتھ اپنی خصوصیات کی بناء پر ’’خواص خان‘‘ بھی بن گیا۔ شاہجہان کی تخت نشینی کے آٹھویں سال (محرم ۱۰۴۵ھ )خواص خان کو یوسف محمد خان تاشقندی کے تبادلے کی وجہ سے ٹھٹھ کی صوبہ داری دی گئی۔ ماثرالامرا نے لکھا ہے کہ ، مد تھا بحکومت آن دیار گذرایند‘‘ ان کی حکومت کی تاریخیں نہیں بتائی گئی ہیں، لیکن ’’بادشاہ نامہ‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً پانچ برس کے بعد ان کا تبادلہ عمل میں آیا اور غیرت خان نے آ کر ان سے ٹھٹھہ کی صوبہ داری کا چارج لیا (ماثرالامرا۔ جلد ۱، ص:۲۴) ۲۴۔       ’’بادشاہ نامہ‘‘ جلد ۲، ص: ۱۹۸۔ ۲۵۔       ’’خطی نسخہ‘‘، مکتوبہ ۱۲۶۷ھ اور چھاپی نسخہ۔ ۲۶۔        ’’لُبِ تاریخ سندھ‘‘۔ طبع امر تسر ۱۹۰۰ئ۔ دوسرا ایڈیشن سندھی ادبی بورڈ ۱۹۵۹ئ۔ ۲۷۔       شجاعت خان شادی بیگ پسر جانش بہادر۔ شاہجہان کی تخت نشینی کے چودھویں سال شاہ قلی بیگ کے تبادلے کی وجہ سے ان کو بکھر کی حکومت کے واسطے روانہ کیا گیا، جس کے لیے ۱۹ رمضان ۱۰۵۰ھ کو حکم جاری ہوا (’’بادشاہ نامہ‘‘ جلد ۲، ص: ۲۲۰) بعد میں جب غیرت خان کی وفات کی خبر (۱۰۵۰ھ) آئی تو ان کو ٹھٹھ پر مقرر کیا گیا (ماثرالامرا۔ جلد۳، ص: ۲۶۲)۔ ان کا باپ جانش بہادر میرزا حکیم کا ملازم تھا۔ میرزا کی وفات کے بعد وہ اکبر کے امراء میں داخل ہو گیا۔ سندھ کی فتح کی کشمکش میں وہ خان خانان کے ساتھ تھا۔ ۱۰۰۹ھ میں وفات پا گئے۔ ماثر الامرا۔ جلد ۱، ص: ۵۱۱۔
شاہ قلی جب شادخان کو بکھر کا چارج دے کر، خود صوبہ کشمیر کی نظامت سنبھالنے کے لیے وہاں روانہ ہو گیا۔ تب راستے میں حسن ابدال کے قریب فوت ہو گیا۔ یہ خبر یکم ذی الحج ۱۰۵۰ھ پر شاہجہان کو گوش گزار ہوئی تو انھوں نے تربیت خان کشمیر کا ناظم مقرر کر کے روانہ کر دیا (بادشاہ نامہ۔ جلد۲، ص: ۲۲۵)۔
۲۸۔       ’’بادشاہ نامہ‘‘۔ جلد ۲، ص:۲۲۵۔ ۲۹۔        میرزا عیسیٰ ترخان ثانی کے حالات کے لیے دیکھیے’’حواشی مکلی نامہ‘‘ از راقم الحروف۔ ۳۰۔       پتھر کے کنارے ٹوٹے ہوئے ہیں اور اوپر والی سطر کے کچھ الفاظ بھی ٹوٹ گئے ہیں۔ ۳۱۔        پتھر کے ٹوٹنے سے یہ لفظ پڑھنے میں نہیں آتے۔ اندازاً ان کو گفت ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ ۳۲۔       ’’مفتاح التواریخ’’۔ بیل ، ص:۲۴۵ اور The Oriental Biographical Dictionary, by T.W. Beale, Calcutta. 1881-P.94 . ٭٭٭٭
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers