کچھ دنوں سے میں چند ناہنجار کتوں کو بہت مرغوب ہو گیا ہوں ،،، رات گئے گھر آتے ہوئے یک بیک پانچ سات کتے نجانے کہاں سے لپکتے لڑھکتے آن دھمکتے ہیں اور ان میں سے چند تو مجھے یہاں وہاں سے چکھنے کے زبردست آرزو مند بھی معلوم ہوتے ہیں ، دو تو بلحاظ صحت ایسے ہیں کہ اگر انہیں گوندھ کر ملایا جائے تب بھی اک قابل لحاظ کتا نہیں بن پائےگا۔۔۔ لیکن سب سے زیادہ جوشیلی پرفارمنس بھی انہی کی ہوتی ہے۔۔۔ دم اٹھائے اور زبان لٹکائے ہر طرف سے کانپ رہے ہوتے ہیں ،،، سمجھ نہیں آتا کہ ڈیڑھ پاؤ کے کتے میں بھی ڈیڑھ من بھر بھونک کہاں سے سما جاتی ہے ،،، زیادہ تر تو سیفٹی اسٹینڈرڈزسے آگاہ ہیں اور پتھر پڑنے کی رینج سے ذرا پرے پرے ہی رہتے ہیں جو ناسمجھ ہیں وہ محض ایک پتھر اچھالتے ہی چیاؤں چیاؤں کرتے گلی کا موڑ مڑ جاتے ہیں- تفصیل سے پڑھئے
اور باقیماندہ چیاؤں چیاؤن کا کورس وہاں کھڑے رہ کر پورا کرتے ہیں ،،، پھر میرے آگے بڑھ جانے کے بعد دوبارہ چند قدم آگے آکر اپنی بہادری کا وہ واویلا کرتے ہیں کہ مجھے کان لپیٹتے ہی بنتی ہے ،،،، تاہم یہ ضرور ہے ان کتوں کی مسلسل نگہبانی و خاص توجہ کی وجہ سے میرے گھر پہنچنے کا سفر آج کل بہت تیزی سے طے ہوجاتا ہے ۔۔۔ لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ کتے میرے گلے کیوں آئے ہوئے ہیں ۔۔۔ آخر انکے اہداف کیا ہیں اور انکا منشور کیا ہے ،،، لیکن بظاہر تو سبھی کا ون پوائنٹ ایجنڈا یہی معلوم ہوتا ہے کہ میں خود کو رضاکارانہ طور پہ انکے منہ کے ذائقے کی تبدیلی کیلیئے پیش کردوں اور انکی اس ندیدی خواہش کو پورا کرنے کیلیئے میں ہرگز تیار نہیں-
بات یہ نہیں کہ میری ان کتوں سے کوئی پرانی دشمنی ہے، مطلق نہیں ،، ویسے بھی دشمنی کرنے کیلیئے دشمن کو پہچاننا ضروری ہے اور میرا یہ حال ہے کہ سارے رنگوں کے کتے ایک ہی جیسی شکل کے دکھتے ہیں یعنی کوئی کالا کتا سبھی کالے کتوں جیسا معلوم ہوتا ہے اور کوئی مٹیالے رنگ کا کتا اسی رنگ کے دیگر ہم جنسوں کی مانند نظر آتا ہے،،، اور اک کم سے کم فاصلے کی میری مقررہ حد عبور ہوجانے کے بعد کے بعد تو ہر کتا مجھے بہت ہی کتا معلوم ہوتا ہے ۔۔۔۔ لیکن یہ نہیں کہ میں کتوں کو پہچاننے کی مطلق کوئی حس ہی نہیں رکھتا،،، میں کتوں کو صرف 2 اقسام سے پہچانتا ہوں یعنی اصیل کتا اور رذیل کتا،،، اصیل کتے کو آپ کتوں کی اشرافیہ سمجھیئے ، وہی تام جھام ، وہی وہی نخوت،،بھرا بھرا پیٹ ، چال میں تمکنت، شیمپو سے دھلا دھلایا ، مزید یہ کہ گلے میں خوبصورت سا پٹہ ، ، ، تھوتھنی ایسی چمکدار گویا تازہ تازہ پالش کی ہوئی اور چہرے پہ بیوروکریٹک سا تدبر اور وقار۔۔۔ یہ جو اصیل کتے ہیں انہیں تو کتا کہتے ہوئے انکے مالکان کا دل بھی دکھتا ہے۔۔۔ اور کسی چپڑ قناتی کے ساتھ بٹھا دیا جائے تب تو انہیں کتا مانتے ہوئے بھی کلیجہ منہ کو آتا ہے،،، ایسے اصیل کتے باہر کی سیر فرمانے کا خاص ذوق رکھتے ہیں لیکن ایسے میں اگر انکا پٹا ایسے مالک کے ہاتھ ہو کہ جسکی صحت اوسط سے کم ہو تو دیکھنے میں یہی لگتا ہے کہ وہ اس مالک کو سیر کرا رہا ہے ۔۔۔ ایسے اصیل کتے ہر ایسے ویسے پہ اپنی بھونک ضائع بھی نہیں کرتے بس ہلکا سا غرا کر ہی کام چلا لیتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ کوئی ٹچہ سامنے ہو تو ایک ہلکی سی 'بخ ' یا 'بھوں' ہی کو کافی سمجھتے ہیں،،، جبکہ رذیل کتے کی ناک پہ اگر کوئی مکھی بھی بیٹھ کر اڑ جائے تو چاروں سمتوں میں گھوم گھوم کر تھوتھنی اٹھا کر بھونک بھونک کر آسمان سر پہ اٹھا لیتا ہے۔۔۔ میں بات کر رہا تھا اصیل کتوں کی تو انہی میں سے ایک قسم ایسےجھبرے و بالدار کوتاہ قامت کتوں کی ہوتی ہے کہ جن کے جسم کا نوے فی صد انکے بالوں پہ مشتمل ہوتا ہے اور قدرت نے انکےدیگر سب اعضاء کو باقی کے دس فیصد میں ہی ایڈ جسٹ کردیا ہوتا ہے۔۔۔ ان بالوں کے انبار میں کتے کے آغاز و اختتام کا سراغ لگانا کوئی آسان کام نہیں اور عام طور پہ اسکے منہ کا تعین اسکے بھونکنے سے قبل کرنا خاصا دشوار کام ہے-
ادھر رذیل کتے کو سمجھنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ جو بھی اصیل کتا نہیں وہ اسی قسم دوئم سے ہے اور اس میں جو جتنا بھوکا ہےاور جس قدر بھونکتا ہے اسکے درجات اپنے طبقے میں اتنے ہی برتر ہیں ،،، یہ کتوں کا وہ طبقہ ہے کہ جسکی صرف 2 حسیات ہی مسلسل کام کرتی ہیں ایک بھوک کی حس اور دوسری بھونکنے کی حس ۔۔۔ بعضے لوگ ایک تیسری حس کا حوالہ بھی دیتے ہیں لیکن اصل میں وہ بھوک کی ذیل میں ہی شمار کی جانی چاہیئے۔۔۔ رذیل کتا اسلیئے بھی رذیل سمجھا جاتا ہے کہ وہ لنگی پاجامے اور پتلون پہ یکساں مستعدی سے بھونکتا ہے،،، تاہم پتلون پہ اگر کوٹ بھی ڈاٹا ہوا ہو تو آواز میں شدت کی سطح اور خباثت کی مقدار کسی قدر کم پائی جاتی ہے۔۔۔ کچھ کتوں کو قدرت سے مصلحت کوشی فراواں عطا ہوئی ہوتی ہے اور وہ کتا گیری کی حد کو عبور کرنے کی خود سے بھی کوشش نہیں کرتے ،،، لیکن سبھی ایسے نہیں ہوتے تاہم اگر آپکے ہاتھ میں کوئی مضبوط سا ڈنڈا یا بڑا سا پتھر ہو تو زیادہ تر کتےآن دی اسپاٹ بھونکنے پہ غرانے کو ترجیح دیتے ہیں اور ایسے میں انکی غراہٹ میں بھی بڑی عملیت پسندی جھلکتی ہے ۔۔۔ جسکا فوری ترجمہ یہ ہوتا ہے کہ ' دیکھ میاں تو میرا بھرم رکھ میں تیرا لحاظ کروں گا'،،، دور سے دیکھنے والے کو مگر بخوبی محسوس ہوجاتا ہے کہ ۔۔۔۔ دونوں طرف ہے ہوا برابر کی نکلی ہوئی،،،
کہیں اجنبی اور سنسان سی جگہ پہ اگر 2 کتے بھی کھڑے ہوں تو نجانے کیوں تین یا چار سے کم نہیں لگتے ۔۔۔ لیکن عام جسمانی کیمسٹری کی رو سے اوسان خطا کرنے اور ذاتی جغرافیہ تندیل کردینے کیلیئے تو ایک کتا بھی کافی سے زیادہ ثابت ہوتا ہے۔۔۔ ایسے موقع پہ اگر آپ نے پہلے سے کوئی دفاعی اوزار نہیں تھاما ہوا تو پھر خود سے کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اب جو کرے گا وہ کتا ہی کریگا ۔۔۔ ایک بات مگر عام مشاہدے کی یہ ہے کہ بعضے کتے برائے نام ہی کتے ہوتے ہیں اور صرف سونگھ کر آگے بڑھ جانے ہی پہ اکتفاء کرتے ہیں ،،، لیکن جب کوئی کتا تنہائی میں مقابل آجائے تو ایسے مشاہدے پہ انحصار کرنا چنداں دانشمندی نہیں کیونکہ ہر مشاہدے میں کئی مستثنیات بھی ہوتی ہیں اور کیا پتا آپکے نصیب میں آنے والے وہ لمحات انہی چند مستثنیات کا حصہ ہوں ۔۔۔ ایسے میں بس یہی دعا کرنی چاہیئے کہ آپکو سونگھنے میں مصروف اس کتے کو آپکی بو ناگوار محسوس نا ہو ،،،اور اسکی قوت شامہ کو فوری صدمہ نہ پہنچے،،،، ورنہ وہ یہ صدمہ آپکو منتقل کرنے میں ذرا دیر نہیں لگائے گا،،، پھراس نازک وقت دعا مانگنے سے متعلق ایک مسئلہ یہ بھی تو ہے کہ یہ دعا کرنا یاد کیسے آئے کیونکہ اس مرحلے پہ تو بڑے بڑے خطرات ٹالنے والی سادہ سی دعا بھی یاد نہیں آپاتی،،، اور کوئی بھی کتا اگر وہ واقعی کتا ہے تو اسے کسی کسی وقت کتا پن کرنے سے روکنا تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود چند مسلمہ ناممکنات میں سے ہے- اب لے دے کے میرے مسئلے کا حل یہی رہ گیا ہے کہ آتے جاتے ہر وقت میرے ہاتھ میں ایک بڑا سا ڈنڈا ہو اور اس حلیئے میں جہاں بھی پہنچوں بہت پہنچاہوا شمار کیا جاؤں اور فوراً بصد ادب و بحفاظت واپس پہنچادیا جاؤں-
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers