حضر ت یونس علیہ السلام کا واقعہ جس کا کچھ حصہ تو خود قرآن میں مذکور ہے اور کچھ روایاتِ حدیث و تاریخ سے ثابت ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم عراق میں موصل کے مشہور مقام نینوی میں بستے تھے، ان کی تعداد قران کریم میں ایک لاکھ سے زیادہ بتلائی ہے ان کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے یونس علیہاالسلام کو بھیجا، انھوں نے ایمان لانے سے نکار کیا،حق تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو آگاہ کردہ کہ تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آنے والا ہے، حضرت یونسؑ نے قوم میں اس کا اعلان کردیا، قوم یونسؑ نے آپس میں مشورہ کیا تو اس پر سب کا اتفاق ہوا کہ ہم نے کبھی یونس علیہ السلام کو جھوٹ بولتے نہیں دیکھا اس لئے ان کی بات نظر انداز کرنے کے قابل نہیں، مشورہ میں یہ طے ہوا کہ یہ دیکھا جائے کہ یونس علیہ السلام رات کو ہمارے اندر اپنی جگہ مقیم رہتے ہیں تو سمجھ لو کہ کچھ نہیں ہوگا، اور اگر وہ یہاں سے کہیں چلے گئے تو یقین کر لو کہ صبح کو ہم پر عذاب آئے گا، حضرت یونسؑ باارشاد خداوندی رات کو اس بستی سے نکل گئے، صبح ہوئی تو عذابِ الہی ایک سیاہ دھوئیں اور بادل کی شکل میں ان کے سروں پر مندلانے لگا اور فضاء آسمانی سے نیچے ان کے قریب ہونے لگا تو ان کو یقین ہوگیا کہ اب ہم سب ہلاک ہونے والے ہیں، یہ دیکھ کر حضرت یونسؑ کو تلاش کیا کہ ان کے ہاتھ پر مشرف بایمان ہوجائیں اور پچھلے انکار سے توبہ کرلیں مگر یونس علیہ السلام کو نہ پایا تو خود ہی اخلاصِ نیت کے ساتھ توبہ و استغفار میں لگ گئے، بستی سے ایک میدان میں نکل آئے، عورتیں بچے اور جانور سب اس میدان میں جمع کردئے گئے، ٹاٹ کے کپڑے پہن کر عجز و زاری کے ساتھ اس میدان میں توبہ کرنے اور عذاب سے پناہ مانگنے میں اس طرح مشغول ہوئے کہ پورا میدان آہ و بکا سے کونچنے لگا، اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی اور عذاب ان سے ہٹا دیا
ادھر حضرت یونس علیہ السلام بستی سے باہر اس انتظار میں تھے کہ اب اس قوم پر عذاب نازل ہوگا، ان کے توبہ استغفار کا حال ان کو معلوم نہ تھا، جب عذاب ٹل گیا تو ان کو فکر ہوئی کہ مجھےجھوٹا قرار دیا جائے گا کیونکہ میں نے اعلان کیا تھا کہ تین دن کے اندر عذاب آجائے گا، اس قوم میں قانون یہ تھا کہ جس شخص کا جھوٹ معلوم ہو اور وہ اپنے کلام پر کوئی شہادت نہیں پیش کرے تو اس کو قتل کردیا جاتا تھا، یونسؑ کو فکر ہوئی کہ مجھے جھوٹا قرار دے کر قتل کر دیا جائے گا۔
انبیاء علیہم السلام ہر گناہ و معصیت سے معصوم ہوتے ہیں مگر انسانی فطرت و طبیعت سے جدا نہیں ہوتے، اس وقت یونس علیہ السلام کو طبعی طورپر یہ ملال ہوا کہ میں نے بحکم الٰہی اعلان کیا تھا اور اب میں اعلان کی وجہ سے جھوٹا قرار دیا جاؤں گا، اپنی جگہ واپس جاؤں کس منہ سے جاؤں اور قوم کے قانون کےمطابق گردن زنی بنوں، اس رنج و غم اور پریشانی کے عالم میں اس شہر سے نکل جانے کا ارادہ کر کے چل دئے یہاں تک کہ بحرِ روم کے کنارہ پر پہنچ گئے وہاں ایک کشتی دیکھی جس میں لوگ سوار ہورہے تھے، یونس علیہ السلام کو ان لوگوں نے پہچان لیا اور بغیر کرایہ کے سوار کر لیا، کشتی روانہ ہو کر جب وسطِ دریا میں پہنچ گئی تو دفعتہ ٹھہر گئی، نہ اگے بڑھتی ہے کہ پہچھے چلتی ہے، کشتی والوں نے منادی کی کہ ہماری اس کشتی منجانت اللہ یہی شان ہے کہ جب اس میں کوئی ظالم گنہگار یا بھاگا ہوا غلام سوار ہوجاتا ہے تو یہ کشتی خود بخود رک جاتی ہے، اس آدمی کو ظاہر کردینا چاہئے تاکہ ایک آدمی کی وجہ سے سب پر مصیبت نہ آئے۔
حضرت یونس علیہ السلام بول اٹھے کہ وہ بھاگا ہوا غلام گناہگار میں ہوں، کیونکہ اپنے شہر سے غائب ہو کر کشتی میں سوار ہوا ایک طبعی خوف کی وجہ سے تھا بازنِ الٰہی یہ تھا، اس بغیر ازن کے اس طرف آنے کو حضرت یونس علیہ السلام کی پیغمبرنہ شان نے ایک گناہ قرار دیا کہ پیغمبر کی کوئی نقل و حرکت بلا اذن کے نہ ہونی چاہئے تھی اس لئے فرمایا کہ مجھے دریا میں دال دو تو تم سب اس عذاب سے بچ جاؤ گے، کشتی والے اس پر تیار نہ ہوئے بلکہ انھوں نے قرعہ اندازی کی تاکہ قرعہ میں جس کا نام نکل آنے اس کو دریا میں دالا جائے، اتفاقاََ قرعہ میں حضرت یونس علیہ السلام کا نام نکل آیا، ان لوگوں کو اس پر تعجب ہوا کہ کئی مرتبہ قرعہ اندازی کی ہر مرتبہ بحکم قضاء و قدر حضرت یونس علیہ السلام کا ہی نام آتا رہا، قرآنِ کریم میں اس قرعہ اندازی اور ان میں یونس علیہ السلام کا نام نکلنے کا ذکر موجود ہے فساھم فکان من المد حضین
یونس علیہ السلام کے ساتھ حق تعالیٰ کا یہ معاملہ ان کے مخصوص پیغمبرا نہ مقام کی وجہ سے تھا کہ اگرچہ انھوں نے اللہ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی تھی جس کو گناہ اور معصیت کہا جاتا ہے اور کسی پیغمبر سے اس کا امکان نہیں، کیونکہ وہ معصوم ہوتے ہیں لیکن پیغمبر کے مقام بلند کے مناسب نہ تھا کہ محض خوفِ طبعی سے کسی جگہ بغیر اذن خداوندی منتقل ہوجاویں، اس خلافِ شان عمل پر بطور عتاب یہ معاملہ کیا گیا۔
اس طرف قرعہ میں نام نکل کر دریا میں ڈالے جانے کا سامان ہورہا تھا دوسری طرف ایک بہت بڑی مچھلی بحکم خداوندی کشتی کے قریب منہ پھیلائے ہوئے لگی ہوئی تھی یہ یہ دریا میں آئیں تو ان کو اپنے پیٹ میں جگہ دے، جس کو حق تعالیٰ نے پہلے سے حکم دے رکھا تھا کہ یونس علیہ السلام کا جسم جو تیرے پیٹ کے اندر رکھا جائے گا یہ تیری عذا نہیں بلکہ ہم نے تیرے پیٹ کو ان کا مسکن بنایا ہے، یونس علیہ السلام دریا میں گئے تو فوراََ اس مچھلی نے منہ میں لے لیا، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ یونس علیہ السلام اس مچھلی کے پیٹ میں چالیس روز رہے یہ ان کو زمین کی تہ تک لے جاتی اور دور دراز کی مسافتوں میں پھراتی رہی ، بعض حضرات نے سات، بعض نے پانچ دن اور بعض نے ایک دن کے چند گھنٹے مچھلی کےپیٹ میں رہنے کی مدت بتلائی ہے (مظہری)
حقیقتِ حال حق تعالیٰ کو معلوم ہے، اس حالت میں حضرت یونس علیہ السلام نے یہ دعاء کی لا الہ الا انت سبحانک انی کنت منالظلمین اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرما لیا اور بالکل صحیح و سالم یونس علیہ السلام کو دریا کےکناے پرڈال دیا۔
مچھلی کے پیٹ کے گرمی سے ان کے بدن پر کوئی بال نہ رہا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کے قریب ایک کدو (لوکی) کا درخت اگادیا، جس کے پتوں کا سایہ بھی حضرت یونس علیہ السلام کے لئے ایک راحت بن گئی، اور ایک جنگلی بکری کو اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمادیا کہ وہ صبح و شام ان کےپاس آکھری ہوتی اور وہ اس کو دودھ پیلیتے تھے۔
اس طرح حضرت یونس علیہ السلام کو اس لغزش پر تنبیہ بھی ہوگئی اور بعد میں ان کی قوم کو بھی پوار حال معلوم ہوگیا۔
(معارف القرآن جلد 4 صفحہ 575، سورہ یونس: آیت 98)
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers