یہ کوئی تین سوسال پہلے کی بات ہے ۔۔یہی کراچی تھا- یہاں موکھی نے ایک شراب خانہ(Pub) کھولا، آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کراچی کی تاریخ کا پہلا میخانہ تھا، اب آپ پوچھیں گے کہ بھئی یہ موکھی کون ہے
موکھی کاک محل کی کنیز ناتہ کی حسین و جمیل بیٹی تھی، مومل جب رانو کے فراق میں جل کرراکھ ہوئی تو ناتہ قدیم کراچی کے علاقے گڈاپ میں آگئی اور یہاں شراب خانہ کھولا
ناتہ کے سات بیٹیاں پیداہوئیں ، کراچی کی سات دیہوں کا نام آج بھی ان سات لڑکیوں پر ہے ، جیسے صفورا (گلستان جوہر)، سونگل(گلشن اقبال) ،تائیسر (تیسرٹاؤن)، دوزان (نیوسبزی منڈی)وغیرہ وغیرہ
بات ہورہی ہے موکھی کے شراب خانے کی ۔۔ ایک جانب حسین وجمیل موکھی اور پھر اس کی شراب ۔۔ لوگ دوردور سے موکھی کے ہاتھوں سے شراب پینے آتے تھے
انہیں شرابیوں میں اپنے وقت کے مشہور آٹھ سورما بھی شامل تھے، سندھی میں انہیں متارے کہتے ہیں، ان متاروں نے بھی موکھی کے حسن کا شہرہ سنا تھا، موکھی کی انگوری شراب پی کر متارے تو موکھی پر فریفتہ ہی ہوگئے
اب تو متاروں کو جب موقع ملتا، موکھی کی انگوری شراب پینے آجاتے ، ایک بار وہ شراب پینے آئے تو موکھی نے دیکھا کہ مٹکے خالی ہیں، وہ پریشان ہوئی ، اسے یاد آیا کہ ایک پرانے مٹکے میں شراب موجود ہے، اس نے وہ شراب ان متاروں کو پلادی، متارے ہنسی خوشی چلے گئے
متاروں کے جانے کے بعد موکھی نے شراب کا مٹکا دیکھا تو اس کے تو ہوش کی اڑگئے، مٹکے میں سانپ کی ہڈیاں پڑی تھیں، موکھی سمجھ گئی کہ شراب زہریلی تھی، اب متارے مرجائیں گے
قصہ کچھ یوں ہوا کہ اگلی دفعہ متارے پھر آگئے، ان کو کچھ نہیں ہوا تھا، موکھی بہت حیران ہوئی، اس نے متاروں سے کہا کہ میں نے تمہیں جو شراب پلائی تھی، وہ زہریلی تھی
شہہ زوروں نے شراب چکھی تھی زہر پینا نہیں سیکھا تھا، موکھی کی بات سنتے ہی آٹھوں متارے مئے خانے میں دھڑ سے گرے اور فوراً ہی مر گئے
اسی لیے شاہ لطیف کہتے ہیں کہ وہی لوگ امر ہوتے ہیں جو زہر کو زم زم سمجھ کر پی جاتے ہیں نہ کہ وہ جو زہر کا سن کر اس کی ہیبت سے ہی مر جاتے ہیں، لطیف سائیں فرماتے ہیں
تیغ تنی ہو گردن پر اور لب پر جام پہ جام
خم کے خم خالی ہوں ہر سو، مئے نوشی ہو عام
وہ کب تشنہ کام، جو پالیں حال و مستی
برا نہ چاہا موکھی نے اور زہر کا تھا نہ اثر
بس ایک گھونٹ کی خاطر چوما، مئے خانے کا در
جاں سے گئے گزر، بول میں زہر گھلا تھا
محقق گل حسن کلمتی کے مطابق سہراب گوٹھ سے حیدرآباد جاتے ہوئے نئی سبزی منڈی سےآٹھ کلومیٹر دور جا کر موکھی کی قبر تک پہنچا جا سکتا ہے
اس قصے کی ایک عجیب بات اور بھی ہے ، میخواروں نے توکیا۔۔ آٹھ سورماؤں نے بھی شراب خانے کی مالکن موکھی کو کبھی غلط اندازنظروں سے نہیں دیکھا تھا
بتانے والے موکھی کے کردارکی بہت تعریفیں کرتے ہیں مگر میں موکھی کے کردارکے ساتھ ساتھ ان میخواروں کے کردار کابھی معترف ہوں ، جو نشے میں بہک کر بھی عورت ذات کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے تھے
آج کل تو کسی عورت کو اکیلا پاکر مردانگی نہ جاگے ۔۔ایسا کم کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے، یہ دور ترقی یافتہ اور مہذب انسانوں کا دور ہے، موکھی آج کے دور میں ہوتی تو اس کا ریپ ہوچکا ہوتا
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers