اور موسیٰ نے یوسف کی ہڈیاں ساتھ لیں کیونکہ اس نے بنی اسرائیل کو تاکیداً وقسم دے کے کہا تھا کہ خدایقینا تمہاری خبر گیری کرے گا،تم یہاں سے میری ہڈیاں ساتھ لے جائیو۔( خروج باب ۱۳ آیت ۱۹)- چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام کی وصیت کے مطابق ان کی اولاد نے ان کے جسم مبارک کو بھی حنوط(ممی) کر کے تابوت میں محفوظ کردیااور جب موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل مصر سے ہجرت کر کے چلے ہیں تو یوسف علیہ السلام کی وصیت کو پورا کرنے کے لئے ان کا تابوت بھی ساتھ لے گئے اور نبیوں کی سرزمین میں لا کر دفن کردیا۔ یہ مقام کونسا ہے؟ اس کے متعلق اہل جبرون یہ کہتے ہیں کہ وہ جبرون میں مدفون ہیں اور حرم خلیلی میں مکفیلہ کے قریب ایک محفوظ تابوت کے متعلق یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہی تابوت یوسف علیہ السلام ہے لیکن عبد الوہاب مصری اس کو وہم بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت فاضل محمد نمر حسن نابلسی اور نابلس کے سرکردہ عالم حضرت فاضل امین بک عبدالہادی نے بیان کیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی ضریح مبارک بابلس میں ہے اور یہی صحیح ہے اس لئے کہ توریت کہتی ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام ارض فرائیم میں دفن ہوئے اور نابلس ارض فرائیم ہی میں ہے اور اس کو قدیم زمانہ میں شکیم کہتے تھے۔( قصص الانبیاء ص ۱۸۷)
بہر حال ان تفصیلات سے یہ واضح ہو گیا کہ بنی اسرائیل حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی درمیانی صدیوں میں مصر میں آباد رہے۔
فرعونِ موسیٰ
گذشتہ واقعات میں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ’’ فرعون‘‘ شاہان مصر کالقب ہے کسی خاص بادشاہ کا نام نہیں ہے، تین ہزار سال قبل مسیح سے شروع ہو کر عہد سکندر تک فراعنہ کے اکتیس خاندان مصر پر حکمران رہے ہیں، سب سے آخری خاندان فارس کی شہنشاہی کا جو۳۳۲؁ قبل ازمسیح سکندر کے ہاتھوں مفتوح ہو گیا ان میں سے حضرت یوسف علیہ السلام کا فرعون ( ہیکسوس)(عمالقہ) کے خاندان سے تھا جو دراصل عرب خاندانوں ہی کی ایک شاخ تھی تو اب سوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عہد کافرعون کون ہے اور کس خاندان سے متعلق ہے؟
عام مؤرخین عرب اور مفسرین اس کو بھی’’ عمالقہ‘‘ ہی کے خاندان کافر دبتاتے ہیں اور کوئی اس کا نام ولید بن مصعب بن ریان بتاتا اور کوئی معصب بن ریان کہتا ہے اور ان میں سے ارباب تحقیق کی رائے یہ ہے کہ اس کا نام ریان یا ریان ابا تھا، ابن کثیرؒ کہتے ہیں کہ اس کی کنیت ابو مرہ تھی۔
یہ سب اقوال قدیم مؤرخین کی تحقیقی روایات پر مبنی تھے مگر اب جدید مصری اثری تحقیقات اور حجری کتبات کے پیش نظر اس سلسلہ میں دوسری رائے سامنے آئی وہ یہ کہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کا فرعون رعمیس ثانی کا بیٹا منفتاح ہے جس کادور حکومت ۱۲۹۲ق م سے شروع ہو کر۱۳۲۵ق م پر ختم ہوتا ہے۔
اس تحقیقی روایت کے متعلق احمد یوسف احمد آفندی نے ایک مستقل مضمون لکھا ہے یہ مصری دارالآثار کے مصور ہیں اور اثری وحجری تحقیق کے بہت بڑے عالم ہیں ان کے اس مضمون کا خلاصہ نجارنے قصص الانبیاء میں نقل کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے:
’’یہ بات پایۂ تحقیق کو پہنچ چکی ہے کہ یوسف علیہ السلام جب مصر میں داخل ہوئے ہیں تو یہ فراعنہ کے سولہویں خاندان کا زمانہ تھا اور اس فرعون کا نام’’ ابابی الاول‘‘ تھا میں نے اس کی شہادت اس حجری کتبہ سے حاصل کی جو عزیز مصر’’ فوقی فارع‘‘(فوطیفار) کے مقبرہ میں پایا گیااور سترہویں خاندان کے بعض آثار سے یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ اس خاندان سے قبل مگر قریب ہی زمانہ میں مصر میں ہولناک قحط پڑچکا تھا، لہٰذا ان تعینات کے بعد آسانی سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا داخلۂ مصر’’ ابابی الاول‘‘ کے زمانے میں تقریباً ۱۶۰۰؁ق م ہوا ہے اور حضرت یوسف علیہ السلام کا عزیز مصر کے یہاں رہنا اور پھرقید خانہ کی زندگی بسر کرنا ان دونوں کی مدت کا اندازہ کر کے کہا جا سکتا ہے کہ بنی اسرائیل حضرت یوسف علیہ السلام سے تقریباً ستائیس سال بعد مصر میں اس شان سے داخل ہوئے جس کا ذکر قرآن حکیم اور تورات میں کیا گیا۔ ہم اگرچہ فراعنہ ٔ مصرکی حکومت اور شاہی خاندانوں کے متعلق اچھی طرح آگاہی پاچکے ہیں اور مصری آثار نے اس میں ہم کو کافی مدد دی ہے مگر ابھی تک ان اثریات میں وہ تفصیلی تصریحات دستیاب نہیں ہوئیں جو فرعون اور بنی اسرائیل کی عداوت، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت اور غرق فرعون و نجات بنی اسرائیل سے متعلق ہیں۔ تورات میں مذکور ہے کہ جس فرعون نے بنی اسرائیل کے ساتھ عداوت کا معاملہ کیا اور ان کو سخت مصائب میں مبتلا رکھا۔ اس نے بنی اسرائیل سے دو شہروں ( رعمسیس اورفیثوم) کی تعمیر کی خدمت بھی لی اور ان کو مزدور بنایا، تو اثری حضریات ( پرانے آثار کی کھدائی) میں ان دوشہروں کا پتہ تو لگ چکا ہے۔ ایک کے کتبہ سے معلوم ہوا ہے کہ اس کا نام ’’بر۔ توم‘‘یا’’ فیثوم‘‘ ہے، اس کا ترجمہ ہے ’’خدائے توم کا گھر‘‘ اور دوسرے کا نام ’’ بررعمسیس‘‘ ہے جس کا ترجمہ’’قصرر عمسیس‘‘ ہوتا ہے۔
اور شرقی جانب میں جو مقام اب’’ تل مسخوطہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہیں ’’فیثوم‘‘ کی آبادی تھی اور جس جگہ اب ’’ قنیتر‘‘ یاقدم مصری زبان کے اعتبار سے’’ خت نفر‘‘ واقع ہے اس مقام پر ’’رعمسیس‘‘ آباد تھا۔ اس کو’’رعمسیس ثانی‘‘ نے اس لئے آباد کیا تھا کہ یہ مصر کی بحری جانب کے سینٹر میں بہترین قلعہ کا کام دے اور فیثوم کی آبادی کا بھی یہی مقصد تھا۔ اس شہر کی چہار دیواری کے جو کھنڈر معلوم ہوئے ہیں وہ بلاشبہ اس کی شہادت دیتے ہیں کہ یہ دونوں شہرمصر کے بہترین حفاظتی قلعے تھے نہ کہ تورات کے بیان کے مطابق غلوں کے گودام۔
اس تمام قیل وقال کا مطلب یہ ہے کہ جس فرعون نے بنی اسرائیل کو مصائب میں مبتلا کیا وہ یہی ’’رعمسیس دوم‘‘ ہو سکتا ہے۔ یہ مصر کے حکمرانوں کاانیسواں خاندان تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے زمانہ میں پیدا ہوئے اور اسی کی آغوش میں پرورش پائی، تاریخ اثریات سے پتہ چلتا ہے کہ ’’ اسیویہ‘‘ قبائل جو مصر کے قریب آباد تھے ان کے اور فراعنہ کے اس خاندان کے درمیان پیہم نو سال تک سخت جنگ و پیکاررہی،بدیں وجہ یہ قرین قیاس ہے کہ رعمسیس دوم نے اس خوف سے کہ کہیں بنی اسرائیل کا یہ عظیم الشان قبیلہ جو لاکھوں نفوس پر مشتمل تھا، اندرونی بغاوت پر آمادہ نہ ہو جائے بنی اسرائیل کوان مصائب میں مبتلا کرنا ضروری سمجھا جن کا ذکر توراۃ اور قرآن حکیم میں کیا گیا ہے۔
رعمسیس دوم اس زمانہ میں بہت مسن اور معمر ہوچکا تھا، اس لئے اس نے اپنی زندگی ہی میں اپنے بڑے بیٹے ’’منفتاح‘‘ کو شریک حکومت کر لیا تھا۔ رعمسیس کی ڈیڑھ سو ادلاد میں سے یہ تیرہواں لڑکا تھا لہٰذا منفتاح ہی وہ ’’فرعون ‘‘ ہے جس کو حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام نے اسلام کی دعوت دی اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ کیا اور اسی کے زمانے میں بنی اسرائیل مصر سے نکلے اور وہ غرق دریا ہوا۔
ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 450)
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers