جنگلی کبوتر نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آواز نکالی۔ آپ نے حاضرین سے پوچھا: " کیا تمھیں معلوم ہےکہ یہ کیا کہہ رہاہے؟"
حاضرین نے کہا: " نہیںَ"
حضرت سلیمان علیہ اسلام نے فرمایا: " یہ کہہ رہا ہے ، مرنے کے لیے جنم دو اور ویران ہونے کے لیے عمارتیں بناؤ۔"
فاختہ چیخی۔ پھر پہلے کی طرح سوال جواب ہوا، آپ علیہ السلام نے فرمایا: " یہ کہہ رہی ہے ، کاش یہ مخلوق پیدا ہی نہ کی جاتی۔"
مور چیخا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:
" یہ کہہ رہا ہے، جیسا دوسروں کے ساتھ معاملہ کروگے ویسا ہی تم سے کیا جائے گا۔"
ہُد ہُد بولا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: " یہ کہہ رہا ہے ، جو رحم نہیں کرے گا، اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔"
ترمتی( باز اور شکرہ کی طرح شکاری پرندہ) نے آواز دی۔ فرمایا: " یہ کہہ رہی ہے، گناہ گارو! اللہ سے معافی کی درخواست کرو۔"
تیہو ( ایک قسم کا مرغ) چیخا، فرمایا: " یہ کہہ رہا ہے، زندہ مرے گا اور ہر نیا پرانا فرسودہ ہوگا۔"
خطَّاف( ابابیل کی قسم کا پرندہ جس کے بازو بہت لمبے ہوتے ہیں اور بہت تیز اڑتا ہے) چیخا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: " یہ کہہ رہا ہے، پہلے سے نیکی بھیجو( وہاں) تمھیں مل جائے گی۔"
کبوتری نے آواز دی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: " یہ کہہ رہی ہے، پاکی بیان کرو میرے ربّ برترکی ، اتنی کہ جو آسمانوں اور زمین کو بھر دے۔"
قمری چیخی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ کہہ رہی ہے، میرے ربِّ اعلٰی کی پاکی بیان کرو۔"
آپ علیہ السلام نے فرمایا: " کوا کلِ مال کا دسواں حصہ بطور ٹیکس وصول کرنے والوں کے لیے بددعا کرتا ہے ،
چیل کہتی ہے، سوا اللہ کے ہر چیز کو فنا ہے۔
قسطاۃ کہتی ہے، جو خاموش رہا محفوظ رہا۔
طوطا کہتا ہے ، تباہی ہے اس کے لیے جس کا مقصد دنیا ہی ہے۔ مینڈک کہتا ہے میرے ربّ قدوس کی پاکی بیان کرو۔
باز کہتا ہے ، میرے ربّ کی پاکی بیان کرو اور ثنا کرو۔
مینڈکی کہتی ہے پاکی بیان کر اس کی کہ جس کا ذکر ہر زبان پر ہے۔ تیتر کہتا ہے، الرحمٰن علی العرش استویٰ( رحمٰن عرش پر متمکن ہے۔"
( تفسیر مظہری)

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers