ٹھیک اسی وقت اتفاق سے جعفر سود خور کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس کی تھیلی سونے چاندی کے زیورات سے بھری ہوئی تھی جو اس نے جوہریوں کے بازار سے گل جان کے لئے خریدا تھا۔
حالانکہ ایک گھنٹے کی مدت ختم ہو چکی تھی اور سود خور اپنی عیاشانہ خواہشات سے چور جلدی جلدی جا رہا تھا لیکن جب اس نے خواجہ نصر الدین کو سستا مال بیچتے سنا تو لالچ غالب آیا۔
سود خور کو دیکھتے ہی سارا مجمع کھسک گیا کیونکہ ہر تیسرا آدمی اس کا ضرور قرضدار تھا۔
جعفر نے خواجہ نصر الدین کو پہچان لیا۔   تفصیل سے پڑھئے
"اچھا تو یہ تم ہو، جس نے مجھ کو کل پانی سے نکالا تھا؟ تم یہاں کاروبار کرتے ہو؟ اتنا سامان تم کو بیچنے کے لئے کہاں سے مل گیا؟"
"عزت مآب جعفر! آپ کو یاد نہیں ہے کہ کل آپ نے مجھے آدھا تانگہ دیا تھا؟" خواجہ نصر الدین نے جواب دیا " اور میں نے اس سے پیسہ بنایا۔ کام اور قسمت نے میرے کاروبار کا ساتھ دیا۔"
"اور تم نے ایک ہی دن میں یہ سارا سامان جمع کر لیا؟" سود خور نے حیرت سے کہا "واقعی میرے پیسے نے تمھیں بڑی برکت دی!اچھا تو سب سامان کے لئے تم کیا مانگتے ہو؟"
"چھ سو تانگے۔"
"پاگل ہو گئے ہو؟ تمھیں اپنے محسن سے اتنی بڑی رقم مانگتے شرم آنی چاہئے! میری بدولت ہی یہ خوش حالی آئی ہے؟ دو سو تانگے۔ یہ ہیں میرے دام۔"
"پانچ سو" خواجہ نصر الدین نے کہا "آپ کا لحاظ کر کے، معزز جعفر، پانچ سو تانگے!"
"ارے ناشکرے! ایک بار پھر یاد دلاتا ہوں۔ کیا یہ خوشحالی میری بدولت نہیں ہے؟"
"اور مہاجن، کیا تمھاری زندگی میری وجہ سے نہیں بچی؟" خواجہ نصر الدین نے جواب دیا۔ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا "یہ سچ ہے کہ تم نے مجھ کو آدھا تانگہ اپنی جان بچانے کے لئے دیا تھا لیکن تمھاری زندگی اس سے زیادہ قیمت نہیں رکھتی اس لئے مجھے برا نہیں لگا۔ اگر تمھیں خریدنا ہے تو ٹھیک دام لگاؤ۔"
"تین سو"!
خواجہ نصر الدین کچھ نہیں بولے۔
سود خور رکا۔ اس نے تجربے کار نگاہ سے سامان کو آنکا اور یہ اطمینان کر کے کہ یہ سب قبائیں، جوتے اور ٹوپیاں کم از کم سات سو تانگے کی ہونگی بولی بڑھانے کا فیصلہ کیا
"ساڑہے تین سو۔"
"چار سو۔"
"پونے چار سو۔"
"چار سو۔"
خواجہ نصر الدین اپنی ضد پر اڑ گئے۔ کئی مرتبہ سود خور نے یہ بناوٹ کی کہ وہ جا رہا ہے لیکن پھر لوٹ آیا اور ایک ایک تانگہ بڑھاتا رہا یہاں تک کہ آخر وہ راضی ہو گیا۔ سودا ہو گیا۔ طوعاً و کرہا سود خور نے رقم گنی۔
"خدا کی قسم، میں مال سے دگنی رقم دے رہا ہوں۔ لیکن میری فطرت ہی یہی ہے کہ مہربانی کر کے نقصان اٹھاؤں۔"
"یہ سکہ جعلی ہے" خواجہ نصر الدین نے بیچ میں لقمہ دیا "اور چار سو تانگے بھی نہیں ہیں۔ صرف تین سو اسی تانگے ہیں۔ نگاہ کمزور ہو گئی ہے، معزز جعفر۔"
سود خور کو مجبوراً بیس تانگے اور دینے پڑے اور جعلی سکہ بھی بدلنا پڑا۔ سودا ہونے کے بعد اس نے ایک قلی چوتھائی تانگے پر لیا، اس پر سارا سامان لادا اور اپنے پیچھے پیچھے آنے کا حکم دیا۔ بیچارہ قلی تو سامان کے بوجھ سے گرا جا رہا تھا۔
"ہم ایک ہی طرف جا رہے ہیں" خواجہ نصر الدین نے کہا۔
خواجہ گل جان کو دیکھنے کے لئے بے تاب تھے اور تیزی سے آگے چل رہے تھے۔ سود خور اپنی لنگڑے پن کی وجہ سے پیچھے رہ گیا۔
"تم کہاں جلدی جلدی جا رہے ہو؟" سود خور نے آستین سے پسینہ پونچھتے ہوئے پوچھا۔
"جہاں تم جا رہے ہو" خواجہ نصر الدین نے جواب دیا، ان کی سیاہ آنکھوں میں شرارت کی جھلک تھی "معزز جعفر، تم اور میں یاک ہی جگہ اور ایک ہی کام سے جا رہے ہیں۔"
"لیکن تم میرے کام کے بارے میں نہیں جانتے ہو" سود خور نے کہا "اگر تم جانتے ہوتے تو مجھ پر رشک کرتے۔"
اس بات کے اندر جو مطلب پنہاں تھا اس کو خواجہ نصر الدین سمجھ گئے اور انہوں نے زندہ دلی سے ہنس کر جواب دیا:
"لیکن مہاجن، اگر تمھیں میرے کام کا پتہ ہوتا تو تم مجھ پر دس گنا رشک کرتے۔"
جعفر نے گستاخانہ جواب کو محسوس کر کے گھورا اور کہا "تمھاری زبان بہت تیز ہے۔ تمھارے ایسے آدمیوں کو مجھ سے بات کرتے ڈرنا چاہئے۔ بخارا میں چند ہی ایسے لوگ ہیں جن پر میں رشک کر سکتا ہوں۔۔ میں دولت مند ہوں اور میری مرضی کسی طرح سے پابند نہیں ہے۔ میں نے بخارا کی حسین ترین دوشیزہ کی خواہش کی اور آج وہ میری ہو گی۔"
اسی وقت ایک آدمی ٹوکری میں بیریاں بیچتے ہوئے ادھر سے گزرا۔ خواجہ نصر الدین نے ایک لمبے ڈنٹھل کی بیری ٹوکری سے چن کر سود خور کو دکھائی اور بولے :
"معزز جعفر، میری بات سنو، کہتے ہیں کہ ایک دن ایک گیدڑ نے درخت میں اونچے پر ایک بیری دیکھی اور اس نے اپنے آپ سے کہا کہا"میں تو اس کو کھائے بغیر چین نہیں ہوں گا۔" تو اس نے درخت پر چڑھنا شروع کیا اور دو گھنٹے تک چڑھتا رہا اور اس کے شاخوں سے بہت سے کھرونچے بھی آ گئے۔ اور ٹھیک اسی وقت جب وہ بیری کھانے جا رہا تھا اور منہ بھاڑ سا کھول چکا تھا اچانک ایک باز جھپٹا اور بیری لیکر اڑ گیا۔ اس کے بعد گیدڑ کو اترنے میں دو گھنٹے اور لگے اور اس کے بدن پر اور زیادہ خراشیں آ گئیں۔ وہ رو رہا تھا اور کہہ رہا تھا: "ہائے میں بیری کے لئے کیوں درخت پر چڑھا کیونکہ یہ سبھی جانتے ہیں کہ بیریاں درختوں پر گیدڑوں کے لئے نہیں لگتی ہیں!"
"تم احمق ہو" سود خور نے حقارت سے کہا "تمھارے قصے کا کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آتا۔"
"گہرے معنی فوراً سمجھ میں نہیں آتے" خواجہ نصر الدین جھٹ سے بولے۔
بیری ان کے کان کے پیچھے لٹک رہی تھی اور ڈنٹھل ٹوپی میں دبا ہوا تھا۔
سڑک کی موڑ آئی۔ موڑ کے دوسری طرف کمہار اور اس کی بیٹی پتھروں پر بیٹھے تھے۔
کمہار کھڑا ہو گیا۔ اس کی آنکھیں جن میں امید کی روشنی جھلکی تھی دھملی پڑ گئیں کیونکہ اس نے سوچا کہ اجنبی رقم نہیں حاصل کر سکا۔ گل جان نے ہلکی آہ کے ساتھ پیٹھ موڑ لی۔
"ابا، ہم تباہ ہو گئے!" اس نے ایسی درد بھری آواز میں کہا کہ پتھر بھی اس کو سن کر پگھل جاتا۔ لیکن سود خور کا دل تو پتھر سے بھی سخت تھا۔ صرف ظالمانہ فتح اور عیاشی کا اظہار اس کے چہرے سے ہو رہا تھا۔ وہ بولا:
"کمہار، مدت ختم ہو گئی۔ اب سے تو میرا غلام ہے اور تیری بیٹی بھی میری کنیز اور داشتہ۔"
خواجہ نصر الدین کو چرکا لگانے اور ذلیل کرنے کے لئے اس نے مالکانہ غرور کے ساتھ لڑکی کے چہرے سے نقاب ہٹا دی۔
"دیکھو، کیا یہ حسین نہیں ہے؟ آج میں اس کے ساتھ ہم بستر ہوں گا۔ اب بتاؤ کون کس پر رشک کرے گا؟"
"واقعی حسین ہے" خواجہ نصر الدین نے کہا "لیکن کیا تمھارے پاس کمہار کا پرونوٹ ہے؟"
"ضرور ہے، پرونوٹ کے بغیر کاروبار کیسے ممکن ہے؟ سب آدمی دھوکے باز اور چور ہوتے ہیں۔ یہ رہا پرونوٹ، اس میں قرض کی رقم اور ادائیگی کی تاریخ حاضر ہے۔ نیچے کمہار کا انگوٹھا نشانی ہے۔"
اس نے پرونوٹ خواجہ نصر الدین کو دکھایا
"پرونوٹ تو ٹھیک ہے" خواجہ نصر الدین نے تصدیق کی "اچھا، اب اس پرونوٹ کے مطابق اپنی رقم لو۔ آپ حضرات ذرا ٹھہر جائیے اور گواہ بن جائیے" انہوں نے کچھ راہگیروں کی طرف مڑتے ہوئے اضافہ کیا۔
انہوں نے رسید کے دو ٹکڑے کر دئے، پھر چار اور پھر اس کے پرزے پرزے چاک کر کے ہوا میں بکھیر دئے۔ اب انہوں نے پٹکہ کھولا اور سود خور کو وہ سب رقم واپس لوٹا دی جو ذرا دیر پہلے اس سے لی تھی۔
ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کمہار اور اس کی بیٹی حیرت اور خوشی سے جم کر پتھر ہو گئے ہیں اور سود خور کا بھی غصے سے یہی حال تھا۔ گواہ ایک دوسرے کو آنکھ مار رہے تھے۔ وہ نفرت انگیز سود خور کی پریشانی پر ہنس رہے تھے اور اس سے لطف اٹھا رہے تھے۔
خواجہ نصر الدین نے کان کے پیچھے سے بیری نکالی اور اپنے منہ میں رکھ لی۔ پھر سود خور کی طرف آنکھ مار کر اپنے ہونٹ چاٹے۔
سود خور کے بھدے جسم میں ہلکی سی کپکپا ہٹ کی لہر دوڑ گئی، اس کے ہاتھ چُنگلوں کی طرح بھیچ گئے، اس کی کانی آنکھ غصے سے ابل پڑی اور اس کے کوبڑ میں لرزش ہوئی۔
کمہار اور گل جان نے التجا کی:
"اجنبی، ہمیں اپن انام تو بتا دو تاکہ ہم تمھارے لئے دعا کر سکیں۔"
"ہاں!" سود خور نے جسکا منہ کف سے بھرا تھا اس بات پر صاد کیا۔ "اپنا نام بتا دو تاکہ میں اس پر لعنت بھیج سکوں!"
خواجہ نصر الدین کا چہرہ چمک اٹھا۔ انہوں نے صاف اور زور کی آواز میں جواب دیا:
"بغداد میں اور طہران میں، استنبول اور بخارا میں۔ ہر جگہ مجھ کو لوگ ایک ہی نام سے جانتے ہیں۔ خواجہ نصر الدین!"
سود خور پیچھے ہٹ گیا۔ وہ زرد پڑ گیا تھا:
"خواجہ نصر الدین!" کے نعروں نے ان کا استقبال کیا۔ گل جان کی آنکھیں نقاب کے اندر چمک رہی تھیں۔ کمہار کے حواس ابھی تک درست نہیں ہوئے تھے اور وہ کچھ بڑبڑا رہا تھا اور ہاتھ ہلا رہا تھا۔

(۱۵)
امیر کی عدالت ابھی جاری تھی۔ جلاد کئی بار بدلے جا چکے تھے۔ جسمانی سزا پانے والے بدقسمت لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔ دو مصیبت زدہ ستونوں پر چیخ رہے تھے، تیسرے کا خون آلود سر زمین پر پڑا تھا۔ لیکن لوگوں کی چیخ و پکار اور آہیں اونگھتے ہوئے امیر کے کانوں تک نہیں پہنچ پاتی تھیں ۔ وہ درباری خوشامدیوں کے کورس میں ڈوب جاتی تھیں ، تعریف کرتے کرتے جن کے گلے بیٹھ گئے تھے۔ اپنی تعریفوں میں وہ اس بات کا لحاظ رکھتے تھے کہ وزیر اعظم ، دوسرے وزراء اور ارسلان بیک کو بھی شامل کر لیں۔ حتیٰ کہ وہ مور چھل بردار اور حقہ بردار کو بھی نہیں بھولتے تھے کیونکہ وہ بجا طور پر یہ سمجھتے تھے کہ ہر شخص کو خوش رکھنا ہی سلامتی کی ضمانت ہے ، کچھ کو اس لئے کہ وہ کار آمد ثابت ہو سکتے ہیں اور دوسروں کو اس لئے کہ وہ خطرناک نہ بن سکیں۔
کچھ دیر سے ارسلان بیک ایسی آوازوں کی عجیب بھن بہنا ہٹ بے چینی سے سن رہا تھا جو دور سے آ رہی تھیں۔ اس نے اپنے دو بہت لائق اور تجربے کار جاسوسوں کو بلایا اور کہا ’’جا کر معلوم کرو کہ لوگوں میں اتنا جوش و خروش کیوں ہے۔ جاؤ اور فوراً مجھے خبر دو۔‘‘
جاسوس روانہ ہو گئے۔ ایک فقیر کے بھیس میں تھا اور دوسرا درویش بن گیا۔ لیکن قبل اس کے کہ وہ لوٹیں سود خور بھاگتا ہوا آیا۔ وہ زرد تھا اور اس کے پیر لڑکھڑا رہے تھے ۔ وہ خود اپنی قبا کے دامنوں میں پھنس رہا تھا۔
’’کیا ہوا ، معزز جعفر؟‘‘ ارسلان بیک نے گھبرا کر پوچھا۔
’’مصیبت آ گئی!‘‘ سود خور نے آہ بھرتے ہوئے کہا۔ اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے ’’ معزز ارسلان بیک، ہمارے اوپر بڑی بلا نازل ہو گئی ہے۔ خواجہ نصر الدین ہمارے شہر میں ہے ۔ میں نے ابھی ابھی اس کو دیکھا ہے اور اس سے باتیں کی ہیں۔‘‘
ارسلان بیک کی آنکھیں نکل پڑیں۔ چبوترے کے زینے اس کے قدموں تلے چرچرا رہے تھے ۔ وہ دوڑ کر گیا اور اپنے نیند میں ماتے آقا کے کان میں کچھ کہا۔
امیر اس طرح چونک کر سیدھا ہوا جیسے اس کے کسی نے سوئی کچو دی ہو۔
’’جھوٹ کہتے ہو!‘‘ وہ چیخا۔ اس کا چہرہ خوف اور غصے سے بگڑ گیا ’’ یہ جھوٹ ہے ۔ خلیفہ بغداد نے مجھے چند ہی دن ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے اس کا سر قلم کروا دیا ! ترکی کے سلطان نے لکھا ہے کہ انہوں نے اسے ستون پر چڑھوا کر مار دیا! شاہِ ایران نے خود اپنے قلم سے لکھا کہ انہوں نے اس کو پھانسی دلوا دی! خان خیوا نے عام اعلان کیا ہے کہ انہوں نے زندہ اس کی کھال کھنچوا لی! یہ ملعون خواجہ نصر الدین کیسے چار بادشاہوں کے ہاتھ سے بچ کر نکل سکتا ہے؟‘‘
خواجہ نصر الدین کا نام سنتے ہی وزراء اور عمائدین کے چہرے فق ہو گئے ۔ مور چھل بردار اچھل پڑا اور اس کے ہاتھ سے مور چھل گر گئی ۔ حقے بردار کا گلا دھوئیں سے گھٹ گیا اور وہ کھانسنے لگا اور خوشامدیوں کی زبانیں مارے خوف کے تالو سے چپک گئیں۔
’’وہ یہاں ہے‘‘ ارسلان بیک نے دھرایا۔
’’ تم جھوٹے ہو!‘‘ امیر نے چلا کر شاہی ہاتھ سے اس کے ایک زوردار چانٹا جڑ دیا ’’تم جھوٹ کہتے ہو۔ لیکن اگر وہ واقعی یہاں ہے تو وہ بخارا میں کیسے داخل ہوا اور تمھارے پہرے داروں اور تم سے کیا فائدہ ہے ؟ تو پھر وہی ہے جس نے رات کو بازار میں سارا ہنگامہ برپا کیا! وہ لوگوں کو میرے خلاف اکسانا چاہتا تھا جبکہ تم سو رہے تھے اور کچھ نہیں سن رہے تھے!‘‘
امیر نے ارسلان بیک کے پھر چانٹا مارا۔ ارسلان بیک نے کافی جھک کر امیر کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور کہا:
’’میرے آقا ، وہ یہاں ہے۔ آپ سن نہیں رہے ہیں؟‘‘
سور کی گھڑگھڑاہٹ رفتہ رفتہ بڑھ اور پھیل رہی تھی جیسے کوئی زلزلہ آ رہا ہو۔ اور پھر عدالت کے چاروں طرف مجمع نے بھی عام ہیجان میں مبتلا ہو کر ہنگامہ شروع کر دیا۔ پہلے تو آہستہ اور مدھم آواز میں ، پھر زور سے یہاں تک کہ امیر کو محسوس ہونے لگا جیسے سارا چبوترہ اور اس کا مرصع تخت ہل رہا ہے۔ اچانک آوازوں کی بھن بھناہٹ اور گھن گرج سے ایک نام اُبھرا ، جو ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہر شخص کی زبان پر تھا:
’’خواجہ نصر الدین !‘‘
’’خواجہ نصر الدین !‘‘
پہرے دار دھواں دھار مشعلیں لئے ہوئے توپوں کی طرف دوڑے۔ امیر کا چہرہ جذبات سے بپھرا ہوا تھا۔
’’برخاست کرو!‘‘ وہ چیخا ’’محل واپس چلو!‘‘
اپنے مرصع لباس کے دامن سمیٹتے ہوئے وہ عجلت کے ساتھ محل واپس چلا گیا۔ اس کے پیچھے خالی پالکی لئے ہوئے لڑکھڑاتے اور بھاگتے ہوئے ملازمین تھے۔ آگے نکل جانے کی کوشش میں ایک دوسرے کو ڈھکیلتے ہوئے خوف زدہ وزیر ، جلاد ، طائفے، پہرے دار ، مور چھل اور حقہ بردار سبھی اپنی جان بچانے کے لئے بھاگ رہے تھے ۔ جن کے جوتے اتر گئے تھے وہ انھیں اٹھانے کے لئے بھی نہیں رک رہے تھے۔
صرف ہاتھی ہی اپنے روایتی وقار کے ساتھ سست رفتاری سے چل رہے تھے کیونکہ امیر کے عملے میں ہونے کے باوجود ان کو آدمیوں سے ڈر نہیں لگتا تھا۔
پیتل سے منڈھے ہوئے محل کے بھاری پھاٹک امیر اور اس کے درباریوں کے داخلے کے بعد جھنکار کے ساتھ بند ہو گئے۔
اس دوران میں سارے بازار میں جو کھچا کھچ بھرا ہوا تھا خواجہ نصر الدین کے نام کی گونج گرج سنائی دے رہی تھی۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers