تقدس مآب امیر بہر حال ایسا کچھ صورت دار نہیں تھا۔ اس کا چہرہ جس کی تشبیہ اکثر درباری شعراء تابدار ماہِ کامل سے دیتے تھے پلپلے خربوزے سے زیادہ مشابہ تھا۔ وہ اپنے وزیروں کے سہارے سنہرے تخت پر جلوہ فرمانے کے لئے پالکی سے اُترا۔ خواجہ نصر الدین نے دیکھا کہ درباری شعراء کے دعووں کے برعکس وہ بالکل سرو سہی قد نہ تھا۔ اس کا جسم موٹا اور بھاری تھا ، اس کے ہاتھ چھوٹے اور پیر اتنے ٹیڑھے تھے کہ اس کی قبا سے بھی یہ عیب نہیں چھپ رہا تھا۔
وزراء اس کے دائیں طرف کھڑے ہو گئے ۔ ملاؤں اور عمائدین کو بائیں طرف جگہ ملی ، نیچے احکام نویس اپنے رجسٹر اور دواتیں لئے جمے تھے اور درباری شعراء نے تخت کے پیچھے اس طرح نیم حلقہ بنا لیا تھا کہ ان کی نظر اپنے آقا کی گدی پر رہے۔ شاہی مورچھل بردار مورچھل جھلنے لگا۔ حقے بردار نے سنہری نال اپنے مالک کے ہونٹوں سے لگا دی۔ چبوترے کو گھیرے ہوئے زبردست مجمع دم بخود کھڑا تھا۔ خواجہ نصر الدین رکابوں کے اُوپر ھےامیر نے اُونگھتے ہوئے سر ہلایا۔ پہرے داروں نے دو حصوں میں تقسیم ہو کر گنجے اور داڑھی والے دونوں بھائیوں کو راستہ دیا جن کی باری تھی۔ وہ گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے چبوترے تک گئے اور زمین تک لٹکتے ہوئے قالین کو بوسہ دیا۔ تفصیل سے پڑھئے

’’اٹھو !‘‘ وزیر اعظم بختیار نے کہا۔
دونوں بھائی اٹھے لیکن ان کی یہ جرات نہ ہوئی کہ وہ اپنی قباؤں کی دھُول جھاڑ دیں۔ خوف نے ان کی زبان اس طرح پکڑ لی تھی کہ وہ ہکلا رہے تھے اور ان کی بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی ۔ لیکن بختیار آخر بہت تجربے کار وزیر تھا۔ وہ ایک نظر میں ساری صورت حال بھانپ گیا۔
’’ تمھاری بکری ہے کہاں؟‘‘ اس نے بے چین ہو کر بیچ میں لقمہ دیا۔
گنجے بھائی نے جواب دیا ’’ وزیر اعلی نسب، وہ تو مر چکی، اللہ نے اس کو اپنے پاس بلا لیا ۔ لیکن کھال کا مالک کون ہے؟ ‘‘
بختیار امیر کی طرف مڑا۔
’’ کیا حکم ہے اے شاہِ دانش وراں؟‘‘
امیر نے بالکل بے تعلقی سے جمائی لیکر آنکھیں بند کر لیں ۔ بختیار بڑے ادب سے بھاری سفید دستار والا سر جھکایا
’’مالک، میں نے فیصلہ آپ کے چہرے سے معلوم کر لیا ! سنو‘‘ وزیر نے بھائیوں کی طرف مڑ کر کہا ۔ وہ گھٹنوں کے بل جھک گئے اور امیر کی عقل، انصاف اور مہربانی کا شکریہ ادا کرنے کے لئے کمر بستہ ہو گئے ۔ بختیار نے فیصلے کا اعلان کرنا شروع کیا اور احکام نویس اپنے اپنے بڑے رجسٹروں میں اس کے الفاظ لکھنے کے لئے اپنے قلم دوڑانے لگے۔
’’ امیر المومنین، آفتاب جہاں، با عظمت امیر، خدا ان پر رحمتیں نازل کرتا رہے ان کا یہ فیصلہ ہے کہ اگر بکری کو اللہ نے لے لیا ہے تو کھال انصاف کے مطابق زمین پر اللہ کے نائب یعنی خود عظیم ایر ی ملکیت ہونی چاہئے۔ اس لئے بکری کی کھال نکال کر اس کو کھانا اور پکانا چاہئے اور محل میں لا کر شاہی خزانے کے حوالے کرنا چاہئے۔‘‘
بھائیوں نے بدحواس و کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا، مجمع میں چُپکے چُپکے کھُسر پھُسر ہونے لگی۔ بختیار نے اپنا حکم زوردار اور صاف آواز میں جاری رکھا :
’’ اس کے علاوہ مدعیان دو سو تانگے مقدمے کے اخراجات ، ڈیڑھ سو تانگے محل کا ٹیکس ، پچاس تانگے احکام نویسوں کا خرچ ادا کریں اور مسجدوں کی آراستگی کے لئے بھی چندہ دیں۔ یہ تمام رقم نقدی یا لپڑوں یا کسی اور قسم کی جائداد کی صورت میں فوراً وصول کی جائے۔ ‘‘
ابھی بختیار نے اپنی بات ختم بھی نہیں کی تھی کہ ارسلان بیک کے اشارے پر پہرے دار دونوں بھائیوں پر ٹوٹ پڑے ، ان کے پٹکے کھول دئے ، جیبیں باہر نکال کر جھاڑ لیں ، قبائیں تار تار کر دیں اور جوتے اتار کر ان کو ننگے پیر اور نیم عریاں کر کے گردن پکڑ کر ڈھکیل دیا۔
یہ سارا قصہ چُٹکی بجاتے ہو گیا ۔ فیصلہ کا اعلان ہوتے ہی درباری شاعروں نے تحسین و مرحبا کے نعرے لگائے
’’ دانا امیر، داناؤں کے دانا ! دانائے روزگار!‘‘
تخت کی طرف اپنی گردنیں بڑھا بڑھا کر وہ اس طرح کی تعریفیں دیر تک کرتے رہے۔ ان میں سے ہر ایک چاہتا تھا کہ اس کی آواز سب سے بلند ہو کر امیر کے گوش گزار ہو سکے۔ اس دوران میں چبوترے کے چاروں طرف مجمع خاموش کھڑا ہمدردی اور افسوس کے ساتھ دونوں بھائیوں کو دیکھ رہا تھا۔
’’پرواہ مت کرو! ‘‘ خواجہ نصر الدین نے بڑے سنجیدہ لہجے میں دونوں بھائیوں سے کہا جو ایک دوسرے سے چمٹے دھاڑیں مار کر رو رہے تھے ۔ ’’ بہر حال چوک پر چھ ہفتے انتظار کا وقت ضائع نہیں گیا۔ تمھارا فیصلہ منصفانہ اور رحیمانہ ہے کیونکہ کیونکہ ہر ایک جانتا ہے کہ دنیا بھر میں ہمارے امیر سے زیادہ دانشمند ، زیادہ رحیم اور کوئی نہیں ہے، اور اگر کسی کو اس میں شک ہو ۔۔۔‘‘ یہاں انہوں نے چاروں طرف اپنے آس پاس کے لوگوں کو دیکھا اور کہا ’’ تو پہرے داروں کو بلانے میں دیر نہ لگے گی۔ اور وہ؟ ہاں ، وہ شبہ کرنے والے مردود کو جلادوں کے حوالے کر دیں گے جو آسانی سے اسے بتا دیں گے کہ وہ کس طرح غلط راستے پر چل رہا ہے۔ ارے بھائیو! اطمینان سے گھر جاؤ۔ اب کبھی اگر تمھاری لڑائی کسی مرغی کے بارے میں ہو تو پھر امیر کی عدالت میں آنا ۔ لیکن ذرا پہلے اپنے مکانات، انگور کے چمن اور کھیت بیچ لینا ، نہیں تو ٹیکس نہیں ادا کر سکو گے اور اس سے امیر کے خزانے کو نقصان ہو گا جس کا خیال ہی ہر وفادار رعایا کے لئے ناقابلِ برداشت ہونا چاہئے۔‘‘
’’ کاش کہ ہم اپنی بکری کے ساتھ ہی ختم ہو جاتے‘‘ بھائیوں نے آنسو بہاتے ہوئے کہا ۔
’’ کیا تمھارے خیال میں آسمان پر بیوقوف کافی تعداد میں نہیں ہیں؟‘‘ خواجہ نصر الدین نے پوچھا ۔ ’’ معتبر آدمیوں نے مجھے بتایا ہے کہ آجکل جنت و جہنم دونوں احمقوں سے بھرے پڑے ہیں اور اب اور نہیں لئے جا رہے ہیں۔۔۔ بھائیو، میں تمھارے لئے ابدیت کی پیشین گوئی کرتا ہوں۔۔۔ اب یہاں سے رفو چکر ہو جاؤ کیونکہ پہرے دار ادھر دیکھ رہے ہیں اور تمھاری طرح میں لافانی ہونے پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔‘‘
دونوں بھائیوں نے زور زور سے سسکیاں بھرتے، اپنا چہرہ نوچتے اور سڑک کی زرد خاک اپنے سروں پر اُڑاتے چلے گئے۔
اب لوہار امیر کے سامنے حاضر ہوا۔ اس نے اپنی شکایت بھاری گرجدار آواز میں پیش کی ۔ وزیر اعظم بختیار نے امیر کی طرف دیکھا:
’’ اعلیٰ حضرت ، کیا حکم ہوتا ہے؟‘‘
امیر سو رہا تھا اور اس کے کھلے ہوئے منہ سے خراٹے صادر ہو رہے تھے ۔ بختیار ذرا بھی نہ جھجکا اور بولا:
’’جہاں پناہ ، میں نے آپ کا حکم چہرے سے معلوم کر لیا ہے۔ ‘‘
اور اس نے شان کے ساتھ اعلان کیا :
’’خدا کی طرف سے جو رحیم و کریم ہے ، امیر المومنین اور ہمارے آقا نے جو اپنی رعایا کی فکر سے ایک لمحہ بھی غافل نہیں رہتے اس کو یہ عزت دے کر بڑی مہربانی اور عنایت کا اظہار کیا ہے کہ وہ امیر کے پہرے داروں کی دیکھ بھال اور کھانے پینے کا انتظام کر سکے۔ یہ سہولت دیکر امیر نے بخارا شریف کے شہریوں کو یہ با عزت موقع دیا ہے کہ وہ ہر روز اور ہر گھنٹے اپنے امیر کے لئے جذبہ احسان و شکر کا اظہار کر سکیں۔ اس قسم کی عزت ہمارے پڑوسی ملکوں کے باشندوں کو حاصل نہیں ہے لیکن لوہاروں کی قطار نے اپنی سعادت مندی کا اظہار نہیں کیا بلکہ اس کے بر عکس آہنگر یوسف نے عقبٰی کے عذابوں اور گنہ گاروں کے لئے بال سے باریک پُل کی پرواہ کئے بغیر ڈھٹائی سے اپنی ناشکری کا اظہار کیا ہے۔ مزید برآں، اس کو یہ جرات ہوئی کہ وہ اپنی شکایت آقا و مولا ، تقدس مآب امیر کے سامنے لائے جن کا نور آفتاب کو بھی ماند کرتا ہے۔‘‘
’’اس لئے ہمارے تقدس مآب امیر نے عنایت فرما کر یہ فیصلہ صادر فرمایا ہے کہ آہنگر یوسف کو دو سو درے لگائے جائیں۔ اس سے اس کو بلاشبہ توبہ کا خیال آئے گا جس کے بغیر اس پر جنت کے دروازے کھلنا ممکن نہیں ہیں۔ جہاں تک آہنگروں کی قطار کا سوال ہے تقدس مآب امیر نے اپنی مزید عنایت و مہربانی کا اظہار کیا ہے اور بیس اور پہرے دار وہاں رہنے اور کھانے پینے کے لئے بھیج دئے ہیں۔ اس طرح وہ ہر روز اور ہر گھنٹے ہمارے امیر کی دانشمندی اور رحم و کرم کی تعریف کرنے کی خوش نصیبی سے محروم نہ ہوں گے۔ یہ ہے ان کا فیصلہ ، خدا ان کو اپنی رعایا کی فلاح و بہبود کے لئے بہت دنوں تک سلامت رکھے۔‘‘
درباری خوشامدیوں کی تعریف و تحسین کا شور پھر بلند ہوا ۔ اس دوران میں پہرے داروں نے آہنگر یوسف کو پکڑ لیا اور اس کو سزا دینے کی جگہ تک گھسیٹ لے گئے جہاں جلاد اپنے خوفناک دانت نکالے ہوئے بھاری چابکوں کو تول رہے تھے۔
آہنگر ایک چٹائی پر پٹ گر پڑا ۔ درے سرسراتے ہوئے برسنے لگے اور آہنگر کی پیٹھ لہو لہان ہو گئی۔
جلادوں نے اس کو بری طرح پیٹا ، اس کی کھال کی دھجیاں اُڑا دیں اور گوشت ہڈیوں تک کاٹ دیا ۔ لیکن آہنگر کے منہ سے ایک چیخ ایک آہ نہ نکلی ۔ جب وہ کھڑا ہوا تو اس کے منہ سے سیاہ جھاگ نکل رہا تھا ۔ سزا کے دوران اس نے اپنے دانت زمین میں پیوست کر لئے تھے تا کہ کوئی چیخ اس کے منہ سے نہ نکل سکے۔
’’آہنگر بھولنے والا نہیں ہے‘‘ خواجہ نصر الدین نے کہا ’’ وہ آخری دم تک امیر کی مہربانی کو یاد رکھے گا۔ رنگ ریز ، تم کیا انتظار کر رہے ہو؟ جاؤ نا ؟ اب تمھاری باری ہے۔‘‘
رنگ ریز نے زمین پر تھوکا اور بلا پیچھے دیکھے مجمع سے چلا گیا۔
وزیر اعظم جلدی جلدی فیصلہ کرتا گیا اور ہر ایک سے اس نے امیر کے خزانے کے لئے حاصلات میں کوئی کمی نہیں کی۔ یہی ایک بات تھی جس نے اس کو تمام عمائدین سے ممتاز بنایا تھا۔
جلاد متواتر مصروف تھے ۔ ان کی طرف سے چیخوں اور رونے چلانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ وزیر اعظم نئے نئے گنہ گاروں کو جلادوں کے پاس بھیجتا جا رہا تھا۔ ایک لمبی قطار اپنے نمبر کا انتظار کر رہی تھی ۔ ان میں بڈھّے مرد اور عورتیں ، حتیٰ کہ ایک دس سالہ لڑکا تھا جس کے خلاف یہ الزام تھا کہ اس نے بدتمیزی کی اور باغیانہ طور پر امیر کے محل کے سامنے پیشاب کیا ۔ وہ کانپ رہا تھا اور رو رہا تھا اور اپنا چہرہ آنسوؤں سے تر کر رہا تھا ۔ اس کو دیکھ کر خواجہ نصر الدین کا دل رحم اور غصے سے بھر آیا ۔
’’ واقعی یہ لڑکا بڑا خطرناک مجرم ہے‘‘ انہوں نے زور سے کہا ۔ ’’امیر کی دور اندیشی کی تعریف نہیں ہو سکتی کہ وہ اس طرح کے دشمنوں سے اپنے تخت کو محفوظ رکھتے ہیں کیونکہ ایسے لوگ زیادہ خطرناک ہوتے ہیں جو اپنی کمسنی سے ہی برے خیالات کو چھپائے رکھتے ہیں۔ صرف آج ہی میں نے ایک اور مجرم دیکھا ہے جو اس سے بھی برا اور خطر ناک تھا۔ اس دوسرے مجرم کی کرتوت۔ کیا آپ یقین کریں گے ؟ پہلے سے بھی بری تھیں اور پھر ٹھیک محل کی دیوار کے نیچے ! ایسی گستاخی کے لئے کوئی بھی سزا کم ہے ۔ اس کو تو نوکیلے ستون پر بٹھا کر ہلاک کر دینا چاہئے حالانکہ ستون اس کے اندر سے ایسا گزر جاتا جیسے سیخ چوزے کے جسم سے گزر جاتی ہے کیونکہ لڑکا صرف چار سال کا تھا۔ بہر حال جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں ، اس کی عمر کوئی عذر نہیں ہو سکتی ۔ میرے دل کو ان زبردست برائیوں کے خیال سے سخت رنج ہوتا ہے جو ہمارے بخارا میں پھیل گئی ہیں۔ بہر نوع، ہمیں امید ہے کہ امیر کے جلادوں اور پہرے داروں کی مدد سے یہ برائیاں ختم ہو جائیں گی اور ان کی جگہ اچھائیاں لے لیں گی۔‘‘
انہوں نے اس طرح یہ سب کچھ کہا جیسے کوئی ملا وعظ دے رہا ہو۔ ان کا لہجہ اور الفاظ دونوں اچھے تھے لیکن جن کے کان تھے انہوں نے ان الفاظ کو سنا اور سمجھا اور چپکے چپکے اپنی داڑھیوں میں تلخی سے مسکرائے۔

(۱۱)
اچانک خواجہ نصر الدین نے دیکھا کہ مجمع چھٹنے لگا ۔ بہت سے لوگ جلدی جانے لگے اور کچھ تو بھاگ رہے تھے۔
’’ کیا پہرے دار میرا پیچھا کر رہے ہیں ؟‘‘ انہوں نے گھبرا کر سوچا۔
لیکن وہ سود خور کو آتے دیکھ کر اس کا سبب سمجھ گئے ÷ اس کے پیچھے ، پہرے داروں کے محاصرے میں ، ایک نحیف سفید داڑھی والا بڈھا تھا جس کی قبا مٹی سے لتھڑی ہوئی تھی اور ایک برقع پوش عورت یا یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا جوان لڑکی تھی جیسا کہ خواجہ نصر الدین کی تجربہ کار نگاہیں اس کی چال سے بھانپ سکیں۔
’’ اور ذاکر ، جورا ، محمد اور صادق کہاں ہیں ؟‘‘ اپنی چچیاتی ہوئی آواز میں سودخور نے لوگوں کا کانی آنکھ سے جائزہ لیتے ہوئے پوچھا ۔ دوسری آنکھ دھندلی اور غیر متحرک تھی اور اسپر جالا چھایا ہوا تھا۔ ’’وہ ابھی ابھی تو یہاں تھے ۔ میں نے ان کو دور سے دیکھا تھا ۔ ان کے قرض جلد ہی واجب الادا ہیں ۔ ان کے لئے بھاگ کر چھپنا بے سود ہے۔‘‘
اور اب یہ کبڑا لنگڑاتا ہوا آگے بڑھا ۔
لوگوں نے آپس میں کہنا شروع کیا :
’’ دیکھو ، یہ بڈھا کھوسٹ ، کمہار نیاز اور اس کی بیٹی کو امیر کے سامنے گھسیٹ لایا ہے۔‘‘
’’ اس نے کمہار کو ایک دن کی بھی چھوٹ نہیں دی ۔‘‘
’’ لعنت ہو اس پر، میرا قرض پندرہ دن میں واجب الادا ہے۔‘‘
’’اور میرا ایک ہفتے میں۔‘‘
’’ دیکھو، لوگ اس کے آنے پر کس طرح بھاگتے اور چھُپتے ہیں جیسے وہ کوڑھ یا ہیضے کی بیماری لایا ہو!‘‘
’’ یہ سود خور کوڑھ سے بھی بد تر ہے!‘‘
خواجہ نصر الدین کی روح کو پشیمانی سے تکلیف تھی انہوں نے اپنی قسم کو دہرایا کہ ’’میں اس کو اسی تالاب میں ڈبوؤں گا!‘‘
ارسلان بیک نے سود خور کو یہ اجازت دے دی کہ وہ اپنی باری کے بغیر آ جائے۔ اس کے پیچھے پیچھے کمہار اور اس کی بیٹی تھے ۔ انہوں نے گھٹنوں کے بل جھک کر قالین کے دامن کو بوسہ دیا ۔
’’ سلام علیک، لائق جعفر‘‘ وزیر اعظم نے اخلاق سے کہا ’’ کیس آئے ؟ با عظمت امیر سے اپنا کام بتاؤ۔‘‘
’’ اے با عظمت بادشاہ، میرے آقا!‘‘ جعفر نے امیر کو مخاطب کر کے کہا جس نے نیند کی حالت میں سر ہلایا اور پھر خراٹے بھرے لگا۔ ’’ میں آپ سے انصاف مانگنے آیا ہوں۔ یہ آدمی جس کا نام نیاز ہے اور پیشے کا کمہار ہے میرا سو تانگے کا قرضدار ہے اور اس قرض پر تین سو تانگے کا مزید سود چڑھ گیا ہے۔ آج صبح یہ قرض واجب الادا تھا لیکن کمہار نے مجھے کچھ نہیں دیا۔ اے دانشور امیر، آفتابِ جہاں، آپ ہی ہمارا فیصلہ کیجئے۔‘‘
احکام نویسوں نے سود خور کی شکایت اپنے رجسٹر میں درج کر لی۔ اب وزیر اعظم نے کمہار سے کہا:
’’ کمہار، با عظمت امیر کی بات کا جواب دو۔ کیا تم یہ قرض مانتے ہو؟ شاید تمھیں ادائیگی کے دن اور گھنٹے پر اعتراض ہے؟‘‘
’’نہیں‘‘ کمہار نے کمزور آواز میں جواب دیا۔ ’’نہیں، دانشور اور منصف وزیر ۔ مجھے کسی بات پر اعتراض نہیں ہے ۔ نہ تو قرض پر اور نہ دن اور گھنٹے پر۔ میں صرف ایک مہینے کی مہلت چاہتا ہوں۔ میں اپنے کو امیر کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں۔‘‘
’’میرے آقا، مجھے فیصلے کا اعلان کرنے کی اجازت دیجئے جو میں نے آپ کے چہرے سے پڑھ لیا ہے‘‘ بختیار نے کہا ’’ خداوند رحیم و کریم کے نام پر قانون کے مطابق جو بھی اپنا قرض ادا نہیں کرتا وہ اپنے مہاجن کا معہ اپنے خاندان کے غلام ہو جاتا ہے اور اس وقت تک غلام رہتا ہے جب تک وہ ساری مدت کے لئے ، جس میں غلامی کا زمانہ بھی شامل ہے ، سود اور اصل نہیں ادا کر دیتا۔‘‘
کمہار کا سر جھکتا گیا اور وہ اچانک کانپنے لگا۔ مجمع میں بہت سے لوگوں نے اپنی آہیں روک کر منہ پھیر لیا ۔ لڑکی کے شانے کانپ رہے تھے وہ برقع میں رو رہی تھی ۔ خواجہ نصر الدین بار بار یہ بات اپنے آپ دہرا رہے تھے :
’’ میں غریبوں پر اس وحشیانہ مظالم کرنے والے کو ڈبو کر رہوں گا!‘‘
’’ لیکن ہمارے آقا کا رحم و کرم لا انتہا ہے ۔‘‘ بختیار نے اپنی آواز بلند کرتے ہوئے کہا ۔
مجمع پر سناٹا چھا گیا۔ بڈھّے کمہار نے اپنا سر اُٹھایا ۔ اس کے چہرے پر امید کی کرن جھلک رہی تھی ۔
’’حالانکہ قرض ابھی واجب الادا ہے لیکن امیر کمہار نیاز کو مہلت دیتے ہیں۔۔ایک گھنٹے کی۔۔ اگر ایک گھنٹہ ختم ہونے پر نیاز مذہبی اصولوں سے لاپرواہی برتتا ہے اور پورا قرض معہ سود کے ادا نہیں کرتا تو قانون کی تکمیل ہو گی جیسا کہ کہا جا چکا ہے۔ جا ! اے کمہار ، امیر کی مہربانی تیرا ساتھ دے!‘‘
بختیار نے فیصلہ ختم نہیں کیا کہ تخت کے پیچھے کھڑے ہوئے خوشامدیوں نے اپنا چرخہ چلایا:
’’صاحب انصاف امیر، آپ کے انصاف کے سامنے تو انصاف خود شرمندہ ہے! اے رحیم اور دانشور امیر ! فیاض امیر، زمین و آسمان کی شان و شوکت ہمارے مقدس امیر!‘‘
اس بار خوشامدیوں نے تعریفوں سع اس طرح آسمان اٹھا لیا کہ امیر کی نیند ٹوٹ گئی اور اس نے غصے سے ڈانٹ کر ان کو چُپ رہنے کے لئے کہا۔ وہ سب ساناٹے میں آ گئے ۔ چوک پر مجمع بھی خاموش تھا ۔ اچانک زوردار ، سمع خراش رینگنے کی آواز نے اس عام خاموشی کو توڑا۔
یہ خواجہ نصر الدین کا گدھا تھا۔ یا تو وہ ایک جگہ کھڑے کھڑے تنگ آ چکا تھا یا پھر اس نے اپنے کسی لمبے کانوں والے بھائی کو دیکھ لیا تھا جس سے وہ صاحب سلامت کرنا چاہتا تھا ۔ بھر حال ہوا یہ کہ وہ رینگنے لگا ، دُم اوپر اٹھا دی ، تھوتھن آگے بڑھا دیا اور زرد زرد دانت نکوس دئے ۔ اس کی آواز کان پھاڑ دینے والی اور قابو سے باہر تھی اور اگر وہ ایک لمحے کے رکتا بھی تھا تو محض سانس لینے کے لئے ، اپنے جبڑے زیادہ کشادہ کرنے اور زیادہ زور سے رینگنے اور چیخنے کے لئے۔
امیر نے اپنے کان بند کر لئے ۔ پہرے دار مجمع کی طرف جھپٹے۔ لیکن خواجہ نصر الدین وہاں سے دور تھے۔ انہوں نے اپنے رینگتے ہوئے گدھے کو کھینچتے اور دھکا دیتے ہوئے زور زور سے اسے ملامت کی۔
’’بد ذات گدھے، تو کس بات پر خوش ہے۔ کیا تو ہمارے امیر کے رحم و کرم کی تعریف اتنا شور مچائے بغیر نہیں کر سکتا؟ شاید تو اس طرح دربار کا سب سے بڑا خوشامدی بننا چاہتا ہے؟‘‘
مجمع میں ان باتوں پر زور سے قہقہہ پڑا اور لوگوں نے خواجہ کو نکلنے کا رستہ دیا اور قبل اس کے کہ پہرے دار ان تک پہنچ سکیں جگہ پھر گھِر گئی۔ اگر چہ وہ خواجہ نصر الدین کو پکڑ پاتے تو اس بدتمیزی سے بدامنی پیدا کرنے کے لئے ان کے دُرے لگاتے اور ان کا گدھا ضبط کر لیتے۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers