"حضت، ذرا رکئے" خواجہ نصر الدین نے کہا۔ "پہلے اپنا ذرا اپنا کان ادھر لائیے۔"
"اور کافی دیر وہ سکوں کو مٹھی میں لئے مالک کے کان میں بجاتے رہے۔ پھر انہوں نے فقیر کو پیسے واپس دیتے ہوئے کہا "اطمینان سے جاؤ، سائیں جی!"
"کیا!" باورچی خانے کا مالک چلایا " "لیکن مجھے تو پیسے ملے ہی نہیں۔"
"اس نے تم کو پورے دام دئے ہیں" خواجہ نصر الدین نے کہا "اب تم دونوں برابر ہو۔ اس نے تمھارے بوٹی کے کباب سونگہے اور تم نے اس کے سکوں کی جھنکار سنی"
سب سننے والے زور سے ٹھٹھا مار کر ہنسے۔ ان میں سے ایک آدمی نے جلدی سے سب کو روک کر کہا "اتنے زور سے نہیں ورنہ وہ سمجھ جائیں گے کہ ہم خواجہ نصر الدین کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں۔"  تفصیل سے پڑھئے

"ان کو کیسے پتہ ہے؟" خواجہ نصر الدین نے مسکراتے ہوئے سوچا "دراصل یہ بغداد کا نہیں بلکہ استنبول کا واقعہ ہے۔ پھر ان کو کیسے معلوم ہوا؟"
پھر دوسرے آدمی نے، جو گلہ بان کے لباس میں تھا اور رنگین پگڑی باندھے ہوئے تھا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ بدخشاں کا رہنے والا ہے اپنا قصہ مدھم آواز میں شروع کیا:
"کہا جاتا ہے کہ ایک دن خواجہ نصر الدین ایک ملا کی باڑی کے پاس سے گزر رہے تھے۔ ملا کچھ کدو ایک بورے میں بھر رہا تھا۔ لالچ میں آ کر اس نے بورے میں اتنے کدو بھر لئے تھے کہ بورے کو لے جانا تو الگ رہا اس کو اٹھانا تک ممکن نہ تھا۔ وہ ادھر ادھر تک رہا تھا کہ بورا گھر کیسے پہنچے۔ اس نے ایک راہ گیر کو دیکھا اور بہت خوش ہوا۔
"سنو بیٹے، کیا تم یہ بورا میرے گھر تک پہنچا دو گے؟"
اس وقت خواجہ نصر الدین کے پاس پیسے نہیں تھے۔ انہوں نے ملا سے پوچھا "تم مجھے کیا دو گے؟"
"بیٹا، پیسے کیوں مانگتے ہو؟ بورا لے جاتے وقت راستے میں تم کو میں تین انتہائی حکیمانہ قول بتاؤں گا جن سے تمھیں زندگی میں مسرت نصیب ہو گی۔"
"میں یہ قول ضرور سنوں گا" خواجہ نصر الدین نے سوچا۔ ان کو بڑا اشتیاق پیدا ہو گیا تھا۔ وہ بورے کو کاندھے پر لاد کر چل پڑے۔ راستہ پہاڑی پر تھا اور ڈھلوان کے پاس۔ خواجہ نصر الدین دم لینے کے لئے رکے۔ ملا نے بہت سنجیدہ اور پراسرار انداز میں کہا: "اچھا، پہلا قول سنو کیونکہ آدم کے زمانے سے لے کر اب تک اس سے بڑا حکیمانہ قول ساری دنیا میں نہیں پیدا ہوا ہے۔ اگر تم اس کے معنوں تک پہنچ گئے تو سمجھو کہ گویا الف لم کے رمز سے واقف آگاہ ہو گئے جس سے ہمارے پیغمبر اور ہادی حضرت محمد نے قرآن شریف کے دوسرے سورے کی ابتدا کی ہے۔ غور سے سنو! اگر تم سے کوئی یہ کہے کہ سواری پر چلنے سے پیدل چلنا بہتر ہے تو اس کی بات مت مانو۔ بیٹے میرے الفاظ نہ بھولنا اور برابر دن رات ان پر غور کرنا اور تب تم اس کی دانش مندی کی گہرائیوں تک پہنچ سکو گے۔ لیکن یہ قول تو دوسرے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے جو میں تمھیں اس درخت کے قریب بتاؤں گا۔ دیکھو، وہ رہا آگے۔"
"ذرا ٹھہرو تو، ملا صاحب"خواجہ نصر الدین نے سوچا اور پسینے سے شرابور وہ بورے کو درخت تک لے گئے۔
ملا نے ایک انگلی اٹھا کر کہا: "دوسرا قول سنو کیونکہ اس کا انحصار پورے قرآن، نصف شریعت اور ایک چوتھائی طریقت پر ہے۔ جو آدمی اس کو سمجھ لے گا وہ نیکی اور سچائی کے راستے سے کبھی نہیں ہٹے گا۔ اس لئے بیٹے، اس قول کو سمجھنے کی کوشش کرو اور اپنی خوش قسمتی پر نازاں ہو کہ یہ تمھیں مفت حاصل ہو رہا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اگر کوئی تم سے یہ کہے کہ غریب کی زندگی امیر سے آسان ہے تو مت یقین کرو۔ لیکن یہ دوسرا قول تو تیسرے کے پاسنگ نہیں، تیسرا قول ایسا منور ہے کہ اس کا مقابلہ بس سورج کی چکا چوند کر دینے والی روشنی اور بحر ذخار کی گہرائی سے کیا جاتا ہے۔ میں یہ قول تم کو اپنے گھر کے پھاٹک پر بتاؤں گا۔ آؤ جلدی کریں، کیونکہ اب میں دم لے چکا ہوں۔"
"مولانا ذرا ٹھہرئیے!" خواجہ نصر الدین نے کہا۔ " میں آپ کا تیسرا قول بوجھ گیا۔ آپ اپنے گھر کے پھاٹک پر مجھے سے یہ کہیں گے کہ ہوشیار آدمی ہمیشہ بیوقوف آدمی سے اپنے کدو بھرے بورے مفت ڈھلوا لیتا ہے۔"
"ملا حیرت سے پیچ و تاب کھا کر رہ گیا۔ خواجہ نصر الدین نے ٹھیک کہا تھا۔
"اب ملا صاحب میرا واحد قول سنئے جو آپ کے تمام قولوں کے برابر ہے" خواجہ نصر الدین نے اپنی بات جاری رکھی " اور قسم ہے پیغمبر صاحب کی کہ میرا قول ایسا چکا چوند کرنے والا اور گہرا ہے کہ اس کا انحصار سارے اسلام، قرآن، شریعت اور طریقت اور بہت سی کتابوں پر ہے، بودھ، عیسائی اور یہودی مذاہب کی کتابوں پر بھی۔ ملا صاحب، سچے مذہب کی مجھے تعلیم اور ہدایت دینے والے بزرگ، اب میں آپ کے سامنے ایسے ناقابل تردید دانش مندانہ قول کا انکشاف کروں گا جس سے بہتر نہ تو پہلے کبھی تھا اور نہ آئندہ ہو گا۔ لیکن ذرا اس کے لئے پہلے سے تیاری کر لیجئے تاکہ آپ بے قابو نہ ہو جائیں کیونکہ اس سے آدمی آسانی سے پاگل بن سکتا ہے۔ یہ قول ایسا ہی متحیر کن، عجیب اور اتھاہ ہے۔ ملا صاحب، اپنے دماغ کو فولاد بنا کر اس کو سنئے۔ اگر کوئی آپ سے کہے کہ یہ کدو ٹوٹے نہیں ہیں تو اس کے منہ پر تھوک دیجئے، اس کو جھوٹا کہہ کر اپنے گھر سے نکال دیجئے!"
یہ کہہ کر خواجہ نصر الدین نے بورا اٹھایا اور اس کو ڈھلوان سے نیچے چھوڑ دیا۔ کدو بورے سے لڑھک کر باہر آ گئے اور پتھروں سے ٹکراتے، اچکتے اور کھڑکھڑاتے نیچے چلے گئے۔
"ارے ہائے، ہائے" ملا فریاد کرنے لگا "کیسا نقصان ہوا، تباہ ہو گیا!" پاگلوں کی طرح وہ چیخنے، گریہ و زاری کرنے اور اپنا چہرہ نوچنے لگا۔
"دیکھئے نا"خواجہ نصر الدین نے کہا "میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میرا قول ممکن ہے آپ کو پاگل بنا دے!"۔
سننے والوں میں پھر قہقہہ گونجا۔
کونے میں گرد آلود، جوئیں بھری چٹائی پر لیٹے لیٹے خواجہ نصر الدین نے سوچا:
"اچھا تو انہوں نے یہ بھی سن رکھا ہے! لیکن کیسے؟ راستے پر تو بس ہم دونوں تھے۔ ملا اور میں اور میں نے کسی سے بھی نہیں کہا۔ شاید جب ملا کو یہ پتہ چلا ہو گا کہ کون اس کے کدو لے جا رہا تھا تو اس نے لوگوں سے کہا ہو گا۔"
اب تیسرے نے اپنا قصہ شروع کر دیا:
"ایک دن خواجہ نصر الدین شہر سے اس ترکی کے گاؤں لوٹ رہے تھے جہاں وہ رہنے لگے تھے۔ وہ تھک کر ایک چشمے کے کنارے لیٹ گئے اور پانی کی قلقل کی آواز اور بہار کی مہک دار ہوا میں بلا ارادہ سو گئے۔ انہوں نے خواب میں یہ دیکھا کہ وہ مر گئے ہیں۔ "اگر میں مر گیا ہوں" انہوں نے فیصلہ کیا " تو تو مجھے حرکت کرنی چاہئے اور نہ آنکھیں کھولنی چاہئیں۔" اس لیے وہ بالکل ساکت نرم گھاس پر پڑے رہے اور انہیں یہ محسوس ہوا کہ مردہ ہونا کوئی بری بات نہیں ہے کیونکہ اس طرح فانی دنیا کے وجود کی تمام فکروں اور جھگڑوں سے جو متواتر پریشان کرتی رہتی ہیں آزاد ہو کر اطمینان سے لیٹا جا سکتا ہے۔
کچھ مسافروں نے جو ادھر سے گزر رہے تھے، خواجہ نصر الدین سے کو دیکھا۔
"دیکھو!" ایک نے کہا "مسلمان ہے۔"
"مر گیا ہے" دوسرا بولا۔
"ہمیں اسے قریب ترین گاؤں لے چلنا چاہئے" تیسرے نے کہا۔
یہ وہی گاؤں تھا جہاں خواجہ نصر الدین جا رہے تھے۔
آدمیوں نے کئی شاخیں کاٹ کر ایک اسٹریچر سا بنا لیا اور اس پر خواجہ نصر الدین کو لٹا دیا۔ وہ ان کو لے کر بہت دیر تک چلتے رہے اور خواجہ صاحب آنکھیں بند کئے ایسے مردے کی طرح پڑے رہے جس کی روح جنت کے دروازے تک پہنچ چکی ہو۔
اچانک اسٹریچر رک گیا۔ راہی ایک دریا پار کرنے کے بارے میں بحث کرنے لگے۔ ایک نے تجویز پیش کی کہ دائیں طرف جانا چاہئے، دوسرے نے کہا بائیں اور تیسرے نے کہا سیدھے دریا کے پار۔ خواجہ نصر الدین نے ذرا سی آنکھ کھول کر دیکھا کہ یہ لوگ دریا کے سب سے گہرے، انتہائی تیز باؤ والے اور بہت ہی خطرناک حصے کے پاس کھڑے ہیں جہاں بہت سے لا پروا لوگ ڈوب چکے تھے۔
"مجھے اپنی پروا نہیں"خواجہ نصر الدین نے سوچا "کیونکہ میں تو مر چکا ہوں اور اب میں چاہے قبر میں لیٹوں یا دریا کی تہہ میں، کوئی بات نہیں ہے۔ لیکن ان مسافروں کو ضرور آگاہ کر دینا چاہئے کیونکہ وہ میرے اوپر مہربان ہونے کی وجہ سے اپنی جان گنوا سکتے ہیں۔ ان کو آگاہ نہ کرنا میرے لئے بڑی ناشکری کی بات ہو گی۔"
وہ اسٹریچر پر ذرا سا ابھرے اور ندی کی طرف اشارہ کر کے دھیمی آواز میں بولے "مسافرو، جب میں زندہ تھا تو میں دریا کو حور کے ان درختوں کے پاس پار کیا کرتا تھا۔" یہ کہہ کر انہوں نے اپنی آنکھیں پھر بند کر لیں۔ مسافروں نے خواجہ نصر الدین کا شکریہ ادا کیا اور بخشائش کی دعائیں کرتے ان کے اسٹریچر کو لیکر پھر آگے بڑھ گئے۔"
جب سننے والے اور کہانی کہنے والا دونوں ہنس رہے تھے اور ایک دوسرے کو کہنیاں مار رہے تھے، خواجہ نصر الدین ناراض ہو کر بڑبڑا رہے تھے:
"ان لوگوں نے سب گڈ مڈ کر دیا ہے۔ اول تو میں نے یہ خواب کبھی نہیں دیکھا کہ میں مر گیا ہوں۔ میں اتنا احمق نہیں ہوں کہ میں یہ نہ سمجھ سکوں کہ مردہ ہوں یا زندہ۔ ارے، مجھے یہ تک یاد ہے کہ ایک پسو مجھے کاٹ رہا تھا اور میرا دل چاہتا تھا کہ کاش میں کھجلا سکتا۔ یقیناً یہ اس بات کا صاف ثبوت ہے کہ میں زندہ تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مجھے پسو کے کاٹنے کا احساس نہ ہوتا۔ بات صرف یہ تھی کہ میں بہت تھک گیا تھا اور چلنا نہیں چاہتا تھا۔ مسافر مضبوط تھے اور ان کے لئے یہ کوئی بات نہ تھی کہ وہ ذرا اپنے راستے سے ہٹ کر مجھے گاؤں پہنچا دیں۔ لیکن جب انہوں نے دریا کو ایسی جگہ سے پار کرنا چاہا جہاں تین آدمیوں کے ڈباؤ بھر پانی تھا تو میں نے ان کو روک دیا۔ مجھے تو ان کے خاندانوں کا خیال تھا اپنے خاندان کا نہیں کیونکہ میرا خاندان تو ہے ہی نہیں۔ اور مجھے فوراً اپنی ناشکری کا تلخ پھل چکھنا پڑا کیونکہ میرے بروقت انتباہ پر شکرگزار ہونے کی بجائے مجھے مسافروں نے اسٹریچر سے نکال پھینکا اور مکوں سے میری خاطر کی۔ وہ میری خوب مرمت کرتے اگر میرے تیز رفتار پیروں نے میری مدد نہ کی ہوتی۔واقعی، عجیب بات ہے، لوگ سچ کو کیسا توڑ موڑ لیتے ہیں!"
اس دوران میں چوتھے آدمی نے اپنا قصہ چھیڑ دیا:
"خواجہ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے۔ ایک بار وہ تقریباً چھ مہینے تک ایک گاؤں میں رہے جہاں وہ اپنی ذہانت اور حاضر جوابی کی وجہ سے کافی مشہور ہو گئے تھے۔۔۔"
خواجہ نصر الدین کے کان کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے یہ آواز کہاں سنی تھی۔ بہت بلند نہیں لیکن صاف اور ذرا بھاری اور حال ہی میں۔۔۔ شاید آج ہی۔۔۔ انہوں نے بہت کوشش کی لیکن یاد نہ آیا۔
آدمی نے اپنی داستان جاری رکھی:
"ایک دن صوبے کے گورنر نے اس گاؤں کو اپنا ہاتھی بھیج دیا جہاں خواجہ نصر الدین رہتے تھے۔ گاؤں والوں کو ہاتھی کی خوراک مہیا کرنی اور اس کی دیکھ بھال کرنی تھی۔ ہاتھی بڑا کھاؤ تھا۔ چوبیس گھنٹے میں اس نے پچاس دھرے جو، پچاس دھرے باجرہ، پچاس دھرے مکئی اور ایک سو گٹھے گھاس ہڑپ کر لی۔ دو ہفتے میں گاؤں والوں کا سارا ذخیرہ ہاتھی کی نذر ہو گیا۔ وہ بالکل تباہ اور سخت پریشان ہو گئے۔ آخر کار انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ خواجہ نصر الدین کو گورنر کے پاس یہ التجا لیکر بھیجیں گے کہ اپنا ہاتھی واپس بلا لے۔
اب انہوں نے خواجہ نصر الدین سے درخواست کی اور وہ اس پر تیار ہو گئے۔ انہوں نے اپنے گدھے پر کاٹھی کسی، جس کے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ ضدی، بد مزاج اور کابل ہونے میں وہ گیدڑ، مکڑی، سانپ اور مینڈک کا مجموعہ ہے۔ کاٹھی کس کر خواجہ نصر الدین گورنر سے ملنے چل دئے لیکن جانے سے پہلے وہ گاؤں والوں سے یہ طے کرنا نہیں بھولے کہ ان کی خدمات کا معاوضہ کیا ہو گا۔ دراصل انہوں نے اتنی بڑی رقم لی کہ بہتوں کو اپنا گھربار بیچنا پڑا اور خواجہ نصر الدین کی وجہ سے وہ محتاج ہو گئے۔"
"ھونہہ" اس کونے سے آواز آئی جہاں خواجہ نصر الدین نمدے پر پڑے اپنے غصے کو ضبط کرنے کے لئے کروٹیں بدل رہے تھے۔
آدمی نے داستان جاری رکھی:
"تو خواجہ نصر الدین محل پہنچے۔ وہ بڑی دیر تک خدمتگاروں اور ملازموں کے جمگھٹے میں کھڑے رہے جو اس بات کا انتظار کر رہے تھے کہ حضور گورنر صاحب ان پر بھی وہ نظر ڈالیں جو کسی کے لئے مسرتیں اور کسی کے لئے تباہی لاتی تھی۔ اور جب گورنر نے خواجہ نصر الدین کی طرف رخ کرنے کی عنایت فرمائی تو خواجہ نصر الدین ان کی شان و شوکت دیکھ کر ایسا ڈرے اور بدحواس ہوئے کہ ان کے پیر گیدڑ کی دم کی طرح کانپنے لگے اور ان کی رگوں میں خون جم سا گیا۔ وہ پسینے میں بالکل شرابور ہو گئے اور رنگ سفید پڑ گیا۔"
"ھونہہ" پھر کونے سے آواز آئی لیکن داستان گو نے اس کی پروا کئے بغیر بات جاری رکھی:
"تم کیا چاہتے ہو؟" گورنر نے اپنی بلند اور گونجدار آواز میں جس میں شیر کی گرج تھی، پوچھا۔ ڈر کی وجہ سے خواجہ نصر الدین کی زبان بند ہو گئی۔ لکڑبھگے جیسی گھگھیائی ہوئی آواز سے انہوں نے کہا "حضور عالی، ہمارے صوبے کو منور کرنے والے سورج اور چاند، ہمارے صوبے کے تمام باشندوں کو خوشیاں اور مسرتیں بخشنے والے، اپنے اس ادنی خادم کی، جو آپ کے محل کی چوکھٹ پر اپنی داڑھی سے جھاڑو دینے کے قابل بھی نہیں ہے، ایک بات سنئے۔ اے آفتاب تاباں! ہمیں آپ نے یہ عزت بخشی ہے کہ اپنا ایک ہاتھی ہمارے گاؤں کو کھلانے پلانے اور دیکھ بھال کے لئے بھیج دیا ہے۔ اس لئے ہم لوگ ذرا پریشان ہیں۔۔۔"
گورنر نے غصے سے ناک بہوں چڑھائی۔ خواجہ نصر الدین اس کے سامنے اس طرح جھک گئے جیسے آندھی سے سرکنڈا جھک جاتا ہے۔
"تجھے کیا پریشانی ہے؟" گورنر نے پوچھا۔ "بول، یا تیرے گندے اور ذلیل تالو میں زبان چپک گئی ہے؟"
"آ، آ، آپ۔۔۔ آپ" ڈرپوک خواجہ نصر الدین ہکلا رہے تھے "ہم لوگ پریشان ہیں، اے آفتاب تاباں، کہ ہاتھی تنہائی محسوس کر رہا ہے۔ بےچارہ بہت رنجیدہ ہے اور سارا گاؤں اس کو غمگین دیکھ کر ملول ہو گیا ہے۔ اے اشرف الاشرافین، زینت ارض اسی لئے میں حاضر ہوا ہوں کہ آپ ہمارے اوپر مزید عنایات کریں اور ایک ہتھنی بھیج بھی بھیج دیں۔
"گورنر اس درخواست سے بہت خوش ہوا اور فوراً اس کی تکمیل کا حکم دیا۔ اپنی مسرت کا اظہار کرنے کے لئے اس نے خواجہ نصر الدین کو اپنے جوتے کا بوسہ لینے کی اجازت دی جس کو خواجہ نصر الدین نے اتنے جوش و خروش سے کیا کہ گورنر کے جوتے کی پالش اڑ گئی اور خواجہ نصر الدین کے ہونٹ کالے ہو گئے۔۔۔"
یہاں داستان گو کو خود خواجہ نصر الدین کی گرجتی ہوئی آواز نے روک دیا۔
"جھوٹا کہیں کا!" خواجہ نصر الدین چلائے۔ "گندے، خارشئے کتے، تیرے ہونٹ، تیری زبان اور اندر سے سارا بدن برسر اقتدار لوگوں کے جوتے چاٹتے چاٹتے سیاہ ہو گئے ہیں۔ خواجہ نصر الدین نے کبھی اور کسی جگہ حاکموں کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ تو خواجہ نصر الدین کو بدنام کرتا ہے۔ مسلمانو، اس کی بات مت سنو! اس کو نکال دو!"
وہ اس افترا پرداز سے نبٹنے کے لئے لپکے لیکن چپٹے، چیچک بھرے چہرے اور زرد تھرکنے والی آنکھوں کو پہچان کر اچانک رک گئے۔ یہ تو وہی نوکر تھا جس نے گلی میں ان سے جنت کے پل پر کٹہروں کی لمبائی کے بارے میں تکرار کی تھی۔
"اھا!" خواجہ نصر الدین نے زور سے کہا۔ "پہچان گیا تجھ کو اپنے مالک کے زر خرید اور خیر خواہ خادم! اور اب یہ بھی جان گیا تیرے ایک اور مالک بھی ہے جس کا نام تو نے چھپا رکھا ہے، بتا خواجہ نصر الدین کو چائے خانے میں برا بھلا کہنے کے لئے تجھ کو امیر سے کتے پیسے ملتے ہیں۔ کتنے پیسے خبر رسانی کے لئے ملتے ہیں اور ہر آدمی کے لئے جس کے ساتھ تو غداری کرتا ہے تجھ کو کیا ملتا ہے؟ ہر سزا پانے والے اور جیل کی کال کوٹھری میں ڈالے جانے والے اور پا بہ زنجیر کئے جانے والے اور غلام بنائے جانے والے کے لئے تجھے کیا دیا جاتا ہے؟ اے امیر کے جاسوس اور خبر رساں میں تجھے پہچان گیا!"
جاسوس نے جو ابھی تک ڈر کے مارے بے حس اور خاموش تھا اچانک تالی بجائی اور زور سے کہا:
"پہرے دارو، ادھر آؤ!"
خواجہ نصر الدین نے اندھیرے میں پہرے داروں کے دوڑنے، نیزوں کی کھڑکھڑاہٹ اور ڈھالوں کی جھنکار سنی۔ ایک لمحہ ضائع کئے بغیر وہ کود کر ایک طرف ہو گئے، انہوں نے چیچک رو جاسوس کو جو ان کا راستہ روکے کھڑا تھا زمین پر گرا دیا تھا۔
لیکن اب انہوں نے چوک کے دوسری طرف سے پہرے داروں کے قدموں کی آواز سنی۔ جس سمت بھی وہ بھاگتے ان کا سامنا پہرے داروں سے ہوتا۔ ایک لمحے کے لئے انہوں نے سوچا کہ اب بچ کر نکلنا ممکن نہیں ہے۔
"مصیبت آ گئی، پھنس گیا میں" وہ زور سے چلائے "الوداع میرے وفا دار گدھے!"
لیکن اسی وقت ایک ایسا غیر متوقع واقعہ ہوا جو بخارا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور کبھی فراموش نہ کیا جائے گا کیونکہ بڑا زبردست ہنگامہ ہوا اور تباہی آئی۔
اپنے مالک کی غم انگیز چیخیں سن کر گدھا ان کی طرف دوڑا لیکن اس کے پیچھے ایک بڑا پیپا بھی صحن میں اچھلتا کودتا چلا۔ خواجہ نصر الدین نے لاعلمی میں اپنے گدھے کو اس پیپے کے آنکڑے سے باندھ دیا تھا جو چا خانے کا مالک بڑے تہواروں پر گاہک بلانے کے لئے پیٹا کرتا تھا۔ پیپا ایک پتھر سے ٹکرایا اور بھڑبھڑایا اور گدھے نے پیچھے مڑ کر دیکھا، پیپا پھر بھڑبھڑایا۔ گدھے نے سوچا کہ بھوت پریت اس کے مالک کا خاتمہ کر کے اب اس کی بھوری کھال کے پیچھے پڑے ہیں۔ وہ دہشت سے رینکا اور اپنی دم اٹھا کر بےتحاشا چوک کے پار بھاگا۔
اسی وقت ایک کارواں کے آخری پچاس اونٹ جن پر چینی کے برتن اور تانبے کی چادریں لدی تھیں چوک میں داخل ہو رہے تھے۔ رینکنے کی دہشتناک آواز اور ایک جانور کی اچھل کود سے جو اندھیرے میں سیدھا ان سے ٹکرا گیا خوفزدہ اونٹ ادھر ادھر بھاگے۔ چینی کے برتن اور جھن جھناتی ہوئی تانبے کی چادریں نیچے آ رہیں۔
ایک لمحے میں پورے بازار میں اور ساتھ کی سڑکوں پر ایسا زبردست ہنگامہ اور گڑبڑ ہوا جس کی مثال نہیں ملتی۔ گرجنے، بجنے، ٹکرانے، چیخنے، بھونکنے، غرانے اور ٹوٹنے پھوٹنے کی آوازیں سب مل کر ایک ہنگامہ بن گئیں۔ ہر ایک بدحواس ہو گیا۔ سیکڑوں اونٹ، گھوڑے اور گدھے اپنے کھونٹوں سے تڑا کر اندھیرے میں تانبے کی چادروں کے درمیان شور کرتے بھاگ رہے تھے اور ساربان و سائیس مشعلیں لئے شور و غل کرتے ادھر ادھر دوڑ رہے تھے۔
لوگ اس ہنگامے سے جاگ پڑے اور نیم عریاں ادھر ادھر دوڑنے لگے۔ وہ ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے۔ ان کی رنج و غم اور مایوسی سے بھری ہوئی آوازیں اندھیرے میں گونج رہی تھیں کیونکہ وہ سوچ رہے تھے کہ قیامت آ گئی ہے۔
مرغ بانگ دے رہے تھے اور اپنے پر پھڑپھڑا رہے تھے۔ ہنگامہ اتنا بڑھا کہ سارے شہر اور اس کے مضافات تک پھیل گیا۔ آخر کار شہر کی فصیل پر توپیں گرجنے لگیں کیونکہ شہر کے پہرے داروں نے سمجھا کہ دشمن نے بخارا پر حملہ کر دیا ہے اور محل کی توپیں بھی چھوٹنے لگیں کیونکہ محل کے پہرے داروں نے خیال کیا کہ بغاوت ہو گئی ہے۔ بےشمار میناروں سے مؤذنوں کی غم انگیز پریشان کن اذان گونجی۔ اندھیرے میں قطعی ہنگامہ برپا تھا، کسی کو پتہ نہ تھا کہ کدھر جائے۔
اور اس تاریکی اور ہنگامے کے قلب میں خواجہ نصر الدین بھاگ رہے تھے۔ وہ بڑی صفائی سے بھڑکے ہوئے گھوڑوں اور اونٹوں سے بچتے، پیپے کی آواز کے ذریعہ اپنے گدھے کا پیچھا کر رہے تھے۔ وہ گدھے کو اس وقت تک نہ پکڑ سکے جب تک کہ رسی ٹوٹ نہ گئی اور پیپا اونٹوں کے پیروں سے لگ کر کسی طرف لنڈھک نہ گیا۔ پیپے سے بچنے کے لئے جو اونٹ بدحواس ہو کر بھاگ رہے تھے انہوں نے شامیانے، چائے خانے اور چھوٹی چھوٹی دوکانیں گرا دیں۔
خواجہ نصر الدین کو گدھے کی تلاش میں بڑی دیر لگتی لیکن اتفاق سے ایک دوسرے سے سامنا ہو گیا۔ گدھا پسینے سے شرابور سر سے پیر تک کانپ رہا تھا۔
"چل، جلدی چل، یہاں بڑا غل غپاڑہ ہو رہا ہے" خواجہ نصر الدین نے گدھے کو کھینچتے ہوئے کہا "یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اگر کسی چھوٹے گدھے سے کوئی پیپا باندھ دیا جائے تو بڑے شہر میں کتنا بڑا ہنگامہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ دیکھ، تو نے کیا کیا ہے! یہ سچ ہے کہ تو نے مجھے پہرے داروں سے بچا لیا، لیکن مجھے بخارا کے شہریوں پر افسوس آتا ہے۔ یہ سب گڑ بڑ ٹھیک کرنے میں ان کو صبح ہو جائے گی۔ ہمیں کہاں کوئی خاموش اور پرامن جگہ مل سکتی ہے؟"
خواجہ نصر الدین نے رات ایک قبرستان میں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی یہ دلیل بجا تھی کہ چاہے جتنا ہنگامہ کیوں نہ ہو، مردے نہ تو بھاگیں گے اور نہ چیخیں چلائیں گے یا مشعلیں لیکر دوڑیں گے۔
ہنگامہ پرور اور عوام کو اکسانے والے خواجہ نصر الدین نے اپنے شہر میں واپسی کا پہلا دن اسی طرح گزارا جو ان کے خطاب کے لئے سزاوار تھا۔ انہوں نے اپنے گدھے کو ایک قبر کے پتھر سے باندھ دیا اور خود ایک قبر پر دراز ہو گئے اور جلدی سو گئے۔ اس دوران میں شہر میں ہنگامہ، غل شور، گھڑگھڑاہٹ اور توپوں کی گرج کافی دیر تک جاری تھی۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers