خواجہ نصر الدین نے جو دنیا کے بہت سے نرم گرم برداشت کر چکے تھے، اپنے وطن میں پہلا دن بہت بے چینی اور سانحوں سے بھرا ہوا گزارا۔ وہ تھک گئے تھے اور چاہتے تھے کہ کوئی ایسی الگ تھلگ جگہ مل جائے جہاں آرام کر سکیں۔ "نہیں" انہوں نے ایک تالاب کے گرد جمع لوگوں کا مجمع دیکھ کر ایک آہ بھری۔ "ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے آج میری قسمت میں آرام نہیں ہے! یہاں کچھ ہو گیا ہے۔" تالاب سڑک سے تھوڑے فاصلے پرتھا اور خواجہ نصر الدین آسانی سے اس کو چھوڑ کر آگے جا سکتے تھے لیکن وہ ایسے آدمی نہیں تھے کہ کسی لڑائی جھگڑے اور ہنگامے کے موقع کو ہاتھ سے جانے دیں۔ گدھا بھی جو ان کے ساتھ مدتوں رہتے رہتے اپنے مالک کے طور طریقوں سے خوب آشنا ہو چکا تھا خود ہی تالاب کی طرف مڑ گیا۔     تفصیل سے پڑھئے
"کیا معاملہ ہے؟" گدھے کو مجمع میں گھسیڑتے ہوئے خواجہ نے چلا کر پوچھا "کیا کسی کا قتل ہو گیا ہے؟ کیا کوئی لٹ گیا؟ راستہ دو، راستہ!"
وہ بھیڑ کو چیرتے ہوئے تالاب کے کنارے تک پہنچ گئے جو سبز کائی سے ڈھکا ہوا تھا۔ وہاں انہوں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ کنارے سے چند قدم کے فاصلے پر ایک آدمی ڈوب رہا تھا۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ پانی کے اوپر آتا اور پھر اندر چلا جاتا اور پانی سے بڑے بلبلے نکلنے لگتے۔
"ارے احمقو!" خواجہ نصر الدین نے کہا "یقیناً تم اس کی قیمتی قبا اور ریشمی عمامے سے دیکھ سکتے ہو کہ یہ آدمی یا تو کوئی ملا ہے یا امیر عہدے دار؟ اور کیا تم کو ملاؤں اور عمائدین کے طریقے نہیں معلوم ہیں کہ ان کو پانی سے کس طرح گھسیٹا جائے؟"
"تم خود گھسیٹ لو نا اور اگر طریقہ جانتے ہو تو بچا لو" مجمع میں شور ہوا "جاؤ، بچاؤ! وہ پھر اوپر آگیا ہے!"
"ٹھہرو" خواجہ نصر الدین نے کہا "میں نے ابھی اپنی تقریر ختم نہیں کی ہے۔ میں یہ پوچھتا ہوں کہ تم نے کبھی کسی ملا یا امیر عہدے دار کو کسی کو کچھ دیتے دیکھا ہے؟ تو اے جاہلو وہ صرف لیتے ہیں۔ اس لئے ان کو ذرا ترکیب سے بچانا چاہئے، یعنی ان کی مزاجی خصوصیات کے لحاظ سے۔ اب ذرا دیکھنا مجھے۔"
"لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے!" مجمع سے آوازیں آئیں "اب وہ اوپر نہیں آئے گا۔"
"کیا تمھارے خیال میں پانی کی دیویاں کسی ملا یا بڑے افسر کو اتنی آسانی سے قبول کر لیں گی؟ نہیں تم غلطی پر ہو۔ پانی کی دیویاں اس سے نجات پانے کی پوری کوشش کریں گی۔"
خواجہ نصر الدین زمین پر اکڑوں بیٹھ گئے اور اطمینان سے انتظار کرنے لگے۔ وہ تہہ سے بلبلوں کو اوپر آتے اور کنارے تک تیرتے دیکھ رہے تھے جن کو ہلکی ہوا اس طرف ڈھکیل رہی تھی۔
آخر کار وہ سیاہ شکل آہستہ آہستہ گہرائیوں سے ابھری۔ ڈوبتا آدمی سطح پر دکھائی دیا۔ اگر خواجہ نصر الدین نہ ہوتے تو وہ آخری بار اوپر آیا ہوتا۔
"ارے، یہ لو!" خواجہ نصر الدین ہاتھ بڑھا کر چلائے "یہ لو!"
ڈوبتے ہوئے آدمی نے انتہائی بدحواسی میں ہاتھ کو مضبوط پکڑ لیا۔ خواجہ نصر الدین کا اس کی مضبوط گرفت کی وجہ سے منہ بگڑ گیا۔
بچائے ہوئے آدمی نے انگلیاں چھڑانے میں کافی وقت لگ گیا۔
تھوڑی دیر تک وہ بے حس و حرکت پڑا رہا۔ وہ سیوار اور بدبو دار کائی سے ڈھکا ہوا تھا جس سے اس کا چہرہ چھپ گیا تھا۔ پھر اس کے منہ، ناک اور کانوں سے پانی نکلنے لگا۔
"میرا بٹوہ!۔ میرا بٹوہ کہاں ہے؟" وہ کراہ رہا تھا اور اس وقت تک اسے چین نہ آیا جب تک بٹوہ اس کے پاس نہ پہنچ گیا۔ پھر آہستہ آہستہ اس نے گھاس پھونس جھاڑی اور اپنی قبا کے دامن سے چہرہ صاف کیا۔ خواجہ نصر الدین پیچھے ہٹ گئے۔ چپٹی ٹوٹی ناک، چوڑے چوڑے نتھنوں اور پھلی آنکھ نے اس کا چہرہ خوفناک بنا دیا تھا۔ آدمی کبڑا بھی تھا۔
"یہ رہے!" مجمع نے غل مچایا اور خواجہ نصر الدین کو آگے بڑھا دیا۔
"ادھر آؤ، میں تم کو انعام دینا چاہتا ہوں" آدمی نے اپنے پانی سے بھرے ہوئے بٹوے میں ہاتھ ڈالا اور مٹھی بھر چاندی کے سکے نکالے "حالانکہ یہ کوئی بہت ہی لاجواب یا غیر معمولی بات نہیں ہے کہ تم نے مجھ کو نکال لیا۔ میں خود ہی نکل آتا" اس نے ناشکرے پن سے اضافہ کیا۔
جب وہ بات کر رہا تھا تو معلوم نہیں کمزوری یا کسی دوسرے سبب سے اس کی مٹھی آہستہ سے کھلی اور سکے اس کی انگلیوں سے پھسل کر ہلکی جھنجھناہٹ کے ساتھ بٹوے میں پھر جا رہے۔ صرف ایک سکہ اس کے ہاتھ میں بچ رہا، نصف تانگے کا۔ا یک آہ سرد بھرتے ہوئے اس نے یہ سکہ خواجہ نصر الدین کی طرف بڑھایا۔
"یہ لو اور بازار جا کر اپنے لئے ایک قاب پلاؤ خرید لینا۔"
"یہ تو ایک قاب پلاؤ خریدنے کے لئے کافی نہیں ہے" خواجہ نصر الدین نے کہا۔
"اچھا، کوئی بات نہیں، بلا گوشت کے سادے چاول ہی سہی۔"
"دیکھتے ہو نا" خواجہ نصر الدین نے پاس کھڑے لوگوں کو مخاطب کیا " میں نے تو اس کی فطرت کے مطابق ترکیب سے اس کی جان بچائی۔"
پھر وہ اپنے گدھے کے پاس چلے گئے۔
راستے میں ان کو ایک لمبے، چھریرے اور مضبوط بازوؤں والے آدمی نے روکا، اس کا چہرہ روکھا تھا۔ اس کے بازو کالک اور کوئلے سے سیاہ ہو رہے تھے اور اس کے پٹکے میں لوہار کی سنسی لگی ہوئی تھی۔
"کیا ہے، بھئی لوہار؟" خواجہ نصر الدین نے پوچھا۔
"دیکھو" لوہار نے ان کو ناراضگی کے ساتھ اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے کہا "تمھیں معلوم ہے کہ تم نے کسی کو بچایا ہے؟ اور وہ بھی آخری وقت، جب اس کو کوئی نہیں بچا سکتا تھا؟ تمھیں معلوم ہے کہ تمھارے اس فعل کی وجہ سے کتنے آنسو بہیں گے؟ پتہ ہے کہ کتنے آدمی اپنے گھر بار، کھیتوں اور انگور کے بغیچوں سے محروم ہو جائیں گے یا غلاموں کے بازار میں پہنچ جائیں گے اور وہاں سے پا بہ زنجیر خیوا کی شاہراہ پر نظر آئیں گے!"
خواجہ نصر الدین حیرت سے اس کا منہ تک رہے تھے۔ انہوں نے کہا "بھائی لوہار! تمھاری بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔ کیا کوئی انسان کہلانے کا مستحق اور مسلمان ڈوبتے ہوئے آدمی کے پاس سے گزر جائے گا اور اس کی مدد کے لئے ہاتھ نہ بڑھائے گا؟"
"تو تمھارا خیال ہے کہ آدمی کو تمام زہریلے سانپ بچھوؤں اور بھیڑیوں کو بچانا چاہئے؟" لوہار نے زور سے کہا۔ پھر اس کو کچھ خیال آیا اور اس نے کہا "کیا تم یہیں کے رہنے والے ہو؟"
"نہیں، میں دور دراز سے آیا ہوں۔"
"تو پھر تم نہیں جانتے کہ جس آدمی کی جان تم نے بچائی ہے وہ بہت بد ذات اور خون چوسنے والا ہے اور بخارا کا ہر تیسرا آدمی اس کی وجہ سے نالاں اور گریاں ہے!"
خواجہ نصر الدین کے دماغ میں ایک ہولناک خیال چمک اٹھا۔
"لوہار!" وہ یہ ڈرتے ہوئے رک گئے کہ کہیں ان کا خیال صحیح نہ ثابت ہو "اس آدمی کا نام مجھے بتا دو۔"
"تم نے جعفر سود خور کو بچایا ہے، خدا اس کی زندگی اور عاقبت دونوں خراب کرے! خدا کرے کہ اس کی چودہ نسلوں تک کے سڑے زخم ہوں!" لوہار نے جواب میں کہا۔
" کیا کہا؟" خواجہ نصر الدین چلائے "تم کیا کہہ رہے ہو؟ ہائے افسوس، افسوس! کیسی شرمناک بات میں نے کی! کیا میرے ہاتھوں نے اس سانپ کو پانی سے نکالا؟ سچ مچ اس گناہ کا کوئی ازالہ نہیں ہو سکتا! افسوس، شرف کی بات ہے!"
اس کی ندامت سے لوہار متاثر ہو کر ذرا نرم پڑا۔
"مسافر، چپ کرو، اب کیا ہو سکتا ہے۔ تم اس وقت تالاب تک کیوں پہنچے۔ تمھارا گدھا سڑک پر ہی اڑ کر کیوں نہیں رک گیا؟ سود خور کو ڈوبنے کا موقع مل جاتا۔"
"یہ گدھا!" خواجہ نصر الدین نے کہا "اگر یہ سڑک پر رکتا ہے تو صرف میری خورجینیں پیسے سے خالی کرانے کے لئے کیونکہ اگر وہ بھری ہوں تو اس کے لئے بھاری ہو جاتی ہیں۔ لیکن جب میری بدنامی کا سوال ہوتا ہے، سود خور کو بچانے کا، تو یقین کرو کہ یہ گدھا ضرور مجھے وقت پر وہاں پہنچائے گا!"
"ہاں" لوہار نے اتفاق کیا "لیکن جو کچھ ہوا وہ واپس نہیں لیا جا سکتا۔ سود خور کو اب تالاب میں واپس نہیں ڈھکیلا جا سکتا۔"
خواجہ نصر الدین چونک پڑے۔
"مجھ سے ایک برا کام ہو گیا لیکن میں اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کروں گا! سنو! بھائی لوہار، میں قسم کھاتا ہوں کہ جعفر سود خور کو میں ڈبوؤں گا۔ میں اپنے والد کی ریش مبارک کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ ہاں، میں اس کو اسی تالاب میں ڈبوؤں گا! لوہار! میری قسم یاد رکھنا۔ کیونکہ میں فضول بات نہیں کرتا۔ سود خور ڈوبے گا! اور جب تم اس کے بارے میں بازار میں سننا تو یہ سمجھ لینا کہ میں نے بخارا شریف کے شہریوں کے سامنے اپنے جرم کا خمیازہ پورا کر دیا ہے!"

(۸)
جب خواجہ نصر الدین بازار پہنچے تو شفق کی روشنی ٹھنڈے اور خوشبو دار دھند کی طرح شہر پر چھاتی جا رہی تھی۔
چائے خانوں میں خوشگوار الاؤ جلنے لگے تھے اور جلد ہی پورے بازار کو روشنیوں نے اپنے آغوش میں لے لیا۔ کل ایک بڑا بازار ہونے والا تھا۔ اونٹوں کے کارواں جوق در جوق چلے آ رہے تھے۔ جب کوئی کارواں اندھیرے میں غائب ہو جاتا تو اس کی سریلی، صاف اور اداس گھنٹیوں کی آواز بڑی دیر تک ہوا میں گونجتی رہتی اور جب دور یہ آواز غائب ہو جاتی تو دوسرا کارواں چوراہے پر آ جاتا اور اس کی گھنٹیاں بجنے لگتیں اور اداس گیت سنانے لگتیں۔ یہ اس طرح جاری تھا جیسے رات خود دنیا کے کونے کونے سے لائی ہوئی آوازوں سے بھر گئی ہو اور آہستہ آہستہ گنگناتی، تھرتھراتی اور کراہتی ہو۔ ہندوستان، ایران، عرب، افغانستان اور مصر کی ان دیکھی گھنٹیاں گونج رہی تھیں۔ خواجہ نصر الدین ان کے نغمے سن رہے تھے اور یہ محسوس کر رہے تھے کہ وہ ان کو تا ابد سن سکتے ہیں۔ قریب ایک چائے خانے میں طنبورہ بج رہا تھا اور اس کا ساتھ دو تارے کے تار دے رہے تھے۔ کسی ان دیکھے گائک نے اپنی صاف آواز ستاروں تک پہنچا دی تھی۔ وہ اپنی محبوبہ کے بارے میں گا کر اس کا شکوہ کر رہا تھا۔
اس پر نغمہ فضا میں خواجہ نصر الدین رات بھر ٹھہرنے کی جگہ تلاش کر رہے تھے۔
"میرے پاس اپنے اور گدھے کے لئے آدھا تانگا ہے" انہوں نے ایک چائے خانے کے مالک سے کہا۔
"آدھے تنگے میں تم رات تو یہاں گزار سکتے ہو" مالک نے کہا "لیکن کمبل نہیں ملے گا۔"
"اور میں اپنا گدھا کہاں باندھوں؟"
"مجھے گدھے سے کیا مطلب؟"
چائے خانے کے قریب کوئی باندھنے کی جگہ نہ تھی۔ خواجہ نصر الدین نے دیکھا کہ برساتی کے نیچے ایک آنکڑہ نکلا ہوا ہے اور یہ بغیر دیکھے کہ آنکڑہ کس چیز میں لگا ہے انہوں نے اپنا گدھا اس میں باندھ دیا۔ چائے خانے کے اندر پہنچتے ہی وہ دراز ہو گئے کیونکہ وہ تھک کر چور ہو چکے تھے۔
وہ ابھی اونگھ ہی رہے تے کہ ان کو اپنا نام سنائی دیا اور انہوں نے آنکھیں کھول دیں۔
قریب ہی کچھ آدمی جو بازار آئے تھے ایک چھوٹے سے حلقے میں بیٹھے چا پی رہے تھے۔ ان میں ایک ساربان تھا، ایک گلہ باد اور دو کاریگر۔ ان میں ایک مدھم آواز میں کہہ رہا تھا:
"خواجہ نصر الدین سے یہ بھی موسوم ہے۔ ایک دن وہ بغداد میں بازار سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک باورچی خانے میں غل غپاڑہ سنا۔ جانتے ہی ہو کہ ہمارے خواجہ نصر الدین کتنے کھوجی آدمی ہیں وہ اندر پہنچ گئے۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ موٹا، لال چہرے والا باورچی خانے کا مالک ایک فقیر کی گدی میں ہاتھ دیکر اسے ہلا رہا تھا۔ وہ فقیر سے پیسے طلب کر رہا تھا لیکن فقیر کچھ دینے سے انکار کر رہا تھا۔
"یہ ہنگامہ کیوں ہے؟" ہمارے خواجہ نصر الدین نے پوچھا " تم دونوں کیوں جھگڑ رہے ہو؟"
یہ ہنگامہ کیوں ہے؟ ہمارے خواجہ نصر الدین نے پوچھا۔ "تم کیوں جھگڑ رہے ہو؟"
"یہ بد معاش، کمینہ، چور، اس کی آنتیں سڑیں، مالک نے چیخ کر کہا "میرے باورچی خانے میں آیا، اپنی بغل سے نان کا ایک ٹکڑا نکالا اور بڑی دیر تک اس کو انگیٹھی کے اوپر سینکتا رہا یہاں تک کہ نان میں بوٹی کے کبابوں کی خوشبو آ گئی اور وہ زیادہ نرم اور مزے دار ہو گئی۔ پھر یہ روٹی چٹ کر گیا۔ اور اب، اس کے دانت گریں، کھال پھٹ جائے، پیسے نہیں دیتا ہے!"
"یہ سچ ہے؟" خواجہ نصر الدین نے درشتی سے پوچھا۔ فقیر اتنا ڈرا ہوا تھا کہ اس کے منہ سے کوئی بات ہی نہ نکلی اور اس نے صرف سر ہلا دیا۔ "جانتے ہو، یہ غلط بات ہے" خواجہ نصر الدین نے کہا"یہ غلط بات ہے کہ کسی کی ملکیت کا مفت استعمال کیا جائے"۔
"سن رہا ہے نا، یہ معزز اور لائق صاحب کیا کہہ رہے ہیں؟" باورچی خانے کے مالک نے خوش ہو کر کہا۔
"تمھارے پاس پیسے ہیں؟" خواجہ نصر الدین نے فقیر سے پوچھا۔ فقیر نے اپنا ایک ایک پیسہ نکال کر خواجہ نصر الدین کے حوالے کر دیا۔ باورچی خانے کے مالک نے اپنا چکٹا ہاتھ پیسے لینے کے لئے بڑھایا۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers