"واقعی تم نے اپنے گدھے پر سے مزے میں قلابازی کھائی تھی" اچانک قد آور لمبی داڑھی والے پتھر کٹے نے زور کا ٹھٹھا مار کر کہا۔ اس پر اور دوسرے لوگ بھی قہقہے لگانے لگے۔ مرد موٹی بھاری آوازوں سے اور عورتیں اپنی باریک آواز، بچے مسکرا کر خواجہ نصر الدین کی طرف ہاتھ پھیلانے لگے جو سب سے زور سے ہنس رہے تھے۔
"ہا ہا ہا!" خواجہ ہنس رہے تھے اور خوشی سے دہرے ہوئے جا رہے تھے۔ "تم نہیں جانتے کہ یہ کس قسم کا گدھا ہے! بڑا کمبخت ہے یہ گدھا!"
"نہیں، نہیں" بیمار بچے والی عورت نے کہا "اپنے گدھے کو ایسا نہ کہو۔ وہ سب سے زیادہ ہوشیار، انتہائی شریف اور دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی گدھا ہے۔ اس کا جیسا گدھا نہ کبھی ہوا ہے اور نہ ہو گا۔ میں تو اپنی ساری زندگی اس کی دیکھ بھال کرنا پسند کروں گی، اس کو بہترین اناج کھانے کودوں گی، اس پر کام کا بوجھ کبھی نہ ڈالوں گی، اس کو کھرارے سے صاف کرونگی اور دم میں کنگھا کروں گی۔ کیونکہ اگر یہ لاجواب گدھا، جو گلاب کی سی خوبیاں رکھتا ہے، خندق کے اوپر سے جست نہ لگاتا اور تم کو کاٹھی سے نہ اتار پھینکتا تو اے مسافر، تم جو ہمارے لئے تاریکی میں سورج بن گئے ہو، ہم کو دیکھے بغیر یہاں سے گزر جاتے اور ہم تم کو روکنے کی جرأت بھی نہ کر سکتے۔"
"ٹھیک ہی کہتی ہے" بڈھّے نے بڑی سنجیدگی سے کہا "ہم اپنی نجات کے لئے اس گدھے کے بہت کچھ احسان مند ہیں۔ سچ مچ یہ دنیا کے لئے باعث ناز ہے اور گدھوں کے درمیان ہیرے کی طرح درخشاں۔"
پھر سب نے گدھے کی خوب خوب تعریفیں شروع کر دیں اور اس کے نان، جوار کے لائے، سوکھی خوبانیاں اور شفتالو کھلانے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کرنے لگے۔ گدھا اپنے دم کی مورچھل سے پریشان کرنے والی مکھیوں کو اڑاتا جاتا اور سنجیدگی سے ان لوگوں کے ہدیے قبول کرتا رہا لیکن وہ گھبرا گھبرا کر اس چابک کو بھی دیکھتا جاتا تھا جو خواجہ نصر الدین چپکے چپکے اسے دکھا رہے تھے۔
دن ڈھل چلا تھا، سائے لمبے ہوتے جا رہے تھے۔ لال ٹانگوں والی سارسیں غل مچاتی اور پر پھڑپھڑاتی اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہی تھیں جہاں ان کے بچے اپنی حریص، کھلی ہوئی چونچیں ان کی طرف بڑھا دیتے تھے۔
خواجہ نصر الدین ان لوگوں سے رخصت ہوئے، سب نے جھک کر ان کا شکریہ ادا کیا۔
"ہم آپ کے شکرگزار ہیں، آپ نے ہمارے دکھ درد کو سمجھا۔"
"کیسے نہ سمجھتا؟" خواجہ نے جواب دیا "آج ہی چار دوکانیں اور آٹھ کاریگر جو میرے لئے کام کر رہے تھے، ایک مکان جس کے باغ میں فوارے اچھلتے تھے اور گانے والی چڑیاں سونے کے پنجروں میں درختوں سے لٹکی تھیں میرے ہاتھ سے جاتے رہے۔ میں تم لوگوں کی بات کیسے نہ سمجھتا!"
بڈھّے نے اپنے پوپلے منہ سے کہا "مسافر، میرے پاس تمھارا شکریہ ادا کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ صرف ایک چیز ہے جو میں نے گھر چھوڑتے وقت ساتھ لے لی تھی۔ یہ ہے قرآن پاک۔ لو اسے لے لو، یہ دنیا میں تمھارے لئے مشعل ہدایت بنے گا۔"
خواجہ نصر الدین کو مقدس کتابوں سے کوئی سرکار نہیں تھا۔ پھر بھی انہوں نے اس خیال سے قرآن لے لیا کہ بڈھّے کے جذبات کو ٹھیس نہ لگے، اس کو اپنی خورجین میں رکھا اور اچک کر کاٹھی پر پہنچ گئے۔
"آپ کا نام؟ آپ کا نام؟" سب ایک ساتھ چلائے۔ "اپنا نام تو بتاتے جائیے تاکہ ہم آپ کے لئے دعا کر سکیں۔:
تم لوگوں کو میرا نام جاننے کی کیا ضرورت ہے؟ حقیقی نیکی کے لئے شہرت نہ چاہئے۔ جہاں تک دعا کا تعلق ہے تو اللہ کے پاس اچھے کاموں کی خبر پہنچانے کے لئے مقدس فرشتوں کی کثیر تعداد ہے۔ اگر یہ فرشتے سست اور لا پرواہ ہیں اور زمین پر نیک و بد اعمال کے شمار کی بجائے نرم بادلوں پر سوتے رہتے ہیں تو آپ کی دعائیں بھی بیکار ہوں گی کیونکہ اللہ معتبر اشخاص کی تصدیق کے بغیر ان کو نہیں سنے گا۔"
جب خواجہ بول رہے تھے تو ایک عورت نے گھٹی ہوئی آہ سی بھری۔ یہی دوسری عورت نے بھی کیا۔ پھر بڈھا چونکا اور خواجہ نصر الدین کو گھورنے لگا۔ لیکن خواجہ کو جلدی تھی اور انہوں نے کوئی توجہ نہ کی۔
"خدا حافظ! تم امن چین سے رہو اور خوشحال ہو۔"
لوگوں کی دعا کے ساتھ وہ سڑک کے موڑ پر غائب ہو گئے۔
باقی لوگ خاموش کھڑے تھے۔ صرف ایک خیال ان کی آنکھوں میں چمک رہا تھا۔ اس خاموشی کو بڈھّے نے توڑا۔ اس نے بڑی سنجیدگی سے متاثر کن لہجے میں کہا:
"دنیا میں صرف ایک ہی آدمی یہ کام کر سکتا تھا۔ ہاں، اور دنیا میں صرف ایک آدمی ایسی باتیں کہہ سکتا تھا اور دنیا میں صرف ایک آدمی کی روح ایسی ہے جس کی روشنی اور گرمی غریبوں اور مظلوموں کے دلوں کو منور کرتی ہے اور گرمی بخشتی ہے اور یہ آدمی ہیں ہمارے۔۔۔"
"زبان بند رکھو!" ایک آدمی نے جلدی سے لقمہ دیا "کیا تم بھول گئے کہ دیواروں کی آنکھیں ہوتی ہیں اور پتھروں کے کان، ابھی ہزاروں کتے ان کے پیچھے پڑ جائیں گے۔"
"تم ٹھیک کہتے ہو" تیسرے آدمی نے کہا "ہمیں اپنی زبانیں بند رکھنی چاہئیں کیونکہ اس وقت ان کی حالت ایسی ہے کہ وہ ایک تنے ہوئے رسے پر چل رہے ہیں۔ ذرا سا دھکا بھی ان کی تباہی کا باعث ہو سکتا ہے۔"
"چاہے وہ میری زبان کھینچ لیں میں ان کا نام نہیں بتاؤں گی!" بیمار بچے والی عورت نے کہا۔
"میں بھی خاموش رہوں گی" دوسری عورت نے کہا "مجھے موت آ جائے جو میں بھولے سے بھی ان کو رسے تک پہنچاؤں۔"
غرض سب نے اس طرح کی باتیں کہیں سوائے قد آور لمبی داڑھی والے پتھر کٹے کے جو ذرا زود فہم نہ تھا۔ جو کچھ اس نے سنا تھا اس سے نہ کچھ سمجھ سکا کہ آخر اس مسافر کے پیچھے کتے کیوں پڑ جائیں گے۔ وہ نہ تو کوئی قصاب ہے اور نہ قورمہ بیچنے والا۔ پھر اگر مسافر تنے ہوئے رسے پر چلنے والا ہے تو اس کا نام زور سے کیوں نہ لینا چاہئے۔ اور وہ عورت اپنے محسن کو رسے تک پہنچانے پر مرنے کو کیوں ترجیح دیتی ہے جو ان کے پیشے کے لئے ضروری ہے؟ اب پتھر کٹا بالکل حیران ہو چکا تھا۔ وہ زور سے کھنکھارا، ایک گہرا سانس لیکر فیصلہ کیا کہ اس کے بارے میں بالکل نہ سوچے ورنہ وہ پاگل ہو جائے گا۔
اس دوران خواجہ نصر الدین کافی فاصلہ طے کر چکے تھے لیکن اب بھی ان کی آنکھوں کے سامنے ان غریبوں کے سوکھے ہوئے چہرے پھر رہے تھے۔ ان کو بیمار بچہ برابر یاد آ رہا تھا، اس کے بخار سے تپتے ہوئے رخسار اور خشک ہونٹ۔ انہوں نے اس سفید ریش بڈھّے کے بارے میں سوچا جس کو گھر سے نکال دیا گیا تھا اور ان کے دل کی گہرائیوں سے شدید غصے کا سیلاب امنڈ پڑا۔
"ذرا ٹھہر تو سہی، سود خور، ذرا ٹھہر!" وہ بڑبڑائے اور ان کی کالی آنکھوں میں ایک خطرناک شعلہ لپکا۔ "میں تمہاری حالت بری بنا دوں گا۔ اور امیر جہاں تک تیرا تعلق ہے" وہ بڑبڑاتے گئے" کانپ کر زرد پڑ جا کیونکہ میں، خواجہ نصر الدین بخارا آگیا ہوں! میرے بدحال لوگوں کا خون چوسنے والی بد ذات اور ہولناک جونکو! او خونخوار حریص بھیڑیو! اے گندے گیدڑو! تم ہمیشہ تو پروان نہیں چڑھو گے اور نہ لوگ ہی ہمیشہ پریشان حالی میں مبتلا رہیں گے! اور جہاں تک جعفر سود خور تیرا تعلق ہے، میرا نام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے شرمسار رہے گا اگر میں ان تمام مصیبتوں کا عوض تجھ سے نہ چکا لوں جو تو غریبوں پر توڑتا ہے۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers