اسی جنگل پر ایک ظالم شیر کی حکومت ہوا کرتی تھی جو بے حد ظالم اور خطرناک شیر تھا۔۔۔ ہر چھوٹا بڑا جانور اس کے ظلم و ستم سے تنگ تھا۔۔۔۔۔ اس شیر کے بھیڑیوں کے ساتھ یارانے تھے۔۔۔۔۔ اور بی لومڑی اس کے خوشامدیوں میں تھیں۔۔۔۔ جو شیر کی خوشامد کر کے بے گناه جانوروں کو شیر کے ہاتھوں مروا دیا کرتی۔۔۔۔۔۔۔ بھیڑیوں نے پورے جنگل کا امن و امان تہہ بالا کر رکھا تھا۔۔۔ یہ خوانخوار بھیڑیۓ معصوم اور بے گناه جانورں کو بے دردی سے ادھیڑ دیا کرتےتھے۔ کوئی جانوران بھیڑیوں کا کچھ نہ بگاڑ پاتا اگر ظلم و ستم کا مارا کوئی جانور شیر کے پاس بھیڑیوں کی شکایت لے کر چلا بھی جاتا تو شیر بھیڑیوں کو سرزنش کرنے کی بجاۓ الٹا فریادی کو چیر پھاڑ دیتا اس لیے جانوروں نے شیر سے بھیڑیوں کی شکایت کرنا بھی چھوڑ دی۔۔۔۔۔۔ تفصیل سے پڑھئے
جب اس ظالم شیر اور بھیڑیوں کا ظلم و ستم حد سے بڑھنے لگا تو جنگل کے جانور آہستہ آہستہ یہ جنگل چھوڑ کر دوسرے جنگلوں کی طرف ہجرت کرنے لگے۔۔۔۔ یہ بات بی لومڑی نے شیر کے کان میں ڈال دی کہ جنگل کے جانور جنگل چھوڑ کر کہیں اور جا رھے ہیں تو اس نے بھیڑیوں کے سردار کو اپنے دربار میں طلب کر کے جنگلوں کی سرحدوں پر پہره دینے کا حکم دے دیا
اب جو کوئی جانور بھی جنگل چھوڑ کر جانے لگتا وه سرحد پر موجود خونخوار بھیڑیوں کا شکار ھو جاتا۔۔۔۔۔۔۔ بھیڑیۓ انہیں بےدردی سے چیر پھاڑ دیتے ظالم شیر نے پورے جنگل میں اعلان کروا دیا کہ جس جانور نے جنگل چھوڑ کر جانے کی کوشش کی اس کی پوری نسل چیر پھاڑ دی جاۓ گی۔۔۔۔۔۔۔ جانور اس ظالم شیر کا ظالمانہ حکم سن کر سہم گۓ تھے اور جنگل میں محسور ہوکر رہے گۓ تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ ظالم شیر نے بھیڑیوں سے مل کر جنگل چھوڑ کر جانے کی پاداش میں جانوروں سے بڑا خوفناک انتقام لیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ ظالم شیر یا بھیڑیوں کو جہاں کوئی جانور نظر آتا وه اسے بے دردی سے چیر پھاڑ دیا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔ ظالم شیر اپنے خاندان کے جانور چیتوں کا بھی سخت دشمن تھا کسی چیتے کو شکار کی اجازت نہ تھی۔۔۔۔۔ ظالم شیر نے خونخوار بھیڑیوں سے مل کر پورے جنگل پر ہی قبضہ کر رکھا تھا۔۔۔۔۔۔ چیتے بھی اس ظالم شیرسے سخت نفرت کرتے تھے مگر وه شیر اور چیتوں کے مقابلے میں بے بس تھے۔۔۔۔ وه کھل کر شیر کی مخالفت نہیں کرسکتے تھے۔۔۔۔۔ شیر یا بھیڑیۓ جب بھی ان پر حملہ کرتے یہ چیتے مل کر ان کا مقابلہ کرتے اور انہیں مار بھگاتے۔۔۔۔۔۔ چیتے صرف اپنا دفاع کر سکتے تھے جنگل میں ظالم شیر کی حکومت کا خاتمہ ان کے بس کی بات نہیں تھی۔۔۔۔ انہوں نے اپنے علاقہ کا دفاع مضوبط بنا ھوا تھا۔۔۔۔
یہ ان دنوں کی بات تھی جب ہوبو باره سال کا ہو چکا تھا ایک دن وه اسے دودھ پلانے والی ماده بن مانس کے ساتھ جنگل میں دور کافی دور نکل گیا۔۔۔۔۔ اچانک ان کے سامنے بھیڑیوں کا پورا غول آ گیا۔۔۔۔۔ ماده بن مانس اور ہوبو بھیڑیوں کے اس غول کو دیکھ کر سہم گے۔۔۔۔۔ انہوں نے ان ظالم بھیڑیوں کے ظلم کی کہانیاں دوسرے جانوروں سے سن رکھی تھی۔۔۔۔۔۔ بھیڑیۓ خونخوار آوازیں نکالتے گول دائرے کی شکل میں ان کی طرف بڑھنے لگنے۔۔۔ ماده بن مانس اور ھوبو کا ان بھیڑیوں سے بچنے کے کوئی چانس نہیں تھے۔۔۔۔۔۔۔ بھیڑیوں نے ان کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا
ھوبو تم اس درخت پر چڑھ جاؤ جلدی۔۔۔۔ ورنہ یہ بھیڑیۓ تمہیں پھاڑ کھائیں گے۔ماده بن مانس نے ھوبو سے چیخ کر کہا۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماں میں تم کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا۔۔۔۔۔۔۔ ہوبو نے کہا
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوبو میری خیر ھے تم ان موذیوں سے بچوں۔۔۔۔۔ دیکھو وه قریب آ رھے ہیں جلدی کرو۔۔۔۔۔ درخت پر چڑھ جاؤ۔۔۔۔۔۔ جلدی۔۔۔۔۔۔۔ اپنی طرف بڑھتے بھیڑیوں کو دیکھ ماده بن مانس چیخ کر بولی
بھیڑیۓ لمحہ با لمحہ اپنا گھیرا تنگ کرنے لگے۔۔ یہ دیکھ کر ہوبو نے جست لگائی اور اپنے قریبی درخت کی شاخ سے لٹک گیا۔۔۔۔۔ ایک بھیڑیۓ نے ہوبو کو درخت پر جاتے دیکھ کر اسے پکڑنے کےلیے ایک اونچی جست لگائی مگر اتنی دیر میں ھوبو اس کی دسترس سے اونچا ھو چکا تھا اور بھیڑیا دور جار گرا۔۔ھوبو ایک درخت کی ایک اونچی شاخ پر جا بیٹھا اور نیچے کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
بھیڑیوں نے مل کر ماده بن مانس پر حملہ کر دیا ۔۔۔ ماده بن مانس ان سے بچنے کےلیے اندھا دھند اپنے ہاتھ پاؤں چلانے اور خوفزده آواز میں چیخنے لگی مگر وه اس میں کامیاب نہ ہو سکی۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ بھیڑیوں نے اسے چاروں طرف سے گھیر کر حملہ کیا تھا اور وه تعداد میں بھی زیاده تھے۔چند لمحوں میں بھیڑیوں نے ماده بن مانس کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔۔۔۔۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں ماده بن مانس کی ادھ کھائی لاش پڑی ھوئی تھی جب ان ظالم بھیڑیوں کا پیٹ بھر گیا تو وه پیچے ہٹ کر بیٹھ گے اور درخت کے اوپر بیٹهے ھوبو کو دیکھنے لگے جو ماده بن مانس کا خوفناک انجام دیکھ کر خوف سے تھر تھر کانپ رھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چند بھیڑیوں نے درخت کے ارد گرد چکر لگانے شروع کر دیۓ شاید وه درخت پر چڑھنے کا رستہ ڈھونڈ رھے تھے۔۔۔۔ ہوبو یہ دیکھ مزید سہم گیا
کچھ دور ایک گھنے درخت پر بیٹھا ایک بندر بھی یہ خوفناک منظر دیکھ رھا تھا۔۔۔۔ وه بھی خوفزده ھو گیا تھا مگر ھوبو جتنا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ وه کسی نہ کسی طرح بھیڑیوں سے چھپتا چھپاتا ھوبو تک پہنچ گیا۔۔۔
ھوبو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس بندر نے ھوبو کے پاس جا کر سرگوشی کی۔۔۔۔۔۔ ھوبو یکدم چونک کر بندر کی طرف مڑا اور اس کے منہ سے نہ چاھتے ھوۓ بھی ایک چیخ نکل گی۔۔۔۔ جو بھیڑیوں نے بھی سن لی تھی وه چونک کر ھوبو کی طرف دیکھنے لگے انہیں ھوبو کے ساتھ بیٹھا ھوا بندر نظر آ گیا تھا۔۔۔۔۔ وه بندر کو دیکھ کر غرانے لگے
اوه۔۔۔۔۔ ہوبو۔۔۔۔۔ تم نے بھیڑیوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔۔۔۔۔ میں نے احتیاط برتی تھی اس سلسلے میں کہ بھیڑیوں کو میری موجودگی کا احساس نہ ھو مگر تم نے ان کو ھوشیار کر دیا۔۔۔۔۔۔۔ خیرکوئی بات نہیں۔۔۔۔ دیکھا جاۓ گا۔۔۔۔ بندر بولا
ھوبو چپ رھا۔۔۔۔ کیونکہ وه بہت خوفزه تھا۔۔۔۔ بھیڑیۓ ان کو دیکھ کر مسلسل غرا رھے تھے۔۔۔
ھوبو۔۔۔۔۔۔۔۔ بندر نے ھوبو کا کندھا پڑ کر اسے جھنجھوڑا۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں سے نکلو ورنہ یہ خوانخوار بھیڑیئۓ تمہیں زنده نہ چھوڑیں گے۔۔۔۔۔
مممم۔۔۔۔۔ مگر کیسے نکلوں۔۔۔۔ ھوبو ھکلا کر بولا
درختوں کی شاخوں پر جھولتے ھوۓ جس طرح میں آیا ھوں۔
بندر نے کہا۔
اوه۔۔۔۔۔۔ کیا تم کو یقین ھے کہ یہ بھیڑیۓ ھمارا پیچھا نہ کریں گے۔۔۔۔ ہوبو نے بھیڑیوں کی طرف اشاره کرتے ھوۓ کہا۔۔
ہم درختوں کی شاخوں پر جھولتے ہوۓ چھپ چھپ کر جائیں گے۔۔۔ مجھے یقین ھے کہ یہ ھمارا زیاده دیر تک پیچھا نہیں کریں گے۔۔۔۔!!
دد۔۔۔ دیکھ لو کہیں یہ ہمارے پیچھا کرتے کرتے ھمارے قبیلے تک نہ پہچ جائیں۔۔۔ ہوبو ہکلایا
نہیں۔۔۔۔۔۔۔ ایسا نہیں ھو گا ۔۔۔۔۔ بندر بولا۔۔۔ ہم قبیلے میں داخل ہونے سے پہلے اپنا بہت سا وقت گھنے درختوں پر گذار دیں گے۔۔۔۔۔
ہممممم۔۔۔۔ ہوبو بولا۔ ٹھیک ہے نکلو پھر یہاں سے۔۔۔
ٹھیک ھے تم میرے پیچھے آ؎ؤ۔۔۔بندر یہ کہہ کر درخت کی شاخوں کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔۔اور پھر شاخوں سے ہوتا ھو دوسرے درخت پھر جھول گیا ۔۔۔۔ ہوبو نے بھی اس کی تقلید کی اور اس کے پیچھے اسی انداز میں ہوتا ہوا دوسرے درخت پر پہنچ گیا۔۔۔
بھیڑیۓ انہیں اس طرح بھاگتے دیکھ کر خوفباک آوازیں نکالتے تیزی سے ان کی طرف بڑھے مگر بندر اور ہوبو درختوں کی شاخوں پر جھولتے آگے ہی آگے بڑھے جا رھے تھے۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers