جب خواجہ نصر الدین شہر کے دوسرے سرے پر پہنچ گئے تو وہ رکے، اپنا گدھا ایک چائے خانے کے مالک کے سپرد کیا اور تیزی کے ساتھ ایک طعام خانے پہنچے۔ وہاں بڑی بھیڑ تھی، کھانے کی مہک ہر طرف پھیلی تھی۔ تندور روشن تھے اور شعلے لپک رہے تھے جو باورچیوں کی پسینے سے تر پیٹھوں کو اور چمکا دیتے تھے۔ باورچی کمر تک ننگے کام کر رہے تھے۔ وہ ادھر ادھر دوڑ رہے تھے، شور کر رہے تھے، ایک دوسرے کو دھکیل رہے تھے اور باورچی خانے میں کام کرنے والے چھوکروں کی گدی پر دھپ بھی جما دیتے تھے۔ تفصیل سے پڑھئے
گھبرائی گھبرائی آنکھوں والے چھوکرے ادھر ادھر بھاگ بھاگ دھکا پیل، غل اور ہنگامے میں اضافہ کر رہے تھے۔ لکڑی کے ناچتے ہوئے ڈھکنوں والے بڑے بڑے دیگچوں سے کھدبدانے کی آواز آ رہی تھی، چھت کے قریب بھاپ کے گھنے بادل جمع تھے جہاں لاتعداد مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ اس دھندلکے میں گھی زوروں سے سنسنا اور ابل رہا تھا، انگیٹھیوں کی دیواریں لال بھبھوکا ہو کر چمک رہی تھیں اور سیخوں سے چربی ٹپک کر کوئلے پر گر رہی تھی اور نیلگوں دھوئیں دار شعلے بھڑکا کر جل جاتی تھی۔ یہاں پلاؤ پک رہا تھا، بوٹی کے کباب بھونے جا رہے تھے، اوجھڑی ابل رہی تھی اور پیاز، مرچ، گوشت اور دنبے کی دم کی چربی سے بھرے ہوئے سموسے سینکے جا رہے تھے۔ چربی تندور میں پگھل کر سموسوں سے نکل پڑتی تھی اور چھوٹے چھوٹے بلبلے بناتی تھی۔
بڑی مشکل سے خواجہ نصر الدین کو ایک جگہ ملی جہاں ان کو اس طرح کسمسا کر بیٹھنا پڑا کہ جن لوگوں کو انہوں نے اپنی پیٹھ اور پہلو سے دبایا تھا وہ چیخ اٹھے۔ لیکن کوئی ناراض نہیں ہوا، کسی نے ایک لفظ بھی ان کو نہیں کہا اور نہ وہ خود ہی بڑبڑائے۔ ان کو ہمیشہ سے بازار کے طعام خانوں کی ایسی گرما گرم بھیڑ بھکڑ، یہ تمام چیخ پکار، ہنسی مذاق، قہقہے، غل غپاڑہ، دھکم دھکا، زوردار کھانس کھنکار اور ان سیکڑوں آدمیوں کے کھانا کھانے کی آوازیں جو دن بھر کی شدید محنت کے بعد کھانے میں انتخاب کی تاب نہیں رکھتے اور ان کے طاقتور جبڑے ہر چیز کو چبا ڈالتے ہیں، خواہ وہ گوشت ہو یا ہڈی۔ ہر سستی اور افراط سے ملنے والی چیز کو سخت معدہ قبول کر لیتا ہے۔ خواجہ نصر الدین نے بھی خوب جی بھر کر کھایا۔ وہ ایک جگہ بیٹھ کر تین پلیٹ شوربہ، تین پلیٹ پلاؤ اور دو درجن سموسے کھا گئے۔ سموسے ختم کرنے میں ذرا کوشش کرنی پڑی پھر بھی کھا لیا کیونکہ خواجہ کا یہ قاعدہ تھا کہ جس چیز کی قیمت ادا کرتے تھے اس کو پلیٹ میں نہیں چھوڑتے تھے۔
آخر کار انہوں نے دروازے کا رخ کیا اور جب کسی طرح کہنیوں سے راستہ بنا کر وہ کھلی ہوا میں پہنچے تو پسینے سے نہائے ہوئے تھے۔ ان کے بازو اور پیر ایسے کمزور اور نرم ہو رہے تھے جیسے وہ کسی حمام میں ابھی ابھی کسی ہٹے کٹے غسال کے ہاتھ سے چھٹکارا پا کر نکلے ہوں۔ کھانے اور گرمی سے بھاری پن محسوس کرتے ہوئے وہ اس چائے خانے تک پیر گھسیٹتے پہنچے جہاں انہوں نے اپنا گدھا چھوڑا تھا۔ انہوں نے چائے لانے کے لئے کہا اور نمدے پر مزے میں دراز ہو گئے۔ ان کی آنکھیں بند ہو گئیں اور ان کے دماغ میں پرسکون اور خوشگوار خیالات آنے لگے:
"اس وقت میرے پاس کافی رقم ہے۔ اس کو کسی دوکان میں لگا دینا اچھا رہے گا۔ ساز یا برتن بنانے کی دوکان میں۔ میں دونوں حرفتیں جانتا ہوں۔ اب آوارہ گردی چھوڑ دینا چاہئے۔ کیا میں دوسروں سے کم عقل ہوں؟ کیا میں کسی مہربان اور حسین لڑکی کو بیوی نہیں بنا سکتا؟ کیا میرے بیٹا نہیں ہو سکتا جس کو میں گود میں لے کر کھلاؤں؟ پیغمبر صاحب کی ریش مبارک کی قسم، ننھا شریر بڑھ کر پکا بد معاش ہو گا اور میں اس کو اپنی سوجھ بوجھ ضرور اس کو ادا کر سکوں گا۔ بس، میں نے طے کر لیا۔ خواجہ نصر الدین نے اپنی بے سکون زندگی ختم کر دی۔ اب ابتدا کے لئے میں کمہار کا کام کروں یا ساز بنانے والے کا۔۔۔"
انہوں نے حساب لگانا شروع کیا۔ اچھی دوکان کے لئے کم از کم تین سو تانگوں کی ضرورت ہو گی لیکن ان کے پاس تو صرف ڈیڑھ سو تھے۔ انہوں نے چیچک رو ملازم پر لعنت بھیجی:
"اللہ اس لٹیرے کو اندھا کرے۔ اس نے مجھ سے وہ لے لیا جس کی مجھے زندگی شروع کرنے کے لئے ضرورت تھی!"
ایک مرتبہ پھر قسمت نے ان کا ساتھ دیا۔ "بیس تانگے" کسی نے اچانک زور سے کہا۔ پھر ایک تانبے کی تھالی میں پانسے کے گرنے کی آواز آئی۔
برساتی کے نالے کے کنارے اور بالکل اس جگہ کے قریب جہاں گھوڑے باندھے جاتے تھے اور جہاں ان کا گدھا بندھا تھا آدمیوں کا ایک چھوٹا سا حلقہ بنا ہوا تھا۔ چائے خانے کا مالک ان کے پیچھے کھڑا ان کے سر کے اوپر سے گردن بڑھا بڑھا کر دیکھ رہا تھا۔
"جوا ہو رہا ہے!" خواجہ نصر الدین نے اپنی کہنیوں پر اٹھتے ہوئے اندازہ لگایا۔ "وہ قطعی جوا کھیل رہے ہیں! ذرا دیکھوں تو دور ہی سے سہی۔ میں کھیلوں گا نہیں۔ میں کوئی احمق ہوں؟ لیکن عقلمند آدمی احمقوں کو کھیلتے تو دیکھ ہی سکتا ہے۔"
وہ اٹھ کر جواریوں کے پاس گئے۔
"احمق ہیں یہ لوگ" انہوں نے چپکے سے چائے خانے کے مالک سے کہا "جیتے کے لالچ میں اپنی آخری کوڑی تک لگا دیتے ہیں۔ کیا پیغمبر صاحب نے جوۓ کی ممانعت نہیں کی ہے؟ خدا کا شکر ہے کہ میں اس مہلک برائی سے پاک ہوں۔۔۔ لیکن اس لال بالوں والے جواری کی قسمت کتنی اچھی ہے! اس کو متواتر چار بار جیت ہو چکی ہے۔۔ دیکھو، دیکھو۔ وہ پانچویں مرتبہ بھی جیت گیا! اس کو دولت کے جھوٹے تصور نے ورغلایا ہے جبکہ غربت اس کے راستے میں گڈھا کھود چکی ہے۔ ارے کیا؟ اس نے چھٹی مرتبہ بازی مار لی۔ میں نے ایسی قسمت کبھی نہیں دیکھی۔ دیکھو، وہ پھر داؤں لگا رہا ہے۔ سچ ہے، انسان کی حماقت کی کوئی انتہا نہیں۔ آخر کار وہ متواتر کب تک جیتا کرے گا؟ اسی طرح لوگ جھوٹی قسمت پر بھروسہ کر کے تباہ ہوتے ہیں! اس لال بالوں والے آدمی کو سبق دینا چاہئے۔ اگر یہ ساتویں بار بھی جیتا تو میں اس کے خلاف داؤں لگاؤں گا حالانکہ میں دل سے ہر قسم کے جوۓ کے خلاف ہوں۔ا گر میں امیر بخارا ہوتا تو بہت دن ہوئے اس کو ممنوع قرار دے چکا ہوتا!"
لال بالوں والے جواری نے پانسہ پھینکا اور ساتویں بار بھی بازی اس کے ہاتھ رہی۔
خواجہ نصر الدین نے بڑے عزم کے ساتھ قدم بڑھایا۔ کھلاڑیوں کو کندھے سے الگ ہٹا دیا اور حلقے میں کھیلنے کے لئے بیٹھ گئے۔
"میں تمھارے ساتھ کھیلنا چاہتا ہوں" انہوں نے خوش قسمت جیتے والے سے کہا، انہوں نے پانسے اٹھائے اور ان کا ہر رخ سے اپنی تجربے کار نگاہوں سے جائزہ لیا۔
"کتنے سے؟" لال بالوں والے نے بھاری آواز سے پوچھا۔ اس کے بدن میں جھرجھری دوڑ گئی۔ وہ اپنی خوش قسمتی سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا جو تھوڑی دیر کے لئے اس کو نصیب ہو گئی تھی۔
خواجہ نصر الدین نے جواب میں اپنی تھیلی نکالی۔ شدید ضرورتوں کے لئے پچیس تانگے الگ کر لئے اور پھر تھیلی خالی کر لی۔ تانبے کی تھالی پر چاندی کی جھنکار ہوئی۔ جواریوں نے داؤں کا پر اشتیاق شور سے خیر مقدم کیا۔ اونچے داؤں سے کھیل شروع ہو رہا تھا۔
لال بالوں والے آدمی نے پانسے لیے اور ان کو بڑی دیر تک ہلایا، وہ ان کو پھینکتے ہوئے جھجک رہا تھا۔ ہر ایک سانس روکے تھا، حتی کہ گدھے نے بھی اپنا تھوتھن آگے بڑھا دیا تھا اور کان کھڑے کر لئے تھے۔ صرف جواری کی مٹھی میں پانسوں کی کھنکھناہٹ کی آواز ہو رہی تھی۔ اس خشک کھنکھناہٹ نے خواجہ نصر الدین کے پیروں اور پیٹ میں ایک تھکن آمیز کمزوری پیدا کر دی۔ آخرکار لال بالوں والے نے پانسہ پھینکا۔ دوسرے کھلاڑیوں نے گردن بڑھا کر دیکھا اور پھر اس طرح پیچھے گر گئے جیسے وہ سب ایک ہی آدمی ہوں، ان کے سینوں سے نکل رہی ہو۔ لال بالوں والے جواری کا چہرہ زرد ہو گیا اور اس نے بھینچے ہوئے دانتوں سے ایک آہ کی۔ پانسے میں صرف تین نقطے نظر آ رہے تھے یعنی ہار قطعی تھی کیونکہ دو کا پانسہ اسی طرح کم گرتا تھا جیسے بارہ کا۔ باقی ہر پانسہ خواجہ نصر الدین کے حق میں تھا۔
پانسے کو مٹھی میں ہلاتے ہوئے خواجہ نصر الدین نے دل ہی میں قسمت کا شکریہ ادا کیا کہ آج وہ اتنی مہربان تھی۔ لیکن وہ یہ بھول گئے کہ قسمت بڑی متلون مزاج اور من موجی ہے اور اگر اس کو ذرا بھی تنگ کرو تو فوراً دغا دے جاتی ہے۔ قسمت نے یہ فیصلہ کیا کہ خواجہ نصر الدین کو اس خود اعتمادی کے لئے سبق دے اور ان کے گدھے کو اپنا ہتھیار بنایا یا زیادہ ٹھیک یہ کہنا ہو گا کہ ان کے گدھے کی دم کو جس کا سرا کانٹوں اور گوکھروؤں سے مرصع تھا۔ گدھے نے جواریوں کی طرف سے پیٹھ موڑ کر جو اپنی دم ہلائی، تو اس کے مالک کے ہاتھ میں جا لگی۔ پانسہ ہاتھ سے چھوٹ کر گرا اور لال بالوں والا جواری ایک زوردار نعرہ لگا کر آنا فانا تھالی پر گرا اور ساری رقم پر چھا گیا۔
خواجہ نصر الدین نے دو پھینکے تھے۔
وہ بڑی دیر تک خاموش بیٹھے اپنے ہونٹ چلاتے رہے۔ ان کی تکتی ہوئی آنکھوں کے سامنے ساری دنیا ڈگمگا اور تیر رہی تھی اور کان عجیب آوازوں سے بج رہے تھے۔
اچانک وہ اچک کر اٹھے اور ڈنڈا لیکر بے تحاشا گدھے کو پیٹنے لگے۔ وہ اسے کھونٹے کے چاروں طرف دوڑا رہے تھے۔
"منحوس گدھا! ولد الزنا! بدبو دار جانور، دنیا کی تمام مخلوقات کے لئے لعنت!" خواجہ نصر الدین گرج رہے تھے "اپنے مالک کے پیسے سے جوا ہی کھیلنا کیا کم تھا نہ کہ اس کو ہار بھی جانا۔ خدا کرے تیری شیطانی کھال پھٹ جائے! اللہ کرے تیرے راست میں ایساگڑھا آئے کہ تیرا پیر ٹوٹ جائے! نہ معلوم تو کب مرے گا کہ تیری منحوس صورت سے مجھے چھٹکارا ملے گا!"
گدھا رینکنے لگا۔ جواریوں میں قہقہہ پڑا اور لال بالوں والے نے تو سب سے زور کا قہقہہ لگایا۔ اس کو اپنی خوش قسمتی پر قطعی بھروسہ ہو چکا تھا۔
"آؤ پھر کھیلیں" اس نے خواجہ نصر الدین سے کہا جب تھک کر ان کی سانس پھول چکی اور انہوں نے ڈنڈا پھینک دیا۔
" آؤ کچھ بازیاں اور ہو جائیں ۔ ابھی تو تمہارے پاس پچیس تانگے ہیں۔"
یہ کہہ کر اس نے اپنا بایاں پیر پھیلا کر اس کو ہلایا۔ گویا اس طرح اس نے خواجہ نصر الدین کے لئے حقارت کا اظہار کیا۔
" کیوں نہیں؟" خواجہ نے یہ سوچتے ہوئے جواب دیا کہ اب ایک بیس تانگے تو ضائع ہو ہی چکے ، رہے باقی پچیس تانگے ، ان کا جو حشر ہو۔
انہوں نے لاپروائی سے پانسہ پھینکا اور جیت گئے۔
" پوری رقم رہی!" لال بالوں والے نے ہاری ہوئی رقم تھالی میں پھینکتے ہوئے تجویز کی۔
خواجہ نصر الدین پھر جیت گئے۔
لال بالوں والے کو یقین ہی نہیں آتا تھا کہ قسمت نے اس سے اس طرح منہ پھیر لیا ہے " ساری رقم رہی!"
متواتر سات مرتبہ اس نے کہا اور ہر مرتبہ وہ ہارا۔ ساری تھالی رقم سے بھر گئی۔ جواری بالکل خاموش بیٹھے تھے ۔ ان کی شعلہ ور آنکھیں صرف اس اندرونی آگ کی آئینہ دار تھیں جو ان کو جلائے ڈال رہی تھی۔
"اگر شیطان تمہاری مدد نہیں کر رہا ہے تو تم ہر بار تو نہیں جیت سکتے!" لال بالوں والے نے چلا کر کہا " کبھی تو ہارو گے!" لو یہ تھالی میں رہے تمھارے ایک ہزار چھ سو تانگے۔ تم پھر ایک بار ساری رقم داؤں پر لگاؤ گے؟ یہ رہی وہ رقم جس سے کل میں اپنی دوکان کے لئے بازار سے سامان خریدنے والا تھا۔ میں تمھارے خلاف یہ ساری رقم داؤں پر لگاتا ہوں!"
اس نے ایک تھیلی نکالی جس میں سونے کے سکے بھرے تھے ۔
’’ اپنا سونا تھالی میں رکھو‘‘ خواجہ نصر الدین نے جوش میں آ کر زور سے کہا۔
اس چائے خانے میں اتنا زبردست داؤں کبھی نہیں لگا تھا۔ چائے خانے کا مالک تو اپنی ابلتی ہوئی کیتلیوں کو بھی بھول گیا ۔ جواری زور زور سے ہانپ رہے تھے۔ لال بالوں والے نے پہلے پانسہ پھینکا۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں کیونکہ وہ ڈر رہا تھا ۔
’’ گیارہ!‘‘ سب ایک ساتھ مل کر چلائے۔ خواجہ نصر الدین نے سمجھ لیا کہ اب بازی ہاری ہی سمجھو۔ صرف بارہ کا پانسہ ہی اس کو بچا سکتا تھا ۔
’’ گیارہ ! گیارہ !‘‘ لال بالوں والا جواری خوشی سے بے ساختہ دہرا رہا تھا۔ ’’ دیکھو نا ، میرے گیارہ ہیں ! تم ہار گئے ! تم ہار گئے!‘‘
خواجہ نصر الدین سر سے پیر تک ٹھنڈے پڑ گئے ۔ انہوں نے پانسے لے کر ان کو پھینکنے کی تیاری کی۔ پھر یکایک انہوں نے اپنا ہاتھ روک لیا۔
’’ گھوم جا‘‘ اس نے اپنے گدھے سے کہا ’’تو نے تین کے پانسے کے خلاف ہرایا ہے تو اب گیارہ کے خلاف جتا، نہیں تو میں تجھے قصاب گھر دکھاؤں گا۔‘‘
انہوں نے گدھے کی دُم بائیں ہاتھ سے پکڑ کر دائیں ہاتھ پر ماری جس میں پانسے تھے۔
سارے لوگوں کے غُل سے چائے خانہ گُونج گیا ۔ چائے خانے کے مالک نے اپنا دل تھام لیا اور زمین پر گر گیا ، وہ اتنے زبردست دھکے کو نہ برداشت کر سکا۔
پانسے میں بارہ دکھائی دے رہے تھے۔
لال بالوں والے کی آنکھیں حلقوں سے نکلی پڑتی تھیں اور اس کے بے خون چہرے پر چمک رہی تھیں ۔ وہ آہستہ سے اُٹھا اور لڑکھڑاتا ہوا چلا۔ وہ بار بار چلا رہا تھا ’’تباہ ہو گیا، تباہ ہو گیا میں!‘‘
کہا جاتا ہے کہ اس دن سے لال بالوں والا پھر شہر میں نہیں دکھائی دیا۔ وہ ریگستان میں بھاگ گیا اور وہاں اس کے بال بڑھ گئے اور صورت وحشتناک ہو گئی۔ وہ ریت اور کٹیلی جھاڑیوں کے درمیان مارا مارا پھرتا اور برابر یہی چیختا رہتا ’’تباہ ہو گیا میں!‘‘ یہاں تک کہ گیدڑوں نے اس کا خاتمہ کر دیا ۔ لیکن کسی نے اس کا ماتم نہیں کیا کیونکہ وہ ظالم اور نا انصاف تھا اور اس نے اعتبار کرنے والے سیدھے سادے لوگوں کو ہرا کر بڑا نقصان پہنچایا تھا۔
جہاں تک خواجہ نصر الدین کا تعلق ہے انہوں نے اپنی جیتی ہوئی نئی دولت کو خورجینوں میں ڈالا اور اپنے گدھے کو لپٹا کر اس کے گرم تھوتھن کو زور سے چُوما ، اس کو کچھ مزےدار تاؤ ، تازہ نان کھلائی جس پر گدھے کو تعجب ہوا کیونکہ چند منٹ پہلے مالک کا برتاؤ برعکس رہ چکا تھا۔

(۶)
اس دانشمندانہ اصول پر عمل کرتے ہوئے کہ ان لوگوں سے دور ہی رہنا چاہئے جو یہ جانتے ہوں کہ تم اپنی پونجی کہاں رکھتے ہو خواجہ نصر الدین نے چائے خانے میں تضیعِ اوقات نہیں کیا اور بازار کی طرف روانہ ہو گئے۔ وہ بار بار پیچھے مُڑ کر دیکھتے جاتے تھے کہ کوئی ان کا پیچھا تو نہیں کر رہا ہے کیونکہ جواریوں اور چائے خانے کے مالک کے چہروں پر بد نیتی کے آثار نظر آ رہے تھے ۔
حالات تو بہت خوشگوار تھے ۔ اب وہ کوئی بھی دوکان خرید سکیں گے ، دو دوکانیں ، تین دوکانیں اور انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ یہی کریں گے ۔
’’ میں چار دوکانیں خرید لوں گا ، برتن بنانے کی ، ساز بنانے کی ، درزی اور موچی کی دوکانیں ۔ ہر ایک میں دو کاریگر لگا دوں گا ، بس میرا کام پیسہ جمع کرنا رہ جائے گا ۔ دو سال میں امیر بن جاؤں گا ۔ ایک مکان خرید لوں گا جس کے باغ میں فوارے ہوں گے ۔ میں ہر جگہ چہچہاتی ہوئی چڑیوں کے سونے کے پنجرے ٹانگوں گا ، اور میرے دو شاید تین بیویاں ہوں گی اور ہر ایک سے تین تین بیٹے۔۔۔‘‘
انہوں نے اپنے کو خیالوں کے خوشگوار سیلاب میں بہنے دیا ۔ اس دوران میں گدھے نے لگام کی گرفت نہ محسوس کر کے اپنے مالک کے ہوائی قلعے سے فائدہ اُٹھایا۔ جب وہ ایک چھوٹے سے پُل پر پہنچے تو دوسرے گدھوں کی طرح اسے پار کرنے کی بجائے وہ ایک طرف مُڑا اور سیدھا خندق کے اُوپر سے جست لگا گیا۔
’’۔۔۔اور جب میرے بچے بڑے ہو جائیں گے تو میں ان کو اکٹھا کر کے کہوں گا۔۔۔‘‘ خواجہ نصر الدین خیالات کی دنیا میں اس طرح اُڑے چلے جا رہے تھے ’’ لیکن میں ہوا میں اُڑ کیوں رہا ہوں؟ کیا خُدا نے مجھ کو فرشتہ بنا کر پَر عطا کر دئے ہیں؟"
دوسرے لمحے آنکھوں سے نکلتی ہوئی چنگاریوں نے خواجہ نصر الدین کو یقین دلا دیا کہ ان کے پَر نہیں ہیں۔ کاٹھی سے اچھل کر اپنی سواری سے کچھ گز آگے وہ سڑک پر دراز تھے۔
جب وہ گرد میں لت پت کراھتے ہوئے سڑک سے اُٹھے تو گدھا ان کے پاس آگیا۔ وہ اپنے کان دوستانہ انداز میں ہلا رہا تھا اور اس کے چہرے پر انتہائی معصومانہ تاثرات تھے جیسے وہ اپنے مالک کو مدعو کر رہا ہو کہ وہ پھر کاٹھی پر واپس آ جائے۔
’’ارے تو، جو میرے پلے پڑا ہے صرف میرے گناہوں کی سزا نہیں بلکہ میرے باپ ، دادا ، پردادا کے گناہوں کے لئے بھی ، کیونکہ اسلامی انصاف کے نقطہ نظر سے ایک آدمی کو صرف اپنے گناہوں کے لئے اتنی بھاری سزا دینا نا منصفانہ بات ہو گی!‘‘ خواجہ نصر الدین نے کہا۔ ان کی آواز غصے سے کانپ رہی تھی ’’مکڑے اور لکڑ بگھے کا بچہ ! ارے تو۔۔۔‘‘
لیکن اب انہوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ تھوڑی ہی دُور پر ایک تباہ شدہ دیوار کے سائے میں بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ چُپ ہو گئے۔
کوسنے اور گالیاں خواجہ نصر الدین کی زباں پر آ کر رُک گئیں۔ انہوں نے سوچا کہ ایسے آدمی کو جس کی دیکھنے والوں کی موجودگی میں ایسی مضحکہ انگیز اور بر گت بنی ہو اپنی حالت پر خود سب سے زور سے ہنسنا چاہئے۔ انہوں نے ان آدمیوں کی طرف جو بیٹھے تھے آنکھ ماری اور اپنی پوری سفید بتیسی نکال کر ہنس پڑے۔
’’ارے‘‘ انہوں نے زندہ دلی کے ساتھ زور سے کہا’’ کتنی زور دار اُڑان رہی میری! اچھا بتاؤ کتنی قلابازیاں میں نے کھائیں۔ مجھے تو ان کے شمار کرنے کا موقع نہیں ملا۔ بد معاش کہیں کے!‘‘ وہ خوش دلی کے ساتھ گدھے کو تھپ تھپانے لگے حالانکہ دل تو یہ چاہتا تھا کہ اس کو چار چوٹ کی مار دیں۔ ’’یہ بڑا شریر ہے! بس ذرا نگاہ چُوکی اور یہ دکھا گیا اپنے ہتھکنڈے!‘‘
خواجہ نصر الدین زندہ دلی کے ساتھ ہنسے لیکن ان کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ کوئی اور ان کے ساتھ نہیں ہنسا۔ لوگ خاموش سر جھکائے اور اداس بیٹھے تھے اور عورتیں جن کی گود میں بچے تھے چُپکے چُپکے آنسو بہا رہی تھیں۔
’’ کچھ گڑبڑ ہے‘‘ خواجہ نصر الدین نے سوچا۔
وہ ان آدمیوں کے پاس گئے اور ایک سفید ریش آدمی کو مخاطب کیا جس کا چہرہ مریل سا تھا ’’معزز بزرگ ، مجھے بتائیے کیا بات ہے ؟ میں یہاں نہ تو مُسکراہٹ دیکھتا ہوں اور کوئی قہقہہ سنتا ہوں اور یہ عورتیں کیوں رو رہی ہیں؟ آپ لوگ سڑک کے کنارے اس گرد اور گرمی میں کیوں بیٹھے ہیں؟ کیا آپ لوگوں کو اپنے گھروں کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھنا نہیں سہاتا؟‘‘
’’ گھروں میں ان لوگوں کے لئے بیٹھنا اچھا ہے جن کے گھر ہوتے ہیں‘‘ بڈھّے نے ملول ہو کر جواب دیا۔ ’’ ارے مسافر، ہمسے مت پوچھ۔ ہم پر بڑی بپتا ہے اور تُو کسی طرح بھی ہماری مدد نہیں کر سکتا ہے۔ جہاں تک میرا سوال ہے میں بُوڑھا اور معذور ہوں اور خُدا سے دُعا کرتا ہوں کہ میرے لئے جلدی موت بھیج دے۔‘‘
’’ایسا کیوں کہتے ہیں آپ؟‘‘ خواجہ نصر الدین نے ملامت کرتے ہوئے کہا ’’انسان کو کبھی اس طرح نہیں سوچنا چاہئے ۔ مجھے اپنی مصیبت بتائیے اور میری بری حالت پر مت جائیے ۔ شاید میں آپ کی مدد کر سکوں۔‘‘
’’ میری کہانی مختصر ہے ۔ صرف ایک گھنٹہ پہلے جعفر سود خور ہماری سڑک سے امیر کے دو پہرے داروں کے ساتھ گزرا۔ میں اس کا قرضدار ہوں اور کل اس کو ادا کرنا ہے۔ اس لئے انہوں نے مجھ کو اس گھر سے نکال دیا ہے جہاں میں نے اپنی پوری زندگی گزاری ہے۔ میرے نہ تو کوئی خاندان ہے اور نہ سر چھپانے کی کوئی جگہ۔۔۔ اور میری ساری پونجی۔ میرا گھر، باغ، مویشی اور انگوروں کے چمن کل جعفر نیلام کر دے گا۔"
بڈھّے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اس کی آواز کانپنے لگی۔
"اور کیا قرض بہت زیادہ ہے؟" خواجہ نصر الدین نے پوچھا۔
"بہت زیادہ! میں اس کا ڈھائی سو تانگوں کا قرضدار ہوں!"
"ڈھائی سو تانگے!" خواجہ نصر الدین نے حیرت سے کہا۔" اور ان کم بخت ڈھائی سو تانگوں کے لئے آدمی موت کی تمنا کرتا ہے۔ اچھا، اچھا، اب اپنے کو سنبھالو" انہوں نے گدھے کی طرف مڑ کر کہا اور خورجین کھولی "اچھا، میرے معزز دوست، یہ رہے ڈھائی سو تانگے، جاؤ، یہ سود خور کو دو اور لات مار کر اس کو اپنے گھر سے نکال دو، زندگی کے باقی دن امن چین اور ہنسی خوشی سے گزار دو۔"
چاندی کے سکوں کی جھنکار سن کر سارے گروہ میں جان پڑ گئی۔ بڈھّے کی تو زبان ہی بند ہو گئی۔ اس نے آنسو بھری شکرگزار آنکھوں سے خواجہ کی طرف دیکھا۔
"دیکھو نا؟ اور تم اپنی مصیبت مجھے نہیں بتا رہے تھے" خواجہ نصر الدین نے آخری سکہ گنتے ہوئے کہا۔ ساتھ ہی وہ سوچ رہے تھے "کوئی بات نہیں، آٹھ کاریگروں کی بجائے میں صرف سات ہی نوکر رکھوں گا اور وہ بہت کافی ہی ہوں گے۔
اچانک ایک عورت جو بڈھّے کے پاس ہی بیٹھی تھی خواجہ نصر الدین نے پیروں پر گر پڑی اور ڈاڑھیں مار کر روتے ہوئے اپنا لڑکا ان کی طرف بڑھا دیا: "دیکھئے" اس نے سسکیاں بھرتے ہوئے کہا "یہ بیمار ہے۔ اس کے ہونٹ خشک ہیں اور چہرہ جل رہا ہے۔ میرا بے کس ننھا سڑک پر مر جائے گا کیونکہ مجھے بھی گھر سے نکال دیا گیا ہے۔"
خواجہ نصر الدین نے لڑکے کا دبلا پتلا، زرد چہرہ دیکھا، پھر اس کے شفاف ہاتھ اور بیٹھے ہوئے لوگوں کے چہروں پر نظر ڈالی۔ اور ان کے جھریوں پڑے، مصیبتوں سے مرجھائے چہروں اور متواتر گریہ و زاری سے، دھندلی آنکھوں سے ان کو ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی جلتی ہوئی چھری ان کے دل میں اتر گئی ہے۔ اچانک ان کا گلا رندہ گیا۔ غم و غصے سے خون کی گرم لہر ان کے چہرے پر دوڑ گئی۔ انہوں نے اپنا رخ موڑ لیا۔
"میں بیوہ ہوں" عورت نے اپنی داستان جاری رکھی "میرا شوہر چھ مہینے ہوئے مر گیا۔ وہ سود خور کا دوسو تانگوں کا قرضدار تھا۔ قانون کے مطابق میں اس قرض کی ذمے دار ہوں۔"
"واقعی لڑکا بیمار ہے" خواجہ نصر الدین نے کہا۔ "یہ رہے دو سو تانگے۔ جلدی سے گھر جاؤ اور اس کے سر پر ٹھنڈی پٹی رکھو اور یہ پچاس تانگے اور ہیں۔ جاؤ کسی حکیم کو بلاؤ اور دوا خریدو۔"
خود انہوں نے سوچا "میں چھ ہی کاریگروں سے کام چلا سکتا ہوں۔"
لیکن اسی لمحے ایک قد آور لمبی داڑھی والا پتھر کٹا ان کے قدموں پر گر پڑا۔ کل اس کا سارا خاندان جعفر کے چار سو تانگوں کے قرض کے لئے غلاموں کی طرح بکنے والا تھا۔
"پانچ کاریگر واقعی کم ہوئے" خواجہ نصر الدین نے ایک بار پھر اپنی خورجین کھولتے ہوئے سوچا۔ ابھی اس کو انہوں نے پھر باندھا ہی تھا کہ دو عورتیں ان کے پیروں پر تھیں۔ ان کی کہانیاں بھی ایسی دل دوز تھیں کہ خواجہ نصر الدین کا ہاتھ اتنی کافی رقم دینے سے نہ رکا جو سود خود کا قرض ادا کرنے کے لئے کافی تھی۔ پھر یہ دیکھ کر کہ باقی جو رقم رہ گئی ہے وہ تین کاریگر رکھنے کے لئے مشکل سے کافی ہو گی، انہوں نے سوچا کہ اب دوکانوں کا خیال بےکار ہے اور انہوں نے فیاضی کے ساتھ جعفر سود خور کے دوسرے قرض داروں میں رقم بانٹ دی۔
اب خورجین میں پانچ سو سے زیادہ تانگے نہ رہ گئے ہوں گے۔ اس وقت خواجہ نصر الدین نے ایک طرف ایک ایسا آدمی بیٹھا دیکھا جس نے مدد کی التجا نہیں کی تھی اور وہ دیکھنے سے ہی مصیبت زدہ معلوم ہوتا تھا۔
"ارے تم، سننا تو!" خواجہ نصر الدین نے پکار کر کہا۔ "اگر تمھارے اوپر مہاجن کا قرض نہیں ہے تو تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟"
"میں اس کا قرض دار ہوں" آدمی نے بھاری آواز میں کہا "کل میں پا بہ زنجیر غلاموں کے بازار تک جاؤں گا۔"
"تم خاموش کیوں رہے؟"
"اے فیاض اور مہربان مسافر! میں نہیں جانتا کہ آپ کون ہیں۔ ممکن ہے کہ آپ مقدس بزرگ بہاؤالدین ہوں جو غریبوں کی مدد کرنے کے لئے اپنے مزار سے اٹھ کر آئے ہیں یا خود ہارون رشید۔ میں نے آپ کی مدد نہیں مانگی کیوں کہ آپ ابھی تک کافی خرچ کر چکے ہیں اور میرا قرض سب سے زیادہ ہے یعنی پانچ سو تانگے۔ میں ڈر رہا تھا کہ اگر آپ نے مجھ کو یہ رقم دے دی تو بڈھوں اور عورتوں کے لئے کافی نہ بچے گا۔"
"تم حق پرست، شریف اور ایماندار انسان ہو" خواجہ نصر الدین نے بہت متاثر ہو کر کہا "لیکن میں بھی حق پرست، شریف اور ایماندار ہوں اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کل تم پا بہ زنجیر غلاموں کے بازار نہیں جاؤ گے۔ اپنا دامن بڑھاؤ۔"
انہوں نے اپنی خورجین کا آخری سکہ تک دے دیا۔ یہ آدمی اپنی قبا کا دامن بائیں ہاتھ سے سنبھال کر خواجہ نصر الدین سے دائیں ہاتھ سے لپٹ گیا اور اپنا آنسوؤں سے تر چہرہ ان کے سینے میں دبا دیا۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers