انہوں نے سوداگروں کے ایک بڑے کارواں کے ساتھ جس میں وہ شامل ہو گئے تھے بخارا کی سرحد میں قدم رکھا اور سفر کے آٹھویں دن بہت دور سامنے دھندلکے میں اس بڑے اور مشہور شہر کے جانے پہچانے مینار دیکھے۔
پیاس اور گرمی سے پریشان ساربانوں نے ایک زور دار نعرہ بلند کیا اور اونٹوں نے اپنی رفتار تیز کر دی۔ سورج غروب ہو رہا تھا اور جلدی کی ضرورت تھی تاکہ پھاٹک بند ہونے سے پہلے بخارا میں داخل ہوا جا سکے۔ خواجہ نصر الدین کارواں میں سب سے پیچھے، گرد کے گھنے اور بھاری بادل میں لپٹے چل رہے تھے۔ یہ تو ان کی اپنی پاک گرد تھی جس کی مہک دوسرے دور دراز ملکوں کی گرد سے کہیں اچھی تھی۔ چھینکتے کھانستے ہوئے وہ اپنے گدھے سے برابر کہہ رہے تھے:
"دیکھ، ہم آخر کار گھر پہنچ گئے نا! خدا کی قسم یہاں کامیابیاں اور مسرتیں ہماری منتظر ہیں۔" تفصیل سے پڑھئے

کارواں ٹھیک اس وقت شہر کی فصیل کے قریب پہنچا جب پہرے دار پھاٹک بند کر رہے تھے۔ "خدا کے لئے ٹھہریے!" ۔ کارواں کا سردار ایک طلائی سکہ دکھا کر دور ہی سے چلایا۔ لیکن پھاٹک بند ہو چکے تھے، زنجیریں جھنکار کے ساتھ چڑھا دی گئیں اور میناروں پر نگہبانوں نے توپوں کے مورچے سنبھال لئے۔ تازہ ہوا کے جھونکے آنے لگے، دھندلکے آسمان میں گلابی شفق مرجھا گئی، باریک ہلال بہت صاف ابھر آیا اور شام کی خاموشی میں بےشمار میناروں سے مؤذنوں کی تیز اور پر سوز آوازیں مومنوں کو مغرب کی نماز کی دعوت دینے لگیں۔
سوداگر اور ساربان نماز کے لئے جھک گئے اور خواجہ نصر الدین چپکے سے اپنے گدھے کو لیکر ایک کنارے چلے گئے۔
" یہ سوداگر تو بجا طور پر خدا کے شکرگزار ہیں" انہوں نے کہا "انہوں نے آج دن میں ڈٹ کر کھانا کھایا ہے اور رات کو بھی کھائیں گے لیکن میں نے اور تو نے، میرے وفادار گدھے، نہ تو دن کو کھانا کھایا ہے اور نہ رات ہی کو کھائیں گے۔ اگر اللہ ہمارے شکرئے کا خواہاں ہے تو وہ مجھ کو ایک قاب پلاؤ اور تجھ کو ایک گھٹا گھاس بھیج دے۔"
انہوں نے سڑک کے کنارے ایک درخت سے گدھے کو باندھ دیا اور خود بھی اس کے برابر ننگی زمین پر پتھر کا تکیہ بنا کر لیٹ گئے۔ آسمان کی اندھیری وسعتوں میں جھانکے ہوئے انہوں نے ستاروں کا جھلملاتا ہوا جال دیکھا۔ وہ ستاروں کے ہر جھرمٹ سے بخوبی واقف تھے۔ ان دس برسوں میں انہوں نے نہ جانے کتنی بار کھلے آسمان کو دیکھا تھا! ان کو ہمیشہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے خاموش غور و فکر کے ان دانش مندانہ خیالات نے ان کو امیروں سے بھی زیادہ امیر بنا دیا ہے۔ چاہے امیر آدمی سونے کے ظروف میں ہی کھانا کیوں نہ کھاتا ہو پھر بھی وہ لازمی طور پر رات چھت کے نیچے گزارتا ہے۔ اس لئے وہ نصف شب کے سناٹے میں خنک، نیلگوں، ستاروں سے بھرے ہوئے دھندلکے کے درمیان زمین کی پرواز سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔
اس دوران میں شہر کی دندانے دار فصیل کے باہر کارواں سرایوں اور چائے خانوں میں بڑے برے کڑاہوں کے نیچے آگ روشن ہو چکی تھی اور بھیڑیں جو ذبح ہونے کے لئے کھینچی جا رہی تھیں بے حد غم آلود آواز میں ممیا رہی تھیں۔ تجربے کار خواجہ نصر الدین نے پہلے ہی سے سوچ کر اپنے رات کے آرام کا انتظام ایسی جگہ کیا تھا جو ہوا کے رخ کے خلاف تھی تاکہ کھانے کی اشتہا آمیز خوشبو ان کو نہ چھیڑ سکے۔ بخارا کے قوانین کو اچھی طرح جانتے ہوئے انہوں اپنی تھوڑی سی جمع پونجی بچا لی تھی تاکہ کل وہ شہر کے پھاٹک پر محصول ادا کر سکیں۔
کافی دیر تک وہ کروٹیں بدلتے تھے لیکن ان کو نیند نہ آئی۔ اس بے خوابی کا سبب بھوک نہ تھی بلکہ تلخ خیالات تھے جو ان کو بےچین اور پریشان کر رہے تھے۔
ان کو اپنے وطن سے محبت تھی۔ وہ اس کو سب سے زیادہ پیار کرتے تھے۔ یہ سانولے تپے ہوئے چہرے پر سیاہ داڑھی رکھنے والا چالاک اور زندہ دل انسان جس کی صاف آنکھوں سے شرارت کی جھلک تھی، اپنی پھٹی پرانی قبا، داغ دھبوں سے بھری ٹوپی اور خستہ حال جوتے پہنے بخارا سے جتنا ہی زیادہ دور آوارہ گردی کرتا رہا اتنا ہی زیادہ وطن سے اس کا پیار بڑھتا چلا گیا اور وطن اس کو یاد آتا گیا۔ جلا وطنی کے زمانے میں اس کو ان تنگ سڑکوں کی یاد آتی جہاں دونوں طرف کی کچی دیواروں سے رگڑ کھائے بغیر ارابے نہیں گزر سکتے تھے، ان بلند میناروں کی جن کی روغن کی ہوئی اینٹوں کی ڈیزائن دار چوٹیاں طلوع و غروب آفتاب کے وقت عکس سے شعلہ ور ہو جاتی تھیں اور ان قدیم اور متبرک چنار کے درختوں کی جن کی شاخوں میں سارسوں کے بڑے بڑے کالے گھونسلے جھولتے تھے۔ اس کو حور کے سرسراتے ہوئے درختوں کے سائے میں نہروں کے کنارے چہل پہل والے چائے خانے، بہت زیادہ گرم باورچی خانوں میں دھوئیں اور کھانے کی خوشبو اور بازاروں کی رنگین گہما گہمی یاد آتی۔ اس کو اپنے وطن کی پہاڑیاں اور جھرنے، گاؤں، کھیت، چراگاہیں، ریگستان ایک ایک یاد آتے اور بغداد یا دمشق میں جب وہ اپنے کسی ہم وطن کو دیکھتا تو وہ اس کی ٹوپی یا لباس کی وضع قطع سے پہچان لیتا اور ایک لمحہ کے لئے خواجہ نصر الدین کے دل کی دھڑکن اور سانس کی آمد رفت رک جاتی۔
واپسی پر خواجہ نے اپنے ملک کو اس سے زیادہ بدحال پایا جیسا کہ چھوڑا تھا۔ بڈھّے امیر کا زمانہ ہوئے انتقال ہو چکا تھا۔ پچھلے آٹھ سالوں میں نئے امیر نے بخارا کو تقریباً تباہ کر دیا تھا۔ خواجہ نصر الدین نے ٹوٹے پھوٹے پل، سورج سے جھلسی، بری طرح سے بوئی ہوئی گیہوں اور جو کی کمزور فصلیں اور آبپاشی کی خشک نالیاں دیکھیں جو گرمی سی سوکھ کر چٹخ گئی تھیں۔ کھیتوں میں جھاڑ جھنکار اگے تھے اور ویران تھے، پانی کی کمیابی سے باغات خشک پڑے تھے، کسانوں کے پاس نہ تو اناج تھا اور نہ مویشی، سڑکوں پر فقیروں کی قطاریں ان لوگوں سے بھیک مانگتی نظر آتی تھیں جو خود انہی کی طرح محتاج تھے۔
نئے امیر نے ہر گاؤں میں سپاھیوں کا ایک ایک دستہ تعینات کر دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ اس کے مفت کھانے پینے کی ذمہ داری گاؤں والوں پر ہے۔ اس نے بہت سی مسجدوں کی بنیاد ڈلوا دی اور پھر حکم دیا کہ عام لوگ ان کو تکمیل تک پہنچائیں۔ نیا امیر بہت زاہد و پاکباز تھا اور سال میں دو بار انتہائی مقدس اور پاکیزہ بزرگ شیخ بہاالدین کے مزار کی زیارت میں ناغہ نہیں کرتا تھا جو بخارا کے قریب ہی تھا۔ چار رائج ٹیکسوں میں اس نے تین اور محصولوں کا اضافہ کیا تھا۔ اس نے ہر پل پر چنگی ناکہ بنوا دیا تھا، تجارتی اور قانونی کاروائیوں کے لئے ٹیکس پر اضافہ کر دیا تھا اور گھٹیا سکے بنوائے تھے۔۔۔ حرفتیں تباہ ہو رہی تھیں اور تجارت پر زوال آیا ہوا تھا۔ خواجہ نصر الدین کے لئے اپنے پیار وطن کو واپسی خوش کن نہ تھی۔
صبح سویرے مؤذنوں کی اذان پھر تمام میناروں سے گونجی۔ پھاٹک کھل گئے اور کارواں گھنٹیوں کی گونج میں آہستہ آہستہ شہر میں داخل ہوا۔
پھاٹک سے گزر کر کارواں ٹھہر گیا۔ سڑک کو پہرے داروں نے روک رکھا تھا۔ وہ بڑی تعداد میں تھے۔ کچھ تو اچھے کپڑے اور جوتے پہنے تھے اور کچھ جن کو ابھی تک امیر کی ملازمت میں موٹے ہونے کا موقع نہیں ملا تھا ننگے پیر اور نیم عریاں تھے۔ وہ شور مچا کر ایک دوسرے کو ڈھکیل رہے تھے اور لوٹ مار کی تقسیم کے لئے پہلے سے جھگڑنے لگے تھے۔ آخرکار ٹیکس کلکٹر صاحب ایک چائے خانے سے برآمد ہوئے، لحیم شحیم، چہرے پر نیند کے آثار، ریشمی قبا پہنے جس کی آستیوں پر چکنائی کے داغ تھے، ننگے پیر سلیپروں میں ڈال لئے تھے۔ پھولا ہوا چہرہ بد اعتدالیوں اور بدکاریوں کی چغلی کھا رہا تھا۔ اس نے سوداگروں پر للچائی ہوئی نگاہ ڈالی اور بولا:
"خوش آمدید، سوداگرو! اللہ آپ کو کاروبار میں کامیاب کرے! یہ جان لیجئے کہ امیر کا حکم ہے کہ اگر کوئی بھی اپنے سامان کی چھوٹی سی چیز بھی چھپائے گا تو اس کو ڈنڈوں سے مار مار کر ہلاک کر دیا جائے گا۔"
حیران و پریشان سوداگروں نے خاموشی سے اپنی خضاب لگی ہوئی داڑھیوں کو سہلایا۔ ٹیکس کلکٹر پہرے دواروں کی طرف مڑا جو بے چین ہو رہے تھے اور اپنی موٹی انگلیوں سے اشارہ کیا۔ اشارہ پاتے ہی پہرے دار ہانکتے پکارتے اونٹوں پر ٹوٹ پڑے۔ بھیڑ بھاڑ اور عجلت میں ایک دوسرے سے دھکم دھکا کر کے انہوں نے اپنی تلواروں سے بالوں کے رسے کاٹ دئے اور شور مچاتے ہوئے گانٹھوں کو کاٹ کر کھول دیا۔ سڑک پر زربفت، ریشم اور مخمل کے کپڑے، مرچ، چا، عنبر کے باکس، گلاب کے قیمتی عطر کے کنٹر اور تبت کی دوائیں پھیل گئیں۔
خوف نے سوداگروں کی زبان میں قفل لگا دیا تھا۔ دو منٹ میں معائنہ ختم ہو گیا۔ پہرے دار اپنے افسر کے پیچھے صف آرا ہو گئے، ان کی قبائیں پھولی ہوئی تھیں۔ اب سامان اور شہر کے اندر داخل ہونے کی اجازت کے لئے ٹیکس وصول کیا جانے لگا۔ خواجہ نصر الدین کے پاس کوئی تجارتی سامان نہ تھا اور ان کو صرف داخلے کا ٹیکس ادا کرنا تھا۔
"تم کہاں سے آ رہے ہو اور کس کام سے؟" ٹیکس کلکٹر نے دریافت کیا۔
محرر نے کلک کا قلم دوات میں ڈبویا اور خواجہ نصر الدین کا بیان رجسٹر میں قلم بند کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔
"حضور عالی، میں ایران سے آ رہا ہوں۔ یہاں بخارا میں میرے کچھ عزیز رہتے ہیں۔"
"اچھا" ٹیکس کلکٹر بولا۔ "تو تم اپنے عزیزوں سے ملنے آئے ہو۔ اس صورت میں تمھیں ملاقاتی کا محصول ادا کرنا ہو گا"۔
"لیکن میں ان سے ملاقات کرنے تھوڑی ہی آیا ہوں" خواجہ نصر الدین نے جلدی سے جواب دیا۔ " میں ضروری کام سے آیا ہوں۔"
"کام سے!" ٹیکس کلکٹر نے زور سے کہا اور اس کی آنکھیں جل اٹھیں۔ "تب تو تم ملاقات اور کام دونوں کے لئے آئے ہو۔ ملاقاتی کا ٹیکس ادا کرو، کام کا ٹیکس ادا کرو اور اس خدا کی راہ میں مسجدوں کی آرائش کے لئے عطیہ دو جس نے تم کو راستے میں رہزنوں سے محفوظ رکھا۔"
"اچھا تو یہ ہوتا کہ وہ اب مجھے محفوظ رکھتا کیونکہ رہزنوں سے بچنے کی تدبیر تو میں خود کر سکتا تھا" خواجہ نصر الدین نے سوچا لیکن اپنی زبان کو روکے رہے کیونکہ انہوں نے حساب لگایا کہ اس بات چیت کا ہر حرف ان کو دس تنگے سے زیادہ کا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے اپنی پیٹی کھولی اور پہرے داروں کی گھورتی ہوئی حریصانہ آنکھوں کے سامنے شہر میں داخلے کا ٹیکس، مہمان ٹیکس، کاروباری ٹیکس اور مسجدوں کی آرائش کے لئے عطیہ کی رقم گنی۔ ٹیکس کلکٹر نے گھور کر پہرے داروں کو دیکھا جو ہٹ گئے۔ محرر اپنی ناک رجسٹر میں گھسیڑے کلک کے قلم سے لکھتا رہا۔
تمام محاصل ادا کرنے کے بعد خواجہ نصر الدین روانہ ہی ہونے والے تھے کہ ٹیکس کلکٹر نے دیکھا لیا کہ کچھ سکے ان کی پیٹی میں باقی رہ گئے ہیں۔
"ٹھہرو!" اس نے حکم دیا " اور تمھارے گدھے کا ٹیکس کون ادا کرے گا؟ اگر تم اپنے عزیزوں سے ملنے جا رہے ہو تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ گدھا بھی اپنے عزیزوں سے ملنے جا رہا ہے۔"
"دانا افسر، آپ بجا فرماتے ہیں" خواجہ نصر الدین نے اپنی پیٹی پھر سے کھولتے ہوئے بڑی خاکساری سے کہا " واقعی، بخارا میں میرے گدھے کے عزیزوں کی بڑی اکثریت ہے ورنہ جیسا انتظام یہاں ہے اس سے تو آپ کے امیر کو کب کا تخت سے اتار دیا گیا ہوتا اور آپ، حضور، اپنے حرص کی وجہ سے بہت دن پہلے ہی چوبی ستون پر نظر آتے۔"
قبل اس کے کہ ٹیکس کلکٹر حواس مجتمع کر سکے خواجہ نصر الدین اچک کر اپنے گدھے پر آئے اور اس کو سرپٹ بھگاتے ہوئے قریب ترین گلی میں رفو چکر ہو گئے۔
"اور تیز، اور تیز" وہ برابر گدھے سے کہتے جا رہے تھے "اور تیز، میرے وفا دار گدھے، اور تیز ورنہ تیرے مالک کو ٹیکس میں اپنا سر دینا پڑ جائے گا۔"
خواجہ نصر الدین کا گدھا بڑا سمجھدار تھا۔ وہ ہر بات سمجھتا تھا۔ اس کے لمبے کانوں نے شہر کے پھاٹک کا غل غپاڑہ اور پہرے داروں کی ہانک پکار سن لی تھی اس لئے وہ سڑک سے بے نیاز بھاگتا رہا اور اتنی تیز رفتاری سے کہ اس کا مالک کاٹھی سے چمٹا ہوا تھا، اس کے بازو گدھے کی گردن میں حمائل تھے اور اس کے پیر اوپر کھنچے ہوئے تھے۔ زور زور سے بھونکتے ہوئے کتے ان کے پیچھے دوڑتے، مرغیاں چاروں طرف بکھر جاتیں اور راہی دیواروں سے چپک کر کھڑے ہو جاتے، اپنا سرھلاتے اور ان کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے۔
اس دوران میں شہر کے پھاٹک پر پہرے داروں نے مجمع میں اس بے دھڑک آزاد خیال کی تلاش کر رہے تھے۔ سوداگر مسکرا رہے تھے اور ایک دوسرے سے چپکے چپکے کہہ رہے تھے:
" یہ جواب تو بس خواجہ نصر الدین ہی دے سکتے تھے۔"
دوپہر ہوتے ہوتے یہ قصہ سارے شہر میں پھیل گیا۔ بازار میں تاجر چپکے چپکے گاہکوں سے بیان کر نے لگے جو اس کو دوسروں تک پہنچاتے اور سب ہنستے اور ہمیشہ یہ کہتے:
"یہ الفاظ تو خواجہ نصر الدین ہی کو زیب دیتے ہیں۔"
کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ الفاظ خود خواجہ نصر الدین کے ہیں، کہ وہی مشہور و معروف لاثانی خواجہ نصر الدین اس وقت شہر میں بھوکا پیاسا، خالی جیب آوارہ گردی کر رہا ہے اور اپنے عزیزوں اور پرانے دوستوں کو تلاش کر رہا ہے جو اس کو کھلاتے پلاتے اور پناہ دیتے۔

(۳)

خواجہ نصر الدین کو بخارا میں نہ تو عزیز ملے اور نہ پرانے دوست ہی۔ ان کو اپنے باپ کا گھر تک نہ ملا جہاں وہ پیدا ہوئے تھے اور پل بڑھ کر جوان ہوئے تھے، نہ تو وہاں وہ سایہ دار باغ تھا جہاں خزاں کے صاف دنوں میں سنہری پتیاں ہوا میں سرسراتی تھیں اور پھل بھدابھد زمین پر گرتے تھے، جہاں چڑیاں چہچہاتی تھیں اور سورج کی کرنیں خوشبو دار گھاس پر ناچتی تھیں، جہاں شہر کی مکھیاں مرجھاتے ہوئے پھولوں سے آخری خراج وصول کرتے ہوئے بھن بھناتی تھیں اور جہاں نہر گنگناتی ہوئی بہتی تھی اور لڑکے سے اپنی نہ ختم ہونے والی پراسرار کہانیاں کہتی رہتی تھی۔۔۔ اب یہ جگہ ویران تھی، کوڑے کرکٹ، خاردار جھاڑیوں سے بھری ہوئی، آگ سے جلی ہوئی اینٹوں، گرتی ہوئی دیواروں اور سڑتی ہوئی چنائی کے ٹکڑے پھیلے ہوئے تھے۔ خواجہ نصر الدین کو ایک چڑیا، ایک شہد کی مکھی تک نظر نہ آئی۔ صرف پتھروں کے ڈھیر کے نیچے سے جہاں انہوں نے ٹھوکر کھائی تھی اچانک ایک چکنی سی رسی برآمد ہوئی، سورج کی روشنی میں ہلکی سی چمکی اور پھر پتھروں کے نیچے غائب ہو گئی۔ یہ تھا سانپ، ایسی ویران جگہوں کا تنہا اور ڈراؤنا باسی جن کو ہمیشہ کے لئے انسان ترک کر دیتا ہے۔
خواجہ نصر الدین بڑی دیر تک سر جھکائے کھڑے رہے۔ ان کے دل پر غم کے بادل چھا گئے تھے۔
سخت کھانسی کی آواز سے چونک کر وہ مڑے۔
ایک بڈھا غربت و فکر سے جھکا ہوا اس ویرانے کے پار راستے پر چلا آتا تھا۔ خواجہ نصر الدین نے اس کو روکا:
"بڑے میاں، رحمت ہو تم پر، خدا تم کو صحت و خوشحالی کا طویل زمانہ عطا کرے۔ مجھے بتاؤ کہ اس ویران جگہ پر کس کا مکان تھا؟"
"یہ کاٹھی بنانے والے شیر محمد کا گھر تھا" بڈھّے نے جواب دیا "میں اس کو اچھی طرح جانتا تھا۔ یہ شیر محمد مشہور خواجہ نصر الدین کا باپ تھا جس کے بارے میں، اے مسافر، تو نے یقیناً بہت کچھ سنا ہو گا۔"
ہاں میں نے کچھ تو اس کے بارے میں سنا ہے ۔ لیکن یہ تو بتاؤ یہ کاٹھی بنانے والا شیر محمد جو مشہور خواجہ نصر الدین کا باپ تھا کہاں چلا گیا اور اس کا خاندان کہاں ہے؟
اتنے زور سے نہیں ، میرے بیٹے ، بخارا میں لاکھوں جاسوس ہیں ۔ اگر انہوں نے کہیں ہماری بات سن لی تو بس مصیبتوں کا ٹھکانہ نہیں رہے گا ۔ شاید تم بہت دور سے آئے ہو اور نہیں جانتے کہ ہمارے شہر میں خواجہ نصر الدین کا نام لینا سخت منع ہے ۔ یہ بات آدمی کو جیل میں ڈالنے کے لئے کافی ہے ۔ ذرا قریب آ جاؤ ۔ میں تمھیں بتاؤں گا ۔
اپنی پریشانی چھپاتے ہوئے خواجہ نصر الدین اس کے قریب جھک گئے ۔
یہ بڈھّے امیر کے زمانے کی بات ہے ۔ بڈھّے نے کھانستے ہوئے شروع کیا۔ خواجہ نصر الدین کی جلاوطنی کو ڈیڑھ سال ہوئے تھے کہ بازار میں یہ افواہ پھیل گئی کہ وہ ناجائز طور پر چھُپ کر بخارا واپس آ گئے ہیں اور یہاں ٹھہرے ہوئے ہیں اور امیر کے خلاف ہجویہ نظمیں لکھ رہے ہیں ۔ یہ افواہ امیر کے محل تک پہنچی اور پہرے داروں نے خواجہ نصر الدین کی تلاش شروع کر دی لیکن وہ نہیں ملے ۔ تب امیر نے حکم دیا کہ ان کے باپ ، دو بھائیوں ، چچا اور دور کے رشتے داروں اور دوستوں کو پکڑ لیا جائے ۔ ان کو اس وقت تک اذیت پہنچانا تھی جب تک وہ خواجہ نصر الدین کا پتہ نہ بتائیں ۔ الحمد للہ ان کو اتنا ہمت و استقلال حاصل ہوا کہ انہوں نے اپنی زباں بند رکھی اور ہمارے خواجہ نصر الدین امیر کے ہاتھ نہ آئے ۔ لیکن ان کے باپ ، کاٹھی بنانے والے شیر محمد اذیتوں سے چُور ہو کر جلد ہی اس دُنیا سے چل بسے اور ان کے عزیزوں اور دوستوں نے امیر کے غیض و غضب سے بچنے کے لئے بخارا چھوڑ دیا اور پتہ نہیں کہ اب کہاں ہیں ۔ پھر امیر نے حکم دیا کہ ان کے گھر تباہ کر دئے جائیں اور ان کے باغ تہس نہس کر دئے جائیں تاکہ خواجہ نصر الدین کی یاد لوگوں کے ذہن سے یکسر محو ہو جائے ۔
’’ لیکن ان پر ظلم و ستم کیوں ڈھایا گیا؟ ‘‘خواجہ نصر الدین نے چیخ کر کہا ۔ ان کے رُخساروں پر آنسو بہہ چلے لیکن بڈھّے نے یہ آنسو نہیں دیکھے کیونکہ اس کی نگاہ کمزور تھی ۔ ’’ ان پر کیوں ظلم و ستم ڈھایا گیا؟ خواجہ نصر الدین تو اس وقت بخارا میں تھے ہی نہیں ۔ میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں! ‘‘
کوئی نہیں کہہ سکتا‘‘ بڈھّے نے کہا ’’خواجہ نصر الدین کا جب جی چاہتا ہے آتے ہیں اور جب دل چاہتا ہے چلے جاتے ہیں ۔ وہ ہر جگہ ہیں اور کہیں نہیں ہیں ، ہمارے خواجہ نصر الدین کا جواب نہیں ہے‘‘!
یہ کہہ کر بُڈھا کراہتا اور کھانستا ہوا اپنے راستے پر ہو لیا ۔ خواجہ نصر الدین نے اپنا چہرہ ہاتھوں سے ڈھک لیا اور گدھے کے پاس چلے گئے۔
انہوں نے گدھے کے گلے میں باہیں ڈال دیں اور اپنا بھیگا ہوا چہرہ اس کی گرم اور بساھندی گردن سے دبا دیا۔
’’ آہ ، میرے اچھے ، سچے دوست‘‘خواجہ نصر الدین نے کہا ’’ دیکھو اب میرا عزیز و قریب کوئی نہیں باقی رہ گیا ۔ صرف تُو اس آوارہ گردی میں میرا مستقل اور وفا دار ساتھی ہے۔‘‘
جیسے گدھے نے اپنے مالک کے رنج و غم کو سمجھ لیا ہو ، وہ خاموش کھڑا ہو گیا ۔ بلکہ ایک تنکے کو جو اس کے ہونٹوں سے لٹک رہا تھا چبانا بند کر دیا ۔
بہر حال ایک گھنٹے بعد خواجہ نصر الدین اپنے غم پر قابو پا چکے تھے اور آنسو چہرے پر خُشک ہو گئے تھے۔
’’ کوئی پرواہ نہیں!‘‘ انہوں نے گدھے کی پیٹھ کو تھپ تھپاتے ہوئے کہا۔ ’’ کوئی پرواہ نہیں ! مجھے بخارا میں ابھی تک فراموش نہیں کیا گیا ہے۔ لوگ مجھ کو ابھی تک جانتے اور یاد کرتے ہیں۔ ہم کچھ دوست پا ہی لینگے۔ اور امیر کے بارے میں ایسی نظمیں لکھیں گے کہ وہ اپنے تخت پر غصے سے پھُول کر پھٹ ہی جائے گا اور اس کی گندی آنتیں محل کی آراستہ دیواروں کو داغدار بنا دیں گی۔ آ ! میرے وفا دار گدھے ، آگے بڑھ !‘‘

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers