’’کیا ہوا مولانا ، تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ امیر نے گھبرا کر کہا ۔ ’’بختیار دوا علاج کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور وہ کچھ ایسا ہوشیار بھی نہیں ہے جیسا کہ میں نے تم سے اسی وقت کہا تھا جب تم کو وزیر اعظم کا عہدہ عطا کرنے کی تجویز کی تھی۔‘‘
وزیر اعظم کے جسم میں ہلکی سی جھرجھری دوڑ گئی اور انہوں نے زہر آلود نگاہوں سے خواجہ نصر الدین کو دیکھا۔
’’جاؤ دوا تیار کرو‘‘ امیر نے کہا ’’لیکن پانچ دن بہت ہوئے مولانا، کیا اس سے جلدی نہیں تیار کر سکتے؟ ہم چاہتے ہیں کہ تم جلد از جلد اپنا عہدہ سنبھال لو۔‘‘
’’شہنشاہ معظم، میں خود بھی مشتاق ہوں!‘‘ خواجہ نصر الدین نے کہا ’’میں جلد از جلد دوا تیار کرنے کی کوشش کروں گا۔‘‘ تفصیل سے پڑھئے
وہ پچھلے پیروں ہٹتے ہوئے رخصت ہوئے اور متعدد بار جھک کر تعظیم بجا لائے۔ بختیار نے ان کو جاتے ہوئے دیکھا اور اس کے چہرے سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنے دشمن اور حریف کو اتنا صاف جاتے ہوئے دیکھ کر کیسا سلگ رہا ہے ۔
’’ سانپ! مکار لکڑ بگھے!‘‘ خواجہ نصر الدین نے سوچا اور غصے میں دانت پیستے ہوئے کہا۔ ’’لیکن بختیار تم چوک گئے۔ اب تم میرا بال بھی بیکا نہ کر سکو گے کیونکہ میں نے امیر کے حرم کے تمام راستے ، آنے اور جانے کے معلوم کر لئے ہیں جو میں جاننا چاہتا تھا۔ ارے پیاری گل جان! تم کتنی ہوشیار ہو کہ عین موقع پر بیمار پڑیں اور خواجہ نصر الدین کو درباری جراح کے چاقو سے بچا لیا ! حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ تم صرف اپنے ہی بارے میں سوچ رہی تھیں!‘‘
وہ اپنے برج کو واپس گئے جس کے سائے میں پہرے دار بیٹھے مزے میں چوسر کھیل رہے تھے۔ ان میں ایک جو سب کچھ ہار چکا تھا اپنے جوتے داؤ پر لگانے کے لئے اتار رہا تھا۔ سخت گرمی تھی لیکن برج کے اندر اس کی موٹی دیواروں کی وجہ سے کافی خنکی اور تازگی تھی۔ خواجہ نصر الدین تنگ زینے سے اوپر گئے۔
بڈھّے کی صورت بہت وحشیانہ ہو گئی تھی کیونکہ قید کے دوران اس کی داڑھی اور بال بڑھ گئے تھے اور پریشان ہو گئے تھے۔ گھنی بھوؤں کے نیچے سے اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ اس نے خواجہ نصر الدین پر لعنت کی بوچھار کر دی:
’’ارے کمبخت حرامزادے، خدا کرے تیرے سر پر بجلی گرے اور تلوے سے نکلے! ارے بد معاش ، دھوکے باز، جعلئے! تو نے میرا نام، میرا لباس ، میرا عمامہ اور پٹکا سب چُرا لیا! خدا کرے تجھے کیڑے مکوڑے زندہ ہڑپ کر جائیں!‘‘
خواجہ نصر الدین کو اس طرح کی باتوں کی عادت ہو گئی تھی اس لئے وہ ناراض نہیں ہوئے:
’’محترم مولانا حسین، میں نے آج آپ کے لئے ایک نئی اذیت ایجاد فرمائی ہے۔ یعنی ایک رسی کے پھندے اور ڈنڈے کی مدد سے آپ کا سر دبایا جائے۔ پہرے دار نیچے ہیں۔ آپ اس طرح چلائیں کہ وہ سن لیں۔‘‘
سلاخ دار کھڑکی کے پاس جا کر بڈھّے نے یکساں آواز میں چلانا شروع کیا:
’’ارے اللہ ! اب تو یہ مصیبتیں برداشت نہیں ہوتیں! ارے میرا سر پھندے اور ڈنڈے سے نہ دباؤ! اس اذیت سے تو موت ہی اچھی ہے!‘‘ ۔"تم بڑے اطمینان سے اس طرح چلا رہے ہو جس کا کسی کو یقین نہ آئے گا۔ یاد رکھو، پہرے دار ان باتوں میں بڑے مشاق ہیں۔ اگر ان کو یہ خیال ہو گیا کہ تم بن رہے ہو تو وہ تمھارے رپورٹ ارسلان بیک سے کر دیں گے اور تب تم واقعی جلاد کے ہاتھ میں جا پڑو گے۔ یہ تمھارے ہی فائدے کے لئے ہے کہ تم زیادہ زور سے چلاؤ۔ دیکھو میں تمھیں بتاتا ہوں۔"
وہ کھڑکی کے پاس گئے، ایک گہری سانس لی اور اچانک اتنی زور سے چیخے کہ بڈھا کانوں میں انگلیاں دے کر پیچھے ہٹ گیا۔
"ارے حرامزادے کے بچے!" بڈھا چلایا۔ "میں ایسا گلا کہاں سے لاؤں کہ میری چیخیں شہر کے دوسرے سرے تک سنائی دیں۔"
"جلاد کے ہاتھوں سے بچنے کا تمھارے لئے یہی واحد راستہ ہے"۔ خواجہ نصر الدین نے جواب دیا۔
بڈھّے نے پھر کوشش کی۔ا پنی پوری قوت لگا دی۔ وہ اس بری طرح چیخا دھاڑا کہ پہرے داروں نے اس کا لطف لینے کے لئے اپنا کھیل روک دیا۔
بڈھا بری طرح کھانس کھنکھار رہا تھا۔
"ارے، ارے، میر اگلا" بڈھا فریاد کرنے لگا "کتنی محنت پڑی ہے۔ اب تو خوش ہوا، کمبخت بد معاش؟ خدا تجھے جہنم واصل کرے۔"
"بالکل ٹھیک ہے" خواجہ نصر الدین نے جواب دیا۔ " اور دانائے روزگار مولانا حسین یہ رہا آپ کی کوششوں کا انعام۔"
انہوں نے وہ تھیلیاں نکالیں جو امیر نے ان کو عطا کی تھیں اور ان کو ایک کشتی میں الٹ کر ساری رقم دو حصوں میں تقسیم کر دی۔
بڈھا صلواتیں سناتا اور بڑبڑاتا رہا۔
"تم مجھے اس طرح برا بھلا کیوں کہہ رہے ہو؟" خواجہ نصر الدین نے بڑے سکون سے پوچھا۔ "کیا میں نے مولانا حسین کا نام کسی طرح نیچا کیا ہے؟ کیا میں نے ان کے علم و فضل کو ذلیل کیا ہے؟ یہ رقم دیکھ رہے ہو نا؟ یہ رقم امیر نے مشہور نجومی اور حکیم مولانا حسین کو اپنے حرم کی ایک لڑکی کو شفا یاب کرنے کے لئے دی ہے۔"
"تم نے کسی لڑکی کو اچھا کیا ہے؟"بڈھّے نے گھٹی ہوئی آواز میں پوچھا۔ "تمھیں بیماریوں کا کیا پتہ، جاہل، بد معاش، مکار!"
"میں بیماریوں کے بارے میں تو کچھ نہیں جانتا لیکن لڑکیوں کے بارے میں کچھ ضرور جانتا ہوں" خواجہ نصر الدین نے جواب دیا۔ "اس لئے یہ بات معقول ہو گی اگر امیر کا انعام دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ ایک حصہ تمھارے علم کے لئے اور دوسرا حصہ میرے فن کے لئے۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں، مولانا، کہ میں نے لڑکی کا علاج سرسری طور پر نہیں کیا بلکہ ستاروں کی گردش کا مطالعہ کرنے کے بعد کیا ہے۔ کل رات میں نے دیکھا کہ سعد السعود اور سعد الاجیہ کے ستاروں کا قرآن ہو رہا ہے اور جھرمٹ عقرب نے جھرمٹ سرطان کی طرف رخ کر لیا ہے۔"
"کیا، کیا؟" بڈھّے نے زور سے کہا اور غصے میں کمرے میں ادھر ادھر ٹہلنے لگا۔ "جاہل کہیں کا، تو تو صرف گدھے ہانک سکتا ہے! تجھے یہ تک تو پتہ ہے نہیں کہ سعد السعودکے ستاروں کا قران سعدالاجیہ کے ستاروں کے ساتھ ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ تو ایک ہی نظام فلکی کے ستارے ہیں! اور تمھیں سال کے اس وقت جھرمٹ عقرب دکھائی کہاں سے دیتا ہے؟ میں نے ساری رات ستارہ شماری کی ہے۔ سعد بولا اور السمک کے ستارے قران میں تھے اور الجہبہ کا زوال ہو رہا تھا۔ سن رہا ہے نا، گدھے؟ عقرب اب آسمان میں نہیں ہے! تو نے سب کچھ گڈ مڈ کر دیا۔ گدھے ہنکانے والا خوامخواہ کو ایسی باتوں میں کود پڑا جو اس کی سمجھ سے بالاتر ہیں! تو غلطی سے الحق کے ستاروں کو جو آج کل البوطن کے ستاروں کے مقابل ہیں عقرب سمجھ بیٹھا!"
غصے میں آ کر، اس نیت سے کہ خواجہ نصر الدین کی جہالت کا بھانڈہ پھوڑا جائے بڈھا بڑی دیر تک ستاروں کے صحیح مقام کے بارے میں بتاتا رہا۔ اس کا سننے والا ہر ہر لفظ کو بڑی توجہ سے سن کر ذہن نشین کرنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ وہ دوسرے داناؤں کی موجودگی میں امیر سے باتیں کرنے میں غلطی نہ کرے۔
"ارے جاہلوں کے سردار!"بڈھا برستا رہا "تجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ اس وقت چاند کے انیسویں برج پر جس کو الشعلہ کہتے ہیں اور جو قوس رامی پر ہوتا ہے، صرف اسی برج کے ستاروں سے انسان کی قسمت کا پتہ لگایا جا سکتا ہے کسی دوسرے سے نہیں۔ اس واقعہ کو دانائے روزگار شہاب الدینی محمود ابن کراجی نے بڑی وضاحت سے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔۔۔"
"شہاب الدین محمود ابن کراجی" خواجہ نصر الدین نے اچھی طرح یاد کر لیا۔ "کل میں امیر کی موجودگی میں اس لمبی داڑھی والے دانا کا بھانڈا پھوڑوں گا کہ وہ اس کتاب کے بارے میں لاعلم ہے اور میرے علم و فضل کی عظمت سے اس کا دل دھل جائے گا اور میں محفوظ ہوں گا۔"

(۳۰)
جعفر سود خور کے گھر میں سونے سے بھری ہوئی مہر بند بارہ دیگیں رکھی تھیں لیکن وہ اب کم از کم بیس جمع کرنے کی سوچ رہا تھا۔ قسمت نے اس کو ایسی شکل و صورت دے کر جس سے اس کی حرص اور بے ایمانی ظاہر ہوتی تھی اس کے عیبوں کو اور عیاں کر دیا تھا۔ یہ عیب اعتبار کرنے والے نا تجربے کار احمقوں کو آگاہ کر دیتے تھے اور نیا شکار پھانسنا مشکل ہو جاتا۔ اس لئے اس کی دیگیں اس کی خواہش سے کہیں زیادہ سست رفتاری سے بھر رہی تھیں۔
"کاش کہ میرے جسمانی عیب دور ہو سکتے!" وہ آہ بھر کر کہتا "لوگ میری صورت دیکھ کر تو نہ بھاگتے، مجھ پر شبہ نہیں اعتبار کرتے۔ اس وقت ان کو دھوکہ دینا کتنا آسان ہوتا اور میری آمدنی کتنی تیزی سے بڑھتی۔"
جب شہر میں یہ افواہ پھیلی کہ امیر کے نئے دانا مولانا حسین نے بیماریوں کے علاج میں مہارت تامہ دکھائی ہے تو جعفر سود خور نے ایک ٹوکری میں بیش بہا تحائف بھرے اور محل میں حاضر ہوا۔
ارسلان بیک ٹوکری کا سامان دیکھنے کے بعد بڑی خوشی سے اس کی مدد کے لئے تیار ہو گیا:
"محترم جعفر، آپ بڑے وقت سے آئے ہیں۔ آج جہاں پناہ بہت محظوظ ہیں اور وہ شاید ہی آپ کی درخواست کو رد کریں۔"
امیر نے سود خور کی بات سنی، ہاتھی دانت کے فریم کی شطرنج کی طلائی بساط نذرانے میں قبول فرمائی اور دانا کی طلبی کا حکم دیا۔
"مولانا حسین" امیر نے کہا جب خواجہ نصر الدین آ کر اس کے سامنے جھکے "یہ آدمی، جعفر سود خور، ہمارا وفا دار خادم ہے۔ اس نے ہماری بڑی خدمت کی ہے۔ ہم حکم دیتے ہیں کہ تم فوراً اس کا لنگڑا پن، کوبڑ ، آنکھ کا جالا اور دوسرے عیب دور کرو۔"
یہ کہہ کر امیر اس طرح مڑ گیا جیسے وہ کوئی عذر سننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ خواجہ نصر الدین کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ تعظیم بجا لائیں اور چلے جائیں۔ ان کے پیچھے سودخور بھی اپنا کوبڑ گھسیٹتا ہوا کچھوے کی طرح چلا۔
"ہمیں جلدی کرنی چاہئے، عقلمند مولانا حسین" اس نے نقلی داڑھی میں خواجہ نصر الدین کو نہ پہچانتے ہوئے کہا۔ "ہمیں جلدی کرنی چاہئے کیونکہ سورج ابھی غروب نہیں ہوا ہے اور میں رات ہونے سے پہلے شفا یاب ہو سکتا ہوں۔۔۔ آپ نے تو سنا، امیر نے حکم دیا ہے آپ مجھے فوراً اچھا کر دیں۔"
خواجہ نصر الدین دل ہی دل میں سودخور، امیر اور اپنے کو کوس رہے تھے کہ انہوں نے اپنے علم و فضل کو مشتہر کرنے میں اتنا جوش و خروش کیوں دکھایا ۔ سودخور تیز رفتاری سے چلنے کے لئے ان کی آستین برابر کھینچ رہا تھا۔ سڑکوں پر سناٹا تھا۔ خواجہ نصر الدین کے پیر گرم دھول میں دھنس رہے تھے۔ راہ چلتے انہوں نے سوچا "اس بلا سے کس طرح نجات ملے گی؟"وہ اچانک رک گئے "ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب اپنی قسم پوری کرنے کا وقت آگیا ہے۔"
تیزی سے انہوں نے ایک منصوبہ تیار کیا اور ہر ہر موقع کو اچھی طرح تول لیا۔ "ہاں" انہوں نے سوچا "اب وقت آگیا ہے ۔ سود خور، غریبوں پر ظلم کرنے والے سنگ دل، آج ہی تجھ کو ڈبونا ہے۔" وہ مڑ گئے تاکہ سود خور ان کی سیاہ آنکھوں کی چمک نہ دیکھ سکے۔
وہ ایک گلی میں مڑ گئے جہاں ہوا سے گرد کے بگولے اڑ رہے تھے۔ سود خور نے اپنے گھر کا پھاٹک کھولا۔ صحن کے دوسری طرف جہاں ایک نیچی باڑ کے ذریعہ زنان خانہ الگ کیا گیا تھا خواجہ نصر الدین نے سبز بیلوں کے پردے کے پیچھے سے چلنے پھرنے، چپکے چپکے کھسر پھسر اور ہنسی کی آوازیں سنیں۔ سود خور کی بیویاں اور داشتائیں کسی اجنبی کے آنے سے بہت خوش تھیں کیونکہ اس قید کی حالت میں ان کے لئے اور کوئی دلچسپی کا سامان نہ تھا۔ سود خور نے ذرا رک کر اس طرف درشتی سے دیکھا۔ بالکل سناٹا ہو گیا۔
"حسین قیدیو، آج میں تمھیں نجات دلا دوں گا" خواجہ نصر الدین نے سوچا۔
جس کمرے میں سود خور ان کو لے گیا اس میں کھڑکیاں نہ تھیں اور دروازے کو کوئی زنجیروں اور تین قفلوں سے محفوظ کیا گیا تھا جن کے کھولنے کا گر صرف مالک مکان جانتا تھا۔ دروازہ کھولنے میں اس کو کافی دیر لگی۔ یہاں اس کی سونے کی دیگیں رکھی تھیں اور تہہ خانے کے دھانے پر لکڑی کے تختے پڑے تھے جن پر وہ سوتا تھا۔
"کپڑے اتار دو!" خواجہ نصر الدین نے حکم دیا۔
سود خور نے اپنے کپڑے اتار دئے اور عریانی کی حالت میں وہ اور کریہہ المنظر ہو گیا۔ خواجہ نصر الدین نے دروازہ بند کر کے دعائیں پڑہنا شروع کیں۔
اس دوران میں جعفر کے بہت سے رشتے دار صحن میں جمع ہو گئے۔ ان میں سے بہت سے اس کے قرضدار تھے اور ان کو امید تھی کہ وہ ان کے قرض معاف کر کے یہ خوشی کی تقریب منائے گا۔ لیکن ان کی امیدیں بے بنیاد تھیں۔ بند کمرے میں مقروض لوگوں کی آواز سن کر اس کا دل کینہ پرور خوشی سے بھر گیا۔ "آج تو میں ان سے کہہ دوں گا کہ میں نے ان کا قرض معاف کیا" اس نے سوچا "لیکن میں ان کے تمسک واپس نہیں دوں گا۔ وہ یقین کر کے بے فکر ہو جائیں گے۔ میں کچھ نہیں کہوں گا اور ان کے قرض کا کھاتہ بنا لوں گا۔ اور جب ان پر اصل کا سود دس گنا ہو جائے گا اور پوری رقم ان کے مکانات، باغات اور انگور کے باغیچوں کی مالیت سے زیادہ ہو جائے گی تو میں قاضی کے پاس جاؤں گا اور اپنے وعدے سے انکار کر کے رسیدیں پیش کروں گا۔ ان کا مال متاع بکوا کر ان کو بھک منگا بنوا دوں گا اور سونے سے ایک اور دیگ بھر لوں گا!"
"اٹھو! کپڑے پہنو!" خواجہ نصر الدین نے کہا "ہم احمد پیر کے تالاب پر جائیں گے اور وہاں تم پاک پانی میں نہاؤ گے۔ شفا پانے کے لئے یہ لازمی ہے۔"
"احمد پیر کا تالاب!" سود خور گھبرا کر بولا۔ "ایک بار تو میں اس میں ڈوبتے ڈوبتے بچا۔ دانائے روزگار مولانا حسین سمجھ لیجئے کہ میں تیرنا نہیں جانتا۔"
"تالاب کی طرف جاتے ہوئے تمھیں متواتر دعائیں پڑھتے رہنا چاہئے" خواجہ نصر الدین نے کہا۔ "تمھیں دنیاوی باتوں کے بارے میں نہ سوچنا چاہئے۔ تمھیں اشرفیوں سے بھری ایک تھیلی ساتھ لے چلنا ہو گا اور راستے میں جس سے بھی لو گے اسے ایک اشرفی دینی ہو گی۔"
سود خور کے منہ سے آہ نکل گئی لیکن اس نے ہدایت پر حرف بحرف عمل کیا۔ ان کی ملاقات ہر طرح کے لوگوں سے ہوئی۔ کاریگروں اور بھک منگوں سے اور سود خور نے ہر ایک کو ایک ایک اشرفی دی حالانکہ اس سے اس کا دل پھٹا جا رہا تھا۔ اس کے رشتے دار بھی پیچھے پیچھے تھے۔ خواجہ نصر الدین نے خاص مقصد سے ان کو مدعو کر لیا تھا تاکہ آئندہ ان پر یہ الزام نہ لگایا جا سکے کہ انہوں نے جان بوجھ کر سود خور کو ڈبو دیا۔
سورج چھتوں کے پیچھے غروب ہو رہا تھا، درختوں کا سایہ تالاب پر پھیل گیا تھا، ہوا میں مچھر گا رہے تھے۔ جعفر نے کپڑے اتارے اور پانی کے قریب گیا۔
"یہاں بہت گہرا ہے" اس نے فریاد کی "میں نے جو کچھ کہا تھا اس کو آپ بھولے تو نہیں ہیں، مولانا۔ میں پیر نہیں سکتا۔"
رشتے دار خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔ سودخور شرم سے اپنے کو ہاتھوں سے چھپائے، خوف سے سکڑا سکڑایا کسی اتھلی جگہ کے لئے تالاب کا چکر لگانے لگا۔
اکڑوں بیٹھ کر اس نے تالاب میں لٹکتی ہوئی جھاڑیوں کا سہارا لیا اور پانی میں ڈرتے ڈرتے ایک پیر ڈالا۔
"ٹھنڈا ہے پانی " وہ بڑبڑایا۔ اس کی آنکھیں پریشانی میں نکل پڑی تھیں۔
"تم وقت ضائع کر رہے ہو" خواجہ نصر الدین نے اس کی طرف سے نگاہ ہٹاتے ہوئے کہا کیونکہ وہ اس رحم کے خلاف جس کا سود خور سزاوار نہ تھا اپنے دل کو فولادی بنا رہے تھے۔ پھر انہوں نے ان مصیبتوں کا خیال کیا جو جعفر کے برباد کئے ہوئے غریب لوگ جھیلتے ہیں، بیمار بچے کے خشک لب، بڈھّے نیاز کے آنسو۔ اور ان کا چہرہ غصے سے تمتما اٹھا۔ اب وہ کھلم کھلا جرأت کے ساتھ سودخور کی نگاہوں سے نگاہیں ملا سکتے تھے۔
"تم وقت ضایع کر رہے ہو" انہوں نے بات دہرائی "اگر شفا چاہتے ہو تو تالاب کے اندر اترو۔"
سودخور نے پانی کے اندر جانا شروع کیا۔ وہ اتنا آہستہ آہستہ جا رہا تھا کہ جب وہ گھٹنوں گھٹنوں پانی میں پہنچا تو اس کی توند کنارے ہی سے لگی تھی۔ آخرکار جب وہ کھڑا ہوا تو کمر تک تھا۔ گھاس پھوس ادھر ادھر حرکت کر رہے تھے اور ان کا سرد مس اس کے جسم میں گدگدی پیدا کر رہا تھا۔ اس کے شانے سردی سے کانپ رہے تھے۔ وہ ایک قدم اور آگے بڑھا اور مڑ کر دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھیں کسی بے زبان جانور کی طرح التجا کر رہی تھیں لیکن خواجہ نصر الدین نے کچھ نہیں کہا۔ اس وقت سودخور کو چھوڑ دینے کا مطلب ہزاروں غریبوں کو مصیبت میں مبتلا رکھنا تھا۔
پانی سودخور کے کوبڑ تک پہنچ گیا لیکن خواجہ نصر الدین اس سے برابر آگے بڑھنے کو کہتے رہے۔
"آگے بڑھو، آگے، پانی کانوں تک آ جانے دو۔ نہیں تو میں تمھارے علاج کا ذمہ دار نہیں ۔ چلو، ہمت باندھو، محترم جعفر! دل مضبوط کرو! ایک قدم اور! ذرا سے اور آگے!"
"غہ غہ" سود خور نے پانی کے اندر جاتے ہوئے غر غر کی آواز میں کہا۔
"غہ غہ" جب وہ اوپر آیا تو یہی آواز پھر نکلی۔
"ڈوب رہا ہے! ڈوب رہا ہے!" اس کے رشتے دار چلائے۔
ایک عام ہنگامہ ہو گیا۔ ڈوبتے ہوئے آدمی کی طرف شاخیں اور چھڑیاں بڑھا دی گئیں۔ کچھ لوگ محض رحم دلی کی بنا پر اس کی مدد کرنا چاہتے تھے اور دوسرے محض بناوٹ کر رہے تھے۔ خواجہ نصر الدین آسانی سے بتا سکتے تھے کہ جعفر کا کون اور کتنا قرضدار ہے۔ وہ خود ہر ایک سے زیادہ گھبرا کر ادھر ادھر دوڑ رہے تھے اور کہہ رہے تھے:
"ارے یہاں! اپنا ہاتھ ہمیں دو، محترم جعفر! ارے سنو! اپنا ہاتھ ہمیں دو!"
ان کو یہ بخوبی علم تھا کہ سودخور اپنا ہاتھ کبھی نہ دے گا کیونکہ "دینے" کا لفظ ہی اسے مفلوج کرنے کے لئے کافی تھا۔
"اپنا ہاتھ ہمیں دو!" رشتے دار ایک ساتھ چلائے۔
اب سود خور غوطے کھا کھا کر اور دیر میں اوپر آنے لگا اور وہ اس مقدس پانی میں ڈوب مرتا اگر ایک سقہ اپنی پیٹھ پر خالی مشک لئے ننگے پیر ادھر سے دوڑتا نہ گزرتا۔
"ارے!" اس نے ڈوبتے ہوئے آدمی کو دیکھ کر کہا "کہیں یہ جعفر سودخور تو نہیں ہے!"
اور وہ کپڑے اتارے بغیر بلا جھجھک پانی میں کود گیا اور اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے زور سے کہا:
"لو یہ رہا میرا ہاتھ، اس کو پکڑ لو!"
سودخور نے ہاتھ پکڑ لیا اور اس کو پانی سے باہر صحیح سلامت کھینچ لایا گیا۔
سودخور کنارے پر پڑا دم لے رہا تھا اور اس کو نجات دلانے والا بڑی تیزی سے اس کے رشتے داروں کو بتا رہا تھا:
"تم غلط طریقے سے ان کی مدد کر رہے تھے۔ تم .لو. کی بجائے .دو. کہہ رہے تھے۔ تمھیں نہیں معلوم کہ معزز جعفر ایک بار اور اسی تالاب میں ڈوب رہے تھے اور ایک اجنبی نے جو بھورے گدھے پر ادھر سے گزر رہا تھا انہیں بچایا تھا؟ اس اجنبی نے جعفر کو بچانے کے لئے یہی طریقہ اختیار کیا تھا اور مجھے یاد رہ گیا۔ آج یہ کام آیا۔"
اس دوران میں سودخور کی سانس ٹھکانے لگی اور اس نے شکایت آمیز لہجے میں منمنانا شروع کیا:
"ارے مولانا حسین! آپ نے تو میرا علاج کرنے کے لئے کہا تھا لیکن مجھ کو قریب قریب ڈبو ہی دیا تھا! خدا کی قسم، اب میں کبھی اس تالاب کے قریب نہیں پھٹکوں گا! آپ کیسے دانا ہیں گر آپ کو ایک سقہ یہ بتاتا ہے کہ کیسی آدمی کو ڈوبنے سے بچایا جا سکتا ہے؟ میری قبا اور عمامہ دو۔ آئیے، مولانا، اندھیرا ہو رہا ہے اور جو کچھ ہم نے شروع کیا ہے اسے ختم کرنا ہے۔ اور تم، میاں سقے" سود خور نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا " مت بھولنا کہ تمھارا قرض ایک ہفتے میں واجب الادا ہو جائے گا۔ لیکن میں تمھیں انعام دینا چاہتا ہوں اور اس لئے میں تمھیں آدھا۔۔۔ میرا مطلب ہے چوتھائی۔۔۔ نہیں تمھارے قرض کا دسواں حصہ معاف کر دوں گا۔ یہ کافی ہے کیونکہ میں تمھاری مدد کے بغیر آسانی سے اپنے کو بچا سکتا تھا۔"
"ارے محترم جعفر" سقے نے جھجکتے ہوئے کہا "آپ اپنے کو میری مدد کے بغیر نہیں بچا سکتے تھے۔ کیا آپ میرا چوتھائی قرض معاف کر دیں گے؟"
"اچھا! تو تم نے مجھ کو اپنی غرض کی بنا پر بچایا!" سودخور نے کہا۔" تم نے نیک مسلمان کی حیثیت سے یہ نہیں کیا بلکہ لالچ کی وجہ سے! ارے سقے، تجھے اس کی سزا ملنی چاہئے۔ میں تیرا ذرا سا قرض بھی نہیں معاف کروں گا!"
مغموم سقہ وہاں سے ہٹ گیا اور خواجہ نصر الدین اس کو رحم کی نظروں سے دیکھتے رہے۔ پھر انہوں نے جعفر کی طرف نفرت و حقارت سے دیکھا۔
"آئیے، مولانا حسین" جعفر نے جلدی کرتے ہوئے کہا "آپ اس لالچی سقے سے کیا سرگوشی کر رہے ہیں؟"
"ٹھہرو" خواجہ نصر الدین نے کہا۔ "تم بھول گئے کہ تمھیں ہر ملنے والے کو ایک اشرفی دینی چاہئے۔ تم نے اس سقے کو اشرفی کیوں نہیں دی؟"
"بائے مصیبت! میں تباہ ہو جاؤں گا!" سودخور نے فریاد کی۔ "سوچئے تو کہ میں ایسے برے اور لالچی آدمی کو اشرفی دینے پر مجبور ہوں گا!" اس نے اپنی تھیلی کھول کر ایک اشرفی پھینک دی۔ "بس یہ آخری ہے۔ اب اندھیرا ہو گیا ہے اور واپسی کے راستے پر ہمیں کوئی نہیں ملے گا۔"
لیکن خواجہ نصر الدین نے سقے سے بلا وجہ کانا پھوسی نہیں کی تھی۔
وہ واپس روانہ ہو گئے۔ آگے سودخورتھا، اس کے پیچھے خواجہ نصر الدین اور پھر سوخور کے رشتے دار۔ ابھی وہ مشکل سے پچاس قدم گئے ہوں گے کہ ایک گلی سے سقہ نکلا۔ یہ وہی تھا جس کو یہ لوگ تالاب کے کنارے چھوڑ آئے تھے۔
سودخور نے ادھر سے منہ موڑ لیا جیسے اس کو دیکھنا ہی نہ چاہتا ہو لیکن خواجہ نصر الدین نے اس کو پھٹکارا:
"جعفر یاد رکھو، ہر ایک کو جس سے بھی تم ملو!"
اندھیرے میں ایک انتہائی اذیت بھری کراہ گونجی۔ جعفر اپنی تھیلی کھول رہا تھا۔
سقے نے اشرفی لی اور اندھیرے میں غائب ہو گیا۔ کوئی پچاس قدم بعد پھر وہ ان کے سامنے آن موجود ہوا۔ سود خور زرد پڑ گیا اور کانپنے لگا۔
"مولانا" اس نے فریاد کرتے ہوئے کہا "یہ تو وہی ہے۔۔۔"
"ہر ایک کو جس سے تم ملو" خواجہ نصر الدین نے دہرا دیا۔
پھر خاموش فضا میں ایک کراہ گونجی۔ جعفر اپنی تھیلی کھول رہا تھا۔
یہ واقعہ سارے راستے پیش آیا۔ سقہ ہر پچاس قدم پر سامنے آ جاتا۔ وہ خوب ہانپ رہا تھا اور اس کے چہرے سے پسینہ بہہ رہا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے لیکن وہ اشرفی لیتا اور تیز بھاگتا اور پھر آگے سڑک پر کسی جھاڑی سے برآمد ہوتا۔
اپنا پیسہ بچانے کے لئے سود خور تیز تیز چلنے لگا اور آخر میں دوڑنا شروع کر دیا لیکن وہ تو لنگڑا تھا۔ وہ سقے سے کیسے جیت سکتا تھا جو جوش میں ہوا جا رہا تھا۔ وہ جھاڑیوں اور باڑوں کو پار کرتا بھاگ رہا تھا۔ اس نے سود خور سے کم از کم پندرہ بار بھینٹ کی اور آخری بار بالکل اس کے گھر کے قریب۔ وہ ایک چھت پر سے کودا اور دروازے پر راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔ آخری اشرفی پانے کے بعد وہ تھک کر زمین پر گر پڑا۔
سودخور جلدی سے اپنے صحن میں گھس گیا۔ خواجہ نصر الدین اس کے پیچھے تھے۔ اس نے اپنی خالی تھیلی خواجہ نصر الدین کے قدموں پر ڈال دی اور غصے سے چلایا۔
"مولانا، میرا علاج بہت قیمتی ہے! میں ابھی تک تحفوں ، خیرات اور اس کمبخت سقے پر تین ہزار تانگے خرچ کر چکا ہوں !"
"ذرا دم لو" خواجہ نصر الدین نے جواب دیا "بس، آدھے گھنٹے کے اندر تم کو اس کا انعام مل جائے گا۔ ایک بڑا سا الاؤ صحن کے بیچوں بیچ تیار کرنے کا حکم دو۔"
نوکر ایندھن لا لا کر الاؤ تیار کر رہے تھے اور خواجہ نصر الدین اس بات میں دماغ لڑا رہے تھے کہ کس طرح سود خور کو چرکا دیا جائے اور اس کے شفا نہ پانے کا سارا الزام اسی کے سر تھوپ دیا جائے۔ انہوں نے کئی منصوبے سوچے لیکن ان کو نامناسب پا کر رد کر دیا۔ اس دوران میں الاؤ تیار ہو گیا تھا، ہلکی ہوا میں شعلے بھڑک رہے تھے اور انگوروں کا باغیچہ سرخ شعلوں سے روشن ہو گیا تھا۔
"جعفر، کپڑے اتار کر تین بار الاؤ کے گرد پھرو" خواجہ نصر الدین نے کہا۔ وہ ابھی تک کوئی منصوبہ نہیں بنا سکے تھے اور تھوڑا سا وقت پانے کے لئے یہ کر رہے تھے۔ وہ خیالات میں ڈوبے نظر آتے تھے۔
رشتے دار خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔ سود خور الاؤ کے گرد اس طرح گھوم رہا تھا جیسے کوئی زنجیر سے بندھا ہوا بندر ہو۔ وہ اپنے ہاتھ ہلا رہا تھا جو گھٹنوں تک پہنچتے تھے۔
خواجہ نصر الدین کا چہرہ دمک اٹھا۔ انہوں نے اطمینان کا سانس لیکر انگڑائی لی:
"مجھے ایک کمبل تو دینا" انہوں نے گونجتی ہوئی آواز میں حکم دیا۔ "جعفر اور تمام دوسرے لوگ ادھر آؤ۔"
انہوں نے تمام رشتے داروں کا ایک حلقہ بنا دیا اور جعفر کو بیچ میں زمین پر بٹھا دیا۔ پھر انہوں نے کہا:
"میں جعفر کواس کمبل سے ڈھک کر ایک دعا پڑھوں گا۔ تم سب کو معہ جعفر کے آنکھیں بند کر کے دعا کو دہرانا چاہئے۔ اس کے بعد جب میں کمبل اٹھاؤں گا تو جعفر شفا یاب ہو گا۔ لیکن میں تم سب کو ایک انتہائی اہم شرط سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں ۔ جب تک وہ پوری نہ ہو گی جعفر شفا یاب نہیں ہو سکتا۔ جو کچھ میں کہتا ہوں کان دھر کر سنو اور یاد رکھو۔"
رشتے دار خاموشی سے سننے اور یاد رکھنے کی تیاری کرنے لگے۔
"جب تم میرے ساتھ دعا کو دہراتے ہو گے" خواجہ نصر الدین نے زور سے صاف صاف کہا "تم میں سے کسی کو بھی، اور سب سے زیادہ جعفر کو، بندر کا ہر گز ہر گز خیال نہ آنا چاہئے! اگر تم میں سے کوئی بھی اس کے بارے میں سوچیگا یا اس سے بھی برا یہ ہو گا کہ اس کو اپنے تصور میں دیکھے گا۔ اس کی دم، اس کے لال چوتڑ، کریہہ چہرہ اور زرد دانت۔ تو پھر شفا نہ ہو گی اور نہیں ہو سکتی ہے کیونکہ کسی مقدس کام کا انجام بندر ایسے گندے جانور کے خیال کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ سمجھے نا تم لوگ؟"
"ہم لوگ سمجھ گئے" رشتے داروں نے کہا۔
"جعفر، تیار ہو جاؤ اور اپنی آنکھیں بند کر لو" خواجہ نصر الدین نے سود خور پر کمبل ڈالتے ہوئے بڑی شان سے کہا۔ "اور اب تم اپنی آنکھیں بند کرو!" اس نے رشتے داروں سے کہا "اور اس شرط کو یاد رکھنا، بندر کا خیال نہ آئے۔"
پھر انہوں نے دعا پڑہنا شروع کی:
"خداوند تعالی اس مقدس دعا کے اثر سے اپنے ناچیز خادم جعفر کو شفا بخش۔۔۔"
"خداوند تعالی اس مقدس دعا کے اثر سے۔۔۔ " مختلف آوازوں میں رشتے داروں کا کورس بلند ہوا۔۔۔ اس موقع پر خواجہ نصر الدین نے دیکھا کہ ایک شخص کے چہرے پر گھبراہٹ اور پریشانی کے آثار نمایاں ہوئے، دوسرے رشتے دار نے کھانسا شروع کیا، تیسرا الفاظ کو دہرانے میں ہکلانے لگا اور چوتھے نے اس طرح سرھلایا جیسے وہ کوئی صورت سامنے سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہو۔ ایک لمحہ بعد جعفر خود بے چینی سے کلبلانے لگا۔ ایک بہت ہی کریہہ المنظر اور انتہائی بدصورت بندر جس کی دم لمبی اور دانت زرد تھے اس کے ذہن کے پردے پر نمودار ہو کر اس کو چڑھا رہا تھا۔ کبھی وہ اس کو زبان نکال کر دکھاتا اور کبھی لال لال چوتڑ اور دوسرے اندام جو مومن کے تصور کے لئے بھی زیبا نہیں ہیں ۔
خواجہ نصر الدین اونچی آواز میں دعا پڑھتے رہے۔ اچانک وہ چپ ہو گئے جیسے وہ کوئی بات سن رہے ہوں ۔ رشتے دار بھی خاموش ہو گئے اور بعض تو پیچھے ہٹ گئے۔ جعفر کمبل کے نیچے دانت پیس رہا تھا کیونکہ اس کا بندر طرح طرح کی بد تمیزی کی شرارتوں پر اتر آیا تھا۔
"ارے ناپاک، بے ایمانو!" خواجہ نصر الدین گرج پڑے۔ "تم نے میری حکم عدولی کی جرات کیسے کی۔ تمھیں یہ ہمت کیسے ہوئی کہ دعا پڑھتے وقت اسی بات کا تصور کرو جس کے لئے میں نے خاص طور سے تمھیں منع کیا تھا!" انہوں نے کمبل الٹ دیا اور جعفر پر پھوٹ پڑے "تم نے میری مدد کیوں مانگی تھی؟ اب میری سمجھ میں آگیا کہ تم شفا نہیں چاہتے تھے! تم مجھے ذلیل کرنا چاہتے تھے۔ تم میرے دشمنوں کے لئے یہ سب کر رہے تھے! جعفر ہوشیار رہنا! کل ہی امیر کو سارا قصہ معلوم ہو جائے گا۔ میں انہیں بتاؤں گا کہ کس طرح تم نے دعا پڑھتے وقت جان بوجھ کر مرتدانہ خیالات سے بندر کا تصور کیا! جعفر ہوشیار رہنا اور تم سب بھی! تم آسانی سے نہیں چھٹکارا پاؤ گے۔ یقیناً تم کو کفر کی سزا تو معلوم ہی ہو گی۔۔۔"
چونکہ کفر کی سزا ہمیشہ انتہائی شدید ہوتی تھی اس لئے رشتے دار تو مارے خوف کے مفلوج ہو گئے۔ سود خور اپنے کو بے قصور ثابت کرنے کے لئے اس طرح ہکلانے لگا کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ خواجہ نصر الدین اس کی بات سننے کے لئے نہیں رکے۔ وہ وہاں سے مڑ کر چل پڑے اور پھاٹک دھڑام سے بدن کیا۔
جلد ہی چاند چاند بلند ہو گیا۔ شہر ہلکی ہلکی چاندنی میں نہا گیا۔ سود خور کے گھر میں رات گئے تک تو تو میں میں جاری رہی۔ ہر شخص گرم ہو کر بحث کر رہا تھا اور یہ جاننا چاہتا تھا کہ بندر کا تصور کرنے میں پہل کس نے کی۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers