سلام اس پر جو جاودانی اور لا فانی ہے !
’’ الف لیلہ‘‘
(۲۷)
خواجہ نصر الدین نے امیر کا اعتماد اور عنایات حاصل کر لیں اور تمام معاملات میں اس کے خاص مشیر بن گئے۔ خواجہ نصر الدین فیصلے کرتے تھے۔ امیر کا کام صرف ان پر دستخط کرنا اور وزیر اعظم بختیار کا فرضِ منصبی صرف ان پر مہر لگانا تھا۔
’’ اللہ اکبر ! ہماری ریاست میں اب یہ نوبت پہنچ گئی ہے !‘‘
بختیار نے ٹیکس کے خاتمے ، سڑکوں اور پلوں کے مفت استعمال اور بازار کے نرخ کم کرنے کے بارے میں امیر کا فرمان پڑھ کر کہا ’’جلاد ہی خزانہ خالی ہو جائے گا! یہ نیا مشیر، خدا اس کو غارت کرے، اس نے تو ایک ہفتے میں وہ سب ڈھا دیا جو میں نے دس سال میں بنایا تھا!‘‘     تفصیل سے پڑھئے
ایک دن اس نے اپنے شبہات امیر کے گوش گزار کرنے کی جرات کی لیکن امیر نے جواب دیا:
’’مجہول انسان تو کیا جانتا ہے اور کیا سمجھتا ہے؟ ہم کو بھی یہ فرمان جاری کر کے رنج ہوتا ہے جو ہمارے خزانے کو خالی کرتے ہیں لیکن ہم کیا کر سکتے ہیں اگر ستاروں کا یہی حکم ہے؟ بختیار گھبراؤ نہیں ! یہ صرف تھوڑے دن کے لئے ہے جب تک ستارے سازگار نہیں ہوتے۔ مولانا حسین ، اس کو یہ سمجھاؤ!‘‘
خواجہ نصر الدین وزیر اعظم کو علیٰحدہ لے گئے اور اس کو گدوں پر بٹھا بڑی تفصیل کے ساتھ بتایا کہ لوہاروں ، ٹھٹھیروں اور اسلح سازوں کے مزید ٹیکس فوراً ختم کرنے کی ضرورت کیوں ہے۔
’’جھرمٹ قوس میں البلدہ ستارے جھرمٹ عقرب میں صد باز ستاروں کے خلاف ہیں‘‘ خواجہ نصر الدین نے کہا ’’دانائے روزگار وزیر آپ سمجھتے جیں ناں کہ وہ خلاف ہیں اور دونوں کے قران کا امکان نہیں ہے۔‘‘
’’اچھا ، تو اس سے کیا ہوتا ہے؟‘‘ بختیار نے جواب دیا۔ ’’وہ پہلے بھی قران میں نہیں تھے پھر انہوں نے ہم کو ٹیکس وصول کرنے سے نہیں روکا۔‘‘
’’لیکن آپ جھرمٹ ثور میں ستار الدبران کو بھول گئے!‘‘ خواجہ نصر الدین نے زور سے کہا ’’وزیر محترم ، آپ آسمان کو دیکھئے خود پتہ چل جائے گا۔‘‘
’’میں آسمان کیوں دیکھوں‘‘ ضدی وزیر نے کہا ‌‌’’میرا کام ہے خزانے کی حفاظت کرنا اور اس کو دولت سے بھرنا اور میں دیکھتا ہوں کہ جب سے آپ محل میں آئے ہیں خزانے کی آمدنی گھٹ گئی ہے اور ٹیکسوں کا آنا کم ہو گیا ہے۔ یہی وقت شہر کے کاریگروں سے ٹیک وصول کرنے کا ہے، بتائیے ، ہم انھیں کیوں نہ وصول کریں؟‘‘
’’ کیوں؟‘‘ خواجہ نصر الدین چیخے ’’میں ایک گھنٹے سے آپ کو یہی سمجھا رہا ہوں ۔ کیا اب بھی آپ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ ہر منطقہ البروج پر چاند کے دو محل ہوتے ہیں ایک تھائی کے ساتھ۔۔۔‘‘
’’لیکن مجھے ٹیکس تو وصول کرنا ہی ہیں!‘‘ وزیر نے پھر بات کاٹ کر کہا ’’ٹیکس، سمجھتے ہیں نا آپ ۔‘‘
’’صبر کیجئے‘‘ خواجہ نصر الدین نے بختیار کو روک دیا ’’ابھی میں نے آپ سے الثریا کے مجموعہ نجوم اور انعیم کے آٹھ ستاروں کے بارے میں تو بتایا ہی نہیں۔۔۔‘‘
اب خواجہ نصر الدین نے ایسا پیچیدہ اور طویل بیان شروع کر دیا کہ وزیر اعظم کے کان سنسنانے لگے اور آنکھیں دھندلی پڑ گئیں۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا چلا گیا اور خواجہ نصر الدین نے امیر کی طرف مخاطب ہو کر کہا:
’’آقائے نامدار، چاہے عمر نے ان کے سر کو چاندی سے ڈھک دیا ہو اور اس سے ان کا سر بیش قیمت ہو گیا ہو لیکن جو کچھ اندر ہے وہ سونا نہیں بنا ہے۔ وہ میرے علم و فضل کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ وہ کچھ بھی نہیں سمجھے آقا! کاش کہ ان کو امیر کی ذہانت کا جو خود لقمان کی فراست کو مات کرتی ہے ہزارواں حصہ ہی ملا ہوتا!‘‘
امیر بڑی مہربانی اور خود پسندی سے مسکرایا۔ ان دنوں خواجہ نصر الدین بڑی محنت سے اس کو یقین دلا رہے تھے کہ اس کی فراست کا کوئی جواب نہیں ہے اور اس کوشش میں خواجہ پوری طرح کامیاب ہوئے تھے چنانچہ جب وہ کوئی بات امیر کے سامنے ثابت کرنے لگتے تو امیر اس کو بڑے غور سے سنتا اور اس پر بحث نہ کرتا کیونکہ اس کو یہ ڈر تھا کہ کہیں اس کی ذکاوت کا پول نہ کھل جائے۔
۔۔۔دوسرے دن بختیار نے اپنے دل کی بات درباریوں کے ایک گروہ سے کہی:
’’یہ نیا دانا، مولانا حسین ہم سب کو تباہ کر دے گا! جس دن ٹیکس جمع کئے جاتے ہیں اسی دن ہم بھی اس ابلتے ہوئے چشمے سے سیراب ہوتے ہیں جو امیر کے خزانے کی طرف بہتا ہے۔ لیکن جب سیراب ہونے کا وقت آتا ہے تو یہ مولانا حسین ہماری ساری امیدوں پر پانی پھیر دیتا ہے! وہ ستاروں کا محل بتانے لگتا ہے۔ بھلا کبھی کسی نے یہ سنا ہے کہ یہ ستارے جو اللہ کے احکام کے تابع ہیں امرا و شرفا کے بھی خلاف پڑے ہوں اور حقیر کاریگروں کے لئے سازگار رہے ہوں جو، میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں ، اپنی کمائی ہمیں دینے کی بجائے خود بڑی بے شرمی سے چٹ کر رہے ہیں! بھلا کسی نے ستاروں کی ایسی گردش کے بارے میں سنا ہے؟ اس طرح کی کوئی کتاب نہیں لکھی جا سکتی تھی کیونکہ وہ کتاب فوراً جلا دی جاتی اور اس کے مصنف کو بہت بڑا کافر ، منکر اور مجرم ٹھہرا کر سولی پر چڑھا دیا جاتا!‘‘
درباریوں نے کچھ نہیں کہا کیونکہ انھیں قطعی یقین نہیں تھا کہ کس کی طرفداری کرنا مفید ہو گا بختیار کی یا نئے دانا کی؟
’’ٹیکس کی وصولیابی روزبروز کم ہوتی جاتی ہے‘‘ بختیار نے اپنی بات جاری رکھی ’’ اور کیا ہو گا؟ اس مولانا حسین نے امیر کو یہ کہہ کر دھوکا دیا ہے کہ ٹیکس چند دن کے لئے ختم کئے گئے ہیں اور بعد میں پھر ان کو لگا کر اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ امیر کو اس بات کا یقین ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ کسی ٹیکس کو ختم کرنا آسان ہے لیکن کوئی نیا لگانا بہت ہی مشکل ہے۔ آدمی اپنا پیسہ اس وقت جلدی دے دیتا ہے جب وہ اس بات کا عادی ہو جاتا ہے کہ وہ پیسے کو کسی دوسرے کا سمجھے لیکن ایک بار وہ اپنے اوپر یہ رقم خرچ کر لے تو پھر دوسری بار اس کو اسی طرح خرچ کرنا چاہے گا۔‘‘
’’ خزانہ خالی ہو جائے گا اور ہم یعنی امیر کے درباری تباہ ہو جائیں گے۔ زربفت کے لباس کی بجائے ہمیں موٹے کپڑے پہننا پڑیں گے۔ بیس بیویوں کی بجائے ہمیں دو ہی پر قناعت کرنی پڑے گی۔ چاندی کی پلیٹوں میں کھانے کی بجائے مٹی کے برتن ہوں گے اور نرم میمنے کے نرم گوشت کے بجائے ہمیں گائے کے سخت گوشت کا پلاؤ کھانا پڑے گا جو صرف کتوں اور دستکاروں کے لئے ہی موزوں ہے۔ یہی مولانا حسین ہمارے لئے کرنے والا ہے۔ جو اس کو نہیں سمجھتا وہ اندھا ہے اور لعنت ہو اس پر!‘‘
اس طرح کہہ کر بختیار نے نئے دانا کے خلاف درباریوں کو بہکانے کی کوشش کی ۔ لیکن اس کی کوششیں بے سود رہیں۔ مولانا حسین کو اپنے منصب میں برابر کامیابیاں ہوتی گئیں۔ وہ خاص طور سے ’’یومِ مدح سرائی‘‘ کے موقع پر ممتاز رہا۔ ایک پرانے رواج کے مطابق ہر مہینے تمام وزراء و امراء ، حکما و شعراء کا امیر کے سامنے مقابلہ ہوتا تھا جس میں امیر کی مدح و ثنا کی جاتی تھی ۔ مقابلے میں جیتنے والے کو انعام ملتا تھا۔
ہر شخص نے اپنا قصیدہ پیش کیا لیکن امیر خوش نہیں ہوا۔ اس نے کہا:
’’یہی باتیں تم نے پچھلی بار بھی کہی تھیں۔ ہم دیکھتے ہیں تم اپنی تعریفوں میں زیادہ گہرے نہیں ہو۔ تم اپنے دماغوں پر زور دینا نہیں چاہتے ہو۔ ہم تم سے سوالات کرینگے اور تم ان کا جواب اس طرح دو کہ تعریف و تشبیہ دونوں کا امتزاج ہو جائے۔ غور سے سنو، ہمارا پہلا سوال ہے ۔ اگر ہم ، امیر اعظم بخارا تمھارے دعوے کے مطابق طاقتور اور ناقابلِ تسخیر ہیں تو پڑوسی اسلامی ممالک کے حکمرانوں نے ابھی تک ہمارے یہاں اپنے ایلچی اور قیمتی تحائف ہماری مکمل اطاعت کے پیغام کے ساتھ کیوں نہیں بھیجے ہیں؟ ہم تمھارے جواب کے منتظر ہیں۔‘‘
درابری گھبرا گئے ۔ وہ براہ راست جواب دینے کی بجائے منہ ہی منہ میں بدبدانے لگے۔ صرف خواجہ نصر الدین پرسکون تھے۔ جب ان کی باری آئی تو وہ بولے:
’’میں اپنے حقیر الفاظ امیر کے گوش گزار کرنے کی التجا کرتا ہوں ۔ ہمارے شاہ کے سوال کا جواب آسان ہے۔ پڑوسی ملکوں کے تمام حکمراں ہمارے آقا کی قدرت کامل سے برابر لرزاں و ترساں رہتے ہیں ۔ وہ یہ سوچتے ہیں : ’’اگر ہم بخارا کے عظیم ، صاحب شان و شوکت امیر کو بیش قیمت تحفے بھیجیں تو وہ یہ سوچ سکتے ہیں کہ ہمارا ملک زرخیز ہے جو ان کے لئے اس بات کی ترغیب ہو گی کہ وہ فوجیں لے کر ہم پر چڑھ آئیں اور ہمارے ملک پر قبضہ کر لیں۔ اگر اس کے بر عکس ہم ان کو حقیر تحفے بھیجیں تو وہ ناراض ہو جائیں گے اور اپنی فوج ہمارے خلاف بھیج دیں گے۔ بخارا کے امیر عظیم ، صاحب شان و شوکت اور طاقتور ہیں اس لئے یہی بہتر ہے کہ ہم ان کو اپنے وجود کی یاد ہی نہ دلائیں۔۔۔‘‘
’’ یہ ہیں خیالات جو بادشاہوں کے دماغوں میں ہیں اور اس کا سبب کہ وہ بیش بہا تحفوں کے ساتھ اپنے سفیر بخارا کیوں نہیں بھیجتے ہمارے بادشاہ کی قدرتِ کامل کے مستقل خوف میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔‘‘
’’اہا‘‘ خواجہ نصر الدین کے جواب سے مسرور ہو کر امیر نے کہا ’’امیر کے سوال کا جواب اسی طرح دینا چاہئے: سنی تم لوگوں نے مولانا حسین کی بات، ارے بیوقوفو ، گاؤدیو ان سے سیکھو ! واقعی مولانا حسین کی عقل و دانش تم سے دسیوں گنی زیادہ ہے ۔ ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘‘
درباری باورچی نے فوراً لپک کر خواجہ نصر الدین کا منہ حلوے اور شیرینی سے بھر دیا۔ خواجہ نصر الدین کے گال پھول گئے اور گلا گھٹنے لگا۔ میٹھی رال ان کی ٹھڈی تک بہہ نکلی۔
امیر نے اور کئی ٹیڑھے سوال کئے لیکن ہر بار خواجہ نصر الدین ہی کا جواب بہترین رہا۔
’’درباری کا اولین فرض کیا ہے؟‘‘ ایک ایسا ہی سوال تھا جس کا جواب خواجہ نصر الدین نے یوں دیا:
’’اے صاحب شان و شوکت اور با عظمت بادشاہ ! درباری کا اولین فرض ہے کہ وہ روزانہ ریڑھ کی کسرت کرتا رہے تا کہ اس میں ضروری لچک پیدا ہو جائے کیونکہ اس کے بغیر وہ بجا طور پر اپنی وفاداری اور احترام کا اظہار نہیں کر سکتا۔ درباری کی ریڑھ کی ہڈی میں جھکنے کے ساتھ ساتھ چاروں طرف گھومنے مڑنے کی خوبی بھی ہونی چاہئے ۔ اس میں عام آدمی کی پتھرائی ہوئی ریڑھ کی ہڈی سے امتیاز ہونا چاہئے جس کو ٹھیک سے جھک کر سلام کرنا بھی معلوم نہیں ہے۔‘‘
’’بالکل ٹھیک !‘‘ امیر نے خوش ہو کر زور سے کہا۔ ’’ بالکل لبیک! اپنی ریڑھ کی ہڈی کی روزانہ کسرت! ہم دوسری بار مولانا حسین کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘‘
ایک بار پھر خواجہ نصر الدین کا منہ حلوے اور شیرینی سے بھر دیا گیا۔
اس دن بہت سے درباری بختیار کے گٹ کو چھوڑ کر خواجہ نصر الدین سے آن ملے۔
اس دن شام کو بختیار نے ارسلان بیک کو اپنے گھر مدعو کیا۔ نیا دانا دونوں کے لئے مساوی طور پر خطرناک تھا اور اس کو ختم کرنے کی خواہش نے ان کی پرانی دشمنی کو عارضی طور پر دبا دیا تھا۔
’’اگر اس کے پلاؤ میں کچھ ملا دیا جائے تو اچھا رہے گا‘‘ ارسلان بیک نے تجویز کی جو ایسے کاموں میں بڑا استاد تھا۔
’’اور اس کے بعد امیر ہمارے سر قلم کر دے گا‘‘ بختیار جھٹ سے بولا۔ ’’نہیں محترم ارسلان بیک ہمیں دوسرا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔ ہمیں مولانا حسین کی عقلمندی کی ہر طرح تعریف کرنی چاہئے یہاں تک ہ امیر کے دل میں یہ شبہ پیدا ہو جائے کہ درباری مولانا حسین کو خود امیر سے زیادہ عقلمند سمجھتے ہیں ۔ ہمیں متواتر مولانا حسین کی تعریفوں کے پل باندھ دینا چاہئے اور ایک دن ایسا آئے گا جب امیر رشک کرنے لگے گا۔ وہ دن مولانا حسین کے عروج کا آخری دن اور اس کے زوال کی ابتدا ہو گی۔‘‘
لیکن قسمت خواجہ نصر الدین پر مہربان تھی اور ان کی غلطیاں بھی ان کے لئے مفید بن جاتی تھیں۔
جب بختیار ارسلان بیک نے نئے دانا کی مسلسل اور مبالغہ آمیز مدح و ثنا سے تقریباً اپنا مقصد حاصل کر لیا تھا اور امیر دل ہی دل میں اس سے رشک کرنے لگا تھا تو اتفاق سے خواجہ نصر الدین سے ایک فاش غلطی ہو گئی۔
خواجہ امیر کے ساتھ باغ میں ٹہل رہے تھے، پھولوں کی مہک اور چڑیوں کی چہکار سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔ امیر خاموش تھا۔ خواجہ نصر الدین نے یہ محسوس کیا کہ اس خاموشی میں کچھ ناراضگی پنہاں ہے لیکن اس کی وجہ نہ سمجھ سکے۔
’’اور وہ بڈھا ، تمھارا قیدی کیسا چل رہا ہے؟‘‘ امیر نے پوچھ لیا۔ ’’کیا تم نے اس کا اصلی نام اور بخارا آنے کا سبب معلوم کر لیا؟‘‘
خواجہ نصر الدین اس وقت گل جان کے خیال میں محو تھے۔ اس لئے انہوں نے کھوئے پن سے جواب دیا:
’’جہاں پناہ غلام کو معاف کریں! میں ابھی تک اس بڈھّے سے ایک لفظ بھی معلوم نہیں کر سکا۔۔۔بس ، وہ تو بت کی طرح گو ہے۔‘‘
’’ لیکن کیا تم نے اس کو اذیت پہنچانے کی کوشش کی ؟‘‘
’’ ہاں ، ہاں ، خداوند نعمت! پرسوں میں نے اس کے جوڑوں کو کس دیا، کل میں نے گرم چمٹی سے اس کے دانت ہلانے میں سارا زور صرف کیا۔
’’ دانت ہلانا بڑی اچھی اذیت ہے‘‘ امیر نے تصدیق کی ۔ ’’حالانکہ یہ عجیب بات ہے کہ وہ خاموش ہے۔ کیا میں کوئی ۔۔۔ اور تجربے کار جلاد تمھاری مدد کے لئے بھیجوں؟‘‘
’’نہیں ، حضورِ والا اس فکر کی زحمت نہ کریں۔ کل میں ایک نئی اذیت آزماؤں گا۔ کل میں بڈھّے کی زبان اور مسوڑے ایک لال انگارہ برمے سے چھیدوں گا۔‘‘
’’ٹھہرو ! ٹھہرو!‘‘ امیر نے زور سے کہا۔ اس کا چہرہ یکایک خوشی سے چمک اٹھا۔ ’’بھلا وہ تمھیں اپنا نام کیسے بتائے گا اگر تم نے اس کی زبان جلتے ہوئے برمے سے چھید دی! مولانا حسین ! تم نے اس کی بابت کبھی نہیں سوچا تھا، ہے نا، اور ہم نے، امیر اعظم نے فوراً سوچ لیا اور تم کو ایک زبردست غلطی کا مرتکب ہونے سے بچا لیا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگرچہ تم دانائے بے نظیر ہو ، ہماری عقل و فرست تم سے کہیں زیادہ ہے ، جیسا کہ تم نے ابھی ابھی دیکھا۔‘‘
وہ خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا۔ مسرت میں سرشار اس نے درباریوں کو فوراً طلب کیا۔ جب وہ سب جمع ہو گئے تو اس نے اعلان کیا کہ اس دن وہ مولانا حسین سے عقل و دانش میں سبقت لے گیا ہے اور ایسی غلطی سے بچا لی ہے جو دانا کرنے ہی والا تھا۔
درباری واقعی نویس نے آنے والی نسلوں کے لئے امیر کے ایک ایک لفظ کو بڑی محنت سے لکھ لیا۔
اس دن سے امیر کے دل میں رشک و حسد نہیں رہا۔
اس طرح ایک اتفاقیہ غلطی نے خواجہ نصر الدین کے دشمنوں کی عیارانہ سازشوں کو ناکام بنا دیا۔
لیکن رات کی تنہائی میں ان کی پریشانی زیادہ بڑھنے لگی۔ پورا چاند شہر بخارا پر بلند ہو چکا تھا۔ بے شمار میناروں کے سروں پر روغن دار کھپرے چمک رہے تھے اور پتھر کی زبردست بنیادیں ایک نیلگوں دھندلکے میں مستور تھیں۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ چھتوں پر تو خنک تھی لیکن نیچے جہاں زمین اور دھوپ سے جلتی ہوئی دیواروں کو ٹھنڈا ہونے کے لئے کافی وقت نہیں ملا تھا یہی ہوا گھٹن پیدا کر رہی تھی ۔ سب چیزوں پر نیند چھائی ہوئی تھی ۔ محل ، مسجدوں اور جھونپڑیوں پر۔ صرف الو اپنی تیز چیخوں سے اس مقدس شہر کے امن و سکوت میں خلل انداز ہو رہے تھے۔
خواجہ نصر الدین کھلی کھڑکی پر بیٹھے تھے ۔ ان کا دل یہ کہتا تھا کہ گل جان بھی نہ سوئی ہو گی اور انھیں کے بارے میں سوچ رہی ہو گی۔ شاید اس وقت وہ دونوں ایک ہی مینار کو دیکھ رہے ہوں لیکن ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکتے تھے کیونکہ وہ دیوروں، سلاخوں، خواجہ سراؤں اور مغلانیوں کے ذریعہ ایک دوسرے سے جدا تھے۔ خواجہ نصر الدین محل میں تو آ گئے تھے لیکن ابھی حرم تک پہنچ نہیں ہوئی تھی جس کا موقع قسمت ہی سے مل سکتا تھا۔ وہ انتھک اس موقع کے بارے میں سوچتے رہتے لیکن سب بے سود ہوتا ! وہ گل جان کو کوئی پیام تک نہ بھیج سکے تھے۔ وہ کھڑکی میں بیٹھے ہوا کو چوم کر یہ کہہ رہے تھے:
’’ تیرے لئے تو یہ بہت آسان ہے! آہستہ سے اس کی کھڑکی کے اندر جا کر اس کے ہونٹ چوم لے۔ گل جان کو میرا بوسہ اور پیام پہنچا! اسے بتا کہ میں اسے بھولا نہیں ہوں۔ اس سے کہہ کہ میں اسے نجات دلاؤں گا۔‘‘
لیکن ہوا خواجہ نصر الدین کو غم میں ڈوبا چھوڑ کر آگے بڑھ گئی۔
پھر حسب معمول ایک اور دن کاموں اور فکروں کے ساتھ شروع ہو جاتا۔ پھر خواجہ نصر الدین کو دربار میں حاضر ہونا پڑتا ۔ امیر کی آمد کا انتظار کرنا ہوتا ، درباریوں کی چاپلوسیاں سننا پڑتیں ، بختیار کی عیارانہ سازشوں کو سمجہنا اور اس کی خفیہ زہریلی نگاہوں کی نگرانی کرنی پڑتی تھی۔ پھر امیر کے سامنے جھکنا پڑتا ، اس کے قصیدے پڑھنے پڑتے اور اس کے بعد امیر کے ساتھ گھنٹوں تنہائی میں رہ کر ، اس کے پھولے اور مسخ چہرے سے نفرت کے باوجود ، اس کی احمقانہ باتوں کو غور سے سننا پڑتا اور اس کو ستاروں کی گردش کے بارے میں بتانا پڑتا ۔ خواجہ نصر الدین ان باتوں سے اتنے تنگ آ چکے تھے کہ وہ کوئی نئی بات نہ کہتے اور ہر چیز کی خواہ وہ امیر کا درد ہو یا فصل کی خشکسالی اور غلے کی گرانی ایک ہی الفاظ میں اور ایک ہی ستاروں کے جھرمٹ سے تاویل کر دیتے ۔ وہ اکتائے ہوئے لہجے میں کہتے:
’’سعد الذبیح کے ستارے جھرمٹ قوس کے خلاف ہیں جبکہ سیارہ عطارد اب جھرمٹ عقرب کے بائیں طرف آگیا ہے۔ امیر کو کل رات نیند نہ آنے کی وجہ یہ ہے۔‘‘
’’سعد الذبیح کے ستارے سیارہ عطارد کے خلاف ہیں جبکہ۔۔۔ مجھے یہ یاد رکھنا چاہئے۔۔۔ مولانا حسین اس کو دھراؤ۔‘‘
بہر حال امیر اعظم کے ہاں حافظے کا فقدان تھا۔
دوسرے دن پھر اسی پر نئے سرے سے بات چیت شروع ہوتی:
’’ امیر اعظم ، پہاڑی علاقوں میں مویشیوں کی ہلاکت کو سبب یہ ہے کہ سعدالذبیح کے ستارے جھرمٹ قوس سے مطابقت کر رہے ہیں جبکہ عطارد عقرب کے خلاف ہیں۔‘‘
’’اچھا تو سعدالذبیح کے ستارے‘‘ امیر کہتا ’’مجھے یہ یاد رکھنا چاہئے۔‘‘
’’اللہ اکبر ! کتنا احمق ہے یہ !‘‘ خواجہ نصر الدین عاجز ہو کر سوچتے۔ ’’یہ تو میرے سابق مالکان سے بھی زیادہ گدھا ہے! میں تو اس سے تنگ آ گیا۔ نہیں معلوم مجھے اس محل سے کب نجات ملے گی!‘‘
اس دوران میں امیر کوئی اور موضوع چھیڑ دیتا:
’’مولانا حسین، ہماری سلطنت میں امن و امان کا دور دورہ ہے۔ اب خواجہ نصر الدین کی کوئی خبر نہیں آتی۔ وہ کہاں چلا گیا؟ وہ کیوں خاموش ہے؟ ہمیں یہ بتاؤ۔‘‘
’’شہنشاہ معظم، مرکز عالم! سعدالذبیح کے ستارے۔۔۔‘‘ خواجہ نصر الدین نے اکتائی اور تھکی ہوئی آواز سے کہنا شروع کیا اور وہ سب باتیں دھرا ڈالیں جو پہلے نجانے کتنی بار کہہ چکے تھے۔ ’’اور اس کے علاوہ ، امیر معظم ، یہ بدمعاش خواجہ نصر الدین بغداد جا چکا ہے اور ظاہر ہے کہ اس نے میری عقل و دانش کی شہرت سنی ہو گی اور جب اسے معلوم ہوا کہ میں بخارا آ گیا ہوں تو وہ خوف و ہراس سے پوشیدہ ہو گیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں اس کو آسانی سے گرفتار کر سکتا ہوں۔‘‘
’’اس کو گرفتار کر سکتے ہو ؟ یہ تو بہت اچھا رہے گا ! لیکن تم یہ کام کیسے کرنے والے ہو؟‘‘
’’اس کے لئے میں سعد الذبیح کے ستاروں اور سیارہ مشتری کے قران السعدین کا انتظار کروں گا۔‘‘
’’سیارہ مستری کے ساتھ‘‘ امیر نے دھرایا ’’مجھے یہ یاد رکھنا چاہئے۔ مولانا ، جانتے ہو کل رات میرے دماغ مین ایک لاجواب خیال آیا ہے۔ ہم نے سوچا کہ بختیار کو بر طرف کر کے اس کی جگہ پر تم کو وزیر اعظم مقرر کیا جائے۔‘‘
خواجہ نصر الدین کو امیر کے سامنے جھک کر اس کی تعریف کرنی پڑی اور شکریہ ادا کرنا پڑا اور یہ وضاحت کرنی پڑی کہ فی الحال سعدالذبیح کر ستارے وزیروں میں کسی تبدیلی کے لئے ناسازگار ہیں۔
’’جلدی جلدی بھاگو یہاں سے!‘‘ خواجہ نصر الدین نے سوچا۔
اس طرح محل میں ان کی زندگی خوشیوں سے خالی اور اداس گزر رہی تھی ۔ وہ بازار ، بھیڑ بھکڑ ، چائے خانوں اور دھوئیں بھرے باورچی خانوں کے لئے بے تاب تھے۔ وہ امیر کے پورے لذیذ دستر خوان کو لات مار کر بھیڑ کے پایوں کے گرم گرم پیاز کٹے خوب چٹ پٹے شوربے کے پیالے یا بھیڑ کی سخت بوٹیوں کے سستے بازاری پلاؤ کو خوشی سے ترجیح دیتے۔ خوشامد اور تعریف کی جگہ وہ سیدھی سادی بات چیت اور زندہ دلانہ قہقہے سننے کے لئے اپنے زرتار لباس کا تبادلہ چیتھڑوں سے کر سکتے تھے۔
لیکن قسمت کو خواجہ کی آزمائش منظور تھی اس لئے وہ سازگار موقع نہیں ہاتھ آ رہا تھا جس کا مدتوں سے انتظار تھا۔ اس دوران امیر برابر یہ پوچھتا رہتا کہ آخر کب ستارے اس کو اپنی نئی داشتہ کا نقاب الٹنے کی اجازت دیں گے۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers