بغداد کا دانا، اصلی مولانا حسین، اسی پھاٹک پر دھر لیا گیا جس کے پار وہ نقاب کے اندر سے ہر سمت جانے والی سڑکیں دیکھ سکتا تھا۔ ہر سڑک اس کو بدبختی سے نجات پانے کی راہ معلوم پڑتی تھی۔
لیکن پھاٹک کے پہرے داروں نے اس کو ٹوکا "اے عورت، کہاں جا رہی ہے تو؟"
دانا نے آواز بنا کر اس طرح جواب دیا کہ معلوم ہوا کوا بول رہا ہے:
"میں عجلت میں ہوں، اپنے خاوند کے پاس جا رہی ہوں۔ بہادر سپاھیو، مجھے جانے دو۔"
آواز پر شبہ کرتے ہوئے پہرے داروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ایک نے اونٹ کی مہار تھام لی۔
"تم کہاں رہتی ہو؟"    تفصیل سے پڑھئے
"یہیں، بالکل قریب" دانا نے اور بھی باریک آواز میں جواب دیا۔ اس کوشش میں اس کو کھانسی آ گئی اور دم پھول گیا۔ پہرے داروں نے اس کا نقاب پھاڑ دیا۔ ان کو بے حد خوشی ہوئی۔
"وہی ہے، وہی!" وہ چلائے "پکڑ لو! باندھ لو! پکڑ لو!"
اس کے بعد وہ بڈھّے کو محل لائے اور راستے میں اس پر بات چیت کرتے رہے کہ کس طرح اس کو موت کی سزا ملے گی اور تین ہزار تانگے کا انعام جو ان کو ملنے کی امید تھی۔ ان کا ایک ایک لفظ بڈھّے کے لئے جلتے ہوئے انگارے کی طرح تھا۔
وہ تخت کے نیچے پڑا کانپ رہا تھا اور رو رو کر رحم کی بھیک مانگ رہا تھا۔
’’ اس کو ہٹاؤ‘‘ امیر نے حکم دیا۔
پہرے داروں نے اس کو پیروں پر کھڑا کیا۔ ارسلان بیک درباریوں کے مجمع سے آگے آیا اور بولا:
’’حضور، غلام کی بھی ایک بات سنیں۔ یہ آدمی خواجہ نصر الدین نہیں ہے۔ خواجہ نصر الدین نوجوان ہے، تیس سال سے کچھ اوپر اور یہ آدمی کافی معمر ہے۔‘‘
پہرے دار ہراساں ہو گئے۔ انعام ان کے ہاتھ سے نکلا جا رہا تھا۔ ہر آدمی خاموش اور چکرایا ہوا تھا۔
تو نے عورت کا بھیس کیوں بدلا؟ امیر نے دھمکی آمیز لہجے میں سوال کیا۔
’’میں امیر معظم و محترم کے محل کی طرف آ رہا تھا‘‘ بڈھّے نے کانپتے ہوئے جواب دیا۔ ’’ لیکن میری ملاقات ایک آدمی سے ہوئی جو بالکل اجنبی تھا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میرے بخارا آنے سے پہلے ہی امیر نے میرا سر قلم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ میں نے خوف سے بھیس بدل کر بھاگ نکلنے کا فیصلہ کیا۔‘‘
امیر نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ سب سمجھتا ہے قہقہہ لگایا:
’’ تم ایک آدمی سے ملے۔۔۔ ایک اجنبی سے اور فوراً اس کی بات کا یقین کر لیا؟۔۔۔ کیا لاجواب قصہ ہے! ہم تمھارا سر کیوں قلم کرنے والے تھے؟‘‘
’’ کیونکہ کہا جاتا ہے کہ میں نے بالاعلان اس بات کی قسم کھائی تھی کہ امیر معظم کے حرم میں گھسوں گا۔۔۔ لیکن خدا گواہ ہے کہ میں نے اس بات کا کبھی خیال بھی نہیں کیا ! میں بڈھا اور ضعیف ہوں اور مدتوں ہوئے خود اپنے حرم تک کو ترک کر چکا ہوں۔‘‘
’’ہمارے حرم میں گھس جاؤ گے؟‘‘ امیر نے اپنے ہونٹ بھینچتے ہوئے دھرایا۔ اس کا چہرہ صاف بتا رہا تھا کہ بڈھّے کے خلاف اس کے شکوک میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ’’تم ہو کون اور کہاں سے آئے ہو؟‘‘
’’میں ہوں بغداد کا دان حکیم مولانا حسین۔ میں امیر معظم کے حکم کے مطابق بخارا آیا ہوں۔‘‘
’’مولانا حسین؟‘‘ امیر نے دھرایا۔ ’’ تم مولانا حسین ہو! تمھارا نام مولانا حسین ہے! ارے کمبخت بڈھے، یہ تو سفید جھوٹ ہے!‘‘ وہ اتنی زور سے گرجا کہ ملک الشعراء اچانک گھٹنوں کے بل گر پڑا۔ ’’ جھوٹ بولتا ہے ! یہ رہے مولانا حسین!‘‘
امیر کا اشارہ پا کر خواجہ نصر الدین بڑی فرمانبرداری کے ساتھ آگے بڑھے اور بڈھّے کے سامنے تن کر کھڑے ہو گئے اور نڈر ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگے۔
بڈھا حیرت سے پیچھے ہٹ گیا لیکن دوسرے ہی لمحے اپنے کو سنبھال کر چلایا:
’’آقا ، ارے یہ تو وہی آدمی ہے جو مجھے بازار میں ملا تھا اور اسی نے مجھ سے کہا تھا کہ امیر میرا سر قلم کر دینا چاہتے ہیں!‘‘
’’یہ کیا کہہ رہا ہے، مولانا حسین!‘‘ امیر نے انتہائی پریشان ہو کر کہا۔
’’ یہ مولانا حسین نہیں ہے!‘‘ بڈھا چیخا۔ ’’میں مولانا حسین ہوں۔ یہ دھوکےباز ہے! اس نے میرا نام چرا لیا ہے!‘‘
خواجہ نصر الدین نے امیر کے سامنے بہت جھک کر کہا:
’’ معظم بادشاہ میری گستاخی معاف ہو لیکن یہ بڈھا واقعی بے حد بے حیا ہے! کہتا ہے کہ میں نے اس کا نام چرا لیا اور شاید یہ بھی کہے گا کہ میں نے اس کی عبا پر قبضہ جما لیا ہے؟‘‘
’’ہاں ہاں !‘‘ بڈھا چلایا۔ ’’یہ عبا میری ہی ہے!‘‘
’’ ممکن ہے کہ یہ عمامہ بھی تمھارا ہی ہو؟‘‘ خواجہ نصر الدین نے مذاق اڑاتے ہوئے پوچھا۔
’’ ہاں ، ضرور ! یہ میرا ہی عمامہ ہے! تم نے میری عبا اور عمامے کو زنانے لباس سے بدل لیا تھا۔‘‘
’’ اچھا‘‘ خواجہ نصر الدین نے اور طنز سے کہا۔ ’’اور یہ پٹکا بھی غالباً تمھارا ہی ہے؟‘‘
’’ میرا ہی ہے!‘‘ بڈھّے نے غصے کے ساتھ زور دیکر کہا۔
خواجہ نصر الدین تخت کی طرف مڑے اور بولے: ’’ حضورِ والا، امیر معظم نے خود دیکھ لیا کہ یہ کس قسم کا آدمی ہے۔ آج یہ جھوٹا اور بیہودہ بڈھا یہ کہتا ہے کہ میں نے اس کا نام چرا لیا، یہ عبا اس کی ہے، یہ عمامہ اس کا ہے اور یہ پٹکا اس کا ہے اور کل یہ کہے گا کہ یہ محل اس کا ہے اور ساری سلطنت اس کی ہے اور بخارا کا اصلی امیر وہ عظیم اور آفتاب جیسا بادشاہ نہیں ہے جو اس وقت ہمارے سامنے تخت پر جلوہ فرما ہے بلکہ یہ بے ہودہ جھوٹا ہے! اس سے ہر بات کی توقع کی جا سکتی ہے۔ وہ بخارا کیوں آیا؟ کیا وہ امیر کے حرم میں اس طرح گھسنے نہیں آیا جیسے کہ اس کا خود کا حرم ہو؟‘‘
’’تم ٹھیک کہتے ہو، مولانا حسین‘‘ امیر نے کہا ۔ ’’ ہاں ، ہم کو یقین ہو گیا ۔ بڈھا مشکوک اور خطرناک آدمی ہے اور اس کے ارادے بد ہیں۔ ہماری رائے میں اس کا سر فوراً جسم سے جدا کر دیا جائے۔‘‘
بڈھا آہ بھر کر گھٹنوں کے بل گر پڑا۔ اس نے اپنا چہرہ ہاتھوں سے ڈھک لیا۔
بہر حال خواجہ نصر الدین یہ نہیں گوارا کر سکتے تھے کہ ان کے اُوپر جو الزامات تھے ان کی بنا پر کسی بے گناہ کو موت کے گھاٹ اُتارا جائے چاہے وہ آدمی درباری دانا ہی کیوں نہ ہو جو اپنے جعل سے بہتوں کی تباہی کا باعث بن چکا تھا۔ اس لئے انہوں نے امیر کے سامنے بہت جھک کر عرض کیا:
’’امیر معظم میری بات سننے کی زحمت گوارا فرمائیں۔ اس کا سر جب چاہے قلم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن پہلے کیا یہ اچھا نہ ہو گا کہ اس کا اصلی نام اور بخارا آنے کا سبب معلوم کیا جائے؟ ممکن ہے کہ سازش میں اس کے ساتھی ہوں۔ ممکن ہے کہ وہ کوئی بد طینت جادوگر ہو جو ستاروں کی خرابی سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہو۔ اگر ایسا ہے تو امیر معظم کے قدموں کے نیچے کی مٹی لے گا اور اس کو چمگادڑ کے بھیجے میں ملا دے گا اور پھر اس کو امیر حقے میں رکھ دے گا اور اس طرح ان کی صحت کو نقصان پہنچائے گا۔ امیر معظم اس کی جان بخشی کریں اور اس کو مجھے حوالے کریں۔ وہ معمولی پہرے داروں پر اپنے جادو سے قابو پا لے گا لیکن میرے خلاف اس کا زور نہیں چل سکتاکیونکہ اپنے علم سے میں جادوگروں کی ساری چالیں جانتا ہوں اور ان کے جادو کے توڑ کے ساب طریقے معلوم ہیں۔ میں اس کو بند کر کے قفل پر ایسی دعا پڑھ دوں گا جو صرف مجھ کو معلوم ہے۔ اس طرح صرف اپنے جادو کی طاقت سے وہ قفل نہیں کھول سکے گا۔ پھر رفتہ رفتہ اس کو اذیت پہنچا کر میں اس کو سب کچھ قبولنے پر مجبور کروں گا۔‘‘
’’ اچھا‘‘ امیر نے کہا ’’ مولانا حسین، تم معقول بات کہہ رہے ہو۔ اس کو لے جاؤ اور جو جی چاہے کرو لیکن ہوشیار رہنا کہیں یہ بھاگ نہ جائے۔‘‘
’’ میرا سر قلم کر دیجئے گا۔‘‘
آدھے گھنٹہ بعد خواجہ نصر الدین جو اب امیر کے مشیر خاص اور نجومی بن چکے تھے اپنی نئی جائے رہائش پر آ گئے جو ان کے لئے محل کی فصیل کے ایک برج میں خاص طور سے سجی گئی تھی۔ ان کے پیچھے سخت پہرے میں سر جھکائے ملزم تھا ، اصلی مولانا حسین۔
خواجہ نصر الدین کی قیام گاہ سے اوپر برج میں ایک چھوٹا سا گول کمرہ تھا جس میں سلاض دار کھڑکی تھی۔ خواجہ نصر الدین نے سیک بہت بڑی کنجی سے زنگ لگا ہوا پیتل کا قفل اور بکتر بند دروازہ کھولا۔ پہرے داروں نے بڈھّے کو اندر ڈھکیل دیا۔ اسے کولی بھر پیال لیٹنے کے لئے دی۔ خواجہ نصر الدین نے دروازے میں قفل لگا دیا اور اس پیتل کے قفل پر بڑی تیزی سے کچھ اس طرح پڑھتے رہے کہ پہرے داروں کی سمجھ میں صرف جا بجا اللہ کا نام آتا تھا۔
خواجہ نصر الدین اپنی قیام گاہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ امیر نے ان کو بارہ گدے ، آٹھ تکئے اور سامانِ خانہ داری دیا تھا اور ایک ٹوکری نانیں، شہد اور بہت سی دوسری لطیف اور مزیدار چیزیں کھانے کے لئے اپنے دستر خوان سے بھیجی تھیں۔ خواجہ نصر الدین بہت تھکے اور بھوکے تھے لیکن کھانا کھانے سے پہلے انہوں نے چھ گدے اور چار تکئے قیدی کو پہنچا دئے۔
بڈھا ایک کونے میں سمٹا سمٹایا پڑا تھا ، اس کی آنکھیں اندھیرے میں غضبناک بلی کی طرح چمک رہی تھیں۔
’’ اچھا‘‘ خواجہ نصر الدین نے سہج سے کہا ’’ہم اس برج میں تم تکلیف نہ ہونے دیں گے۔ میں نیچے ہوں اور تم اوپر جیسا کہ تمھاری عمر اور دانائی کے لئے زیبا ہے۔ ارے یہاں کتنی گرد ہے! میں ذرا اس کو صاف کر دوں۔‘‘
وہ نیچے سے پانی کا ایک گھڑا اور جھاڑو لائے ۔ انہوں نے اچھی طرح پتھر کا فرش دھویا ، گدے بچھائے اور تکئے لگائے۔ پھر انہوں نے نیچے کا ایک اور چکر لگایا اور نان ، شہد ، حلوہ اور پستے لائے جن کو انہوں نے ایمانداری کے ساتھ قیدی کے سامنے دو حصوں میں تقسیم کیا اور کہا:
’’ تم بھوکے نہیں رہو گے ، مولانا حسین، ہم کھانے کا کافی انتظام کر لیں گے۔ یہ رہا حقہ اور تمباکو۔‘‘
ہر چیز انہوں نے اس طرح سجا دی کہ یہ چھوٹا سا کمرہ خود ان کے اپنے کمرے سے بہتر معلوم ہونے لگا۔ اب خواجہ نصر الدین رخصت ہوئے اور دروازے میں قفل لگا دیا۔
بڈھا اکیلا پڑا رہا۔ وہ بہت بد حواس تھا۔ بڑی دیر تک وہ سوچتا اور گتھیاں سلجھاتا رہا لیکن اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا کہ اس کا کیا حشر ہو رہا ہے۔ گدے بہت نرم تھے اور تکئے بھی آرامدہ تھے۔ نہ تو نان میں اور نہ شہد یا تمباکو میں کوئی زہر تھا۔۔۔ سارے دن کے ہنگامے سے تھکے چور بڈھّے نے اپنی قسمت کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ کر سونے کا ارادہ کیا۔اس دوران میں وہ آدمی جو اس کی تمام مصیبتوں کا باعث تھا نیچے کے کمرے میں کھڑکی پر بیٹھا شفق کو رات میں ڈھلتے دیکھ رہا تھا اور اپنی غیر معمولی طوفانی زندگی اور محبوبہ کے بارے میں سوچ رہا تھا جو یہاں اس سے بہت ہی قریب تھی لیکن اس کے متعلق کچھ نہیں جانتی تھی۔ کھڑکی سے ٹھنڈی ہوا آنے لگی۔ مؤذنوں کی گونجتی ہوئی پُر سوز آواز شہر کے اوپر کسی نقرئی فیتے کی طرح پھیل گئی۔ سیاہ آسمان میں تارے جھلملانے لگے۔ ان کی چمک اور جھلملا ہٹ ایک خالص ، سرد اور دور دراز کی آگ سے ملتی تھی۔ وہاۃ ستارہ القلب چمک رہا تھا جو دل سے تعلق رکھتا ہے اور تین ستارے الغفر تھے جو کسی دوشیزہ کے نقاب کی نشانی ہیں اور دو ستارے السرطان تھے جو دو سینگیں پیش کرتے ہیں اور صرف ستارہ الشعلہ جو نحس اور موت کی نشانی ہے آسمان کی تاریک بلندیوں پر نہیں دکھائی دے رہا تھا۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers