آج کی ہر گھڑی خواجہ نصر الدین کے لئے بیش قیمت تھی۔ اس لئے انہوں نے بازار میں آوارہ گردی نہیں کی۔ لیکن ایک سپاھی کا جبڑا اور دوسرے کے دانت توڑ کر اور تیسرے کی ناک چپٹی کر کے وہ صحیح سلامت اپنے دوست علی کے چا خانے لوٹ آئے۔ یہاں انہوں نے زنانی پوشاک اتار دی اور رنگین بدخشانی عمامہ اور مصنوعی داڑھی لگا لی۔ اس طرح بھیس بدل کر وہ ایسی جگہ بیٹھ گئے جہاں سے وہ ساری لڑائی کا مشاہدہ کر سکیں۔ مجمع میں گھرے ہوئے سپاھی اپنے کو پوری طاقت کے ساتھ بچا رہے تھے۔ خواجہ نصر الدین کے بالکل پاس چائے خانے کے برابر ایک کشمکش شروع ہو گئی۔ ان سے کسی طرح ضبط نہ ہوا اور انہوں نے اپنی چا دانی سپاھیوں پر خالی کر دی اور یہ اس مہارت سے کیا کہ انڈے گٹک جانے والے موٹے اور کاہل سپاھی کی گردن پر پانی دوڑ گیا۔ وہ چلا کر زمین پر چت گر پڑا اور اپنے ہاتھ پیر ہوا میں پھینکنے لگا۔ اس پر نگاہ ڈالے بغیر خواجہ نصر الدین پھر اپنے خیالات میں ڈوب گئے۔ اچانک انہوں نے کسی بڈھّے کی کانپتی ہوئی چیخ کی آواز سنی:   تفصیل سے پڑھئے
"مجھے راستہ دو، راستہ دو، خدا کے واسطے! یہاں کیا ہو رہا ہے؟"
چائے خانے سے ذرا دور پر جہاں زوروں کی گتھم گتھا ہو رہی تھی بیچوں بیچ ایک سفید ریش، عقاب جیسی ناک والا بڈھا اونٹ پر بیٹھا تھا۔ دیکھنے میں وہ عرب معلوم ہوتا تھا۔ اپنے عمامے کے سرے کے پیچ کی وجہ سے وہ صاحب علم و فضل معلوم ہوتا تھا۔ وہ انتہائی خوف کی حالت میں اپنے اونٹ کے کوہان سے لپٹا ہوا تھا اور اس کے چاروں طرف لڑائی ہو رہی تھی۔ کوئی اس کا پیر پکڑ کر اونٹ سے کھینچنے کی کوشش کر رہا تھا اور بڈھا بچنے کے لئے بے تحاشہ جدوجہد کر رہا تھا۔ غل غپاڑے اور چیخوں کی گونج کانوں کو بہرہ کئے دے رہی تھی۔
پناہ پانے کی انتہائی کوشش میں بڈھا کسی نہ کسی طرح چائے خانے تک پہنچ گیا۔ بار بار چونک کر اور گھوم گھوم کر دیکھتے ہوئے اس نے خواجہ نصر الدین کے گدھے کے برابر اپنا اونٹ باندھا اور برآمدے پر چڑھ آیا۔
"خدا کی قسم! تمھارے شہر میں کیا ہو رہا ہے؟"
"بازار ہے" خواجہ نصر الدین نے مختصر سا جواب دے دیا۔
"کیا بخارا میں ہمیشہ ایسے ہی بازار ہوتے ہیں؟ بھلا ایسے مجمع میں میں کبھی محل تک پہنچ سکوں گا؟"
"محل" کا لفظ سنتے ہی خواجہ نصر الدین تاڑ گئے کہ بڈھّے سے یہ ملاقات وہ موقع فراہم کرتی ہے جس کے وہ منتظر تھے اور وہ اب امیر کے حرم تک پہنچ کر گل جان کو رہا کرا سکیں گے۔"
لیکن سبھی جانتے ہیں کہ جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے۔ دانائے روزگار شیخ سعدی شیرازی کہہ گئے ہیں "دیر آید درست آید" اس لئے خواجہ نصر الدین نے بے صبری سے کام نہیں لیا۔
بڈھا کراہ کراہ کر آہیں بھر رہا تھا:
"اللہ اکبر! اے مومنوں کے محافظ! میں محل تک کیسے پہنچوں؟"
"یہاں کل تک انتظار کیجئے" خواجہ نصر الدین نے جواب دیا۔
"میں انتظار نہیں کر سکتا" بڈھّے نے زور سے کہا۔ "محل میں میرا انتظار ہو رہا ہے۔"
خواجہ نصر الدین نے قہقہہ لگایا:
"محترم، سفید ریش بزرگ! میں آپ کا پیشہ اور کام تو نہیں جانتا ہوں لیکن کیا آپ کو قطعی یقین ہے کہ محل میں لوگ آپ کے بغیر کل تک کام نہیں چلاسکتے؟ بخارا میں بڑے بڑے حکما و عقلا ہفتوں تک محل میں باریابی کا انتظار کرتے ہیں۔ آپ کو آخر اس سے مستثنی کیوں کیا جائے گا؟"
"اچھا تو سن لو" بڈھّے نے خواجہ نصر الدین کی بات کا نا برا مان کر غرور سے کہا " میں مشہور عاقل نجومی اور حکیم ہوں۔ میں امیر کی دعوت پر بغداد سے آیا ہوں تاکہ ان کی ملازمت میں رہ کر امور ریاست میں ان کی مدد کروں۔"
"اوہ!" خواجہ نصر الدین نے ادب سے جھک کر کہا۔"خوش آمدید، شیخ دانا! میں بغداد جا چکا ہوں اور میں اس شہر کے عقلا سے واقف ہوں۔ اپنا نام بتائے!"
"اگر تم بغداد جا چکے ہو تو تم نے ان خدمات کا ذکر ضرور سنا ہو گا جو میں نے خلیفہ کے لئے کی ہیں۔ میں نے ان کے پیارے بیٹے کی جان بچائی تھی جس کا اعلان سارے ملک میں کیا گیا۔ میرا نام مولانا حسین ہے۔"
"مولانا حسین!" خواجہ نصر الدین نے حیرت سے کہا "کیا یہ ممکن ہے کہ آپ بذات خود مولانا حسین ہوں؟"
بوڑھا یہ دیکھ کر اطمینان سے مسکرایا کہ اس کی شہرت اپنے شہر بغداد سے
باہر نکل کر اتنی پھیل چکی ہے۔
"تمھیں حیرت کیوں ہوئی؟" اس نے کہا۔ "ہاں، میں بذات خود مولانا حسین ہوں، وہ دانا جس کی عقل و دانش میں، ستارہ شناسی میں اور مسیحائی میں کوئی جواب نہیں۔ لیکن مجھ میں غرور و فخر نہیں ہے۔ دیکھو نا میں تم جیسے معمولی آدمی سے کس سادگی کے ساتھ باتیں کر رہا ہوں۔"
بڈھّے نے ایک تکیے کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس کی ٹیک لے لی۔ وہ اپنی عقل و دانش کا تفصیلی حال بتا کر اپنے ہم نشین کو نوازنا چاہتا تھا۔ اس کو امید تھی کہ وہ بڑے فخر کے ساتھ دوسرے لوگوں کو مشہور دانا مولانا حسین سے ملاقات کے بارے میں تفصیل سے سے بتائے گا، اس کی دانائی کے گن گائے گا اور سننے والوں کے دل میں دانا کا احترام بڑھانے کے لئے اس میں مبالغہ بھی کرے گا اور اس طرح اپنے لئے بھی عزت کمائے گا۔ کیونکہ وہ لوگ یہی رویہ اختیار کرتے ہیں جن پر بڑے لوگ عنایات کرتے ہیں۔
"اس طرح یہ عام لوگوں میں میری شہرت کو بڑھائے گا جن کو حقیر نہ سمجہنا چاہئے" مولانا حسین نے سوچا "عوام کی باتیں جاسوسوں اور خبر رسانوں کے ذریعہ امیر کے کانوں تک پہنچیں گی اور میری دانائی کی تصدیق کریں گی۔ کسی بات کی باہر سے تصدیق بلاشبہ بہترین تصدیق ہے۔ اس طرح آخر میں مجھے ہی فائدہ ہو گا۔
اپنے ہم نشین پر رعب جمانے کے لئے دانا نے اس کو تاروں کے جھرمٹوں اور ان کے درمیان روابط کے بارے بتانا شروع کر دیا اور بہت سے پرانے داناؤں کے حوالے بھی دئے۔
خواجہ نصر الدین اس کی باتیں بڑے غور سے سنتے رہے اور یہ کوشش کی ان کے ذہن میں سب محفوظ ہو جائیں۔
"نہیں!" آخر میں انہوں نے کہا۔"ابھی تک مجھے یقین نہیں آتا! کیا آپ واقعی مولانا حسین ہیں؟"
"واقعی!" بڈھّے نے چلا کر کہا۔ "اس میں کیا عجیب بات ہے؟"
خواجہ نصر الدین پیچھے ہٹ گئے جیسے وہ ڈر رہے ہوں۔ پھر انہوں نے خوف و ہراس کی آواز میں کہا "بدقسمت انسان! آپ تباہ ہو گئے!"
بوڑھے کا گلا رندھ گیا اور اس کے ہات سے چا کا گلاس چھٹ پڑا۔ اس کا سارا گھمنڈ اور اہمیت غائب ہو گئی۔
"کیسے؟ کیوں؟ کیا بات ہے؟" اس نے پریشان ہو کر پوچھا۔
"آپ نہیں جانتے کہ سب ہنگامہ آپ کی وجہ سے ہے؟" خواجہ نصر الدین نے بازار کی طرف اشارہ کر کے کہا جہاں ابھی لڑائی بالکل ختم نہیں ہوئی تھی۔ "امیر کے کانوں تک یہ بات پہنچی ہے کہ بغداد چھوڑتے وقت آپ نے علانیہ فرمایا کہ آپ امیر کے حرم میں دخل حاصل کریں گے اور ان کی بیویوں کو ورغلائیں گے۔ ہائے افسوس، مولانا حسین۔"
بڈھّے کا منہ کھلا رہ گیا، اس کی آنکھیں پتھرا گئیں اور خوف سے ہچکیاں لینے لگا۔ "میں؟" وہ ہکلا رہا تھا "میں۔۔۔ حرم میں؟۔۔۔"
"آپ نے تخت خداوندی کی قسم کھا کر کہا کہ آپ یہی کرینگے۔ نقیبوں نے آج اسی طرح اعلان کیا اور امیر نے حکم دیا ہے کہ شہر میں قدم رکھتے ہی آپ کو پکڑ لیا جائے اور اسی جگہ گردن مار لی جائے۔"
دانا نے ہراساں ہو کر ایک آہ سرد بھری۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس کے کس دشمن نے اس پر یہ بلا نازل کی ہے۔ اس کو اس بات کی سچائی پر ذرا بھی شبہ نہیں ہوا۔ درباری سازشوں کے دوران اس نے خود متعدد بار اپنے دشمنوں کو اسی طرح تباہ کیا تھا اور ان کے سر بانسوں پر چڑھے دیکھ کر اس کا دل ٹھنڈا ہوا تھا۔
"تو آج" خواجہ نصر الدین نے اپنی بات جاری رکھی "جاسوسوں نے امیر کو خبر سنائی کہ آپ آ گئے ہیں۔ انہوں نے آپ کی گرفتاری کا حکم دے دیا اور سپاھی آپ کو جلدی جلدی تلاش کرنے لگے۔ انہوں نے سب دوکانوں کو چھان مارا۔ کاروبار رک گیا اور امن و امان نہیں رہا۔ غلطی سے سپاھیوں نے ایک آدمی کو پکڑ لیا جو آپ کا ہم شبیہ تھا اور عجلت میں انہوں نے اس کا سر قلم کر دیا۔ اتفاق سے وہ ایک ملا تھا جو اپنے زہد و اتقا کے لئے مشہور تھا۔ اس کی مسجد کے لوگ بگڑ کھڑے ہوئے۔ دیکھئے یہ سب کیا ہو رہا ہے اور محض آپ کی وجہ سے۔"
"ہائے کیسا بدقسمت ہوں میں" دانا نے خوف و ہراس سے کہا۔
وہ پریشان ہو کر بڑبڑاتا، کراہتا اور فریاد کرتا رہا۔ اس طرح خواجہ نصر الدین کو یقین ہو گیا کہ ان کی چال کامیاب ہو گئی ہے۔
اس دوران میں لڑائی محل کے پھاٹکوں کی طرف منتقل ہو گئی تھی جدھر بری طرح پٹے ہوئے سپاھی بھاگ رہے تھے۔ اس دوران میں وہ اپنے ہتھیار بھی کھو بیٹھے تھے۔ بازار میں اب بھی ہل چل اور ہنگامہ تھا لیکن سکون ہوتا جا رہا تھا۔
"مجھے بغداد واپس جانا چاہئے!" بڈھّے نے گریہ و زاری کرتے ہوئے کہا۔ "مجھے بغداد واپس جانا چاہئے!"
"آپ کو شہر کے پھاٹک پر پکڑ لیا جائے گا" خواجہ نصر الدین نے جھٹ سے جواب دیا۔
"ہائے میری قسمت! ہائے مصیبت! خدایا میں معصوم ہوں! میں نے ایسا توہین آمیز اور ناپاک اعلان کبھی نہیں کیا۔ میرے دشمنوں نے امیر سے یہ تہمت تراشی کی ہے۔ ارے مہربان مومن، میری مدد کرو!"
خواجہ نصر الدین تو اسی بات کے منتظر ہی تھے کیونکہ وہ خود مدد کی پیش کش کر کے دانا کو شبہ کرنے کی گنجائش نہیں دینا چاہتے تھے۔
"آپ کی مدد کروں؟" انہوں نے کہا۔ "میں آپ کی مدد کیسے کر سکتا ہوں؟ اپنے آقا کے وفادار اور مخلص خادم کی حیثیت سے تو مجھے آپ کو بلا تاخیر سپاھیوں کے حوالے کر دینا چاہئے تاکہ مجھے پر سازش کا الزام نہ عائد کیا جا سکے۔"
ہچکیاں لیتے اور کانپتے ہوئے دانا نے التجا آمیز نظروں سے خواجہ نصر الدین کو دیکھا۔
"پھر بھی آپ کہتے ہیں کہ آپ بے گناہ ہیں اور لوگوں نے آپ کے خلاف تہمت تراشی کی ہے۔ میں تو اس بات کا یقین کرنے کے لئے تیار ہوں" خواجہ نے اس کو یقین دلایا "کیونکہ اس بزرگی کی عمر میں بھلا آپ کا حرم میں کیا کام۔"
"بالکل ٹھیک کہتے ہو!" بڈھّے نے کہا۔ "لیکن میرے لئے نجات کا راستہ کیا ہے؟"
"ایک راستہ ہے" خواجہ نصر الدین نے جواب دیا۔ وہ بڈھّے کو پچھلی والی اندھیری کوٹھری میں لے گئے اور وہاں انہوں نے اس کو عورت والے کپڑوں کی پوٹلی دی۔ "میں نے آج یہ اپنی بیوی کے لئے خریدے تھے۔ اگر آپ چاہیں تو اس آپ اس کا تبادلہ اپنی عمامے اور عبا سے کر لیں۔ عورت کی نقاب میں آپ جاسوسوں اور سپاھیوں سے محفوظ رہیں گے۔"
بڑی خوشی اور شکرئے کے ساتھ بڈھّے نے کپڑے لیکر پہن لئے۔ خواجہ نصر الدین نے اس کی سفید عبا پہنی، اس کا طرح دار عمامہ سر پر رکھا اور چوڑا ستاروں والا پٹکا باندھا۔ پھر انہوں نے بڈھّے کو اپنے اونٹ پر چڑھنے میں مدد دی۔
"خدا آپ کی حفاظت کرے، اے دانائے روزگار! دیکھئے، عورتوں کی طرح ذرا باریک آواز میں بولنا نہ بھولئے گا۔"
بڈھا اپنی سواری پر بگٹٹ بھاگا۔
خواجہ نصر الدین کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ محل کا راستہ کھلا ہوا تھا۔

(۲۵)
یہ اطمینان کر لینے کے بعد کہ بازار میں جھگڑا ختم ہو رہا ہے تقدس مآب امیر نے فیصلہ کیا کہ وہ دربار خاص میں درباریوں کے پاس جائے گا۔ اس نے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ وہ پرسکون ہے لیکن اس کو کچھ تکلیف ضرور ہے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی درباری یہ سوچنے کی جرأت کر سکے کہ اس کے شاہانہ دل میں خوف نے جگہ پائی ہے۔
امیر جب وہاں پہنچا تو درباری خاموش رہے کیونکہ ان کو یہ ڈر تھا کہ کہیں ان کی آنکھیں اور چہرے اس بات کی غمازی نہ کر دیں کہ وہ امیر کے صحیح جذبات سے بخوبی واقف ہیں۔
امیر اور درباری دونوں خاموش تھے۔ آخرکار یہ خوفناک سکوت امیر نے یہ کہہ کر توڑا:
"تم ہم سے کیا کہنا چاہتے ہو؟ تمھارا کیا مشورہ ہے؟ یہ سوال ہم تم سے پہلی بار نہیں پوچھ رہے ہیں!"
سب چپکے سے سرجھکائے سناٹے میں کھڑے رہے۔ اچانک امیر کا چہرہ غصے سے بگڑ گیا۔ نہ معلوم کتنے سر جلاد کے تیغے کے نیچے جھک جاتے۔ نہ جانے کتنی خوشامدی زبانیں ہمیشہ کے لئے بند کر دی جاتیں جو موت کی اذیت سے اس طرح خون سے عاری ہونٹوں سے باہر لٹک پڑتیں جیسے وہ زندہ لوگوں کو ان کی دولت نا پائیدار، اپنی پر غرور اور بیکار تمناؤں، کوششوں کی یاد دلا رہی ہوں۔
لیکن سر شانوں پر برقرار رہے، زبانیں فی البدیہہ خوشامد کے لئے تیز رہیں کیونکہ اس وقت داروغہ محل نے آ کر اعلان کیا:
"خدا مرکز جہاں کو سلامت رکھے! محل کے پھاٹک پر ایک اجنبی کھڑا ہے اور اپنا نام بغداد کا دانا مولانا حسین بتا رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ وہ بہت ضروری کام سے آیا ہے اور اسے فوراً جہاں پناہ کے حضور میں حاضر ہونا چاہئے۔
"مولانا حسین!" امیر نے اشتیاق سے کہا۔ "اس کو آنے دو! اس کو یہاں لے آؤ!"
دانا اندر آیا نہیں بلکہ بھاگ کر اندر گھسا حتی کہ جلدی میں اپنے گرد آلود سلیپر بھی اتارنا بھول گیا۔ تخت کے سامنے منہ کے بل گر گیا:
"مشہور اور پر عظمت امیر کو، سارے جہاں کے آفتاب و ماہتاب کو، دنیا کے لئے رحیم و قہار کو میرا سلام! میں دن رات منزلیں طے کرتا آیا ہوں تاکہ امیر کو ایک ہولناک خطرے سے آگاہ کر سکوں۔ امیر بتائیں کہ کیا آج وہ کسی عورت کے پاس گئے؟ امیر، میرے آقا، اس خادم کی بات کا جواب دیجئے۔۔۔ میں آپ سے التجا کرتا ہوں!۔۔۔"
"عورت؟" امیر نے متحیر ہو کر دھرایا "آج؟۔۔ نہیں۔ ہمارا ارادہ تھا لیکن ابھی تک ہم نے ایسا نہیں کیا ہے۔"
دانا اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کا چہرہ زرد تھا۔ اس نے انتہائی ہیجان کی حالت میں امیر کے جواب کا انتظار کیا تھا۔ اس کے ہونٹوں سے ایک طویل اور گہری آہ نکلی۔ رفتہ رفتہ اس کے گالوں کا رنگ واپس آیا۔
"الحمد للہ" اس نے زور سے کہا "اللہ نے عقل اور رحمت کی روشنی کو گل ہونے سے بچا لیا۔ اے امیر! رات کو ستارے اور سیارے ایسے برجوں میں تھے جو حضور کے بے حد خلاف پڑتے ہیں۔ اور میں نے، اس ناچیز نے جو امیر کے پیروں کی گرد کو بھی بوسہ دینے کے قابل نہیں ہے مشاہدہ کر کے سیاروں کے مقام کا حساب لگایا۔ میں جانتا ہوں کہ جب تک وہ پھر سازگار اور نیک فال کے مقامات تک نہ پہنچ جائیں امیر کو کوئی عورت چھونا نہ چاہئے، نہیں تو ان کی تباہی لازمی ہے۔"
"رکو، مولانا حسین" امیر نے بیچ میں کہا "تم ایسی باتیں کر رہے ہو جو سمجھ میں نہیں آتیں۔۔۔"
"الحمد للہ کہ میں وقت پر پہنچا" دانا کہتا رہا (جو حقیقت میں خواجہ نصر الدین تھے) "میں اپنی آخری سانس تک اس بات پر فخر کروں گا کہ میں نے امیر کو آج عورت چھونے سے روک دیا۔ اس طرح میں نے دنیا کو ایک زبردست غم سے بچا لیا۔"
اس نے یہ بات اس قدر مسرت اور خلوص سے کہی کہ امیر کو اس پر یقین ہی کرنا پڑا۔
"جب مجھ کو جو ایک حقیر چیونٹی کی مانند ہے اعلی حضرت نے سرفراز کیا، مجھ ناچیز کو یاد کیا اور مجھے بخارا آ کر امیر کی خدمت میں رہنے کا فرمان ملا تو ایسا معلوم ہوا کہ جیسے میں بے مثال مسرت کے سمندر میں غوطہ زن ہوں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ میں امیر کا فوراً حکم بجا لایا اور سفر کے لئے چل پڑا۔
"لیکن پہلے میں نے چند دن امیر کا زائچہ کھینچنے میں گزارے۔ پھر میں نے فوراً ان کی خدمت اس طرح شروع کی کہ ان کی قسمت کے سیاروں اور ستاروں کا مطالعہ شروع کر دیا۔ کل رات آسمان دیکھنے پر معلوم ہوا کہ ستارے اور سیارے دونوں امیر کے لئے بری طرح خطرناک ہو رہے ہیں۔ ستارہ الشعلہ جو ضرت کی علامت ہے ستارہ القلب کی طرف جو دل کی علامت ہے خراب رخ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ میں نے تین اور ستارے الغفر جو عورت کی نقاب کی علامت ہے، دو ستارے الاکلیل جو تاج کی علامت ہیں اور ستارے السرطان دیکھے جو سینگوں کی علامت ہیں۔
"یہ سب منگل کو تھا جو سیارہ مریخ کا دن ہے اور یہ دن جمعرات کے برخلاف ، بڑے آدمیوں کی موت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور امیروں کے لئے انتہائی مضرت رساں ہے۔ ان تمام علامتوں کو دیکھ کر اس ناچیز نے جانا کہ موت کی ضرب کسی صاحب تاج کے دل پر پڑنے والی ہے اگر اس نے عورت کی نقاب کو چھوا۔ اسی لئے میں انتہائی تعجیل کے ساتھ صاحب تاج کو آگاہ کرنے کے لئے آیا۔ میں نے دن رات سفر کیا۔ دو اونٹ مر گئے اور میں بخارا میں پیدل داخل ہوا۔
"اے خدائے برتر!" امیر نے بے حد متاثر ہو کر کہا۔ "کیا یہ ممکن ہے کہ ہم کو ایسا خطرہ درپیش ہو؟ کیا تم کو قطعی یقین ہے کہ تم غلطی نہیں کر رہے ہو، مولانا حسین؟"
"غلطی؟ میں؟" دانا نے زور سے کہا۔ "اے امیر، بغداد سے بخارا تک دانائی، علم نجوم اور دست شفا میں میرا کوئی جواب نہیں ہے۔ میں غلطی نہیں کر سکتا۔ آقا، آفتاب جہاں، امیر اعظم آپ اپنے حکما سے پوچھئے کہ میں نے ستاروں کے صحیح نام بتائے ہیں یا نہیں۔ اور زائچے میں ان کو ٹھیک مقام دئے ہیں یا نہیں؟"
امیر کا اشارہ پا کر ٹیڑھی گردن والا دانا آگے بڑھا۔
"مولانا حسین، دانائی میں میرے بے نظیر ہم عصر نے ستاروں کے صحیح نام بتائے ہیں جن سے ان کے علم و فضل کا پتہ چلتا ہے جس پر کسی کو شک نہیں ہو سکتا، لیکن" دانا نے اپنی بات ایسے لہجے میں جاری رکھی جو خواجہ نصر الدین کو کینہ آمیز معلوم ہوتا تھا "مولانا حسین نے امیر کو چاند کا سولہواں برج اور وہ جھرمٹ نہیں بتایا جس میں یہ برج پیدا ہوتا ہے کیونکہ اس نشان دھی کے بغیر یہ دعوی بے بنیاد ہو گا کہ منگل جو سیارہ مریخ کا دن ہے قطعی طور پر بڑے آدمیوں کی موت کی نشانی کا دن ہے جن میں تاجدار بھی شامل ہیں کیونکہ مریخ قیام ایک جھرمٹ میں کرتا ہے، اس کا عروج دوسرے میں اور زوال تیسرے میں ہوتا ہے اور چوتھے جھرمٹ میں وہ غروب ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق سیارہ مریخ کی چار مختلف علامتیں ہیں نہ کہ صرف ایک جیسا کہ انتہائی لائق اور دانا مولانا حسین نے کہا ہے۔"
دانا چالاکی سے مسکراتا ہوا خاموش ہو گیا۔ درباری ایک دوسرے سے اس بات پر خوش ہو کر کھسر پھسر کرنے لگے۔ ان کا خیال تھا کہ نووارد گھبرا گیا ہے۔ اپنی آمدنیوں اور اعلی عہدوں کی حفاظت کے لئے وہ باہر کے تمام آدمیوں کو دور ہی رکھنے کی کوشش کرتے تھے اور ہر نووارد کو خطرناک حریف سمجھتے تھے۔
لیکن جب خواجہ نصر الدین کوئی بات اٹھاتے تھے تو پھر ہار نہیں مانتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دانا، درباریوں اور خود امیر کو بھانپ لیا تھا۔ انہوں نے ذرا بھی گھبرائے بغیر بڑے سرپرستانہ انداز میں جواب دیا:
"شاید میرے دانش مند اور لائق ہم عصر مجھ سے علم کی کسی شاخ میں بالاتر ہوں لیکن جہاں ستاروں کا تعلق ہے ان کے الفاظ ابن بجاع کی تعلیم سے قطعی لا علمی کا اظہار کرتے ہیں جو دانائے روزگار تھا اور جس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سیارہ مریخ کا قیام جھرمٹ حمل و عقرب میں، اس کا عروج جھرمٹ جدی میں، زوال جھرمٹ سرطان میں اور غروب جھرمٹ میزان میں ہوتا، بہرحال یہ صرف منگل کی خصوصیت ہے جس پر سیارہ مریخ اثرانداز ہوتا ہے جو تاجداروں کے لئے مہلک ہے۔"
یہ جواب دیتے ہوئے خواجہ نصر الدین ذرا بھی نہیں ڈرے کہ ان پر جاہل ہونے کا الزام لگایا جائے گا کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ایسے مباحثوں میں اسی کی جیت ہوتی ہے جو سب سے زیادہ چرب زبان ہوتا ہے اور اس میں ان کا مقابلہ شاید ہی کوئی کر سکتا ہو۔
وہ اب دانا کے اعتراضات کا اعتراض کرنے اور مناسب جواب دینے کے لئے تیار کھڑے تھے لیکن دانا نے معاملے کو نہیں اٹھایا اور خاموش رہا۔ اس کی یہ جرأت نہیں ہوئی تھی کہ وہ بحث کو زیادہ طول دے حالانکہ اس کو کافی شک تھا کہ خواجہ نصر الدین جاہل اور دھوکے باز ہیں لیکن اس کو اپنی جہالت کا خود کافی علم تھا۔ اس لئے اس نے نووارد کو گھبرانے کی جو کوشش کی تھی اس کا اثر الٹا ہوا اور درباریوں نے اسے خاموش کر دیا۔ اس نے آنکھوں سے اشارہ کیا کہ حریف سے کھلم کھلا مقابلہ کرنا خطرناک ہے۔
یہ اشارے کنائے خواجہ نصر الدین نے بھی دیکھ لئے اور دل ہی دل میں کہا:
"ذرا ٹھہرو، بتاؤں گا تمھیں!"
امیر گہری سوچ میں پڑ گیا۔ ہر ایک ساکت تھا مبادا امیر کے غور و فکر میں خلل انداز نہ ہو۔
اگر تم نے تمام ستاروں کا نام و قیام صحیح بتایا ہے، مولانا حسین" امیر نے آخرکار کہا "تو واقعی تمھاری پیش گوئی ٹھیک ہے۔ لیکن ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ دو ستارے السرطان جن کی علامت سینگوں کی ہیں ہمارے زائچے میں کیسے آئے؟ واقعی مولانا حسین، تم عین وقت پر پہنچے کیونکہ آج صبح ہی کو ایک دوشیزہ ہمارے حرم میں لائی گئی ہے اور ہم تیاری کر رہے تھے کہ۔۔۔"
خواجہ نصر الدین نے بناوٹی دہشت سے اپنے ہاتھ ہلائے۔
"اس کو اپنے دماغ سے نکال دیجئے، امیر محترم، اس کو نکال دیجئے!" وہ چلائے جیسے یہ بھول گئے ہوں کہ امیر کو براہ راست حاضر کے صیغے میں مخاطب نہیں کرنا چاہئے۔ وہ جانتے تھے کہ اس بے ادبی کو امیر سے وفاداری اور ان کی جان کی سلامتی کے لئے خوف کا زبردست جذبہ سمجھا جائے گا اور ان کے خلاف نہیں پڑے گا بلکہ اس کے برعکس امیر کے دل میں ان کے خلوص کے لئے زیادہ وقعت پیدا ہو گی۔
انہوں نے ایسے زوردار لہجے میں امیر سے درخواست اور التجا کی کہ وہ لڑکی سے اپنے کو مس نہ کرے تاکہ اس کو یعنی مولانا حسین کو آنسوؤں کا سیلاب نہ بہانا پڑے اور سیاہ ماتمی لباس نہ پہننا پڑے کہ امیر اس سے بہت متاثر ہوا۔
"مطمئن رہو، مولانا حسین۔ ہم اپنی رعایا کے دشمن تھوڑے ہی ہیں کہ ان کو رنج و غم میں مبتلا ہونے دیں۔ ہم تم سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اپنی قیمتی جان کی حفاظت کریں گے اور نہ صرف یہ کہ اس لڑکی کے پاس نہیں جائیں گے بلکہ عام طور پر اس وقت تک حرم میں داخل نہ ہوں گے جب تک تم ہیں یہ نہ بتاؤ گے کہ اب ہمارے ستارے سازگار ہیں۔ یہاں آؤ۔"
یہ کہہ کر امیر نے اپنے حقہ بردار کو اشارہ کیا اور ایک لمبا کش کھینچ کر خود اپنے ہاتھ سے حقے کی طلائی نال نووارد دانا کی طرف بڑھا دی جو اس کے لئے بری عزت و عنایت کا باعث تھا۔ گھنٹوں کے بل جھک کر اور نگاہیں زمین کی طرف کر کے دانا نے امیر کی عزت افزائی کو قبول کیا اور اس کے بدن میں جھرجھری آ گئی۔ حاسد درباریوں کے خیال میں یہ جھرجھری خوشی کی تھی۔
"ہم مولانا حسین ایسے دانا کے لئے اپنی عنایتوں اور مہربانیوں کا اعلان کرتے ہیں۔" امیر نے کہا "اور ان کو اپنی سلطنت کا دانائے اعظم مقرر کرتے ہیں۔ ان کا علم و فضل اور عقل و دانش اور ہمارے ساتھ ان کی زبردست وفاداری ہر ایک کے لئے مثال بننی چاہئیں۔"
درباری واقعہ نویس نے، جس کا فرض یہ تھا کہ وہ امیر کے ایک ایک لفظ اور کاروائی کو مدحیہ انداز میں لکھے تاکہ ان کی عظمت آنے والی نسلوں کے لئے قائم رہے (جس کے لئے امیر سب سے زیادہ مشتاق تھا) اپنا قلم چلانا شروع کیا۔
"جہاں تک تمھارا تعلق ہے" امیر نے درباریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا "اس کے برعکس، ہم تم پر اپنے عتاب کا اعلان کرتے ہیں کیونکہ خواجہ نصر الدین نے جو کچھ بدمزگی پیدا کر دی ہے اور اس کے علاوہ تمھارے آقا کی جان تک کا خطرہ تھا پھر تم نے مدد کے لئے ایک انگلی تک بھی نہ اٹھائی! ان کو دیکھو! مولانا حسین، ان حماقت بھرے گاؤدیوں کو دیکھو۔ ہیں نہ یہ بالکل گدھوں کی طرح؟ واقعی کسی بادشاہ کے بھی ایسے بیوقوف اور لاپروا وزیر نہ رہے ہوں گے!"
"محترم امیر کا فرمانا بالکل بجا ہے" خواجہ نصر الدین نے ساکت درباریوں کی طرف دیکھ کر اس طرح کہا جیسے وہ پہلی چوٹ کے لئے نشانہ لے رہے ہوں۔ "جہاں تک میں دیکھتا ہوں ان کے چہروں پر دانشمندی کی کوئی نشانی نہیں ہے۔"
"بالکل ٹھیک، بالکل ٹھیک" امیر نے بہت خوش ہو کر تصدیق کی۔ "بالکل ٹھیک، ان کے چہروں پر دانشمندی نہیں ہے، سنتے ہو تم احمقو؟"
"میں یہ اضافہ کرنا چاہتا ہوں" خواجہ نصر الدین نے اپنی بات جاری رکھی "کہ نہ تو ان کے چہروں پر نیک صفات اور ایمانداری ہی کی نشانی ہے۔"
"یہ چور ہیں" امیر نے دلی یقین کے ساتھ کہا "سب کے سب چور ہیں۔ یہ ہم کو دن رات لوٹتے رہتے ہیں۔ ہم کو محل کی میں ایک ایک چیز کی نگرانی کرنی پڑتی ہے۔ ہر بار جب ہم اپنی املاک کا جائزہ لیتے ہیں کوئی نہ کوئی چیز غائب ہوتی ہے۔ ابھی آج صبح ہی ہم اپنا ریشمی پٹکا باغ میں بھول گئے اور آدھے گھنٹے میں وہ غائب ہو گیا!۔۔ ان میں سے کوئی اس کو۔۔۔ سمجھے نا، مولانا حسین!۔۔"
جب امیر یہ کہہ رہا تھا تو ٹیڑھی گردن والے دانا نے اپنی نگاہ بڑی ریاکاری سے نیچے جھکا لی۔ کوئی اور وقت ہوتا تو شاید اس طرف توجہ نہ جاری لیکن اس وقت تو خواجہ نصر الدین بہت چوکنے ہو رہے تھے۔ انہوں نے فوراً بات تاڑی لی۔
بڑے اعتماد کے ساتھ وہ دانا کے پاس گئے، اپنا ہاتھ اس کی خلعت کے اندر ڈال کر ایک مرصع کار ریشمی پٹکا باہر کھینچ لیا۔
"کیا امیر اعظم اس پٹکے کے ضائع ہونے پر افسوس کر رہے تھے؟"
حیرت و خوف سے تمام درباری پتھر ہو گئے۔ واقعی نیا دانا بہت خطرناک ثابت ہو رہا تھا کیونکہ پہلے ہی آدمی کو جس نے اس کی مخالفت کی جرأت کی تھی اس نے بے نقاب کر کے کچل دیا تھا۔ بہت سے داناؤں، شاعروں، عمائدین اور وزرا کے دل خوف سے کانپ گئے۔
"خدا کی قسم" امیر نے زور سے کہا "یہی میرا پٹکا ہے، واقعی مولانا حسین عقل و دانش میں تمھارا کوئی جواب نہیں! آہا!" اور وہ درباریوں کی طرف مڑا۔ اس کے چہرے پر بڑا اطمینان تھا۔ اس نے کہا "آہا، آخرکار رنگے ہاتھوں پکڑے گئے! اب تم ہمارا ایک تاگہ بھی چرانے کی جرأت نہ کرو گے! تمھاری لوٹ مار سے ہم کو کافی نقصان پہنچ چکا ہے! جہاں تک اس کمبخت چور کا تعلق ہے اس کے سر، ٹھڈی اور جسم سے تمام بال اکھاڑ لئے جائیں۔ اس کے تلوؤں پر سو ضربیں لگائی جائیں اور منہ کی طرف پیٹھ کر کے گدھے پر ننگا بٹھا کر شہر میں گشت کرایا جائے اور اس کو عام طور پر چور مشتہر کیا جائے!"
ارسلان بیک کا اشارہ پاتے ہی جلادوں کے فوراً دانا کو پکڑ لیا، اس کو گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے اور اس پر ٹوٹ پڑے۔ چند لمحے بعد اس کو پھر کھینچ کر ہال میں بالکل ننگا، بے بال اور انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں لایا گیا۔ اب سب پر یہ بات واضح ہو گئی کہ ابھی تک اس کی داڑھی اور زبردست عمامہ اس کی کوتاہی، عقل اور حماقت کو چھپائے تھے جو اس کے چہرے مہرے سے نمایاں تھیں اور ایسا ریا کارانہ چہرے والا آدمی سوائے بدمعاش اور چور کے کچھ نہیں ہو سکتا۔
"لے جاؤ اس کو" امیر نے حقارت سے حکم دیا۔
جلاد اس کو گھسیٹ کر لے گئے۔ ذرا دیر بعد ہی کھڑکی سے ڈنڈوں اور لاتوں کی دھمک کے تال پر چیخوں کی آواز آنے لگی۔ آخر میں اس کو ایک گدھے پر ننگا بٹھا دیا گیا، اس کا منہ گدھے کی دم کی طرف کر کے نفیریوں اور نقاروں کی گونج میں بازار لے جایا گیا۔
امیر بڑی دیر تک نئے دانا سے باتیں کرتا رہا۔ درباری چاروں طرف بے حس و حرکت کھڑے تھے جو ان کے لئے شدید ترین اذیت تھی۔ گرمی بڑھ گئی تھی اور قبا کے اندر ان کی پیٹھوں میں بری طرح کھجلی ہو رہی تھی۔
وزیر اعظم بختیار جو سب سے زیادہ نئے دانا سے ڈرا ہوا تھا کوئی منصوبہ سوچنے کی کوشش کر رہا تھا جس سے وہ اپنے حریف کو ختم کرنے کے لئے درباریوں کی مدد حاصل کر سکے۔ دوسری طرف درباری متعدد علامتوں سے یہ اندازہ لگا کر کہ اس مقابلے کا نتیجہ کیا ہو گا، یہ سوچ رہے تھے کہ بختیار کے ساتھ ایسے وقت غداری کس طرح کی جائے جو ان کے لئے بہت ہی اچھا ہو اور اس طرح نئے دانا کا اعتماد اور خوشنودی حاصل کی جائے۔
امیر نے خواجہ نصر الدین سے خلیفہ کی خیریت دریافت کی، بغداد کی خبروں اور ان کے سفر کے واقعات کے بارے میں پوچھا جن کا جواب انہوں نے بڑی ہوشیاری سے دیا۔ سب کچھ ٹھیک رہا اور امیر نے باتوں کے تکان سے تھک کر آرام گاہ ٹھیک ٹھاک کرنے کا حکم دیا ہی تھا کہ اچانک ہنگامہ اور ایک چیخ سنائی دی۔ داروغہ محل تیزی سے دیوان کے اندر داخل ہوا اور اعلان کیا:
"آقائے نامدار کی خدمت میں عرض ہے کہ کافر اور امن شکن خواجہ نصر الدین گرفتار کر لیا گیا ہے اور محل لایا گیا ہے!"
ابھی اس نے یہ اعلان کیا ہی تھا کہ اخروٹ کی لکڑی کے نقشین پھاٹک پٹو پٹ کھل گئے۔ اسلحہ کی فاتحانہ جھنکار ہوئی اور پہرے دار ایک عقابی ناک، سفید داڑھی والے آدمی کوسامنے لائے جو زنانے لباس میں تھا۔ انہوں نے تخت کے نیچے قالین پر اس کو ڈھکیل کر گرا دیا۔
خواجہ نصر الدین کے بدن میں کاٹو تو لہو نہیں تھا۔ ہال کی دیواریں ان کی نگاہ کے سامنے ناچ رہی تھیں اور درباریوں کے چہرے سبزی مائل دھند میں چھپے معلوم ہونے لگے۔۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers