بازار میں بڑی چہل پہل تھی ۔ یہ زوروں کے کاروبار کا وقت تھا ، خرید و فروخت اور لین دین میں اضافہ ہو رہا تھا۔ سورج بلند ہوتا جا رہا تھا اور لوگ ڈھکی ہوئی اور طرح طرح کی مہک سے بھری دوکانوں کے گھنے سائے میں پناہ لینے کے لئے بھاگ رہے تھے۔ دوپہر کی تیز دھوپ کی کرنیں نرکل کی چھتوں کے روشندانوں سے عمودی گر رہی تھیں اور دھوئیں کے ستونوں کی طرح استادہ معلوم ہوتی تھیں۔ ان کی روشنی میں زربفت کے کپڑے جگمگا رہے تھے ، نرم ریشم چمک رہا تھا اور مخمل ایک ہلکے دبے دبے شعلے کی طرح دھکتا معلوم ہوتا تھا۔ چاروں طرف عمامے ، قبائیں اور رنگی ہوئی داڑھیاں روشنی میں چمک رہی تھیں۔ صاف شفاف تانبا آنکھوں میں چکا چوند پیدا کر رہا تھا لیکن صرافوں کے نمدوں پر پھیلا ہوا کھرا سونا اس کو منہ چڑھا کر اپنی خالص چمک سے نیچا دکھا رکھا تھا۔ تفصیل سے پڑھئے
خواجہ نصر الدین نے اپنے گدھے کی لگام اس چاء خانے کے سامنے کھینچی جس کے برآمدے ایک مہینہ پہلے انہوں نے بخارا کے شہریوں سے یہ اپیل کی تھی کہ وہ کمہار نیاز کی مدد کریں اور اس کو امیر کی مہربانی سے بچائیں۔ اس تھوڑی سی مدت میں زندہ دل اور توندیل چائے خانے کے مالک علی سے جو سیدھا سادا ایماندار اور معتبر آدمی تھا خواجہ نصر الدین کی گہری دوستی ہو گئی تھی۔
موقع دیکھ کر خواجہ نصر الدین نے اسے پکارا:
’’علی!‘‘
چائے خانے کے مالک نے چاروں طرف دیکھا اور بھونچکا سا ہو گیا کیونکہ اس نے مردانی آواز سنی تھی اور دیکھ رہا تھا عورت۔
’’یہ میں ہوں، علی‘‘ خواجہ نصر الدین نے نقاب اٹھائے بغیر کہا ’’ مجھے پہچانتے ہو نا؟ خدا کے لئے اس طرح تو مت گھورو۔ کیا تم جاسوسوں کو بھول گئے ہو؟‘‘
احتیاط سے چاروں طرف دیکھ کر علی ان کو پچھلی کوٹھری میں لے گیا جہاں وہ ایندھن اور فاضل کیتلیاں رکھتا تھا۔ یہاں نمی اور ٹھنڈک تھی اور بازار کو شور بہت مدھم سنائی دے رہا تھا ۔
’’ علی ، میرا گدھا لو‘‘ خواجہ نصر الدین نے کہا ’’اس کو اچھی طرح کھلانا پلانا کیونکہ مجھے اس کی کسی وقت بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اور میرے بارے میں کسی سے ایک لفظ بھی نہ کہنا۔‘‘
’’ لیکن خواجہ نصر الدین تم نے عورتوں کے کپڑے کیوں پہن رکھے ہیں؟‘‘ علی نے احتیاط سے دروازہ بند کرتے ہوئے پوچھا۔
’’میں محل جا رہا ہوں۔‘‘
’’ تمھارا دماغ تو نہیں چل گیا ہے !‘‘ چائے خانے کے مالک نے زور سے کہا ’’تم اپنا سر شیر کے منہ میں دینے جا رہے ہو۔‘‘
’’یہ کرنا ہی پڑے گا ، علی۔ تمھیں جلد ہی معلوم ہو جائے گا کیوں۔ آؤ ایک دوسرے سے رخصت ہو لیں کیونکہ اگر۔۔۔میں خطرناک مہم پر جا رہا ہوں۔‘‘
وہ ایک دوسرے سے بڑے خلوص سے گلے ملے۔ چائے خانے کے نیک دل مالک کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور اس کے گول ، سرخ رخساروں پر بہہ چلے۔ اس نے خواجہ نصر الدین کو رخصت کیا اور پھر اپنی گہری آہوں کو روک کر جو اس کے توند کو دھونک رہی تھیں اپنے گاہکوں میں لگ گیا۔
اس کا دل بھاری تھا اور اس میں طرح طرح کے وسوسے آ رہے تھے۔ وہ غمگین اور کھویا کھویا سا تھا۔ اس کے گاہکوں کو چاء دانیوں کے ڈھکن دو تین بار یہ یاد دلانے کے لئے بجانا پڑ رہے تھے کہ ان کو مزید چاء کی ضرورت ہے۔ اپنے خیالوں میں وہ دبنگ دوست کے ساتھ محل میں تھا۔
پہرے داروں نے خواجہ نصر الدین کو روک دیا۔
’’ میں لا جواب مشک ، عنبر اور عطرِ گلاب لائی ہوں‘‘ خواجہ نصر الدین بڑی چالاکی کے ساتھ زنانی آواز بنا کر برابر کہہ رہے تھے ’’ اے سورماؤ، مجھے حرم میں جانے دو۔ میں اپنا سامان بیچ کر تمھیں اس میں حصہ دونگی۔‘‘
’’بڑھیا ، چلتی بن، جا، جا، بازار میں سودا کر!‘‘ پہرے داروں نے ڈانٹا۔
اپنے مقصد میں ناکام ہو کر خواجہ نصر الدین افسردہ ہو گئے اور سوچنے لگے۔ ان کے پاس کم وقت تھا کیونکہ آفتاب مائل بزوال ہو چلا تھا۔ انہوں نے فصیل کا چکر لگایا لیکن چینی مسالے نے پتھروں کو اس طرح آپس میں پیوست کر دیا تھا کہ ان کو ایک دراڑ ، ایک سوراخ نہیں ملا۔ جہاں تک نہروں کے دھانوں کا سوال تھا ان میں ڈھلے ہوئے مضبوط لوہے کے سلاخ لگے تھے۔
’’ مجھے تو محل پہنچنا ہی ہے‘‘ خواجہ نصر الدین نے اپنے آپ سے کہا ’’ میں چاہتا ہوں اور پہنچوں گا۔ اگر نوشتہ تقدیر کے مطابق امیر نے میری منگیتر پر قبضہ کر لیا ہے تو تقدیر کے مطابق مجھے وہ واپس کیوں نہ ملنا چاہئے؟ میرا دل کہتا ہے کہ یہی ہو گا۔‘‘
وہ بازار واپس آ گئے۔ ان کو یقین تھا کہ اگر کوئی آدمی اٹل ہمت کے ساتھ کوئی ارادہ کر لے تو قسمت بھی اس کا ساتھ دیتی ہے۔ ہزاروں ملاقاتوں ، بات چیت اور جھگڑوں میں کوئی ایسی بات ضرور نکال آئے گی جو مناسب موقع فراہم کر دے گی اور آدمی اس کو ہوشیاری سے استعمال کر کے ان تمام رکاوٹوں کو دور کر سکتا ہے جو اس کی منزل اور اس کے درمیان حائل ہیں اور اس طرح اپنی قسمت کا لکھا پورا کر سکتا ہے۔ بازار میں ایسا ہی موقع کہیں ان کا منتظر تھا۔ ان کو اس کا قطعی یقین تھا اور وہ اس کی تلاش میں روانہ ہوئے۔
خواجہ نصر الدین سے کوئی چیز بچتی نہ تھی ۔ ہزاروں آدمیوں کے شور و غل میں ایک لفظ ، ایک چہرہ بھی نہیں۔ ان کا دماغ ، کان اور نظریں اس غیر معمولی معیار کو پہنچ چکی تھیں جب انسان ان حدود کو آسانی سے پار کر جاتا ہے جو قدرت نے اس پر عائد کی ہیں۔ اس صورت میں جیت ان ہی کی ہوتی تھی کیونکہ اس دوران میں ان کے مخالفین تو عام انسانی حدود ہی میں رہتے تھے۔
اس جگہ جوہریوں اور گندھیوں کے بازار ایک دوسرے سے ملتے تھے خواجہ نصر الدین نے مجمع کے شور و ہنگامے کے درمیان ایک پھسلانے والی آواز سنی:
’’تم کہتی ہو کہ تمھارا شوہر تم سے محبت نہیں کرتا اور ہم بستر نہیں ہوتا۔ اس کا ایک علاج ہے لیکن مجھے اس کے بارے میں خواجہ نصر الدین سے مشورہ کی ضرورت ہے۔ تم نے تو سنا ہی ہو گا کہ وہ یہاں ہیں؟ معلوم کر کے مجھے بتاؤ کہ وہ کہاں ہیں۔ ہم دونوں تمھیں تمھارے شوہر سے ملا دیں گے۔‘‘
خواجہ نصر الدین نے قریب جا کر دیکھا تو یہ چیچک رو رمال جاسوس تھا۔ ایک عورت چاندی کا سکہ لئے اس کے سامنے کھڑی تھی۔ رمال نے مٹر کے دانے قالین پر پھیلا رکھے تھے اور کسی پرانی کتاب کی ورق گردانی کر رہا تھا۔
"لیکن اگر تم خواجہ نصر الدین کو نہ ڈھونڈ سکیں" وہ بولا "تو تمھارے اوپر مصیبت آ جائے گی۔ تمھارا شوہر تمھیں سدا کے لئے چھوڑ دے گا!"
خواجہ نصر الدین نے طے کیا کہ اس رمال کو ذرا سبق سکھایا جائے۔ وہ قالین کے پاس بیٹھ گئے:
"ذرا میری قسمت کا حال تو بتانا، دوسروں کی قسمتوں کے دانش مند پارکھ۔"
آدمی نے اپنے دانے پھیلا دئے۔
"اے عورت!" وہ اچانک چلایا جیسے اس پر بجلی گر پڑی ہو "عورت، تیرے اوپر مصیبت آ گئی، موت کا سیاہ ہاتھ تیرے سر پر سایہ کر چکا ہے!"
کئی لوگ جو ادھر ادھر کھڑے تھے اشتیاق سے قریب آ گئے۔
"میں موت کی چوٹ سے تجھے بچانے میں مدد تو کر سکتا ہوں لیکن اکیلا نہیں" رمال نے اپنی بات جاری رکھی۔ "مجھے خواجہ نصر الدین سے مشورہ کرنا چاہئے۔ اگر تو اس کو ڈھونڈ نکالے اور مجھے بتائے کہ وہ کہاں ہیں تو تیری جان بچ سکتی ہے۔"
"بہت اچھا، میں خواجہ نصر الدین کو تیرے پاس لاؤں گی۔"
"تو ان کو لائے گی؟" رمال نے خوشی سے چونک کر کہا۔ "کب؟"
"میں ان کو ابھی ابھی لا سکتی ہوں۔ وہ بہت قریب ہی ہیں۔"
"کہاں ہیں وہ؟"
"یہیں، بہت قریب۔"
رمال کی آنکھوں میں حریصانہ چمک پیدا ہو گئی۔
"لیکن کہاں ہیں وہ؟ میں ان کو نہیں دیکھتا۔"
"اور تم رمال بنے ہو! اتنا بھی نہیں جان سکتے؟ یہ رہے وہ!"
تیزی کے ساتھ عورت نے اپنا نقاب اٹھا دیا۔ خواجہ نصر الدین کا چہرہ دیکھ کر رمال پیچھے ہٹ گیا۔
"یہ رہے وہ!" خواجہ نصر الدین نے دھرایا۔ "تم مجھ ے کیا مشورہ کرنا چاہتے تھے؟ تم جھوٹے ہو، تم رمال نہیں بلکہ امیر کے جاسوس ہو! مسلمانو، اس پر مت اعتبار کرو! یہ تم کو دھوکہ دے رہا ہے! وہ یہاں بیٹھا خواجہ نصر الدین کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہا ہے!"
جاسوس نے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی لیکن کوئی سپاہی نہ تھا۔ ناامیدی سے تقریباً روتے ہوئے اس نے خواجہ نصر الدین کو جاتے دیکھا۔ غصے سے بھرے مجمع نے اس کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔
"امیر کا جاسوس، پاجی کتا!" چاروں طرف سے آوازیں آنے لگیں۔ قالین لپیٹتے ہوئے رمال کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ پھر وہ محل کی طرف بگٹٹ بھاگا۔

(۲۳)
گندے، میلے، بدبو دار اور دھوئیں سے بھرے ہوئے پہرے داروں کے کمرے میں سپاھی ایک پرانے نمدے پر جو چیلڑوں سے بھرا تھا بیٹھے اپنا بدن کھجلا رہے تھے اور خواجہ نصر الدین کو پکڑنے کے منصوبے بنا رہے تھے۔
"تین ہزار تانگے" وہ بولے "سوچو تو، تین ہزار تانگے اور جاسوسوں کے داروغہ کا منصب!"
"کوئی نہ کوئی تو خوش قسمت ہو گا ہی!"
"کاش کہ میں وہ خوش قسمت ہوتا!" ایک موٹے، کاہل سپاھی نے جو سب سے احمق تھا آہ بھر کر کہا۔ وہ ابھی تک اس لئے برخاست نہیں کیا گیا تھا کہ وہ کچا انڈا بلا چھلکا توڑے مسلم نگل جانے کا آرٹ جانتا تھا۔ وہ کبھی کبھی امیر کا دل اس کرتب سے بہلاتا تھا اور اس سے کچھ انعام حاصل کر لیتا تھا حالانکہ بعد کو اسے سخت درد کی اذیت برداشت کرنی پڑتی تھی۔
چیچک رو جاسوس پہرے داروں کے کمرے میں بالکل بگولے کی طرح داخل ہوا:
"وہ یہاں ہے! خواجہ نصر الدین بازار میں ہے! وہ عورت کے بھیس میں ہے!"
سپاہی اپنا اسلحہ اٹھا کر پھاٹک کی طرف بھاگے۔
چیچک رو جاسوس بھی ان کے پیچھے پیچھے چیختا ہوا بھاگا:
"انعام میرا ہے! سنتے ہو نا! میں نے اس کو پہلے دیکھا! انعام میرا ہے!"
پہرے داروں کو دیکھ کر لوگ جلدی ادھر ادھر بھاگنے لگے اور بھگدڑ کی وجہ سے بازار میں ہلچل مچ گئی۔ سپاہی مجمع کے اندر گھس گئے۔ ان میں سے ایک بے دھڑک سپاھی نے ایک عورت کو پکڑ کر اس کا نقاب چاک کر دیا۔ وہ سارے مجمع کے سامنے بے نقاب ہو گئی۔
عورت نے زور کی چیخ ماری۔ دوسری سمت سے ایک اور چیخ گونجی۔ پھر تیسری عورت سپاھیوں کے پنجے سے نکلنے کی کشمکش کرتی ہوئی چیخی۔ اب چوتھی اور پانچویں۔۔۔ سارا بازار عورتوں کی چیخوں، آہ و بکا اور سسکیوں سے گونج اٹھا۔
متحیر مجمع پر جمود طاری تھا۔ بخارا میں تو ایسا نراج کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ بعض کے چہرے زرد اور بعض کے سرخ پڑ گئے۔ ہر دل بے چین ہو گیا۔ سپاھی اپنا کام کرتے رہے۔ وہ عورتوں کو پکڑتے تھے، ان کو ادھر ادھر کھینچتے تھے، ان کو مارتے تھے اور ان کے کپڑے پھاڑ رہے تھے۔
"مدد! مدد!" عورتیں چلا رہی تھیں۔
یوسف لوہار کی آواز مجمع کے اوپر زور سے گونجی اور چھا گئی:
"مسلمانو! تم کیوں ہچکتے ہو؟ کیا یہ کم ہے کہ سپاھی ہم کو لوٹتے ہیں؟ اس پر وہ دن دوپہر ہماری عورتوں کی بے عزتی کرتے ہیں!"
مجمع غصے سے گرج کر آگے بڑھا۔ ایک سقے نے اپنی بیوی کی آواز پہچان لی اور اس کو چھڑانے لپکا۔ سپاھیوں نے اسے الگ ڈھکیل دیا لیکن دو جولاہوں اور تین ٹھٹھیروں نے اس کی مدد کی اور سپاھیوں کو پیچھے ڈھکیلا۔ اب لڑائی شروع ہو گئی۔
رفتہ رفتہ ہر ایک لڑائی میں شامل ہو گیا۔ سپاھیوں نے اپنی تلواریں کھینچ لیں۔ ہر طرف سے ان پر برتن، کشتیاں، صراحیاں، کیتلیاں، نعلیں اور لکڑی کے جوتے برسنے لگے۔ ان کو بچنے کا موقع ہی نہیں مل رہا تھا۔ سارے بازار میں لڑائی پھیل گئی۔
اسی دوران میں امیر اپنے محل میں آرام سے اونگھ رہا تھا۔ اچانک وہ اچھلا اور بھاگ کر کھڑکی کے پاس گیا۔ اس کو کھولا اور پھر دہشت کی حالت میں یکدم بند کر دیا۔
بختیار دوڑا ہوا آیا۔ وہ زرد تھا اور کانپ رہا تھا۔
"کیا ہوا؟" امیر نے پوچھا۔ "کیا ہو رہا ہے؟ تو پیں کہاں ہیں؟ ارسلان بیک کہاں ہے؟"
ارسلان بیک دوڑتا ہوا آیا اور منہ کے بل گر پڑا:
"آقا میرا سر قلم کرنے کا حکم دیجئے!"
"یہ کیا ہے؟ کیا معاملہ ہے؟"
ارسلان بیک نے پڑے پڑے جواب دیا:
"آقا، آفتاب جہاں اور۔۔۔"
"بند کر!" امیر نے بے تاب ہو کر غصے میں پیر پٹکے۔ "یہ سب بعد کو کہہ لینا! کیا ہو رہا ہے؟"
"خواجہ نصر الدین ۔۔۔۔ اس نے عورت کا بھیس بدلا۔ یہ سب اسی کا قصور ہے، یہ سب خواجہ نصر الدین کا کیا دھرا ہے! میرا سر قلم کرنے کا حکم دیجئے!"
لیکن امیر کو دوسری فکر پڑی تھی۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers