خواجہ نصر الدین نے ا بھی اپنی نویں صراحی ختم کی تھی اور تسلے سے ڈھیر سی مٹی دسیوں صراحی بنانے کے لئے نکالی ہی تھی کہ اچانک دروازے پر زور کی حاکمانہ دستک ہوئی۔ پڑوسی جو اکثر نیاز کے یہاں پیاز یا چٹکی بھر مرچ مانگنے آتے تھے اس طرح نہیں کھٹکھٹاتے تھے۔ خواجہ نصر الدین اور نیاز نے ایک دوسرے کی طرف گھبرا کر دیکھا جب بھاری ضربوں کی بارش نے دروازہ پھر سے کھڑکھڑایا۔ اس مرتبہ خواجہ نصر الدین کے تیز کانوں نے ہتھیاروں کی جھنکار سن لی۔
"پہرے دار" انہوں نے نیاز سے چپکے سے کہا۔
"بھاگو!" نیاز بولا۔         تفصیل سے پڑھئے
خواجہ نصر الدین باغ کی دیوار پھلانگ گئے اور نیاز نے دروازہ کھولنے میں اتنا وقت لیا کہ وہ دور نکل جائیں۔ جیسے ہی بڈھّے نے کنڈی کھولی انگور کے باغیچے سے مینائیں بھربھرا کر اڑیں لیکن بے چارے کسگر کے پر تو تھے نہیں وہ اڑ کر کہاں جاتا۔ وہ زرد پڑ گیا اور کانپ کر ارسلان بیک کے سامنے جھک گیا۔
"کسگر، تیرے گھر کو بڑی عزت نصیب ہوئی ہے"ارسلان بیک نے کہا "مرکز جہاں، ظل سبحانی، ہمارے مالک و آقا، خدا ان کو برسہا برس سلامت رکھے، امیر اعظم نے بہ نفس نفیس عنایت کر کے تیرا حقیر نام لیا ہے۔ ان کو معلوم ہوا ہے کہ تیرے باغ میں ایک حسین پھول کھلا ہے اور وہ اس پھول کو اپنے محل کی زیبائش کے لئے چاہتے ہیں۔ تیری بیٹی کہاں ہے؟"
کسگر کا سفید سر ہلنے لگا اور اس کی آنکھوں میں دنیا تاریک ہو گئی۔ جب پہرے دار اس کی بیٹی کو گھر کے باہر گھسیٹ کر صحن میں لائے تو اس نے اس کی ایک مختصر مدھم چیخ سنی۔ وہ منہ کے بل زمین پر گر گیا اور پھر نہ تو اس نے کچھ دیکھا اور نہ سنا۔
’’وہ فرطِ مسرت سے غش کھا گیا ہے‘‘ ارسلان بیک نے اپنے سپاھیوں سے کہا۔ ’’اس کو چھوڑو ۔ جب وہ ہوش میں آئے گا تو محل میں آ کر امیر سے اپنے بے پناہ شکرئے کا اظہار کر سکتا ہے۔ چل پڑو!‘‘
اس دوران میں خواجہ نصر الدین پچھلی گلیوں میں منڈلا رہے تھے ۔ وہ دوسرے سرے سے سڑک پر واپس آئے ۔ جھاڑیوں کے پیچھے سے انھیں نیاز کا پھاٹک دکھائی دے رہا تھا جہاں انھیں دو سپاھی اور تیسرا آدمی دکھائی دیا جو جعفر سود خور تھا۔
’’اچھا ۔ لنگڑے کتے ! تو سپاھیوں کو میری گرفتاری کے لئے لایا تھا !‘‘ خواجہ نصر الدین نے صحیح حالات سے لاعلم ہونے کی وجہ سے اس طرح سوچا۔ ’’بہت اچھا، اچھی طرح ڈھونڈ لے! لیکن تو خالی ہاتھ لوٹے گا۔‘‘
لیکن وہ خالی ہاتھ نہیں لوٹے۔ خواجہ نصر الدین دہشت سے بالکل پتھر ہو گئے جب انہوں نے دیکھا کہ سپاھی ان کی محبوبہ کو پھاٹک سے باہر لئے جا رہے ہیں ۔ وہ ہاتھ پیر مار رہی تھی اور دلشکن آواز میں چیخ رہی تھی لیکن سپاھیوں نے اس کو مضبوط پکڑ کر سپروں کے دھرے حلقے سے گھیر رکھا تھا۔
یہ جون کی گرم دوپہر تھی لیکن خواجہ نصر الدین کے جسم میں ایک سرد کپکپی دوڑ گئی ۔ پہرے دار قریب آ رہے تھے کیونکہ ان کا راستہ اس جگہ سے ہو کر گزرتا تھا جہاں خواجہ نصر الدین چھپے ہوئے تھے۔ وہ پاگل ہو گئے ۔ انہوں نے اپنا خنجر نیام سے کھینچ لیا اور زمین سے چمٹ کر لیٹ گئے ۔ ارسلان بیک اپنا چمکتا ہوا بلا لگائے دستے کے آگے آگے تھا۔ خنجر اس کی داڑھی کے نیچے چربی دار گردن میں اتر گیا ہوتا اگر اچانک ایک بھاری ہاتھ خواجہ نصر الدین کو تھام نہ لیتا اور ان کو زمین پر دبائے نہ رکھتا ۔ انہوں نے پیچ و تاب کھاتے ہوئے اپنا ہاتھ چوٹ کرنے کے لئے بلند کیا لیکن یوسف لوہار کا کالک سئ لپا ہوا چہرہ پہچان کر ان کا ہاتھ نیچے گر گیا۔
’’چپکے پڑے رہو‘‘ لوہار نے آہستہ سے کہا ’’ چپکے پڑے رہو! کیا پاگل ہو گئے ہو وہ بیس سر سے پیر تک مسلح آدمی ہیں اور تم اکیلے ہو اور پھر تمہارے پاس کوئی ٹھکانے کا ہتھیار بھی تو نہیں ہے۔ تم ختم ہو جاؤ گے اور لڑکی مدد بھی نہ کر سکو گے۔ میں تم سے کہتا ہوں چپکے پڑے رہو!‘‘
لوہار نے ان کو اس وقت تک دبائے رکھا جب تک کہ دستہ سڑک کے موڑ پر غائب نہیں ہو گیا ۔
’’ارے ، تم نے مجھے کیوں روک لیا؟‘‘ خواجہ نصر الدین چلائے۔ ’’اچھا ہی ہوتا اگر میں مر جاتا۔‘‘,
’’ کسی شیر پر ہاتھ اُٹھانا یا تلوار پر مکا تاننا دانش مندوں کا کام نہیں ہے‘‘ لوہار نے درشتی سے کہا ۔ ’’میں پہرے داروں کے پیچھے بازار سے لگا تھا اور میں تمھاری غیر دانشمندانہ حرکت روکنے کے لئے بر وقت پہنچ گیا۔ تمھیں اس لڑکی کے لئے مرنا نہیں چاہئے بلکہ کوشش کر کے اس کو بچانا چاہئے۔ یہ مشکل تو ہے لیکن زیادہ اچھا ہو گا۔ غمگین خیالوں میں ڈوب کر وقت نہ گنواؤ، جاؤ اور کچھ کرو۔ ان کے پاس تلواریں ، ڈھالیں اور نیزے ہیں لیکن اللہ نے تم کو طاقتور اسلحہ عطا کئے ہیں۔ وہ ہیں تیز دماغ اور ہوشیاری جن میں تم اپنا ثانی نہیں رکھتے‘‘ اس نے کہا ۔ اس کے الفاظ مردانہ اور اس لوہے کی طرح مضبوط تھے جس کو وہ اپنی تمام زندگی ڈھالتا رہا تھا ۔ ان کو سن کر خواجہ نصر الدین کا ڈانواں ڈول دل بھی لوہے کی طرح سخت ہو گیا۔
’’ لوہار، تمھارا شکریہ، زندگی میں اس سے زیادہ تلخ لمحے مجھے کبھی پیش نہیں آئے لیکن نا امید ہو کر ہار نہ ماننا چاہئے۔ تمھیں یقین دلاتا ہوں کہ میں اپنے ہتھیاروں کا کارآمد استعمال کروں گا۔‘‘
وہ جھاڑیوں سے نکل کر سڑک پر آ گئے۔ اس وقت سود خور بھی ایک قریب کے گھر سے نکلا ۔ وہ کسی کمہار سے قرض کے تقاضے کے لئے رُک گیا تھا جو واجب الادا ہو چکا تھا۔ خواجہ نصر الدین اور اس کا دو بدو سامنا ہو گیا۔ سود خور سفید پڑ گیا اور اُلٹے پیروں بھاگ کر دروازہ بند کر لیا اور کنڈی چڑھا لی۔
’’ جعفر، او کینہ پرور، یاد رکھ، تیرے لئے مصیبت ہے!‘‘ خواجہ نصر الدین نے چلا کر کہا۔ ’’میں نے سب کچھ دیکھا اور سنا ہے اور میں سب کچھ جانتا ہوں۔‘‘
ذرا خاموش رہ کر سود خور اندر سے بولا ’’گیدڑ کو بیری نہیں ملی اور نہ عقاب کو۔ بیری شیر نے ہڑپ کر لی۔‘‘
’’ یہ تو دیکھنا ہے‘‘ خواجہ نصر الدین نے جواب دیا۔ ’’جعفر میرے الفاظ یاد رکھ! میں نے تجھ کو پانی سے کھینچ کر نکالا تھا۔ لیکن قسم کھاتا ہوں کہ میں تجھ کو اسی تالاب میں ڈبوؤں گا۔ کائی تیرے جسم سے لپٹ جائیگی اور گھاس پھوس تیرا گلا گھونٹ دیں گے۔‘‘
جواب کا انتظار کئے بغیر خواجہ نصر الدین وہاں سے چل دئے۔ وہ نیاز کے گھر کے پاس سے بلا رکے گزر گئے۔ ان کو ڈر تھا کہ کہیں سودخور دیکھ نہ لے اور بعد کو بوڑھے کو موردِ الزام کرے۔ سڑک کے سرے پر اس کا بالکل یقین کرنے کے بعد کہ انکا پیچھا نہیں کیا جا رہا ہے وہ تیزی سے ایک ویران جگہ کی طرف دوڑے جہاں گھاس پھوس اُگی تھی اور دیوار کے اُوپر سے پھاند کر کمہار کے گھر پہنچ گئے۔
بڈھا اب بھی منہ کے بل زمین پر پڑا تھا۔ اس کے قریب چند چاندی کے سکے جو ارسلان بیک ڈال گیا تھا ہلکے سے چمک رہے تھے۔ بڈھّے نے اپنا آنسوؤں اور مٹی سے لتھڑا چہرہ اوپر اٹھایا۔ اس کے ہونٹوں کو حرکت ہوئی لیکن وہ کچھ کہہ نہ سکا۔ پھر اس کی نذر ایک رومال پر پڑی جو اس کی بیٹی وہاں ڈال گئی تھی۔ اس کو دیکھ کر اس نے اپنا سفید سر زمین سے ٹکرا دیا اور اپنی داڑھی نوچنے لگا۔
خواجہ نصر الدین کو اسے دلاسا دینے میں کافی وقت لگا۔ آخر کار اس کو اٹھا کر ایک بنچ تک لے گئے اور بٹھا دیا۔
’’ سنو ، بڑے میاں ! تمھیں کو تنہا رنج نہیں پہنچا ہے‘‘ انہوں نے کہا ’’شاید تم جانتے ہو کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں اور وہ مجھ سے؟ تم جانتے ہو کہ ہم میں شادی کا عہد ہو چکا تھا؟ میں صرف اس بات کا منتظر تھا کہ تمھیں دینے کے لئے جہیز کی کافی رقم جمع کر لوں۔‘‘
’’مجھے جہیز کی کیا پرواہ؟‘‘ بڈھّے نے سسکیاں بھرتے ہوئے کہا ’’کیا میں اپنی پیاری بیٹی کو اس کی مرضی کے خلاف ناراض کرتا؟ بہر حال افسوس، ان باتوں کے لئے بہت دیر ہو چکی ہے۔ وہ ہاتھ سے جاتی رہی۔ اب تو وہ حرم میں پہنچ چکی ہو گی۔۔۔ ہائے توبہ کیسی بے عزتی ہوئی!‘‘ وہ رونے پیٹنے لگا ’’مجھے محل جانا چاہئے۔۔۔ میں امیر کے قدموں میں گر کر التجا کروں گا، روؤں گا اور گڑگڑاؤں گا اور اگر ان کے سینے میں پتھر کا دل نہیں ہے تو۔۔۔‘‘
وہ کھڑا ہو گیا اور لڑکھڑاتا ہوا دروازے کی طرف چلا۔
’’ٹھہرو!‘‘ خواجہ نصر الدین نے کہا ’’تم بھولتے ہو کہ امیروں کا خمیر دوسرے انسانوں جیسا نہیں ہوتا ہے۔ ان کے دل ہی نہیں ہوتا۔ ان سے التجا کرنا بیکار ہوتا ہے۔ بس یہی ممکن ہے کہ ان سے چیز چھین لی جائے اور میں ، خواجہ نصر الدین گل جان کو امیر سے چھین لوں گا!‘‘
’’ وہ بہت طاقتور ہیں۔ ان کے پاس ہزاروں سپاھی ، ہزاروں پہرے دار اور ہزاروں جاسوس ہیں! تم ان کے خلاف کیا کر سکتے ہو؟‘‘
’’ ابھی تا نہیں جانتا کہ میں کیا کروں گا۔ لیکن یہ میں جانتا ہوں کہ وہ گل جان کے پاس نہ تو آج اور نہ کل جائے گا! اور پرسوں بھی نہیں ! اور نہ وہ کبھی اس کو رکھ سکے گا یا اس کا مالک بن سکے گا۔ یہ بات اسی طرح سچ ہے جیسے بخارا سے بغداد تک پھیلا ہوا میرا نام خواجہ نصر الدین! اسلئے اپنے آنسو پونچھ ڈالو، بڑے میاں۔ رو پیٹ کر میرے کان نہ کھاؤ۔ میرے خیالوں کو منتشر نہ کرو۔‘‘
خواجہ نصر الدین تھوڑی دیر تک سوچتے رہے:
’’بڑے میں ، یہ بتاؤ کہ تمھاری مرحومہ بیوی کے کپڑے کہاں رکھے ہیں؟‘‘
’’ وہاں صندوق میں۔‘‘
خواجہ نصر الدین کنجی لیکر گھر کے اندر غائب ہو گئے اور چند منٹ بعد عورت کے بھیس میں نکلے۔ ان کا چہرہ گھوڑے کے بالوں کی نقاب میں اچھی طرح چھپا ہوا تھا۔
’’بڑے میاں ، میرا انتظار کرو اور خود سے کچھ نہ کرنا۔‘‘
انہوں نے اپنا گدھا باڑے سے نکالا ، اس پر کاٹھی کسی اور نیاز کے گھر سے روانہ ہو گئے۔

(۲۱)
گل جان کو باغ میں لے جا کر امیر کے سامنے پیش کرنے سے پہلے ارسلان بیک نے حرم کی مشاطاؤں کو بلایا اور ان کو حکم دیا کہ وہ گل جان کو خوب اچھی طرح آرساتہ و پیراستہ کریں تاکہ اس کے حسنِ کامل کو دیکھ کر امیر باغ باغ ہو جائے۔ مشاطائیں جو اس کام میں طاق تھیں فوراً حکم بجا لائیں۔ انہوں نے گل جان کا اشک آلود چہرہ گرم پانی سے دھویا، نفیس ریشمی کپڑے پہنائے، آنکھوں میں سرمے کا دنبالہ دیا، گالوں پر غازہ ملا ، بالوں کو گلاب کے تیل سے معطر کیا اور ناخون سرخ رنگے۔ پھر انہوں نے حرم سے خواجہ سراؤں کے عصمت مآب داروغہ کو بلایا ۔ کسی زمانے میں یہ آدمی اپنی عیاشی کے لئے بخارا بھر میں مشہور تھا۔ ان معاملات میں اپنی معلومات اور تجربے ہی کی وجہ سے وہ اس اعلیٰ عہدے پر فائز کیا گیا جسکے لئے دربار کے جراح نے اس کو خاص طور سے تیار کیا تھا ۔ یہ اس کا فرض تھا کہ وہ امیر کی ایک سو ساٹھ داشتاؤں پر برابر نگاہ رکھے کہ وہ امیر کے جذبات کو بر انگیختہ کرنے کے لئے کافی دلکش ہوں۔
سال بسال اس کا فرض اور بھی بھاری ہوتا جا رہا تھا کیونکہ امیر دن بدن سرد پڑتا جا رہا تھا اور اس کی قوت کم ہوتی جاتی تھی۔ متعدد بار یہ ہو چکا تھا کہ خواجہ سراؤں کے داروغہ کو صبح صبح درجن بھر کوڑوں کا انعام ملا تھا ۔ یہ تو اس کے لئے معمولی سزا تھی ۔ اس کہیں زیادہ بڑی سزا تو یہ تھی کہ جب وہ ماہ رو داشتاؤں کو امیر کے پاس جانے کے لئے تیار کرتا تو شدید کرب میں مبتلا ہو جاتا ، بالکل اسی طرح کے کرب میں جس کا سامنا جہنم میں رند مشربوں کو کرنا پڑے گا۔ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ رند مشربوں کو جہنم میں ستونوں سے زنجیروں میں کس دیا جائے گا اور ان کو لباس سے بے نیاز حوروں کے جھرمٹ میں کھڑا رہنا پڑے گا۔
خواجہ سراؤں کا داروغہ گل جان کا حسن دیکھ کر متحیر رہ گیا ۔
’’واقعی حسین ہے!‘‘ اس نے اپنی باریک اور متحیر آواز میں کہا ’’اس کو امیر کے پاس لے جاؤ! میری نگاہ سے ہٹاؤ!‘‘
اور وہ وہاں سے بھاگ نکلا ۔ اس نے اپنا سر دیواروں سے ٹکرایا، دانت پیسے اور رونے پیٹنے لگا ’’ہائے قسمت ، اب تو برداشت نہیں ہوتا!‘‘
’’ یہ اچھی علامت ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارا آقا نہال ہو جائے گا۔‘‘
بے چاری خاموش گل جان کو محل کے باغ پہنچایا گیا۔
امیر اٹھا ، اس کے قریب آیا اور اس کی نقاب الٹ دی۔
تمام وزراء ، عمائدین اور حکما نے اپنی آنکھیں قباؤں کی آستینوں سے ڈھک لیں۔
بڑی دیر تک امیر اس حسین چہرے سے اپنی نگاہیں نہ ہٹا سکا۔
’’سود خور نے ہم سے جھوٹ نہیں کہا تھا‘‘ اس نے زور سے کہا ’’ جس رقم کا ہم نے وعدہ کیا تھا اس سے تگنی رقم اس کو دی جائے۔‘‘
گل جان کو وہاں سے لے جایا گیا۔ امیر کافی خوش نظر آ رہا تھا۔
’’ اس کو مشغلہ مل گیا۔ وہ اب خوش ہے۔ اس کے دل کا بلبل لڑکی کے گالوں کے گلاب پر فریفتہ ہو گیا ہے‘‘ درباری آپسمیں کھسر پھسر کرنے لگے ’’صبح کو وہ اور بھی خوش مزاج ہو جائے گا۔ خدا کی مہربانی سے طوفان بخیر و خوبی گزر گیا۔ ہم میں سے کسی پر بجلی نہ گری۔‘‘
درباری شاعروں کی بھی ہمت بندھی، وہ آگے بڑھے اور باری باری امیر کی شان میں قصیدے پڑھنے لگے۔ اس کے چہرے کا ماہِ کامل سے ، قد کا نازک سرو سے اور اس کی حکومت کا دونوں جہان کے قران السعدین سے مقابلہ کرنے لگے۔
آخر میں ، ملک الشعراء اس طرح اپنا قصیدہ پڑھنے آیا جیسے اچانک جوش میں آ کر اس نے اس کو کہہ ڈالا ہو حالانکہ اگلے دن کی صبح سے یہ قصیدہ اس کو نوکِ زبان تھا۔
امیر نے اس کو مٹھی بھر چھوٹے سکے پھینک دئے اور وہ فرش پر رینگ رینگ کر ان کو جمع کرنے لگا ، ساتھ ہی وہ امیر کی جوتیوں کو بوسہ دینا نہیں بھولا۔
پھر امیر نے مربیانہ انداز میں ہنستے ہوئے کہا ’’ہم نے بھی ایک نظم کہی ہے:
شام کو ہوا جو باغ میں گزر ہمارا
چاند چھپ گیا بادلوں میں شرم کا مارا
پرندے ہوئے خاموش ، ہوا بھی چال اپنی بھولی
اور ہم تھے وہاں استادہ ۔۔۔عظیم،
عالی مرتبت ، اٹل ، مانندِ آفتاب ، عظیم الشان!‘‘
سب شاعر گھٹنوں کے بل گر کر داد و تحسین دینے لگے:
’’کیا عظمت ہے! رودکی کو بھی مات کر دیا!‘‘
کچھ تو فرش کے بل زمین پر گر گئے جیسے تعریف کے جوش میں ان پر غشی طاری ہو گئی ہو۔
رقاصائیں آ گئیں، ان کے پیچھے بھانڈ ، مداری اور شعبدہ گر آئے اور امیر نے ان سب کو بڑی فیاضی سے انعامات دئے۔
’’مجھے افسوس ہے کہ میں سورج پر حکم نہیں چلا سکتا‘‘ اس نے کہا ’’ نہیں تو میں اس کو جلد غروب ہونے کا حکم دیتا۔۔۔‘‘
اور درباری اس پر خوشامدانہ قہقہے لگا رہے تھے۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers