امیر کے خزانے کو زبردست خسارہ ہوا۔ پچھلے برسوں کے مقابلے میں حضرت بہا الدین کے مقبرے سے رقم کا دسواں حصہ بھی نہیں آیا۔ اور اس سے بری بات تو یہ تھی کہ لوگوں کے دماغوں میں دلیرانہ آزاد خیالی کی پھر سے آبیاری ہو گئی۔ جاسوسوں نے مخبری کی کہ مقبرے کے واقعے کی خبر ریاست کے کونے کونے تک پہنچ گئی اور اس کے نتائج بھی برآمد ہوئے۔ تین گاؤں میں باشندوں نے مسجدوں کی تکمیل سے انکار کر دیا اور چوتھے میں انہوں نے اپنے ملا کو بہت ذلیل کر کے نکال دیا۔   تفصیل سے پڑھئے
امیر نے وزیر اعظم بختیار کو حکم دیا کہ وہ دیوان یعنی ریاستی کونسل کا جلسہ طلب کرے۔ کونسل کا جلسہ محل کے باغ میں ہوا۔ یہ بھی عجیب و غریب باغ تھا، دنیا کا سب سے حسین باغ۔ شاندار چھتنارے درختوں پر نایاب پھل لگے تھے۔ بہت سے اقسام کے شفتالو، بادام، آلوچے، انجیر اور نارنگیاں اور بہت سے دوسرے پھل جن کا بیان مشکل ہے۔ گلاب اور طرح طرح کے پھول پودوں کی چمن بندیاں تھیں جن سے ساری فضا معطر رہتی تھی۔ کوڑیالے کے پھول مسکرا رہے تھے اور نرگس ان کی طرف محبت سے دیکھ رہی تھی۔ فوارے اچھل رہے تھے اور سنگ مرمر کے حوضوں میں طرح طرح کی سنہری مچھلیاں تیر رہی تھیں۔ ہر جگہ نقرئی پنجروں میں نایاب چڑیاں چہچہا رہی تھیں۔
لیکن وزرا، عمائدین اور حکما بے پروائی سے گزر رہے تھے۔ وہ حسن کے جادو سے بے خبر اور ناآشنا تھے کیونکہ ان کے خیالات بالکل اپنے مفادات پر مرکوز تھے کہ کس طرح اپنے دشمنوں کی چوٹوں سے بچا جائے اور اپنی بارے آنے پر کیسے ان کو چوٹ کی جائے۔ اس طرح ان کے سخت اور مرجھائے ہوئے دلوں میں اس کے سوا کسی اور بات کے لئے جگہ ہی نہ تھی۔ اگر اچانک دنیا کے تمام پھول مرجھا جاتے اور ساری چڑیاں چہچہانا بند کر دیتیں تب بھی وہ توجہ نہ کرتے کیونکہ وہ اپنی ذاتی خواہشات اور حریصانہ چالوں میں مبتلا تھے۔
ان کی آنکھوں میں افسردگی تھی اور خون سے عاری ہونٹ بھنچے ہوئے تھے اور ریتلے راستوں پر اپنی جوتیاں گھسیٹتے چلے جا رہے تھے۔ وہ ایک کنج میں داخل ہوئے جو سرسبز، گھنی اور مہک دار بیلوں سے گھرا ہوا تھا۔ یہاں وہ اپنی مرصع عصائیں دیوار کے سہارے کھڑی کر کے ریشمی گدوں پر بیٹھ گئے۔ بڑے عماموں کے بوجھ سے سرجھکائے وہ خاموشی سے اپنے آقا کا انتظار کرنے لگے۔
وہ بھاری قدموں سے اندر داخل ہوا، غمگین خیالات سے اس کی تیوریوں پر بل تھا۔ سب اٹھ کھڑے ہوئے اور تقریباً زمین تک جھک گئے اور اس وقت تک جھکے رہے جب تک اس نے ہلکا سا اشارہ نہ کیا۔ اب آداب کے مطابق وہ گھٹنوں کے بل ہو گئے اور اپنے جسم کا سارا وزن ایڑیوں پر ڈال د یا۔ ان کی انگلیاں قالین پر تھیں۔ ہر ایک اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ آج امیر کا قہر کس پر نازل ہو گا اور اس سے کیا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
درباری شاعروں نے حسب معمول آداب کے مطابق امیر کے پیچھے نصف حلقہ بنا لیا اور ہلکے ہلکے کھنکھار کر اپنے گلے صاف کرنے لگے۔
ان میں سب سے لائق شاعر جس کو "ملک الشعرا" کا خطاب مل چکا تھا دل ہی دل میں وہ قصیدہ دوہرا رہا تھا جو اس نے آج ہی صبح تیار کیا تھا اور امیر کو اس طرح سنانا چاہتا تھا جیسے اس نے مافوق الفطرت جوش کے ماتحت اس کو فی البدیہہ کہا ہے۔
شاہی مور چھل اور حقہ برداروں نے بھی اپنی اپنی مقررہ جگہیں سنبھال لیں۔
"بخارا میں کس کی حکومت ہے؟" امیر نے دھیمی آواز میں ابتدا کی جس سے سامعین کو جھرجھری آ گئی۔ "بخارا میں کس کی حکومت ہے ، ہم تم سے پوچھتے ہیں۔ ہماری یا اس ملعون ، ناپاک خواجہ نصر الدین کی؟‘‘ یہاں تقریباً اس کی آواز گھٹ گئی ۔ پھر اپنے غصہ پر قابو حاصل کر کے دھمکی آمیز آواز میں اس نے کہا ’’امیر تمھاری آواز سن رہا ہے! بولو !‘‘
مورچھل اس کے سر پر ہلتی رہی ۔ درباری خاموش اور خوف زدہ تھے ۔ وزراء گھبرا گھبرا کے ایک دوسرے کو کہنیاں مار رہے تھے ۔
’’ اس نے ریاست میں ہنگامہ برپا کر رکھا ہے‘‘ امیر نے اپنی بات جاری رکھی ’’تین بار اس نے ہمارے دارالحکومت کے امن و امان میں رخنہ ڈالا ہے۔ اس نے ہمارا خواب و آرام لوٹ لیا اور ہمارے خزانے کو جائز آمدنی سے محروم کر دیا۔ وہ اعلانیہ عوام کو سرکشی اور بغاوت کے لئے اکساتا ہے۔ اس پاجی سے کس طرح نبٹیں ، ہم تم سے پوچھتے ہیں۔‘‘
وزراء ، عمائدین اور حکما سبھی نے یک آواز ہو کر جواب دیا :
’’اے مرکزِ کائنات ، محافظِ امن ، وہ بلاشبہ سخت سے سخت سزا کا مستحق ہے!‘‘
’’تو پھر وہ ابھی تک کیوں زندہ ہے؟‘‘ امیر نے دریافت کیا۔ ’’ یا یہ کام پھر ہمارے لئے ، تمھارے حکمران کے لئے ہے جس کا نام تمھیں خوف اور ادب سے اور وہ بھی بلا سربسجود ہوئے نہیں لینا چاہئے جو ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ تم کاہلی، گستاخی اور لاپرواہی کی وجہ سے نہیں کرتے ہو۔ ہاں تو دھراتا ہوں کہ کیا یہ ہمارے لئے ہے کہ ہم بذاتِ خود اس کو گرفتار کرنے بازار جائیں جب کہ تم اپنے اپنے حرموں میں خوب عیاشی کرو گلچھرے اُڑاؤ اور صرف تنخواہ وصول کرنے کے دن اپنے فرائض کو یاد کرو؟ تیرا کیا جواب ہے، اے بختیار؟‘‘
بختیار کا نام سن کر دوسروں نے چین کا نام لیا اور ارسلان بیک کے ہونٹوں پر کینہ پرور مسکرا ہٹ کھیلنے لگی جس سے بختیار کا بہت زمانے سے جھگڑا چلا آ رہا تھا۔ بختیار نے اپنی توند پر ہاتھ باندھے اور امیر کے سامنے زمین تک جھک گیا۔
’’ خدا ہمارے امیر کو آزمائشوں اور مصیبتوں سے محفوظ رکھے!‘‘ بختیار نے شروع کیا۔ ’’اس غلام کی وفاداری اور خدمات کو ، کو امیر کی نورانی کرنوں کا ایک حقیر ذرہ ہے، امیر اچھی طرح جانتے ہیں۔ میرے وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے شاہی خزانہ بالکل خالی تھا لیکن میں نے کئی ٹیکس لگائے ۔ میں نے ملازمت پانے پر بھی ٹیکس لگا دیا اور اب کسی کی یہ مجال نہیں کہ وہ خزانے کو بلا کچھ ادا کئے چھینک بھی دے۔‘‘
’’مزید برآں میں نے نچلے درجے کے سرکاری ملازمین اور پہرے داروں کی تنخواہیں آدھی کر دیں، بخارا کے باشندوں کو پہرے داروں کی دیکھ بھال کا ذمے دار بنایا اور اس طرح میرے آقا ، میں نے خزانے میں کافی بڑی رقم جمع کی۔ لیکن ابھی میں نے اپنی تمام خدمات کا ذکر نہیں کیا ہے۔ میری کوششوں ہی سے حضرت بہاؤالدین کے مقبرے پر پھر معجزے ہونے لگے اور ہزاروں زائرین مقبرے کو آنے لگے۔ اس طرح ہمارے بادشاہ کا خزانہ ، جن کے سامنے دنیا کے دوسرے حکمراں ایک ذرے کے برابر ہیں۔ ہر سال عطیوں سے بھرنے لگا ہے اور آمدنی کئی گنی بڑھ گئی ہے۔۔۔‘‘
’’یہ آمدنی کہاں ہے؟‘‘ امیر نے بیچ میں لقمہ دیا۔ ’’ اس کو تو خواجہ نصر الدین نے ہم سے لے لیا۔ ہم تمھاری خدمات کے بارے میں نہیں پاچھ رہے ہیں۔ یہ تو ہم متعدد بار سن چکے ہیں۔ ہمیں یہ بتاؤ کہ خواجہ نصر الدین کس طرح ہاتھ آئے؟‘‘
’’آقا‘‘ بختیار نے جواب دیا ’’وزیرِ اعظم کے فرائض میں مجرموں کی تلاش نہیں شامل ہے۔ ہماری ریاست میں یہ کام شاہی گارد اور فوج کے سپہ سالار کا، معزز ارسلان بیک کا ہے‘‘
’’بولو!‘‘ امیر نے حکم دیا۔
ارسلان بیک بختیار کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا ہوا اٹھا۔ لمبی سانس لی اور اس کی سیاہ داڑھی اوپر اٹھی اور پھر اس کی توند پر گِر گئی۔
’’ خدا ہمارے مہرِ تاباں، بادشاہ کو ہر آفت و مصیبت، بیماری اور رنج سے محفوظ رکھے! امیر میری خدمات سے بخوبی واقف ہیں۔ جب خیوا کے خان نے بخارا پر چڑھائی کی تو مرکزِ کائنات، ظلِ سبحانی نے عنایت فرما کر مجھے بخارا کی فوج کی کمان سپرد کی اور میں نے بلا خون خرابے کے دشمن کو پیچھے ڈھکیل دیا اور لڑائی کا فیصلہ ہمارے حق میں ہوا۔‘‘
’’ میں نے یہ حک دے دیا کہ خیوا کیسرحد سے لیکر ہمارے علاقے کے اندر ، کئی دنوں کے کوچ کے کے فاصلے تک تمام شہر اور گاؤں تباہ کر دئے جائیں، تمام فصیلیں ، باغیں ، سڑکیں اور پل برباد کر دئے جائیں۔ جب خیوا کے لوگ ہمارے علاقے میں داخل ہوئے اور انہوں نے ایک ریگستان دیکھا جہاں نہ تو باغیں تھیں اور نہ کوئی جاندار، تو انہوں نے اپنے آپ سے کہا ’’ہم بخارا نہ جائیں گے کیونکہ وہاں نہ تو کچھ کھانے پینے کو ہو گا اور نہ لوٹ مار کے لئے۔ وہ واپس لوٹ گئے‘‘ دھوکہ کھا کر اور ذلیل ہو کر۔ ہمارے بادشاہ ، امیر نے مہربانی کر کے اپنی فوج کے ہاتھوں خود اپنے ملک کی تباہی کو اتنا دانش مندانہ اور کارآمد حربہ تسلیم کیا کہ انہوں نے حکم نافذ کر دیا کہ کسی بھی چیز کو بحال نہ کیا جائے اور تمام شہر ، گاؤں ، کھیت اور سڑکیں تباہ شدہ حالت میں رکھی جائیں تاکہ آئندہ دشمن قبائل ہمارے علاقے میں قدم رکھنے کی جرات نہ کریں۔ اس طرح میں نے خیوا کے لوگوں کو شکست دی۔ اس کے علاوہ بخارا میں ہزاروں جاسوسوں کو میں نے تربیت دی۔۔۔‘‘
’’بند کر اپنی زبان شیخی خور!‘‘ امیر نے چلا کر کہا۔ ’’ تو تیرے جاسوس خواجہ نصر الدین کو کیوں نہیں پکڑ سکے؟‘‘
ارسلان بیک بدحواس ہو کر کافی دیر تک خاموش رہا۔ آخر کار اسے ماننا ہی پڑا:
’’ آقا، میں نے ہر تدبیر کر ڈالی لیکن میرا دماغ اس بدمعاش اور مرتد کے خلاف کام نہیں کرتا۔ میرے خیال میں حکما و عقلا سے اس کے بارے میں رائے لینی چاہئے۔‘‘
’’ قسم ہے اپنے آبا و اجداد کی! تم سب اس قابل ہو کہ شہر کی فصیل پر تمھیں سولی دے دی جائے!‘‘ امیر برس پڑا ، اپنے غصے میں اس نے حقے بردار کو ایک زور کا ہاتھ رسید کیا جو اس غلط موقع پر شاہ کے دستِ دراز کے قریب آگیا تھا۔
’’بولو‘‘ اس نے سب سے معمر دانا کو حکم دیا جو درازی ریش کے لئے مشہور تھا۔ اس کی داڑھی اتنی لمبی تھی کہ اس کو اپنی کمر کے گرد دوہری لپیٹ سکتا تھا۔
دانا اٹھا ، ایک دعا پڑھی اور اپنی مشہور داڑھی کو تھپ تھپایا اور داہنے ہاتھ سے اس کو کھینچ کر بائیں ہاتھ کی انگلیوں سے اس میں شانہ کرنے لگا۔
’’خدا بادشاہ کو رعایا کی خوش حالی اور مسرت کے لئے شاندار اور طویل زندگی عطا فرمائے‘‘ اس نے کہا ’’ چونکہ مذکورہ بالا بدمعاش اور باغی خواجہ نصر الدین بھی تو آدمی ہی ہے، اس لئے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس کا جسم بھی دوسرے آدمیوں جیسا ہے یعنی اس میں دوسو چالیس ہڈیاں اور تین سو ساٹھ رگیں ہیں جو پھیپھڑے ، جگر، دل ، تلی اور پتے کو چلاتی ہیں۔ داناؤں نے ہیں سکھایا ہے کہ شہ رگ دل کی رگ ہوتی ہے جو تمام دوسری رگوں کو چلاتی ہے اور یہ ایک ناقابلِ تردید اور مقدس حقیقت ہے جو بے ایمان ابو اسحاق کی کافرانہ تعلیم کے خلاف ہے جو یہ جھوٹا دعویٰ کرنے کی ہمت کرتا ہے کہ انسان کی زندگی کی بنیاد پھیپھڑے کی رگ ہے۔‘‘
’’ دانائے روزگار بو علی سینا، یونانی حکیم ہیپو کریتس اور کارڈویا کے اویروئس نے بھی لکھا ہے جس کے محنت کے پھل اب ہم اٹھا رہے ہیں اور الکندی ، الفارابی اور ابو بصرہ ابن طفیل کی تعلیمات کے مطابق بھی میں کہتا ہوں اور تصدیق کرنے کی جرات کرتا ہوں کہ اللہ نے آدم کو چہار عناصر ۔۔۔ آب ، خاک ، آتش اور باد ۔۔۔ کے خمیر سے اس طرح بنایا کہ زرد پتے میں آگ کی خصوصیت ہے جو ہم دیکھتے ہیں کہ گرم اور خشک ہے۔ سیاہ پتے میں خاک کی خصوصیت ہے کیونکہ وہ ٹھنڈا اور خشک ہوتا ہے۔ لعابِ دھن پانی کی خصوصیت رکھتا ہے کیونکہ وہ سرد اور تر ہوتا ہے اور آخر میں خون باد کی نوعیت رکھتا ہے کیونکہ وہ گرم اور تر ہوتا ہے۔ اگر کوئی آدمی اپنے جسم کی ان رقیق اشیاء سے محروم کر دیا جائے تو وہ لازمی طور پر مر جاتا ہے اور اس سے میں نتیجہ اخذ کرتا ہوں ، اے ممتاز آقا، کہ یہ مرتد ، دشمنِ امن و امان ، خواجہ نصر الدین خون سے محروم کر دیا جائے جس کا بہتر طریقہ یہ ہو گا کہ اس کا سر دھڑ سے جدا کر دیا جائے کیونکہ جو خون بہتا ہے اس کے ساتھ آدمی کے جسم سے زندگی بھی بخارات میں تبدیل ہو کر اڑ جاتی ہے اور کبھی واپس نہیں آتی۔ یہ ہے میرا مشورہ اے شاہِ زماں، جہاں پناہ!‘‘
امیر نے اس کی باتیں توجہ سے سنیں اور کچھ کہے بغیر دوسرے دانا کی طرف ابرو سے بہت ہی ہلکا سا اشارہ کیا ۔ اس دانا کی داڑھی کا مقابلہ تو پہلے دانا سے نہیں کیا جا سکتا تھا مگر اس کا عمامہ اس سے کہیں بڑا اور شاندار تھا ۔ سالہاسال نے عمامہ کے بوجھ نے اس کی گردن کو ایک طرف اور نیچے جھکا دیا جس سے ایسا معلوم ہونے لگا جیسے کوئی آدمی تنگ دراڑ سے اوپر جھانک رہا ہو۔ امیر کے سامنے جھکتے ہوئے یہ دانا بولا:
’’ اے شہنشاہِ اکبر، آفتابِ نیم روز! میں خواجہ نصر الدین کے اس طرح خاتمے سے متفق نہیں ہوں کیونکہ ہر آدمی یہ جانتا ہے کہ انسان کی زندگی کے لئے صرف خون ہی نہیں بلکہ ہوا بھی ضروری ہے اور اگر کسی آدمی کی گردن سے رسی دبا دی جائے اور اس طرح ہوا اس کے پھیپھڑوں تک پہنچنے سے روکی جا سکے تو وہ آدمی لازمی طور پر مر جاتا ہے اور کبھی پھر بحال نہیں ہو سکتا۔۔۔‘‘
’’اچھا‘‘ امیر نے بہت ہی دھیمی آواز میں کہا۔ ’’ تم بالکل ٹھیک کہتے ہو، اے داناؤں کے دانا، اور آپ کے مشورے ہمارے لئے بلاشبہ قیمتی ہیں۔ واقعی، اگر آپ ایسے مشورے نہ دیتے تو ہم خواجہ نصر الدین سے کیسے پیچھا چھڑا سکتے؟‘‘
وہ رک گیا کیونکہ وہ غصے سے بری طرح بھرا ہوا تھا اور اس پر قابو رکھنا اس کے لئے مشکل ہو رہا تھا ۔ اس کے گال تھر تھرا رہے تھے، نتھنے جل رہے اور آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے۔ لیکن درباری خوشامدی۔۔۔ فلسفی اور شاعر جو امیر کی پشت پر نیم حلقہ بنائے کھڑے تھے اپنے مالک کا غضبناک چہرہ نہیں دیکھ سکتے تھے اس لئے انہوں نے اس کے غضب آلود طعن کو نہیں سمجھا جس سے اس نے داناؤں کو خطاب کیا تھا ۔ اس کی بات کے ظاہری مطلب کو لیکر انہوں نے سوچا کہ داناؤں نے واقعی امیر کی نگاہوں میں عزت حاصل کر لی ہے اس لئے وہ امیر کی داد و دہش سے محفوظ ہوں گے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے داناؤں کی عنایات فوراً حاصل کرنا چاہئیں۔
’’آپ دانائے روزگار ہیں ! آپ ہمارے شہنشاہ عالی مرتبت کے تاج کے گہر ہائے بے بہا ہیں، آپ کا عقل و دانش میں کوئی جواب نہیں ، آپ مجسم عقل و دانش ہیں جن کو خدا نے سب سے زیادہ عقل عطا فرمائی ہے!‘‘
اس طرح انہوں نے قصیدہ خوانی شروع کر دی اور حسن بیان و جوش و خروش میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرنے لگے ۔ انھیں اس کا پتہ نہیں چلا کہ امیر غصے میں بل کھایا ہوا ان کو دیکھ رہا ہے اور ڈراؤنی خاموشی چھا گئی ہے۔
’’اے علم کے آفتاب و ماہتاب اور صاحبانِ عقل و دانش!‘‘ انہوں نے اپنی قصیدہ خوانی جاری رکھی اور غلامانہ جذبے کے جوش میں اپنی آنکھیں بند کر لیں۔
اچانک ملک الشعراء کی نظر امیر پر پڑی اور ایسا معلوم ہوا جیسے اس کی چکنی چپڑی زبان تالو سے چپک گئی ہے۔ اس کے بعد اور سب بھی چپ ہو گئے اور یہ سمجھ کر کانپنے لگے کہ انہوں نے اپنے جوش میں کتنی زبردست غلطی کی ہے۔
’’ ناکارہ بد معاشو!‘‘ غصے سے بپھرے ہوئے امیر نے کہا ’’ کیا تمھارے خیال میں ہم یہ نہیں جانتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کا سر قلم کر دیا جائے یا اس کو پھانسی دے دی جائے تو وہ پھر زندہ نہیں ہو سکتا؟ لیکن اس کے لئے پہلے ضرورت اس بات کی ہے کہ آدمی کو گرفتار کیا جائے اور تم نے ، بدمعاش ، ناکارہ ، پاجی اور احمقوں نے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔ تمام وزراء ، عمائدین ، دانا اور شعراء اس وقت تک تنخواہ نہیں پائیں گے جب تک خواجہ نصر الدین گرفتار نہ کیا جائے گا۔ اور یہ اعلان کر دیا جائے کہ جو بھی اس کو گرفتار کرے گا اس کو تین ہزار تانگے انعام دیا جائے گا ! ہم تم کو اس بات سے بھی آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ تمھاری کاہلی ، بے وقوفی اور لاپروائی کو دیکھ کر ہم نے ایک نئے دانا کو اپنی خدمت میں بغداد سے طلب کیا ہے جن کا نام مولانا حسین ہے اور جو ابھی تک امیرالمومنین خلیفہ بغداد کی ملازمت میں تھے ۔ وہ راستے میں ہیں اور جلد ہی یہاں پہنچنے والے ہیں۔ لعنت ہو تم پر نرم گدوں پر اینڈنے والے پیٹ کے غلامو اور حرص کے بندو! نکال دو ان کو یہاں سے!‘‘ اس نے غصے کے بڑھتے ہوئے طوفان میں پہرے داروں کو حکم دیا۔ ’’ان سب کو یہاں سے نکال دو، نکال دو!‘‘
گم صم درباریوں پر پہرے دار جھپٹے اور بلا پاس و لحاظ ان کو دروازے تک کھینچتے ہوئے لے گئے اور پھر سیڑھیوں کے نیچے ڈھکیل دیا۔ سیڑھیوں سے نیچے دوسرے پہرے داروں نے ان کی گردن ناپی اور راستے میں ان کی لات گھونسوں اور تھپڑوں سے خاطر تواضع کی۔ درباری ایک دوسرے سے آگے نکل بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔ سفید بالوں والا دانا تو خود اپنی داڑھی میں الجھ کر گرا، دوسرے دانا نے اس سے ٹھوکر کھائی اور گِر پڑا۔ اس کا سر ایک گلاب کی جھاڑی میں چلا گیا ۔ یہاں وہ بڑی دیر تک بے ہوشی کی حالت میں پڑا رہا ۔ اپنی ٹیڑھی گردن کی وجہ سے وہ اس وقت بھی کسی تنگ دراڑ سے جھانکتا معلوم ہوتا تھا ۔

(۱۹)
امیر سارے دن غصے میں بھرا بیٹھا رہا۔ دوسرے دن صبح کو بھی درباریوں نے اس کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے ۔ اس کو بہلانے اور خوش کرنے کی تمام کوششیں بے سود رہیں ۔ رقاصائیں اپنے طنبورے بجا بجا کر عود و عنبر کے مہکتے ہوئے بادلوں کے درمیاں تھرک رہی تھیں ، اپنے گداز کولہے مٹکا رہی تھیں اور اپنے مرمریں سینے اس طرح عریاں کر رہی تھیں جیسے اتفاقا یہ بات ہو گئی ہو ۔ لیکن یہ سب بیکار تھا ۔ امیر نے آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا اور اس کے چہرے پر غصے کے گہرے آثار درباریوں کے دلوں کو دہلاتے رہے۔ درباری مسخروں ، کرتب دکھانے والوں ، شعبدہ بازوں اور ان ہندستانی مداریوں کی سب حرکتیں اور کرتب بھی بے کار رہے جو بین بجا کر سانپوں کو لبھاتے ہیں۔
درباری آپس میں کھسر پھسر کر رہے تھے:
’’ لعنت ہو اس خواجہ نصر الدین پر ! ولد الزنا ! کیا آفت اس نے ہم پر نازل کر دی ہے!‘‘
وہ ارسلان بیک سے امیدیں لگائے بیٹھے تھے۔
ارسلان بیک نے داروغہ خانے میں اپنے انتہائی چالاک جاسوسوں کو طلب کیا جن میں وہ چیچک رو بھی تھا جس کو خواجہ نصر الدین نے انتہائی معجز نما طریقے سے شفا بخشی تھی۔
’’تم سب سنو‘‘ ارسلان بیک نے کہا ’’ اعلی حضرت امیر کے حکم سے تمھاری تنخواہیں اس وقت تک کے لئے روک دی گئی ہیں جب تک کہ خواجہ نصر الدین گرفتار نہ ہو جائے۔ میں یہ قول دیتا ہوں کہ اگر تم اس کا پتہ نہ لگا سکے تو نہ صرف تم اپنی تنخواہوں سے ہاتھ دھوؤ گے بلکہ اپنے سروں سے بھی۔ اس کے برخلاف جو بھی سب سے زیادہ جوش کے ساتھ کام کر کے خواجہ نصر الدین کو گرفتار کرے گا اسے تین ہزار تانگے کا انعام ملے گا اور ترقی بھی۔ اس کو تمام جاسوسوں کا افسر مقرر کیا جائے گا۔‘‘
جاسوس دم کے دم درویشوں ، بھک منگوں ، سقوں اور سوداگروں کے بھیس بدل بدل کر روانہ ہو گئے۔ اس دوران میں چیچک رو جاسوس نے جو دوسروں سے زیادہ چالاک تھا ایک غالیچہ ، کچھ مٹر کے دانے ، ایک تسبیح اور پرانی کتابیں لیں اور بازار کی طرف چل دیا ۔ وہاں وہ جوہریوں اور گندھیوں کے بازاروں کی نکڑ پر بیٹھ گیا۔ یہاں اس نے رمال کے بھیس میں عورتوں کے ذریعے سن گن لینے کا منصوبہ گانٹھا ۔
ایک گھنٹے بعد سیکڑوں نقیبوں نے بازار کے چوراہے پر تمام مسلمانوں سے مخاطب ہو کر اپنی بات توجہ سے سننے کے لئے کہا ۔ انہوں نے امیر کا فرمان سنایا کہ خواجہ نصر الدین کو امیر کا دشمن اور مرتد قرار دیا جاتا ہے ۔ اس سے کسی قسم کا تعلق ممنوع ہے خصوصاً اس کو پناہ دینا جس کی سزا موت ہے ۔ اس کے برخلاف اگر کوئی اسے پکڑ کر امیر کے پہرے داروں کے حوالے کر دے گا تو اس کو تین ہزار تانگوں کے انعام اور دوسری عنایات سے سرفراز کیا جائے گا۔
چائے خانے کے مالک ، ٹھٹھیرے ، آہنگر ، بنکر ، سقے اور ساربان سبھی آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے:
’’ اس کے لئے امیر کو بہت دن انتظار کرنا ہو گا۔‘‘
’’ خواجہ نصر الدین کو ایسے دھر لینا آسان نہیں ہے!‘‘
’’ کوئی رقم بھی بخارا کے لوگوں کو خواجہ نصر الدین کے ساتھ دغا کرنے پر آمادہ نہیں کر سکتی۔‘‘
لیکن سود خور جعفر جو اپنے قرض داروں پر ظلم و ستم ڈھانے کے لئے بازار میں روز مرہ کی پھیری لگا رہا تھا کچھ اور ہی سوچ رہا تھا ۔ ’’ تین ہزار تانگے‘‘ اس نے افسوس کے ساتھ سوچا ۔ ’’کل تو رقم تقریباً میری جیب میں پہنچتے پہنچتے رہ گئی! خواجہ نصر الدین اس لڑکی کے پاس پھر آئے گا لیکن میں اس کو تن تنہا تو نہیں گرفتار کر سکتا اور اگر میں کسی اور کو یہ خبر بتاتا ہوں تو وہ مجھ سے انعام جھپٹ لے گا۔ نہیں، مجھے کچھ اور کرنا چاہئے۔‘‘
وہ محل کی طرف چل پڑا۔
وہ بڑی دیر تک کھٹ کھٹاتا رہا لیکن دروازے بند رہے ۔ پہرے داروں نے سنا نہیں کیونکہ وہ خواجہ نصر الدین کو پکڑنے کے منصوبوں پر گرما گرم بحث کر رہے تھے ۔
’’اے بہادر سپاھیو! کیا تم سو رہے ہو؟‘‘ سود خور پریشان ہو کر چیخا۔ اس نے آہنی کنڈا بھی بجایا لیکن قدموں کی چاپ دیر میں سنائی دی اور زنجیروں کے کھلنے کی جھنکار ہوئی۔ پھاٹک کا دروازہ کھلا۔
سود خور کی بات سننے کے بعد ارسلان بیک نے سر ہلایا:
’’معزز جعفر، میں آپ کو یہ مشورہ نہ دوں گا کہ آپ امیر سے آج ملیں۔ وہ آج بہت غصے میں ہیں اور اداس بھی۔‘‘
’’ لیکن میرے پاس ان کی افسردگی دُور کرنے کا ایک لاجواب علاج ہے‘‘ سودخور نے فوراً جواب دیا۔ ’’ معزز ارسلان بیک، معاونِ تخت و تاج، فاتح دشمنان ! میرے کام میں دیر نہ ہونا چاہئے۔ جا کر امیر سے کہئے کہ میں ان کا رنج و غم دور کرنے آیا ہوں۔‘‘
امیر اس سے بڑے روکھے پن سے ملا۔ وہ بولا:
’’بتا جعفر! لیکن اگر تیری بات نے ہمارا دل خوش نہ کیا تو تجھ کو دو سو درے لگائے جائیں گے۔‘‘
’’ اے شہنشاہِ اعظم جس کی شان و شوکت کو نہ تو کوئی بادشاہ ماضی و حال میں پہنچا ہے اور نہ مستقبل میں پہنچے گا!‘‘ سود خور نے کہا ’’ "آپ کے اس ناچیز خادم کو یہ پتہ ہے کہ ہمارے شہر میں ایک ایسی دوشیزہ رہتی ہے جس کو میں حقیقت میں لاکھوں حسیناؤں کی ایک کہہ سکتا ہوں۔"
امیر کو فوراً دلچسپی پیدا ہو گئی اور اس نے سر اٹھایا۔
"آقا!" سود خور کی ہمت بندھی اور اس نے اپنی بات جاری رکھی۔ "میرے پاس اس کے حسن کی تعریف کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔ وہ سرو قد، دلربا، نازک اندام ہے۔ اس کے جسم کا ہر عضو سانچے میں ڈھلا ہے۔ اس کی پیشانی روشن، چہرہ شہابی، آنکھیں غزالی اور بھویں ہلالی ہیں! اس کے گال گلابی اور دہانہ مہر سلیمانی کی مانند ہے، اس کے ہونٹ مونگے جیسے اور دانت موتیوں کی لڑی ہیں۔ اس کے پستان مرمریں ہیں جن پر چیری کے دو سرخ پھل رکھے ہیں اور اس کے شانے۔۔۔"
امیر نے اس کے زور بیان کو روکا:
"اگر واقعی وہ ایسی ہے جیسا کہ تم کہتے ہو تو وہ میرے حرم کے لائق ہے۔ وہ ہے کون؟"
"وہ حسب نصب سے تو غریب ہے، آقا۔ وہ ایک غریب کسگر کی لڑکی ہے جس کے نام سے میں اعلی حضرت کے کانوں کی توہین کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ میں یہ بتا سکتا ہوں کہ وہ کہاں رہتی ہے لیکن کیا امیر کے اس غلام کو اس کے لئے انعام ملے گا؟"
امیر نے بختیار کی طرف اشارہ کیا اور ایک تھیلی سود خور کے قدموں پر آن گری۔ جعفر نے اس کو حریصانہ عجلت کے ساتھ اٹھا لیا۔
"اگر وہ تمھاری تعریف کے مطابق ثابت ہوئی تو تم کو اتنا ہی اور انعام ملے گا" امیر نے کہا
"ہمارے لائق آقا کی فیاضی کا بول بالا رہے!" سود خور نے ہانک لگائی۔ "لیکن جلدی کرنی چاہئے کیونکہ اس غزال رعنا کے پیچھے ایک صیاد لگا ہوا ہے۔"
امیر کی تیوریوں پر بل آ گئے اور ناک کے بانسے پر ایک موتی جھری نمودار ہو گئی۔
"کون ہے وہ؟"
"خواجہ نصر الدین!" سود خور نے جواب دیا۔
"پھر وہی خواجہ نصر الدین! اس میں بھی خواجہ نصر الدین! وہ ہر جگہ ہے۔۔ اور تم ہو کہ۔۔۔" یہ کہتے ہوئے امیر اپنے وزیروں کی طرف مخاطب ہو گیا اور تخت ہلنے لگا۔ "سوائے اس کے اور کچھ نہیں کرتے کہ ہماری شاہانہ شخصیت کے لئے باعث شرم بنو۔ اے ارسلان بیک! اس کا انتظام کر، یہ لڑکی ہمارے محل میں ہی آنا ہے۔ اگر تو اس میں ناکام رہا تو واپسی پر جلاد تیرا منتظر ہو گا!"
چند منٹوں میں محل کے پھاٹک سے سپاھیوں کا ایک دستہ روانہ ہو گیا۔ ان کے ہتھیاروں میں جھنکار تھی اور سپریں دھوپ میں چمچما رہی تھیں۔ ان کے آگے ارسلان بیک تھا۔ اس کی زرد قبا میں اعلی عہدے کا بلا ٹنکا ہوا تھا۔ پہرے داروں کے ساتھ سود خور بھی لنگڑاتا اور لڑکھڑاتا چلا جا رہا تھا۔ اکثر وہ پیچھے رہ جاتا اور دوڑ کر ان کے برابر پہنچتا۔ لوگ اس جلوس کو دیکھ کر کنارے ہو جاتے اور سود خور کو مخاصمانہ نظروں سے دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے کہ آج وہ کس بدمعاشی کے لئے نکلا ہے۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers