چھت پر بڈھّے نے کروٹ لی۔ وہ چھینکا اور کھانسا اور نیند ہی میں گل جان سے پینے کے لئے ٹھنڈا پانی لانے کو کہا۔ گل جان نے خواجہ کو دروازے کی طرف ڈھکیلا اور وہ زینوں پر اس طرح بھاگے کہ ان کے پیر مشکل سے قدمچوں کو چھو رہے تھے۔ پھر وہ کود کر باڑ کے پار ہو گئے اور تھوڑی دیر بعد، وہ قریب کی نہری نالی سے منہ دھو کر اور اپنی قبا کے دامن سے چہرہ پونچھ کر پھر لکڑی کے پھاٹک کو کھٹکھٹا رہے تھے۔   تفصیل سے پڑھئے
"صبح بخیر، خواجہ نصر الدین" بڈھّے نے چھت ہی پر سے ان کو خوش آمدید کہا "پچھلے چند دنوں سے تم کتنے سویرے اٹھنے لگے ہو۔ تم سوتے کب ہو۔ اچھا، کام شروع کرنے سے پہلے ہم چائے پی لیں۔"
دوپہر کو خواجہ بڈھّے کو چھوڑ کر گل جان کے لئے دوپہر لئے تحفہ خریدنے بازار گئے۔ انہوں نے حسب معمول یہ احتیاط کی کہ بدخشاں کا رنگین عمامہ باندھا اور مصنوعی داڑھی لگا لی۔ اس بھیس میں وہ پہچانے نہیں جا سکتے تھے اور جاسوسون سے نڈر ہو کر وہ دوکانوں اور چائے خانوں میں جا سکتے تھے۔
انہوں نے مونگے کا ایک ہار منتخب کیا جس کے رنگ نے ان کو اپنی محبوبہ کے ہونٹوں کی یاد دلا دی۔ جوہری معقول آدمی ثابت ہوا اور صرف ایک گھنٹہ خوب طے توڑ کر کے خواجہ نے تیس تانگے کا ہار خریدا۔
واپسی میں خواجہ نصر الدین نے بازار کی مسجد کے قریب بڑی بھیڑ دیکھی۔ لوگ گھس گھس کر ایک دوسرے کے کندھوں کے اوپر سے اپنی گردنیں نکال کر دیکھ رہے تھے۔ جب وہ قریب پہنچ گئے تو انہوں نے ایک درشت اور تیز آواز سنی:
"مومنو، خود دیکھ لو! اس پر فالج گرا ہے او ریہ دس سال سے بے حس و حرکت پڑا ہے۔ اس کے تمام عضو مفلوج اور ٹھنڈے پڑ چکے ہیں۔ دیکھو، یہ اپنی آنکھیں تک نہیں کھولتا۔ یہ بہت دور سے ہمارے شہر آیا ہے۔ خدا ترس رشتے دار اور دوست اسے یہاں صرف اس علاج کے لئے لے آئے ہیں جس کے سوا اور کچھ ممکن نہیں ہے۔ ایک ہفتے میں مقدس ترین اور بے مثال بزرگ حضرت بہاالدین کے عرس کے دن اس کو مزار کے زینوں پر لٹا دیا جائے گا۔ اس طرح اندھے، لنگڑے اور صاحب فراش مریض متعدد بار شفا پا چکے ہیں۔ اس لئے اے مومنو آئیے ہم دعا کریں کہ مقدس شیخ اس پر رحم کھائیں اور اس بدقسمت انسان کو شفا عطا فرمائیں۔"
مجمع نے دعا پڑھی اور پھر اس تیز آواز نے شروع کیا:
"مومنو، خود دیکھ لو! اس پر فالج گرا ہے او ریہ دس سال سے بے حس و حرکت پڑا ہے!"
خواجہ نصر الدین نے دھکم پیل کر کے مجمع میں اپنے لئے راستہ بنایا اور پنجوں پر کھڑے ہو کر ایک لمبا، سوکھا سا ملا دیکھا جس کی آنکھوں میں کمیں گی جھلک رہی تھی۔ اس کی داڑھی چھدری تھی۔ وہ چلا چلا کر بیماروں کی ایک ڈولی کی طرف انگلی سے اشارہ کر رہا تھا جس پر مفلوج آدمی پڑا تھا۔
"دیکھو، اے مسلمانو! دیکھو، یہ کیسا قابل رحم اور بدقسمت آدمی ہے! لیکن ایک ہفتے میں مقدس بہاالدین اس کو شفا بخشیں گے اور اس کو دوبارہ زندگی عطا فرمائیں گے!"
مفلوج آدمی پڑا تھا، اس کی آنکھیں بند تھیں اور ایک افسردہ اور قابل رحم تاثر اس کے چہرے پر تھا۔ خواجہ نے حیرت سے آہ ب ہری۔ وہ ہزاروں آدمیوں میں بھی یہ چیچک بھرا چہرہ اور چپٹی ناک پہنچا سکتے تھے۔ بظاہر یہ آدمی کافی دن سے مفلوج تھا کیونکہ سستی اور بے کاری سے وہ زیادہ موٹا ہو گیا تھا۔
اس دن سے جب بھی خواجہ نصر الدین اس مسجد کی طرف سے گزرتے وہ ہمیشہ ملا اور مفلوج کو وہاں ضرور پاتے جس کا چیچک دار چہرہ روز بروز زیادہ موٹا اور چکنا ہوتا جا رہا تھا۔
آخر کار مقدس شیخ کے عرس کا دن آیا۔ یہ پرانی روایت چلی آتی ہے کہ ان کی وفات مئی کے مہینے میں ٹھیک دوپہر کو ہوئی تھی اور حالانکہ دن بہت صاف تھا اور آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا تک نہ تھا لیکن ان کی موت کے وقت سورج سیاہ پڑ گیا اور زمین کانپنے لگی اور بہت سے گنہ گاروں کے مکانات مسمار ہو گئے جن میں یہ گنہ گار بھی دفن ہو گئے تھے۔ یہ تھی وہ کہانی جو ملا لوگ مسجدوں میں کہتے تھے اور مسلمانوں سے اپیل کرتے تھے کہ وہ شیخ کے مزار پر ضرور آئین اور ان کو خراج عقیدت پیش کریں تاکہ ان کا شمار منکروں میں نہ ہو اور ان کا حشر بھی ان گنہ گاروں جیسا نہ ہو۔
رات رہے سے ہی زائرین روانہ ہونا شروع ہو گئے اور سورج نکلتے نکلتے مقبرے کے چاروں طرف بڑے میدان میں زبردست مجمع ہو گیا اور بہت سے لوگ ابھی چلے آ رہے تھے۔ پرانے رواج کے مطابق سب ننگے پیر تھے۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو دور دراز سے آئے تھے۔ خصوصاً متقی اور پرہیز گار اور ایسے لوگ جنہوں نے سنگین گناہ کئے تھے اور بخشائش کے امیدوار تھے۔ شوہر اپنی بانجھ بیویوں کو لائے تھے، مائیں بیمار بچوں کو لئے تھیں، بڈھّے بیساکھیوں کے سہارے چل کر آئے تھے۔ تھوڑے فاصلے پر کوڑھیوں کا مجمع تھا جو آس لگائے مقبرے کے سفید گنبد کی طرف دیکھ رہے تھے۔
عبادت کافی دیر تک شروع نہیں ہوئی کیونکہ امیر کا انتظار تھا۔ مجمع تپتی ہوئی دوپہر میں ٹھسا ٹھس کھڑا تھا۔ کوئی بیٹھنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔ ان کی آنکھوں میں حریص اور گرسنہ شعلے تھے۔ دنیاوی مسرتوں پر ان کا عقیدہ اٹھ چکا تھا، آج وہ کسی معجزے کی توقع کرتے تھے اور ہر زور کی آواز پر چونک پڑتے تھے۔ شدید اشتیاق ناقابل برداشت ہو گیا تھا اور دو درویش تشنج میں مبتلا ہو کر دانتوں سے مٹی کھرچ رہے تھے، ان کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا۔ مجمع میں ہلچل تھی، ہر طرف عورتیں چیخ اور رو رہی تھیں۔ اچانک ہزاروں گلوں سے ایک غلغلہ بلند ہوا:
"امیر! امیر!"
مجمع کے درمیان راستہ بنانے کے لئے شاہی پہرے داروں نے ڈنڈوں سے کام لیا اور اس چوڑے راستے پر امیر ننگے پیر، سر جھکائے، استغراق کی حالت میں دنیا کے ہنگامے سے بے خبر اور بے نیاز زیارت کے لئے چلا جا رہا تھا۔ خدام تیزی کے ساتھ ادھر ادھر دوڑ کر اس کے پیچھے قالین لپیٹتے جاتے تھے اور پھر ان کو تیزی سے آگے لے جا کر بچھاتے تھے۔
اس نظارے کو دیکھ کر بہت سے لوگوں پر رقت طاری ہو رہی تھی اور ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ امیر اس مٹی کے چبوترے پر چڑھا جو مزار کے دامن میں تھا۔ جانماز اس کے سامنے بچھا دی گئی اور اپنے وزیروں کی مدد سے جو دونوں پہلوؤں سے اس کو سنبھالے تھے امیر اس پر گھٹنوں کے بل جھک گیا۔ سفید عباؤں میں ملبوس ملاؤں نے ایک نیم حلقہ سا بنا لیا اور اپنے ہاتھ گرمی سے سنولائے ہوئے آسمان کی طرف اٹھا کر دعا پڑہنا شروع کر دی۔
یہ عبادت ختم ہی نہیں ہو رہی تھی۔ بیچ بیچ میں وعظ ہوتے۔ خواجہ نصر الدین مجمع سے چپکے سے کھسک گئے اور اس الگ تھلگ چھوٹے سے گھر کی طرف چلے جہاں اندھے، لنگڑے اور صاحب فراش مریض تھے جن سے آج کے دن شفا کا وعدہ کیا گیا تھا۔ وہ اپنی باری کے منتظر تھے۔
اس مکان کے دروازے پٹوپٹ کھلے تھے۔ متجسس لوگ اندر جھانک کر دیکھتے اور آپس میں تبادلہ خیال کرتے۔ جو ملا یہاں ڈیوٹی پر تھے وہ چڑھاوے کے لئے بڑے بڑے تانبے کے طبق لئے کھڑے تھے۔ بڑا ملا کہہ رہا تھا:
"۔۔۔اور اس وقت سے تقدس مآب شیخ بہاالدین مقدس بخارا اور اس کے آفتاب زماں امیروں پر سدا کے لئے مستقل طور پر مہربان ہیں۔ اور ہر سال اس دن مقدس بہاالدین ہم کو، خدا کے حقیر بندوں کو معجزے دکھانے کی طاقت عطا فرماتے ہیں۔ یہ تمام اندھے، لنگڑے، آسیب زدہ اور معذور لوگ شفا پانے کے منتظر ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہم مقدس بہاالدین کی عنایت سے ان کو مصیبتوں سے نجات دلا سکیں گے۔"
ایسا معلوم ہوتا تھاجیسے ان باتوں کے جواب میں مکان سے رونے، چیخنے اور دانت کٹکٹانے کی آواز آ رہی ہے۔ اپنی آواز بلند کرتے ہوئے ملا نے بیان جاری رکھا:
"اے مومنو، دل کھول کر مسجدوں کی آرائش کے لئے دو، آپ کی خیرات خدا کے یہاں مقبول ہو گی۔"
خواجہ نصر الدین نے مکان کے اندر جھانک کر دیکھا۔ دروازے کے قریب چیچک رو موٹا نوکر ڈولی پر لیٹا ہوا تھا۔ دھندلکے میں اس کے پیچھے بہت سے لوگ بیساکھیوں کے سہارے کھڑے، پٹیوں میں لپٹے یا ڈولیوں پر پڑے تھے۔ اچانک مقبرے کی طرف سے بڑے ملا کی آواز گونجی جس نے ابھی وعظ ختم کیا تھا۔
"اندھے کو! اندھے کو میرے پاس لاؤ۔"
خواجہ نصر الدین کو راستے سے ڈھکیلتے ہوئے ملا امس بھرے تاریک مکان میں گھس گئے اور ایک فقیروں کی طرح چیتھڑوں لگے اندھے کو اپنے ساتھ باہر لائے۔ وہ ہاتھ پھیلا کر ٹٹولتا اور پتھروں پر ٹھوکریں کھاتا چل رہا تھا۔
اندھا بڑے ملا کے پاس پہنچا، اس کے سامنے منہ کے بل گر پڑا اور مقبرے کی چوکھٹ کو بوسہ دیا۔ بڑے ملا نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور آنکھ جھپکاتے وہ بینا ہو گیا۔
"میں دیکھ سکتا ہوں! میں دیکھ سکتا ہوں!" وہ زوروں سے کانپتی آواز میں چیخنے لگا "مقدس بہاالدین! میں دیکھ سکتا ہوں، دیکھ سکتا ہوں، ارے زبردست اور حیرت انگیز معجزہ ہے!"
عبادت کرنے والوں کے ایک بڑے مجمع نے اس کو گھیر لیا اور چاؤں چاؤں کرنے لگے۔ بہت سے لوگ اس کے قریب آ کر پوچھنے لگے:
"اچھا بتاؤ، میں نے کون سا ہاتھ اٹھایا ہے، دایاں یا بائیاں؟"
اس نے صحیح جواب دئے جس سے سب لوگ مطمئن ہو گئے کہ اس کو شفا ہوئی ہے۔
اب ملاؤں کی پوری فوج کی فوج تانبے کے طبق لیکر مجمع میں یہ چلاتی ہوئی گھس گئی:
"اے سچے مومنو، تم نے اپنی آنکھوں سے معجزہ دیکھ لیا۔ کچھ مسجدوں کی آرائش کے لئے دو!"
سب سے پہلے امیر نے مٹھی بھر اشرفیاں طبق میں پھینکیں۔ پھر وزیروں اور عمائدین کی باری آئی جنہوں نے ایک ایک اشرفی دی۔ اب مجمع نے بڑی فیاضی کے ساتھ چاندی اور تانبے کے سکوں کی بارش شروع کر دی۔ طبق جلد ہی بھر گئے اور ملاؤں کو انہیں تین بار بدلنا پڑا۔
جیسے ہی چندے کا سیلاب دھیما پڑا ایک لنگڑا آدمی مکان سے لایا گیا۔ وہ بھی مقبرے کی چوکھٹ چومتے ہی فوراً تندرست ہو گیا اور اپنی بیساکھیاں پھینک پیر اچھال اچھال کر ناچنے لگا۔ اور پھر ملا خالی تھالیاں لئے یہ پکارتے ہوئے آگے بڑھے "خیرات کیجئے، سچے مومنو!"
ایک سفید داڑھی والا ملا خواجہ نصر الدین کے پاس پہنچا جو اپنے خیالات میں ڈوبے تھے اور ان کی آنکھیں مریضوں والے مکان پر لگی تھیں۔
"اے سچے مومن، تو نے یہ زبردست معجزہ دیکھا ہے۔ خیرات کر، اللہ اس کا اجر دے گا!"
اس طرح زور سے بولتے ہوئے کہ ان کے قریب کے لوگ سن سکیں خواجہ نصر الدین نے جواب دیا "تم اس کو معجزہ کہہ کر مجھ سے پیسے اینٹھنا چاہتے ہو۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں اور دوسری بات یہ ہے ملا جی کہ میں بھی بہت بڑا بزرگ ہوں اور اس سے بڑا معجزہ دکھا سکتا ہوں!"
"تو مرتد ہے!" ملا نے غصہ سے کہا "مسلمانو، اس کی بات مت سنو، اس کے منہ میں شیطان بیٹھ گیا ہے!"
خواجہ نصر الدین نے مجمع کی طرف رخ کر کے کہا:
"ملا کو یہ یقین نہیں ہے کہ میں معجزہ دکھا سکتا ہوں۔ میں نے جو کچھ کہا ہے اس کا ثبوت دوں گا۔ اس مکان میں اندھے، لنگڑے، بیمار اور معذور جمع ہیں اور میں ان سب کو بلا چھوئے ہوئے اچھا کرنے کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ میں صرف دو لفظ کہوں گا اور بس وہ چنگے ہو جائیں گے۔ وہ ادھر ادھر پھیل جائیں گے اور اتنے تیز بھاگیں گے کہ صبا رفتار عرب گھوڑا بھی ان کو نہ پکڑ سکے گا۔"
مکان کی دیواریں پتلی تھیں اور جس مٹی کی وہ بنی ہوئی تھیں وہ کئی جگہوں پر کافی چٹخ گئی تھی۔ خواجہ نصر الدین نے ایک ایسی جگہ منتخب کر لی تھی جہاں دیوار میں کئی دراڑیں تھیں اور انہوں نے یہاں اپنے بازو سے اسے دھکا دیا۔ مٹی ٹوٹ گئی۔ تھوڑی سی لیکن پراسرار سرسراہٹ ہوئی۔ انہوں نے اور زور سے ڈھکیلا اور دیوار کا ایک بڑا حصہ دھڑام سے گر گیا۔ گری ہوئی تاریک جگہ سے زبردست گرد کا بادل اٹھا۔
"زلزلہ! بھاگو!" خواجہ نصر الدین زور سے چلائے۔ انہوں نے دیوار کا ایک اور حصہ گرا دیا۔
جھونپڑی کے اندر ایک لمحہ تو بالکل خاموشی رہی اور پھر ہنگامہ ہو گیا۔ چیچک رو مفلوج سب سے پہلے دروازے کی طرف معہ اپنی ڈولی کے بھاگا لیکن اس کی ڈولی دروازے میں پھنس گئی اور دوسروں کے لئے راستہ رک گیا۔ اندھے، لنگڑے اور معذور ایک دوسرے کو ڈھکیلنے، ہنگامہ کرنے اور چلانے لگے۔ جب خواجہ نصر الدین نے دیوار کا تیسرا حصہ گرا دیا تو مریضوں نے ایک زبردست ریلے سے چیچک رو آدمی، دروازہ اور اس کے چوکھٹ وغیرہ کو اکھاڑ پھینک دیا اور اپنی معذوری کو بھول کر چاروں طرف نکل بھاگے۔
مجمع غل مچا رہا تھا، سیٹیاں بجا رہا تھا، ہنس رہا تھا اور مذاق اڑا رہا تھا۔ خواجہ نصر الدین نے اس مجمع کی کاؤں کاؤں کے اوپر اپنی آواز بلند کی:
"مسلمانو! تم نے دیکھ لیا نا۔ میں نے یہ بات بالکل بجا کہی تھی کہ وہ چند الفاظ سے شفا یاب ہو سکتے ہیں!"
اب وعظوں سے کسی کو دلچسپی نہیں رہی۔ ہر طرف سے لوگ ادھر دوڑنے لگے۔ جب ان کو واقعہ معلوم ہوتا تو وہ خوب قہقہے لگاتے اور قصہ دوسروں سے بیان کرتے۔ تھوڑی ہی دیر میں معتقدین کے پورے مجمع میں مکان والے واقعہ کی خبر گشت کر گئی اور جب بڑے ملا نے اپنا ہاتھ اٹھا کر خاموشی کے لئے کہا تو مجمع نے اس کا جواب لعنت ملامت، شور و غل اور سیٹیوں سے دیا۔
اور پھر جیسے اس یادگار دن بازار میں ہوا تھا مجمع میں کھسر پھسر اور ہنگامہ اور چرچا ہونے لگا:
"خواجہ نصر الدین! واپس آ گئے ہیں وہ! وہ یہاں ہیں، ہمارے خواجہ نصر الدین!"
آوازوں اور فقروں سے گھبرا کر ملا لوگ اپنے طبق چھوڑ کر مجمع سے بھاگ کھڑے ہوئے۔
اس وقت تک خواجہ نصر الدین دور پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے اپنا رنگین عمامہ اور مصنوعی داڑھی قبا میں چھپا لی کیونکہ اب ان کو جاسوسوں سے مڈ بھیڑ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں رہتا جو مقبرے کے اطراف میں مصروف تھے۔
بہرحال، وہ یہ نہ دیکھ سکے کہ جعفر سودخور گھروں کے کناروں اور سڑک کے درختوں کی آڑ لے کر ان کا پیچھا کر رہا ہے۔
ایک سنسان گلی میں خواجہ نصر الدین باڑ کے پاس گئے اور ہاتھوں کے بل اوپر اٹھ کر ہلکے سے کھنکھارے۔ فوراً ہی ہلکے قدموں کی چاپ سنائی دی اور زنانی آواز آئی:
"تم ہو، پیارے؟"
درخت کے پچھے سے جہاں سود خور چھپا ہوا تھا اس کو حسین گل جان کی آواز پہچاننے میں کوئی دشواری نہ ہوئی۔ پھر اس نے کھسر پھسر، ہلکی ہنسی اور بوسوں کی آواز سنی۔
"اچھا تو تم نے اس کو مجھ سے اپنے لئے چھینا تھا!" سود خور نے بہت جل کر سوچا۔
گل جان سے رخصت ہو کر خواجہ نصر الدین اتنی تیزی سے نکل گئے کہ سود خور ان کا پیچھا نہ کر سکا اور تنگ گلیوں کی بھول بھلیوں میں ان کا نشان کھو بیٹھا۔
"اچھا اب تو اس کی گرفتاری کا انعام مجھے ملنے سے رہا" سود خور نے پریشان ہو کر سوچا "لیکن کوئی بات نہیں! خواجہ نصر الدین ہوشیار رہنا، میں تم سے اس کے لئے عبرتناک انتقام لوں گا۔"

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers