’’ یہ عجیب واقعات ہیں، کچھ تو میري موجودگی ہی میں ہوئے اور کچھ مجھ سے
معتبر أشخاص نے بیان کئے۔‘‘
عثمان ابن منقض ’’ کتاب پند و نصيحت‘‘
(۱۶)
بہت ہی قدیم زمانے سے بخارا کے کمہار شہر کے مشرقی پھاٹک کے قریب ، ایک بڑے مٹی کے ٹیلے کے اطراف میں بس گئے تھے اور ان کے لئے اس جگہ سے اور کوئی بہتر جگہ ہو بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ چکنی مٹی قریب تھی اور ایک نالی سے جو شہر کی فصیل کے برابر چلی گئی تھی پانی بھی افراط سے مل جاتا تھا۔ کمہاروں کے داداؤں ، پر داداؤں اور نگڑ داداؤں نے اس ٹیلے کو آدھا کر دیا تھا ۔ وہ اپنے گھر مٹی سے بناتے تھے، برتن مٹی سے بناتے تھے اور پھر خود بھی اعزا و اقربا کو ماتم کناں چھوڑ کر اسی مٹی میں آرام کرنے چلے جاتے تھے ۔ تفصیل سے پڑھئے
اور اس کے برسہا برس بعد متعدد بار ایسا ہوتا رہا کہ کسی کمہار نے کوئی برتن یا صراحی بنائی ، دھوپ میں سکھائی اور آگ میں پکائی اور اس کی صاف اور زور دار کھنکھناہٹ پر متحیر رہ گیا لیکن اسے کبھی یہ شبہ نہیں ہوا کہ کسی بہت زمانے پہلے کے بزرگ نے ، جو اپنی نسلوں کی بہبودی اور اپنے برتنوں کی بکری کی بڑی فکر رکھتا تھا ، اس مٹی کو اپنی خاک کے ایک ذرے سے پاکیزہ بناتا ہے تاکہ اس میں خالص چاندی جیسی کھنک پیدا ہو سکے۔
یہاں ایک زبردست اور پرانے چنار کے درخت کے سائے میں بالک نالی کے کنارے کمہار نیاز کا گھر تھا۔ ہوا میں پتیوں کی سرسرا ہٹ ہوتی تھی ، پانی قلقل کرتا بہتا تھا اور باغیچے میں صبح سے رات تک حسین گل جان کے نغمے گونجتے تھے
خواجہ نصر الدین نے نیاز کے گھر میں رہائش اختیار کرنے سے انکار کر دیا۔
’’ نہیں ، نیاز‘‘ انہوں نے کہا’’ میں تمھارے گھر میں گرفتار ہو سکتا ہوں۔ میں یہاں سے قریب ہی کسی محفوظ جگہ میں رات کو رہوں گا جو میں نے تلاش کر لی ہے۔ دن کو آ کر میں تم کو کام میں مدد کر دوں گا۔‘‘
اور انہوں نے یہی کیا ۔ ہر صبح سورج نکلنے سے پہلے وہ نیاز کے یہاں پہنچ جاتے تھے اور چاک پر بڈھّے کمہار کے ساتھ کام کرنے لگتے تھے۔ دنیا میں کوئی ایسا پیشہ نہ تھا جس سے خواجہ نصر الدین واقف نہ ہوں۔ کمہار کا پیشہ اچھی طرح جانتے تھے اور ان کی بنائی ہوئی صراحیوں میں چکنا پن اور گمک ہوتی تھی ۔ ان میں انتہائی گرمی کے موسم میں بھی پانی برف کی طرح ٹھنڈا رہتا تھا ۔ پہلے بڈھا کمہار جس کی نگاہ چند برسوں سے کمزور پڑنے لگی تھی ، مشکل سے روزانہ پانچ چھ گھڑے بنا پاتا تھا لیکن اب اس کے یہاں تیس چالیس اور کبھی کبھی پچاس گھڑوں اور صراحیوں کی لمبی قطار دھوپ میں سوکھتی نظر آتی۔ بازار کے دن جب بڈھا گھر لوٹتا تو اس کی تھیلی بھری ہوتی اور رات کو پلاؤ کی اشتہا انگیز مہک اس کے گھر سے ساری سڑک پر پھیل جاتی۔ پڑوسی بڈھّے کی خوشحالی پر خوش ہوتے اور کہتے:
’’ آخر کار نیاز کے دن پھرے اور غریبی نے اس کا پنڈ چھوڑا ، خدا کرے یہ ہمیشہ کے لئے ہو !‘‘
’’کہتے ہیں کہ اس نے ایک اور کاریگر ملازم رکھا ہے جو لا جواب کسگر ہے۔‘‘
’’ ہاں میں نے بھی یہ سنا ہے۔ ایک دن میں نیاز کے یہاں گیا تاکہ اس کے کاریگر اٹھا اور چلا گیا اور پھر سامنے نہیں آیا۔‘‘
’’ ہاں بڈھا اپنے کاریگر کو چھپاتا ہے۔ وہ ڈرتا ہو گا کہ ہم کہیں اس کے ماہر کاریگر کو پھسلا نہ لیں۔ عجیب آدمی ہے! جیسے ہم سب کمہار بالکل بے حیا ہیں اور بڈھّے کی قسمت خراب کرنے پر تلے ہیں جو ابھی تو جاگی ہے۔‘‘
اس طرح پڑوسیوں نے معاملے کو آپس میں نبٹ لیا اور کسی کے دماغ میں یہ بات نہ آئی کہ بڈھّے نیاز کا کاریگر خود خواجہ نصر الدین تھے ۔ سب کو قطعی یقین تھا خواجہ نصر الدین بہت دن ہوئے بخارا چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ انہوں نے خود یہ افواہ پھیلائی تھی کہ جاسوس دھوکے میں آ جائیں اور تلاش و جستجو میں ڈھیل ڈال دیں ۔ اور ان کا مقصد حاصل ہو گیا تھا۔ اس کا ثبوت اس بات سے ملا کہ دس دن کے بعد شہر کے تمام پھاٹکوں سے مزید چوکیاں ہٹا لی گئیں اور رات کو گشت کرنے والے پہرے دار اب بخارا کے باشندوں کو مشعلوں کی روشنی اور ہتھیاروں کی جھنکار سے پریشان نہیں کرتے تھے۔
ایک دن بڈھا نیاز خواجہ نصر الدین کی طرف ٹکٹکی لگائے دیکھتا اور کراہتا رہا اور پھر بولا:
’’ خواجہ نصر الدین تم نے مجھے غلامی سے اور میری بیٹی کو بے عزتی سے بچایا، تم میرے ساتھ کام کرتے ہو اور مجھ سے دس گنا۔ یہ رہے ساڑہے تین سو تانگے خالص منافع کے ۔ یہ مجھ کو ان برتنوں کی بِکری سے ملے ہیں جب سے تم نے میری مدد کرنی شروع کی۔ یہ رقم لے لو۔ یہ تو تمھارا حق ہے۔‘‘
خواجہ نصر الدین اپنا چاک روک کر بڈھّے کی طرف حیرت سے دیکھنے لگے۔
’’نیاز میاں، تمھارا دماغ کچھ چل گیا ہے جو ایسی عجیب باتیں کرتے ہو۔ تم مالک ہو اور میں تمھارا کاریگر۔ اگر تم مجھے منافع کا دسواں حصہ یعنی 35 تانگے دے دو تو میرے لئے بہت کافی ہوں گے۔‘‘
نیاز کی پرانی تھیلی لے کر انہوں نے 35 تانگے گنے اور ان کو اپنی جیب میں رکھا اور باقی بڈھّے کو واپس کرنے لگا ۔ لیکن نیاز نے رقم لینے سے قطعی انکار کر دیا۔
’’یہ ٹھیک نہیں ہے ، خواجہ نصر الدین، یہ رقم تمھاری ہے ۔ اگر ساری نہیں لیتے تو آدھی تو لے لو۔‘‘
خواجہ نصر الدین کو غصہ آگیا۔
’’نیاز ، اپنی تھیلی ہٹاؤ، دنیا میں جو ریت چلی آتی ہے اس کو نہ بگاڑو ‘‘
’’اگر سب مالک اپنے کاریگروں سے آدھے کا ساجھا کرنے لگے تو کیا ہو گا؟ اس دینا میں نہ تو مالک رہیں گے اور نہ نوکر ، نہ امیر رہیں گے ، نہ غریب، نہ پہرے دار رہیں گے اور نہ امیر رہے گا۔ ذرا سوچو تو قدرت اس گڑبڑ کو کیسے برداشت کر سکتی ہے؟ ہم پر فوراً ایک اور طوفان نوح نازل ہو جائے گا! لو، اپنی تھیلی اچھی طرح چھپا دو نہیں تو تمھارے پاگل پن کے خیالات انسانیت پر خدا کا قہر نازل کر دیں گے اور ساری بنی نوعِ انسان تباہ ہو کر رہ جائے گی۔‘‘
یہ کہہ کر خواجہ نصر الدین نے پھر اپنا چاک چالو کر دیا۔
’’ یہ بہترین گھڑا ہو گا‘‘ انہوں نے ہاتھوں سے نم مٹی کو تھپ تھپاتے ہوئے کہا ’’یہ ہمارے امیر کے سر کی طرح بجتا ہے۔ میں یہ گھڑا لیکر محل جاؤں گا۔ ان کو اسے رکھنا چاہئے، ممکن ہے کہ امیر کا سر غائب ہو جائے۔‘‘
’’ دیکھو، خواجہ نصر الدین ، کہیں تمھارا سر ایسی باتوں کی وجہ سے کسی دن نہ غائب ہو جائے۔‘‘
’’ارے، تمھارے خیال میں خواجہ نصر الدین کا سر غائب کرنا ایسا آسان ہے؟‘‘
ہوں میں خواجہ نصر الدین، آزاد سدا کا
یہ جھوٹ نہیں، میں نہ مرا ہوں نہ مروں گا
تیشے کو تیز کر کے کہتا ہے مجھے امیر
لٹیرا، فتنہ عالم، زمانے کا شریر
ہوں میں خواجہ نصر الدین، آزاد سدا کا
یہ جھوٹ نہیں، میں نہ مرا ہوں نہ مروں گا
میں زندہ رہ کر گاؤں گا
روشن دنیا میں موج اڑاؤں گا
دنیا بھر میں نعرہ یہ لگاؤں گا
"مردہ باد امیر، مردہ باد!"
ہاں سلطان بھی کہتا ہے میرا سر کٹوانے کو
اور شاہ نے فرمایا مجھ کو پھانسی پر لٹکانے کو
خیوا میں ہے تیار چتا میرے جلانے کو
ہوں میں خواجہ نصر الدین، آزاد سدا کا
یہ جھوٹ نہیں، میں نہ مرا ہوں نہ مروں گا
غربت کا مارا، آوارہ ہوں ضرور
پر فکر پھٹکتی نہیں نزدیک و دور
جگت کی آنکھ کا تارا
قسمت کا راج دلارا
ہوں گے سلطان و خان و امیر
سب کو جوتی کی نوک پہ مارا
ہوں میں خواجہ نصر الدین، آزاد سدا کا
یہ جھوٹ نہیں، میں نہ مرا ہوں نہ مروں گا
نیاز کی پیٹھ کے پیچھے گل جان کے ہنستے ہوئے چہرے کی جھلک انگور کی بیلوں میں دکھائی دی۔ خواجہ نصر الدین کا گیت بیچ میں رک گیا اور گل جان سے رمز و کنائے ہونے لگے۔
"تم کیا دیکھ رہے ہو؟" نیاز نے پوچھا "ادھر کیا دیکھ رہے ہو؟"
"میں جنت کی چڑیا دیکھ رہا ہوں، دنیا کی حسین ترین چڑیا!"
بڈھا کراھتے ہوئے پچھے مڑا لیکن گل جان ہری بھری بیلوں کے درمیان غائب ہو چکی تھی اور صرف دور سے نقرئی ہنسی کی جھنکار سنائی دے رہی تھی۔ بڑی دیر تک بڈھا تیز دھوپ کی روشنی سے بچنے کے لئے اپنی کمزور آنکھوں پر ہاتھ کا سایہ کر کے ہر طرف گھورتا رہا لیکن اسے صرف ایک گوریا دکھائی دی جو ایک شاخ سے دوسری شاخ پر پھدک رہی تھی۔
"ہوش کی دوا کرو، خواجہ نصر الدین، کیسی جنت کی چڑیا، یہ تو گوریا ہے!"
خواجہ نصر الدین نے دل کھول کر کر ٹھٹھا لگایا۔ بےچارہ نیاز اس خوشی کی وجہ نہ سمجھکر سر ہلاتا رہا۔
رات کو کھانے کے بعد جب خواجہ نصر الدین چلے گئے تو نیاز چھت پر ہلکی ٹھنڈی ہوا میں لیٹ گیا۔ جلد ہی خراٹے لینے لگا۔ اب نیچی باڑ کے پیچھے سے کھنکھارنے کی آواز آئی۔ خواجہ نصر الدین لوٹ آئے تھے۔
"سو گئے ہیں" گل جان نے چپکے سے کہا۔
ایک چھلانگ میں وہ باڑ کے اس پار تھے۔
وہ تالاب کے کنارے حور کے درختوں کے سائے میں بیٹھ گئے۔ ان کو لگا جیسے درخت اپنے لمبے سبز لباسوں میں لیتے ہلکے ہلکے سے اونگھ رہے ہیں۔ صاف آسمان پر چاند چمک رہا تھا اور چاندنی نے ہر چیز کو پراسرار نیلگوں بنا دیا تھا۔ بہتا ہوا پانی گنگنا رہا تھا اور روشنی کی کرنوں سے کہیں کہیں چمک اٹھتا تھا اور پھر سائے میں غائب ہو جاتا تھا۔
گل جان بھرپور چاندنی میں خواجہ نصر الدین کے ساتھ کھڑی تھی۔ وہ خود ماہ کامل کی طرح نورانی تھی۔ نازک اور لچکیلی، اپنی زلفوں کے پیچ و خم میں لپٹی ہوئی۔ خواجہ نے چپکے سے کہا:
"میں تجھے پیار کرتا ہوں، میری ملکہ، صرف تجھ سے پہلی مرتبہ میں نے پیار کیا ہے، میں تیرا غلام ہوں، تیرے آنکھ کے اشارے پر چلنے کے لئے تیار ہوں۔میں ساری زندگی تیرا انتظار کرتا رہا ہوں اور اب میں نے تجھے ڈھونڈ نکالا ہے۔ میں تجھے کبھی دل سے نہیں نکلا سکتا۔ میری زندگی تیرے بغیر ممکن نہیں ہے!"
"مجھے یقین ہے کہ تم یہ بات پہلی بار نہیں کہہ رہے ہو" گل جان نے حسد آمیز لہجے میں کہا۔
"میں؟" خواجہ نے ناراضگی سے کہا " ارے گل جان! تو نے یہ بات کیسے کہی؟"
خواجہ کی باتوں میں اتنا خلوص تھا کہ گل جان نے ان پر اعتبار کر لیا۔ وہ نرم پڑ گئی اور خواجہ کے پاس مٹی کے چبوترے پر بیٹھ گئی۔ انہوں نے اس کا ایسا طویل بوسہ لیا کہ وہ ہانپ گئی۔
"سنو" گل جان نے ذرا رک کر کہا "ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ جس لڑکی کو چومتے ہیں اسے کوئی تحفہ دیتے ہیں اور تم ہو کہ مجھے ایک ہفتے سے زیادہ سے چوم چاٹ رہے ہو لیکن ایک تاگہ تک نہیں دیا۔"
"صرف اس وجہ سے کہ میرے پاس پیسے نہیں تھے" خواجہ نصر الدین نے جواب دیا "لیکن آج تمھارے باپ نے مجھے تنخواہ دی ہے اور کل میں تمھارے لئے ایک اچھا سا تحفہ لاؤں گا۔ تمھیں کیا پسند ہے۔ ہار یا رومال یا پھر یاقوت کی انگوٹھی؟"
"اس کی کوئی بات نہیں" گل جان نے چپکے سے کہا "اس کی کوئی بات نہیں ہے، پیارے، مجھے تو تمھارے تحفے سے مطلب ہے۔ مجھے تو تم سے اسی دن محبت ہو گئی تھی جب تم بازار میں ہمارے پاس آئے تھے اور جب تم نے اس پاجی سود خور کو بھگا دیا تھا تو یہ محبت اور بھی زیادہ ہو گئی۔"
نالی میں نیلگوں پانی گنگناتا رہا اور صاف آسمان پر روشن ستارے جھلملاتے رہے۔ خواجہ نصر الدین لڑکی سے اور ٹھس کر بیٹھ گئے اور اپنی ہتھیلی اس کے گرم سینے پر رکھ دی۔ ان کے اوپر ایک مدہوشی کا عالم طاری ہو گیا کہ اچانک ان کو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے ان کی آنکھوں سے چنگاریاں چھوٹ رہی ہیں۔ ان کا گال ایک زور کے تھپڑ سے جل اٹھا۔ انہوں نے پیچھے کھسک کر اپنے کو ہاتھ آڑا کر کے بچایا۔ گل جان غصے سے اٹھ کر کھڑی ہوئی۔
"میرے خیال میں میں نے ایک تھپڑ کی آواز سنی ہے" خواجہ نصر الدین نے سہم کر کہا۔ "اگر زبان سے کہنے سے کام چل جائے تو بھلا مار پیٹ کی کیا ضرورت ہے؟"
"زبان سے!" گل جان نے بات کاٹتے ہوئے کہا "یہی بڑی بری بات ہے کہ میں نے شرم و حیا کو طاق پر رکھ کر تمھارے سامنے نقاب اتار دی۔ پھر تمھارے لمبے ہاتھ وہاں تک پھیلنے لگے جہاں تک نہ چاہئے۔"
"اور مہربانی کر کے یہ تو بتاؤ کہ یہ فیصلہ کس نے کیا ہے کہ کہاں تک ہاتھوں کو پھیلانا چاہئے اور کہاں تک نہیں؟" خواجہ نصر الدین نے حاضر جوابی سے کہا لیکن وہ کافی گھبرائے ہوئے تھے "اگر تم نے دانش مند ابن طفیل کی کتابیں پڑھی ہوتیں۔۔۔"
"شکر ہے خدا کا" گل جان نے غصے میں بیچ میں بولتے ہوئے کہا "شکر ہے خدا کہ میں نے ایسی آوارگی کی کتابیں نہیں پڑھیں ہیں۔ میں اپنی عصمت کی حفاظت اسی طرح کرتی ہوں جیسی ایک اچھی لڑکی کو کرنی چاہئے۔"
وہ اس کی طرف سے مڑ کر چلی گئی۔ زینے اس کے ہلکے قدموں تلے چرچرائے اور جلد ہی بالکونی کی جھلملیوں سے روشنی چمکنے لگی۔
"میں نے اس کے جذبات کو ٹھیس لگا دی" خواجہ نصر الدین نے سوچا "میں کیسا احمق ہوں۔ خیر کوئی بات نہیں۔ مجھے یہ تو پتہ چل گیا کہ وہ کیسے مزاج کی ہے۔ اگر وہ میرے گال پر چانٹا رسید کر سکتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ دوسرے کے بھی تھپڑ مارسکتی ہے اور وہ وفادار بیوی ہو گی۔ ہاں، اگر شادی کے بعد وہ دوسرے مردوں کے ساتھ اپنے تھپڑوں سے ایسے ہی فیاضی برتے تو میں شادی سے پہلے اس کے سیکڑوں چانٹے سہنے کو تیار ہوں۔"
وہ پنجوں کے بل بالکونی تک گئے اور دھیمے سے پکارا:
"گل جان!"
کوئی جواب نہیں ملا۔
"گل جان!"
مہک، تاریکی اور خاموشی۔ خواجہ نصر الدین افسردہ ہو گئے۔ انہوں نے ایسی مدھم آواز میں گانا شروع کر دیا کہ بڑے میاں کی نیند نہ کھلے:
چرا لے گئیں دل تیری حسین پلکیں
گراتی ہو اپنی نظروں سے
اور چراتی ہو اپنی پلکوں سے
اور ستم پر ستم تو دیکھو
ہمیں سے معاوضے کی طالب
اچھا، کچھ پیار ہو جائے
آؤ، بوس و کنار ہو جائے
لیکن ان کا تلخ شربت
بھڑکاتا ہے شعلہ الفت
در و بام بند کئے مجھ پر
زندگی حرام کی مجھ پر
اب نیند کہاں سے لاؤں
بتاؤ، چین کہاں سے پاؤں
تیری اک نگاہ کی آرزو
تیر بے پناہ کی آرزو
تیری زلف مشک بو کا شیدائی
تیری گیسوئے عنبریں کا سودائی
اس طرح وہ گاتے رہے اور حالانکہ نہ تو گل جان آئی اور نہ اس نے کوئی جواب دیا لیکن خواجہ جانتے تھے کہ وہ توجہ سے سن رہی ہے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ایسے گیت سے ہر عورت ضرور متاثر ہو گی اور ان کا خیال ٹھیک ہی تھا۔ کواڑ کا پٹ تھوڑا سا کھلا۔
"آ جاؤ" گل جان نے چپکے سے کہا "ذرا چپکے سے آنا، کہیں ابا کی آنکھ نہ کھل جائے۔"
وہ زینوں پر چڑھ گئے اور اب اس کے پاس بیٹھے تھے۔ چربی سے بھرے ہوئے چراغ کی لو صبح تک لہراتی اور جلتی رہی۔ وہ باتیں کرتے رہے لیکن ان کا دل نہیں بھرا۔ مختصر یہ کہ سب کچھ وہی ہوا جیسا کہ ہونا چاہئے اور جیسا کہ ابو محمد علی ابن حزم نے اپنی کتاب "قمری کے ہار" کے محبت کی فطرت والے باب میں بیان کیا ہے۔
"محبت، اللہ اس کو سلامت رکھے، ایک کھیل کی طرح شروع ہوتی ہے لیکن بہت سنگین معاملے پر ختم ہوتی ہے۔ وہ اتنی اعلیٰ خوبیوں کی حامل ہے کہ ان کا بیان امکان سے باہر ہے اور اس کے اصل جوہر کو سمجہنا مشکل ہے۔ جہاں تک اس کا سوا ہے کہ محبت زیادہ تر حسن ظاہر کی وجہ سے کیوں ہوتی ہے تو اس کا سمجہنا مشکل نہیں ہے کیونکہ روح خود حسین ہے اور بے عیب شکل و صورت کی طرف کھینچتی ہے۔ ایسی شکل کو دیکھ کر روح اس کا جائزہ لیتی ہے اور اگر سطح سے نیچے بھی کوئی ایسی چیز نظر آتی ہے جو اس سے یگانگت رکھتی ہے تو سنجوگ ہو جاتا ہے اور پھر سچی محبت جنم لیتی ہے۔ واقعی، ظاہری شکل و صورت حیرت انگیز طریقے سے روح کے دور افتادہ ذرات کو بھی متحد کر دیتی ہے!"

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers