’’کیا ہوا مولانا ، تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ امیر نے گھبرا کر کہا ۔ ’’بختیار دوا علاج کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور وہ کچھ ایسا ہوشیار بھی نہیں ہے جیسا کہ میں نے تم سے اسی وقت کہا تھا جب تم کو وزیر اعظم کا عہدہ عطا کرنے کی تجویز کی تھی۔‘‘
وزیر اعظم کے جسم میں ہلکی سی جھرجھری دوڑ گئی اور انہوں نے زہر آلود نگاہوں سے خواجہ نصر الدین کو دیکھا۔
’’جاؤ دوا تیار کرو‘‘ امیر نے کہا ’’لیکن پانچ دن بہت ہوئے مولانا، کیا اس سے جلدی نہیں تیار کر سکتے؟ ہم چاہتے ہیں کہ تم جلد از جلد اپنا عہدہ سنبھال لو۔‘‘
’’شہنشاہ معظم، میں خود بھی مشتاق ہوں!‘‘ خواجہ نصر الدین نے کہا ’’میں جلد از جلد دوا تیار کرنے کی کوشش کروں گا۔‘‘ تفصیل سے پڑھئے
ﺍﭘﺮﯾﻞ ﻓﻮﻝ ﻣﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﻮ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﺍﻏﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﺍﻧﺪﮬﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ،ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﻧﮩﺎﯾﺖﮨﯽ
ﺟﻮﺵ ﻭﺧﺮﻭﺵ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻨﺎﺗﮯﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯿﻮﮞﭙﺮ ﻓﺨﺮﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﻔﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﮔﺮﻣﺎﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺁﺝ ﺍﭘﺮﯾﻞ ﻓﻮﻝ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻓﺘﻨﮧ ﺍﻣﺖ ﻣﺴﻠﻤﮧ ﮐﯽ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﺴﻞ ﮐﮯﺍﺧﻼﻕ ﮐﯽ ﭘﺎﻣﺎﻟﯽ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻦ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﻭﮦ ﯾﮩﻮﺩ ﻭﻧﺼﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻝ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﻭﺍﻗﺮﺑﺎﺀ ﮐﻮ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻨﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﭘﺮﯾﻞ ﻓﻮﻝ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺀ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﺫﯾﻞ ﮐﯽ ﭼﻨﺪ ﺣﮑﺎﯾﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ،
ﮔﻮ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻗﺼﺺ ﮐﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﯽ ﻣﮕﺮﮨﻤﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯﮔﺎ ﮐﮧ ﺑﺤﯿﺜﯿﺖ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻢ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﮑﺎﯾﺖ ﻣﺒﻨﯽ ﺑﺮ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻗﺪﺭ ﻗﺮﯾﺐ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﺮﯾﻞ ﻓﻮﻝ ﻣﻨﺎﻧﺎ ﮔﻮﯾﺎ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻃﻤﺎﻧﭽﮧ ﺭﺳﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﺘﺮﺍﺩﻑ ﮨﮯ۔  تفصیل سے پڑھئے

بہت سے رسم و رواج ایسے ہیں جن کا ہماری تہذیب و ثقافت سے کوئی تعلق نہیں۔ ترقی کا دارومدار اس پرہے اور نہ ہی اخلاقی لحاظ سے ان کی کوئی تُک بنتی ہے۔ جیسے ویلنٹائن ڈے، بسنت اور اپریل فول۔۔۔۔۔۔ ان میں سے آپ کسی کے بھی پس منظر میں چلے جائیں حیران اور ششدر رہ جائیں گے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ! اپریل فول (April Fool) کس واقعے کی یاد میں منایا جاتا ہے؟ اس کی تاریخ اور پس منظر سے آپ حواس باختہ ہوجائیں گے۔۔۔۔۔۔ مختصر ہے کہ اسپین پر عیسائیوں نے قبضہ کے بعد مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہادیں۔ قتل وغارت سے تھک کر مسلمانوں کا جلدازجلد خاتمہ کرنے کے لیے بادشاہ فرڈی نینڈ نے شاطرانہ چال چلتے ہوئے اعلان کروایا کہ یہاں مسلمانوں کی جان محفوظ ہے اور نہ ہی مال۔ اس لیے ہم نے انہیں ایک اور اسلامی ملک میں بسانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جو مسلمان وہاں جانا چاہتے ہیں حکومت انہیں بذریعہ بحری جہاز بھجوادے گی۔ یہ سن کر لاتعداد مسلمان جہاز پر سوار ہوگئے۔ سمندر کے بیچ جاکر فرڈی نینڈ کے گماشتوں نے جہاز میں سوراخ کردیا اور خود حفاظتی کشتیوں کے ذریعے بچ نکلے۔ چشمِ زدن میں پورا جہاز مسافروں سمیت غرق ہوگیا۔ اس پر عیسائی دنیا بڑی خوش ہوئی اور مسلمانوں کو ''بے وقوف'' بنانے پر بادشاہ کو زبردست داد دی۔ اس روز یکم اپریل تھا۔ فرڈی نینڈ کی شرارت اور مسلمانوں کو ڈبودینے کی یاد میں مغربی دنیا میں یکم اپریل کو اپریل فول منایا جاتا ہے۔
اپریل فول والی رسم کی وجہ سے ہر سال ہزاروں لوگ تکلیف اور پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں اور بعض تو اپنی جان سے بھی ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں۔ گزشتہ سال کے دو چار واقعات ملاحظہ فرمائیں جو کہ صرف ''اپریل فول'' کی وجہ سے پیش آئے ہیں۔
یہ یکم اپریل کی ایک نیم گرم سہ پہر کا ذکر ہے کہ خالد کو اس کے کسی دوست نے فون کرکے ''فول'' (بے وقوف) بنایا کہ آپ جلدی گھر آئیں کیونکہ گھر میں ڈکیتی کی واردات ہورہی ہے۔ خالد نے فون ریسیو کرنے کے بعد آؤ دیکھا نہ تاؤ، بس ''15'' ڈائل کرکے پولیس کو اطلاع دی کہ فلاں جگہ میرے گھر میں ڈاکو سامان لوٹ رہے ہیں، آپ سے مدد کی فوری درخواست ہے۔ جب چند ہی منٹ بعد خالد پولیس کے ہمراہ اپنے گھر پہنچا تو ان کے گھر والے بڑے آرام سے شام کی چائے مع لوازمات نوش فرمارہے تھے۔ اس نے فوراً اپنے دوست کو فون کیا تو دوسری طرف سے اس کے دوست نے فون ریسیو کرتے ہوئے کہا: ''اپریل فول۔''
نواسی نے اپنی نانی کو فون کرکے بتایا: ''امی جان کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے، شدید چوٹیں آئیں ہیں۔'' نانی بے چاری غم کی ماری دہلی کالونی سے گلشن آتے ہوئے پورے راستے میں خشک ہونٹوں سے اپنی پیاری بیٹی کی صحت کے لیے دعائیں کرتی ہوئی جب گھر پہنچی تو وہ واشنگ مشین میں کپڑے دھورہی تھی۔ نانی کو دیکھ کر نواسی کے منہ سے بے ساختہ نکلا: ''اپریل فول۔''
حافظ جہانزیب کے گھر ان کے ایک دوست نے مٹھائی کا ڈبہ یہ کہہ کر بھیجا کہ یہ آپ کے لیے ہدیہ ہے۔ جہانزیب نے اس کو قبول کرلیا۔ اتفاق سے دوسرے دن جہانزیب کے ایک استاذ تشریف لائے تو خاطر تواضع کرنے کے لیے مٹھائی کا ڈبہ اپنے محترم استاذ کے سامنے رکھ کربڑے احترام سے عرض کیا: ''آپ مٹھائی لیجیے۔'' یہ کہہ کر وہ چائے لینے کے لیے پلٹا۔ جب استاذ نے ڈبہ کھول کر مٹھائی کا پیس اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو ڈبے کے اندر کیلے کے چھلکے، گندی تھیلیاں، گارا اور پتھر تھے۔ جہانزیب چائے لے کر آیا تو اس کے محترم استاذ غصے سے جاچکے تھے اور ڈبے میں یہ ''فول'' بنانے والی اشیا موجود تھیں۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کچھ کیا ہوا۔ اس نے وہ ڈبہ اُٹھایا اور اپنے دوست کی طرف چل پڑا۔ جب اس کے پاس پہنچا تو یکدم اس نے کہا: ''اپریل فول۔'' جہانزیب چونکہ اس ''اپریل فول'' والے بےہودہ اور تکلیف دہ مذاق سے ناآشنا تھا، اس لیے وہ غصے سے چراغ پا ہورہا تھا۔ اس نے جہانزیب کو بہت ہنسانے کی کوشش کی، لیکن جہانزیب اپنے محترم استاذ کی ناراضی کی وجہ سے سخت نالاں تھا۔''
حمزہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ حسبِ معمول وہ یکم اپریل کو بھی اسکول گیا۔ دو بجے کے قریب حمزہ کے کزن نے اس کے گھر فون کرکے بتایا کہ حمزہ کو اسکول سے واپس آتے ہوئے اغوا کرلیا گیا ہے۔ جب اس کے والد کے کان میں یہ الفاظ پڑے تو ان کو دل کا اٹیک ہوگیا۔ پانچ منٹ کے بعد حمزہ کے کزن نے دوبارہ فون کرکے کہا: ''اپریل فول۔''
یہ چند ایک ریورتاژ ہیں جو بطورِ نمونہ پیش کی گئیں۔ نجانے اس جیسے کتنے واقعات ہیں جس کا سبب صرف جھوٹ اور جھوٹا مذاق ہے، جس کے ذریعے سادہ لوح افراد کے لیے جدید تعلیم اور مغربی کلچرل کے دلدادہ نوجوان تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شریعت کے اعتبار سے بھی ایسا مذاق ممنوع ہے کیونکہ جھوٹ، دھوکا دہی، دوسروں کو تکلیف دینا، کسی کو بے وقوف بنانا، کسی کا مذاق اُڑانا حرام ہے۔ قرآن پاک کی سورۃ حجرات میں آتا ہے: ''اے ایمان والو! کسی کا مذاق نہ اُڑاؤ ، ممکن ہے وہ تم سے اچھا ہو۔''
ہمیں تہذیبی اور اخلاقی لحاظ سے پوری طرح آزادانہ فیصلہ کرلینا چاہیے کہ کیا یکم اپریل کے دن کسی مسلمان کو بے وقوف بناکر اس کو تکلیف میں مبتلا کرنا درست ہوسکتا ہے؟ ایک مسلمان کا دوسرے کے ساتھ جھوٹ بول کر ایسا سنگین مذاق کرنا جس میں دوسرے کی قیمتی جان جانے کا بھی اندیشہ ہو، روا ہوسکتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر ہمیں ان تمام رسم و رواج کو چھوڑنے پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا اور ابھی سے ان کے آگے آ ہنی رکاوٹوں سے مضبوط بند باندھنا ہوگا۔۔۔۔۔۔ ورنہ ہماری آنے والی نسلیں ان پر اسی طرح عمل پیرا ہوں گی جیسے ہمارے اسلاف اپنے مذہبی اور شرعی احکام و امور پر عمل پیرا تھے۔ ابھی سے ہمیں اپنے معاشرے سے ان تمام رسموں کو ختم کرنا ہوگا جو آگے چل کر ایک ناسور کی شکل میں تبدیل ہوجائیں۔
اس دن کسی کو ایسا فون کرنے سے پہلے، مٹھائی دینے سے پہلے، حادثہ کی اطلاع دینے سے پہلے، کسی پر گندگی پھینکنے سے پہلے ''اپریل فول'' کی ابتدا اور انجام کے بارے میں ہزار بار سوچنا ہوگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی مزاحیہ اطلاع سے کوئی زندگی ہار جائے اور آپ اس جان لیوا مذاق پر ہمیشہ پچھتاتے رہیں۔

سلام اس پر جو جاودانی اور لا فانی ہے !
’’ الف لیلہ‘‘
(۲۷)
خواجہ نصر الدین نے امیر کا اعتماد اور عنایات حاصل کر لیں اور تمام معاملات میں اس کے خاص مشیر بن گئے۔ خواجہ نصر الدین فیصلے کرتے تھے۔ امیر کا کام صرف ان پر دستخط کرنا اور وزیر اعظم بختیار کا فرضِ منصبی صرف ان پر مہر لگانا تھا۔
’’ اللہ اکبر ! ہماری ریاست میں اب یہ نوبت پہنچ گئی ہے !‘‘
بختیار نے ٹیکس کے خاتمے ، سڑکوں اور پلوں کے مفت استعمال اور بازار کے نرخ کم کرنے کے بارے میں امیر کا فرمان پڑھ کر کہا ’’جلاد ہی خزانہ خالی ہو جائے گا! یہ نیا مشیر، خدا اس کو غارت کرے، اس نے تو ایک ہفتے میں وہ سب ڈھا دیا جو میں نے دس سال میں بنایا تھا!‘‘     تفصیل سے پڑھئے
چھوڑ دو مجھے، مت لے کر جاو۔۔۔ میں نہیں جاتا تمہارے ساتھ۔۔۔ مجھے یہ کپڑے کیوں پہنا رکھے ہیں۔۔۔ کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے۔۔۔ چھوڑ دو مجھے، مجھے میرے گھر والوں کے پاس رہنے دو۔۔۔ یہ سب کیوں رو رہے ہیں۔۔۔ مجھے کہاں بھیج رہے ہیں۔۔۔ خدا کے واسطے مجھے چھوڑ دو۔۔۔ مجھے نہیں جانا۔۔۔
تم لوگ میری بات کیوں نہیں سنتے۔۔۔ کیا میری آواز تم کو نہیں آتی۔۔۔ کیوں مجھے نظر انداز کر رہے ہو۔۔۔ تم لوگ مجھے یہیں چھوڑ دو۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ کہاں چھوڑ دیا مجھے۔۔۔ اتنا اندھیرا کیوں ہے یہاں۔۔۔ اوہ ہو، اتنی مٹی۔۔۔ اتنی گرمی۔۔۔ اف، کوئی مجھے اس کپڑے سے نجات دے۔۔۔ میں تو گرمی سے پگھل رہا ہوں۔۔۔ کیسا گھٹا ہوا ماحول ہے۔۔۔ میری تو جان نکل رہی ہے۔۔۔
کوئی ہے۔۔۔ مجھے یہاں سے باہر نکالو۔۔۔ مجھے یہاں سے باہر نکالو۔۔۔ کوئی ہے۔۔۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔۔۔
وعلیکم السلام۔۔۔ آپ کون ہیں؟ او ر یہاں کیا کر رہے ہیں؟
ہم منکر نکیر ہیں اور تم سے تمہاری زندگی کے بارے میں پوچھنے آئے ہیں۔
کیا کہا؟ کون ہو تم؟ کیا میں مر چکا ہوں؟ تم لوگ کیا پوچھو گے مجھ سے؟ مجھے جانے دو۔۔۔ مجھے واپس میں دنیا میں جانے دو۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے تم کو۔۔۔ مجھے جانے دو۔
شور مت کرو، تم مر چکے ہو اور اب واپسی کا کوئی رستہ نہیں۔ اب ہمارے سوالات کا جواب دو۔۔۔ بتاو کہ تمہارا رب کون ہے؟
میرا رب۔۔!!! میرا رب۔۔۔ کون ہے میرا رب۔۔۔ مجھے کچھ یاد نہیں آ رہا۔۔۔ مجھے جانے دو۔۔۔ مجھے یاد نہیں میرا رب کون ہے۔۔۔
تمہارا رسول کون ہے؟
خدا کے واسطے مجھے جانے دو۔۔۔ مجھے کچھ یاد نہیں آ رہا۔۔۔ میرا رسول کون ہے مجھے نہیں معلوم۔۔۔ مجھے جانے دو۔۔۔
تمہارا مذہب کیا ہے؟
مذہب نہیں معلوم۔۔۔ مجھے نہیں معلوم۔۔۔ میرے آنسووں پر رحم کرو اور مجھے جانے دو۔۔۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرا رب کون ہے، میرا رسول کون ہے اور میرا مذہب کیا ہے۔۔۔؟ مجھے کچھ نہیں معلوم۔
تمہارا رب اللہ تبارک تعالیٰ ہے، تمہارے رسول محمدﷺ ہیں اور تمہارا مذہب ، اسلام ہے۔ اور تمہیں کچھ یاد اس لیے نہیں آ رہا، کہ تم نے اپنی ساری زندگی اپنے رب اور اس کے احکامات کو جھٹلایا ہے۔۔۔ اس کی نافرمانی کی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے وجود کو مانتے تو اس کے احکامات پر عمل کرتے، احکامات کو مانتے تو محمد ﷺ کی سنت پر عمل کرتے اور محمدﷺ کی سنت کو مانتے تو دین اسلام کے ہر ہر حکم اور اصول پر پابند ہوتے۔
اے ابن آدم، تم نے اپنی زندگی برباد کر دی۔ شور شرابے اور کفر میں گزار دی۔ عیش و عشرت میں مبتلا رہے اور اپنا رب نا پہچان سکے۔ روزانہ پانچ دفعہ اللہ کی پکار سنتے رہے کہ وہ تمہیں بار بار اپنے پاس بلاتا رہا کہ اس کی طرف آو، نماز پڑھو اور اس کو یاد کرو، لیکن تم نے اللہ کی پکار کو نظر انداز کیا، اب تمہیں نافرمانی کی سزا ملے گی۔ تمہارے ہر گناہ کی سزا ملے گی۔
مجھے معاف کر دو۔۔۔ مجھے ایک بار پھر دنیا میں بھیج دو۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اللہ کی عبادت میں اپنی ہر سانس مصروف کر دوں گا۔۔۔ اس کے ہر حکم کا تابع رہوں گا۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔۔۔
نہیں اے بشر، تیری مدت ختم ہو چکی۔۔۔ اب تو واپس نہیں لوٹ سکے گا۔ اب تو قیامت تک سزا بھگتتا رہے گا۔ اب آخری فیصلہ اللہ ہی روزِ قیامت کرے گا۔ تب تک تو مجرم ٹھرا اور سزا تیرا مقدر ٹھری۔
بچاو۔۔۔ کوئی تو مجھے بچاو۔۔۔ مجھے معاف کر دو۔۔۔ اے اللہ مجھے معاف کر دے۔۔۔ مجھے معاف کر دے۔۔۔ مجھے معاف کر دے۔۔۔ مجھے قبر کی ہولناکی سے بچا۔۔۔ اے اللہ مجھے بچا۔۔۔ اے اللہ میرے گناہ معاف فرما دے۔۔
حضر ت یونس علیہ السلام کا واقعہ جس کا کچھ حصہ تو خود قرآن میں مذکور ہے اور کچھ روایاتِ حدیث و تاریخ سے ثابت ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم عراق میں موصل کے مشہور مقام نینوی میں بستے تھے، ان کی تعداد قران کریم میں ایک لاکھ سے زیادہ بتلائی ہے ان کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے یونس علیہاالسلام کو بھیجا، انھوں نے ایمان لانے سے نکار کیا،حق تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو آگاہ کردہ کہ تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آنے والا ہے، حضرت یونسؑ نے قوم میں اس کا اعلان کردیا، قوم یونسؑ نے آپس میں مشورہ کیا تو اس پر سب کا اتفاق ہوا کہ ہم نے کبھی یونس علیہ السلام کو جھوٹ بولتے نہیں دیکھا اس لئے ان کی بات نظر انداز کرنے کے قابل نہیں، مشورہ میں یہ طے ہوا کہ یہ دیکھا جائے کہ یونس علیہ السلام رات کو ہمارے اندر اپنی جگہ مقیم رہتے ہیں تو سمجھ لو کہ کچھ نہیں ہوگا، اور اگر وہ یہاں سے کہیں چلے گئے تو یقین کر لو کہ صبح کو ہم پر عذاب آئے گا، حضرت یونسؑ باارشاد خداوندی رات کو اس بستی سے نکل گئے، صبح ہوئی تو عذابِ الہی ایک سیاہ دھوئیں اور بادل کی شکل میں ان کے سروں پر مندلانے لگا اور فضاء آسمانی سے نیچے ان کے قریب ہونے لگا تو ان کو یقین ہوگیا کہ اب ہم سب ہلاک ہونے والے ہیں، یہ دیکھ کر حضرت یونسؑ کو تلاش کیا کہ ان کے ہاتھ پر مشرف بایمان ہوجائیں اور پچھلے انکار سے توبہ کرلیں مگر یونس علیہ السلام کو نہ پایا تو خود ہی اخلاصِ نیت کے ساتھ توبہ و استغفار میں لگ گئے، بستی سے ایک میدان میں نکل آئے، عورتیں بچے اور جانور سب اس میدان میں جمع کردئے گئے، ٹاٹ کے کپڑے پہن کر عجز و زاری کے ساتھ اس میدان میں توبہ کرنے اور عذاب سے پناہ مانگنے میں اس طرح مشغول ہوئے کہ پورا میدان آہ و بکا سے کونچنے لگا، اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی اور عذاب ان سے ہٹا دیا
ادھر حضرت یونس علیہ السلام بستی سے باہر اس انتظار میں تھے کہ اب اس قوم پر عذاب نازل ہوگا، ان کے توبہ استغفار کا حال ان کو معلوم نہ تھا، جب عذاب ٹل گیا تو ان کو فکر ہوئی کہ مجھےجھوٹا قرار دیا جائے گا کیونکہ میں نے اعلان کیا تھا کہ تین دن کے اندر عذاب آجائے گا، اس قوم میں قانون یہ تھا کہ جس شخص کا جھوٹ معلوم ہو اور وہ اپنے کلام پر کوئی شہادت نہیں پیش کرے تو اس کو قتل کردیا جاتا تھا، یونسؑ کو فکر ہوئی کہ مجھے جھوٹا قرار دے کر قتل کر دیا جائے گا۔
انبیاء علیہم السلام ہر گناہ و معصیت سے معصوم ہوتے ہیں مگر انسانی فطرت و طبیعت سے جدا نہیں ہوتے، اس وقت یونس علیہ السلام کو طبعی طورپر یہ ملال ہوا کہ میں نے بحکم الٰہی اعلان کیا تھا اور اب میں اعلان کی وجہ سے جھوٹا قرار دیا جاؤں گا، اپنی جگہ واپس جاؤں کس منہ سے جاؤں اور قوم کے قانون کےمطابق گردن زنی بنوں، اس رنج و غم اور پریشانی کے عالم میں اس شہر سے نکل جانے کا ارادہ کر کے چل دئے یہاں تک کہ بحرِ روم کے کنارہ پر پہنچ گئے وہاں ایک کشتی دیکھی جس میں لوگ سوار ہورہے تھے، یونس علیہ السلام کو ان لوگوں نے پہچان لیا اور بغیر کرایہ کے سوار کر لیا، کشتی روانہ ہو کر جب وسطِ دریا میں پہنچ گئی تو دفعتہ ٹھہر گئی، نہ اگے بڑھتی ہے کہ پہچھے چلتی ہے، کشتی والوں نے منادی کی کہ ہماری اس کشتی منجانت اللہ یہی شان ہے کہ جب اس میں کوئی ظالم گنہگار یا بھاگا ہوا غلام سوار ہوجاتا ہے تو یہ کشتی خود بخود رک جاتی ہے، اس آدمی کو ظاہر کردینا چاہئے تاکہ ایک آدمی کی وجہ سے سب پر مصیبت نہ آئے۔
حضرت یونس علیہ السلام بول اٹھے کہ وہ بھاگا ہوا غلام گناہگار میں ہوں، کیونکہ اپنے شہر سے غائب ہو کر کشتی میں سوار ہوا ایک طبعی خوف کی وجہ سے تھا بازنِ الٰہی یہ تھا، اس بغیر ازن کے اس طرف آنے کو حضرت یونس علیہ السلام کی پیغمبرنہ شان نے ایک گناہ قرار دیا کہ پیغمبر کی کوئی نقل و حرکت بلا اذن کے نہ ہونی چاہئے تھی اس لئے فرمایا کہ مجھے دریا میں دال دو تو تم سب اس عذاب سے بچ جاؤ گے، کشتی والے اس پر تیار نہ ہوئے بلکہ انھوں نے قرعہ اندازی کی تاکہ قرعہ میں جس کا نام نکل آنے اس کو دریا میں دالا جائے، اتفاقاََ قرعہ میں حضرت یونس علیہ السلام کا نام نکل آیا، ان لوگوں کو اس پر تعجب ہوا کہ کئی مرتبہ قرعہ اندازی کی ہر مرتبہ بحکم قضاء و قدر حضرت یونس علیہ السلام کا ہی نام آتا رہا، قرآنِ کریم میں اس قرعہ اندازی اور ان میں یونس علیہ السلام کا نام نکلنے کا ذکر موجود ہے فساھم فکان من المد حضین
یونس علیہ السلام کے ساتھ حق تعالیٰ کا یہ معاملہ ان کے مخصوص پیغمبرا نہ مقام کی وجہ سے تھا کہ اگرچہ انھوں نے اللہ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی تھی جس کو گناہ اور معصیت کہا جاتا ہے اور کسی پیغمبر سے اس کا امکان نہیں، کیونکہ وہ معصوم ہوتے ہیں لیکن پیغمبر کے مقام بلند کے مناسب نہ تھا کہ محض خوفِ طبعی سے کسی جگہ بغیر اذن خداوندی منتقل ہوجاویں، اس خلافِ شان عمل پر بطور عتاب یہ معاملہ کیا گیا۔
اس طرف قرعہ میں نام نکل کر دریا میں ڈالے جانے کا سامان ہورہا تھا دوسری طرف ایک بہت بڑی مچھلی بحکم خداوندی کشتی کے قریب منہ پھیلائے ہوئے لگی ہوئی تھی یہ یہ دریا میں آئیں تو ان کو اپنے پیٹ میں جگہ دے، جس کو حق تعالیٰ نے پہلے سے حکم دے رکھا تھا کہ یونس علیہ السلام کا جسم جو تیرے پیٹ کے اندر رکھا جائے گا یہ تیری عذا نہیں بلکہ ہم نے تیرے پیٹ کو ان کا مسکن بنایا ہے، یونس علیہ السلام دریا میں گئے تو فوراََ اس مچھلی نے منہ میں لے لیا، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ یونس علیہ السلام اس مچھلی کے پیٹ میں چالیس روز رہے یہ ان کو زمین کی تہ تک لے جاتی اور دور دراز کی مسافتوں میں پھراتی رہی ، بعض حضرات نے سات، بعض نے پانچ دن اور بعض نے ایک دن کے چند گھنٹے مچھلی کےپیٹ میں رہنے کی مدت بتلائی ہے (مظہری)
حقیقتِ حال حق تعالیٰ کو معلوم ہے، اس حالت میں حضرت یونس علیہ السلام نے یہ دعاء کی لا الہ الا انت سبحانک انی کنت منالظلمین اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرما لیا اور بالکل صحیح و سالم یونس علیہ السلام کو دریا کےکناے پرڈال دیا۔
مچھلی کے پیٹ کے گرمی سے ان کے بدن پر کوئی بال نہ رہا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کے قریب ایک کدو (لوکی) کا درخت اگادیا، جس کے پتوں کا سایہ بھی حضرت یونس علیہ السلام کے لئے ایک راحت بن گئی، اور ایک جنگلی بکری کو اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمادیا کہ وہ صبح و شام ان کےپاس آکھری ہوتی اور وہ اس کو دودھ پیلیتے تھے۔
اس طرح حضرت یونس علیہ السلام کو اس لغزش پر تنبیہ بھی ہوگئی اور بعد میں ان کی قوم کو بھی پوار حال معلوم ہوگیا۔
(معارف القرآن جلد 4 صفحہ 575، سورہ یونس: آیت 98)
جب طالوت بنی اسرائیل کے بادشاہ بن گئے تو آپ نے بنی اسرائیل کو جہاد کے لئے تیار کیا اور ایک کافر بادشاہ ''جالوت''سے جنگ کرنے کے لئے اپنی فوج کو لے کر میدان جنگ میں نکلے۔ جالوت بہت ہی قد آور اور نہایت ہی طاقتور بادشاہ تھا وہ اپنے سر پر لوہے کی جو ٹوپی پہنتا تھا اس کا وزن تین سو رطل تھا۔ جب دونوں فوجیں میدانِ جنگ میں لڑائی کے لئے صف آرائی کرچکیں تو حضرت طالوت نے اپنے لشکر میں یہ اعلان فرما دیا کہ جو شخص جالوت کو قتل کریگا، میں اپنی شہزادی کا نکاح اس کے ساتھ کردوں گا۔ اور اپنی آدھی سلطنت بھی اس کو عطا کردوں گا۔ یہ فرمان شاہی سن کر حضرت داؤد علیہ السلام آگے بڑھے جو ابھی بہت ہی کمسن تھے اور بیماری سے چہرہ زرد ہو رہا تھا۔ اور غربت و مفلسی کا یہ عالم تھا کہ بکریاں چرا کر اس کی اجرت سے گزر بسر کرتے تھے۔ روایت ہے کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام گھر سے جہاد کے لئے روانہ ہوئے تھے تو راستہ میں ایک پتھر یہ بولا کہ اے حضرت داؤد! مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پتھرہوں۔ پھر دوسرے پتھر نے آپ کو پکارا کہ اے حضرت داؤد مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں حضرت ہارون علیہ السلام کا پتھر ہوں۔ پھر ایک تیسرے پتھر نے آپ کو پکار کر عرض کیا کہ اے حضرت داؤد علیہ السلام مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں جالوت کا قاتل ہوں۔ آپ علیہ السلام نے ان تینوں پتھروں کو اٹھا کر اپنے جھولے میں رکھ لیا۔ جب جنگ شروع ہوئی تو حضرت داؤد علیہ السلام اپنی گوپھن لے کر صفوں سے آگے بڑھے اور جب جالوت پر آپ کی نظر پڑی تو آپ نے ان تینوں پتھروں کو اپنی گوپھن میں رکھ کر اور بسم اللہ پڑھ کر گوپھن سے تینوں پتھروں کو جالوت کے اوپر پھینکا اور یہ تینوں پتھر جا کر جالوت کی ناک اور کھوپڑی پر لگے اور اس کے بھیجے کو پاش پاش کر کے سر کے پیچھے سے نکل کر تیس جالوتیوں کو لگے اور سب کے سب مقتول ہو کر گر پڑے۔ پھر حضرت داؤد علیہ السلام نے جالوت کی لاش کو گھسیٹتے ہوئے لا کر اپنے بادشاہ حضرت طالوت کے قدموں میں ڈال دیا اس پر حضرت طالوت اور بنی اسرائیل بے حد خوش ہوئے۔
جالوت کے قتل ہوجانے سے اس کا لشکر بھاگ نکلاا ور حضرت طالوت کو فتح مبین ہو گئی اور اپنے اعلان کے مطابق حضرت طالوت نے حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کردیا اوراپنی آدھی سلطنت کا ان کو سلطان بنا دیا۔ پھر پورے چالیس برس کے بعد جب حضرت طالوت بادشاہ کا انتقال ہو گیا تو حضرت داؤد علیہ السلام پوری سلطنت کے بادشاہ بن گئے اور جب حضرت شمویل علیہ السلام کی وفات ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو سلطنت کے ساتھ نبوت سے بھی سرفراز فرمادیا۔ آپ سے پہلے سلطنت اور نبوت دونوں اعزاز ایک ساتھ کسی کو بھی نہیں ملا تھا۔ آپ پہلے شخص ہیں کہ ان دونوں عہدوں پر فائز ہو کر ستر برس تک سلطنت اور نبوت دونوں منصبوں کے فرائض پورے کرتے رہے اور پھر آپ کے بعد آپ کے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے سلطنت اور نبوت دونوں مرتبوں سے سرفراز فرمایا۔ (تفسیر جمل علی الجلالین،ج۱،ص۳۰۸،پ۲،البقرۃ۲۵۱)
اس واقعہ کا اجمالی بیان قرآن مجید کی سورئہ بقرہ میں اس طرح ہے کہ:۔
وَقَتَلَ دَاودُ جَالُوۡتَ وَاٰتٰىہُ اللہُ الْمُلْکَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَہ مِمَّا یَشَآءُ
ترجمہ کنزالایمان:۔اور قتل کیا داؤد نے جالوت کو اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور اسے جو چاہا سکھایا۔(پ2،البقرۃ:251)

نومبر 1979 سے جولائی 1989 کے درمیان خانہ کعبہ پر تین حملے کیے جاچکے ہیں پہلے حملے کا ذمہ دار امریکہ و اسرائیل کو جبکہ بعد کے دونوں حملے جو 1987 اور 1989 میں ہوئے کے لئے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ پہلے حملے میں مقامی افراد کا گروہ تھا جو سعودی عرب میں مغربیت کے اثر ونفوذ کے ردعمل میں سامنے آیا۔۔۔۔۔۔۔۔ نجد سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنما کو امام مہدی قرار دے کر مسجد الحرام پر قبضہ کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔ 2 ہفتے بعد جاکر مسجد الحرام کو اِن افراد کے قبضے سے چھڑایا جاسکا۔۔۔۔۔۔ اِس تمام کاروائی کے لیے باقاعدہ مفتی صاحبان سے فتویٰ لیکر کاروائی کی گئی تھی۔۔۔ یہ سب سے شدید حملہ کہا جاسکتا ہے کہ جس کے خلاف کاروائی میں 127 سعودی فوجی شہید ہوئے اور 451 زخمی ہوئے تھے۔۔۔۔۔ اور اِس کے بعد 68 حملہ اوروں کو موت کی سزا دی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔ اِس واقعے کے بعد سعودی عرب میں علمائے کرام کو خصوصی اہمیت دی جانے لگی۔۔۔۔۔ اور مغربی اثر و نفوذ میں نمایاں کمی لائی گئی۔۔۔۔۔۔۔
1987 میں ایران کے حاجیوں کی جانب سے مکہ اور مسجد الحرام کے اطراف شدید ہنگامہ ارائی کی گئی تھی اِس تمام ہنگامہ ارائی کے دوران 400 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت ایرانی حاجیوں کی تھی۔۔۔۔ 85 پولیس اہلکار جبکہ 42 افراد کا تعلق مختلف ممالک سے تھا۔۔۔۔۔
1989 میں حج کے موقع پر 2 بم دھماکے کیے گئے جن میں ایک حاجی شہید اور 16 زخمی ہوئے۔۔۔۔۔ اِن بم دھماکوں کے مجرم شیعہ تھے جن کی تعداد 16 تھی اور جن کا تعلق کویت سے تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لبنان، شام اور عراق کے حالات کے بعد ایران، امریکہ اور اسرائیلی گٹھ جوڑ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہ گئی ہے۔۔۔۔۔ سعودی عرب کے تین اطراف جو آگ بھڑکائی جاچکی ہے، وہ ایران اور خمینی کا پرانا خواب تھا۔۔۔۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایران میں سنی مسلمانوں کی جماعت سے نماز پر پابندی عائد ہے، جبکہ شام و عراق میں کیے جانے والے مظالم بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔ اِس تمام معاملے سے عالم اسلام کا غیر جانبدار رہنا بعد میں کسی پچھتاوے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ اور اِس معاملے میں ہمارا فکر مند ہونا سعودی شاہی خاندان سے ہمدردی نہیں بلکہ حرمین شریفین کے لیے روافض کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے ہے۔
یہ مسلک کے اعتبار سے زیدی شیعہ ہیں۔ حضرت علی کے نسب سے ایک فقیہ زیدبن علی بن حسین کی اتباع کرتے ہیں اور انہیں اپنا امام مانتے ہیں۔ یہ خود کوشیعہ کہتے ہیں لیکن انکے عقائد ونظریا ت اثناعشری شیعوں سے زیادہ اہل سنت سے ملتے ہیں۔ ان کا اہل سنت سے بنیادی اختلاف امامت (خلافت) کے قضیے پر ہے۔ان کا ماننا ہے کہ امامت کا منصب خاندانِ علیؓ کے ساتھ مختص ہے۔ہاشمی کے علاوہ کوئی شخص خلافت کا اہل نہیں ہوسکتا۔   تفصیل سے پڑھئے
ایران نے تو یمن، پاکستان ، افغانستان ،شام اور ایراق میں خمینی کے دور سے ہی حملہ کیا ہوا ہے، ان علاقوں میں ایران اور اپنے مغربی اتحادیوں کی مدد سے پچاس لاکھ سنی مسلمان مار چکا ہے۔ ایران اپنی ساری توانای سنی مسلمانوں کو مارنے کے لیے ہی صرف کر رہا ہے۔ ایران کی بدمعاشیاں صرف پاکستان میں چلتیں ہیں اور ہر جگہ یہ امریکہ کی مدد سے بدمعاشیاں کرتا ہے۔ پاکستان میں یہ شیعہ لوگ عوام کی مذہبی اور سیاسی عقائد سے ناواقفیت کی وجہ سے کامیاب ہیں۔ جب تک پاکستان کی عوام کلهی طور پر ایران کے مذہبی اور سیاسی عقائد سے واقف نہیں ہو جاتے پاکستان میں بھی شیعہ سنیوں کو نشانہ بناتے رہینگے.
آج سعودی عرب نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر فضائی حملہ کر دیا اور سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ باغیوں کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ایسے حالات میں جب پاکستان اور سعودیہ میں تعلقات اور مضبوط ہونے جا رہے ہیں تو پاکستان کے اندر سے غدار بھی کھل کر سامنے آنا شروع ہوگے ہیں اور ایران کے ساتھ وفاداری دکھانے کے لیے فوج پر بھونک رہے ہیں ایسے ٹائم میں پاکستانیوں کو ایسے غداروں کو لازم پہچاننا چاہئے کہ یہی شیعہ اور قادیانی پاکستان میں بهی اپنے گندے مذہب کی بالادستی قائم کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام کی دین سے بے خبری اور وطن سے اندهی محبت کا فائدہ اٹھا کر یہ شیعہ اپنے آپ کو سچے محب وطن پاکستانی ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر یمن کے معاملے کے بعد کسی کو شک میں نہیں رہنا چاہئے کہ یہ لوگ پاکستان میں ہر اس پالیسی کو اختیار کرینگے جس کی وجہ سے انکو تحفظ مل سکتا ہو.
پاکستان فوج کو چاہیے کہ وہ امین شھیدی ، فیصل رضا عابدی، حیدر عباس رضوی، زید حامد عرف لعل ٹوپی سرکار اور زرداری جیسے لوگوں پر اعتبار نہ کرے یہ ایران کے پکے ایجنٹ ہیں اور اسلام کے پکے دشمن ہیں انکو پہچانو، آمین شھیدی تو غلط احادیث بھی شئیر کرتا ہیں، ان کی تنظیمیں جن کے ذریعے یہ سنیوں کا قتل کراتے رہتے ہیں وہ یہ ہیں۔
سپاە محمد،امامیہ ارگنائزیشن،منتظر امام مہدی،خمینی ٹائیگرز،ہزارە ٹائیگرز، ہزارە ڈیموکریٹک پارٹی،پاڑاچنار فورس،حیدری طالبان،مہدی ارمی،سپاە محمد،حزب الله، مختار فورس،ابو تراب اسکاوٹس، تحریک نفاز فقہ جعفریہ،پاک حیدری اسکاوٹس، جعفریہ اسکاوٹس،سجادیہ اسکاوٹس، امامیہ اسکاوٹس،مہدی ملیشیا،لشکر مہدی۔
ان تمام دہشت گرد تنظیموں کے لوگ جعفریہ اسٹو ڈینٹس ارگنائزیشن، مجلس وحدت مسلیمین (کافرین)، امامیہ اسٹو ڈینٹس ارگنائزیشن، جعفریہ ایلا ئینس اور شیعہ علما کونسل نامی تنظیموں میں کام کرتے ہیں۔ان کی کل تعداد دس ہزار سے زیادە نہی ہو سكتى.
پاکستانیوں کو چاہئے کہ جہاں بهی ملے ہاتھ صاف کرکے پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائے.
جنگلی کبوتر نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آواز نکالی۔ آپ نے حاضرین سے پوچھا: " کیا تمھیں معلوم ہےکہ یہ کیا کہہ رہاہے؟"
حاضرین نے کہا: " نہیںَ"
حضرت سلیمان علیہ اسلام نے فرمایا: " یہ کہہ رہا ہے ، مرنے کے لیے جنم دو اور ویران ہونے کے لیے عمارتیں بناؤ۔"
فاختہ چیخی۔ پھر پہلے کی طرح سوال جواب ہوا، آپ علیہ السلام نے فرمایا: " یہ کہہ رہی ہے ، کاش یہ مخلوق پیدا ہی نہ کی جاتی۔"
مور چیخا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:
" یہ کہہ رہا ہے، جیسا دوسروں کے ساتھ معاملہ کروگے ویسا ہی تم سے کیا جائے گا۔"
ہُد ہُد بولا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: " یہ کہہ رہا ہے ، جو رحم نہیں کرے گا، اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔"
ترمتی( باز اور شکرہ کی طرح شکاری پرندہ) نے آواز دی۔ فرمایا: " یہ کہہ رہی ہے، گناہ گارو! اللہ سے معافی کی درخواست کرو۔"
تیہو ( ایک قسم کا مرغ) چیخا، فرمایا: " یہ کہہ رہا ہے، زندہ مرے گا اور ہر نیا پرانا فرسودہ ہوگا۔"
خطَّاف( ابابیل کی قسم کا پرندہ جس کے بازو بہت لمبے ہوتے ہیں اور بہت تیز اڑتا ہے) چیخا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: " یہ کہہ رہا ہے، پہلے سے نیکی بھیجو( وہاں) تمھیں مل جائے گی۔"
کبوتری نے آواز دی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: " یہ کہہ رہی ہے، پاکی بیان کرو میرے ربّ برترکی ، اتنی کہ جو آسمانوں اور زمین کو بھر دے۔"
قمری چیخی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ کہہ رہی ہے، میرے ربِّ اعلٰی کی پاکی بیان کرو۔"
آپ علیہ السلام نے فرمایا: " کوا کلِ مال کا دسواں حصہ بطور ٹیکس وصول کرنے والوں کے لیے بددعا کرتا ہے ،
چیل کہتی ہے، سوا اللہ کے ہر چیز کو فنا ہے۔
قسطاۃ کہتی ہے، جو خاموش رہا محفوظ رہا۔
طوطا کہتا ہے ، تباہی ہے اس کے لیے جس کا مقصد دنیا ہی ہے۔ مینڈک کہتا ہے میرے ربّ قدوس کی پاکی بیان کرو۔
باز کہتا ہے ، میرے ربّ کی پاکی بیان کرو اور ثنا کرو۔
مینڈکی کہتی ہے پاکی بیان کر اس کی کہ جس کا ذکر ہر زبان پر ہے۔ تیتر کہتا ہے، الرحمٰن علی العرش استویٰ( رحمٰن عرش پر متمکن ہے۔"
( تفسیر مظہری)

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
پندرہ سال پہلے ولادیمیر پوتن نے پہلا صدارتی انتخاب جیتا تھا۔ ان کے حق میں باون اعشاریہ چورانوے فیصد رائے دہندگان نے رائے دی تھی۔ گذشتہ پندرہ برسوں سے اعلٰی ترین حکومتی عہدوں پر متمکّن رہنے کے دوران پوتن صریح اندازے لگاتے ، چٹکلے چھوڑتے اور برجستہ باتیں کرتے رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
1۔ "بول و براز میں تر کرنا"
پوتن نے اپنا سب سے اہم بیان شاید ستمبر 1999 میں بطور وزیر اعظم دیا تھا۔ "روسی طیارے چیچنیا میں تخصیصی طور پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر وار کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے، چاہے دہشت گرد کہیں بھی کیوں نہ ہوں ۔ ۔ ۔ ہم دہشت گردوں کا ہر جگہ پیچھا کریں گے۔ مطلب یہ کہ ، آپ مجھے پہلے ہی معاف کر دیں، ہم انہیں بیت الخلاء میں بھی جا پکڑیں گے، ہم بالآخر انہیں بول و براز میں نہلا دیں گے۔ بات ختم ہو گئی اور بس۔"
2۔ "وہ غرق گئی"
ستمبر 2000 میں معروف ٹی وی چینل سی این این پر لیری کنگ کو انٹرویو دیتے ہوئے اس سوال پر کہ "کرسک" نام کی روسی آبدوز کے ساتھ کیا بیتی؟ پوتن نے مختصرا" جواب دیتے ہوئے کہا: "وہ غرق ہو گئی"۔ صدر کے اس جواب پر روس میں بڑی لے دے ہوئی۔ بہت سوں نے صدر مملکت کے جواب کی مذمّت کی، اسے سنکی پن پر مبنی جواب قرار دیا۔ مگر خود لیری کنگ نے صدر روس کا انٹرویو کرنے کے دس سال بعد "کرسک" سے متعلق ان کے جواب کو "لاجواب" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ "ٹیلی ویژن کے ان درخشاں لمحوں" میں ایک لمحہ تھا جس پر ناظرین کا بھرپور ردعمل ہوتا ہے۔
3۔ سرکاری عمّال کے پاس کم از کم دماغ ہونا چاہیے۔
ایک پریس کانفرنس میں صدر موصوف نے ہیلیری کلنٹن کے اس بیان کا جواب دیا کہ پوتن روح سے خالی ہیں۔ " میرے خیال میں سرکاری عمّال کے پاس کم ازکم دماغ ہونا چاہیے۔ بین الحکومتی تعلقات بنانے کے لیے قیادت کو جذباتی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنے ملک کے بنیادی مفادات پیش نظر رکھنے چاہییں"۔
4۔" کس سے بات کی جائے"
"کیا میں صاف ستھرا جمہوریت پسند ہوں؟ بلاشبہ، میں مطلقا" صاف ستھرا جمہوریت پسند شخص ہوں۔ پر کیا آپ جانتے ہیں کہ دکھ کا معاملہ کیا ہے؟ بات یہ ہے کہ ایسا بس میں ہی ہوں، میرے جیسا دنیا میں اور کوئی نہیں۔ مہاتما گاندھی کے ویہانت کے بعد کوئی بچا ہی نہیں جس کے ساتھ بات کی جا سکے" صدر پوتن نے 2007 میں گلہ کیا تھا۔
5۔  سویت یونین نواز
ان کے سوویت یونین سے متعلق موقف بارے صحافی صدر سے اکثر استفسار کرتے رہے ہیں۔ 2005 میں انہوں نے کہا تھا کہ "سوویت یونین کا انہدام، صدی کی مہیب ترین جغرافیائی سیاسی بربادی تھی" پھر پانچ برس گذر جانے کے بعد کہا تھا:"بھلا کس کو سوویت یونین کے انہدام کا افسوس نہیں ہے، اس کو جس کے سینے میں دل نہیں اور وہ جو اس کو پہلے کی ہی مانند استوار کرنے کا خواہاں ہے اس کے پاس دماغ نہیں ہے"۔
6۔ کریمیا روسی ہونے کے علاوہ اور کچھ ہو نہیں سکتا
2014 میں کریمیا اور سیویستوپل کے روس کے ساتھ الحاق کے بعد سربراہ مملکت نے کہا تھا:"لوگوں کے دلوں میں، ان کے شعور میں کریمیا روس کا اٹوٹ انگ تھا اور وہ ایسا ہی اب تک سمجھتے ہیں۔ درحقیقت کریمیا روسی ہونے کے علاوہ اور کچھ ہو نہیں سکتا"۔
7۔اگر برلسکونی ہم جنس پرست ہوتا ۔ ۔ ۔
"برلسکونی پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ عورتوں کے ساتھ رہتا ہے۔ اگر وہ ہم جنس پرست ہوتا تو اسے کوئی انگلی بھی نہ لگاتا"۔
8۔ برا عیسائی
میں غالبا" برا عیسائی ہوں۔ جب کوئی ایک کال پر تھپڑ مارے تو اگلا گال آگے کر دینا چاہیے۔ لیکن میں ایسا کرنے کے فی الحال اخلاقی طور پر تیار نہیں ہوں۔ اگر ہمیں کوئی تھپڑ مارے تو جواب میں تھپڑ مارنا چاہیے ورنہ وہ اسی طرح ہمیں تھپڑ مارتا رہے گا" پوتن نے 2012 میں اعتراف کیا۔
9۔ خدا نے ہمیں برابر کا بنایا ہے

ستمبر 2013 میں اخبار "دی نیویارک ٹائمز" میں پوتن کا مضمون شائع ہوا تھا جس میں باراک اوبامہ کی جانب سے امریکییوں کو تخصیصی قوم قرار دیے جانے پر تبصرہ کیا گیا تھا۔ "لوگوں کو یہ احساس دلانا بہت خطرناک ہے کہ وہ خود کو تخصیصی سمجھنے لگ جائیں، چاہے آپ کا مقصد کوئی بھی کیوں نہ ہو۔ جب ہم خدا کے کرم کے خواستگار ہوتے ہیں تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ خدا نے ہمیں ایک جیسا بنایا ہے" صدر روس نے اوبامہ کو یاد دلایا۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ایک جریدے میں شائع ہونے والے سروے کے مطابق خواتین ، مردوں سے اپنے بارے میں جو مشکل ترین سوالات پوچھتی ہیں ، وہ کم و بیش دنیا بھر میں یکساں نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ان سوالات کی تعداد پانچ ہے اور وہ کچھ اس طرح ہیں:
1-اگر میں مر گئی تو تم کیا کرو گے
2-تم اس وقت کیا سوچ رہے ہو؟
3-کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے؟
4-کیا میں موٹی لگتی ہوں؟
5-کیا تمہارے خیال میں ”وہ“ مجھ سے زیادہ خوب صورت ہے ؟
ان سوالات کی مشکل یہ ہے کہ اگر کسی مرد نے ان میں سے کسی
کا بھی غلط جواب دے دیا ، یعنی اگر سچ بول دیا، تو پھر اس کا خدا ہی حافظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج میں نے مردوں کی فلاح و بہبود کی خاطر ان سوالات کے ممکنہ جوابات تلاش کیے ہیں، تاکہ ان کا بھلا ہو سکے۔
پہلے سوال ”تم اس وقت کیا سوچ رہے ہو؟“ کا نہایت سیدھا سادہ اور گھڑا گھڑایا جواب دیں کہ ”ظاہر ہے میں ہر وقت کی طرح اس وقت بھی دنیا کی سب سے وفا دارعورت کے بارے میں سوچ رہا ہوں اور وہ تم ہو۔ میری خوش قسمتی ہے کہ تم میری زندگی میں آئیں، ورنہ میں کسی آوارہ بھنورے کی طرح بھٹکتا رہتا، وغیرہ۔“
دوسرا سوال ”کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے ؟“ کا جواب احتیاط سے دیں، کیوں کہ بظاہر آسان لگنے والا یہ سوال کافی خطرناک ہے ۔ممکن ہے بعض لوگ یہ سمجھیں کہ اس قسم کا سوال ”روٹین کی کارروائی “ ہوتاہے اور اس کا جواب ٹی وی دیکھتے یا اخبار پڑھتے ہوئے محض اثبات میں سر ہلا کر دینا کافی ہے، لیکن یہ ان کی بھول ہے ۔ایسے مردوں کو اگر میری اس بات سے اختلاف ہے تو وہ بے شک سر ہلا کر اس سوال کا جواب دے کر دیکھ لیں اورپھر نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔ سر پر کوی بھی ایسی چیز پڑ سکتی ھے آفتی طور پر جس سے سر پر کافی بڑا گومڑ دکھائ دیں سکتا،
تیسرا سوال ” کیا میں موٹی لگتی ہوں؟“ اپنے اندر سوالات کا ایک جہان لیے ہوئے ہے۔ یہ دراصل ایک سوال نہیں، بلکہ مختلف سوالات اور خدشات کا اظہار ہے ۔کچھ ناعاقبت اندیش مرد اس سوال کے جواب میں خاتون کا موازنہ کسی فربہ اندام عورت کے ساتھ شروع کر دیتے ہیں اور پھر اپنے تئیں تعریفی انداز میں اسے یہ کہہ کرمطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ”اس کے مقابلے میں تو تم کافی حد تک اسمارٹ ہو۔“شاید ایسے مردوں کو اپنی جان پیاری نہیں ہوتی! پھر پڑے ھوتے ھے سسرال کے در پر کہ ایک بار تو مان جاو نہ بس ایک بار،
چوتھا سوال ”کیا وہ مجھ سے زیادہ خوب صورت ہے ؟“ بھی ایک نازک سوال ہے، جس کا جواب احتیاط سے دینے کی ضرورت ہے۔ ایک ممکنہ جواب یہ ہو سکتا ہے کہ ”میں نے تمہارے سوا کبھی کسی کو نظر اٹھا کر دیکھا ہی نہیں “ یا یہ کہ” میں کسی ”وہ“ کو نہیں جانتا۔“ خیال رہے کہ اس سوال کا جواب دیتے وقت اگر آپ نے بھولے سے بھی اپنے ذہن پر ایسے زور ڈالا، جیسے کسی کا سراپا یاد کر نے کی کوشش کر رہے ہوں، تو یقین جانئے آپ کی آنے والی نسلیں بھی پچھتائیں گی۔
یا چپل بھی پڑ سکتا ھے اور آپکی آنے والی سات نسلیں دنیا میں گنجی ھی سپلائ ھوتی رھے گی،
اب آتے ہیں آخری سوال کی طرف کہ ”اگر میں مر گئی تو تم کیا کرو گے؟“ یہ سوال اس لحاظ سے سب سے دل چسپ اور مشکل ہے کہ اس کا کوئی بھی جواب خاتون کو مطمئن نہیں کر سکتا ۔مثلاً اگر آپ نے سنجیدگی سے اپنے ان منصوبوں پر روشنی ڈالنی شروع کر دی، جنہیں آپ خاتون کی وفات کے بعد پایہٴ تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں، توکوئی بعید نہیں کہ آپ کی وفات پہلے ہوجائے…یعنی اس خاتون سے
بھی پہلے!
یہاں میرا لاسٹ بلیٹ کا فرض بنتا ہے کہ اب جبکہ میں نے کار حیر کا قصد کرھی رکھا ھے تو عورتوں کو بھی مردوں کی خصلت کے بارے میں آگاہ کردوں، تاکہ وہ آنکھیں بند کر کے ان تمام سوالات کے جوابات پر اعتبار نہ کر لیں۔ اب یار نیکی کا زمانہ نھی رھا لیکن میں نیکی کرکہ دریا ڈالنے حود اپنی گاڑی پر جاتا ھوں اپنا تیل جلا کر، مثلاً اگر مرد پہلے سوال کا جواب گڑبڑا کر دے تو سمجھ لیں کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے اور اگر وہ پورے اعتماد کے ساتھ آپ کے سوال کا جواب دے تو جان لیں کہ وہ بہت چالاک ہے ، ایسے مرد سے ہو شیار رہیں۔ اسی طرح اگر دوسرے سوال کا جواب سپاٹ لہجے میں ملے تو سمجھ جائیں کہ اسے آپ سے کوئی محبت نہیں ایویں بس ترحا رہا ھے اور اگر مرد جذباتی انداز میں جواب دے تو سمجھیں کہ اوور ایکٹنگ کر رہا ہے۔ موٹاپے سے متعلق سوال کے جواب کو بھی دھیان سے سنیں، اگر مرد کھٹ سے جواب دے کہ بالکل موٹی نہیں لگ رہی تو اس کا مطلب ہے اس کا دماغ کہیں اور ہے اور اس نے آپ کو محض ٹرحا دیا ہے۔ ویسے اپنے سراپے پر خود ایک نظر ڈالنے سے بھی اس سوال کا صحیح جواب مل سکتا ہے۔ چوتھے سوال کا جواب بہت غور سے سنیں ، اگر مرد زیادہ حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے کہ ”کون“ تو کھٹک جائیں اور اگر وہ سنی ان سنی کر دے، تو مزید کھٹک جائیں اوراگر وہ یہ جواب دے کہ ”نہیں، وہ تم سے زیادہ خوب صورت نہیں “ تو پھر سمجھ جائیں کہ ”وہ“ آپ سے زیادہ ہی خوب صورت ہے ! ابراھیم بھیا کے لیے حاص الحاص آخری سوال کا جواب بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے، اگر مرد ا س کا جواب مذاق میں ٹالنے کی کوشش کرے تو جان لیں کہ اس نے واقعی آپ کی وفات کے بعد کوئی پلاننگ کر رکھی ہے اور اگر وہ سنجیدگی سے اس کا جواب دے تو پھر آپ کے لمحہٴ فکریہ ہے۔ حیر یہ تو میرے کچھ نادر مشورے ھے ،، میں یہاں یہ بھی لکھنا چاھتا ھوں کہ اپنی شادی ھوی نھی ھے،،، تجربہ بھت ھے ، لاسٹ میں اپنی ایک فرینڈ جو اب فرینڈ نھی ھے سندس امین عرف جس کو میں " سونے " کہتا ھوں کو یہ ٹیپس بھی دینا چاھتا ھوں کہ کنورای لڑکی کو ان باتوں کو زھن میں رکھنا چاھیئے، اس کو ٹرینگ سمجھ لیں، اور یہ ایسے اسباق آج میں نے پڑھاے ھے جو مکمل تیر بحدف ھے، اللہ ان کا حامی و ناضر ھوں جنھوں نے شادی کی ھے اور بیویاں انکے سروں پر سی آی کی طرح ایجنٹ بنی ھے،، اللہ میرا حامی و ناصر ھوں کہ مجھے بھی کوی مل جاے اور ان باتوں کا عملی مظاھرہ اپنی آنکھوں سے دیکھو،،، سب مل کر کہو
دانت سفید اور چمک دار
ڈینٹونک۔۔۔۔۔۔۔
ڈینٹونک....ایوری ڈے ٹوائس اے ڈے......
اسپیشلی بیفور گوئنگ ٹو بیڈ...
قائد اعظم بھی ایک انسان اور سیاستدان تھے جن کی 23 مارچ 1940 سے پہلے کی سیاسی زندگی کہیں زیادہ دلچسپ اور فکر انگیز ہے۔
                              جن کا دیں پیروی کذب و ریا ہے ان کو
                                    ہمتِ کفر ملے جراتِ تحقیق ملے
قائداعظم کیا چاہتے تھے اور کیا نہیں! پاکستان کی تخلیق اور قائد اعظم کی وفات کے بعد سے ہی ریاستی امور پر قابض ہونے کی نیت سے مختلف گروہوں کے مابین مفادات کی جنگ میں بات اِس قدر الجھا دی گئی کہ آج تک سِرا تلاش کرنے کی کوشش ہی کی جارہی ہے۔ یوں بھی بطور قوم ہم نے پاکستان کے وجود کو لے کر قائد اعظم کے تمام خواب چھناکے سے توڑنے میں کبھی کوئی کمی بیشی نہیں کی۔   تفصیل سے پڑھئے
بغداد کا دانا، اصلی مولانا حسین، اسی پھاٹک پر دھر لیا گیا جس کے پار وہ نقاب کے اندر سے ہر سمت جانے والی سڑکیں دیکھ سکتا تھا۔ ہر سڑک اس کو بدبختی سے نجات پانے کی راہ معلوم پڑتی تھی۔
لیکن پھاٹک کے پہرے داروں نے اس کو ٹوکا "اے عورت، کہاں جا رہی ہے تو؟"
دانا نے آواز بنا کر اس طرح جواب دیا کہ معلوم ہوا کوا بول رہا ہے:
"میں عجلت میں ہوں، اپنے خاوند کے پاس جا رہی ہوں۔ بہادر سپاھیو، مجھے جانے دو۔"
آواز پر شبہ کرتے ہوئے پہرے داروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ایک نے اونٹ کی مہار تھام لی۔
"تم کہاں رہتی ہو؟"    تفصیل سے پڑھئے
باوجود ایک کلمہ گو مسلمان اور قرآن کی موجودگی کے تقدیر کے مسلے کو ایک الکھی ہوئی گھتی بنا کر رکھ دیا گیا ہے جو نہایت قابل افسوس بات ہے تقدیر کے متعلق اکثر یہ سوالات کیے جاتے ہیں ، جب ہمارے لیے ایک کام کرنا پہلے ہی سے لکھ لیا گیا ہے تو پھر وہ کام کرنے پر ہمیں سزا کیوں دی جاتی ہے ؟ ہر کام اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے اگر میں قتل کروں اس میں مرضی تو اللہ کی شامل ہوتی ہے سزا مجھے کیوں دی جاتی ہے ؟   تفصیل سے پڑھئے
مشہور وائس اور ویڈیو کالنگ سروس سکائپ گزشتہ کئی سالوں سے لوگوں کے درمیان فاصلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور دنیا بھر میں کروڑوں افراد اس سروس کو استعمال کرتے ہیں۔ سکائپ کے ذریعے ویڈیو یا وائس کال کرنے کیلئے اس کی ایپلی کیشن کو ڈاﺅن لوڈ کرنا ضروری ہے جو مختلف پلیٹ فارمز یعنی ونڈوز، میک، لینکس، اینڈرائڈ اور آئی فون پر دستیاب ہیں۔    تفصیل سے پڑھئے
کہتے ہیں بغداد میں ایک نیک دل تاجر رہتا تھا۔ اس تاجر نے ایک طوطا پالا ہوا تھا جس سے وہ بہت محبت کرتا تھا۔ طوطے کو بھی اپنے مالک سے بہت محبت تھی،لیکن غم صرف ایک تھا اور وہ غم تھا پنجرے کی قید۔۔۔ ایک دن تاجر کہیں جا رہا تھا اور راستے میں طوطے کا آبائی علاقہ بھی آتا تھا۔وہی علاقہ جہاں سے اس طوطے کو پکڑا گیا تھا۔سوداگر نے طوطے سے پوچھا کہ وہ اس کے علاقے سے گزرے گا۔اگر طوطا چاہے تو وہ کوئی پیغام اپنے عزیز رشتہ داروں تک اس کے ہاتھ بھیج سکتا ہے۔طوطے نے سوداگر کی اس پیشکش کو قبول کرتے ہوئے سوداگر سے کہا۔ مالک میرے علاقے میں جا کر میرا نام لے کر میرے عزیزوں کو آواز دینا۔ جب وہ آ جائیں تو انہیں بتانا کہ مَیں آپ کے پاس بہت خوش ہوں،لیکن صرف ایک تکلیف ہے اور وہ تکلیف ہے پنجرے کی قید۔۔۔ پھر میرے عزیزوں کو میرے لئے دعا کا کہنا اور جو پیغام وہ میرے لئے دیں وہ مجھے آ کر بتا دینا۔    تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
کبھی بابائےٹک ٹک کہاگیاتوکبھی سست اوربزدل کپتان کے طعنے ملے لیکن مصباح اپنی جگہ پر ڈٹے رہے اور تنقید کے نشتر سہتے سہتے ستاسی ایک روزہ میچوں میں گرین شرٹس کی کپتانی کر گئے۔ یوں کہیں کہ سپاٹ فکسنگ سکینڈلزمیں ڈوبی ٹیم کو سنبھال کر مصباح الحق نے کپتانی کا حق ادا کر دیا۔ 2010 میں چھتیس برس کی عمرمیں مصباح کےکندھوں پر قومی ٹیم کی قیادت کی ذمہ داری اس وقت ڈالی گئی جب پاکستان کرکٹ سپاٹ فکسنگ کی دلدل میں دھنس چکی تھی۔ اس سکینڈل کے مرکزی کرداروں سلمان بٹ ، محمد آصف اور محمد عامر کو سزا ملی اور پاکستان کرکٹ کا مستقبل تاریک نظر آنے لگا۔ ستم ظریفی یہ کہ ملک کو بدنام کرنے والے یہی انوکھے لاڈلے آج کل ٹی وی چینلز پر شرفاء کے کھیل کرکٹ پرتجزیے اور تبصرے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
وہ: ہاں بھئی کون سا موبائل استعمال کر رہے ہو آج کل؟
میں: یہ والا!
وہ: او ہو یہ تو سستا موبائل ہے بھئی تم یہ والا موبائل استعمال کرو؟
میں: بھائی ان دونوں میں صرف لمبائی، چوڑائی کا فرق ہے، باقی کیا فرق ہے؟ مجھے کیا پڑی اتنا مہنگا و نازک موبائل خریدوں؟
وہ: میرے دوست معذرت کے ساتھ اگر معاشرے میں اپنی ساکھ بنانی ہے تو تمہیں یہ سستا موبائل ترک کرنا ہوگا!
میں: یار یہ کیا بات ہوئی؟ مطلب میرا خاندان، حشب، نسب، تعلیم اور ملازمت چھوڑ کر لوگ میری اوقات کا حساب میرے موبائل سے لگائیں گے؟
وہ: ہاں! ایسا ہی ہے، جب تک تمہارے ہاس یہ لیٹسٹ، ۱۵ یا ۲۰ میگا پکسل والا کواڈ کور موبائل نہیں ہوگا، لوگ تمہیں منہ نہیں لگائیں گے، چاہے تم کتنے ہی شریف کیوں نہ ہو! کتنے ہی خاندانی کیوں نہ ہو! بھائی اسی کو اٹینڈرڈ کہتے ہیں۔
میں: ارے بھاڑ میں جائے یہ اسٹینڈرڈ میں تو اپنا پرانا موبائل بھی ترک نہ کرتا لیکن اس کا اسپیکر خراب ہوگیا تھا، اسی لیئے بدلنا پڑا، بھلا بتائو یہ کہاں کی عقلمندی ہے بندہ اہنے کئی مہینوں کی تنخواہ ایک موبائل میں جھونک دے۔ اصل کام اسکا رابطہ کرنا ہے، لیکن اب تصویر بھی اسی سے کھینچیں، گانا بھی اسی پر سنیں، نیٹ بھی اسی پر چلائیں، اور گیم بھی اسی پر کھیلیں؟ یہ سب چیزیں تو ہمارے پاس پہلے سے ہی ہیں۔ بار بار کیوں خریدیں؟
وہ: تم سمجھے نہیں! ماڈرن ہونا بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ بھئی تم کماتے کیوں ہو؟ اپنے اوپر خرچ کرنے کے لیئے ناں؟
میں: نہیں میں فضول خرچیوں کے لیئے نہیں کماتا ہوں، مجھے ان پیسوں سے گھر چلانا ہوتا ہے، بل بھرنے ہوتے ہیں، بچت کرنی ہوتی ہے! مجھے پاگل کتے نے نہیں کاٹا کہ اپنی خون پسینے کی کمائی جیب میں لیئے گھوموں کہ کوئی بھی چور آکر مجھے لوٹ لے۔ جو ہے اسی پر قناعت کرنے پر یقین رکھتا ہوں۔
وہ: نہیں تم دقیانوس اور کنجوس انسان ہو!
میں: اگر اپنی چادر دیکھ پیر پھیلانے کو دقیانوس اور کنجوس ہونا کہتے ہیں، تو ہاں میں یہ دونوں ہوں، لیکن نہ میں میں فضول خرچ ہوں، نہ ہی مجھے کنزیمرازم کا مرض لاحق ہے۔ میری عزتِ نفس اتنی بلند ہے کہ اپنے اصل و باطن پر قناعت کروں، جھوٹی شان و شوکت اور ظاہری چیزوں سے سکون کشید نہیں کرتا ہوں۔
مندرجہ بالا مکالمہ ہم اکثر دیکھتے ہیں۔ ہمارے اکثر دوست نمود و نمائش کی غلام گردش میں پھنس کر اپنے مقصدِ حیات کو ہی بھول جاتے ہیں۔ اگر اچھے کپڑے پہننے سے کوئی بڑا آدمی بن جاتا تو ہر دکان کا مالک معاشرے کا سب سے بڑا آدمی ہوتا۔ کیونکہ سب سے مہنگا موبائل وہی سب پہلے وہی رکھتا، سب سے اچھے کپڑے وہی پہنتا، سب سے اچھے جوتے، چشمے، کوٹ، پرفیوم۔ ہر چیز میں دکان کا مالک سب سے آگے ہوتا۔
لیکن ذرا غور کیجیئے گا، دکان دار کبھی مہنگا اور نیا سامان استعمال کرتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے۔ وہ سب سے مضبوط چیز رکھتے ہیں، جسے حرفِ عام میں ’لوہا لاٹ‘ کہتے ہیں۔ مضبوظ، ٹکائو پرانا موبائل، مضبوط کپڑا جو اکثر جینز ہی ہوتی ہے۔ یہ تو ہم ہیں جن کو وہ اشتہاروں سے بے وقوف بناتے ہیں، جن ’ماڈلز‘ کے ہاتھ میں ہم یہ نت نئے ’ماڈلز‘ دیکھتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ان کو استعمال بھی کرتے ہوں۔ ہمیں روز نئی ٹوپیاں پہنائی جاتی ہیں، اور ہم پہنتے ہیں۔ سرمایہ دار ہم ہی سے خوب محنت لیتے ہیں، پھر ہمیں، ہمارا ہی بنایا ہو سامان مہنگے ترین داموں پر بیچ دیتے ہیں۔ اور جب ہم میں سے کوئی سوال کرتا ہے کہ بھائی یہ اتنی زیادہ قیمت کس بات کی ت ہمیں بتایا جاتا ہے، یہ برینڈ کے پیسے ہیں۔
وہ برینڈ جو خلأ میں ہے، ہم اسے چھو نہیں سکتے ہیں، یہ صرف ایک خیال ہے ایک سراب لیکن بھئی، لگے پڑے ہیں ہم پیسے لٹانے میں۔ ذرا رکیں، اور غور کریں! سوچیں! پھر خریدیں اور خریدنے کے بعد پھر سوچیں کے کب تلک ایک چیز کو چلانا ہے۔ ایویں پیسے نہ پھینکیں! ورنہ یہ غلام گردش جسے انگریزی میں کنزیومرازم کہتے ہیں ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گی!
1۔آپ خواب میں صرف ان چہروں کو دیکھتے ہیں جنھیں آپ جانتے ہیں۔ جبکہ بعض ماہرین اس بات کو رد بھی کرتے ہیں۔کہ کبھی کبھار انجانے چہرے بھی خواب میں نظر آتے ہیں لیکن ہم ان کو نہ پہچاننے کی وجہ سے بھول جاتے ہیں۔ یہ ہی بات زیادہ قرین قیاس ہے۔
2۔سونے کی جتنی زیادہ کوشش کریں نیند آنے کے چانس اتنے ہی کم ہیں۔
3۔کی بورڈ کی آخری لائن میں موجود بٹنوں سے آپ انگلش کا کوئی لفظ نہیں لکھ سکتے ۔
4۔انسانی دماغ ستر فیصد وقت پرانی یادوں یا مستقبل کی سنہری یادوں کے خاکے بنانے میں گزارتا ہے۔
5۔پندرہ منٹ ہنسنا جسم کے لیے اتنا ہی فائدہ مند ہے جتنا دو گھنٹے سونا۔
6۔کسی بھی بحث کے بعد پچاسی فیصد لوگ ان تیزیوں اور اپنے تیز جملوں کو سوچتے ہیں جو انھوں نے اس بحث میں کہے ہوتے ہیں۔
7۔ A nut for a jar of tuna
ایسا جملہ ہے جس میں اسے دائیں سے پڑھ لیں یا بائیں سے ۔ایک ہی بات بن سکتی ہے صرف کچھ سپیس کو درست کرلیں تو۔
8۔ فلاسفی میں ایک لمحے کا مطلب ہوتا ہے نوے سیکنڈ
9۔سردی کی کھانسی میں چاکلیٹ کھانسی کے سیرپ سے پانچ گنا زیادہ بہتر اثر دکھاتی ہے۔لہٰذا سردی والی کھانسی میں چاکلیٹ کھایا کریں
10۔جتنی مرضی کوشش کر لیں جو مرضی کر لیں آپ یہ یاد نہیں کر سکتے آپ کا
خواب کہاں سے شروع ہوا تھا۔

11۔کوئی بھی جذباتی دھچکا پندرہ یا بیس منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا اس کے بعد کا جذباتی وقت آپ کی "اوور تھنکنگ " یعنی اس کے بارے میں زیادہ سوچنے کی وجہ سے ہوتا ہے جس سے آپ خود کو زخم لگاتے ہیں
12۔ عام طور پر آپ اپنے آپ کو آئینے میں حقیقت سے پانچ گنا زیادہ حسین دیکھتے ہیں۔ یا سمجھتے ہیں۔
13۔ سائنس کے مطابق نوے فیصد لوگ اس وقت گھبرا جاتے ہیں جب انھیں یہ میسج آتا ہے
"کچھ پوچھوں آپ سے"
Can I Ask you a question
میں بھی اکثر آپ کا یہ مسیج پڑھ کر چونک سا جاتا ہوں۔کہ معلوم نہیں کیا پوچھنا چاہتا ہے۔
14۔ زمین سے سب سے نزدیک ستارہ سورج ہے جو زمین سے 93 ملین میل دور واقع ہے
15۔ مکھی ایک سیکنڈ میں 32 مرتبہ اپنے پر ہلاتی ہے
16۔ دنیا کے 26 ملکوں کو سمندر نہیں لگتا
17۔ مثانے میں پتھری کو توڑنے کا خیال سب سے پہلے عرب طبیبوں کو آیا تھا
18۔ گھوڑا، بلی اور خرگوش کی سننے کی طاقت انسان سے زیادہ ہوتی ہے، یہ کمزور سے کمزور آواز سننے کے لیے اپنے کان ہلا سکتے ہیں
19۔تیل کا سب سے پہلا کنواں پینسلوینیا امریکا میں 1859ء میں کھودا گیا تھا
20۔ کچھوا، مکھی اور سانپ بہرے ہوتے ہیں
21۔ تاریخ میں القدس شہر پر 24 مرتبہ قبضہ کیا گیا
22۔ دنیا کا سب سے بڑا پارک کنیڈا میں ہے
23۔ہٹلر برلن کا نام بدل کر جرمینیا رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا
24۔ دنیا میں سب سے زیادہ پہاڑ سوئٹزر لینڈ میں پائے جاتے ہیں
25۔دنیا کے سب سے کم عمر والدین کی عمر 8 اور 9 سال تھی، وہ 1910ء میں چین میں رہتے تھے۔
26۔ تمام پھلوں اور سبزیوں کی نسبت تیز مرچ میں وٹامن سی کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
27۔اللہ تعالی نے سب سے پہلا دن ایتوار (اتوار) بنایا تھا۔( بائبل میں ایسا ہی لکھا ہے اور شائد قرآن اور حدیث اس بارے میں خاموش ہے۔مجھے لگتا ہے جمعہ پہلا دن تھا۔واللہ اعلم)
28-فرعونوں کے زمانے کے مصر میں ہفتہ 10 دن کا ہوتا تھا
29۔تتلی کی چکھنے کی حس اس کے پچھلے پاؤں میں ہوتی ہے
30-دنیا کی سب سے طویل جنگ فرانس اور برطانیہ کے درمیان ہوئی تھی، یہ جنگ 1338ء کو شروع ہوئی تھی اور 1453 کو ختم ہوئی تھی، یعنی یہ 115 سال


31-قطبِ شمالی کے آسمان سے سال کے 186 دن تک سورج مکمل طور پر غائب رہتا ہے
32۔ٹھنڈا پانی گرم پانی سے زیادہ ہلکا ہوتا ہے۔ کیمسٹری
33۔دنیا کے ہر شخص کی اوسط فون کالز کی تعداد 1140 ہے
34-وہیل کی اوسط عمر 500 سال ہوتی ہے۔
35-فرانس کے اٹھارہ بادشاہوں کا نام لوئیس تھا
36-دنیا پر سب سے پہلا گھر کعبہ معظمہ ہی بنایا گیا تھا۔
37-ربڑ کے زیادہ تر درخت جنوب مشرقی ایشیا میں پائے جاتے ہیں
38-اگر موٹے گلاس میں گرم مشروب ڈال دیا جائے تو پتلے گلاس کی نسبت اس کے ٹوٹنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں
39-انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے جسم میں 300 ہڈیاں ہوتی ہیں جو بالغ ہونے تک صرف 206 رہ جاتی ہیں۔ چھوٹی ہڈیاں مل کر بڑی ہڈیوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔
40-اٹھارویں صدی میں کیچپ بطور دواء استعمال ہوتا تھا


41۔ کوے کی بھی اوسط عمر پانچ سو سال تک ہوتی ہے۔
42۔اٹھارہ مہینوں کے اندر دو چوہے تقریباً 1 ملین اپنے ساتھی پیدا کر لیتے ہیں۔
43۔ انسانوں کے برعکس بھیڑ کے چار معدہ ہوتے ہیں اور ہر معدہ انہیں خوراک ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے۔
50۔ مینڈک کبھی بھی اپنی آنکھیں بند نہیں کرتا، یہاں تک کہ سوتے ہوئے بھی آنکھیں کھلی رہتی ہیں۔
51۔ شارک کے جسم میں کوئی ایک بھی ہڈی نہیں ہوتی۔
52 ۔جیلی فش کے پاس دماغ نہیں ہوتا۔
53۔ پینگوئن اپنی زندگی کا آدھا حصہ پانی میں گزارتے ہیں اور آدھا زمین (خشکی) پر
54۔ گلہری پیدا ہوتے وقت اندھی ہوتی ہے۔
55۔ کموڈو، چھپکلی کی لمبی ترین قسم ہے۔ جس کی لمبائی تقریباً 3 میٹر تک ہوتی ہے۔
56۔کینگرو پیچھے کی جانب نہیں چل سکتے۔
57۔ دنیا میں سب سے بڑا انڈہ شارک دیتی ہے۔
58۔دنیا میں سب سے ذہین جانور ایک پرندہ ہے، جسے انگریزی میں گرے پیرٹ اور اردو میں خاکستری طوطا کہا جاتا ہے۔
59۔ دنیا کا سب سے بڑا سرچ انجن گوگل روزانہ اربوں انسانوں کو ان کی مطلوبہ معلومات اور ویب سائٹس ڈھونڈ کر دیتا ہے۔ یہ سرچ انجن اسقدر پیچیدہ اور بڑی مقدار میں ڈیٹا اور معلومات کو اربوں انسانوں تک پہنچاتا ہے کہ اس کی طاقت اور رفتار کو دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
60۔ پینگوئین ایک ایسا جانور ہے جو نمکین پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کرسکتا ہے۔


61۔ گولڈ فش کو اگر کم لائٹ میں پکڑا جائے تو یہ اپنا رنگ کھودیتی ہے۔
62۔ جیلی فش کے سر کو Bell کہا جاتا ہے۔
63۔ ایک مرغی سال میں اوسطاً 228انڈے دیتی ہے۔
64۔ بلیاں اپنی زندگی کا 66 فیصد حصہ سو کر گزارتی ہیں۔
65۔ جھینگے کا خون بیرنگ ہوتا ہے لیکن جب یہ آکسیجن خارج کرتا ہے تو اسکا رنگ نیلا ہوجاتا ہے۔
66۔ بیل نیچے کے بجائے اوپر کی طرف زیادہ تیزی سے دوڑتے ہیں۔
67۔ ہاتھی کے دانتوں کو دنیا کے سب سے بڑے دانت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
68۔ دنیا کے سب سے چھوٹے لال بیگ کا سائز صرف 3 ملی میٹر ہے۔
69۔ شارک کے دانت ہر ہفتے گرتے ہیں۔
70۔ دریائی گھوڑا ایک ہی وقت میں دو مختلف سمت میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے


70۔ دریائی گھوڑا ایک ہی وقت میں دو مختلف سمت میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
71۔ برفانی ریچھ 25 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے اور ہوا میں 6فٹ کی بلندی تک چھلانگ لگاسکتا ہے۔
72۔ ایک ٹائیگر کی دم اس کے جسم کی کل لمبائی کی ایک تہائی تک بڑھ سکتی ہے۔
73۔ مچھلی کسی چیز کا ذائقہ چکھنے کیلئے اپنی دم اور پنکھ استعمال کرتی ہے۔
74۔ ڈریگن فلائی کی 6 ٹانگیں ہوتی ہیں لیکن وہ پھر بھی نہیں چل سکتی۔
75۔ ایسی سفید بلیاں جو نیلی آنکھوں والی ہوتی ہیں عام طور پر وہ بہری ہوتی ہیں۔
76۔ افریقی ہاتھیوں کے 4 دانت ہوتے ہیں۔
77۔ زرافہ جمائی نہیں لے سکتا۔
78۔ ایک گونگا مستقل 3 سال سونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
79۔دنیا میں صرف ایک دن میں اوسطا 55ارب مشروبات استعمال کی جاتی ہیں
80۔ شاہد آفریدی نے جب تیز ترین سنچری کا ریکارڈ بنایا تو وہ بھارتی سٹار سچن ٹنڈولکر کا بیٹ استعمال کررہے تھے۔
81۔کیا آپ اللہ کی قدرت کے مظہر" انسانی جسم "کے متعلق یہ حیرت انگیز بات جانتے ہیں۔کہ انسانی جسم میں موجود خون کی نالیوں کی مجموعی لمبائی 60 ہزارمیل کے برابر ہے۔
82۔سام سانگ کوریائی زبان کے دو لفظوں کا مجموعہ ہے سام اورسانگ ۔سام کا مطلب" تین" اور سانگ کا مطلب "ستارے "ہے۔ یعنی تین ستارے
83۔سمندر کی زیادہ سے زیادہ گہرائی تقریبا11 کلومیڑ (10923میڑ )ہے
84۔دنیا میں بانوے فیصد لوگ گوگل کا استعمال اپنے اسپیلنگ چیک کرنے کے لئے کرتے ہیں۔اور پاکستان میں 80 فیصد لوگ گوگل کا استعمال اس لئے کرتے ہیں کہ پتہ چل سکے انٹرنیٹ چل رہا ہے کہ نہیں۔
85۔مینڈک کی زبان میں تین گنا بڑا شکار دبوچنے کی طاقت ہوتی ہے

 
بم پھٹا، دہشت گرد پکڑو! ٹیمیں بنائو! موم بتیاں جلائو! کمیٹیاں بنائو! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ!
فائرنگ ہوگئی! سی سی ٹی وی فوٹیج لائو! ٹیمیں بنائو! موم بتیاں جلائو! کمیٹیاں بنائو! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ!
تھر میں لوگ بھوک سے جاں بحق ہو رہے ہیں! بیپر بنائو! ٹیمیں بنائو! کمیٹیاں بنائو! موم بتیاں جلائو!ہبڑدبڑ! ہبڑدبڑ! ہبڑ دبڑ!
سیلاب آگیا! ٹکر چلائو! موم بتیاں جلائو! ٹیمیں بنائو! کمیٹیاں بنائو! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ!
بجلی چلی گئی! پھر سے موم بتیاں جلائو! ٹیمیں بنائو! کمیٹیاں بنائو! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ!
سیاسی کارکن کی ویڈیو منظرِ عام پر آگئی! موم بتیاں (نہیں) جلائو! ٹیمیں (نہ) بنائو! کمیٹیاں (ضرور) بنائو! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ!
طوفان کا خدشہ ہے! موم بتیاں (نہیں، نہیں) اگر بتیاں جلائو! ٹیمیں بنائو! کمیٹیاں بنائو! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ! ہبڑ دبڑ!
نجانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہی کوئی سانحہ پیش آتا ہے پوری قوم اس کے پیچھے پڑ جاتی ہے لیکن کچھ ہی دنوں میں اس مسئلے کو بھول بھال کر پھر سے مست ہوجاتی ہے۔ اردو کی اصلاح میں اس کیفیت کو ’آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل!‘ کہا جاتا ہے۔ اور جیسے ہی کوئی نیا سانحہ پیش آتا ہے، سب اس کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جاتے ہیں۔ معاملہ منطقی انجام تک پہنچا ہے کہ نہیں، پہنچانا کس کی ذمہ داری تھا اور اب یہ کس کی ذمہ داری ہے۔ اس امر کی تصدیق کرنا کوئی گوارہ نہیں کرتا ہے۔ نتیجتاً یہ سب معاملے، فیس بک کی چیٹ، اسٹیٹس پر آنے کمنٹس اور اخبارات کی آرکائیوز کی نظر ہوجاتے ہیں۔
ہم حال میں جیتے ہیں۔ نہ ماضی پر نظرِ ثانی کرتے ہیں اور نہ ہی مستقبل کی پیش بندی کرتے ہیں۔ اور جیسے ہی ایک سے زائد مسائل ہم پر آن پڑتے ہیں، ہم بجائے اس کے کہ انہیں یکے بعد دیگرے یا پھر ساتھ ساتھ سلجھائیں۔ اس بحث میں پڑ جاتے ہیں کہ پہلے کیا کریں؟ اور اسی تکرار میں یا تو مسئلہ پرانا ہوجاتا ہے اور ہم اسے بھول جاتے ہیں۔ یا پھر ایک نیا مسئلہ آن پڑتا ہے۔ اور نئے ہیش ٹیگ، نئے نعرے، نئی موم بتیاں، نئی کمیٹیاں بنانے میں جت جاتے ہیں۔
اس کیفیت کو کسی بھی قسم کی تیاری نہ ہونا کہتے ہیں، نہ ہمارے پاس اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پراسیجر یعنی کہ معياری طریقہ کار برائے انتظامی امور ہیں، نہ ٹرمز آف ریفرنس یعنی کہ مروجہ شرائط، نہ ہی کوئی پرائے آرٹیز یعنی کہ ترجیحات اور نہ ہی بیک اپ پلین یعنی کہ ہنگامی تدابیرہیں۔ بس ہبڑ دبڑ، ہبڑ دبڑ، ہبڑ دبڑ! اس طرح کے کام حکومتوں کے پلاننگ اینڈ دویلپمنٹ ڈویژن کرتے ہیں۔ یہ کام سول سوسائٹی بھی بہترین طریقے سے کرسکتی ہے اگر وہ اپنی توانائیاں سڑک پر کھڑے ہونے پر استعمال کرنا چھوڑدے تو! اور یہ کام تھن ٹینک بھی بہترین طریقے سے کرسکتے ہیں۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ یہ تینوں الگ الگ، ایک ہی مسئلے کا حل دریافت کرنے میں لگے ہوں، تب بھی ایک مشکل موجود رہے گی، بجائے اس کے کہ کام بانٹ لیا جائے سب ایک ہی کام پکڑ لیں گے، اور نتیجتاً تین ایک جیسے آدھے ادھورے حل دریافت کر کے بیٹھ جائیں گے!
یہاں میں اقوامِ متحدہ کی مثال پیش کرنا چاہوں گا۔ اقوامِ متحدہ ہر سال کو ایک خاص کام، یا کسی مسئلے کے حل سے منسوب کردیتی ہے۔ جیسے ۲۰۰۹ انسانی حقوق کی تعلیمات کا سال کہلایا، ۲۰۱۰ نوجوانوں کا، ۲۰۱۱ جنگلات کا، ۲۰۱۲ کوآپریٹوز کا، ۲۰۱۳ پانی کی شراکت داری کا، ۲۰۱۴ فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا اور ۲۰۱۵ روشنی کا سال کہلایا ہے نیز سال ۲۰۱۶ دالوں سے منسوب ہے۔ پورا سال وہ اس ایک کام کے حصول پر ہر فورم پر زور دیتے رہتے ہیں۔ نیز اقوامِ متحدہ نے سنہ۲۰۰۰ میں ۸ میلینیم ڈویلپمنٹ گولز یا ہزاریہ ترقیاتی اہداف کا اعلان کیا تھا جن کی تکمیل ۱۵ سال میں کرنا مقصود تھی۔ ایک طرف ایک ادارہ ۱۵ سال کی پلاننگ کر ڈالتا ہے اور دوسرے طرف ہم، جو ایک مہینے کی پلاننگ تک نہیں کر پاتے ہیں۔ ہمارے ادارے اور ہر شہری کی جان کو خطرہ لاحق ہے لیکن مجال ہے جو ہم نے اس بارے میں کوئی لائحہ عمل طے کیا ہو!
ہاں ایک ان دیکھا اصول ضرور ہے اور وہ ہے اپنی جان و مال کا تحفظ اور یہاں اپنی جان سے مراد سیاستدانوں کی جان ہے۔ سب سے محفوظ گھر سیاستدان کا، سب سے محفوظ دفتر سیاسی جماعت کا اور سب سے محفوظ راستہ سیاستدان کے قافلے کا۔ سوائے اس ایک کام کی پلاننگ کے ہمارے یہاں اور کسی کام کی پلاننگ نہیں ہوتی ہے۔
ہمارا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی و انتہا پسندی ہے (میرے خیال میں) اور دوسرا بڑا مسئلہ غربت و افلاس ہے (یہ بھی میرے مطابق)، تیسرا تعلیم کی دگرگوں صورتِ حال، چوتھا بجلی و توانائی کا بحران، پانچواں مواصلات و آمد و رفت کا برباد نظام اور چھٹا صحت کی سہولیات کا عنقا ہونا ہے۔ میں غلط ہوں اس بات کے سو فیصد امکانات موجود ہیں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ میں سو فیصدی صحیح بھی ہوں! کم از کم میرے پاس ایک فہرست تو ہے! اب ان مسائل کے سدِ باب کے لیئے میں، انفرادی، اجتماعی، فوراً، نصف مدتی اور دیرپا نتائج پر مبنی ۶ مختلف حل دریافت کر سکتا ہوں۔
لیکن کیا ہماری مقننہ ایسا کرتی ہے؟ کیا ہماری سول سوسائٹی سڑک پر آنے سے پہلے کچھ سوچتی ہے۔ اسی پلاننگ کے نہ ہونے کی وجہ سے ہماری پالیسیاں غلط طریقوں سے استعمال ہوجاتی ہیں اور ہمارے ’احتجاج‘ فائدہ حاصل کرنے کے بجائے دو چار مریضوں کی جان لے لیتے ہیں۔
ڈویلپمنٹ پلان سے قریب ترین چیز ہمارے پاس سیاسی جماعتوں کے منشور ہوتے ہیں۔ لیکن پتہ نہیں کیوں وہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ عمل پذیر ہی نہیں ہوپاتے ہیں۔ اور اگر خوش قسمتی سے کوئی سیاسی جماعت اپنے منشور پر عمل کرنے میں کامیاب بھی ہوجائے تو مخالف پارٹیاں اس کام کے خلاف زبردست پراپیگنڈا کر ڈالتی ہیں۔
ہمیں ایڈہاک ازم سے بچنے کی اشد ضرورت ہے! یہ ایڈہاک ازم ہی ہے کہ ہم ضرورت پڑنے پر جگاڑ کے ذریعے کام نکالنے کے چکر میں مسائل کو مزید پے چیدہ بنا ڈالتے ہیں۔
تہجد سے مراد رات کے پچھلے پہر اٹھ کر اللہ کے حضور جھک جانا اور نوافل ادا کرنا ہے۔ تہجد وہ نفل نماز ہے جس کے لئے حکم الٰہی موجود ہے۔ امت مسلمہ کو اس کا حکم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔ آپؐ نے صحابہ کرام کو اس کی تلقین بھی کی اور ترغیب بھی دی۔
قرآن کریم میں آپؐ کو اس طرح حکم دیا گیا:
”اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد کرو یہ خاص تمھارے لئے زیادہ ہے قریب ہے کہ تمھیں تمھارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمھاری حمد کریں“(ترجمہ کنزلایمان: سورۃ بنی اسرائیل آیت ۷۹)
سورۃ الدھر آیت ۲۶ میں ارشاد ہے:
”رات کے وقت اس کے سامنے سجدے کرو اور بہت رات تک اس (اللہ کی) تسبیح بیان کیا کرو۔“
سورۃ طور آیت ۴۹ میں ارشاد ہے:
”اور رات کو بھی اس کی تسبیح پڑھو اور ستاروں کے ڈوبتے وقت بھی۔“
ان آیات مبارکہ کے مطابق نماز تہجد، سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک زائد فرض نماز تھی جس کا مقصد آپؐ کے درجات کو مزید بلند کرنا ہے (کیوں کہ نبی معصوم ہوتا ہے۔ اس سے گناہ سرزد نہیں ہوتے) مقام محمود وہ مقام یا درجہ ہے جو قیامت کے روز رسول عربی کو عطا کیا جائے گا۔ اسی مقام سے آپؐ امت مسلمہ کی شفاعت فرمائیں گے۔
احادیث میں تہجد نماز کی بے حد فضیلت آئی ہے۔ نفل نمازوں میں یہ اللہ تعالٰی کی پسندیدہ ترین عبادت ہے، لیکن یہ عبادت نہ تو نبی کریمؐ پر فرض یا واجب تھی اور نہ ہی آپؐ کی امت پر!
نماز تہجد ۔ ترغیب، تاکید اور فضائل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تہجد کی نماز سنت ہے۔ یہ وہ نفل نماز ہے جو تمام نفلی نمازوں پر بھاری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اس کا اہتمام فرمایا اور صحابہ کرام کو بھی اس کی تلقین اور ترغیب دی۔
اس حوالے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے:
”تم تہجد ضرور پڑھا کرو ، کیوں کہ وہ تم سے پہلے صالحین کا طریقہ اور شعار رہا ہے۔ یہ تمھارے رب کا قرب حاصل کرنے کا خاص وسیلہ ہے۔ یہ گناہوں کے برے اثرات کو مٹانے والی اور گناہوں کو روکنے والی ہے“
(ترمزی شریف)
سورۃ آل عمران آیت ۱۱۳ تا ۱۱۵ میں فرمان الٰہی ہے:
”سارے کے سارے یکساں نہیں، بلکہ ان اہل کتاب میں ایک جماعت حق پر قائم رہنے والی بھی ہے جو راتوں کے وقت بھی کلام اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدے بھی کرتے ہیں۔ یہ اللہ تعالٰی پر اور قیامت کے روز پر ایمان بھی رکھتے ہیں۔ بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں۔ برائیوں سے روکتے ہیں۔ بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں۔ یہ نیک بخت لوگ ہیں۔ یہ جو کچھ بھی بھلائیاں کریں، ان کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور اللہ تعالٰی پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے۔“
ایک اور مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز درمیانی رات کی نماز تہجد ہے۔“
(مسلم، حاکم، ابن ماجہ، ترمزی)
ایک اور حدیث مبارکہ میں آیا ہے: ”اللہ تعالٰی رات کے آخری حصہ میں بندے سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ پس اگر ہو سکے تو تم ان بندوں سے ہو جاؤ جو اس مبارک وقت میں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔“
(ترمزی شریف)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالٰی رات کے آخری تہائی حصہ میں آسمان سے دنیا کی طرف نزول کر کے فرماتا ہے کہ کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اسے عطا کروں؟ کوئی ہے جو مجھ سے بخشش اور مغفرت طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں؟“
(بخاری شریف)
نماز تہجد دراصل قبولیت دعا کا وقت ہے، اس لئے اس وقت جو بھی مانگا جائے وہ دنیا و آخرت میں ضرور ملے گا۔ آیات قرآنی اور احادیث مبارکہ کی رو سے نماز تہجد ، نفلی عبادت ہے اور دیگر نفلی عبادات میں افضل ترین ہے۔ اس کا درجہ فرض نماز کے بعد سب سے افضل ہے، اس لئے اس کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔
نماز تہجد کا افضل وقت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نماز تہجد کا افضل وقت رات کا آخری حصہ ہے۔ اس میں کم از کم دو رکعت اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعت ادا کی جاتی ہیں۔ (بخاری)
اگر رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے کی ہمت نہ ہو تو عشاء کی نماز کے بعد بھی چند رکعت تہجد کی نیت سے پڑھی جا سکتی ہے مگر اس سے ثواب میں کمی ہو جاتی ہے۔
دیگر نفل نمازوں کی طرح نماز تہجد بھی گھر ہی میں پڑھنی افضل ہے۔
رات کی نفل نماز میں افضل یہ کہ دو دو رکعت کر کے پڑھی جائیں۔ تہجد کی رکعت بھی دو دو کر کے پڑھی جاتی ہیں۔
نماز تہجد کا طریقہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تہجد کی نماز نصف شب کے بعد بیدار ہو کر پڑھی جاتی ہے۔ نبی کریمؐ کبھی نصف رات کے کچھ دیر بعد یا کبھی رات کے پچھلے پہر اٹھتے، اللہ کی تعریف بیان کرتے، مسواک کرتے پھر وضو کرتے اور نماز تہجد میں مشغول ہو جاتے تھے۔ تہجد کی نماز اپنی دلی کیفیت کے مطابق قرآنی آیات پڑھی جائیں۔ مثلاً دل میں عجز و نیاز کی کیفیت ہو تو لمبی سورتیں پڑھی جائیں اور بیماری، کمزوری ، تھکاوٹ وغیرہ کی صورت میں چھوٹی یا درمیانی سورتوں کی تلاوت کی جائے۔ تہجد کی نماز میں معمول سے زیادہ طویل سجدہ کرنا سنت رسولؐ ہے۔ نماز تہجد کی رکعتوں کی تعداد کم ازکم دو اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعت منقول ہے۔ ویسے احادیث میں بارہ رکعات تک کا ذکر ملتا ہے، آٹھ رکعات پر زیادہ اتفاق ہے۔
وتر نماز تہجد کا حصہ ہیں، اس لئے جتنی بھی رکعت پڑھنا چاہیں، ان میں تین رکعت وتر شامل کر لیں۔ مثلاً اگر گیارہ رکعت تہجد کی نماز میں پڑھنے ہیں تو پہلے دو دو کر کے آٹھ رکعت نفل پڑھ لیں اور پھر تین رکعات وتر کی پڑھ لی جائیں۔
آج کی ہر گھڑی خواجہ نصر الدین کے لئے بیش قیمت تھی۔ اس لئے انہوں نے بازار میں آوارہ گردی نہیں کی۔ لیکن ایک سپاھی کا جبڑا اور دوسرے کے دانت توڑ کر اور تیسرے کی ناک چپٹی کر کے وہ صحیح سلامت اپنے دوست علی کے چا خانے لوٹ آئے۔ یہاں انہوں نے زنانی پوشاک اتار دی اور رنگین بدخشانی عمامہ اور مصنوعی داڑھی لگا لی۔ اس طرح بھیس بدل کر وہ ایسی جگہ بیٹھ گئے جہاں سے وہ ساری لڑائی کا مشاہدہ کر سکیں۔ مجمع میں گھرے ہوئے سپاھی اپنے کو پوری طاقت کے ساتھ بچا رہے تھے۔ خواجہ نصر الدین کے بالکل پاس چائے خانے کے برابر ایک کشمکش شروع ہو گئی۔ ان سے کسی طرح ضبط نہ ہوا اور انہوں نے اپنی چا دانی سپاھیوں پر خالی کر دی اور یہ اس مہارت سے کیا کہ انڈے گٹک جانے والے موٹے اور کاہل سپاھی کی گردن پر پانی دوڑ گیا۔ وہ چلا کر زمین پر چت گر پڑا اور اپنے ہاتھ پیر ہوا میں پھینکنے لگا۔ اس پر نگاہ ڈالے بغیر خواجہ نصر الدین پھر اپنے خیالات میں ڈوب گئے۔ اچانک انہوں نے کسی بڈھّے کی کانپتی ہوئی چیخ کی آواز سنی:   تفصیل سے پڑھئے
ممکن ہے یہ تحریر آپ کو ان لوگوں میں شامل ہونے سے بچا دے، جنہیںلٹنے کے بعد پچھتاوا ہوا ... انٹرنیٹ جہاں معلومات اور تفریح کا بہت بڑا ذریعہ ہے وہاں اس پر فراڈیے بھی ہر وقت سرگرم رہتے ہیں۔ وہ انٹرنیٹ پر آپ کی تمام سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں اور موقع ملتے ہی آپ کودھوکا دے کر لوٹ لیتے ہیں۔ آج کل انٹرنیٹ پر 8قسم کے فراڈ زیادہ کیے جا رہے ہیں۔ ان کی تفصیل دی جا رہی ہے تاکہ آپ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے محتاط رہیں اور اگر کوئی فراڈیا آپ کو دھوکا دینے کی کوشش کرے تو آپ اس مضمون میں دیے گئے طریقوں پر عمل کر کے لٹنے سے بچ جائیں۔  تفصیل سے پڑھئے
اس سے قبل اردو زبان کی دس بہترین سوانح عمریوں پر پڑھنے والوں نے جس بھرپور ردِ عمل کا اظہار کیا اس کے بعد میں نے کوشش کی ہے کہ اردو زبان میں شائع ہونے والے دس بہترین ناولوں کی فہرست پیش کروں۔
اس سے پہلے پیش کی گئیں فہرستوں کی طرح ناولوں کی یہ فہرست ان کی اہمیت، علمی ، ادبی اور ثقافتی اہمیت، مطالعے اور مناسبت کے تحت مرتب کی گئی ہے ۔ معاف کیجئے گا کہ اس میں نام نہاد ' مقبول فکشن' یا ڈائجسٹ ادب شامل نہیں یا وہ ادب جسے ڈرامہ دیکھنے والی خواتین سراہتی ہیں۔ لیکن اس بار بھی میں یہی کہوں گا کہ شاید ہی کوئی فہرست ایسی ہوسکتی ہے جس پر ہر ایک متفق ہوسکے۔
تو اگر آپ اس فہرست سے متفق نہیں تو دس بہترین ناولوں کی اپنی کوئی فہرست بنانے کی مکمل آزادی ہے۔ ایک وقت تھا جب نقاد اردو ناولوں کے متعلق مایوس تھے۔ کئی ایک نے کہا کہ عظیم ناول تو دور کی بات، اردو زبان میں تو ایک درجن ناول بھی ایسے نہیں جنہیں اچھے ناول قرار دیا جاسکے۔
لیکن ناول نگار اور نقاد، عزیز احمد اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ اپنے ایک مضمون میں انہوں نے کہا ہے کہ جنہوں نے اردو ادب کا مطالعہ نہیں کیا یا کسی ناول کو گہرائی میں نہیں پڑھا وہی اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔
ایک اور ادیب شہزاد منظر کہتے ہیں کہ آزادی کے بعد کئی اچھےناول لکھے گئے اور ان کا کہنا ہے کہ 1970 کے عشرے میں میں بہتر ناول منظرِ عام پر آئے۔
شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ زرعی معاشروں میں شاعری کو نثر پر فوقیت حاصل تھی اور ناول صنعتی عہد کی پیداوار ہے۔ لیکن گزشتہ پندرہ برسوں میں اچھے اردو ناول تواتر سے شائع ہوتے رہے ہیں۔ مصنف عرفان جاوید کے مطابق لگ بھگ گزشتہ دس سال میں اردو ناولوں کا احیا ہوا ہے۔
1- فسانہ آذاد:
چونکہ شاید آج مشکل سے اسے ناول کا درجہ مل سکے ہم ابتدائی اردو ناولوں مثلاً مولوی نذیر احمد کے مراۃ العروس (1869) کو چھوڑ کر ایک شاہکار ناول کی بات کریں گے جسے پنڈت رتن ناتھ سرشار نے لکھا تھا۔ 'فسانہ آزاد' (1878) میں منظرِ عام پر آیا اور اس پر عام اعتراض یہی کیا جاتا ہے کہ اس میں حقیقی پلاٹ کی کمی ہے اور اس کی ضخامت اسے بہت بھاری بھرکم ناول میں تبدیل کرتی ہے۔ لیکن دنیا کے عظیم ترین ناولوں کے ساتھ بھی یہی کچھ معاملہ ہے جن میں ' وار اینڈ پیس' اور ' دی برادرز کراموزوف' قابلِ ذکر ہیں۔ اس میں خالص اردو میں لکھنو تہذیب کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں ایک مسخرا نما کردار خوجی کا بھی ہے جسے اردو ادب کے اولین مزاحیہ کرداروں میں سے ایک قرار دیا جاسکتا ہے۔
2- امراؤ جان ادا:
1899 میں لکھا گیا یہ ناول، اردو ناولوں کے عروج کی ایک لحاظ سے علامت اور اشارہ تھا۔ ناقدین کی رائے اب بھی اس پر تقسیم ہےکہ امراؤ کوئی اصلی کردار تھا بھی یا نہیں لیکن یہ ناول مرزا ہادی رسوا کی فکشن پر زبردست مہارت کو ظاہر کرتا ہے۔ بظاہر یہ ایک طوائف کا زندگی نامہ ہے لیکن اسے انیسویں صدی کے دوسرے نصف حصے میں لکھنؤ کے تہذیب اور معاشرے کا عکاس ناول قرار دیا جاسکتا ہے۔
3- گئودان:
منشی پریم چند کے تمام ناولوں میں سے گئودان (1936) کو سب سے بہترین کام کا درجہ حاصل ہے۔ اس میں ہندوستان کے کسانوں کی تکلیف دو زندگی کو دکھایا گیا ہے۔ پریم چند نے دہقانوں پر ہونے والے ظلم کی نقشہ کشی کی ہے۔ پریم چند نے پہلے اردو زبان میں لکھنا شروع کیا تھا لیکن دھیرے دھیرے وہ ہندی زبان کی جانب بڑھتے گئے جبکہ گئودان تو سب سے پہلے دیوناگری رسم الخط میں لکھا گیا تھا اور اسے اقبال بہادر ورما ساحر نے اردو میں ڈھالا تھا۔ لیکن اب بھی اسے اردو ناول ہی قرار دیا جاسکتا ہے اور وہ بھی بہترین اردو ناولوں میں سے ایک۔
4- آگ کا دریا:
اسے اردو زبان کا سب عظیم ناول بھی قرار دیا جاتا ہے۔ معروف ناول نگار ، قراۃ العین حیدرکی تخلیق آگ کا دریا (1957) نے ایسے کئی تنازعات کو جنم دیا جو آج بھی ختم نہیں ہوئے۔ اس پر ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ یہ ورجینیا وولف کے سوانحی ناول اورلینڈو سے متاثر ہوکر لکھا گیا ہے۔ اس ناول کی سوانح عمری تین سو سال پر محیط ہے اور ناول میں مصنفہ نے جو خیالات پیش کئے اس پر انہیں ہراساں بھی کیا جاتا رہا تھا۔ اگرچہ اس کے پہلے دوسو صفحات پڑھنا مشکل ہے لیکن اس ناول میں برصغیر کی 2,500 سالہ تاریخ سموئی گئی ہے اور اگر آپ اسے گرفت میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو گویا تاریخ بھی آپ کو گرفت میں لے لیتی ہے۔
5- اداس نسلیں:
یہ عبداللہ حسین کا وہ ناول ہے جسے انہوں نے راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا۔ اگرچہ قرۃ العین صدیقی نے عبداللہ حسین پر نقل کے الزامات لگائے تھے اور صفحہ نمبر تک کے حوالےدیئے تھے کہ اس میں آگ کا دریا ناول کا اسلوب اور پیراگراف شامل کئے گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اداس نسلیں آزادی کے بعد تحریر کئے جانے والے اہم ترین اردو ناولوں میں سے ایک ہے۔ اس میں دہلی اور پنجاب کے درمیان ایک گاؤں کا منظر پیش کیا گیا ہے جس میں میں ہندو، مسلم اور سکھ بستے ہیں۔
6- آنگن:
1962 میں تصنیف کئے جانے والے اس ناول کو ایک شاہکار قرار دیا جاسکتا ہے۔ دیگر فکشن کی طرح اسے تاریخ کی طرح نہیں پڑھا گیا ۔ یہی اسٹائل خدیجہ کی مقبولیت اور عظمت کی وجہ بنا ہے۔
7- خدا کی بستی:
اردو کے مقبول ترین ناولوں میں سے ایک خدا کی بستی کو شوکت صدیقی نے تحریر کیا ہے اور اب تک اس کے 50 ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اور 20 زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا ہے۔ خدا کی بستی میں پچاس کے عشرے کا کراچی دکھایا گیا اور اس میں کچی بستی کی منظر کشی کی گئی ہے۔ خدا کی بستی ایک ایسے معاشرے کی کہانی ہے جو معاشی اور سیاسی نشیب و فراز کے باوجود بقا کی جدوجہد میں مصرف ہے۔ اس کی حقیقی زبان اور عامیانہ انداز سے ہر کردار اور منظر حقیقی نظر آتا ہے۔
8- بستی:
انتظار حسین کے بعد ہی ان کا یہ ناول قدرے متنازعہ ہوگیا تھا۔ انتظار حسین پر اکثر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ بہت ناسٹلجک ہوجاتے ہیں اور یادوں میں گم ہوجاتے ہیں لیکن انتظار حسین کا فن بھی یہی سے شروع ہوتا ہے۔ وہ مایتھولوجی میں حوالہ جات کے ساتھ کہانی کو زبان کی چاشنی سے ایک خوبصورت رنگ عطا کرتے ہیں۔
9- چاکیواڑہ میں وصال:
محمد خالد اختر ایک ممتاز مزاح نگار تھے اور ان کے اس ناول کو فیض احمد فیض نے بھی نامزد کیا ہے۔ اس میں بیان کردہ ہر شے میں طنز و ظرافت کا رنگ موجود ہے۔ لیاری کے علاقے چاکیواڑہ کے پس منظر میں لکھی گئی اس تخلیق میں چاکیواڑہ کے کردار زندہ ہوجاتےہیں۔
10- راجہ گدھ:
1980 کے عشرے میں لکھے گئے اس ناول میں بانوقدسہ نے ایک سماجیاتی نظریہ پیش کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہےکہ کرپشن کی ہر شکل کسی نہ کسی ذہنی عارضےکو پیدا کرتی ہے۔ ہمارا معاشرہ بد عنوانی میں گھرا ہے اور اس میں مصنف نےبتایا ہےکہ کسطرح کرپٹ کردار تکلیف اٹھاتے ہیں۔
کئی چاند تھے سرِ آسمان:
اگر ناولوں کی اس فہرست میں کوئی دوسرا ہم عصر ہوسکتا ہے تو وہ شمس الرحمان فاروقی کا ناول ' کئ چاند تھے سرِ آسماں ' ہوسکتا ہے۔ اس میں برصغیر کا کلچر اور کردار دکھائے گئے ہیں۔ ناول میں غالب کا سراپا پڑھنے کے قابل ہے

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
جرمنی میں بزنس اور کمپنی ڈاکٹرز کی ملکی تنظیم کے صدر ڈاکٹر وولفگانگ پانٹر کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ جب اپنے اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، تو وہ لمبے عرصے تک اپنی گردن کو اس طرح جھکائے رکھتے ہیں کہ یوں ان کی گردن کے پٹھے مسلسل دباؤ میں رہتے ہیں۔ڈاکٹر وولفگانگ پانٹر اس صورتحال کے لیے Text Neck کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گردن اور کمر کے درد سے بچنے کے لیے اہم بات یہ ہے کہ یہ جدید آلات ایسے استعمال کیے جائیں کہ ان کہ وجہ سے جسمانی دباؤ کم سے کم ہو۔  تفصیل سے پڑھئے

صرف 6 بنیادی اصولوں پر عمل کر کے آپ بھی تخلیقی سوچ کے مالک بن سکتے ہیں۔
سائنسی ایجادات نے ہماری زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے، گزشتہ برسوں کے مقابلے میں آج سائنسی ایجادات کی بدولت زندگی نہایت سہل اور آسان سے آسان تر ہوتی جارہی ہے۔ چاہے گھریلو کام ہوں یا بڑے پیمانے پر کارخانوں کے معمولات ہر شعبہ ہائے زندگی میں نت نئی سائنسی ایجادات اور آلات کی آمد نے انسان کی زندگی کو بہت آرام پہنچایا ہے اور بلاشبہ ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ معاشرے کی ترقی میں سائنسی ایجادات نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ معاشرتی ترقی کی بہترین مثال جاپان کے جدیدترین ٹیکنالوجی سے تیار کر دہ روبوٹس ہیں جن کو دنیا بھر میں شہرت ملی۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعتوں میں ٹیکنالوجی کی آمد نے بھی تہلکہ مچایا ہے اور اس ٹیکنالوجی کی بدولت ہی آج معاشی ترقی عروج پر ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
آپ کہیں خالی ہاتھ جائیں اور واپسی پر آپ کے پاس قیمتی انعامات ہوں تو آپ کے احساسات کیا ہوں گے؟ یقیناٌ بہت خوش ہوں گے آپ۔ ایسے ہی کسی خیال کے تحت ہمارے چینلز نے ایسے گیم شوز شروع کئے جہاں لوگوں میں خوب انعامات بانٹے جاتے ہیں۔
بنیادی طور پر یہ ذہنی آزمائش کے پروگرام ہیں جن میں ’’آئی کیو‘‘ اور ’’جنرل نالج‘‘ کا امتحان ہوتا ہے۔ لیکن صد افسوس کہ اکثر شوز کے شرکاء سیدھے سادے آسان سوالوں کے جواب بھی نہیں دے پاتے کجا دینی معلومات پر مبنی جوابات۔ پچھلے دنوں ایسے ہی ایک پروگرام کے شرکاء قائداعظم کا پیشہ نہ بتاسکے، ایک اور پروگرام میں دیکھا کہ لوگوں کو یہ تک نہیں معلوم تھا کہ اسلام آباد کی بنیاد کس نے رکھی۔ کوئی اسٹیچو آف لبرٹی کو اسلام آباد میں نصب کرواکر شاداں تھا تو کوئی روس کے دارالحکومت کا نام نہ جاننے پر نازاں، حد تو یہ ہے کہ خطبہ الہ آباد کو اکبر الہ آبادی سے منصوب کردیا۔
بیچارے اینکر حضرات کی اِس اپیل کے باوجود کہ براہ کرم کچھ پڑھ کر پروگرام میں شرکت کریں، لوگ انتہائی بھونڈے پن سے غلط جواب دیتے ہیں۔ سارا زور بائیک حاصل کرنے پر ہوتا ہے چاہے رقص ہی کیوں نہ کرنا پڑے، لیکن درست معلومات کی بنیاد پر کوئی بائیک کا حقدار ٹھہرے ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔
یہ چند پروگرامز کے شرکاء کی معلومات اور ذہنی صلاحیتوں کا سوال نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی مزاحیہ نکتہ ہے بلکہ یہ ہماری قومی زندگی کا المیہ ہے کیونکہ اکثر ایسے بنیادی سوالوں کے غلط جواب طلباء کی طرف سے آتے ہیں حالانکہ یہ تمام چیزیں اسکول کے ابتدائی سالوں سے لیکر تعلیم کے اختتام تک تقریباً ہر مرحلے پر ہی پڑھائی جاتی ہیں لیکن آج کے طالبعلم کا کتاب و قلم سے رشتہ بس واجبی ہی ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو اِس قدر آسان سوالوں کے غلط جواب ہرگز نہیں دیتے۔
غلطی ہمارے تعلیمی نظام میں ہے جہاں طالبعلم کو رٹے مار کر یا نقل کرکے امتحان پاس کرنیکی عادت ہوچکی ہے۔ رہی سہی کسر ’گیس پیپر‘ پوری کردیتا ہے۔ پڑھانے والے کو بھی پتہ ہے کہ بس اتنا پڑھادو اسی میں سے پرچہ آئیگا، پڑھنے ولے کو بھی یقین ہے کہ فلاں ٹاپک اس سال ’امپورٹنٹ‘ نہیں ہے لہذٰا اسے چھیڑا ہی نہ جائے۔ ہوتا بھی یوں ہی ہے پھر کون اضافی معلومات حاصل کرنے کیلئے کورس سے ہٹ کر کچھ پڑھے۔
ایک ایسا ملک جہاں کتاب کلچرکا فقدان ہے، جہاں کتب خانے ویران ہوں وہاں میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی ذہنی صلاحیتوں اور معلومات میں اضافہ کرے لیکن کیا کریں کترینہ کیف کی سالگرہ بھی تو منانی ہوتی ہے۔ رہ گئے انٹرٹنمنٹ چینلز تو وہ بیچارے مارننگ شوز کی شادیاں نمٹا نمٹا کر ادھ موئے ہوئے جارہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ پی ٹی وی تفریح، معلومات، سیاست، کھیل سب کا ٹائم برابر تقسیم کرکے پروگرام ترتیب دیتا تھا اور ناظرین پر علم وآگہی کے دروازے کُھلے رہتے تھے۔ لیکن آجکل اول تو ایسا کوئی تصور ہے ہی نہیں اور اگر کوشش بھی کی جائے تو لوگ خود اسے بورنگ کہہ کر دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔
یہ سب اپنی جگہ لیکن سچ تو یہ بھی کہ لوگوں کو خود بھی صرف ہلا گلا اور وقتی تفریح ہی بھاتی ہے اسی لئے مطالعہ کے بجائے سیر سپاٹے کو ترجیح دیتے ہیں نتیجتاً پڑھے لکھے جاہلوں کی ایک کھیپ تیاری کے مراحل میں ہے جو ہم سب کے لیے قطعی طور پر اچھی خبر نہیں ہے۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
پاکستان کے شمال کے بارے میں ایک انگریز نے کہا تھا کہ اگر میرا بیٹا مجھ سے یہ سوال کرے کہ دنیا اپنی پیدائش کے وقت کس حالت میں تھی تو میں اس کی انگلی پکڑ کر پاکستان کے شمال میں لے جاؤں گا، اور حقیقت بھی یہی ہے۔
پاکستان کو پروردگار نے حسن سے مالا مال کیا ہے۔ اتنا ورسٹائل لینڈاسکیپ شاید ہی کسی مملکت کے نصیب میں ہو جہاں چاروں موسم، صحرا، منہ زور دریا، نیلگوں جھیلیں، دودھیا آبشاریں، ٹھنڈے چشمے، مِیلوں پھیلے ہوئے گلیشیئرز، دنیا کی بلند چوٹیاں، ہیبت ناک فلک شگاف پہاڑ اور دنیا کے تین بڑے پہاڑی سلسلے اسی ملک میں پائے جاتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
بازار میں بڑی چہل پہل تھی ۔ یہ زوروں کے کاروبار کا وقت تھا ، خرید و فروخت اور لین دین میں اضافہ ہو رہا تھا۔ سورج بلند ہوتا جا رہا تھا اور لوگ ڈھکی ہوئی اور طرح طرح کی مہک سے بھری دوکانوں کے گھنے سائے میں پناہ لینے کے لئے بھاگ رہے تھے۔ دوپہر کی تیز دھوپ کی کرنیں نرکل کی چھتوں کے روشندانوں سے عمودی گر رہی تھیں اور دھوئیں کے ستونوں کی طرح استادہ معلوم ہوتی تھیں۔ ان کی روشنی میں زربفت کے کپڑے جگمگا رہے تھے ، نرم ریشم چمک رہا تھا اور مخمل ایک ہلکے دبے دبے شعلے کی طرح دھکتا معلوم ہوتا تھا۔ چاروں طرف عمامے ، قبائیں اور رنگی ہوئی داڑھیاں روشنی میں چمک رہی تھیں۔ صاف شفاف تانبا آنکھوں میں چکا چوند پیدا کر رہا تھا لیکن صرافوں کے نمدوں پر پھیلا ہوا کھرا سونا اس کو منہ چڑھا کر اپنی خالص چمک سے نیچا دکھا رکھا تھا۔ تفصیل سے پڑھئے
خیر الدین پاشا باربروسا (پیدائش: 1475ء، انتقال: 1546ء) ایک ترک قزاق تھا جو بعد ازاں سلطنت عثمانیہ کی بحری افواج کا سربراہ مقرر ہوا اور کئی دہائیوں تک بحیرہ روم میں اپنی طاقت کی دھاک بٹھائے رکھی۔ وہ یونان کے جزیرہ مڈیلی (موجودہ لیسبوس) میں پیدا ہوا۔ اس کا انتقال استنبول میں ہوا۔ اس کا اصل نام خضر یعقوب اوغلو (خضر ابن یعقوب) تھا۔ خیر الدین کا لقب اسے عظیم عثمانی فرمانروا سلطان سلیمان قانونی نے دیا تھا۔ باربروسا کا نام اس نے اپنے بڑے بھائی بابا عروج (عروج رئیس) سے حاصل کیا تھا جو الجزائر میں ہسپانویوں کے ہاتھوں شہید ہوا تھا۔,,,
بابا عروج کی زیر نگرانی ابتدائی زندگی,,,,
خضر چار بھائیوں اسحق، عروج اور الیاس میں سے ایک تھا جو 1470ء کی دہائی میں یعقوب آغا اور ان کی عیسائی بیوی قطرینہ کے ہاں پیدا ہوا۔ چند مورخین یعقوب کو ایک سپاہی قرار دیتے ہیں جبکہ چند کا کہنا ہے کہ وہ سالونیکا کے قریب وردار کے شہر میں عثمانی فوج ینی چری کا حصہ تھا۔ ابتداء میں چاروں بھائیوں نے مشرقی بحیرہ روم میں تاجر اور جہازراں اور بعد ازاں قزاق کی حیثیت سے کام کیا جہاں ان کا ٹکراؤ اکثر و بیشتر جزیرہ رہوڈس پر موجود سینٹ جانز کے ناءٹس سے ہوتا تھا۔ ان جھڑپوں میں الیاس قتل ہوا جبکہ عروج کو گرفتار کرلیا گیا اور رہوڈز میں قید میں رکھنے کے بعد بطور غلام فروخت کردیا گیا۔ وہ غلامی کی زندگی سے فرار حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ور پہلے اٹلی اوربعد ازاں مصر پہنچا۔ جہاں وہ مملوک سلطان قانصوہ غوری سے ملاقات میں کامیاب ہوگیا جس نے عروج کو عیسائیوں کے زیر قبضہ بحیرہ روم کے جزائر پر حملے کے لئے ایک جہاز عطا کیا۔
1505ء تک عروج نے تین مزید جہاز حاصل کرلئے اور جربا کے جزیرے پر چھاؤنی قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا جس کی بدولت بحیرہ روم میں اس کارروائیوں کادائرہ مغرب کی جانب منتقل ہوگیا۔ 1504ء سے 1510ء کے دوران وہ اس وقت مشہور ہوا جب اس نے سقوط غرناطہ کے بعد عیسائیوں کے ہاتھوں اسپین سے نکالے گئے مسلمانوں کو شمالی افریقہ پہنچا۔ ہسپانوی مسلمانوں سے اس کا سلوک اتنا اچھا تھا کہ وہ ان میں بابا عروج کے نام سے مشہور ہوگیا اور یہی بابا عروج اسپین، اٹلی اور فرانس میں بگڑ کر باربروسا بن گیا۔ الجزیرہ کے لئے اسپین سے بچاؤ کاواحد راستہ عثمانی سلطنت میں ضم ہوجانا تھا اس لئے باربروسا نے الجزیرہ کو عثمانی سلطان کے سامنے پیش کردیا۔ سلطان نے الجزیرہ کو عثمانی سنجق (صوبہ) کے طور پر منظور کرلیا اور عروج کو ”پاشائے الجزیرہ“ اور ”مغربی بحیرہ روم میں بحری گورنر“ متعین کردیا۔ 1516ء میں عروج نے الجزیرہ پر قبضہ کر کرے بادشاہ بن بیٹھا۔ وہ دیگر شہروں پر بھی قبضہ کرنا چاہتا تھا لیکن 1518ء میں مقامی رہنما کی مدد کے لئے آنے والے ہسپانوی افواج کے خلاف جنگ کے دوران اپنے بھائی اسحاق سمیت ہلاک ہوگیا۔ اس کی عمر 55 سال تھی,,,۔
خیر الدین کے ابتدائی کارنامے,,,
بھائی کے مارے جانے کے بعد خیر الدین نے اس کی پالیسی کو جاری رکھا اور اسپین سے مظلوم مسلمانوں کو شمالی افریقہ لاتا رہا جس کی بدولت اسے اسپین کے مخالف مسلمانوں کی بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہوگئی۔ اس نے 1519ء میں الجزیرہ پر قبضے کی کوشش کرنے والی اسپین اور اٹلی کی مشترکہ فوج کو شکست دی۔ 1529ء میں اس نے ایک ساحلی جزیرے پر ہسپانوی قلعے پر بھی قبضہ کرلیا۔ 1530ء میں اینڈریا ڈوریا نے باربروسا کو شکست دینے کے لئے حملے کی کوشش کی لیکن باربروسا کے بحری بیڑے کی آمد سے قبل ہی ڈر کر فرار ہوگیا۔,,
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
میں سچ کی جستجو میں ہوں! کرہ ارض پر بستے انسان کی 18 ویں اور 19 ویں صدیاں تو سامراج نے تباہ کر ڈالیں جب کہ 20ویں صدی اقوام متحدہ کی دروغ بیانی اورحقائق سے چشم پوری کی نذر ہو گئی ۔ ویت نام، قبرص ، کانگو، فلسطین ، کشمیر اسی دور کی خون آشام داستانیں ہیں۔ انہی برسوں میں نیویارک کی امپائر اسٹیٹ بلڈنگ کی بلندیوں پریٹھے عدل پروروں کے زیر نگرانی سچ کے لاشے پر تاریخ کا کفن لپیٹا گیا ۔    تفصیل سے پڑھئے
خواجہ نصر الدین نے ا بھی اپنی نویں صراحی ختم کی تھی اور تسلے سے ڈھیر سی مٹی دسیوں صراحی بنانے کے لئے نکالی ہی تھی کہ اچانک دروازے پر زور کی حاکمانہ دستک ہوئی۔ پڑوسی جو اکثر نیاز کے یہاں پیاز یا چٹکی بھر مرچ مانگنے آتے تھے اس طرح نہیں کھٹکھٹاتے تھے۔ خواجہ نصر الدین اور نیاز نے ایک دوسرے کی طرف گھبرا کر دیکھا جب بھاری ضربوں کی بارش نے دروازہ پھر سے کھڑکھڑایا۔ اس مرتبہ خواجہ نصر الدین کے تیز کانوں نے ہتھیاروں کی جھنکار سن لی۔
"پہرے دار" انہوں نے نیاز سے چپکے سے کہا۔
"بھاگو!" نیاز بولا۔         تفصیل سے پڑھئے
23 ﻣﺎﺭﭺ ﻗﺮﺍﺭﺩﺍﺩ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ-ﺍﻗﻮﺍﻡ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺎﻡ ، ﮐﭽﮫ ﻣﮩﯿﻨﮯﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽﻏﯿﺮ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﺎﺭﭺ ﮐﺎ ﻣﮩﯿﻨﮧﮨﻤﺎﺭﯼ ﻗﻮﻣﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﻔﺮﺩ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯﯾﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﺎﺭﭺ ﮐﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﺍﮨﻢ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺭﻭﻧﻤﺎ ﮨﻮﺋﮯﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﮐﺎﺣﺎﻣﻞ ﮨﮯ ﻭﮦ ﮨﮯ ﻗﺮﺍﺭﺩﺍﺩ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ- ﻗﺮﺍﺭﺩﺍﺩ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺟﺴﮯﭘﮩﻠﮯ ﻗﺮﺍﺭﺩﺍﺩ ﻻﮨﻮﺭ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟﺳﻨﮓ ﻣﯿﻞ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ-
ﯾﮧ ﻗﺮﺍﺭﺩﺍﺩ 23 ﻣﺎﺭﭺ 1940 ﮐﻮ ﭘﯿﯿﺶ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ- ﺍﮔﺮ ﺍﺱﺩﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺩﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻟﮓ ﮨﯽ ﺟﻮﺵ ﻭ ﻭﻟﻮﻟﮧ ﺗﮭﺎ- ﺍﯾﮏ ﺟﻨﻮﻥ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯﻟﮩﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﺍﺋﯿﺖ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ- ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﻢ ﺗﮭﯿﮟ-  تفصیل سے پڑھئے

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers