آج کل ایک اور فیشن عام ہورہا ہے وہ ہے مردوں اور عورتوں کا نامحرم سے ہاتھ ملانا یا پیار دینے کے لیے سر پر ہاتھ پھیرنا ۔ اور تقریبات میں مرد عورتوں کا ایک جگہ جمع ہونا ۔ کچھ لوگ اسے برا بھی نہیں سمجھتے حالانکہ یہ بھی ایک فتنہ ہے جس سے بچنا بہت ضروری ہے - کسی غیر محرم عورت کو چھونا ،حرام اور ممنوع ہے۔خواہ یہ پیار دینے کی نیت سے چھوا جائے یا کسی اور نیت سے چھوا جائے۔    تفصیل سے پڑھئے
شرعی ہدایات کی روشنی میں جن جن رشتہ داروں سے پردہ کرنا ضروری اور ان سے اختلاط منع ہے، ان کی تفصیل، علماء کی وضاحت کی روشنی میں، حسب ذیل ہے-
٭ چچا زاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد بھائی کا اپنی چچا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد اور پھوپھی زاد بہن سے اختلاط
٭ عورت کا اپنے دیور، جیٹھ، بہنوئی سے اختلاط
٭ عورت کے رضاعی بھائی کا اپنی رضاعی بہن کی بہنوں سے اختلاط
٭ مذکورہ تمام اختلاط ممنوع ہیں- اختلاط کا مطلب، ان سے بے پردہ ہوکر بلاتکلف گفتگو اور ہنسی مذاق کرنا اور خلوت میں بھی ان سے ملاقات کرنا ہے
٭ منگیتر کا اپنی منگیتر سے اختلاط بھی ممنوع ہے، البتہ نکاح سے قبل ولی کی موجودگی میں اسے ایک نظر دیکھ لینا مستحب ہے
٭ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں بیروں یا نوجوان لڑکوں کا عورتوں کی خدمت پر مامور ہونا
٭ نکاح کے بعد دولہا دلہن کا اپنے رشتے داروں کے ساتھ لوگوں کے سامنے گروپ کی صورت میں بیٹھنا اور تصویریں اتروانا وغیرہ
٭ اسی طرح دولہا دلہن کے رشتہ داروں کا عورتوں کے سامنے گروپ بناکر بیٹھنا وغیرہ
٭ عمر رسیدہ خواتین کا اجنبی مردوں کے ساتھ تنہائی میں خلوت اختیار کرنا
٭ عورت کا اجنبی مردوں کے ساتھ اختلاط، یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ تو ہمارے ہی قبیلے یا برادری کے افراد ہیں
٭ یا اس نقطہ نظر سے مردوں سے اختلاط، کہ اصل پردہ تو دل کا پردہ ہے، یعنی دل پاکیزہ ہوں، آنکھ میں حیا ہو، تو یہی پردہ ہے- جسمانی پردہ ضروری نہیں
٭ ان بچیوں کے ساتھ اختلاط میں تساہل جو قریب البلوغت ہوں، یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ تو ابھی بچیاں ہیں
٭ ٹیکسی، رکشے میں اکیلی عورت کا سفر کرنا، جب کہ ڈرائیور اجنبی ہو
٭ بغیر محرم کے عورت کا حج کے سفر پر جانا
٭ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لڑکیوں کا لڑکوں کے ساتھ مل کر پڑھنا اور اسی طرح جامعات کی دیگر سرگرمیوں میں ان کا باہم اختلاط
٭ کالجوں، یونیورسٹیوں اور دیگر مدراس میں عورتوں کا مردوں کا پڑھانا یا مردوں کا عورتوں کا پڑھانا
٭ حتی کہ پرائمری کلاسوں میں بھی عورتوں کا بچوں کو پڑھانا، بتدریج اختلاط کی راہ ہموار کرنا ہے
٭ لڑکیوں کو اعلی تعلیم کے حصول کے نام پر مغرب کی یونیورسٹیوں میں بھیجنا، ان کو مغربی افکار اور اس کی حیا باختا تہذیب کا شکار بناناہے
٭ اعلی تعلیم کے اداروں میں عملی تربیت کے نام پر لڑکے لڑکیوں کا اختلاط
٭ یونیورسٹیوں میں ایم اے اور پی ایچ ڈی وغیرہ کے مقاملات کی تیاری میں بطور رہنما اور نگراں کے مردوں کا عورتوں کے ساتھ خلوت (تنہائی) میں میل ملاقات
٭ علمی اجتماعات، کانفرنسوں، مشاعروں اور دیگر اس قسم کی تقریبات میں مرد و عورت کا پہلو بہ پہلو بیٹھنا
٭ نرسوں اور خاتون ڈاکٹر کا اجنبی مردوں، حتی کہ ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے دیگر مرد ملازمین کے ساتھ اختلاط
٭ ڈاکٹر کی نرس یا لیدی ڈاکٹر کے ساتھ خلوت
٭ ڈاکٹر کی غیر محرم مریضہ کے ساتھ خلوت
٭ بغیر حاجت یا ضرورت کے، یا لیڈی ڈاکٹر کی موجودگی میں، عورت کا مرد ڈاکٹر کے سامنے چہرہ وغیرہ ننگا کرنا
٭ استقبالیہ یا الوداعی وغیرہ مجلسوں میں عورتوں کا مردوں کے ساتھ اختلاط
٭ کھیل کود کے میدانوں اور مواقع پر عورتوں کا مردوں سے اختلاط
٭ ہوٹلوں یا کھانے پینے کی دیگر تقریبات میں عورتوں اور مردوں سے اختلاط
٭ طبی تجربہ گاہوں سے عملی تربیت کے عنوان پر مردوں اور عورتوں کا اختلاط
٭ کھیل کود کے میدانوں اور مواقع پر عورتوں عورتوں کا مردوں سے اختلاط
٭ ہوٹلوں یا کھانے پینے کی دیگر تقریبات میں عورتوں اور مردوں کا اختلاط
٭ دکان یا شوروم وغیرہ میں عورتوں کا مردوں سے اختلاط یا خلوت
٭ مارکیٹوں میں عورتوں کا مردوں سے اختلاط
٭ بغیر محرم کے عورت کا بس، ریل یا ہوائی جہاو میں سفر کرنا
٭ عورتوں کا فوٹوگرافروں سے تصویریں کھنچوانا
٭ اجتماعات، محافل اور جلسوں میں مردوں اور عورتوں کا اختلاط
٭ عورتوں کا مردوں کی محفل میں نعتیں سنانا
٭ مرد ٹیوٹر کا کسی بھی عمر کی بچیوں کو پڑھانا یا عورت ٹیوٹر کا لڑکوں کو پڑھانا
اختلاط کی مذکورہ تمام صورتوں اور اس قسم کی دوسری صورتیں جن کی شرعا اجازت نہیں، سب ممنوع اور حرام ہیں- مغربی تہذیب کی نقالی میں بے پردگی وبائے عام کی شکل اختیار کر گئی ہے، جس کی وجہ سے اب مرد و عورت کے اختلاط میں لوگ کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے- اس لیے بے پردگی کے ساتھ ساتھ اختلاط کا فتنہ بھی بڑھتا جارہا ہے-
حالانکہ جب بے پردگی ہی جائز نہیں، تو پھر اختلاط کا جواز کیوں کر ممکن ہے؟ یہ تو بنائے فاسد علی الفاسد کی واضح صورت ہے-
بنابریں مسلمان عورتوں کو اختلاط کی مذکورہ صورتوں سے اپنے کو بچانے کی کوشش کرنی چاہیے- مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی بیویوں ، ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو پردے کی اہمیت و ضرورت سے بھی آگاہ کریں اور بے پردگی اور مردوں سے اختلاط کے مفاسد و خطرات سے بھی انہیں خبردار کریں، تاکہ وہ ان سے بچنے کا اہتمام کریں-
ملحوظہ: عورت کا جن مردوں سے اختلاط ممنوع اور ان سے پردہ ضروری ہے، ان سے مراد اجنبی مرد ہیں اور اجنبی مرد کون ہیں؟ تو یاد رکھیے خاوند اور محرم کے علاوہ جتنے بھی لوگ ہیں وہ سب شریعت کی رو سے اجنبی ہیں اور محرم کون کون ہیں جن سے پردہ ضروری نہیں، حسب ذیل ہیں-
نسبی محارم: باپ، داد، بیٹا، پوتا، پرپوتا، چچا، ماموں، بھانجا اور بھتیجا
سسرالی محارم: سسر، داماد، خاوند کا بیٹا
رضاعی محارم: رضاعت سے ثابت ہونے والے مذکورہ رشتے، کیونکہ حدیث میں ہے:
" رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہوجاتے ہین جو نسب سے ہوتے ہیں-" (صحیح مسلم، الرضا، باب یحرم من الرضاعۃ یا یحرم من الولادت، حدیث:1444)
ان مذکورہ رشتوں میں سے کسی کے ساتھ بھی عورت کا نکاح نہیں ہوسکتا، اس لیے یہ سب عورت کے محرم ہیں، ان سے پردہ کرنا ضروری نہیں- ان کے علاوہ جتنے بھی لوگ ہیں، سب غیر محرم ہیں، ان سے پردہ کرنا ضروری ہے-......
اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے-
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers