انگریزی کا ایک لفظ ہے ’’ٹرسٹ‘‘ آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ ہر لفظ کی طرح اس کی معنویت کا بھی ایک دائرہ ہے اور اس کے محاوراتی پہلو بھی ہیں۔ آپ سوچیں گے کہ میرے آج کے کالم کا اس لفظ سے کیا رشتہ ہے جبکہ میں سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خدشات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ ان انتخابات میں صرف اسمبلیوں کے منتخب ممبران ہی ووٹ ڈالتے ہیں۔ اگر یہ ووٹ خریدے جاسکتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ایسا ہوتا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے منتخب نمائندے بے ایمان اور بےضمیر ہیں۔ یہ اس لئے ممکن ہے کہ سینیٹ کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اب اس میں تبدیلی کے لئے آئین میں ترمیم کا منصوبہ بھی ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
خفیہ رائے شماری کا اپنا ایک جواز ہوتا ہے اور اس کا تعلق جمہوری نظام کی اخلاقیات سے ہے۔ لیکن اگر سیاست کی اس اعلیٰ سطح پر بھی دھوکہ دہی کی اتنی گنجائش موجود ہے تو پھر چند بنیادی اصولوں کو رد کیا جاسکتا ہے۔ ایک تجویز یہ ہے کہ پارٹی کے سوا کسی اور کو ووٹ دینے والا اسمبلی کی رکنیت کھو بیٹھے گا، کئی کروڑ روپے لے کر ووٹ بیچنے کا موقع بھی نہیں ملے گا اور اپنے ضمیر کے مطابق پارٹی کی ہدایت کے خلاف ووٹ دینے کی گنجائش بھی باقی نہیں رہے گی۔ یہ بھی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ شاید آپ کو سینیٹر رضا ربانی کی وہ تقریر یاد آئے جو انہوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے کی جانے والی آئینی ترمیم پر کی تھی کہ کیوں وہ اپنے ضمیر کے خلاف ووٹ دینے پر مجبور تھے۔ لیکن ہماری سیاست میں بلکہ ہماری قومی زندگی میں ضمیر کی مداخلت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان باتوں سے قطع نظر، اس دفعہ سینیٹ کے انتخابات میں ووٹوں کی نیلامی کے خدشات نے جو ہلچل پیدا کی ہے وہ ایک اچھی بات ہے۔ اس سے پہلے چند سوداگر ووٹ خرید کر سینیٹ کے ممبر بنتے رہے ہیں۔
ارے۔ وہ، ’’ٹرسٹ‘‘ والی بات تو پیچھے رہ گئی۔ دراصل میں ایک کتاب کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جو سیاسی امور کے امریکی ماہر فرانسس فوکویامہ نے لکھی تھی اور اس کا عنوان ’’ٹرسٹ‘‘ تھا اس کا موضوع یہ تھا کہ اجتماعی ترقی اور خوشحالی کے لئے جن معاشرتی خوبیوں کی ضرورت ہوتی ہے ان میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے پر اور اپنے اداروں پر بھروسہ کرسکیں۔ ہم اس دولت کی تو بہت بات کرتے ہیں جس کی ایک مادی حیثیت ہے۔ روپے۔ درہم اور ڈالر۔ لیکن ایک دولت وہ بھی ہوتی ہے جو بینکوں میں نہیں رکھی جاسکتی ہے اور جس کا رشتہ ہماری اجتماعی اور انفرادی زندگی سے ہوتا ہے۔ یہ بات اس طرح بھی کہی جاسکتی ہے کہ مفلسی دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک مالی اور ایک تہذیبی۔ اور یہ تضاد بھی کتنا دلچسپ ہے کہ ہمارے جیسے معاشروں میں جو سب سے زیادہ دولت مند ہیں وہی شاید دوسرے معنوں میں سب سے زیادہ غریب بھی ہیں۔ فوکویامہ نے اپنی کتاب میں یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ کسی بھی ملک یا معاشرے کی معیشت کی بنیاد چند سماجی اصولوں اور طریقوں پر قائم ہوتی ہے۔ اس طرح معاشی خوشحالی کا ایک تعلق تہذیبی زندگی یعنی کلچر سے بھی ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں فوکویامہ نےکئی ملکوں کے کلچر کا جائزہ لیا یہ سمجھنے کے لئے کہ وہ کونسے اصول ہیں جو معاشی اور تہذیبی ترقی کا سہارا بنتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس نے بھروسے اور کردار کی اہمیت کو مقدم جانا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ دولت مند معاشرے وہ ہوتے ہیں جن میں افراد کے درمیان تجارتی اور لین دین کے تعلقات کسی باقاعدہ معاہدے سے زیادہ بھروسے اور اعتماد پر قائم ہوں۔ اس سلسلے میں اس نے دو ملکوں کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ وہ ہیں جرمنی اور جاپان۔ بڑی حد تک امریکہ بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ یہ خوبیاں ان ملکوں میں نمایاں نہیں ہوپاتیں جن میں ذاتی اور خاندانی تعلقات کی اہمیت زیادہ ہو۔ مثال کے طور پر فرانس اور اٹلی اور کوریا۔
اپنے ملک پاکستان کی ہم کیا بات کریں۔ پوری صورت حال واضح ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اخلاقیات اور کردار کے پیمانے پر ہم کہاں کھڑے ہیں سینیٹ کے انتخابات کی حد تک ہماری سیاسی جماعتوں اور رہنمائوں کو جو تشویش ہے اس کا مطلب بھی شاید یہ نہیں ہے کہ وہ واقعی اب سیاست کو جمہوری اور اخلاقی اصولوں کا پابند کرنا چاہتے ہیں۔ ایسی کسی تحریک کا کوئی اشارہ ہمیں نہیں ملا۔ جہاں تک ’’ٹرسٹ‘‘ کا معاملہ ہے تو اس کا اطلاق صرف سیاست پر نہیں ہوتا۔ ہماری اجتماعی زندگی میں بھروسے اور اعتماد کی کمی اتنی پھیل گئی ہے کہ ایماندار اور نیک لوگ اپنے اپنے شعبوں میں خود کو اس سے زیادہ ’’مس فٹ‘‘ سمجھتے ہیں جتنا نبیل گبول کا کہنا ہے کہ وہ ایم کیو ایم میں اپنے آپ کو سمجھتے تھے۔ اتفاق سے یہاں بھی ایک سیاست دا ںکی مثال سامنے آگئی۔ نبیل گبول کے حوالے سے تو کہنے کی بات یہ ہے کہ سیاست داں کیسے اپنی جماعتیں یعنی اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں۔ یہ بھی تو ایک قسم کی ہارس ٹریڈنگ ہے جسے وہ جماعتیں بھی تالی بجا کر قبول کرتی ہیں جو نیا پاکستان بنانا چاہتی ہیں اور ہر طرح کی بدعنوانی کو ختم کردینا چاہتی ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کیسے بدل جائے گا جب تک کہ اس کے معاشرے کے مزاج کو اس کے کلچر کو تبدیل نہ کیا جائے۔ عقل تو یہ کہتی ہے کہ یہ کام مذہب کے ذریعے آسان ہونا چاہئے کیونکہ مذہب بنیادی طور پر نیکی اور پاکبازی کی تلقین کرتا ہے۔ ہمارا قصہ یہ ہے کہ ہم اجتماعی طور پر بہت مذہبی ہیں۔ پھر بھی ، ہمارے معاشرے میں ہر طرح کی گندگی موجود ہے۔ ایسا کیوں ہے، اس پر بات کرنے کی آزادی بھی ہمیں میسر نہیں ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں صرف بھروسے اور اعتماد کی ہی کمی نہیں ہے۔ برداشت کی اس سے بھی زیادہ کمی ہے۔ یہ سوچ کر دماغ پھٹنے لگتا ہے کہ کیسی کیسی محرومیوں کو ہم قبول کرلیتے ہیں اور کیسی کیسی باتوں پر پورا ملک ، پورا معاشرہ غیظ و غضب کا شکار ہوجاتا ہے۔ خیر، یہ تو ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس کا رشتہ اس جنگ سے بھی ہے جو ہمارے حکمراں کہتے ہیں کہ وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ میں تو اس وقت صرف بھروسے اور اعتماد کی کمی کی بات کررہا ہوں۔ اگر ہم سیاست کے آئینے میں دیکھیں تو اتنی شاندار مثالیں ملتی ہیں کہ جو بات کہی، اس سے مکر گئے۔ جو عہد کیا اسے توڑ دیا۔ ہر ٹاک شو میں پرانی باتوں کی جھلکیاں دکھائی جاتی ہیں کہ تب تو آپ نے یہ کہا تھا۔ لیکن نہ کوئی شرماتا ہے اور نہ کسی کی مقبولیت میں اس سے کوئی کمی واقع ہوتی ہے۔ ایک ڈرامہ ہے جسے ہم دیکھ رہے ہیں بلکہ جس کے ہم بھی ایک کردار ہیں۔ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں۔ کوئی کیوں ہم پر اعتماد کرے گا۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers