شروع اس پاک رب کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا برتر و بالا پروردگار ہے- اور کروڑوں درود و سلام اس مقدس ہستی حضرت محمد )صلی اللہ علیہ والہ وسلم( پر جو ہمیں جہالت کے اندھیروں سے نکال کر انسانیت کے اجالے میں لائے- میرا آج کا موضوع حقیقت پر مشتمل ایک آواز پر مبنی تحریر ہے-آنکھیں روز برستی ہیں دل تڑپتا ہے اک موت کا منظر ہے ،
آج ہمارے معاشرے میں طرح طرح کی جو پریشانیاں اور مشکلات ہیں-ان کے ذمے دار ہم خود ہیں اور وہ پریشانیاں اور مشکلات ہم نے پیدا کی ہوئی ہیں -    تفصیل سے پڑھئے
کسی دوسرے کی بہن ، بیٹی ، اگر کچھ زیادہ عمر کی ہوجائے تو ہم نہ صرف خود شادی کرنے سے انکار کر دیتے ہیں ،
بلکہ جو اور کوئی اس کا رشتہ لینے آتے ہے انہیں بھی انکار کرنے پر آمادہ کر لیتے ہیں ،
اور ہماری اس بے حسی اور بے ضمیری کی وجہ سے بنت حوا کی زندگی اور جینے کی امید ختم ہو جاتی ہے ،
وہی بنت حوا پہلے تو خودکشی کر لیتی ہے یا پھر اس غلط راستے پر چل پڑتی ہے ،
جس پر ایک ماں کی تذلیل ہوتی ہے ،ایک بہن کی شرافت پہ داغ لگ جاتا ہے ، اور ایک بیٹی کی عزت پامال ہوجاتی ہے،
وہی بنت حوا جس کو ہم سورج کی روشنی میں بدکردار ، بے غیرت اور طرح طرح کے غلط جملوں سے نوازتے ہیں ،،
رات کی تاریکی میں وہی بنت حوا ہمارے لیے ایک خالص ہیرے سے زیادہ اہمیت کے حامل ہوجاتی ہے ،
کیونکہ اس وقت ہم اپنے ضمیر اور غیرت کے لباس کا سودا کرلیتے ہیں نفسانی خواہشات کے تسکین کی خاطر اور اس بنت حوا کو نوچ نوچ کر کھارہے ہوتے ہیں ،
اس وقت وہ بنت حوا ایک مظلوم اور مجبور ہوتی ہے ،
اور ہم اس وقت بے غیرت ، بے ضمیر اور طرح طرح کی لعنتوں کے مستحق ہوتے ہیں ،،
معذرت چاہتا ہوں کچھ بہت نا زیبا الفاظ بول گیا ہوں ،
مگر کیا کروں سچ چھپانے کی عادت نہیں ہے ،،
سچ اور حقیقت کو لکھنے کےلیے تلخ ہونا پڑتا ہے ،،
ہمارے اردگرد کتنی ایسی خواتین ہیں جو مجبوری کی بنیاد پر نازیبا حرکات کرتی نظر آتی ہیں ،،
اور ہمارے اردگرد لا تعداد بے ضمیر اور بے حس مرد ہیں جو ان عورتوں کی مجبوری سے نا جائز فوائد حاصل کر رہے ہیں،
کتنے گھروں میں بنت حوا بغیر شادی کے گزارا کرتی نظر آتی ہے ،،
والدین کی وفات کے بعد اس کے ساتھ بھائیوں کی طرف سے یا انکی بیگمات کی جانب سے طرح طرح کے مظالم ڈھائے جاتے ہیں ،،
اس کی امیدوں اور جذبات کو طرح طرح کے نا جائز الزامات سے مجروع کیا جاتا ہے ،،
اس کے باوجود پھر بھی وہ صبر کرتی رہتی ہے ،،
جب تھک ہار کر اسکے جسمانی اعضاء جواب دے جاتے ہیں تو وہ دو طرح کے راستے اپنا لیتی ہے ،
ایک موت کا یعنی خودکشی تو دوسرا جسم فروشی کا ،،
اور ہم اس بے حس بے ضمیر معاشرے میں اس بنت حوا کو بدکردار بے غیرت جیسے نام سے مخاطب کرتے ہیں ،،
کسی پر الزامات لگانے سے پہلے پوری تحقیق اور شواہد اکٹھے کرلینا ہی عقل مندی اور بڑائی ہے ،
کیونکہ یہ بنت حوا کی عزت کا سوال ہے ،،
وہی بنت حوا ہمارے گھروں میں بھی پائی جاتی ہے ،،
کبھی ماں کے روپ میں تو کبھی بہن ، کبھی بیوی اور کبھی بیٹی کے رشتے میں ،،
ہمارا فرض بنتا ہے اگر ہم گاؤں قصبے یا شہر میں رہتے ہیں تو اپنے اردگرد ایسے گھر تلاش کریں جن میں ہماری بہنیں اور بیٹیاں کسی مالی امداد کی منتظر یا کسی اور وجہ سےکنواری بیٹھی ہوئی ہیں ،،
تو ان کے والدین سے بات کر کے فوراً انکی امداد یا جو بھی مجبوری ہو اسکا حل تلاش کریں ،،
تاکہ کسی بھی بنت حوا کی عزت اس بے حس معاشرے میں نیلام ہوتی نظر نہ آئے ،،
آخر کب تک بنت حوا کی عزت نیلام ہوتی رہے گی ،
مظلوم بنت حوا کی عزت کون بچائے گا ،،، ؟
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers