33 سالہ صفی اللہ کوالالمپور میں بڑی محتاط زندگی گزار رہا ہے۔ یہ بنگلہ دیشی نوجوان خصوصاً کوشش کرتا ہے کہ برصغیر سے تعلق رکھنے والے کسی فرد سے نہ ملے۔ اسے ڈر ہے کہ پھر کوئی بھی انتظامیہ کو مطلع کر سکتا ہے کہ وہ ملائشیا میں ناجائز طور پر رہ رہا ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ قانونی طریقے سے ملائشیا آیا تھا۔ ایجنٹ نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اسے ملائشیا میں الیکٹرونکس کمپنی میں اچھی ملازمت مل جائے گی۔ صفی اللہ کہتا ہے ’’مجھے یقین تھا کہ ملائشیا میں خوب کمائی کرکے میں اچھی خاصی رقم اپنے خاندان کو بھجوا سکوں گا۔‘‘ تفصیل سے پڑھئے
لیکن کوالالمپور پہنچتے ہی اس کے سارے سہانے سپنے کرچی کرچی ہوگئے۔ ملائشیا میں اس نے ایک دن بھی الیکٹرونکس کمپنی میں کام نہیں کیا۔ دراصل اسے ملازمت دینے کا جھانسہ دے کر ایجنٹوں نے لوٹ لیا تھا اور اس فریب میں آنے والا صفی اللہ تنہا نہیں بلکہ ایشیا اور افریقا کے بھی کئی ممالک میں ہزارہا معصوم، بے خبر اور سہانے مستقبل کا خواب دیکھنے والے ہزاروں نوجوان ہر سال اس کا نشانہ بنتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اخبارات دیکھیے، تو بیرونِ ملک ملازمت دینے کا وعدہ کرنے والے کئی اشتہارات نظر آتے ہیں لیکن ان میں بعض سراسر فراڈ ہوتے ہیں۔ ان کمپنیوں کے مالک ایجنٹ دراصل اس بین الاقوامی مافیا کا حصہ ہیں، جس میں عالمی کمپنیوں کے لالچی مالکان اور حریص سرکاری افسر شامل ہیں۔ یہ لوگ ملازمتوں کے پرمٹ اور ویزے جاری کرکے سالانہ اربوں روپے کماتے ہیں۔ پھلتا پھولتا غیرقانونی کاروبار عبدالعزیز بن اسمٰعیل کوالالمپور کے ایک مشہور وکیل ہیں۔ انھوں نے خصوصاً ملائشیا میں پھنسے ایسے غیرقانونی مہاجرین کی مدد کرکے نیک نامی کمائی جو ریکروٹنگ ایجنٹوں کے ہاتھوں تباہ ہوگئے تھے۔ وہ بتاتے ہیںکہ ’’ملائشیا میں ایسی کمپنیوں کے لیے بھی بیرون ممالک سے افرادی قوت منگوائی جاتی ہے ،جو وجود ہی نہیں رکھتیں۔ ان کے نہ کارخانے ہوتے ہیں اور نہ ہی باغات وغیرہ۔ سوال یہ ہے کہ پھر وہ ملازم کیوں منگواتی ہیں؟ وجہ یہ ہے کہ ان جعلی کمپنیوں کے مالکان بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان، سری لنکا اور دیگر ایشیائی ممالک میں مقیم فریبی ایجنٹوں سے ورک پرمٹ (کام کا اجازت نامہ) اور ویزے دینے پر منہ مانگی رقم وصول کرتے ہیں۔ چنانچہ ملائشیا ہی نہیں سنگاپور، تائیوان، انڈونیشیا، جنوبی کوریا اور خلیجی ممالک میں بھی جعلی کمپنیاں کھول کر بیرونِ ممالک سے افرادی قوت کو منگوانا کاروبار بن چکا۔ اس دھندے میں کرپٹ سرکاری افسر، ایجنٹوں و کمپنی مالکان کے شریک کار ہوتے ہیں۔ ملائشیا میں بالعموم اصول و قانونی کی پابندی کرنے والے بستے ہیں، لیکن وہاں بھی حریص افسروں کی کمی نہیں۔ 2008ء میں انسدادِ رشوت ستانی کے عملے نے ڈائریکٹر امیگریشن کو گرفتار کرلیا۔ اس پر الزام تھا کہ وہ جعلی کمپنیوں اور ایجنٹوں سے بھاری رشوت لے رہا تھا تاکہ ان کا دھندا جاری رہے۔ اس واقعہ سے ملائشین حکومت کی قانون پسندی اور نیک نامی کو دھچکا لگا۔ چنانچہ حکومت نے ’’ریلا‘‘ نامی ایک پیراملٹری فورس تشکیل دی ،جو جعلی کمپنیوں، فریبی ایجنٹوں اور غیرقانونی مہاجرین کی تلاش میں چھاپے مارتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ مالکان کمپنی اور ایجنٹ مشکل ہی سے قانون کی گرفت میں آتے ہیں اور پکڑے بھی جائیں تو اچھے وکیل کرکے رہا ہو جاتے ہیں، مگر پُرکشش ملازمت کی چاہ میں آنے والے نوجوان اور غیرقانونی مہاجرین دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوتے اور بے انتہا ذہنی و جسمانی دبائو برداشت کرتے ہیں۔ اب صفی اللہ ہی کو دیکھیے۔ کوالالمپور میں ملازمت دلوانے کے لیے ایجنٹ نے اس سے 40000ڈالر (3لاکھ 64ہزار روپے) طلب کیے۔ صفی اللہ نے دوستوں سے قرض لیا اور بیوی کا زیور بیچ ڈالا۔ ایجنٹ کا کہنا تھا کہ مدت ملازمت 2سال ہوگی جبکہ وہ ماہانہ 400ڈالر (36ہزار4سو روپے) کما سکے گا، لیکن اسے الیکٹرونک کمپنی میں ملازمت ملی اور نہ ہی حسب ِدل خواہ تنخواہ۔ وہ بتاتا ہے ’’مجھ سے متفرق کمپنیوں میں کام کرایا گیا۔ کبھی صابن اور کبھی فرنیچر کے کارخانے میں۔مجھے ہر ماہ 150ڈالر (13650روپے) ملتے ،لیکن 50ڈالر سرکاری ٹیکس میں کٹ جاتے۔ لہٰذا 100ڈالر میں اپنے خرچے ہی بمشکل پورے ہوتے، اہل خانہ کو رقم بھجوانا تو دور کی بات ہے۔ ظلم کی بات دیکھیے کہ2 سال قبل صفی اللہ اوردیگر ساتھی پریشان اور بدحال ہو کر ایک انہونی کر گزرے۔ وہ کمپنی چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ یہ ایک دلیرانہ فیصلہ تھا کیونکہ ملائشیا پہنچتے ہی کمپنی نے سبھی کے پاسپورٹ اپنے پاس رکھ لیے تھے۔ اب ان کا سرکاری ایجنسی، ریلا کے کارندوں سے ٹاکرا ہوتا، تو گرفتاری و قید یقینی تھی، مگر وہ اسی لیے فرار ہوئے کہ مختلف کمپنیوں میں کام کرکے رقم بچائیں اور اپنے اپنے خاندانوں کو بھیج سکیں۔ ان بنگلہ دیشی، بھارتی اور پاکستانی نوجوانوں نے پھر غلیظ ملازمتیں بھی کیں اور پیسے بچانے کی خاطر سڑکوں و پارکوں میں بھی سوئے۔ انسانی حقوق کی حفاظت کرنے والے وکیل اور ملائشین پارلیمنٹ کے رکن، چارلس سانتیاگو کا کہنا ہے ’’کارکنوں کے پاسپورٹ اپنے قبضے میں کر لینا ظلم ہے۔ یوں انھیں موقع ملتا ہے کہ کارکنوں کا استحصال کرسکیں۔ کارکن شکایت کرتے ہیں کہ مالکان ان سے 14تا 17گھنٹے کام کراتے ہیں۔ میرے نزدیک تو بیرونِ ممالک سے افرادی قوت منگوانے کا سارا نظام کرپٹ اور ظالمانہ ہے۔‘‘ منڈلاتا خطرہ ایک دن اس کمپنی میں سرکاری عملے نے چھاپہ مارا جہاں صفی اللہ کام کرتا تھا۔وہ بروقت پچھلے دروازے سے فرار ہوگیا ،ورنہ جیل اس کا مقدر بنتی۔ گرفت میں آنے سے بال بال بچ کر وہ کوالالمپور میں بنگلہ دیش کے سفارت خانے جا پہنچا۔ وہاں انکشات ہوا کہ سیکڑوں بنگلہ دیشی نوجوان ریکروٹمنٹ ایجنٹوں اور کمپنی مالکان کی حرص کا نشانہ بن کر ابتر حال میں ہیں۔ ہر ایک کے پاس ظلم و ستم کی ایک نئی اور لرزہ خیز داستان سنانے کو موجود تھی۔ دن میں پریشان حال نوجوانوں کی قطار لگ جاتی تاکہ وہ سفارت خانے کے کسی افسر کو اپنی حالتِ زار بتا کر مدد لے سکیں ،لیکن سفارت خانہ کیونکر مدد کرتا کہ ان کے پاس کاغذات ہی نہیں تھے۔ بیشتر کے پاسپورٹ و کاغذات کمپنیوں نے قبضے میں لے رکھے تھے۔ چنانچہ بنگلہ دیشی چاہتے ہوئے بھی ملائشیا سے نہیں جا سکتے تھے۔ سنگاپور میں پھنسا نوجوان ادھر سنگاپور میں38سالہ اسدمدبر ایک عجیب مصیبت میں گرفتار ہے۔ وہ بھی اس جزیرے میں پھنسا ہوا ہے، تاہم وجہ کاغذات نہ ہونا نہیں۔ دراصل اس کا تنخواہ کے مسئلے پر کمپنی سے اختلاف ہوگیا۔ چنانچہ اس نے کمپنی کے خلاف متعلقہ محکمے میں شکایت درج کرا دی۔ جب معاملے کی چھان بین ہوئی، تو انکشاف ہوا کہ کمپنی کا مالک غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ لہٰذا کمپنی سیل کر دی گئی، تاہم اسدمدبر کو سنگاپور حکومت نے روک لیا تاکہ وہ کمپنی کے خلاف گواہی دے سکے۔ صفی اللہ کے مانند اسد بھی ایجنٹ کو لاکھوں روپے دے کر سنگاپور آیا تھا۔ ایجنٹ نے اسے بتایا تھا کہ وہ تعمیراتی کمپنی میں کام کرے گا، لیکن یہ وعدہ جھوٹا ثابت ہوا۔ اسے پھر سانس کا رشتہ قائم رکھنے کی خاطر مختلف معمولی ملازمتیں بھی کرنی پڑیں۔ آخر نئے سال کے آغاز پراسے واپس وطن جانے کی اجازت ملی۔ یوں ناکام و نامراد ہو کر واپس چلا آیا۔ ملازمتیں جن کا کوئی وجود نہیں سنگاپور میں قانون کی رو سے کمپنی مالکان غیرملکی ملازمین کو بتائے بغیر ملازمت کا معاہدہ ختم کر سکتے ہیں۔ حریص اور مکار لوگوں نے پھر اس غیر انسانی قانون سے فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے جعلی کمپنیاں بنائیں، اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہزارہا غیر ملکیوں کو سنگاپور بلایا، ایجنٹوں سے کمیشن وصول کیا اور پھر رفوچکر ہوگئے۔ یوں غیرملکی ملازمین خلا میں ٹامک ٹائیاں مارتے رہ گئے۔ ایک سنگاپوری وکیل، جان گی بتاتا ہے ’’کمپنیاں ایسی ملازمتوں کے لیے بیرون ممالک سے لوگ منگوا رہی ہیں جن کا کوئی وجود نہیں۔ یہ مسئلہ طویل عرصے سے چلا آرہا ہے۔‘‘ سنگاپور کے محکمہ افرادی قوت کا کہنا ہے کہ وہ جعلی کمپنیوں کی روک تھام کے لیے کڑے قوانین بنا رہا ہے۔ اب فراڈئیے مالکان کو جیل جانا پڑے گا ،لیکن دھوکے بازی کا شکار غیرملکیوں کے دکھ درد کا حکومت کوئی مداوا نہیں کرسکی۔ محکمہ افرادی قوت کا کہنا ہے کہ غیرملکی بیرونِ ممالک میں ایجنٹوں کو رقم دیتے ہیں، لہٰذا وہ اس کی رسائی سے باہر ہیں۔دھوکے باز ایجنٹوں کے ہاتھوں لُٹنے والے بڑے دکھ و کرب سے گزرتے ہیں۔ بعض حساس لوگ تو اس صدمے سے جان بھی ہار جاتے ہیں۔ عبدالوہاب کی داستانِ الم جنوری2011ء میں 37سالہ عبدالوہاب نے سنگاپور سے جہاز پکڑا اور واپس بنگلہ دیش چلا آیا۔ اس کی جیب میں430ڈالر (38ہزار روپے)موجود تھے۔ 4ماہ سنگاپور میں گزار کر وہ اتنی ہی رقم بچا سکا تھا۔ ڈھاکہ میں اس نے ایجنٹ کو 6ہزار ڈالر (ساڑھے پانچ لاکھ روپے) دیے تھے تاکہ وہ اسے سنگاپور میں اچھی ملازمت دلوا سکے، لیکن سنگاپور پہنچ کر جلد ہی اسے یہ جان لیوا احساس ہوگیا کہ کمپنی میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔ چنانچہ اس کا معاہدہ ملازمت 4ماہ بعد انجام کو پہنچا اور اسے خوار ہو کر واپس آنا پڑا۔ عبدالوہاب کو کچھ علم نہ تھا کہ وہ والدین اور بیوی بچوں کو کیا بتائے گا، لیکن اس کا اترا چہرہ اور حالتِ زار دیکھ کر اہلِ خانہ سب کچھ سمجھ گئے۔واپس آ کر عبدالوہاب کی طبیعت مزید خراب ہوگئی۔ وہ راتوں کو جاگنے لگا اور اسے دل کی تکلیف چمٹ گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صرف 26دن بعد وہ اللہ کو پیارا ہوگیا۔ سنگاپور جانے سے قبل عبدالوہاب ایک اچھی سرکاری ملازمت کر رہا تھا۔ اس کا گھرانہ اچھا کھاتا پیتا تھا ،لیکن عبدالوہاب کی موت کے بعد اس کی بیوی، نسرین کو ایک دفتر میں کلرکی کرنا پڑی۔ اب وہ اپنا اور اپنے 2بچوں کا پیٹ بمشکل پال رہی ہے۔ ٭خاتمہ کلام: پاکستان میں بھی ایسے ایجنٹوں کی کمی نہیں ،جو غیرملکی جعلی کمپنیوں کے کارندے بن کر سادہ لوح پاکستانیوں کو لوٹتے ہیں۔ چنانچہ اول تو دنیا میں اپنے وطن سے بڑھ کر کوئی اور عمدہ و آرام دہ جگہ نہیں، لیکن کوئی نوجوان باہر جانا چاہتا ہے، تو وہ ٹھگ قسم کے ایجنٹوں سے خبردار رہے، ورنہ لاکھوں روپے سے محروم ہو سکتا ہے۔

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers