کہتے ہیں کہ ایک بیوقوف اپنے گدھے کی باگ ڈور سنبھالے چلا جا رہا تھا۔ گدھا اس کے پیچھے چل رہا تھا۔
(شہر زاد کی ۳۸۸ویں رات)
(۱) خواجہ نصر الدین کی ۳۵ ویں سالگرہ سڑک ہی پر ہوئی۔
دس سال سے زیادہ انہوں نے جلاوطنی میں گزارے تھے، شہر شہر، ملک ملک کی سرگردانی کرتے، سمندروں اور ریگستانوں کو پار کرتے۔ جہاں رات آ جاتی سو جاتے۔ ننگی زمین پر کسی گڈرئے کے چھوٹے سے الاؤ کے پاس کسی کھچاکھچ بھری ہوئی سرائے میں، جہاں تمام رات گرد آلود دھندلکے میں اونٹ لمبی لمبی سانسیں لیتے، اپنے کو کھجلاتے اور گھنٹیاں بج اٹھتیں یا کسی دھوئیں اور کالک سے بھرے چائے خانے میں ادھر ادھر لیٹے ہوئے سقوں، بھک منگوں، ساربانوں اور اسی طرح کے غریب لوگوں کے پاس جو پو پھٹتے ہی شہر کے بازاروں اور تنگ سڑکوں کو اپنی پر شور ہانک پکار سے بھر دیتے ہیں۔
بہت سی راتیں انہوں نے کسی امیر ایرانی عہدے دار کے حرم میں نرم ریشمی گدوں پر داد عیش دے کر بھی گزاری تھیں جبکہ گھر کا مالک اپنے برقندازوں کو ساتھ لے کر سارے چائے خانوں اور کارواں سرایوں میں ملحد اور آوارہ گرد خواجہ نصر الدین کی تلاش میں سرگرداں ہوتا تھا تاکہ اس کو پکڑ کر نوکیلے تیز چوبی ستون پر بٹھا سکے۔۔۔ کھڑکی کی جھلملی سے آسمان کی تنگ پٹی دکھائی دیتی، ستارے مرجھا جاتے، نرم اور نم باد صبا صبح کی آمد آمد کا اعلان کرتی ہوئی پتیوں میں سرسراتی اور کھڑکی کی کگر پر قمریاں خوشی سے کوکو کر کے چونچوں سے پر صاف کرتیں۔ خواجہ نصر الدین تھکی ہوئی حسینہ کو بوسہ دے کر کہتے:
"میرے در بے بہا، الوداع۔ اب جانے کا وقت آ گیا۔ مجھے فراموش نہ کر دینا۔"
حسینہ اپنے سڈول بازوؤں کو ان کی گردن میں حمائل کر کے التجا کرتی:
"ٹھہرو! کیا تم ہمیشہ کے لئے جدا ہو رہے ہو؟ لیکن کیوں؟ اچھا سنو، آج رات کو میں اندھیرا پھیلتے ہی بڑھیا کو تمھیں لانے کے لئے پھر بھیجوں گی۔"
"نہیں، میں مدتوں ہوئے یہ بات بھول چکا ہوں کہ ایک چھت کے نیچے دو راتیں کیسے گزاری جاتی ہیں۔ مجھے جانا ہی ہے۔ بڑی عجلت ہے۔"
"جانا کہاں ہے؟ کیا کسی دوسرے شہر میں تم کو ضروری کام ہے؟ تم کہاں جا رہے ہو؟"
"میں نہیں جانتا۔ لیکن روشنی کافی پھیل چکی ہے۔ شہر کے پھاٹک کھل چکے ہیں اور پہلے کارواں باہر نکل رہے ہیں۔ سن رہی ہو نا، اونٹوں کی گھنٹیوں کی آواز؟ جب میں یہ آواز سنتا ہوں تو جیسے کوئی جن میرے پیروں میں سنیچر پیدا کر دیتا ہے اور میں نچلا نہیں بیٹھ سکتا۔"
"اگر ایسا ہے تو جاؤ" ملول ہو کر حسینہ کہتی ہے، وہ اپنی لمبی لمبی پلکوں پر آنسوؤں کو چھپا نہیں پاتی " لیکن جانے سے پہلے کم از کم اپنا نام تو بتاتے جاؤں۔"
"میرا نام؟ اچھا تو سنو، تم نے یہ رات خواجہ نصر الدین کے ساتھ بتائی ہے۔ میں خواجہ نصر الدین ہوں، بےچینی پھیلانے اور نفاق کے بیج بونے والا، ایسی ہستی جس کے سر پر بڑا انعام ہے۔ ہر روز نقیب عام جگہوں اور بازاروں میں میرے بارے میں اعلان کرتے پھرتے ہیں۔ کل وہ تین ہزار تومان دے رہے تھے اور مجھے لالچ لگا کہ میں اس قیمت پر خود اپنا سر بیچ دوں۔ تم ہنس رہی ہو، میری پیاری۔ اچھا مجھے آخری بار اپنے ہونٹ چومنے دو۔ اگر میں تم کو تحفہ دے سکتا تو زمرد دیتا لیکن زمرد تو میرے پاس نہیں ہے۔ لو یہ ایک حقیر سا سفید پتھر بطور نشانی ہے!"
وہ اپنی پھٹی ہوئی قبا پہنتے ہیں جو الاؤ کی چنگاریوں سے جا بجا جلی ہوئی ہے اور چپکے سے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ دروازے پر کاہل اور بیوقوف خواجہ سرا پگڑی باندھے اور اوپر اٹھی ہوئی خمدار نوکوں والی جوتیاں پہنے، پڑا خراٹے لے رہا ہے۔ وہ محل کے سب سے بیش بہا خزانے کا لاپروا نگہبان ہے۔ آگے چل کر بھی قالینوں اور نمدوں پر پہرے دار خراٹے بھر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ننگے خنجروں کے تکئے بنا رکھے ہیں۔ خواجہ نصر الدین پنجوں کے بل رینگتے اس طرح صاف بچ نکلتے ہیں جیسے ذرا دیر کے لئے وہ کوئی نظر نہ آنے والا چھلاوہ بن گئے ہیں۔
اور پھر ایک بار سفید پتھریلی سڑک ان کے گدھے کے تیز رفتار سموں کے نیچے گونجتی اور چنگاریاں دیتی ہے۔ نیلے آسمان سے سورج دنیا کو منور کر رہا ہے۔ خواجہ نصر الدین اس سے آنکھ ملا سکتے ہیں۔ شبنم آلود کھیتوں، ویران ریگستانوں میں جہاں ریت کے تودوں کے درمیان اونٹوں کی سفید ہڈیاں چمکتی ہیں، ہرے بھرے باغوں اور جھاگ دار دریاؤں، بے برگ و بے گیاہ پہاڑیوں اور مسکراتے ہوئے سبزہ زاروں میں خواجہ نصر الدین کے نغمے گونجتے ہیں۔ وہ پیچھے ایک نظر ڈالے بغیر، جو کچھ پیچھے چھٹ گیا ہے اسپر افسوس کئے بغیر اور پیش آنے والے خطرے سے ڈرے بغیر آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
لیکن جو شہر انہوں نے ابھی ابھی چھوڑا ہے اس میں ان کی یاد ہمیشہ تازہ رہتی ہے۔ ملا اور عمائدین کے چہرے ان کا نام سنتے ہی غصے سے سرخ ہو جاتے ہیں۔ سقے، ساربان، جولاہے، ٹھٹھیرے اور گھوڑوں کی کاٹھیاں بنانے والے راتوں کو چائے خانوں میں جمع ہو کر خواجہ نصر الدین کے بارے میں ایسی کہانیوں سے ایک دوسرے کا دل بہلاتے ہیں جن میں ہمیشہ خواجہ کی جیت ہوتی ہے۔ حرم کی افسردہ حسینہ سفید پتھر کو غور سے دیکھتی رہتی ہے اور اپنے مالک کی آواز سنتے ہی اس کو ایک سیپ کے صندوقچے میں چھپا دیتی ہے۔
"اف" ہانپتا اور غراتا ہوا موٹا عہدے دار اپنی زربفت کی قبا اتارنے کی کوشش کرتے ہوئے کہتا ہے "اس کمبخت بدمعاش خواجہ نصر الدین نے تو ہم سب کو عاجز کر دیا ہے۔ اس نے سارے ملک میں ہنگامہ اور تہلکہ مچا رکھا ہے۔ آج ہی مجھے اپنے پرانے دوست صوبہ خراساں کے لائق گورنر کا خط ملا ہے۔ سوچو تو ذرا، اس بد ذات خواجہ نصر الدین نے ان کے شہر میں مشکل سے قدم رکھا ہی ہو گا کہ آہنگروں نے یکدم محاصل دینا بند کر دئے، سرائے والوں نے پہرے داروں کو مفت کھلانے سے انکار کر دیا۔ اور سب سے بڑھ کر تو یہ کہ اسلام کو ناپاک کرنے والے، اس چور، ولد الزنا نے یہ جرأت کی کہ گورنر کے حرم میں داخل ہو کر ان کی محبوب بیوی کو ورغلایا۔ سچ مچ دنیا میں ایسا شریر آدمی کبھی نہیں ہوا تھا! افسوس کہ ناہنجار نے میرے حرم کا رخ نہیں کیا ورنہ اس کا سر اس وقت بڑے چوک پر کسی بانس سے لٹکتا ہوتا۔"
حسینہ پراسرار انداز سے مسکراتی ہے اور خاموش رہتی ہے۔
اس دوران میں خواجہ نصر الدین کے گدھے کے تیز رفتار سموں سے سڑک گونجتی اور چنگاریاں دیتی ہے اور خواجہ کے نغموں کی آواز اس میں گھل مل جاتی ہے۔
اس دس سال میں نہ جانے کہاں کہاں سرگردان رہے۔ بغداد، استنبول، طہران، بخشی سرائے، اچمی ادزین، طفلس، دمشق اور تریپیزوند۔ وہ ان شہروں سے بخوبی واقف ہو چکے تھے اور ان کے علاوہ بھی بہت سے دوسرے شہروں کو جانتے تھے اور ہر جگہ اپنی ناقابل فراموش یادگاریں چھوڑی تھیں۔
اب وہ اپنے شہر، بخارا شریف واپس جا رہے تھے۔ ان کو امید تھی کہ وہ اپنی لامحدود آوارہ گردی ترک کر کے کسی دوسرے نام سے سکھ چین سے وہاں رہ سکیں گے۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers