دو ہفتے پہلے ایک اہم واقعہ ہوا جسے حسب روایت ذرائع ابلاغ نے نظرانداز کردیا۔ کاسا 1000 بجلی منصوبے پر چار ممالک نے کام شروع کرنے کا فیصلہ کرکے تعاون کے نئے امکانات کو اجاگر کردیا ہے۔اب جنوب ایشیا اور وسط ایشیا کے تاریخی تعلقات کو مغل لشکروں کے تناظر میں دیکھنے کی روایت بدلتی محسوس ہو رہی ہے۔ بدخشاں کا سوداگر مہینوال تو عرصہ ہوا چناب کے کنارے داستان بن گیا لیکن سوویت یونین سے علیحدگی کے بعد وسط ایشیائی سوداگر ایک بار پھر افغانستان سے پاکستان اپنا مال لانا اوریہاں کی مصنوعات اپنے ملک لیجانا چاہتے ہیں۔  تفصیل سے پڑھئے
وسط ایشیائی ریاستوں میں تاجکستان غالباً جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ واخان کی ایک زمینی پٹی ہے جو افغانستان کا حصہ ہے۔ اس پٹی کو عبور کرتے ہی تاجکستان شروع ہو جاتا ہے۔ تاجکستان کی سرحدیںچین‘کرغیزستان‘ازبکستان‘ترکمانستان اور افغانستان کے ساتھ ملتی ہیں۔ واخان کے ایک مقام پر تاجکستان اور پاکستان کے درمیان صرف 14کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین ثقافتی اور تاریخی تعلقات رہے ہیں۔ تاجکستان 9ستمبر 1991ء کو آزاد ہوا تو پاکستان اسے تسلیم کرنے والے پہلے ممالک میں سے ایک تھا۔ پاکستان نے یہاں اپنا سفارت خانہ 1993ء میں جبکہ تاجکستان نے پاکستان میں1997ء میں سفارتی مشن قائم کیا۔
تاجکستان کو توانائی وسائل اور بجلی کی پیداوار کے لحاظ سے ایک اہم ملک تصور کیا جاتا ہے۔ تاجکستان میں 948 دریا بہتے ہیں۔ 28500 کلومیٹر کے یہ دریا پن بجلی کا خزانہ ہیں۔ اس ملک میں 8000 گلیشئرز ہیں۔ دنیا بھر میں پانی سے جتنی بجلی پیدا کی جاتی ہے تاجکستان اس کا 4 فیصد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تاجکستان 52 لاکھ 70 ہزار میگاواٹ سالانہ پیداکر سکتا ہے۔ تاجکستان کی پن بجلی اس کی اپنی ضرورت سے بہت زیادہ ہے۔ اگر یہاں بجلی کے نئے پیداواری منصوبے قائم ہوں تو تاجکستان پاکستان سمیت بہت سے ممالک کی بجلی ضروریات پوری کرسکتا ہے۔ کاسا 1000 بجلی کی ٹرانسمیشن اور تجارت کا ایک ایسا منصوبہ ہے جو وسط ایشیا کے ممالک کرغیزستان اور تاجکستان کو افغانستان اور پاکستان کے ساتھ منسلک کردیتا ہے۔ چین نے بھی اس توانائی منصوبے میں دلچسپی کا اظہار کیاہے۔ چین خود پاکستان کو بجلی برآمد کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ اور کینیڈا نے جس طرح مل کر نارتھ امریکن گرڈ بنایا اور یورپ نے یورپیئن گرڈ قائم کیا اسی طرح پاکستان‘ کرغیزستان‘ تاجکستان‘ افغانستان اور چین بھی ایک انرجی گرڈ قائم کرسکتے ہیں۔ ایسے ہی ایک انرجی گرڈ کے حوالے سے حالیہ سارک سربراہ اجلاس میں بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ بدلتی دنیا کے نئے رشتے ہیں یہ رشتے بین الاقوامی ضرورتیں بنا رہی ہیں اس لئے کسی ایک ملک کے بجائے خطے اور علاقائی سطح پر گرڈقائم کرنے کا رجحان پنپ رہا ہے۔ چین کے ساتھ توانائی کا مشترکہ منصوبہ بین الاقوامی مداخلت کے کم سے کم امکانات کا حامل ہوسکتا ہے۔ پاکستان کا مسئلہ اس وقت یہی ہے کہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے جن منصوبوں پر عملدرآمد کا ارادہ کرتا ہے بین الاقوامی طاقتیں وہاں اپنے مفادات کھڑے کردیتی ہیں۔ حالیہ دنوں جب لندن میں امریکہ اور برطانیہ کی نگرانی اور مدد سے پاکستان‘ افغانستان‘کرغیزستان اور تاجکستان نے کاسا 1000 منصوبے پر اتفاق کیا تو عمومی طورپر اس منصوبے کو سراہا گیا۔ وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ گزشتہ 13 برسوں کے دوران افغانستان نے کئی اہم شعبوں میں خاطرخواہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے درمیان قومی یکجہتی حکومت کی تشکیل کا معاہدہ بھی قابل قدر ہے۔ یہ جمہوری حوالے سے ایک اہم سنگ میل ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ وہ افغان حکومت کی پیش بیں صلاحیت اور اصلاحاتی پروگرام کو سراہتے ہیں جس میں ’’تبدیلی کے عشرہ‘‘ کے دوران خودانحصاری کے حصول کے مقصد اور علاقائی رابطے کے لئے کاسا منصوبے کو اہم قرار دیا گیا۔ پاکستان اور افغانستان نے سکیورٹی تعاون پر نئے سرے سے توجہ دینے اور مضبوط تر اقتصادی روابط کی تشکیل پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں تاپی گیس پائپ لائن منصوبے پر عملدرآمد تیز کرنے کی بھی بات کی گئی۔ پاکستان نے افغان حکومت کی ترقیاتی ترجیحات کی تکمیل کے ساتھ ساتھ منشیات کی پیداوار اور سمگلنگ کے خلاف جدوجہد کے لئے تعاون پر بھی زور دیا۔ پاکستان اور تاجکستان بھلے اپنے دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے معاملے میں کتنے بھی سنجیدہ ہوں افغانستان ایک جغرافیائی حقیقت کے طور پر ان کے درمیان حائل ہے۔ لندن میں حالیہ افغانستان کانفرنس کو نئی افغان حکومت کے اصلاحاتی پروگرام کے حوالے سے اہم قرار دیا گیا۔ بین الاقوامی برادری ان اصلاحات کو دیکھ کر جنگ سے تباہ حال ملک کی مدد کے لئے کتنا آگے بڑھتی ہے یہ معاملہ صدر اشرف غنی کی درست سمت کوششوں پر انحصار کریگا۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کانفرنس سے تبدیلی کی کوئی بڑی امید نہیں رکھی جاسکتی کیونکہ ایسی کانفرنسیں 2001ء سے جاری ہیں اس بار افغان وفد میں 150 افراد شامل تھے۔ ان میں ان این جی اوز کے نمائندوں کی تعداد زیادہ تھی جو طالبان حکومت ختم ہونے کے بعد افغانستان میں نظر آنے لگیں۔ افغانستان کی قومی ترقی سے وابستہ شخصیات کا خیال ہے کہ غیرملکی اداروں نے ان این جی اوز کی صلاحیت اور نااہلی کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں امدادی رقوم فراہم کیں جن کے بدلے یہ تنظیمیں کاغذات میں افغانستان کے سماج کو ترقی کرتا ہوا دکھاتی رہیں۔ اس وقت 74لاکھ افغانوں کا انحصار غیرملکی امداد پر ہے۔ بہت سے ادارے اسی امداد پر چل رہے ہیں۔ امداد دینے والوں نے مقامی معیشت کو متحرک کرکے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی طرف توجہ ہی نہیں دی۔ افغانستان میں بدعنوانی ایک بڑا مسئلہ ہے جو اس ملک کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ حالیہ افغانستان کانفرنس ایسے وقت پر ہوئی جب ایساف اور اس میں شامل امریکی فوجی اپنا مشن جاری ماہ کے آخر تک مکمل کرکے افغانستان سے روانہ ہو رہے ہیں۔ ان دستوں کے جانے کے بعد امریکہ اور اتحادیوں کے چند اڈے فعال رہیں گے۔ لیکن سکیورٹی کی تمام ذمہ داری مقامی سکیورٹی فورسز پر ہوگی۔ حالیہ کانفرنس میں افغان سکیورٹی فورسز کو کام کرنے کے لئے درکار اضافی رقم کا انتظام کرنے پر بھی بات ہوئی۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی پاکستان کے ساتھ اپنے متنازعہ تعلقات کا اثر دو ملکوں کے مابین تعلقات میں بھی لے آئے۔ ممکن ہے یہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پالیسی رہی ہو کہ حامد کرزئی جیسا شخص طالبان دور کے پاک افغان تعلقات کی خوشگواری زائل کرے۔ پاکستان اور افغانستان کے سیاسی و دفاعی حکام کی حالیہ ملاقاتیں امید افزاء ہیں۔ ایک بین الاقوامی ادارے کے مطابق ڈاکٹر اشرف غنی کا تجربہ اور پس منظر انہیں افغانستان کے قومی و بین الاقوامی مسائل سے نمٹنے میں بہت مد دے سکتا ہے۔ وہ ایک معاشی ماہر ہیں لیکن ان کے اتحادی ابھی تک ان کے لئے رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔ اشرف غنی دو ماہ گزرنے کے باوجود اپنی کابینہ کی تشکیل نہیں کرسکے۔ ڈاکٹر اشرف غنی کا دورہ پاکستان علاقائی تعاون کے حامی حلقوں میں بہت سراہا گیا۔ پھر ان کے کچھ بیانات نے ماحول کو ناخوشگوار کردیا۔ اب لندن کانفرنس میں ایک بار پھر وہ اقتصادی و معاشی تعاون کے لئے رضامند نظر آئے۔ دونوں ملکوں کے مابین تعاون کا فوری اور موثر ذریعہ کاسا 1000 منصوبہ ہے جس پر ستمبر 2013ء سے غور ہورہا ہے۔ اگر تاجکستان کے انرجی وسائل بدعنوانی اور بدامنی کے شکار افغانستان سے گزر کر پاکستان پہنچ گئے تو یہ ایک بہت اہم معاشی پل ثابت ہوگا۔ ورلڈ بینک گروپ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 27مارچ 2014ء کو کاسا منصوبے کے لئے 526.5 ملین ڈالر منظور کئے۔ اس منصوبے کے تحت 1200کلومیٹر کی ٹرانسمیشن لائن نصب کی جائے گی۔ اس ٹرانسمیشن لائن کو سب سٹیشنوں کے ذریعے تاجکستان اور کرغیزستان کے پن بجلی کے میسر ذرائع تک بچھایا جائے گا۔ ٹرانسمیشن لائن میں گنجائش ہوگی کہ وہ 1300 میگاواٹ بجلی کی ترسیل کرسکے۔ اس منصوبے پر کل خرچ 1.17 ارب ڈالر کا ہے۔ ورلڈ بینک کے علاوہ اس منصوبے کی تکمیل کیلئے اسلامک ڈویلپمنٹ بینک اور یونائیٹڈ سٹیٹ ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ بھی معاونت فراہم کرینگے۔ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ یہ ٹرانسمیشن لائن جن علاقوں خاص طورپر افغانستان سے گزرے گی وہاں کے مقامی افراد کی سماجی بہبود اورترقی کے لئے بھی کئی ذیلی منصوبے عمل میں لائے جائیں گے۔ ٹرانسمیشن لائن سے جو ریونیو جمع ہوگا مقامی آبادی کو اس میں سے بھی معقول حصہ فراہم کرکے ان کا معیار زندگی بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ جنوب ایشیا میں مجموعی طور پر 400 ملین افراد بجلی سے محروم زندگی گزار رہے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان دونوں کئی دہائیوں کی جنگ‘ داخلی انتشار اور دہشت گردی سے متاثرہ ملک ہیں۔ دونوں بجلی پیدا کرنے کے لئے زیادہ تر تیل کا استعمال کرتے ہیں جو مہنگا ہونے کی وجہ سے بجلی کے نرخوں کو کم نہیں ہونے دیتا۔ دوسری طرف کرغیزستان اور تاجکستان ہیں جو اپنے آبی وسائل سے اپنی ضرورت سے زائد بجلی پیدا کرتے ہیں۔ خاص طور پر گرمیوں میں پن بجلی کی پیداوار فالتو ہوتی ہے۔ اگر وسط ایشیا کے یہ دونوں ملک اپنی سستی بجلی گرمیوں میں افغانستان اور پاکستان کو اس قدر کم نرخوں پر فراہم کردیں جن پر پاکستان اور افغانستان کی پیداواری لاگت زیادہ محسوس ہو تو یہ منصوبہ تمام فریقوں کے لئے یکساں طور پرفائدہ بخش ہوگا۔ ماہرین کاسا 1000منصوبے کو ایشیا کے دو اہم خطوں کی بجلی منڈی کی طرف پہلی پیشقدمی قرار دے رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کی نائب صدر برائے یورپ و وسط ایشیا لوراٹک کہتی ہیں کہ یہ منصوبہ ٹرانسپورٹیشن‘ ٹیلی کمیونیکیشن اور صنعتی شعبوں کی کارکردگی میں بہتری لا سکتا ہے۔ یہ تینوں شعبے کسی بھی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں۔ اگر ان میں بہتری آتی ہے تو اس کا اثر مجموعی معاشی حالت میں ترقی کی صورت میں نظر آئے گا۔ حالیہ برس اکتوبر میں پاکستان اور افغانستان نے وسط ایشیا سے درآمدہ بجلی کی ترسیل کے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ اس معاہدے پر دستخط واشنگٹن میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے تحت وزراء خزانہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ہوئے تھے۔ مارچ 2014ء میں ورلڈ بینک گروپ نے انجینئرنگ ڈیزائن‘ تعمیر‘ ٹرانسمیشن لائنوں کی تنصیب اور تین نئے کنورٹر سٹیشن قائم کرنے کیلئے فنڈز کی منظوری دیدی تھی۔ نارتھ امریکن گرڈ کی ٹرانسمیشن لائن 340,000 کلومیٹر اور یورپیئن پاور سسٹم کا فاصلہ 2,30,000 کلومیٹر ہے مگر کاسا 1000 منصوبے کی ٹرانسمیشن لائن صرف 1222 کلومیٹر ہے۔ یہ فاصلہ کم ہے لیکن مسائل کافی زیادہ ہیں۔ ایسی کوئی گارنٹی نہیں کہ امریکی انخلاء کے بعد افغانستان میں امن و امان کی صورتحال اس قدر اطمینان بخش ہوسکے کہ افغان حکومت اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ آزاد اقتصادی روابط کو فروغ دے سکے۔ تاریخ‘ ثقافت اور مذہبی ہم آہنگی اسی وقت قوموں کو معاشی آزادی کی مشترکہ منزل پر گامزن کرتی ہیں جب قومیں خود آزاد ہونے کا تہیہ کرلیتی ہیں۔ پاکستان اور وسط ایشیائی ریاستیں اس وجہ سے ایک دوسرے کے شراکت دار نہیں بن سکے کہ عالمی ساہوکار ان تعلقات کو اپنے بینکوں‘ منصوبہ ساز اداروں اور فنی ماہرین کے بغیر قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔اب اگر وہ آمادہ ہو رہے ہیں تو پاکستان یا افغانستان کی مدد کے لئے بلکہ انرجی کے ذریعے اپنے کنٹرول کو بڑھانا چاہتے ہیں۔

Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers