سخت گرمی کے باعث عرب بدو کی پیشانی سے پسینا ٹپک رہا تھا۔ وہ پتھر توڑنے میں مشغول تھا۔ آخری ضرب لگاتے ہی اس کی ہمت جواب دے گئی۔ وہ بوجھل قدموں سے گھر کی جانب چل پڑا۔ گھر داخل ہوتے ہی اسے بیوی ہنگامہ خیز آواز میں بچوں کو ڈانٹتی ہوئی ملی۔ بیوی نے اس کی خستہ حالت تو دیکھی، مگر پروا نہ کیے بغیر صحن سے ہوتی یوں اندر چلی گئی گویا وہ گھر آیا ہی نہ ہو! بدو غصہ ضبط کر گیا۔ لوگوں کی ازدواجی زندگیوں کے حالات اس کی نگاہوں کے سامنے گھوم کر رہ گئے۔    تفصیل سے پڑھئے
انگریزی کا ایک لفظ ہے ’’ٹرسٹ‘‘ آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ ہر لفظ کی طرح اس کی معنویت کا بھی ایک دائرہ ہے اور اس کے محاوراتی پہلو بھی ہیں۔ آپ سوچیں گے کہ میرے آج کے کالم کا اس لفظ سے کیا رشتہ ہے جبکہ میں سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خدشات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ ان انتخابات میں صرف اسمبلیوں کے منتخب ممبران ہی ووٹ ڈالتے ہیں۔ اگر یہ ووٹ خریدے جاسکتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ایسا ہوتا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے منتخب نمائندے بے ایمان اور بےضمیر ہیں۔ یہ اس لئے ممکن ہے کہ سینیٹ کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اب اس میں تبدیلی کے لئے آئین میں ترمیم کا منصوبہ بھی ہے۔  تفصیل سے پڑھئے

دو ہفتے پہلے ایک اہم واقعہ ہوا جسے حسب روایت ذرائع ابلاغ نے نظرانداز کردیا۔ کاسا 1000 بجلی منصوبے پر چار ممالک نے کام شروع کرنے کا فیصلہ کرکے تعاون کے نئے امکانات کو اجاگر کردیا ہے۔اب جنوب ایشیا اور وسط ایشیا کے تاریخی تعلقات کو مغل لشکروں کے تناظر میں دیکھنے کی روایت بدلتی محسوس ہو رہی ہے۔ بدخشاں کا سوداگر مہینوال تو عرصہ ہوا چناب کے کنارے داستان بن گیا لیکن سوویت یونین سے علیحدگی کے بعد وسط ایشیائی سوداگر ایک بار پھر افغانستان سے پاکستان اپنا مال لانا اوریہاں کی مصنوعات اپنے ملک لیجانا چاہتے ہیں۔  تفصیل سے پڑھئے
یاد رکھیے دولت مند بننے کے لیے محنت، مستقل مزاجی اور کاروباری دیانت بنیادی شرائط ہیں۔ہرکامیاب شخص انہی کے سہارے کامیاب ہوا ہے۔ امیر ترین بننے کے لیے ’’سونے کی کان‘‘ یا ’’تیل کا کنواں‘‘ کھودنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی یہ ممکنات میں سے ہے۔آپ وہ کام کیجیے جس میں آپ ترقی کر سکیں۔صرف پانچ سال میں امیر ترین بن جائیں۔معجزات پر بھروسا نہ کریں۔زندگی جہدِ مسلسل کا نام ہے۔اس میں کاہل اور وہم پرستوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ۔بعض لوگوں کاخیال ہے کہ امیر ترین بننے کے لیے اعلیٰ تعلیم کی ضرورت ہے حالانکہ یہ محض مفروضہ ہے۔ زندگی میں قابلِ رشک کامیابی یا دولت کے حصول کے لیے اعلیٰ تعلیم کی نہیں، ہمت، عزم، دیانت داری، مہارت اور تجربے کی ضرورت ہے۔ آپ اسے ٹیکنیکل ایجوکیشن بھی کہہ سکتے ہیں۔آنے والا دور ’’ٹیکنیکل ایجوکیشن‘‘ کا ہے۔بہت سے کالج اور یونیورسٹیاں اب اسی ایجوکیشن پر توجہ دے رہے ہیں، لہٰذا آپ اعلیٰ تعلیم کے چکر میں نہ پڑیں، صرف عملی ایجوکیشن پر توجہ دیں۔اگر آپ کسی کارخانے یا کمپنی میں ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں تو پہلے اس کمپنی یا ادارے کے متعلق مکمل معلومات حاصل کیجیے،جو کمپنی یا ادارہ آپ کے مزاج اور مقاصد سے ہم آہنگ ہو اس میں شامل ہو جایئے، اگر ملازمت کے دوران آپ یہ محسوس کریں کہ اب آپ اپناکاروبار شروع کرنے کے خواہش مند ہیں، تو یہ آپ کی صوابدید اور ارادے پرمنحصر ہے۔ دنیا میں ایک نہیں ہزاروں کاروبار ایسے ہیں جن میں شامل ہو کر آپ بھی امیر ترین افراد کی فہرست میں اپنا نام لکھوا سکتے ہیں، لیکن جو کچھ آپ کرنا چاہیں اس کے لیے چند شرائط پر عمل کرنا ضروری ہے۔ذیل میں دئیے گئے، آزمودہ کُلّیات آپ کو اپنی منزلِ مقصود تک پہنچا سکتے ہیں۔آپ کی آسانی کے لیے چند ہدایات (شرائط) پیش کی جا رہی ہیں:
 -1پہلے یہ فیصلہ کریں کہ آپ کو کیا کرنا ہے؟
 -2اس کے بعد اس کام پر مکمل غورفکر کریں۔ 
-3ان لوگوں سے رابطہ کریں جنہیں آپ اپنے لیے ’’مفید‘‘ سمجھتے ہیں۔
 -4دوسروں کی ضروریات کو سمجھیں اور انہیں پورا کرنے کی کوشش کریں۔
 -5 دوسروں کو ان کی توقعات سے زیادہ دیں۔
 -6 جو دوسروں کی ناپسندیدہ ضرورتوں پر توجہ دیں اور انہیں پورا کرنے سے مکمل گریز کریں۔ 
-7 دوسروں سے مکمل تعاون کریں اور ان کی مدد کریں۔
 -8 دوسروں کو اپنے عمل سے یقین دلا دیں کہ آپ ان کے ہمدرد اور خیرخواہ ہیں۔
 -9 جب اپنا کاروبار شروع کر دیں تو اس میں کامیابی کے لیے انتھک محنت کریں۔ 
 -10 کاروباری دیانت اور خوداعتمادی کا دامن تھامے رکھیں۔

 (ایم- آر- کوپ میئر کی تصنیف ’’آپ چاہیں ، تو امیر بن سکتے ہیں‘‘ سے مقتبس)

33 سالہ صفی اللہ کوالالمپور میں بڑی محتاط زندگی گزار رہا ہے۔ یہ بنگلہ دیشی نوجوان خصوصاً کوشش کرتا ہے کہ برصغیر سے تعلق رکھنے والے کسی فرد سے نہ ملے۔ اسے ڈر ہے کہ پھر کوئی بھی انتظامیہ کو مطلع کر سکتا ہے کہ وہ ملائشیا میں ناجائز طور پر رہ رہا ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ قانونی طریقے سے ملائشیا آیا تھا۔ ایجنٹ نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اسے ملائشیا میں الیکٹرونکس کمپنی میں اچھی ملازمت مل جائے گی۔ صفی اللہ کہتا ہے ’’مجھے یقین تھا کہ ملائشیا میں خوب کمائی کرکے میں اچھی خاصی رقم اپنے خاندان کو بھجوا سکوں گا۔‘‘ تفصیل سے پڑھئے
حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے ایک مرتبہ خداوند قدس کے دربار میں یہ عرض کیا کہ یا اللہ! تو مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ فرمائے گا! تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابراہیم! کیا اس پر تمہارا ایمان نہیں ہے؟ تو آپ نے عرض کیا کہ کیوں نہیں؟ میں اس پر ایمان تو رکھتا ہوں لیکن میری تمنا یہ ہے کہ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تا کہ میرے دل کو قرار آجائے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم چار پرندوں کو پا لو اور ان کو خوب کھلا پلا کر اچھی طرح ہلا ملا لو۔ پھر تم انہیں ذبح کر کے اور ان کا قیمہ بنا کر اپنے گردونواح کے چند پہاڑوں پر تھوڑا تھوڑا گوشت رکھ دو پھر اْن پرندوں کو پکارو تو وہ پرندے زندہ ہو کر دوڑتے ہوئے تمہارے پاس آجائیں گے اور تم مردوں کے زندہ ہونے کا منظر آپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک مرغ، ایک کبوتر، ایک گدھ، ایک مور ان چار پرندوں کو پالا اور ایک مدت تک ان چاروں پرندوں کو کھلا پلا کر خوب ہلا ملا لیا۔ پھر ان چاروں پرندوں کو ذبح کر کے ان کے سروں کو اپنے پاس رکھ لیا اور ان چاروں کا قیمہ بنا کر تھوڑا تھوڑا گوشت اطراف و جوانب کے پہاڑوں پر رکھ دیا اور دور سے کھڑے ہو کر ان پرندوں کا نام لے کر پکارا کہ یَا ایْھالدیکْ (اے مرغ) یا ایھا الحمامتہْ (اے کبوتر) یا ایھالنسر (اے گدھ) یا ایھالطاؤسْ (اے مور) آپ کی پکار پر ایک دم پہاڑوں سے گوشت کا قیمہ اْڑنا شروع ہو گیا اور ہر پرند کا گوشت پوست، ہڈی پر الگ ہو کر چار پرند تیار ہو گئے اور وہ چاروں پرند بلا سروں کے دوڑتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آگئے اور اپنے سروں سے جڑ کر دانہ چگنے لگے اور اپنی اپنی بولیاں بولنے لگے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے مردوں کے زندہ ہونے کا منظر دیکھ لیا اور ان کے دل کو اطمنیان و قرار مل گیا۔
اس واقعہ کا ذکر خداوند کریم نے قرآن مجید کی سورہ البقرہ میں ان لفظوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔
ترجمہ:
”اور جب حضرت ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب مجھے دکھا دے کہ تو کیونکر مردہ کو زندہ کرے گا فرمایا کیا تجھے یقین نہیں؟ عرض کی کیوں نہیں مگر یہ چاہتا ہوں کہ میرے دل کو قرار آجائے فرمایا تو اچھا چار پرندے لے کر اپنے ساتھ ہلا لو پھر ان کا ایک ایک حصہ ہر پہاڑ پر رکھ دو پھر انہیں بلاؤ تو وہ آپ کے پاس دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے اور یہ یقین رکھو کہ اللہ بڑا غالب، بڑی حکمت والا ہے۔“
تصوف کا ایک نکتہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جن چار پرندوں کو ذبح کیا ان میں سے ہر پرند ایک بُری خصلت میں مشہور ہے مثلا مور کو اپنی شکل و صورت کی خوبصورتی پر گھمنڈ ہوتا ہے اور مرغ میں کثرت شہوت کی بُری خصلت ہے اور گدھ میں حرص اور لالچ کی بری عادت ہے اور کبوتر کو اپنی بلند پروازی اور اونچی اُڑان پر نخوت و غرور ہوتا ہے تو ان چاروں پرندوں کے ذبح کرنے سے ان چاروں خصلتوں کو ذبح کرنے کی طرف اشارہ ہے چاروں پرند ذبح کئے گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مردوں کے زندہ ہونے کا منظر نظر آیا اور ان کے دل میں نور اطمینان کی تجلی ہوئی جس کی بدولت انہیں نفس مطمئنہ کی دولت مل گئی تو جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کا دل زندہ ہو جائے اور اس کو نفس مطمئنہ کی دولت نصیب ہو جائے اس کو چاہیے کہ مرغ ذبح کرے یعنی اپنی شہوت پر چھری پھیر دے اور مور کو ذبح کرے یعنی اپنی شکل و صورت اور لباس کے گھمنڈ کو ذبح کر ڈالے اور گدھ کو ذبح کرے یعنی حرص اور لالچ کا گلا کاٹ ڈالے اور کبوتر کو ذبح کرے یعنی اپنی بلند پروازی اور اونچے مرتبوں کے غرور و نخوت پر چھری چلا دے اگر کوئی ان چاروں بُری خصلتوں کو ذبح کر ڈالے گا تو انشاء اللہ تعالیٰ وہ اپنے دل کے زندہ ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور اس کو نفس مطمئنہ کی سرفرازی کا شرف حاصل ہو جائے گا۔
امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ "نعمان بن ثابت رحمتہ اللہ" ۸۰ھ – ۱۵۰ھ-
حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے مختصر حالات زندگی
آپ کا اسم گرامی نعمان اور کنیت ابو حنیفہ ہے۔ آپ کی ولادت ۸۰ھ میں عراق کے کوفہ شہر میں ہوئی۔ آپ فارسی النسل تھے۔ آپ کے والد کا نام ثابترحمتہ اللہ تھا اور آپ کے دادا نعمان بن مرزبان کابل کے اعیان و اشراف میں بڑی فہم و فراست کے مالک تھے۔ آپ کے پردادا مرزبان فارس کے ایک علاقہ کے حاکم تھے۔ آپ کے والد حضرت ثابترحمتہ اللہ بچپن میں حضرت علیرضی اللہ کی خدمت میں لائے گئے تو حضرت علیرضی اللہ نے آپ اور آپ کی اولاد کے لئے برکت کی دعا فرمائی جو ایسی قبول ہوئی کہ امام ابو حنیفہرحمتہ اللہ جیسا عظیم محدث و فقیہ اور خدا ترس انسان پیدا ہوا۔ تفصیل سے پڑھئے

تہذیب ِمغرب کی کون سی کل سیدھی ہے؟یہ کہانی پھر سہی۔ البتہ تہذیبِ عصیاں کے پروردہ، حسنِ عریاں کی کشش ودیدہ زیبی کے لیے انسانی جانوں کو داﺅ پر لگائے کیا کیا جتن کر رہے ہیں۔ یہ حقیقت اب خفیہ نہیں رہی۔ حسنِ فانی کو بقائے دوام بخشنے کی خوش فہمی،پوری دنیا بالخصوص یورپ ،امریکہ کو سالانہ اربوں ڈالر خرچ کرنے پر مجبور کر تی ہے لیکن افسوس ! ہزاروں خواہشوں کی طرح یہ خواہش بھی دم نکال دیتی ہے۔ زندہ رہتی ہے تو صرف کاسمیٹک انڈسٹری، جس کے زہریلے کیمیائی مادوں پر مشتمل سامانِ آرائش (میک اپ) بالاخر و جودِزن کے رنگ میں بھنگ ڈال دیتے ہیں ۔ پھر نہ بام پر آنے سے موسمِ گُل آتا ہے، نہ رنگ ِ پیرہن بھاتاہے اور نہ ہی زلف لہرانے سے خوشبو آتی ہے۔ لیکن گلشن(انڈسٹری) کا کاروبار چلتا رہتا ہے۔ خیر یہ تو تذکرہ تھا تہذیبِ ِغریقِ عصیاں کا۔ بقولِ شاعرِمشرق
تمہاری تہذیب آپ اپنے خنجر سے خود کشی کرے گی
کہ شاخ نازک پہ جو بنے گا آشیانہ ، ناپائیدار ہوگا
اﷲ علامہ اقبال کا اقبال مزید بلند کرے ؛آمین، وہ اس دور میں ہوتے تو دُخترانِ اسلام کو رنگِ مغرب میں رنگا دیکھ کر صدمے سے گُنگ ہو جاتے۔ لکیر کے فقیروں کی، مغرب کی اندھی تقلید نے اب یہ حال کر دیا ہے کہ
نئی تہذیب کی بے رخ ہواﺅں کے عوض
اپنی تہذیب کے شاداب چمن بیچ دئیے
اس سے پہلے کہ خوگرِ حمد کا تھوڑا سا گلہ قارئین کا گلا پکڑلے،آمدم برسرِ مطلب، اگر میں دعویٰ کروں کہ دنیا میں کوئی عورت ایسی نہیں جو خوبصورت نظرنہ آنا چاہتی ہو تو شاید اس روزِروشن کو جھٹلانے کی پاداش میں مجھے خاتون ہونے کے باوجود بالا تفاقِ نسواں، تختہ دار پر پہنچادیا جائے۔ لیکن اگر میں دعویٰ کروں کہ دنیا کی کوئی خاتون ایسی نہیں جو خوبصورتی کے لئے کاسمیٹک استعمال کرتی ہو تو شاید بچ جاﺅں ، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آپ کے زیرِاستعمال کاسمیٹک مثلاً: شیمپو، کنڈیشنرز، مسکارا، سن اسکرین و موائسچرائزر لوشن اور لپ اسٹک وغیرہ میں کتنے خطرناک و جان لیوا، زہریلے کیمیائی مادے شامل ہیں؟ نہیں تو دل تھام لیں کہ گھر کا بھیدی،لنکا ڈھانے چلا ہے۔ (میں نہیں ، کتاب "No more Dirty looks" کے مصنفین(نے کاسمیٹک انڈسٹری پر تحقیق کے بعد بتا یا ہے کہ ہمارے روزمرہ کے زیرِ استعمال درج ذیل اشیاءمیں کتنے خطرناک کیمیکلز شامل ہیں اور ان کا متبادل کیا ہے۔
بال (زلفیں):
بہت سے شیمپو اور کنڈیشنرز سلفیٹ (Sulfates) اور پیرابین (Parabens) نامی کیمیائی مادے پر مشتمل ہوتے ہیں جو ہارمونز کو متاثر کرنے کی انتہائی صلاحیت رکھتے ہیں۔
متبادل: روائتی نباتاتی مرکبات مثلاً: آملہ، ریٹھا، سکاکائی وغیرہ بہترین شیمپو و کنڈیشنرز ہیں۔
آنکھیں :
چشم ِآہو کے لئے جانے کیا کیا ، کیا جاتا ہے۔ پلکوں کی جھالر نمایاں کرنے کے لئے مسکارا ایک عام چیز ہے۔ جو مرکری (پارہ) اور کول تار (ڈامر) پر مشتمل ہو تا ہے۔اول الذکر دماغی ہارمونز کو ڈسٹرب کرنے اور ثانی الذکر سرطان (کینسر) پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ آئی شیڈ Eye۔Shade کے لئے استعمال ہونے والا کیمیکل ڈائی اوگسین(Dioxane) کا تعلق کینسر سے ہے۔
متبادل: روائتی کاجل بہترین متبادل ہے۔
جلد (Skin):
زیادہ تر مشہورِ زمانہ موائسچراز لوشن میں پیرا بینزbens) (Para نامی کیمیائی مادہ لازمی شامل ہوتا ہے۔ جبکہ بہت سے دھوپ بچاﺅ لوشن (Sunscreenes) میں اوکسی بینزوئن (Oxybenzone) لازمی جزو ہوتا ہے۔ یہ دونوں جسمانی ہارمونز میں خلل اندازی کا سبب بنتے ہیں۔
متبادل: خالص زیتون کا تیل بہترین قدرتی لوشن ہے۔
ہونٹ (Lips) :
گلابی ہونٹ، خوبصورتی کا معیار ہیں۔ شایداسی لیے شاعر کو کہنا پڑا
ناز کے اُن لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
لیکن ٹھہریے! ہو سکتا ہے کے آپ کی پسندیدہ لپ اسٹک، سیسہ (Lead) اور BHA نامی زہریلے کیمیکل پر مشتمل ہو جو کہ طاقتور کینسر پیدا کرنے والے مادے ہیں۔
متبادل:
نامیاتی اور روائتی طریقے: حقائق ملاحظہ فرمائے آپ نے؟ کیا سوچ رہی ہیں؟ جی چاہ رہا ہے مزید انکشاف کروں مگر لگتا ہے کہ آپ کا موڈ آف ہو گیا ہے۔ سوری! ہمارا ارادہ تو کچھ بھی نہ تھا ۔ خطا،درخطا، درخطا ہوگئی۔
آخر میں ان بہنوں سے معذرت جن کے لئے یہ نوائے صریر سمع خراشی کا باعث ہوئی۔ بس اس شعر کے ساتھ اجازت:
حسنِ صورت چند روزہ، حسنِ سیرت مستقل
اُس سے خوش ہوتی ہیں آنکھیں، اس سے دل
کہتے ہیں کہ ایک بیوقوف اپنے گدھے کی باگ ڈور سنبھالے چلا جا رہا تھا۔ گدھا اس کے پیچھے چل رہا تھا۔
(شہر زاد کی ۳۸۸ویں رات)
(۱) خواجہ نصر الدین کی ۳۵ ویں سالگرہ سڑک ہی پر ہوئی۔
دس سال سے زیادہ انہوں نے جلاوطنی میں گزارے تھے، شہر شہر، ملک ملک کی سرگردانی کرتے، سمندروں اور ریگستانوں کو پار کرتے۔ جہاں رات آ جاتی سو جاتے۔ ننگی زمین پر کسی گڈرئے کے چھوٹے سے الاؤ کے پاس کسی کھچاکھچ بھری ہوئی سرائے میں، جہاں تمام رات گرد آلود دھندلکے میں اونٹ لمبی لمبی سانسیں لیتے، اپنے کو کھجلاتے اور گھنٹیاں بج اٹھتیں یا کسی دھوئیں اور کالک سے بھرے چائے خانے میں ادھر ادھر لیٹے ہوئے سقوں، بھک منگوں، ساربانوں اور اسی طرح کے غریب لوگوں کے پاس جو پو پھٹتے ہی شہر کے بازاروں اور تنگ سڑکوں کو اپنی پر شور ہانک پکار سے بھر دیتے ہیں۔
بہت سی راتیں انہوں نے کسی امیر ایرانی عہدے دار کے حرم میں نرم ریشمی گدوں پر داد عیش دے کر بھی گزاری تھیں جبکہ گھر کا مالک اپنے برقندازوں کو ساتھ لے کر سارے چائے خانوں اور کارواں سرایوں میں ملحد اور آوارہ گرد خواجہ نصر الدین کی تلاش میں سرگرداں ہوتا تھا تاکہ اس کو پکڑ کر نوکیلے تیز چوبی ستون پر بٹھا سکے۔۔۔ کھڑکی کی جھلملی سے آسمان کی تنگ پٹی دکھائی دیتی، ستارے مرجھا جاتے، نرم اور نم باد صبا صبح کی آمد آمد کا اعلان کرتی ہوئی پتیوں میں سرسراتی اور کھڑکی کی کگر پر قمریاں خوشی سے کوکو کر کے چونچوں سے پر صاف کرتیں۔ خواجہ نصر الدین تھکی ہوئی حسینہ کو بوسہ دے کر کہتے:
"میرے در بے بہا، الوداع۔ اب جانے کا وقت آ گیا۔ مجھے فراموش نہ کر دینا۔"
حسینہ اپنے سڈول بازوؤں کو ان کی گردن میں حمائل کر کے التجا کرتی:
"ٹھہرو! کیا تم ہمیشہ کے لئے جدا ہو رہے ہو؟ لیکن کیوں؟ اچھا سنو، آج رات کو میں اندھیرا پھیلتے ہی بڑھیا کو تمھیں لانے کے لئے پھر بھیجوں گی۔"
"نہیں، میں مدتوں ہوئے یہ بات بھول چکا ہوں کہ ایک چھت کے نیچے دو راتیں کیسے گزاری جاتی ہیں۔ مجھے جانا ہی ہے۔ بڑی عجلت ہے۔"
"جانا کہاں ہے؟ کیا کسی دوسرے شہر میں تم کو ضروری کام ہے؟ تم کہاں جا رہے ہو؟"
"میں نہیں جانتا۔ لیکن روشنی کافی پھیل چکی ہے۔ شہر کے پھاٹک کھل چکے ہیں اور پہلے کارواں باہر نکل رہے ہیں۔ سن رہی ہو نا، اونٹوں کی گھنٹیوں کی آواز؟ جب میں یہ آواز سنتا ہوں تو جیسے کوئی جن میرے پیروں میں سنیچر پیدا کر دیتا ہے اور میں نچلا نہیں بیٹھ سکتا۔"
"اگر ایسا ہے تو جاؤ" ملول ہو کر حسینہ کہتی ہے، وہ اپنی لمبی لمبی پلکوں پر آنسوؤں کو چھپا نہیں پاتی " لیکن جانے سے پہلے کم از کم اپنا نام تو بتاتے جاؤں۔"
"میرا نام؟ اچھا تو سنو، تم نے یہ رات خواجہ نصر الدین کے ساتھ بتائی ہے۔ میں خواجہ نصر الدین ہوں، بےچینی پھیلانے اور نفاق کے بیج بونے والا، ایسی ہستی جس کے سر پر بڑا انعام ہے۔ ہر روز نقیب عام جگہوں اور بازاروں میں میرے بارے میں اعلان کرتے پھرتے ہیں۔ کل وہ تین ہزار تومان دے رہے تھے اور مجھے لالچ لگا کہ میں اس قیمت پر خود اپنا سر بیچ دوں۔ تم ہنس رہی ہو، میری پیاری۔ اچھا مجھے آخری بار اپنے ہونٹ چومنے دو۔ اگر میں تم کو تحفہ دے سکتا تو زمرد دیتا لیکن زمرد تو میرے پاس نہیں ہے۔ لو یہ ایک حقیر سا سفید پتھر بطور نشانی ہے!"
وہ اپنی پھٹی ہوئی قبا پہنتے ہیں جو الاؤ کی چنگاریوں سے جا بجا جلی ہوئی ہے اور چپکے سے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ دروازے پر کاہل اور بیوقوف خواجہ سرا پگڑی باندھے اور اوپر اٹھی ہوئی خمدار نوکوں والی جوتیاں پہنے، پڑا خراٹے لے رہا ہے۔ وہ محل کے سب سے بیش بہا خزانے کا لاپروا نگہبان ہے۔ آگے چل کر بھی قالینوں اور نمدوں پر پہرے دار خراٹے بھر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ننگے خنجروں کے تکئے بنا رکھے ہیں۔ خواجہ نصر الدین پنجوں کے بل رینگتے اس طرح صاف بچ نکلتے ہیں جیسے ذرا دیر کے لئے وہ کوئی نظر نہ آنے والا چھلاوہ بن گئے ہیں۔
اور پھر ایک بار سفید پتھریلی سڑک ان کے گدھے کے تیز رفتار سموں کے نیچے گونجتی اور چنگاریاں دیتی ہے۔ نیلے آسمان سے سورج دنیا کو منور کر رہا ہے۔ خواجہ نصر الدین اس سے آنکھ ملا سکتے ہیں۔ شبنم آلود کھیتوں، ویران ریگستانوں میں جہاں ریت کے تودوں کے درمیان اونٹوں کی سفید ہڈیاں چمکتی ہیں، ہرے بھرے باغوں اور جھاگ دار دریاؤں، بے برگ و بے گیاہ پہاڑیوں اور مسکراتے ہوئے سبزہ زاروں میں خواجہ نصر الدین کے نغمے گونجتے ہیں۔ وہ پیچھے ایک نظر ڈالے بغیر، جو کچھ پیچھے چھٹ گیا ہے اسپر افسوس کئے بغیر اور پیش آنے والے خطرے سے ڈرے بغیر آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
لیکن جو شہر انہوں نے ابھی ابھی چھوڑا ہے اس میں ان کی یاد ہمیشہ تازہ رہتی ہے۔ ملا اور عمائدین کے چہرے ان کا نام سنتے ہی غصے سے سرخ ہو جاتے ہیں۔ سقے، ساربان، جولاہے، ٹھٹھیرے اور گھوڑوں کی کاٹھیاں بنانے والے راتوں کو چائے خانوں میں جمع ہو کر خواجہ نصر الدین کے بارے میں ایسی کہانیوں سے ایک دوسرے کا دل بہلاتے ہیں جن میں ہمیشہ خواجہ کی جیت ہوتی ہے۔ حرم کی افسردہ حسینہ سفید پتھر کو غور سے دیکھتی رہتی ہے اور اپنے مالک کی آواز سنتے ہی اس کو ایک سیپ کے صندوقچے میں چھپا دیتی ہے۔
"اف" ہانپتا اور غراتا ہوا موٹا عہدے دار اپنی زربفت کی قبا اتارنے کی کوشش کرتے ہوئے کہتا ہے "اس کمبخت بدمعاش خواجہ نصر الدین نے تو ہم سب کو عاجز کر دیا ہے۔ اس نے سارے ملک میں ہنگامہ اور تہلکہ مچا رکھا ہے۔ آج ہی مجھے اپنے پرانے دوست صوبہ خراساں کے لائق گورنر کا خط ملا ہے۔ سوچو تو ذرا، اس بد ذات خواجہ نصر الدین نے ان کے شہر میں مشکل سے قدم رکھا ہی ہو گا کہ آہنگروں نے یکدم محاصل دینا بند کر دئے، سرائے والوں نے پہرے داروں کو مفت کھلانے سے انکار کر دیا۔ اور سب سے بڑھ کر تو یہ کہ اسلام کو ناپاک کرنے والے، اس چور، ولد الزنا نے یہ جرأت کی کہ گورنر کے حرم میں داخل ہو کر ان کی محبوب بیوی کو ورغلایا۔ سچ مچ دنیا میں ایسا شریر آدمی کبھی نہیں ہوا تھا! افسوس کہ ناہنجار نے میرے حرم کا رخ نہیں کیا ورنہ اس کا سر اس وقت بڑے چوک پر کسی بانس سے لٹکتا ہوتا۔"
حسینہ پراسرار انداز سے مسکراتی ہے اور خاموش رہتی ہے۔
اس دوران میں خواجہ نصر الدین کے گدھے کے تیز رفتار سموں سے سڑک گونجتی اور چنگاریاں دیتی ہے اور خواجہ کے نغموں کی آواز اس میں گھل مل جاتی ہے۔
اس دس سال میں نہ جانے کہاں کہاں سرگردان رہے۔ بغداد، استنبول، طہران، بخشی سرائے، اچمی ادزین، طفلس، دمشق اور تریپیزوند۔ وہ ان شہروں سے بخوبی واقف ہو چکے تھے اور ان کے علاوہ بھی بہت سے دوسرے شہروں کو جانتے تھے اور ہر جگہ اپنی ناقابل فراموش یادگاریں چھوڑی تھیں۔
اب وہ اپنے شہر، بخارا شریف واپس جا رہے تھے۔ ان کو امید تھی کہ وہ اپنی لامحدود آوارہ گردی ترک کر کے کسی دوسرے نام سے سکھ چین سے وہاں رہ سکیں گے۔
شروع اس پاک رب کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا برتر و بالا پروردگار ہے- اور کروڑوں درود و سلام اس مقدس ہستی حضرت محمد )صلی اللہ علیہ والہ وسلم( پر جو ہمیں جہالت کے اندھیروں سے نکال کر انسانیت کے اجالے میں لائے- میرا آج کا موضوع حقیقت پر مشتمل ایک آواز پر مبنی تحریر ہے-آنکھیں روز برستی ہیں دل تڑپتا ہے اک موت کا منظر ہے ،
آج ہمارے معاشرے میں طرح طرح کی جو پریشانیاں اور مشکلات ہیں-ان کے ذمے دار ہم خود ہیں اور وہ پریشانیاں اور مشکلات ہم نے پیدا کی ہوئی ہیں -    تفصیل سے پڑھئے
بیان کیا جاتا ہے۔ ایک بادشاہ کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو گیا کافی دن علاج کرنے کے باوجود جب اسے آرام نہ آیا تو طبیبوں نے صلاح مشورہ کر کے کہا کہ اس بیماری کا علاج صرف انسان کے پتے سے کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی ایسے انسان کے پتے سے جس میں یہ یہ خاص نشانیاں ہوں۔ یہ کہہ کر حکیموں نے وہ نشانیاں بتائیں اور بادشاہ نے حکم دے دیا کہ شاہی پیادے سارے ملک میں پھر کر تلاش کریں اور جس شخص میں یہ نشانیاں ہوں اسے لے آئیں۔
پیادوں نے فوراً تلاش شروع کر دی۔ خدا کا کرنا کیا ہوا کہ وہ ساری نشانیاں ایک غریب کسان کے بیٹے میں مل گئیں۔ پیادوں نے کسان کو ساری بات بتائی کہ بادشاہ کے علاج کے لیے تیرے بیٹے کے پتے کی ضرورت ہے۔اسے ہمارے ساتھ بھیج دے اور اس کے بدلے جتنا چاہے روپیہ لے لے ۔
کسان بہت غریب تھا۔ ڈھیر سارا روپیہ ملنے کی بات سن کر وہ اس بات پر آمادہ ہو گیا کہ سپاہی اس کے بیٹے کو لے جائیں۔ چنانچہ وہ اسے بادشاہ کے پاس لے آئے۔ خاص نشانیوں والا لڑکا مل گیا تو اب قاضی سے پوچھا گیا کہ اسے قتل کر کے اس کے جسم سے پتا نکالنا جائز ہو گا یا نہیں!قاضی صاحب نے فتویٰ دے دیا کہ بادشاہ کی جان بچانے کے لیے ایک جان کو قربان کر دینا جائز ہے۔
قاضی کے فتوے کے بعد لڑے کو جلاّد کے حوالے کر دیا گیا کہ وہ اسے قتل کر کے اس کا پتا نکال لے لڑکا بالکل بے بس تھا۔ وہ اپنے قتل کی تیاریاں دیکھ رہا تھا اور خاموش تھا۔ زبان سے کچھ نہ کہہ سکتا تھا۔ لیکن جب جلاد تلوار لے کر اس کے سر پر کھڑا ہو گیا تو اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔
بادشاہ خود اس جگہ موجود تھا۔ اس نے اسے مسکراتے ہوئے دیکھا تو بہت حیران ہوا۔ جلاّد کے ہاتھ میں ننگی تلوار دیکھ کر تو بڑے بڑے بہادر خوف سے کانپنے لگتے ہیں۔ اس نے جلاّد کو ر کنے کا اشارہ کر کے لڑکے کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا لڑکے۔ یہ تو بتا، اس وقت مسکرانے کا کون سا موقع تھا؟
لڑکے نے فوراً جواب دیا، حضور والا دنیا میں انسان کا سب سے بڑا سہارا اس کے ماں باپ ہوتے ہیں۔ لیکن میں نے دیکھا کہ میرے ماں باپ نے روپے کے لالچ میں مجھے حضور کے سپرد کر دیا۔ ماں باپ کے بعد دوسرا سہارا انصاف کرنے والا قاضی اور بادشاہ ہوتا ہے۔ کہ اگر کوئی ظالم کسی کو ستائے تو وہ اسے روکیں۔ لیکن قاضی اور بادشاہ نے بھی میرے ساتھ انصاف نہ کیا اب میرا آخر ی سہار خدا کی ذات تھی اور میں دیکھ رہا تھا کہ جلاّد ننگی تلوار لے کر میرے سرپر پہنچ گیا اور خدا کا انصاف بھی ظاہر نہیں ہو رہا۔ بس یہ بات سوچ کر مجھے ہنسی آ گئی۔
لڑکے کی یہ بات سنی تو بادشاہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے حکم دیا کہ لڑکے کو چھوڑ دو۔ ہم یہ بات پسند نہیں کرتے کہ ہماری جان بچانے کے لیے ایک بے گناہ کی جان لی جائے۔
لڑکے کو اُسی وقت چھوڑ دیا گیا۔ بادشاہ نے بہت محبت سے اسے اپنی گود میں بٹھا کر پیار کیا۔ اور قیمتی تحفے دے کر رخصت کیا۔ کہتے ہیں۔ اسی وقت سے بادشاہ کی بیماری گھٹنی شروع ہو گئی اور چند دن میں ہی وہ بالکل تندرست ہو گیا۔
میں نے دیکھا بر لب دریائے نیل اک فیل باں
اپنی دھن میں زیر لب کرتا تھا کچھ ایسا بیاں
غور کر ہاتھی کے پیروں میں جو ہو گا تیرا حال
ہو گی تیرے پاؤں میں بس یونہی مور ناتواں
وضاحت
اس حکایت میں حضرت سعدیؒ نے یہ نکتہ بیان کیا ہے۔ کہ جان خواہ بادشاہ کی ہو یا غریب کی، قدر و قیمت میں دونوں برابر ہیں۔ نیز یہ کہ خود غرض بن کر دوسروں کی جانیں پامال کرنے والے دنیاوی لحاظ سے بھی اتنے فائدے میں نہيں رہتے جس قدر نفع میں خلق خدا پر رحم کرنے والے رہتے ہیں۔
٭٭٭
حکایات سعدیؒ ۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کہیں ایک خوشحال شخص رہتا تھا۔ اسکا ایک اکلوتا بیٹا ناز و نعم میں پلا ہوا، یہاں تک کہ جوان ہو گیا۔ نہ کوئی ہنر ، نہ ہی کسی کام کا تجربہ۔ اسے ایک ہی کام آتا تھا اور وہ تھا باپ سے چھپا کر ماں کے دیئے ہوئے پیسوں سے کھیل کود اور مستیاں کرنا اور سڑکوں چوراہوں پر وقت گزارنا۔
ایک دن صبح کے وقت باپ نے اسے آواز دیکر اپنے پاس بلایا اور کہا:" بیٹے اب تم بڑے ہو گئے ہو اور خیر سے جوان بھی ہو۔ آج سے اپنی ذات پر بھروسہ کرنا سیکھو، اپنے پسینے کو بہا کر کمائی کرو اور زندگی گزارنے کا ڈھنگ سیکھو۔
"
بیٹے کو یہ بات کچھ ناگوار سی گزری، تقریباً احتجاج بھرے انداز میں اس نے باپ سے کہا: "مجھے تو کوئی کام کرنا نہیں آتا۔"
باپ نے کہا: "کوئی بات نہیں، اب سیکھ لو، تم آج ہی شہر روانہ ہو جاؤ، اور یاد رکھو جب تک میرے لئے ایک سونے کی اشرفی نہ کما لینا لوٹ کر واپس نہ آنا۔"
مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق، بیٹا گھر سے جانے کیلئے دروازے کی طرف بڑھ ہی رہا تھا کہ اس کی ماں جو یہ سب گفتگو چھپ کر سن چکی تھی بیٹے کے سامنے آ گئی، مٹھی میں چھپائی ہوئی اشرفی بیٹے کو دیتے ہوئے بولی کہ شہر چلے جاؤ، رات گئے لوٹ کر یہ اشرفی باپ کو لا کر دینا اور کہنا کہ میں شہر سے کما کر لایا ہوں۔ اور یہ نوجوان خوشی خوشی گھر سے روانہ ہو گیا...
شام گئے لوٹ کر بیٹے نے ویسے ہی کیا جس طرح اسکی ماں نے اسے سمجھایا تھا، سیدھا باپ کے پاس جاکر بولا: ابا جان، یہ لیجیئے سونے کی اشرفی، میں نے سارا دن بہت جان لڑا کر کام کیا اور بہت ہی مشکل سے یہ اشرفی کما کر آپ کے پاس لایا ہوں۔ باپ نے اشرفی کو لیکرکافی غور سے دیکھا، پھر آتشدان میں جلتی آگ میں جھونکتے ہوئے بیٹے سے کہا: نہیں برخوردار، یہ وہ اشرفی نہیں ہے جو میں نے مانگی تھی۔ تم کل سے دوبارہ کام پر جاؤ اور دیکھ لینا جب تک ایک اشرفی کما نہ لینا لوٹ کر واپس نہ آنا۔
بیٹا خاموشی سے باپ کی اس حرکت کو دیکھتا رہا، نہ کوئی احتجاج اور نہ کوئی ردِ عمل۔
دوسرے دن شہر کو جانے کیلئے گھر سے باہر نکلتے ہوئے دروازے کی اوٹ میں ماں کو پھر منتظر پایا، ماں نے اسکی مٹھی پر ایک اور اشرفی رکھتے ہوئے کہا: بیٹے اس بار جلدی واپس نہ آنا، شہر میں دو یا تین دن رکے رہنا، اور پھر لوٹ کر باپ کو یہ اشرفی لا دینا۔..
بیٹے نے شہر جا کر ماں کے کہے پر عمل کیا ، تین دن کے بعد گھر لوٹ کر سیدھا باپ کے پاس گیا اور اشرفی اسے تھما تے ہوئے کہا: اے والد محترم، یہ لیجیئے سونے کی اشرفی، اسے کمانے کیلئے مجھے بہت کٹھن محنت کرنا پڑی ہے۔
باپ نے اشرفی لیکر اسے کافی دیر غور سے دیکھا اور دوبارہ یہ کہتے ہوئے آگ میں پھینک دی کہ: بیٹے یہ وہ اشرفی نہیں ہے جو میں چاہتا ہوں، کل تم پھر سے کام کیلئے جاؤ اور اس وقت تک نہ لوٹنا جب تک اشرفی نہ کما لینا۔
اس بار بھی اپنے باپ کی اس حرکت پر بیٹا بغیر کوئی ایک لفظ بولے خاموش رہا۔
تیسری مرتبہ اس بار یہ نوجوان اپنی ماں کے جاگنے سے پہلے ہی شہر کی طرف روانہ ہو گیا اور وہاں ایک مہینہ رہا۔ اور اس بار ایک مہینے کے بعدحقیقی معنوں میں محنت و مشقت سے کماکر اشرفی کو نہایت حفاظت سے مٹھی میں دبائے ، مسکراتے ہوئے اپنے باپ کے پاس حاضر ہوا، اشرفی باپ کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا: اے والدِ محترم، میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس بار یہ اشرفی میرے پسینے کی کمائی ہے، یقین کیجئے اسے کمانے کیلئے مجھے بہت محنت کرنا پڑی ہے۔
سونے کی اشرفی کو ہاتھ میں لیکر باپ کافی غور سے دیکھتا رہا، اس سے پہلے کہ اسکا باپ اشرفی کو آگ میں ڈالنے کیلئے ہاتھ بڑھاتا، نوجوان نے آگے بڑھ کر باپ کا ہاتھ تھام لیا۔اس بار باپ ہنس دیا اور بڑھ کر بیٹے کو گلے لگاتے ہوئے کہا: اب بنے ہو جوان تم!بے شک یہ اشرفی تیری محنت اور پسینے کی کمائی ہے۔ کیونکہ اسے ضائع ہونا تجھ سے نہیں دیکھا گیا۔ جبکہ اس سے پہلے میں دو بار اشرفیاں آگ میں پھینک چکا ہوں مگر تجھے کوئی افسوس نہیں ہوا تھا۔
"سچ ہے کہ بغیر محنت کے آنے والا مال جاتا بھی تو اسی آسانی سے ہے،اور اس کے جانے کا وہ دکھ نہیں ہوتا جو محنت کی کمائی کے جانے کا ہوتا ہے.."
''بیشک !سب سے بہترین کمائی محنت اور حلال کی کمائی ہے''

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
دنیا کی کوئی بھی زبان اپنی بے شمار خوبیوں کے باوجود عیب اور خامیوں سے خالی نہیں۔ دنیا کی کسی بھی زبان کے بارے میں یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ خامیوں سے بالکل پاک ہے۔ کسی کی لکھائی بہت پیچیدہ ہے تو کسی کے قواعد انتہائی مشکل ہیں اور کسی میں بعض مخصوص آوازیں موجود نہیں ہیں۔ مثلاً انگریزی زبان میں ت، ڑ، غ اور ق کی آوازیں نہیں ہیں۔ فارسی زبان میں ٹ، ڈ اور ڑ کی آوازیں موجود نہیں جبکہ عربی زبان میں ٹ، پ، ج، ڈ، ڑاور گ کی آوازیں نہیں ہیں۔ سندھی، ہندی اور اردو زبان میں سب سے زیادہ آوازیں ہوتی ہیں۔  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ایک شخص کسی بادشاہ کا مقرب اور وفادار تھا۔اِس وجہ سے وہ کافی اہم تھا۔وہ جب بھی بادشاہ کی محفل میں بیٹھتا تو عموماً یہ ضرب المثل بیان کرتا: - ا پنے محسن کے ساتھ احسان کی وجہ سے اچھا سلوک کرو۔ رہا بُرائی کرنے والا تو اس کی بُرائی اُس (کو ختم کرنے )کے لیے کافی ہے-
درباریوں ایک شحص کو اِس کے ساتھ بیر تھا۔خواہ مخواۃ کا حسد۔ اس کی پوری خواہش تھی یہ بادشاہ کا مقرب نہ رہے اور کسی طرح اُسے بادشاہ سے بدظن کر دیا کر دیا جائے۔ اُس نے کئی کوششیں کیں مگر ناکام رہا،چنانچہ اُس نے ایک چال چلی، ایک مرتبہ موقع پا کر اس نے بادشاہ کو بتایاِِ؛ یہ شخص جو آپکے سب سے زیادہ قریب ہے ،آپکے جوتے تک اُٹھاتا ہے حالانکہ حقیقت میں یہ آپ کا دشمن ہے۔ آپ سے محبت نہیں کرتا بلکہ اِس کا کہنا ہے آپ کے منہ سے نہایت گندی بدبو آتی ہے۔
بادشاہ بولا:تمھارے اِس الزام کا کیا ثبوت ہےاور اِس اِلزام کی تصدیق کیسے ہوگی؟
حاسد بولا؛آپ اِس شحص کو شام کو وقت بلوائیں اور اپنے قریب کریں۔آپ خود ہی دیکھ لے گے کہ وہ فوراًاپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے گےتاکہ آپ کی بدبو نہ سونگھ سکے۔بادشاہ بولا؛تم جاؤ،ہم خود اس کی تصدیق کریں گے۔
وہ حاسد بادشاہ کی مجلس سے نکل کر سیدھا اس آدمی کے پاس گیا اور اُسے کھانے کی دعوت دی۔اس شحص کو حاسد کے حسد اور چال کا قطعاً علم نہ تھا۔وہ تو اُسے دوست ہی سمجھتا تھا اور یوں بھی اس کے تعلقات سب سے اچھے تھے۔حاسد نے اُسے کھانا کھلایا جس میں لہسن شامل تھا۔کھانے کے بعد وہ بادشاہ کے دربار جا پہنچا،بادشاہ چلنے لگا تو اس نے اس کےجوتے پکڑ لیے اور ساتھ ہی اپنی عادت کے مُطابق بولا،
اَحْسِنْ اِلْی الْ مُحْسِنْ بِاِحْسَانِہِ،فَاِنَّ الْ مُسِی ءَ سَیَکْفِیکَہُ اِ سَا ءَ تُہُ
ا پنے محسن کے ساتھ احسان کی وجہ سے اچھا سلوک کرو۔ رہا بُرائی کرنے والا تو اس کی بُرائی اُس (کو ختم کرنے )کے لیے کافی ہے
بادشاہ نے اس سے کہا ذرامیرے قریب آ۔جب وہ بادشاہ کے قریب ہوا تواُس نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا،مبادہ بادشاہ اس کے منہ سے لہسن کی بدبو نہ سونگھ لے۔بادشاہ نے اپنے دل میں سوچا میرے درباری نے بلاشبہ اس کےبارے میں درست ہی بیان دیا تھا۔
اس واقعہ کے راوی بکر بن عبداللہ المزنی بیان کرتے ہیں کہ بادشاہ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنے ہاتھ جزا اور سزا لکھتا تھا۔جب اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ یہ شحص میرا مُخلص نہیں بلکہ اندر سے میرا مخالف ہے تو اس نے ایک تحریر اپنے چیف سکریٹری کو لکھی جس کا مضمون یہ تھا؛ ''جب اِس تحریر کا حامل تمھارے پاس آئے تواس کو قتل کرنے کے بعد اُس کی کھال اُتاردواور اُس میں بھس بھر کر میرے پاس بھجوادو؛؛
بادشاہ نے اُس شحص کو خط دیا اور کہا؛؛ اِسے چیف سکریٹری کے پاس لے جاؤ؛؛
وہ اِس سربمہر خط کو لے کر دربار سے باہر آیا تو اُس کو وہی حاسد ملا۔
حسدنے اس خط کو دیکھا تو پوچھا؛؛ارے!یہ تمھارے پاس کیسا خط ہے؟ذرا مجھے دیکھاؤ۔ اُس نے کہا؛؛بادشاہ نے مجھے صلے کے طور پر یہ اِنعام دیا ہے۔اس حاسد نے اصرار کیا ؛؛خط مجھے دے دو۔اس شحص نے کہا؛؛یہ رہا خط یہ تمھارا ہو گیا۔اس نے خط لیا اور خوشی خوشی چیف سکریٹری کے پاس جا پُہنچا۔ اُس نے خط کو کھولا تو کہنے لگا؛؛اس خط میں لکھا ہے کہ میں تمھیں ذبح کر کے تمھاری کھال اُتار کر بادشاہ کے پاس بھجواؤں۔وہ حاسد بولا نہیں نہیں؛یہ خط میرے لیے نہیں ہے ۔بلکے میرے فلاں دوست کا ہے۔ غلطی سے میں نے لے لیا ہے۔چیف سکریٹری بولا؛؛دیکھو اب تم یہاں سے نہیں جا سکتے۔خط میں واضح طور پر ہدایات ہیں کہ جو بھی اِس کا حامل ہے اُس کو قتل کر کے اُس کی کھال میں بُھس بھر دو۔اس نے بڑا واویلا کیا ایک مرتبہ مجھے بادشاہ کے پاس جانے کا موقع دو۔یہ میرے ساتھ دھوکہ ہو گیا ہے۔چیف سکریٹری بولا؛؛اسِ خط کے حصول کے بعدتمھارے پاس واپسی کی کوئی صورت نہیں ہےاور اب موت تمھارا مقدر ہے۔چنانچہ سکریٹری نے اُس کو قتل کروایا اور حسبِ ہدایت اس کی لاش بادشاہ کے پاس بھجوادی۔وہ شحص جو بادشاہ کا مُقرب تھا؛اپنی عادت کے مُطابق دربار میں پُہنچا اور اِتفاق سے اپنی عادت کے مطابق اُس نے وہ ضرب المثل بادشاہ کے سامنے دہرادی۔ بادشاہ کو بڑا تعجب ہوا اور اُس نے پوچھا؛؛میرے خط کا کیا ہوا؟اس نے جواب دیا؛؛ جب میں آپ کا خط لے کر نکلا تو مجھے فلاں شحص ملا۔اس نے مجھ سے درخواست کی کہ یہ خط اُس کو دے دوں؛؛ چنانچہ میں نے وہ خط اُس کو بخش دیا۔
بادشاہ نے اس سے کہا ؛؛اس شخص نے تو مجھے بتایا تھا کہ تم میرے بارے میں کہتے ہوکہ میرے منہ سے بدبو آتی ہے۔کیا یہ سچ ہے؟اس نے کہا حاشاوکلا، میں نے تو اِیسی بات کبھی نہیں کی۔بادشاہ نے کہا ؛؛ اچھا یہ بتاؤ کل جب میں نے تمھیں بُلایا تھا تو تم نے اپنے منہ پر ہاتھ کیوں رکھ لیا تھا؟ وہ کہنے لگا؛؛بادشاہ سلامت !اُس شحص نے مجھے کھانے کی دعوت دی جس میں مجھے خوب لہسن کھلایا،میں نے ہاتھ اِس لیے رکھا تھا کہ کہیں آپ کو اِس ناگوار بو سے تکلیف نہ ہو۔
بادشاہ کہنے لگا ؛؛تم سچ اور درست کہتے ہو۔ اپنی ڈیوٹی پر واپس چلے جاؤ تمھا را قول درست تھا کہ؛؛ بُرائی کرنے والا اپنے کرتوت کا مزا ازخودچکھ لیتا ہے۔
اِسی کو کہتے ہیں ،،چاہ کن راہ چاہ درپیش؛
یعنی-- کنواں کھودنے والا خود ہی اُس میں جا گرتا ہے۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

بغداد پر تاتاری فتح کے بعد، ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔ پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟ جواب آیا: ایک عالم کے پاس کھڑے ہیں۔ دخترِ ہلاکو نے عالم کو اپنے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔ عالم کو تاتاری شہزادی کے سامنے لا حاضر کیا گیا۔
شہزادی مسلمان عالم سے سوال کرنے لگی: کیا تم لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے؟
عالم: یقیناً ہم ایمان رکھتے ہیں
شہزادی: کیا تمہارا ایمان نہیں کہ اللہ جسے چاہے غالب کرتا ہے؟
عالم: یقیناً ہمارا اس پر ایمان ہے۔
شہزادی: تو کیا اللہ نے آچ ہمیں تم لوگوں پر غالب نہیں کردیا ہے؟
عالم: یقیناً کردیا ہے۔
شہزادی: تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ خدا ہمیں تم سے زیادہ چاہتا ہے؟
عالم: نہیں
شہزادی: کیسے؟
عالم: تم نے کبھی چرواہے کو دیکھا ہے؟
شہزادی: ہاں دیکھا ہے
عالم: کیا اس کے ریوڑ کے پیچھے چرواہے نے اپنے کچھ کتے بھی رکھ چھوڑے ہوتے ہیں؟
شہزادی: ہاں رکھے ہوتے ہیں۔
عالم: اچھا تو اگر کچھ بھیڑیں چرواہے کو چھوڑ کو کسی طرف کو نکل کھڑی ہوں، اور چرواہے کی سن کر دینے کو تیار ہی نہ ہوں، تو چرواہا کیا کرتا ہے؟
شہزادی: وہ ان کے پیچھے اپنے کتے دوڑاتا ہے تاکہ وہ ان کو واپس اس کی کمان میں لے آئیں۔
عالم: وہ کتے کب تک ان بھیڑوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں؟
شہزادی: جب تک وہ فرار رہیں اور چرواہے کے اقتدار میں واپس نہ آجائیں۔
عالم: تو آپ تاتاری لوگ زمین میں ہم مسلمانوں کے حق میں خدا کے چھوڑے ہوئے کتے ہیں؛ جب تک ہم خدا کے در سے بھاگے رہیں گے اور اس کی اطاعت اور اس کے منہج پر نہیں آجائیں گے، تب تک خدا تمہیں ہمارے پیچھے دوڑائے رکھے گا، تب تک ہمارا امن چین تم ہم پر حرام کیے رکھوگے؛ ہاں جب ہم خدا کے در پر واپس آجائیں گے اُس دن تمہارا کام ختم ہوجائے گا۔
*****
مسلمان عالم کے اس جواب میں آج ہمارے غوروفکر کےلیے بہت کچھ پوشیدہ ہے!

خدایا ہمارے اس بھٹکے ہوئے قافلے کو اپنے در پر واپس آنے کی توفیق دے!
بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعت صحرا دے
انسانی زندگی میں مرغے کی ہمیشہ سے بڑی اہمیت رہی ہے۔ ہر کوئی کسی نہ کسی مرغے کو پکڑنے کے چکر میں ہوتا ہے۔ہمارے معاشرے میں مرغا پکڑنا ایسے ہی ہے جیسے کسی چور کو پکڑنا۔ پولیس برسوں چورکے پیچھے لگی رہتی ہے پھر تھک ہار کر اس کے ساتھ والے بندے کو پکڑ کرلے آتی ہے۔ گویا یہاں نہ چور پکڑاجاتا ہے نہ مرغا۔ گئے وقتوں میں لوگ ہفتہ ہفتہ کسی کے ہاں مہمان رہ کرچلے جاتے تھے لیکن مرغاہاتھ نہیں آتا تھا۔   تفصیل سے پڑھئے
آج کل ایک اور فیشن عام ہورہا ہے وہ ہے مردوں اور عورتوں کا نامحرم سے ہاتھ ملانا یا پیار دینے کے لیے سر پر ہاتھ پھیرنا ۔ اور تقریبات میں مرد عورتوں کا ایک جگہ جمع ہونا ۔ کچھ لوگ اسے برا بھی نہیں سمجھتے حالانکہ یہ بھی ایک فتنہ ہے جس سے بچنا بہت ضروری ہے - کسی غیر محرم عورت کو چھونا ،حرام اور ممنوع ہے۔خواہ یہ پیار دینے کی نیت سے چھوا جائے یا کسی اور نیت سے چھوا جائے۔    تفصیل سے پڑھئے
عمومی طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ حکمرانی کا حق صرف مردوں کو حاصل ہے اس لیے کہ ان میں حکمرانہ خصلت اور ریاست چلانے کے لیے شاطرانہ چالوں میں مہارت حاصل ہوتی ہے لیکن کچھ صلاحیتیں خداداد بھی ہوتی ہیں اس عطیہ خداوندی کو کسی مخصوص پیرائے سے نتھی کرنا،مناسب نہیں تاریخ انسانی میں مدری نظام رائج رہا ہے جہاں خواتین نے مردوں پر حکمرانی کی ہے۔ پدری نظام کے بعد بھی تاریخ میں ہمیں ایسی خواتین کے قصے ملتے ہیں جنھوں نے شہرت و داوم پایا ۔ملکہ سبا سے لے کر بینظیر بھٹو یا بنگلہ دیش کی خالدہ ضیا، شیخ حسینہ ہوں یا ماضی کی اندرا گاندھی ، ان کی سیاسی بصیرت اور اپنے مخالفین کے ساتھ شطرنج کی چالوں سے کون واقف نہیں ہے۔کچھ اسی طرح کا کردار مسلم حکمرانوں میں رضیہ خاتون کا بھی ہے جس نے اپنی شاطرانہ چالوں اور بصیرت کی وجہ سے متنازعہ ہونے کے باوجود تاریخ میں نام رقم کردیا۔
پنجاب میں لیفٹیننٹ گورنرز اور گورنرز کی تاریخ 165 سال پرانی ہے۔ سکھوں سے دوسری جنگ کے بعد برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1849 میں معاہدہ لاہور کے بعد پنجاب کو حاصل کرلیا۔ صوبے کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر سر جان لیئرڈ مائر لارنس (1879-1811) یکم اپریل 1849 تا 25 فروری 1859 اور 1864-69 ہندوستان کے وائس رائے رہے۔ 1849 تا 1924 کے دوران پنجاب میں 16 لیفٹیننٹ گورنرز آئے۔ ان میں سر رابرٹ منٹگمری (شہر منٹگمری موجودہ ساہیوال ان ہی کے نام پر تھا) سر ڈونلڈ فرائیل میکلوڈ (لاہور کی معروف میکلوڈ روڈ ان سے موسوم ہے) سرہندی ڈیورنڈ (لاہور کی معروف ڈیورنڈ ان کا حوالہ ہے جبکہ 2640کلومیٹرز پاک افغان سرحد ڈیورنڈ لائن ان کے بیٹے مورٹیمر ڈیورنڈ سے موسوم ہے)
سر رابرٹ ہنری ڈیوس، سر رابرٹ ایلس ایجرٹن (حوالہ ایجرٹن روڈ لاہور) سر چارلس ایچی سن (حوالہ لاہور کا شہرت یافتہ ایچی سن کالج اور اہلیہ کے نام پر لیڈی ایچی سن اسپتال)سر جیمز براڈوڈلائل (لائلپور جسے بعدازاں فیصل آباد کا نام دیا گیا) ان کے پوتے مارک لائل گرانٹ پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر رہے۔ سر ڈینس فٹز پیٹرک، سر ولیم میکورتھ ینگ، سر چارلس منٹگمری ریواز (ریواز گارڈن لاہور) سر تھامس گورڈن واکر، سر لوئیس ولیم ڈین، سر جیمز میکرون ڈوئی، سر مائیکل فارنس او ڈائر اور سر ایڈورڈ ڈکلس مکلیگن لیفٹیننٹ گورنرز رہے۔ 1924 تا 1947 سر ولیم میلکم ہیلی (حوالہ معروف ہیلی کالج) سر جیفری فٹز ہروی ڈی منٹگمری، سر سکندر حیات خان، سر ہربرٹ ولیم ایمرسن، سر ہنری ڈفیلڈ کریک، سر برٹرینڈ جیمز گلینسی اور سر ایوان میئر ڈتھ جنکنز پنجاب کے گورنر رہے۔تقسیم ہند سے قبل سر ڈی منٹگمری، سر سکندر حیات اور سر ایمرسن دو دو بار گورنر پنجاب مقرر ہوئے۔ تقسیم ہندکے بعد سر فرانسس مودی (1976-1890) مغربی پنجاب کے پہلے گورنر بنے۔ وہ تقسیم سے قبل سندھ کے آخری برطانوی گورنر بھی تھے۔
1947 سے 1955 تک سر فرانسس مودی، سرادر عبدالرب نشتر، ابراہیم اسماعیل چندریگر، میاں امین الدین، حبیب ابراہم رحیم ٹولہ اور نواب مشتاق احمد گورمانی گورنر پنجاب رہے۔ پنجاب ون یونٹ کے تحت مغربی پاکستان میں ضم ہونے کے بعد 1966 تک مشتاق احمد گورمانی، اختر حسین اور نواب کالاباغ امیر محمدخان نے گورنر مغربی پاکستان کے فرائض انجام دیے جبکہ 1966-69جنرل (ر) محمد موسیٰ گورنر مغربی پاکستان رہے۔ ان کے بعد 20تا 25 مارچ 1969 یوسف عبداللہ ہارون گورنر رہے۔ ان کے بعد جنرل یحییٰ خان کے دور میں لیفٹیننٹ جنرل عتیق الرحمٰن مغربی پاکستان کے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے جنہوں نے ون یونٹ کی تحلیل کے فیصلے پر عملدرآمد کیا۔ان کے بعد جنرل ٹکا خان محض تین دن اور ائرمارشل نورخان مختصر عرصہ کےلیے آفس میں رہے۔
یکم جولائی 1970 کے بعد سے پنجاب میں جو دو درجن گورنرز آئے ان میں لیفٹیننٹ جنرل عتیق الرحمٰن، غلام مصطفیٰ کھر، حنیف رامے، نواب صادق حسین قریشی، محمدعباس خان عباسی، اسلم ریاض حسین، جنرل سوار خان، جنرل غلام جیلانی خان، مخدوم سجاد حسین قریشی، جنرل ٹکا خان، میاں محمد اظہر، چوہدری الطاف حسین، جنرل راجا سروپ خان، خواجہ طارق رحیم، شاہد حامد، ذوالفقار علی کھوسہ، جنرل محمد صفدر، جنرل خالد مقبول، سلمان تاثیر ان کے قتل کے بعد 4 تا 13 جنوری 2011 رانا اقبال خان، لطیف کھوسہ، مخدوم احمد محمود اور چوہدری محمد سرور شامل ہیں۔
 ارے۔۔۔۔۔ارے رکو اگر تم نے اسی طرح لڑنا تھا تو مجھے کیوں بلایا۔۔۔۔۔ الو نے بن مانس کو روکتے ہوا کہا اور بن مانس جھنجھلاکر رک گیا اور الو کی طرف دیکھ کر دانت پیستے ہوئے غرایا۔
تم کو بلایا کس گدھے نے تھا تم خود ہی دوسروں کی پھڈوں میں ٹانگ اڑاتے پھرتے ہوئے۔
لگتا اسی گدھے نے تم کو بلایا ھے۔۔۔۔ بندر نے دانت نکال کر بن مانس کی جانب اشاره کیا۔۔۔۔
بندر کی بات سن کر بن مانس کا پاره مزید چڑھ گیا وه بندر کو پکڑنے کیلۓ ایک بار پھر اس کی طرف چھپٹا مگر بندر کہاں اس کے ہاتھ آنے والا تھا وه پھرتی سے قریبی درخت جا چڑھااور اسے چڑانے لگا۔ بن مانس دانت پیس کر ره گیا۔
شاگلو بن مانس واپس آؤ۔۔۔۔۔۔ مجھے الو سے بات کرنے دو۔۔۔ ایک بوڑھے بن مانس نے شاگلوبن مانس سے کہا اور شاگلو بن مانس غراتا ہوا واپس آ اپنے جھنڈ میں آ گیا بندر اس کی طرف دیکھ دیکھ کر کھی کھی کر رھے تھے۔ تفصیل سے پڑھئے
آپ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے وزیرآصف بن برخیاه کا واقعہ تو سنا ہی ہو گا کہ ایک بار حضرت سلیمان علیہ السلام ملکہ سبا کا تخت منگوانے کی خواہش ظاہر کی تو آصف بن برخیاه جو کتاب کے علم والے تھے انہوں پلک چھپکنے سے پہلے پہلے تخت کو لا حاضر کیا تھا۔ سائنس دان اس واقعہ کی تحقیقات میں لگے ہوۓ ہیں کہ وه کون سی طاقت تھی کہ پلک چھپکتے ہی تخت حاضر ہو گیا۔ انہوں نے اس طاقت کا کسی حد تک سراغ بھی لگا لیا ہے مگر وه اس سے بے خبر اور انجان ہیں۔      تفصیل سے پڑھئے
 پھر یہ بات بھی ہے کہ اردو کے نفاذ کے حوالے سے جذبات کی جو شدت میرے یہاں ہے شاہد آپ ابھی اس سے آشنا نہیں ہیں بہر حال میں بات کرتا ہوں۔  ایک عربی کا محاورہ ہے "الناس علی دین ملوکہم"۔ اس کو اردو میں کہہ سکتے ہیں کہ لوگ اپنے بادشاہوں کے طرز زندگی کی پیروی کرتے ہیں۔ اردو میں اس کے لئے ایک محاورہ استعمال ہوتا ہے، "جیسا راجہ ویسی پرجا"۔
پھر انگریزی میں ایک محاورہ ہے، "ڈو ان روم وٹ رومنز ڈو" اردو میں کہتے ہیں "دیسا دیس ویسا بھیس"۔
اب ان کا کیا مطلب ہے، وہی مطلب جو میں کہنا چاہتا ہوں، جو میں کہ رہا ہوں۔
میں آپ کی کم عمری کا پھر حوالہ دوں گا۔
جب یحییٰ خان کا دور تھا اور پتا چلا کہ صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان شراب و شباب کا رسیا ہے تو پہلے تو اس کے ارد گرد ان دونوں کے رسیا اکٹھے ہوئے اور پھر ساری قوم بشمول ایک مقتدر ادرے کے افسران کے اسیرنگ میں رنگی گئی۔ اس سب کا نتیجہ سقوط ڈھاکہ کی صورت میں سامنے آیا جو کہ موصوف کی انہی حکتوں کا شاخسانہ گنا جاتا ہے۔
اس کے بعد بھٹو صاحب کا دور دورہ آیا، مقصوف کا بھی کہنا تھا تھوڑی سی پیتا ہوں غریبوں کا خون نہیں پیتا، اور پھر یہی آرڈر آف دا ڈے بن گیا، گلی گلی محلے محلے بدکاری کے اڈے کھل گئے اور شراب کی دکانیں سج گئیں۔
اس کے بعد ضیاء الحق کا دور آیا، موصوف کی نیت تو خیر جو بھی تھیبظاہر لب پر اسلام کا نام تھا، اب کیا ہوا کہ ہر طرف محافل درود و سلام منعقد ہونا شروعہیو گئیں، ہر محمفل میں نماز و روزے کا غلغلہ مچ گیا۔ بڑے بڑے بے نمازی نمزی بن گئے (دروغ بر گردن راوی کئی بغیر وضو بھی نماز پڑھ لیتے تھے)۔ پھر دور بدلتے گئے اور روشن خیالی اور اعدال پسندی کا دور پرویز مشرفی آ گیا، اب اس دور کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا کہ اس بارے میں تو آپ جانتے ہی ہوں گے۔
اب اس ساری بحث سے کیا نتیجہ نکالنا مقصود ہے، بس یہ کہ تبدیلی ہمیشہ اوپر سے آتی ہے اور لوگ ہمیشہ اپنے بادشاہوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔
اب یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ تبدیلکی اوپر سے آتی ہے اور لوگ اپنے حلمرانوں کے نقش قدم پر چشلتے ہیں تو پھر انگریزی بھی تو اوپر سے نازل ہوئی ہے یہ بھی لوگوں کے استعمال میں آ جانی چاہئیے۔ اب اس پر میں کیا کہتا ہوں۔
زبان لنڈے کے کپڑے نہیں ہوتی کہ بڑوں کو سوٹ پہنے دیکھو تو لنڈے سے ایک سوٹ خرید کر ویسا بنجاؤ۔
ارے سالا میں تو صاب بن گیا
زبان زبان ہوتی ہے۔ اب لنڈے کے کپڑوں میں بھی مسئلہ یہ ہے کہ غریب فورسا" پکڑا جاتا ہے کہ اس نے لنڈے کے پڑے پہن رکھے ہیں، اسی طرح حغریب کا بچہ بھی جس انگریزی میڈیم اسکول سے پڑھ کر نکلتا ہے فور" پہچانا جاتا ہے کہ کس قماش کے انگریزی میڈیم سئے پڑھ کر آیا ہے اور کم از کم اس کی بنا پر وہ کبھی مقابلے کا امتحان پاس نہیں کر سکتا۔ نہ کبھی علم حاصل کر سکتا ہے نہ کوئی ڈھنگ کی نوکری ہی اسے مل سکتی ہے۔
پھر 20 کروڑ لوگ ہیں جن میں سے 19 کروڑ 99 لاکھ 50 ہزار وک انگریزی کی اس معیار کی تعلیم مل ہی نہیں سکتی جس معیار کی ،لے تو وہ کچھ بن سکیں۔ پھر انگریزی بولنے کی کمہارت کے لئے ماں یا باپ یا دونوں کا انگریز ہونا ضروری ہے جو 20 کروڑ پاکستانیوں کو نہیں مل سکتا، اور موجودہ حالات میں تو کبھی بھی نہیں مل سکتا۔
اب میرے بھائی ہم حکومت سے انگریزی کی جگہ ارود نافذ کرنے کا مطالبہ نہ کریں تو کس سے کریں۔
اور پھر جب آپ اردو کے مقابلے میں مقامی زبانوں کو لا کر کھڑا کر دیتے ہیں تو بہت عجیب لگنا چششروع ہو جاتے ہیں کتنا عجیب کیا اس کی وضاحت بھی ابھی کر دوں یا کچھ دیر بعد کرعوں
مگر اسس سب کے بعد بھی کسی کا کوا سفید ہی رہے تو الل پاک سے اس کی بینائی کی بحالی دعوا کے سوا تو میں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔
اللہ بس باقی ہوس۔
فاعتبرو یا اولی الابصار
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
افریقہ کے ان پھیلے ھوئےگھنے جنگلوں میں ھر طرف امن و امان تھا۔۔ سب جانور ھنسی خوشی اور مل جل کر ره رھے تھے۔۔۔۔ ھرچرند پرند درند ایک گھاٹ سے پانی پیا کرتا تھے۔۔۔۔ کسی جانور کو کسی سے کوئی شکایت نہیں تھی۔۔۔
ہرن دن بھر بلاخوف و خطرادھر ادھر کلانچیں بھرتے رہتے۔ان کو اپنے شکاریوں کی طرف سے کوئی خطره نہیں تھا۔
ننھے ننھے گلہری درختوں سے اتر کر بھاگ دوڑ کرتے رہتے۔بندر درختوں کی شاخوں پر جھولتے ھوئے کبھی کسی درخت پر جاتے کبھی کسی پر۔۔۔۔۔۔ ان جنگلوں پر شیر کی بجائے اک انسان کی حکومت تھی۔۔۔۔۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
تہلکہ خیز معلومات جو شاید کسی کو معلوم ھو ۔۔!!30 سال سے امریکہ اور اسرائیل ایران کو دھمکیاں ہی دیتے آرہے ہیں، پتہ ھے کیوں ؟؟!!وجوھات جانیں:"Yedioth Ahronoth ,یدعوت احرنوتھ" نامی عبری اخبار لکھتا ھے کہ ایران اسرائیل ظاھری دشمنیاں دکھاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ھے کہ اسرائیلی 30 بلین کی سرمایہ کاری ایرانی سرزمین پے ھورہی ھے۔۔!اخبار کیمطابق علی الاقل 200 اسرائیلی کمپنیوں کیساتھ ایرانکے مضبوط تجارتی روابط ہیں جن میں سے اکثر تیل کمپنیاں ہیں جو ایران کے اندر توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔اسرائیل میں ایرانی یہودیوں کی تعداد تقریبا 20 لاکھ کے قریب ھے جو کہ ایران میں موجود انکے سب سے بڑے دیدیاشوفط نامی حاخام مرجع جوکہ ایرانی حکمرانوں خاص کر جعفری وغیرہ کے مقرب ھے، سے تعلیمات لیتے ہیں۔  تفصیل سے پڑھئے
ایک شام ۔۔۔ چائے پر ہمارے ایک دوست کالی چائے کی شان میں قصیدے پڑھنے لگے کہ اِس کے پینے سے ’’ یہ ‘‘ فائدے ہوتے ہیں اور ’’ وہ‘‘ نقصانات نہیں ہوتے ۔ اُنھوں نے آسٹریلیا میں کی گئی ایک ریسرچ کا حوالہ بھی دیا۔جس کے مطابق، دن میں کم ازکم تین پیالی کالی چائے پینے کا مفت مشورہ دیا گیا ہے۔ وہ جس انداز میں کالی چائے کی نہر پر تعریفوں کے پُل باندھ رہے تھے ، ہمیں شک ہونے لگاکہ کہیں وہ دودھ کے جلے نہ ہوں۔ وجہ جو بھی ہو، ہمیں اِن کی چائے میں کچھ کالا نظر آیا۔ اب تک تو ہم سبز چائے کے متعلق سنتے آئے تھے کہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو کنٹرول کرتی ہے ۔ ہارٹ اَٹیک کے خطرے سے محفوظ رکھتی ہے۔ لیکن یہ کالی چائے کی تعریف ؟ ۔۔۔۔ حلق سے نہیں اترتی ۔  تفصیل سے پڑھئے
تیسری دفعہ کا ذکر ہے کہ تیسری دنیا کے ایک ملک کے تیسرے کنارے پر ایک کے بعد دوسرا جبکہ دوسرے کے بعد تیسرا جنگل تھا۔اس جنگل میں ظاہر ہے کہ جنگل ہی کا قانون نافذ تھا۔جو جانور نہ تین میں ہوتا نہ تیرہ میں اس جنگل میں گلچھرے اڑاتا۔دوسرے جنگلوں کی طرح اس جنگل میں بھی ایک بادشاہ موجود تھا۔جو بھی اس کے سامنے تین پانچ کرتا یہ بادشاہ اس کا تیا پانچہ کر دیتا۔یہ ایک ایسا شیر تھا جو صرف اپنے ہی جنگل میں منگل کا سماں پیدا کرتا تھا باہر تو یدھ کے باعث سدا بدھ کی حالت ہوتی تھی۔ کسی کو گرد و نواح کی کوئی شدھ بدھ نہ رہتی۔یہ لرزہ خیز کیفیت درندگی اور خون آشامی کے لیے ہمیشہ ساز گار ثابت ہوتی ہے۔تیرہ تار ماحول میں جو جانور بھی اس درندے کی زد میں آتا وہ زندگی کی بازی ہار جاتا اور اس کے پس ماندگان آٹھ آٹھ آنسو روتے اور اس شیر کے لیے بد دعا کرتے۔ہر طرف زاغ و زغن منڈلاتے پھرتے تھے۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
1۔ مغل بادشاہ اکبر اعظم دنیا کا واحد انسان تھا جس نے اپنے مقبرے اور قبر کا ڈیزائن خود تیار کیا تھا۔
2۔ مصر وہ واحد اسلامی ملک ہے جس کا ذکر قرآنِ پاک میں موجود ہے۔
3۔ "تھرپارکر" صوبہ سندھ کا سب سے بڑا ضلع ہے۔
4۔ "کیمونسٹ پارٹی آف چائینہ" سیاسی اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہے، جس کے ممبران کی تعداد ایک اندازے کے مطابق کم و بیش 86.7 ملین ہے۔
5۔ سانپ کے کاٹے کے لیے تیار کی جانے والی تریاق کو جلد مؤثر بنانے کیلئے اُس میں گھوڑے کا خون شامل کیا جاتا ہے۔
6۔ دنیا کے 72 فیصد لوگ ترقی پذیر ممالک میں رہائش پذیر ہیں۔
7۔ اگر کسی چیز کا وزن زمین پر 120 کلو گرام ہے تو اُسی چیز کا وزن چاند پر صرف 20 کلو گرام رہ جائے گا۔
8۔ سویا ہوا انسان کبھی چھینک نہیں مار سکتا۔
9۔ شہد کی مکھی اور کتے کو سرخ رنگ نظر نہیں آتا۔
10۔ چیونٹی خدا کی وہ واحد مخلوق ہے جو کبھی نہیں سوتی۔
11۔ افریقہ کے جنگلات میں ایسی چمگادڑیں بھی پائی جاتی ہیں، جو اپنے شکار کے جسم میں غیر محسوس انداز میں سوراخ کر کے اُسکا سارا خون پی جاتی ہیں اور وہ بیچارا تکلیف کا احساس کیئے بغیر ہی موت کی وادی میں پہنچ جاتا ہے۔
12۔ فرانس میں مردہ کتوں کو بھی دفن کیا جاتا ہے، "ایمنی ریس" نامی قبرستان میں اِس وقت کم و بیش 40 ہزار کتے دفن ہیں۔
13۔ بھارت کی ریاست "پرتاب گڑھ" کے ہندو مہاراجہ نے ایک جنگ میں ریاست "گروارا" کے ہندو راجہ کو شکست دینے کے بعد وہاں کی رعایا کو ذلیل کرنے کیلئے 12 سال تک ایک گیدڑ کو وہاں کا راجہ مقرر کیے رکھا۔
14۔ انڈونیشیا میں دنیا کی سب سے بڑی چھپکلی موجود ہے جس کا نام "مورڈریگون" ہے اِس کی لمبائی ساڑھے تین میٹر اور وزن 135 کلو گرام ہے۔
15۔ جنوبی امریکہ میں بندروں کی ایک نایاب قسم پائی جاتی ہے، جن کی لمبائی محض پانچ انچ اور وزن صرف 250 گرام ہوتا ہے۔
16۔ "لوبسٹر" ایک کیڑا ہے، اگر کسی حادثے میں اِس کی آنکھ ضائع ہو جائے تو قدرتی طور پر نئی آنکھ پیدا ہو جاتی ہے۔
17۔ پرندوں کی دنیا میں "سارس" وہ واحد پرندہ ہے جو بالکل نہیں بولتا اور عام طور پر اِسے "گونگا پرندہ" بھی پکارا جاتا ہے۔
18۔ پاکستانی لوگ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے عموماً جس فقرے پر بات ختم کرتے ہیں وہ ہے "چلو ٹھیک ہے۔۔!"
آپ کے خیال میں کونسا نمبر سب سے زیادہ دلچسپ ہے؟
دریا کے اس پار جنگل کے تمام جانوروں نے جنگل کے بادشاہ شیر کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدیوں پر محیط فرسودہ اور آمرانہ نظام کا خاتمہ ہونا چاہیے اور ہر بار شیر ہی جنگل کا بادشاہ کیوں بنے، دوسرے جانوروں کو بھی حکومت کرنے کا موقع ملنا چاہیے، شہروں میں جمہوری طرز حکومت بڑی کامیابی سے چل رہا ہے، اب جنگل میں بھی جمہوریت ہونی چاہیے، الیکشن ہوں اور جو جانور جیتے اسے بادشاہت کا تاج ملے، اس مطالبے میں لومڑی، ریچھ اور ہاتھی پیش پیش تھے، شیر نے جانوروں کے تیور دیکھتے ہوئے بادشاہت چھوڑدی اور گوشہ نشین ہوگیا، تمام جانور بے حد خوش تھے، الیکشن کا اعلان کردیا گیا، بادشاہت کے امیدواروں میں ہاتھی، چیتا، ریچھ، لومڑی اور بندر شامل تھے، الیکشن ہوئے ووٹ ڈالے گئے، اتفاق سے جنگل میں بندروں کی تعداد سب سے زیادہ تھی، ا نہوں نے اپنے ساتھی بندر کو ووٹ ڈیے، درختوں پر رہنے والیے کچھ پرندوں نے بھی اپنا ووٹ بندر کو دیا، اس طرح بندر واضح اکثریت سے کامیاب قرار پایا اور بادشاہت کا تاج اس کے سر پر سج گیا۔   تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
كيا جواب ديا كرتے ہيں آپ اس سوال كا؟
فرض كرتے ہيں ايک شخص برى نيت سے آپ كے پاس آتا ہے، تاكہ يہ سوال اس طرح كرے كہ يا تو آپ كا ايمان شكستہ ہو كر رہ جائے يا پهر آپ سے جواب نہ بن پڑے اور وہ آپ كو شرمسار كر جائے!!! تو كيا پهر آپ جواب دينا جانتے ہيں؟
سب سے پہلے: كيا آپ كے پاس دفاع كى كوئى صلاحيت ہے كہ وه كيا حالات تهے جن ميں سركار دوعالم صلى الله عليہ وسلم كو متعدد شادياں كرنا پڑيں؟
ليجيئے يہ ہے جواب.... در حقيقت يہ جواب فاضل استاد جناب عمرو خالد كے ايک ليكچر پر مبنى ہے جو انہوں نے "امہات المؤمنين" پر ديا تها، آپ كى معلومات كيلئے تلخيص و ترجمہ حاضر خدمت ہے:- تفصیل سے پڑھئے

جب نادرشاہ دُرّانی نے ہاتھی پر بیٹھ کر سواری کی لگام طلب کی تو اُس کوبریفنگ دی گئی :
’’ یہ سواری بے لگام ہے۔ اس کی ڈرائیونگ کے لیے ’ڈرائیور‘ الگ سے رکھنا پڑتا ہے۔ جسے’ فیل بان‘ کہتے ہیں۔ اسٹیئرنگ اُسی کے ہاتھ میں رہتا ہے‘‘۔
جہاں بان اور جہاں دیدہ نادرشاہ دُرّانی نے ایسی سواری پربیٹھنے سے انکار کردیا جس کی لگام اپنے ہاتھ میں نہ ہواور جس کا اسٹیئرنگ دوسرا کنٹرول کرتا رہے۔
مگرہمارے رہبرتو ایک مدت سے اپنی نامعلوم اور موہوم منزل کی طرف سفر کرنے کے لیے بیٹھتے ہی ایسے اونٹ پر ہیں جس کی کوئی کل سیدھی نہیں۔اوراونٹ بھی وہ، جسے ’ شتر بے مہار‘ کہاجاتا ہے۔اب انھیں یہ اونٹ جہاں چاہے لے جائے۔ یہ ٹھمک ٹھمک چلتے چلے جائیں گے۔ ادھر عوام انتظار فرمائیں گے کہ دیکھیں یہ اونٹ کب اور کس کروٹ بیٹھتاہے۔اسی عمل کو ہم اپنے یہاں ’جمہوریت‘ کہتے ہیں۔
آیت اﷲ مطہری نے اپنی دس تقاریر کے مجموعہ ’دَہ گفتار‘ میں’ جمہوریت‘ کی مثال ملانصرالدین کے خچر سے دی ہے۔ ملا کو خچر پر بیٹھ کر جاتے دیکھا تو کسی نے پوچھا:
’’ملاصاحب!کہاں کا ارادہ ہے؟‘‘
ملانے جواب دیا:
’’اجی حضرت!میرا کیا ارادہ؟جہاںیہ خچر لے جائے!‘‘
مطہری کا کہناہے کہ مغربی جمہوریت بھی ملانصرالدین کا خچر ہے۔ ’جہاں چاہے لے جائے‘۔ اقبالؔ نے اِس جمہوریت کوخچر نہیں سمجھا، اُنھوں نے اِس کی مثال گدھے سے دی۔فرمایا:۔۔۔
’کہ از مغزِ دو صدخر فکرِ انسانے نمی آئد‘۔۔۔
(دو سو گدھے مل کر بھی ایک انسان کی طرح نہیں سوچ سکتے)
۔۔۔
پہلے مصرع میں اقبالؔ ہمیں ’طرزِ جمہوری سے حذرکر کے ‘ سرکارِ رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم کے’غلامے پختہ کارے‘ بننے کی تلقین کرتے ہیں۔(حذر از طرزِ جمہوری غلامے پختہ کارے شُو!)
صاحبو!آج کل وطن عزیز میں جو ’جمہوری تماشا‘ ہورہاہے، یہ کبھی نہ ہوتا اگر ہمارا اعرابی ’انگلستان‘ کے رستے پر بھٹکتے پھرنے کے بجائے مکہ کی راہ پر چل پڑا ہوتا۔ ایسی سواری پر بیٹھنا عاقبت اندیشی نہیں‘جس کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں نہ ہو۔۔۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر خطرناک بات ۔۔۔ کہ جس کا کنٹرول نامعلوم اور غیرمرئی ہاتھوں میں ہو۔
ہمارے راہ نُماکہنے کو تویہ کہتے ہیں کہ ہماری منزل جمہوریت ہے۔۔۔سو وہ بھی کیا معلوم؟۔۔۔اگرپوچھیے کہ اِس منزلِ موہوم کی طرف ہماری رہبری ورہنمائی کون فرمائے گا؟۔۔۔تو وہ بھی نا معلوم۔۔۔حد تو یہ ہے کہ ہمارے رہبروں کا بھی یہی حال ہے کہ انھوں نے جہاں کسی کو ذرا تیز قدموں سے چلتے دیکھاتُر تُر تُر تُراُس کے پیچھے پیچھے دوڑلیے۔(قریبی تاریخ میں کئی مثالیں موجود ہیں)۔ پیاسے کو کسی طرف سے بھی پانی کی جھلک دکھائی دیتی ہے تو وہ اِس حیص بیص میں نہیں پڑتا کہ یہ سراب تو نہیں؟ بس دوڑ پڑتاہے! خواہ بعد میں خشک ’لٹ پٹاتی‘ زبان باہر نکال کرمزید ہانپنا کیوں نہ پڑجائے۔ ہم نے بڑے بڑے دانشوروں کے۔۔۔ ’منہ کو اگرچہ لٹکا دیکھا ‘۔۔۔ مگر اُنھیں کوئے سیاست کے شب نوردوں سے یہی آس لگائے۔۔۔’ بِھیڑ میں کھاتے جھٹکا دیکھا‘ ۔۔۔کہ ہمیں ہماری منزل تک یہی شب نورد پہنچاآئے گا۔ ان شب نوردوں میں بعض شیوخ بھی شامل ہوئے۔۔۔(اوران شیوخ میں ایک عدد’شیخ الاسلام‘ بھی ہیں!)
سوچیے تو سہی۔۔۔ کہ اگر رہبر نامعلوم ہوں تو منزل کسے معلوم ہوگی؟مگرہمیں تو منزل معلوم تھی پھر بھی نہ پہنچ سکے۔۔۔ ارے بھائی! :
کیسے منزل پہ پہنچتا کوئی
راہ میں راہ نُما بیٹھے تھے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
یہ ایک اشتہار ہے لیکن چونکہ عام اشتہار بازوں سے بہت زیادہ طویل ہے اس لئے شروع میں یہ بتا دینا مناسب معلوم ہوا ورنہ شاید آپ پہچاننے نہ پاتے۔ میں اشتہار دینے والا ایک روزنامہ اخبار کا ایڈیٹر ہوں۔ چند دن سے ہمارا ایک چھوٹا سا اشتہار اس مضمون کا اخباروں میں یہ نکل رہا ہے کہ ہمیں مترجم اور سب ایڈیٹر کی ضرورت ہے یہ غالبا آپ کی نظر سے بھی گزرا ہو گا اس کے جواب میں کئی ایک امیدوار ہمارے پاس پہنچے اور بعض کو تنخواہ وغیرہ چکانے کے بعد ملازم بھی رکھ لیا گیا لیکن ان میں سے کوئی بھی ہفتے دو ہفتے سے زیادہ ٹھہرنے نہ پایا آتے کے ساتھ ہی غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اشتہار کا مطلب وہ کچھ اور سمجھے تھے۔ ہمارا مطلب کچھ اور تھا، تفصیل سے پڑھئے
ایک تھا بادشاہ۔ بہت ہی رحمدل، نیک اور سب سے زیادہ اﷲ کے بندوں سے پیار کرنے والا۔ اس بادشاہ کو اﷲ تعالیٰ نے حکومت کے لیے وسیع مملکت عطا فرمائی تھی مگر بچو! اس بادشاہ کے حکومت کرنے کے ڈھنگ ہی نرالے تھے۔ وہ بادشاہ تو تھا مگر نہ بادشاہوں جیسے قیمتی کپڑے پہنتا اور نہ ہی بڑے بڑے محلات میں رہتا بلکہ اپنے چھوٹے سے گھر میں رہتا۔ مگر اس کے دربار کی شان و شوکت دوسرے بادشاہوں کے دربار کی شان و شوکت سے کہیں زیادہ تھی۔
دوسرے بادشاہوں کے درباری اپنے بادشاہ کے حکم کی تعمیل اس ڈر سے کرتے کہ کہیں ان کا بادشاہ ناراض نہ ہوجائے جبکہ اس بادشاہ کے درباری ڈرتے صرف اﷲ سے تھے اور اپنے بادشاہ سے نہایت محبت و عقیدت رکھتے تھے۔ یہ محبت ہی تھی کہ بادشاہ کوئی کام کو کہتا توہر ایک کی یہ کوشش ہوتی کہ وہ پہلے اس کام کو انجام دے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس بادشاہ کو خدمت خلق کا بھی بے حد جذبہ عطا کیا تھا اور وہ اپنا سارا وقت اﷲ کی مخلوق کی خدمت کرنے میں یا اﷲ کا شکر ادا کرنے میں صرف کرتا تھا۔   تفصیل سے پڑھئے
بابا فرید رحمة اﷲ علیہ کی عجیب حالت تھی۔ حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ آپ کو سینے سے لگائے ہوئے فرما رہے تھے ’’فرید! ہم تو خانماں برباد ہیں‘ نہ ہماری کوئی ملکیت ہے اور نہ کوئی جاگیر‘ بس سوزنہاں کی ایک میراث ہے جس نے ہمیں جلا کر خاکستر کردیا ہے۔ ایک چنگاری تیری نذر بھی کئے دیتا ہوں کہ اس چنگاری کے بغیر درویش‘ درویش نہیں ہوتا‘ نیکیوں اور عبادتوں کا سوداگر بن جاتا ہے۔ بس اب جاکہ تیری منزل بہت دور ہے۔    تفصیل سے پڑھئے
شہر بغدادتھا۔نام تھا حارث بن وارث۔بہت صابر اور شاکر آدمی تھا۔اس کی بیوی سدرہ بہت بے صبری اور نا شکری تھی۔ہر وقت اپنے میاں کو طعنے دیتی رہتی تھی کہ تم نکمے ہو، کاہل ہو،اتنے تھوڑے پیسے کماتے ہو کہ بہت مشکل سے گزارا ہوتا ہے۔یہ پیشہ چھوڑ کر کوئی اورپیشہ اپناؤ کہ کچھ پیسے تو ملیں۔
ایک دن سدرہ نے بہت چخ چخ کی تو حارث بولا’’تم ہی بتاؤمیں کیا کروں؟‘‘       تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
شیخ الاسلام حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی برصغیر پاک وہند کے ایک عظیم مبلغ تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں بے پناہ تبلیغی صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا تھا، آپ علم و عرفان اور تقویٰ و اخلاق کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ آپ نے کفر و شرک میں مبتلا انسانیت کو توحید کا درس دیا، غافل مسلمانوں کو یادِ الٰہی کا سبق پڑھایا اور محبت سے محروم دلوں کو اللہ اور رسول اور ان کی آل کی محبت سے معمور کر دیا۔ آپ نے ایک منفرد تبلیغی نظام قائم کر کے اشاعتِ اسلام کے لئے جو خدمت سرانجام دیں وہ تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف میں رقم کی گئیں۔ آپ کی قائم کردہ درس گاہ نے علماءاور مبلغین تیار کئے اور آپ نے اپنی ذاتی دولت کو اللہ کے دین کی اشاعت کے لئے وقف کر دیا۔ تفصیل سے پڑھئے
کتاب بہترین دوست ہوتی ھے یہ مقولہ ہم نے بارہا سنا ھے لیکن موجودہ دور میں جیسے جیسے عام آدمی کیلئے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ممکن ہوتی جا رہی ھےپاکستان میں کتب دوستی دم توڑتی جا رہی ھے ،،،کتابوں کی جگہ انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن معلومات کا فوری ذریعہ بن چکے ھے ،،،تفریح کے جدید ذرائع کی موجودگی میں کتب بینی صرف لائبریریوں یا چند اہل ذوق تک محدود ہو گئی ھے خاص طور پہ نوجوان نسل اور بچوں میں کتب بینی سے لا تعلقی اور غیر سنجیدہ رویہ پایا جاتا ھے ،،،  تفصیل سے پڑھئے
ہسپانیہ یعنی اسپین کاستین،کتالان اورباسک سمیت بہت سی قدیم قوموں کا ملک ہے۔مغرب کی جانب یہ پرتگال،جنوب میں جبل الطارق اور مراکش جبکہ شمال مشرق میں انڈورا اور فرانس سے ملتا ہے۔سلطنت رومہ والے اس ملک کو ہسپانیہ کہتے تھے کہ یہ جرمن قوم اندلس سے موسوم ہے۔معروف بحری مہم جو کرسٹوفر کولمبس جس نے 15ویں صدی میں امریکہ کو دریافت کیا اسی ملک میں قثتالوی عیسائی حکمرانوں کی ملازمت میں رہا۔ویسے تو کولمبس 1451میں اٹلی میں پیدا ہوا لیکن ملکہ ازابیل اور فرڈینینڈ نے اسے چھوٹے جہاز دئیے جس سے کولمبس نے 1492میں امریکہ دریافت کیا ۔کولمبس نے اپنی وصیت میں کہا تھا کہ ان کو امریکہ میں دفن کیا جائے لیکن 1506میں امریکہ میں کوئی خاطر خواہ چرچ موجود نہیں تھااس لئے ان کو ابتدائی طور پر اسپین میں دفنا دیا گیا تھا۔اس کے بعد ان کی لاش کو سیول میں دفنایا گیا۔1542میں کولمبس کی لاش کو ایک بار پھر نکالا گیا اور اور ڈومینکن ریپبلک میں دفن کیا گیا۔   تفصیل سے پڑھئے
1۔ شریکِ حیات کے لیے زیبائش اِختیار کیجیے :
اپنی شریکِ حیات کے لیے خُوبصورت لباس زیبِ تن کیجیے،خُوشبو لگائیے۔ آپ آخری بار اپنی بیوی کے لیے کب بنےسنورے تھے؟؟ جیسے مرد چاہتے ہیں کہ اُن کی بیویاں اُن کے لیے زیبائش اِختیار کریں،اسی طرح خواتین بھی یہ خواہش رکھتی ہیں کہ اُن کے شوہر بھی اُن کے لیے زیبائش اختیار کریں۔ یاد رکھیے کہ اللہ کے رسولﷺ گھر لوٹتے وقت مسواک استعمال کرتے اور ہمیشہ اچھی خُوشبو پسند فرماتے۔        تفصیل سے پڑھئے
تقریباًنصف شب تھی،انسان جو خواب وخرگوش کے مزے لے رہے تھے۔ایسے میں بستی سے دور ایک کھلے میدان میں چند کتّے زورزور سے بھونک رہے تھے۔ اصل میں وہ بھونک نہیں رہے تھے بلکہ آپس میں انسان کے تعلق سے باتیں کرکے اْن سے نفرت کا اظہار کررہے تھے۔انکی انسانوں کے تئیں نفرت ایک طرح سے جائز بھی ہے، کیونکہ حضرتِ انسان نے اِس دْنیا میں ترقّی کے نام پر جو تہلکہ مچا رکھا ہے وہ ناقابل یقین ہے۔   تفصیل سے پڑھئے
آنحضرتﷺ کی احادیث کی روشنی میں سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کی مندرجہ ذیل شناخت بیان کی گئی ہیں:
1.حضرت فاطمہؓ کی اولاد سے ہوں گے۔
2.مدینہ طیبہ کے اندر پیدا ہوں گے۔
3.والد کا نام عبداﷲ ہوگا۔
4.ان کا اپنا نام محمد ہوگا اور لقب مہدی۔
5.چالیس سال کی عمر میں ان کو مکہ مکرمہ حرم کعبہ میں شام کے چالیس ابدالوں کی جماعت پہچانے گی۔
6.وہ کئی لڑائیوں میں مسلمان فوجوں کی قیادت کریں گے۔
7.شام جامع دمشق میں پہنچیں گے، تو وہاں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔     تفصیل سے پڑھئے
جب سے جماعت کی لڑکیاں اسے چھیڑنے لگیں تب سے اس کا بیشتروقت آئینے کے سامنے کھڑے گزرنے لگا ۔ سب لڑکیوں کی ایک ہی رائے تھی کہ سونا بڑی پیاری ہے۔ وہ نہ صرف نام کی سونا تھی بلکہ شکل و صورت سے بھی کچھ کم نہ تھی۔ کلاس میں جب لڑکیاںاسے چھیڑتیں کہ تم پہ تو لڑکے جان دیتے ہیں تو وہ دل ہی دل میں آسمان کو چھونے دوڑتی۔ ایک تو تھی وہ بلا کی خوب صورت، اوپر سے لڑکیوں کی تعریف نے اس کا قد غرو ر کی ملاوٹ سے بڑھانا شروع کر دیا ۔ روز گھر آ کے آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے سراپے پہ نظر دوڑاتی اور نیم مسکراہٹ کے ساتھ اپنے ہی آپ بُدبُداتی کمرے میںچلی جاتی۔     تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
اکبر بادشاہ کے 9 رتنوں میں سے ایک راجہ بیربل بہت مشہور ہیں۔ بیربل کی دانشمندی نے بیربل کے کردار کو افسانوی بنا دیا۔ اکبر اور بیربل سے متعلق ایک واقعہ بہت مشہور ہے۔ روایت کے مطابق ایک رات کو جب بادشاہ اور بیربل بھیس بدل کر شہر کا گشت کر رہے تھے۔ دونوں کا گزر ایک حجام کی جھونپڑی کے پاس سے ہوا۔ حجام جھونپڑی کے باہر چار پائی پر بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ اکبر نے اس سے پوچھا۔ بھائی یہ بتاؤ کہ آج کل اکبر بادشاہ کے راج میں لوگوں کا کیا حال ہے۔ حجام نے فوراً جواب دیا۔ اجی کیا بات ہے۔ ہمارے اکبر بادشاہ کی اس کے راج میں ہر طرف امن چین اور خوشحالی ہے۔ لوگ عیش کر رہے ہیں۔ ہر دن عید ہے ہر رات دیوالی ہے۔
اکبر اور بیربل حجام کی باتیں سن کر آگے بڑھ گئے۔
اکبر نے بیربل سے فخریہ لہجے میں کہا۔ بیربل دیکھا تم نے ہماری سلطنت میں رعایا کتنی خوش ہے؟ بیربل نے عرض کیا بیشک جہاں پناہ آپ کا اقبال بلند ہے۔
چند روز بعد پھر ایک رات دونوں کا گزر اسی مقام سے ہوا۔ اکبر نے حجام سے پوچھ لیا۔ کیسے ہو بھائی؟ حجام نے چھوٹتے ہی کہا۔ اجی حال کیا پوچھتے ہو ، ہر طرف تباہی بربادی ہے۔ اس اکبر بادشاہ کی حکومت میں ہر آدمی دکھی ہے۔ ستیاناس ہو ، اس منحوس بادشاہ کا۔
اکبر حیران رہ گیا۔ کہ یہی آدمی کچھ دن پہلے بادشاہ کی اتنی تعریف کر رہا تھا۔ اور اب ایسا کیا ہوگیا ؟۔ جہاں تک اس کی معلومات کا سوال تھا۔ عوام کی بد حالی اور پریشانی کی اطلاع اسے نہیں تھی۔ اکبر نے حجام سے پوچھنا چاہا۔ لوگوں کی تباہی اور بربادی کی وجہ کیا ہوئی۔ حجام کوئی وجہ بتائے بغیر حکومت کو برا بھلا کہتا رہا۔ اکبر اس کی بات سے پریشان ہوگیا۔ الگ جا کر بادشاہ نے بیربل سے پوچھا "آخر اس شخص نے یہ سب کیوں کہا"۔
بیربل نے جیب سے ایک تھیلی نکالی اور بادشاہ سے کہا۔ اس میں 10 اشرفیاں ہیں دراصل میں نے 2 دن پہلے اس کی جھونپڑی سے چوری کروالی تھیں۔
جب تک اس کی جھونپڑی میں مال تھا۔ اسے بادشاہ حکومت سب کچھ اچھا لگ رہا تھا۔ اور اپنی طرح وہ سب کو خوش اور سکھی سمجھ رہا تھا۔ اب وہ اپنی دولت لٹ جانے سے غمگین ہے ساری دنیا اسے تباہی اور بربادی میں مبتلا نظر آتی ہے۔ جہاں پناہ ، اس واقعے سے آپ کو یہ گوش گزار کرنا چاہ رہا تھا کہ ایک فرد اپنی خوشحالی کے تناظر میں دوسروں کو خوش دیکھتا ہے۔ لیکن بادشاہوں اور حکمرانوں کو رعایا کا دکھ درد سمجھنے کے لئے اپنی ذات سے باہر نکل کر دور تک دیکھنا اور صورتحال کو سمجھنا چاہئے۔
ٹرین کسی بدمست شرابی کی طرح لڑکھڑاتی ہوئی چل رہی تھی۔ ہمارا ڈبہ ویسے تو خیر سے سیکنڈ کلاس تھا، لیکن فی الحقیقت وہ مرحوم انٹر کلاس کا ایک نہایت سن رسیدہ ڈبہ تھا جسے ریلوے والوں نے شاید ہنگامی حالات کے تحت محکمہ آثار قدیمہ سے واپس منگا لیا تھا۔ اس کی گدیاں ادھڑی ہوئی تھیں۔ فرش میں گڑھے تھے۔ چول چول ڈھیلی پڑی تھی۔ اس کی پیشانی پر اگر ریلوے والے سیکنڈ کی علامت نہ ڈال دیتے تو غالباً تھرڈ کلاس والے بھی اسے چوتھا درجہ سمجھ کر آگے بڑھ جاتے۔ فدوی کا خیال ہے کہ ایسا ایک آدھ ڈبہ ہر گاڑی میں ضرور جڑا ہوا ہونا چاہیے۔ تفصیل سے پڑھئے
ایوب خان پیدا ہوئے تو ان کا دایاں کان چھید کر ایک انچ لمبی بالی ڈالی گئی ۔ سرخ و سفید ، گول مٹول اور روئی کی طرح نرم ملائم جلد والے ایوب خان کو بچپن میں ’’پاپلس ‘‘ کہہ کر بلایا جاتا ۔ اسکول کے زمانے سے ہی بہت سُریلی بانسری بجانے اوربرطانوی رائل ملٹری کالج سینڈ ہرسٹ کے میوزیکل گروپ کے اہم رکن ایوب خا ن کو پاس آؤٹ ہوتے وقت بہترین بانسری بجانے پر چاندی کی بانسری دی گئی ۔اردو گانے گنگنانے اور کبھی کبھار بالوں کو کلر کرنے والے ایوب خان صبح اٹھتے ہی ہزاری بیڈ ٹی لیتے۔ ناشتے میں پھلوں کارس ، مکئی کی آدھی روٹی اور دہی ہوتا ۔کبھی کبھار ان کا ناشتہ صرف پھلوں پر ہی مشتمل ہوتا۔ وہ اپنے شکار کئے ہوئے جانور یا پرندے کا گوشت بھی شوق سے کھاتے۔  تفصیل سے پڑھئے
خان صاحب کا تعلق بھارت کے ضلع قندال سے تھا اور وہ اپنے علاقے کے سب سے بڑے جاگیردار اور نواب تھے۔ لیکن انہوں نے تقسیم ہند کے بعد نا صرف اپنی ساری زمین اور جائیداد چھوڑ دی - بلکہ انہوں نے پاکستان آ کر اُس جائیداد کے عوض کوئی کلیم بھی جمع نہی کروایا،  خان لیاقت علی خان کے پاس پاکستان میں ایک انچ زمین کوئی ذاتی بنک اکاؤنٹ اور کوئی کاروبار نہی تھا۔ خان صاحب کے پاس دو اچکن، تین پتلونیں، اور بوسکی کی ایک قمیض تھی -
اور اُن کی پتلونوں پر بھی پیوند لگے ہوتے تھے وہ اپنی پتلونوں کے پیوندوں کو ہمیشہ اپنی اچکن کے پیچھے چھپا لیتے تھے۔ 16 اکتوبر 1951 کو جب راولپنڈی میں خان لیاقت علی خان شہید ہوئے تو اُن کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے لیجائی گئی تو دنیا یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم نے اچکن کے نیچے نا صرف پھٹی ہوئی بنیان پہنی رکھی تھی بلکہ اُن کی جرابوں میں بھی بڑے بڑے سوراخ تھے۔
شہادت کے وقت نا صرف خان صاحب کا اکاؤنٹ خالی تھا بلکہ گھر میں کفن دفن کے لیے بھی کوئی رقم نہی تھی خان صاحب اپنے درزی حمید ٹیلر اور ایک کریانہ سٹور کے بھی مقروض تھے.
بیگم رعنا لیاقت علی خان، خان صاحب کی بیگم نے خان صاحب کی شہادت کے بعد حکومت کو بتایا کہ حکومت نے وزیراعظم ہاوس کے لیے چینی کا کوٹہ طے کر رکھا تھا۔ یہ کوٹہ جب ختم ہو جاتا تھا تو وزیراعظم اور ان کی بیگم اُن کے بچوں اور اُن کے مہمانوں کو بھی چائے پھیکی پینا پرتی تھی۔
پچاس کی دہائی میں ایک بیوروکریٹس نے بیگم رعنا لیاقت علی خان سے پوچھا انسان ہمیشہ اپنے بیوی اور بچوں کے لیے کچھ نا کچھ ضرور جمع کرتا ہے، خان صاحب نے کیوں نہ کیا تھا۔ بیگم صاحبہ نے جواب دیا یہ سوال میں نے بھی ایک مرتبہ خان صاحب سے پوچھا تھا، لیکن خان صاحب نے جواب دیا تھا میں ایک نواب خاندان سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے زندگی میں کبھی ایک لباس دوسری بار نہیں پہنا تھا۔
میرے خاندان نے مجھے آکسفورڈ یونیورسٹی میں خانساماں، خادم اور ڈرائیور دے رکھا تھا۔ اور ہم لوگ کھانا کھاتے یا نہ کھاتے مگر ہمارے گھر میں پچاس سے سو لوگوں تک کا کھانا روز پکتا تھا،
لیکن جب میں پاکستان کا وزیراعظم بنا تو میں نے اپنے آپ سے کہا لیاقت علی خان اب تمھیں نوابی یا وزارت عظمیٰ میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا ہو گا، اور میں نے اپنے لیے وزارت عظمی منتخب کر لی۔ بیگم صاحبہ کا کہنا تھا کہ خان صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں جب بھی اپنے لیے نیا کپڑا خریدنے لگتا ہوں تو میں اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کیا پاکستان کی ساری عوام کے پاس کپڑے ہیں ؟
میں جب اپنا مکان بنانے کا سوچتا ہوں تو اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کیا پاکستان کے سارے لوگ اپنے مکانوں میں رہ رہے ہیں ؟
اور جب میں اپنے بیوی بچوں کے لیے کچھ رقم جمع کرنے کے لیے سوچتا ہوں، تو اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کیا پاکستان کے تمام لوگوں کے بیوی بچوں کے پاس مناسب رقم موجود ہے؟
مجھے جب ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ملتا ہے تو میں اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ لیاقت علی خان ایک غریب ملک کے وزیراعظم کو نیا لباس، لمبا چوڑا دسترخوان اور ذاتی مکان زیب نہیں دیتا۔
اے اللہ ان پر اور پاکستان کی تحریک آزادی کے تمام جانثاروں کی مرقد پر کروڑوں رحمتیں نازل فرما اور ہمارے موجودہ رہنماؤں کو بھی یہی جذبہ عطا فرمائے - آمین
یہ تحریرخاص طور پر ان نادان یا بیوقوف لڑکیوں کو خبردار کرنے کیلئے کی جا رہی ہے جو بعض اوقات اپنے گھریلو حالات سے پریشان ہوتی ہیں اور جو بھی پیار سے بات کرے اسی کو ہمدرد سمجھ کر اعتبار کر لیتی ہیں اور اپنی نادانی میں غلیظ مردوں کی ہوس کا شکار بن جاتی ہیں ! عام زندگی کے علاوہ یہاں نیٹ پر بھی کئی بد کردار ، آوارہ اور عیاش فطرت لوگ صرف لڑکیاں پھنسانے اور انکی معصومیت سے فائدہ اٹھانے کیلئے آتے ہیں ، ان کا ایک خاص طریقہ کار ہوتا ہے ، جس پر عمل کر کے وہ لڑکی کو با آسانی شیشے میں اتار لیتے ہیں- تفصیل سے پڑھئے
دنیائے کفر کرے بھی تو کیا کرے، اہلِ مغرب جائیں تو بھی کہاں جائیں؟ ان کے پاس کوئی چیز ایسی نہیں رہی جس پر حقیقی فخر کیا جاسکتا ہو۔ دوسری طرف مسلمانوں کے پاس وہ حقیقی اور پائیدار نعمتیں ہیں جو مغرب کو نہیں مل سکتیں، لہٰذا حسد انہیں چین نہیں لینے دیتا اور وہ اوچھی حرکتوں پر اُتر آتے ہیں۔ اس وقت مسلمانوں کے علاوہ کسی کے پاس نہ دنیاوی نسب و حسب ہے اور نہ دینی و روحانی میراث۔ اہلِ مغرب میں عفت و عصمت کا تصور ہی نہیں تو نسب و حسب کہاں سے آئے گا؟ اور مذہب کو انہوں نے اپنے ہاتھوں دیس نکالا دیا ہے تو روحانی سکون اور احساس تشکر و تفاخر انہیں کیسے میسر ہوگا؟ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی توہین کی، انبیائے کرام علیہ السلام کا مذاق اُڑایا، اپنی آسمانی کتابوں میں خود تحریف کی، اپنے گرجائوں کو خود بیچ کھایا،   تفصیل سے پڑھئے
ویلین ٹاین ڈے کے حوالے سے لکھا گیا ایک تحقیقی مضمون- سو سمار کے پیروکار !
عمومن پہاڑی یا ریتلے علاقوں میں ایک جانور اگوانا (http://www.naturephoto-cz.com/…/green-iguana--iguana-iguana… iguana) نام کا پایا جاتا ہے جو چھپکلی کی نسل کا ایک رینگنے والا جانور ہے اسے سوسمار یا گوہ بھی کہا جاتا ہے انتہائی مضبوط جسم کے اس جانور کی خاصیت اسکی انتہائی مضبوط پکڑ ہونا ہے زمانہ قدیم میں اسے نقب لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ہمارے جدید دور کے ڈاکو نقب اور نقاب دونوں سے مستغنی ہوچکے ہیں رکھ رکھاؤ اب کسی بھی طبقے میں باقی نہیں رہا ہے-  تفصیل سے پڑھئے
ویلنٹائن ڈے رومانوی جاہلی دن ہے، اس دن کا جشن رومانیوں کے عیسائیت میں داخل ہونے کے بعد بھی جاری رہا، اس جشن کو ایک ویلنٹائن نامی پوپ سے جوڑا جاتا ہے جسے 14 فروری 270 عیسوی کو پھانسی کا حکم دے دیا گیا تھا، کفار ابھی بھی اس دن جشن مناتے ہیں، اور برائی و بے حیائی عام کرتے ہیں۔ مسلمان کفار کے کسی بھی دن کو نہیں منا سکتا؛ اس لئے کہ تہوار منانا شریعت کا حصہ ہے، اس لئے شرعی نصوص کی پابندی ضروری ہوگی۔   تفصیل سے پڑھئے
مسلمانوں کے بیچ دھوکے سے چھپ کر رھنے والےاحمدی /لاهوری قادیانیوں کو پہجاننے کا آسان طریقہ.
مکمل پوسٹ پڑھئے !- دھیان رھے کہ 1974 کی پاکستانی آئینی ترمیم اور بعد ازاں 1984 کے امتناع قادیانیت قانونی ایکٹ کی شق 298 اے ، 298 بی اور 298 سی کے تحت قادیانی نہ صرف کافر ھیں بلکہ دھوکہ دے کر خود کو مسلمان ثابت کرنے کے لیے اگر "شعائر اسلام" کا استعمال کریں گےتو 3 سال قید کی سزا پاکستانی قانون میں موجود ھے.
یہاں کچھ ایسی نشانیاں بیان کی جا رھی ھیں جو مسلمانوں کے بھیس میں چھپ کر رھنے والا قادیانی اکثر و بیشتر اختیار کرتا ھے.    تفصیل سے پڑھئے
از لاہور اے میرے کراچی کے دوست! چند دن ہوئے میں نے اخبار میں یہ خبر پڑھی کہ کراچی میں فنون لطیفہ کی ایک انجمن قائم ہوئی ہے جو وقتا فوقتا تصویروں کی نمائشوں کا اہتمام کرے گی۔ واضح طور پر معلوم نہ ہو سکا کہ اس کے کرتا دھرتا کون اہل جنون ہیں لیکن میں جانتا ہوں کہ آپ کو ایسی باتوں کا بے انتہا شوق ہے اور مدت سے ہے اور آپ ادب اور آرٹ کا ذوق صحیح رکھتے ہیں اس لئے مجھے یقین ہے کہ آپ اس میں ضرور شریک ہوں گے۔ تفصیل سے پڑھئے
ﺟﺰﺍﮎ ﺍﻟﻠﮧ..... ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ،“ﺑﺎﺑﺎ ! ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺩﯾﻦِ ﻣﺤﻤﺪﯼ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮﻧﺎﮞ ” !
ﺟﺲ ﺩﻥ ﺳﺘﯿﻞ ﺍﻭﮈﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﺩﻥ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﻧﻤﺎﺯﯼ ﺁﺋﮯ ﮐﮧ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﻦ
ﭼﺎﺭ ﺻﻔﯿﮟ ﻗﺎﺋﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ۔ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﺎ ﺗﻮ ﻋﯿﺪ ﭘﺮ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﺠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﯾﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺎﻝ ﺩﺍﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﺣﻮﻡ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﮐﮯ
ﻟﺌﮯ ﺑﺮﯾﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺩﯾﮓ ﭼﮍﮬﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﮐﮭﻨﭽﮯ ﭼﻠﮯ ﺁﺗﮯ ۔ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﭘﯿﺶ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻣﯿﺮ ﻋﻠﯽ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﺘﯿﻞ ﮐﮯ ﻗﺒﻮﻝِ
ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﺗﺸﮩﯿﺮ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔        تفصیل سے پڑھئے

آپ نے سنا ہوگا کہ فلاں شخص دولت کا بھوکا ہے،اسے ٹکا تھمائیے اور کام نکالئے.یعنی اس کے نزدیک پیسہ سے زیادہ کسی بات کو اہمیت نہیں.اور وہ معمولی دوکوڑی کے لئے بھی بہت حد تک گر سکتا ہے. اسی طرح ایک روگ شہرت کا ہے.اس کا مریض ایسے جیسے کسی صیاد کے دام میں شکار.اب اس کی خیر نہیں بعد از مرگ ہی اس بیماری سے جان چھوٹے.   تفصیل سے پڑھئے
اورنگ زیب عالمگیرؒ کے پاس ایک مرتبہ ایک باورچی آیا۔ تا کہ بادشاہ کا باورچی بنوں گا تو خوب میرے وارے نیارے ہو جائیں گے۔ مگر وہ تو ٹوپیاں سیتے تھے اور قرآن مجید لکھتے تھے اور اس کی آمدنی سے تھوری سی روٹی کھا لیتے تھے۔ بیت المال کا پیسہ ہرگز نہیں لیتے تھے۔ کسی بزرگ کے صحبت یافتہ تھے۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے ایک صاجزادے کے صحبت میں رہے تھے۔ چنانچہ ان کے بارے میں آتا ہے کہ وہ بڑے درویش صفت تھے اگرچہ وقت کے بادشاہ تھے۔ گھر کے اندر بس تھوڑی سی روٹی کچھڑی بن جاتی تھی وہی کھا لیتے تھے۔ اب یہ باورچی تنگ آ گیا کہ میں یہاں سے کیسے جان چھڑاؤں۔ چنانچہ اس نے ایک ترکیب سوچی۔ ایک دن اس نے نمک ٹکا کے ڈال دیا مگر کیا دیکھا کہ بادشاہ سلامت آئے اور انہوں نے کھانا آرام سے کھا لیا اور کچھ بھی نہیں کہا۔ وہ بڑا حیران ہوا کہ کیوں نہیں کچھ کہا، انہیں تو مجھے نکال دینا چاہئے تھا۔ خیال آیا ان کو شائد زیادہ نمک کا پتہ نہیں چلتا انکی طبیت زیادہ نمک پسند کرتی ہے۔ چنانچہ اگلے دن اس نے نمک ڈالا ہی نہیں۔ انہوں نے اس کو بھی کھا لیا اور کچھ بھی نہ کہا اور چلے گئے۔ یہ بڑا حیران ہوا۔ تیسرے دن اس نے نارمل کھانا بنایا۔ انہوں نے کھا لیا اور باورچی کو پاس بلا کر کہا بھئی ایک دن نمک زیادہ تھا ایک دن نمک بلکل نہیں تھا، آج نمک برابر ہے۔ آپ ایک اندازہ متعین کر لئجئے اور اتنا نمک روزانہ ڈال دیا کریں تا کہ تمھیں پکانے میں آسانی ہو۔ اس باورچی نے ہاتھ جوڑ کر کہا: حضرت میں تو اس لئے کر رہا تھا کہ مجھے چھٹی مل جائے، مگر آپ تو ایسے ہیں کہ کھانے پر اعتراض کرتے ہی نہیں۔
اس وقت اورنگ زیب عالمگیرؒ نے کہا کہ اچھا تمھیں دنیا چاہئے، تمھیں دنیا مل جاتی ہے۔ انہوں نے روٹی کا ایک ٹکڑا بچا دیا اور کہا کہ میری طرف سے فلاں کو جا کے ہدیہ دے دینا۔ وہ اس روٹی کے ٹکڑے کو لے کر گیا اور اس بندے کو ہدیہ دے دیا۔ وہ بدنہ بادشاہ سے محبت کرتا تھا وہ خوش ہوا کہ بادشاہ سلامت نے مجھے ہدیہ بھیجا۔ چنانچہ اس نے لاکھوں دینار اس بندے کو تحفہ میں دے دئیے کہ آپ بادشاہ کی طرف سے میرے لئے ہدیہ لے کر آئے۔ اورنگ زیب عالمگیرؒ نے کہا کہ دیکھو یہ روٹی کا ایک ٹکڑا لاکھوں دینار سے زیادہ قیمتی ہے۔ تب اس کو پتہ چلا کہ اللہ والوں کی نظر کس بات پر ہوتی ہے۔
(سبحان اللہ)
معلوم ہوا اللہ والے کھانے میں عیب نہیں نکالتے جو ملے کھا لیتے ہیں۔
وقت کے بادشاہ نے درویشوں والی طبیت پائی تھی کہ کھانا کھا لیتے تھے اور اللہ تعالٰی کی نعمت سمجھ کر اور اس میں کسی قسم کی تنقید نہیں کیا کرتے تھے۔
”مثالی ازدواجی زندگی کے سنہری اصول“ سے اقتباس
سنت طریقہ یہ ہے کہ چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور سوار پیدل چلنے والے کو نیز بیٹھے ہوئے کو سلام کرے، جماعت میں سے ایک کا سلام کرنا بھی کافی ہے اسی طرح متعدد افراد میں سے ایک کا جواب دینا سب کی طرف سے کفایت کرتا ہے۔ مشرک کو سلام کرنے میں کسی حال میں پہل نہ کی جائے۔ اگر مشرک سلام کرے تو جواب میں صرف ”وَعَلَیْکَ“ کہے لیکن مسلمان کو جواب دیتے ہوئے ”وَعَلَیْکُمْ اَالسَّلامُ“ کہے جیسا کہ سلام کرنے والے نے کہا۔ البتہ ”ورحمتہ اللہ وبرکاته“ کا اضافہ بہتر ہے۔
اگر کوئی مسلمان، دوسرے مسلمان کو صرف ”سلام “ کا لفظ کہے تو اس کا جواب نہ دے بلکہ اسے بتائے کہ یہ سلام نہیں ہے کیونکہ یہ نا مکمل کلام ہے۔
عورتوں کو سلام کرنا
عورتوں کا ایک دوسرے کو سلام کرنا مستحب ہے لیکن مرد کا جوان عورت کو سلام کرنا مکروہ ہے اور اگر وہ کھُلے منہ بزرگ عورت ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
بچوں کو سلام کرنا
بچوں کو سلام کرنا مستحب ہے کیونکہ اس طرح انکو آداب سکھایا جا سکتا ہے۔
مجلس میں سلام
مجلس سے اٹھنے والے کے لئے سلام کرنا مستحب ہے۔ اسی طرح واپس لوٹنے پر بھی سلام کہے اگر اس کے اور مجلس کے درمیان دروازہ اور دیوار وغیرہ حائل ہو جائیں تو بھی سلام کہے۔ جب کسی شخص کو سلام کیا پھر دوبارہ ملاقات ہو جائے تو بھی سلام کہے۔
مجلس گناہ کے شر کو سلام کہنا۔
گناہ میں مبتلا لوگوں کو سلام نہ کیا جائے مثلاً کوئی شخص ایسے لوگوں کے پاس سے گزرتا ہے جو شطرنج اور نرد کھیل رہے ہوں، شراب پی رہے ہوں، اخروٹوں سے کھیل رہے ہوں۔ یا جوا کھیلنے میں مصروف ہوں تو ان کو سلام نہ کہے اور اگر وہ سلام کریں تو جواب دے البتہ اگر غالب گمان ہو کہ جواب نہ دینے سے انکو تنبہ ہو گی تو جواب نہ دے۔
کتاب: غنیتہ الطالبین ، مصنف: حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ
جمال عبدالناصر نے کئی برس مصر پر حکمرانی کی ہے یہ اس دور کی بات ہے جب سوویت یونین اپنے وقت کی سپر پاور تھا ایک بار جمال عبدالناصر سوویت یونین کے سرکاری دورے پر اپنے وزراء کے وفد کے ساتھ گیا مذاکرات کا دور چل رہا تھا باتوں باتوں میں سوویت یونین کے صدر نے جمال عبدالناصر سے طنزیہ انداز میں پوچھا: ”جمال عبدالناصر ہمارے لیے کیا لائے ہو؟“ سوویت یونین کمیونسٹ ملک تھا یعنی وہ لوگ اللہ کے وجود سے ہی منکر تھے۔ جمال عبدالناصر نے کچھ دیر سوچا اورپھر جواب دیا ” جب اگلی بار آئوں گا تو ایک تحفہ لائوں گا۔“ روسی صدر نے مسکراتے ہوئے کہا ”میں انتظار کروں گا۔“  تفصیل سے پڑھئے
ایک پادری جس کا نام ویلنٹائن تھا جس نے شادی کے بنا لڑکے اور لڑکی کو ساتھ رہنا جائز قرار دیا یعنی زنا کو :معاذ ﷲ: جس پر اسے 14فروری کو پھانسی دی گئی غیر مسلم اسکو یاد کرنے کی غرض سے مناتے ہیں
اگر ھم یہ دن مناے تو اسلام قرآن اور احادیث اس بارے میں کیا کہتی ھے آئیں ایک چھوٹا سا جائیزہ لیتے ھیں
ایمان والو! شیطان کے قدم بقدم نہ چلو۔ جو شخص شیطانی قدموں کی پیروی کرے تو وہ بےحیائی اور برے کاموں کا ہی حکم کرے گا اور اگر اللہ تعالٰی کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک صاف نہ ہوتا۔ لیکن اللہ تعالٰی جسے پاک کرنا چاہے، کر دیتا ہے )١( اور اللہ سب سننے والا جاننے والا ہے۔
سورہ نور ۲۱
آپ سے یہودی اور نصاریٰ ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے تابع نہ بن جائیں )١( آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے )٢( اور اگر آپ نے باوجود اپنے پاس علم آ جانے کے، پھر ان کی خواہشوں کی پیروی کی تو اللہ کے پاس آپ کا نہ تو کوئی ولی ہوگا اور نہ مددگار )٣(
سورہ بقرہ ۱۲۰
جو جس قوم کی مشاہبت پیدا کرے ان جیسا عمل کرے وہ اسی قوم میں شمار ہو گا
ابودائود جلد ۲ صفہ ۵۵۹
ال ارحاامِؓا کا فرمان ہے کفر کے تہوار پر تحفے دینا حرام اور کفروں کے تہوار کی تعظیم مقسود ہو تو کفر ہے
فتوی رضویہ جلد ۴ صفہ ۶۷۳
کفر کے میلوں تہواروں میں شریک ہو کر انکے مزہب کی شان و شوکت بڑانا کفر ہے
بحر شریعت جلد ۹ صفہ ۷۵۲
مسٹر ایف اے طوسی ہمارے محلے کے سب سے سینئر مکین ہیں۔ آج سے کچھ عرصہ پہلے بہت بڑے افسر تھے۔ اب ریٹائر ہو چکے ہیں مگر وہی دیرینہ اکڑ باقی ہے۔ دراصل آپ کا تعلق ایک ایسے محکمے سے تھا جس میں اکڑ اور پھکڑ کا ملکہ اہلیت کے خانے میں درج کیا جاتا ہے۔ آج کل محلے کے دوسرے لوگوں سے نہ صرف جسمانی بلکہ زبانی فاصلے پر بھی رہتے ہیں۔ اگر کبھی زبان کا استعمال کرنا ہی پڑے تو بڑے سرپرستانہ لہجے میں بات کرتے ہیں جیسے کسی فرعون کو غریب پروری کا دورہ پڑا ہو، اور اگر سچ مچ جلال میں آجائیں تو پھر دو مذکورہ بالا خدا داد اہلیتوں کا کچھ اس انداز سے مظاہرہ کرتے ہیں جیسے سارے محلے کو "اندر" کر دیں گے شنید ہے کہ اپنے گھر میں نوکروں کے علاوہ بیچاری بیگم کو بھی مستقل طور پر اندر کیا ہوا ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
ماؤنٹین ویو، کیلی فورنیا میں گوگل کا ہیڈکوارٹر۔  ٹیکنالوجی کمپنیوں کا خاتمہ اکثر کسی دھماکہ خیز خبر کے ساتھ نہیں ہوتا، بلکہ وہ رفتہ رفتہ آہستگی کے ساتھ شکستگی سے دوچار ہو جاتی ہیں۔ تنزّلی کا یہ سفر غیرمربوط اور ناقابلِ ادراک ہوتا ہے کہ کارپوریٹ آمدنی کی رپورٹوں کی سکون بخش زبان پر اس کا عکس فوری طور پر محسوس نہیں کیا جاسکتا۔
ڈیجیٹل ایکوپمنٹ اور وینگ جیسی پرانی بڑی کمپنیاں راتوں رات غائب نہیں ہوئی تھیں۔ وہ مصنوعات کی مرمت کے بوجھ سے آہستہ آہستہ ڈوب گئیں، واضح رہے کہ انہی مصنوعات نے انہیں دولت مند اور ان کے اردگرد تیکنیکی تبدیلی کی رفتار سے ناقابلِ موازنہ بنایا تھا۔   تفصیل سے پڑھئے

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers