جس دن گلی سے اس کی پکار سنائی دیتی ’’ بھانڈے قلعی کرالو ‘‘تو ہم چھوٹا پارٹی کی دوڑ باہر کو لگ جاتی۔ وہ سائیکل پر اپنی ورکشاپ لیے گائوں کے وسط میں چوراہے پر پہنچ کر کسی دیوار کے سائے میں تھوڑی سی جگہ صاف کر کے آگ جلانے کے لیے گڑھا کھودتا اور چمڑے کی دھونکنی فٹ کر کے آگ جلا لیتا۔ جتنی دیر میں اس کی ورکشاپ جمتی اتنی دیر میں گائوں کی عورتیں اپنے پیتل اور تانبے کے چبے ،کالک بھرے برتن لے کر اس کی پاس پہنچ جاتیں اور بھائو تائو شروع ہوتا۔ قلعی گر برتنوں کو قلعی کرنے کا معاوضہ کسی بھی شکل میں قبول کر لیتا۔ تفصیل سے پڑھئے
پاکستان کی بعض جھیلیں اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی مختلف اور منفرد ہیں۔ نہایت بلندی پر برفیلے پہاڑوں کے قدموں میں واقع ہونے کی وجہ سے سال کے چند ہی دن ان جھیلوں میں پانی نظر آتا ہے۔ باقی تمام سال یہ ایک ٹھوس برف کی شکل اختیار کئے رہتی ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
کیلیفورنیا کی ایک خوبصورت مگر پراسرار وادی جسے موت کی وادی ( Death Valley ) کے نام سے جانا جاتا ہے٬ ایک صدی سے بھی زائد عرصے سے اپنے اندر ایک راز چھپائے ہوئے ہے- اور آج تک کوئی بھی اس راز سے پردہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوسکا- یقیناً آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس وادی میں موجود پتھر خود بخود اپنی جگہ تبدیل کرلیتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ سب کچھ اس وقت ہوتا ہے جب انہیں کوئی دیکھ نہ رہا ہو-
یہ سب کچھ Racetrack Playa نامی ایک خشک جھیل کی سطح پر ہوتا ہے اور یہ مقام اپنے “ سفر کرتے پتھروں “ کی وجہ سے مشہور ہے- اور یہ مقام تقریباً 3 میل لمبا جبکہ ایک میل سے زائد چوڑا ہے- تفصیل سے پڑھئے

وادی کاغان کی دلفریب ترین جھیل دودھی پت سر کے بغیر کاغان کا تعارف مکمل نہیں ہو سکتا۔ قدرت کے پردوں میں پوشیدہ یہ نظارہِ بے مثال حسن نظر، ہمت اور استقامت مانگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدرت کی اس لاجواب تخلیق کا نظارہ کرنے والوں کی تعداد کچھ زیادہ نہیں۔ تین ہزار آٹھ سو اسی میٹر کی بلندی، طویل عمودی چڑھائیوں اور موسم کی بے اعتباری کے باعث اس جھیل تک جانا ایک مشکل کام ضرور ہے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ برف پوش پہاڑیوں اور سرسبز و شاداب ڈھلوانوں کے بیچ شفافیت اور ٹھنڈک کا یہ ذخیرہ اپنی مثال آپ ہے۔ تفصیل سے پڑھئے

بحر بالٹک میں جرمن جزیرہ ریوگین کی ساحلی ریت پر بنی عمارت کو دنیا کے سب سے بڑے ہوٹل کی حیثیت حاصل ہے۔ اس ہوٹل کی وسعت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ تین میل کے رقبے پر محیط ہے جبکہ سمندر کی چاروں جانب کھلنے والے اس کے کمروں کی تعداد 10,000 ہے۔ تاہم سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 70 سال سے زائد عرصہ قبل تعمیر ہونے والے اس بیچ ریزورٹ پر آج تک کوئی ایک شخص بھی نہیں ٹھہرا۔ تفصیل سے پڑھئے
ایک بیوی نے اپنے شوہر سے شکوہ کیا کہ ڈارلنگ! میں اتنی حسین و جمیل ہوں پرآپ میری تعریف کبھی نہیں کرتے۔آج دو لائنوں میں میری تعریف کریں۔شوہر بولا: واللہ تم اتنی خوبصورت ہو کہ تمہارے جیسی دو ہونی چاہئیں اور یہ کہ : تم اتنی خوبصورت اور کمینے دل کی مالک ہو کہ اللہ تعالی میرے دشمنوں کو ایسی چار بیویاں دیوے!
بہرحال یہ تو ایک لطیفہ تھا اب بات ہے حسن اور حسن نکھارنے کی تو، اسکے زیادہ تر طور طریقے ویسے تو بیسیکلی خواتین ہی استعمال کرتی ہیں، پر آجکل کے مرد بھی خواتین سے کسی طور پیچھے نہیں اور میک اپ شیک اپ، فیشل ویشل، تھریڈنگ وریڈنگ، وغیرہ تو معمول کی بات ہے۔زندگی کے مختلف طبقے کے لوگ اپنا حسن سنوارنے کیلئے کیا کچھ کرتے ہیں۔آئیں دیکھیں۔ تفصیل سے پڑھئے
برفباری اور سندھ میں ؟ سننے میں تو یہ کافی افسانوی سا لگے گا مگر اس صوبے میں ایک مقام ایسا ہے جہاں موسم سرما میں حقیقت میں برف گرتی ہے، 2008ءمیں تو یہاں کی تمام پہاڑیاں ہی برف کی تہہ سے ڈھک گئی تھیں۔
گورکھ ہل سطح سمندر سے 5688 فٹ بلند ایک دلکش مقام ہے اور یہ کیرتھر پہاڑی سلسلے کا حصہ ہے جس نے مغرب سے سندھ کی سرحد کو بلوچستان سے ملا رکھا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
پانچ ہزار سال کی معلوم تاریخ میں بہت سے انوکھے واقعات انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں، کچھ ایسے ریکارڈ بھی قائم ہوئے ہیں جو شاید دوبارہ نہ بن سکیں۔ ان میں سے ایک ریکارڈ سعودی فرمانرواﺅں نے بھی بنایا۔ جدید سعودی عرب کی بنیاد عبدالعزیز بن السعود نے 1902ءمیں رکھی۔ ان کے آباﺅ اجداد کی سلطنت کو ترکوں نے فتح کیا تھا اور 1818ءمیں جزیرہ العرب کو اپنی سلطنت کا حصہ بنا لیا۔ 20 ویں صدی کے اوائل میں عبدالعزیز بن السعود پہلے فرد تھے جنہوں نے اپنی بزرگوں کی کھوئی ہوئی سلطنت واپس لینے کی ٹھانی۔ عبدالعزیز بن السعود نے 25 افراد کی مدد سے نجد اور گردونواح پر قبضہ کیا اور 1902ءمیں سعودی حکومت کی بنیاد رکھ دی۔
عبدالعزیز نے 1913ءسے 1926ءتک ترکوں کے گورنر شریف مکہ کو شکست دیکر حجاز پر قبضہ کرلیا۔ عبدالعزیز 1953ءتک سعودی عرب کے حکمران رہے۔ پھر انکے سب سے بڑے صاحبزادے شاہ سعود بادشاہ بنے اور 1964ءتک فرمانروا رہے۔ شاہ فیصل ان کے جانشین تھے جو 1964ءسے 1975ءتک شاہ رہے۔ شاہ فیصل کی شہادت کے بعد شاہ خالد سعودی عرب کے حکمران بنے۔ وہ 1975ءسے 1982ءمسند اقتدار پر رہے۔ انکے بعد شاہ فہد 1982ءسے 2005ءتک بادشاہ بنے اور شاہ عبد اللہ 2005ءسے 2015 ءتک حکمران رہے۔ اب شاہ سلمان فرمانروا ہیں۔ شاہ عبدالعزیز بن السعود کی وفات کے بعد مسند اقتدار پر بیٹھنے والے تمام بادشاہ بھائی تھے۔ بادشاہ کا جانشین اس سے چھوٹا ہوتا تھا۔ پانچ ہزار سال کی معلوم تاریخ میں ایک باپ کے 6 بیٹوں کا حکمران بننے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ اس سے قبل بنوامیہ نے ایک ریکارڈ قائم کیا تھا جو ٹوٹ چکا ہے۔
بابل (Babylon) میسو پوٹیمیا (موجودہ عراق) کا ایک قدیم شہر ہے جو سلطنت بابل اور کلدانی سلطنت کا درالحکومت تھا ۔ یہ موجودہ بغداد سے 55 میل دور، بجانب جنوب ، دریائے فرات کے کنارے آباد تھا۔ چار ہزار سال قبل مسیح کی تحریرں میں اس شہر کا تذکرہ ملتا ہے۔ 175 قبل مسیح میں بابی لونیا کے بادشاہ حمورابی نے اسے اپنا پایہ تخت بنایا تو یہ دنیا کا سب سے بڑا اور خوب صورت شہر بن گیا۔ 689 ق م میں بادشاہ بنوکدنصریا بخت نصر دوم نے اسے دوبارہ تعمیر کرایا۔ پرانا شہر دریائے فرات کے مشرقی کنارے پر آباد تھا۔
بخت نصر نے دریا پر پل بنوایا اور مغربی کنارے کا ایک وسیع علاقہ بھی شہر کی حدود میں شامل کر لیا۔ اس کے عہد میں شہر کی آبادی 5 لاکھ کے قریب تھی۔ معلق باغات، جن کا شمار دنیا کے سات عجائبات میں ہوتا ہے ، اسی بادشاہ نے اپنی ملکہ کے لیئے بنوائے تھے۔ 539 ق م میں ایران کے بادشاہ سائرس نے بابل پر قبضہ کر لیا۔ 275 ق م میں اس شہر کا زوال شروع ہوا اور نئےتجارتی مراکز قائم ہونے سے اس کی اہمیت ختم ہو گئی ۔ اب اس کے صرف کھنڈر باقی ہیں۔
بابل ایک قدیم ترین شہر کا نام ہے۔ بابل کا ذکر ہاروت اور ماروت دو فرشتوں کی کہانی کے ساتھ ساتھ قرآن پاک میں بھی موجود ہے ۔ کچھ نے اس شہر کا نام Babylon اور ملک کا نام Babylonia یا بابل رکھا ہے ۔مسلمان تاریخ دانوں اور جغرافیہ کے مطابق بابل کا شہر اسلام کی آمد سے طویل عرصہ قبل تباہ کر دیا گیا تھا۔بابل کی جگہ کےبارے میں کہا جاتا ہےکہ سن چار سو ہجری میں عباسیوں کے دور میں ایک چھوٹا سا گاؤں بابل کے نام سے موجود تھا۔ابن نووفال Nowfil نے بھی اسکے وجود کا ذکر کیا ہے ۔ان کے مطابق اسکی عمارتوں کو عراق میں سب سے قدیم سمجھا جاتا ہے ۔یہ بادشاہوں نے بطوردارالحکومت تعمیر کروایا تھا ۔ ان کے جانشینوں نے بھی دارالحکومت کے طور پر اسے استعمال کیا ۔
ابوالفداء لکھتے ہیں کہ یہی وہ شہر تھا جس میں نمرود نے ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا تھا۔آج کل کھنڈرات کے سوا کچھ بھی نہیں نظر آتا ہے۔تاہم، کھنڈرات کے درمیان میں ایک چھوٹا سا گاؤں اب بھی موجود ہے
ابن نووفال صفحہ 344
یاد رہے۔یہ وہ ہی شہر ہے جس میں سکندر اعظم 32 سال کی عمر 323 قبل مسیح میں اس دنیا سے رخصت ہوا تھا۔ یہ وہ ہی سکندر ہے جس کے بارے مشہور ہے کہ اس نے آدھی سے زائد دنیا کو فتح کیا تھا

گلگت شہر کے خشک اور بھورے پہاڑوں کو دیکھ کر یہ گمان کرنا بھی مشکل ہواکرتا ہے کہ کہیں آس پاس کوئی سرسبز ، پرفضا اور قدرتی مناظر سے لبریز خطہ بھی ہو گا! اس بے یقینی کو دور کرنے کے لئے صرف ایک گھنٹے کا پختہ سڑک کے ذریعے جیپ کا سفر کرنا پڑتاہے ۔ گلگت بلتستان کا بیشتر علاقہ مون سون کی پٹی سے علیحدہ ہونے کی وجہ سے اپنا ایک الگ مخصوص موسی مزاج رکھتا ہے۔ لیکن گلگت سے صرف چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع وادی نلتر قدرتی طور پر ایسا موسمیاتی خطہ ہے جہاں بارشوں کی کثرت ہے۔ سطح سمندر سے بلندی اور موسم کی اس تبدیلی کی وجہ سے یہاں دیار کے گھنے جنگلات اور سبزے کی بہتات ہے۔
نلتر کی وادی کے دو حصے ہیں۔        تفصیل سے پڑھئے
سعودیہ عرب کے بادشاہ شاہ عبداللہ کی وفات کا اعلان سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی نے 23 جنوری 2015ء کو باقاعدہ طور پر کیا تو ساتھ ہی 78 سالہ شہزادہ سلیمان کے باقاعدہ اگلے بادشاہ ہونے کا اعلان بھی کردیا ، جنھوں نے منصب سنبھالتے ہی شاہ عبداللہ کے دور کی پالیسیاں جاری رکھنے کا اعلان کردیا شاہ عبداللہ کی وفات پر اگرچہ مغربی میڈیا کے رويے کو نرم سے نرم الفاظ میں ڈپلومیٹک اور مصلحت پسندانہ ، سعودیہ نواز میڈیا کے رويے کو خوشامدانہ اور اثباتی پسندی پر مبنی اور ایران نواز میڈیا کو بہت یک رخا ، کسی حد تک ویسا ہی متعصبانہ کہا جاسکتا ہے- تفصیل سے پڑھئے
کاکیشیائی (Caucasus) یورپ اور ایشیا کی سرحد پر واقع ایک ایسا مقام ہے جو کہ بحر اسود اور بحر قزوین کے درمیان واقع ہے- مغربی کاکیشیائی 2 لاکھ 75 ہزار ہیکٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس کے انتہائی مغربی حصے میں ایک پہاڑی سلسلہ موجود ہے جو کہ بحیرہ اسود کے شمال مشرق میں 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے-
یہ پہاڑی سلسلہ یورپ کے چند بڑے پہاڑی سلسلوں میں سے ایک ہے - اور اس علاقے سے آج تک بہت کم لوگوں کا گزر ہوا ہے-یہاں ہزاروں کی تعداد میں ایسے قدیم اور پراسرار اسٹرکچر موجود ہیں جن کی تاریخ کئی صدیوں پرانی ہے-
آثار قدیمہ کے ماہرین آج تک یہ راز نہیں جان پائے کہ انہیں کس نے تعمیر کیا؟ ان کی تعمیر کے لیے پتھر کہاں سے لایا گیا؟ اور انہیں تعمیر کرنے کا حقیقی مقصد کیا تھا؟ سائنسدانوں کے درمیان اس حوالے سے صرف قیاس آرائیاں پائی جاتی ہیں- روسی باشندے ان اسٹرکچر کو ڈولمینز ( dolmens ) کے نام سے پکارتے تھے جس کا مطلب “ پورٹل مقبرے “ ہوتا ہے- لیکن اس نام کے باوجود اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں کہ واقعی یہ تدفین کے لیے تمیر کیے گئے تھے یا پھر یہاں مردوں کو دفتایا جاتا تھا- آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ “ ان مقبروں سے ملنے والے قدیم برتنوں اور انسانی باقیات سے معلوم ہوتا ہے ان مقبروں کی تاریخ 4 ہزار سے 6 ہزار سال پرانی ہے- لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اشیا ان مقبروں میں بعد میں کسی نے ڈالی ہوں“-
اگرچہ اس وقت پوری دنیا میں لاتعداد اقسام کے مقبرے موجود ہیں لیکن کاکیشیائی کے مقبروں کی فن تعمیر انتہائی منفرد قسم کا ہے- ان مقبروں کی تعمیر cyclopic پتھروں سے کی جاتی تھی- ان پتھروں کا استعمال کارنر بنانے کے لیے کیا جاتا تھا- ایک چیز جو تمام مقبروں میں مشترک تھی وہ مقبروں دیوار میں گول سوراخ کا ہونا تھا- اس کے علاوہ تقریباِ ہر مقبرے کو سامنے کی جانب سے پتھروں کی چھوٹی سی دیوار بنا کر بلاک کیا گیا ہے- بعض جگہوں پر یہ دیوار ایک میٹر کی بلندی پر بھی تھی-
اس علاقے سے ملنے والے برتن لوہے اور کانسی کے تھے جبکہ یہاں سے کانسی کے اوزار٬ سونے٬ چاندی اور قیمتی پتھروں سے بنے زیورات بھی پائے گئے-
یہاں موجود ہر اسٹرکچر کا وزن تقریبا 15 سے 30 ٹن ہے اور کوئی ایسا راستہ نہیں پایا گیا جس سے گزر کر ان بھاری بھرکم پتھروں کو یہاں تک لایا گیا اور نہ ہی اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ یہ بھاری پتھر کس طرح اٹھا کر یہاں تک پہنچائے گئے-
یہ پتھر اتنے متوازن انداز میں رکھے گئے ہیں کہ انسان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا٬ یہاں تک کہ 2007 میں ان مقبروں کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس جدید دور میں تمام تر ٹیکنالوجی ہونے کے باوجود ماہر تعمیرات پتھروں کو اسی طرح متوازن انداز میں رکھنے میں ناکام رہے-
اسی وجہ سے ان مقبروں کی تعمیر آج تک ایک پراسرار راز ہے-


عام طور پر مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں واقع جامعہ الازہر کو دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی مانا جاتا ہے لیکن غالباً بہت سے لوگوں کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ گنیز بک آف ریکارڈز کے مطابق دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی جامعہ الازہر نہیں بلکہ یہ اعزاز افریقہ ہی کی ایک اور مسلم یونی ورسٹی ’جامعہ القرویین‘ کوحاصل ہے، جو 859ء میں قائم کی گئی تھی۔
اور یونیورسٹی بھی کوئی عام قسم کی نہیں، بلکہ وہ جس سے دنیائے اسلام کی دو عظیم ترین شخصیات نے تعلیم حاصل کی ہے، یعنی ابن العربی اور ابن خلدون۔
اس سے پہلے کہ ہم اس یونیورسٹی کے بارے میں مزید تفصیلات پیش کریں، یہ بتانا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ گنیز بک کے اس شعبے کا تعلق ان یونیورسٹیوں سے ہے جوبغیر کسی تعطل کے آج تک علم کی روشنی بکھیررہی ہیں، اور ان میں وہ تعلیمی ادارے شامل نہیں ہیں جو زمانہٴ قدیم میں تو قائم تھے لیکن اب کام نہیں کررہے۔
اگر قدیم یونیورسٹیوں کی بات کی جائے تو عام طور پر پاکستانی شہر ٹیکسلا میں قائم تکشا شیلا یونی ورسٹی کو دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹی ماناجاتاہے، جس کی بنیاد 700قبل مسیح میں رکھی گئی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے یہ یونی ورسٹی وقت گزرنے کے ساتھ نیست و نابود ہوگئی اور آج اس کا وجود صرف چند کھنڈرات کی صورت میں موجود ہے۔
تو ذکر ہو رہا تھا مراکش کے تاریخی شہر فیض کی جامعہ القرويين کا، جو دنیا کی قدیم ترین ایسی یونیورسٹی ہے جو آج تک قائم و دائم ہے۔اس کے مقابلے میں قاہرہ کی جامعہ الازہر 971ء میں قائم کی گئی تھی، گویا عمرمیں یہ القرویین سے 112 برس چھوٹی ہے۔
ابھی فیض نیا نیا آباد ہوا تھا کہ اس کے حکمران نے یہ دعا مانگی: ’اے خدا، اس شہر کوایسا علمی مرکز بنا دے جہاں قانون، سائنس اور تیری کتاب کی تعلیم دی جائے۔
اس حاکم کی دعا یوں قبول ہوئی کہ ایک متموّل سوداگر کی بیٹی فاطمہ الفہری نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد ترکے میں ملنے والی دولت سے ایک عظیم الشان مسجد بنانے کا تہیا کرلیا۔ جب مسجد بنی تو اس زمانے کے رواج کے مطابق اس کے ساتھ ایک مدرسہ بھی قائم کیاگیا۔ یاد رہے کہ جامعہ الازہر کا آغاز بھی مسجد سے ملحق مدرسے کے طور پر ہواتھا۔
جب فاطمہ کا مدرسہ چل پڑااور اس میں دور دور سے طلبا علم کی پیاس بجھانے کے لیے آنے لگے تو اس عہد کے سلاطین بھی متوجہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور انہوں نے اس مدرسے کو اپنی سرپرستی میں لے لیا۔ جلد ہی وہ وقت آیا کہ جب مدرسے میں پڑھنے والے طلبا کی تعداد آٹھ ہزار سے تجاوز کر گئی۔ آنے والی صدیوں میں مسجد اور مدرسے میں مسلسل توسیع ہوتی رہی اور مدرسہ جامعہ القرویین کہلانے لگا۔
جامعہ القرویین میں صرف دینی علوم ہی نہیں بلکہ دنیاوی علوم بھی پڑھائے جاتے تھے جن میں صرف و نحو، منطق، طب، ریاضی، فلکیات، کیمیا، تاریخ اور حتیٰ کہ موسیقی تک شامل تھے۔
جامعہ سے اسلامی تاریخ کی کئی بلند قامت شخصیات وابستہ رہی ہیں، ہم پہلے ہی عظیم صوفی شیخ الاکبر ابن العربی اور تاریخ دان ابنِ خلدون کا ذکر کر چکے ہیں۔
پوپ سلوسٹر ثانی جنھوں نے یورپ میں عرب ہندسے اور صفر کو متعارف کرایا
اس تاریخی ادارے نے عالمِ اسلام اور مغرب کے درمیان صدیوں تک علمی اور ثقافتی پل کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔ یونی ورسٹی کے فارغ التحصیل طلبامیں کئی غیر مسلم علما بھی شامل ہیں۔ مثال کے طور پر یورپ میں عربی ہندسے اور صفر کا تصور متعارف کروانے والے پوپ سلوسٹر ثانی اسی یونی ورسٹی کے طالبِ علم تھے۔ سلوسٹر ثانی 999ء سے 1003ء تک پوپ کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔

ان کے علاوہ مشہور یہودی طبیب اور فلسفی موسیٰ بن میمون بھی اسی جامعہ کے طالبِ علم تھے۔
انسان برسوں سے آگ سے کھیلتا آ رہا ہے لیکن کوئی بھی ایسی چیز ایجاد نہیں کر سکا تھا جس کے ذریعے آسانی سے آگ جلائی جا سکے۔ آخر ایک برطانوی ادویات ساز نے ماچس حادثاتی طور پر ایجاد کر لی۔
یہ 1826ء کا واقعہ ہے۔ جان واکر چند کیمیائی مادوں کو ایک برتن میں ایک تیلی کے ذریعے آپس میں ملا رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ تیلی کے سرے پر ایک سوکھا ہوا گولا سا بن گیا ہے۔ انہوں نے غیر ارادی طور سے تیلی کے سرے کو رگڑ کر سوکھا ہوا مادہ اتارنے کی کوشش کی تو ایک دم آگ جل اٹھی۔ اس طرح بالکل اتفاقاً ماچس ایجاد ہو گئی۔ جان واکر نے پہلی ماچس اپنے علاقے میں کتابوں کی ایک دکان میں بیچی۔انہوں نے اس ماچس کا نام ’’فرکشن لائٹس‘‘ رکھا تھا۔ تِیلیاں تین انچ تک لمبی تھیں۔ ڈبیا کی ایک طرف ریگ مال لگا ہوا تھا جس پر تیلیوں کو رگڑ کر جلایا جاتا تھا۔ جان واکر کو اپنی ایجاد پیٹینٹ (Patent)کروانے سے دلچسپی نہیں تھی۔
سیموئل جونز نے ماچس کی نقل بنائی۔ انہوں نے اپنی ماچس کا نام ’’لوسی فر‘‘ رکھا۔ ان کی ماچس کی تیلیاں چھوٹی تھیں۔ ان کی ڈبیا بھی چھوٹی تھی جسے ساتھ رکھنا آسان تھا۔
تاریخ میں ماچس جیسی کسی چیز کا پہلا تذکرہ چین میں لکھی گی ایک کتاب میں ملتا ہے۔ اس کتاب کا عنوان ’’غیر دنیاوی اور انوکھی چیزوں کا تذکرہ‘‘ تھا اور اسے تاؤ گو نے لکھا تھا۔ یہ کتاب اندازاً 950ء میں لکھی گئی تھی۔ آگ جلانے کے لیے سلفر استعمال کیا جاتا تھا لیکن ان تیلیوں کو رگڑ کر آگ نہیں جلائی جا سکتی تھی۔
فرانسیسی کیمیا داں ژاں چینسل نے 1805ء میں پہلی ایسی ماچس ایجاد کی جس کی تیلیوں کے سرے پر چینی اور پوٹاشیم کلوریٹ لگایا جاتا تھا۔ اس سرے کو مرتکز سلفیورک تیزاب میں ڈبو کر جلایا جاتا تھا۔ ژاں چینسل کی بنائی ہوئی ماچس کی تیلیاں جلانا خطرناک تھا۔ کیمیائی مادوں کا آمیزہ کلورین ڈائی آکسائیڈ نامی پیلے رنگ کی بدبودار گیس پیدا کرتا تھا، جو کسی بھی چیز سے چھونے پر بھک کر کے پھٹ جاتی تھی۔ آج کل ماچسیں سرخ فاسفورس سے بنائیں جاتی ہیں۔سرخ فاسفورس زہریلی نہیں ہوتی۔ اسے جوہان ایڈورڈ لنڈسٹروم نے دریافت کیا تھا۔ امریکہ میں سیفٹی ماچس فرخت کرنے والی پہلی کمپنی ڈائمنڈ میچ کمپنی تھی۔ اس سے حقوق خرید کر دوسری ماچس ساز کمپنیوں نے ماچسیں بنانا اور بیچنا شروع کیا تھا۔
ٹیلیوژن 1925 میں اسکاٹ لینڈ کے ایک شخص ،جان لوئی جی بیرڈ ،نے ایجاد کیا تھا۔ ایک دن وہ سمندر کے کنارے ٹہل رہا تھا کہ اس کے کانوں میں گانے کی آواز آئی ۔اس نے چونک کر ادھر اُدھر دیکھا تو پتا چلا کہ ایک ہوٹل میں ریڈیو بج رہا ہے۔ اس نے سوچا کہ ہوا کی لہروں پر آواز کتنی دور چلی جاتی ہے!کیا ان لہروں پر تصویر ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں جاسکتی؟ اسے فوٹو گرافی کا شوق تھا اور وہ کئی مرتبہ تصویروں اور بجلی کے تاروں پر تجربہ کر چکا تھا۔
اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ ہوا کی لہروں پر تصویریں بھیج کر رہے گا۔ اس نے اسی دن ایک صندوق ،کپڑے سینے کی چند سوئیاں،بسکٹوں کا ایک ڈبا،سائیکل کے لیمپ کا شیشہ ،کچھ بیٹریاں،بجلی کا ایک تار اور بہت سا موم اکھٹا کیا۔اس کے بعد بجلی سے چلنے والی ایک پرانی موٹر خریدی۔اور اس سامان کو لے کر ایک کمرے میں بند ہوگیا۔
ایک عرصے تک وہ دن رات اسی کمرے میں تجربے کرتا رہا۔ اس کے سامنے ایک پردہ لگا ہوا تھا۔ آخر ایک دن اس پردے پر تصویر آگئی لیکن وہ کچھ زیادہ صاف نہ تھی۔اس پر بیرڈ نے زیادہ تیز روشنی استعمال کرنے کا سوچا،اس نے ایک ہزار بیٹریاں ایک ساتھ رکھ دیں اور کئی دنوں کی محنت کے بعد آخر پردے پر صاف تصویریں لانے میں وہ کامیاب ہوگیا۔
اب بیرڈ نے کئی مشہور سائنس دانوں کو اپنا یہ کارنامہ دکھایا۔یہ سائنس دان بھی ٹیلی وژن ایجاد کرنے کی فکر میں تھے۔انہوں نے بیرڈ سے کہا کہ تم نے میدان مار لیا۔ اگلے ہی دن برطانیہ کے تمام اخبارات میں بیرڈ کی حیرت انگیز ایجاد کا حال چھپ گیا۔
یہ 1926 کی بات ہے۔ 30 دسمبر 1929 کو بی بی سی لندن نے ٹیلیوژن کا جو پہلا پروگرام پیش کیا۔ اس میں بیرڈ کا ہی طریقہ استعمال کیا گیا تھا۔اس کے بعد بہت سے سائنس دانوں نے ٹیلی وژن میں اصلاحیں کیں۔ اور بیرڈ کے طریقے سے ہٹ کر دوسرے طریقے ایجاد کیے۔ لیکن ٹیلی وژن کا باوا آدم بیرڈکو ہی مانا جاتا ہے۔
ٹیلی وژن کا اصول یہ ہے کہ کسی چیز کے سیاہ اور سفید حصوں کو برقی اختلافات (مثبت اور منفی) میں تبدیل کرکے برقی لہروں نے ذریعے فضا میں پھیلا دیا جاتا ہے۔ وصول کرنے والا (ٹیلیوژن سیٹ) ان برقی اختلافات کو دوبارہ سیاہ اور سفید حصوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اور ہمیں ٹیلی وژن کی سکرین پر اس چیز کی تصویر نظر آتی ہے۔رنگین ٹیلی وژن بہت بعد کی ایجاد ہے۔اور یہ بلیک اینڈ وائٹ سے زیادہ پیچیدہ عمل ہے۔
دنیا میں ایک ایسا ملک بھی ہے کہ جو بے انتہا وسیع سمندر کے عین درمیان واقع ہے، اس کا رقبہ ایک چھوٹے بحری جہاز کے برابر اور آبادی صرف 22 افراد ہے۔ اس ملک کا ایک شہزادہ اور شہزادی بھی ہے اور اس نے 1967ء سے آزادی کا اعلان کررکھا ہے۔
سی لینڈ (Sealand) نامی یہ ملک برطانیہ کے ساحلوں سے دور بین الاقوامی سمندر میں واقع ہے اور اس کی اپنی کرنسی، ڈاک ٹکٹ اور قومی ترانہ بھی ہے۔ دراصل یہ ایک پرانا قلعہ ہے جس پر دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے ایک سابقہ میجر پیڈی روئے بیٹس (Paddy Roy Bates) نے قبضہ کیا۔ اس قلعے کو 1950ءکی رہائی میں خالی چھوڑ دیا گیا تھا۔
پیڈی روئے بیٹس نے جنگ کے بعد ماہی گیری اور ریڈیو براڈ کاسٹنگ کے مشاغل اختیار کرلئے لیکن برطانوی حکومت کی پابندیوں سے تنگ آکر اس نے بالآخر اس قلعے میں اپنی آزاد ریاست قائم کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔ اس نے اپنی بیوی ہوان کے ساتھ یہاں رہائش اختیار کرلی اور اسے برطانیہ سے آزاد ریاست قرار دے دیا۔
روئے بیٹس اور ہوان اس ریاست کے پہلے بادشاہ اور ملکہ بن گئے۔ کنکریٹ کے دو بڑے ستونوں کے اوپر لوہے کا ایک بڑا پلیٹ فارم ہی اس ملک کی کل ”زمین“ ہے اور یہاں کے لوگ پینے کیلئے پانی بھی خود ہی صاف کرتے ہیں اور اپنی زیادہ تر خوراک اور دیگر اشیاء برطانیہ اور یورپ سے درآمد کرتے ہیں۔
ان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ایک آن لائن دکان ہے جہاں یہ اپنی ریاست کی یادگاری اشیاءاور اس ملک کے القابات بیچتے ہیں۔ آپ تقریباً 200 پاؤنڈ دے کر اس ریاست کے نواب کا خطاب حاصل کرسکتے ہیں۔ اس منفرد ریاست کا دعویٰ ہے کہ جرمنی اور فرانس نے اس کی آزادی حیثیت کو تسلیم کرلیا ہے۔ ریاست کے بانی رائے کی وفات کے بعد اب اس کا بیٹا مائیکل بیٹس اس سلطنت کا حکمران ہے

گزشتہ دنوں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین محترم مولانا شیرانی نے یہ بیان داغ ڈالا کہ کوئی بھی مسلمان مرد اپنی بیوی سے پوچھے بنا اپنی مرضی سے دوسری شادی کرنے کے جملہ حقوق محفوظ رکھتا ہے ، موصوف اس سے پہلےریپ کے مقدمات میں ڈی این اے ٹیسٹ کو بطور شہادت ماننے سے بھی انکار کر چکے ہیں۔زرداری حکومت میں مفاہمتی سیاست کی پالیسی کے تحت اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین منتخب ہونے والےپچاسی سالہ مولانا محمد احمد خان شیرانی جمعیت علما اسلام فضل الرحمن گروپ کے اہم سیاسی رہنما ہیں جو بلوچستان میں اپنی پارٹی کے صوبائی صدر اور سینٹر بھی ہیں ۔مولانا کےچیئرمین منتخب ہونے میں ان کے علمیت سے زیادہ ان کے سیاسی عمل دخل کا کردار ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
15جنوری 1971ء کو قائد اعظم کے مزار کی تعمیر پایۂ تکمیل کو پہنچ گئی۔ اس موقع پر صدر مملکت جنرل آغا محمد یحییٰ خان نے قائد اعظم کی ہمشیرہ محترمہ شیریں بائی کے ہمراہ قائد اعظم کے مزار پر حاضری دی جہاں ان کا استقبال پرنسپل اسٹاف آفیسر اور قائد اعظم میموریل بورڈ کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ایس جی ایم پیرزادہ نے کیا۔اس موقع پر جنرل آغا محمد یحییٰ خان نے قائد اعظم کے مزار کا تفصیلی معائنہ کیا اور قائد اعظم اور ان کے رفقا کے مزارات پر فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے اعزازی مشیر تعمیرات انجینئر مسٹر ایم رحمن اور آرکیٹکٹ ایم اے احد کا شکریہ ادا کیا جن کی لگن اور توجہ سے یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچا۔
قائد اعظم کے مزار کا سنگ بنیاد 31 جولائی 1960ء کو اس وقت کے صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے رکھا تھا۔ اس کی تعمیر بڑی سست روی کے ساتھ آگے بڑھتی رہی تاہم اس میں اس وقت تیزی آئی جب صدر محمد یحییٰ خان نے اپریل 1969ء میں اس کا معائنہ کیا اور لیفٹیننٹ جنرل ایس جی ایم پیرزادہ کی سربراہی میں ایک بورڈ تشکیل دیا۔
قائد اعظم کے مزار پر تینوں مسلح افواج کے دستے باری باری پہرہ دیتے ہیں۔ مزار کی تعمیر کی تکمیل کے پہلے دن 15 جنوری 1971ء کو پاک بحریہ کے دستوں نے پہرہ دیا تھا۔
آپ نے ملا نصر الدین کا نام تو سنا ہو گا۔ یہ شخص ترکی کا ایک مزاح سے بهرپور انسان تھا جس طرح ہمارے ہاں ملا دو پیازہ اور شیخ چلی کے لطیفے مشہور ہیں، اسی طرح ترکی میں ملا نصر الدین کے لطیفے بڑے مزے لے لے کر بیان کیے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں ملا نصر الدین یوں تو نہایت عقل مند اور عالم فاضل شخص تھا مگر لوگوں کی اصلاح اور تفریح کے لیے بے وقوف بنا رہتا اور ایسی ایسی حرکتیں کرتا کہ لوگ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے۔
حضرتِ انس بن مالک رضی اللہ عنہُ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ رسولِ اکرم ﷺ کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔
"" ابھی تمھارے سامنے ایک جنتی آدمی نمودار ہو گا""
چنانچہ انصار کے ایک آدمی نمودار ہوئےجن کی ڈاڑھی سے وضو کا پانی ٹپک رہا تھا۔انہوں نے آپنے جوتے بائیں ہاتھ میں اُٹھا رکھے تھے۔
جب دوسرا دن آیا تو نبی کریم ﷺ نے وہی بات فرمائی، "ابھی تمھارے سامنے ایک جنتی آدمی نمودار ہو گا"۔
چنانچہ اس دن بھی وہی انصاری نمودار ہوئے جو گزشتہ دن نمودار ہوئے تھے اور آج بھی وہ پہلے کی طرح تھے۔
جب تیسرا دن آیا تو نبی اکرمﷺ نے پھر وہی بات فرمائی،یعنی " ابھی تمھارے سامنے ایک جنتی آدمی نمودار ہوگا" چنانچہ اس تیسرے دن بھی وہی انصاری نمودار ہوئے اور اس حالت میں جیسے پہلے دن تھے،یعنی ان کی داڑھی سے وضو کا پانی ٹپک رہا تھا اور انہوں نے اپنے جوتے بائیں ہاتھ میں اُٹھا رکھے تھے، تفصیل سے پڑھئے
محبت تقسیم هوتی هے ماں باپ سے الگ بہن بهائی سے الگ اپنے آپ سے الگ. پهر محبت میں ایک مقام ایسا آتا هے جب یہ ناقابلء تقسیم هو جاتی هے.عربی میں محبت کے اس مقام کو "عشق"کہتے ہیں
عشق دو طرح کے هوتے ہیں
1عشق مجازی
2عشق حقیقی
مترادفات عشق
محبت،حب،الفت،پریم،دهن،پیار،جنون،رومان وساگ،شفف،خبط،پریت،چاہت،سودا،شیفتگی،تعشق
مرکبات
عشق الہی،عشق باز،عشق حقیقی، "عشق رسول صل اللہ علیہ وسلم"، عشق مجازی،عشق پرور،عشق پیچاں،عشق صادق
عشق مجازی انسان کو محبتوں کو قربان کرنا سکهاتا هے ،اس میں انسان ماں باپ بہن بهائی تو دور خود کا بهی نہیں رہتا جبکہ اسکے برعکس عشق حقیقی انسان پر علم کی نئ راہیں کهولتا هے
انسان کو علم و حکمت اور معرفت کی ان بلندیوں پر لے جاتا هے جہاں پہنچ کر انسان ایک عام انسان سے"ولی اللہ" بن جاتا هے. لیکن عشق کے اس مقام تک بہت کم لوگ پہنچ پاتے ہیں..
بازار میں اک نئی دکان کھلی جہاں شوہر فروخت کیے جاتے تھے۔ اس دکان کے کھلتے ہی لڑکیوں اور عورتوں کا اژدہام بازار کی طرف چل پڑا ۔ سبھی دکان میں داخل ہونے کے لیے بے چین تھیں۔ دکان کے داخلہ پر ایک بورڈ رکھا تھا جس پر لکھا تھا ۔
“اس دکان میں کوئی بھی عورت یا لڑکی صرف ایک وقت ہی داخل ہو سکتی ہے “
پھر نیچے ھدایات دی گئی تھیں ۔۔۔
” اس دکان کی چھ منزلیں ہیں ہر منزل پر اس منزل کے شوہروں کے بارے میں لکھا ہو گا ، جیسے جیسے منزل بڑھتی جائے گی شوہر کے اوصاف میں اضافہ ہوتا جائے گا خریدار لڑکی یا عورت کسی بھی منزل سے شوہر کا انتخاب کر سکتی ہے اور اگر اسمنزل پر کوئی پسند نہ آے تو اوپر کی منزل کو جا سکتی ہے ۔مگر ایک بار اوپر جانےکے بعد پھر سے نیچے نہیں آ سکتی سواے باھر نکل جانے کے “ تفصیل سے پڑھئے

شیفتہ اور بقراط چمن میں بے حد پریشان نظر آئے …. شیفتہ فرما رہے تھے…. چند برسوں سے عید قرباں کا اصل مقصد فوت ہوتا دکھائی دے رہا ہے….. اب اہل ایمان کے نزد عید پر قربانی کے معنی اللہ کی خوشنودی کا حصول نہیں رہا…. اب لوگوں میں نمائش کا جذبہ غالب رہتا ہے اور اللہ کی خوشنودی کا کم…اب لوگوں کو عید قرباں پر قربانی کی یہ اہمیت یاد نہیں کہ اس نیکی کا کوئی متبادل نہیں…. لوگ اب حیلے بہانوں اور بخل سے کام لیتے ہیں….. تفصیل سے پڑھئے

اگر آپ چپس کھائے بغیر رہ نہیں سکتے تو اس کا الزام" جارج کَرم " نامی باورچی کو دیجیے۔ جارج کَرم نے 1853ء میں اتفاقاً آلو کے چپس ایجاد کیے تھے۔ ہوا یہ کہ امریکہ کی ریاست نیویارک کے شہرساراٹوگا سپرنگز میں مونز لیک ہاؤس نامی ایک ریستوران میں کام کرتے تھے۔ ان کا ایک گاہک تلے ہوئے آلو منگواتا تھا مگر ہمیشہ یہ کہہ کر واپس بھیج دیتا تھا کہ وہ زیادہ کرارے نہیں بلکہ ڈھیلے ڈھالے ہیں۔
ایک دن تنگ آ کر جارج نے آلوؤں کے جتنے پتلے قتلے بنانا ممکن تھا، اتنے پتلے قتلے بنا لیے۔اس کے بعد انہوں نے آلوؤں کے ان قتلوں کو تیل میں تل لیا۔ آلوؤں کے تلے ہوئے قتلوں پر جارج نے نمک چھڑک دیا۔ آلوؤں کے یہ قتلے نہ صرف ان کے نازک مزاج گاہک کو بہت پسند آئے بلکہ اس ریستوران میں آنے والے تمام گاہکوں نے بھی انہیں پسند کیا۔ رفتہ رفتہ پورے نیو یارک میں ’’ساراٹوگا چپس‘‘ مقبول ہو گئے۔ لوگ آلو کے چپس گھروں میں بنانے لگے۔
اب ایک مسئلہ یہ تھا کہ بیرلوں یا ڈبوں میں محفوظ کیے جانے والے چپس جلد باسی ہو کر خراب ہو جاتے تھے۔1920ء کے عشرے میں لاورا سکڈر نے ہوا بند تھیلی ایجاد کر لی۔ وہ تھیلی اس طرح بنائی جاتی کہ دو مومی کاغذوں پر گرم استری پھیر کر انہیں جوڑ لیا جاتا تھا۔ اب مختلف ذائقوں والے آلو کے چپس مختلف قسم کی پیکنگ میں فروخت کیے جاتے ہیں اور ہر عمر اور طبقے کے لوگ انہیں شوق سے کھاتے ہیں۔


ماضی میں وسطی ایشیا سے تجارتی قافلے اور جنگجو حملہ آور درہ گومل کے راستے برصغیر میں داخل ہوتے رہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب دریائے سندھ کے کنارے یہ لوگ پڑاؤ ڈالتے۔ دریائے سندھ ہی کے ذریعے تجارتی مال کشتیوں کے ذریعے مختلف اطراف روانہ کیا جاتا۔ دریائے سندھ عبور کرنے کے بعد ان تجارتی قافلوں اور جنگجو حملہ آوروں کی اگلی منزل ملتان ہوا کرتی تھی۔ ملتان کے بعد پاکپتن، دیپال پور، لاہور اور دہلی کا رخ کیا جاتا۔ عموماً ملتان کے قریب ہی ان حملہ آوروں کو روک دیا جاتا۔  تفصیل سے پڑھئے
عیسوی سال کے 12 مہینوں (جنوری، فروری۔۔۔وغیرہ وغیرہ) سے تو سب ھی واقف ھیں لیکن اِن ناموں کے پیچھے کیا حقیقت یا راز موجود ھیں اِن سے شاید کم ھی لوگ واقف ھوں۔ اِن مہینوں کے نام کیسے رکھے گئے یا پھر کیوں رکھے گئے آئیے آپکو بتاتے ھیں۔
جنوری: جنوری کا نام رومیوں کے ایک دیوتا "جینس" کے اعزاز میں رکھا گیا ھے۔ کئی صدیوں تک جنوری سال کا گیارواں مہینہ رھا ھے، اور تب اِس کے 30 دن ھوتے تھے۔ 46 )ق م( میں رومی شہنشاہ "جولیس سیزر" نے جنوری میں ایک دن کا اضافہ کیا اور اِسے اپنے دیوتا جینس کی نسبت اور عقیدت کے پیشِ نظر سال کا پہلا مہینہ بنا دیا۔ تفصیل سے پڑھئے
کلرکہار ضلع چکوال کا خوبصورت سیاحتی مقام ہے، اور چکوال سے تقریباً 26 کلو میٹر کے فاصلے پر اسلام آباد، لاہور موٹر وے کے ساتھ واقع ہے۔ کلرکہار میں لوکاٹ، ناشپاتی اور انار کے بڑے بڑے باغات کے علاوہ دیگر کئی اقسام کے پھلوں کے درخت کثیر تعداد میں ہیں جن میں کیلے کے درخت قابل ذکر ہیں۔ ان درختوں سے پھل توڑنے کی اجازت نہیں ہے، کیوں کہ سرکار اس کا ٹھیکہ دیتی ہے۔ ان درختوں میں ’’مور‘‘ کھلے عام یعنی آزادانہ پھرتے ہیں۔ پہاڑ ہرے بھرے ہیں، درخت اور جھاڑیاں بھی کثیر تعداد میں ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے

کراچی اگر پندھرَویں، سولہویں صدی میں آباد شہر کی صورت ہوتا تو اس کا دارالحکومت ٹھٹھہ اور راجا ہوتا جام، جن کا سمّہ خاندان کئی صدیوں تک زیریں سندھ کا حکمراں رہا۔ کراچی بھی زیریں سندھ کا حصّہ ہے۔ یہ وہی راجا ہے جسے تاریخ نے جام نظام الدین کے نام سے یاد رکھا اور 48 برس حکومت کرنے والے راجا کو پَرجا نے پیار کا نام دیا 'جام نِندو۔' عقیدت صدیوں بعد آج بھی قائم ہے۔ اکثر جمعرات کی شام مقبرے پر لوگ آتے ہیں، فاتحہ پڑھتے ہیں اور کئیوں کا کہنا ہے کہ بخار ہو تو یہاں پہنچتے ہی فوراً غائب ہوجاتا ہے۔ راجا اوراس کے مقبرے سے ایسی روحانی عقیدت تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔
جام سمّہ خاندان کے طویل دورِ حکمرانی کا آخری تابندہ چراغ تھا۔ اس کے بعد ایک تارہ دو بار چمکا مگر لمحہ بھر کو اور پھر ارغونوں کے ہاتھوں وہی حشر ہوا جو تیموری اولادِ شاہی کا ہندوستان میں انگریزوں کے ہاتھوں ہوا تھا۔ جام نِندو کے بعد صرف نو دس برس کے قلیل عرصے میں سمّہ دور تاریخ میں چلا گیا اور ارغون حاکم بن گئے۔ تفصیل سے پڑھئے

راولپنڈی سے مشرق کی جانب سترہ کلومیٹر کے فاصلہ پر روات شاہی قلعہ واقع ہے جو سولہویں صدی کے اوائل میں تعمیر کیا گیا تھا. یہ گکھڑوں کے سربراہ سلطان سارنگ خان اور شیر شاہ سوری کے درمیان ایک جنگ کی یاد دلاتا ہے جو1546 ء میں اس مقام پر لڑی گئی۔ تفصیل سے پڑھئے
امیر عاشق
میں بھی خریدار ہوں میں بھی خریدوں گا
پیار کہاں بکتا ہے پتہ بتا دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غریب عاشق
سونا نہ چاندی نہ کوئی محل جان من
تجھ کو میں دے سکوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جھوٹا عاشق
کل شب دیکھامیں نے چاند جھروکے میں
اس کو کیا سلام تمھارے دھوکے میں ۔۔۔

سچا عاشق
دل ہو گیا ہے تیرادیوانہ اب کوئی جچتا نہیں
نادان ہے سمجھتا نہیں ، بن تیرے رہتا نہیں

کامیاب عاشق
او کہندی اے سیّاں میں تیری آں ۔۔۔

ناکام عاشق
ان سے نین ملا کے دیکھو
یہ دھوکہ بھی کھا کے دیکھو

چالاک عاشق
بس بھئی بس زیادہ بات نہیں میم صاب
آج کے بعد ملاقات نہیں میم صاب

مجبور عاشق
اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے
مجبور ہیں اف اللہ چپ رہ بھی نہیں سکتے

بزدل عاشق
میں تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا ۔۔۔۔

عزت دار عاشق
تیری رسوائیوں سے ڈرتا ہوں
جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں

پردیسی عاشق
آئے موسم رنگیلے سہانے ، جیا نہیں مانے
تو چھٹی لے کے آ جا بالما ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناراض عاشق
روٹھے ہو تم ،تم کو کیسے مناؤں پیاء

بوڑھا عاشق
جواں ہے محبت حسیں ہے زمانہ
لٹایا ہے دل نے خوشی کا خزانہ
بیوی بلوغت کی انٹرنیشنل ڈگری ہے۔ اسے سنبھال کر رکھنا ہر شوہر کے فرائض میں شامل ہے ۔ بیوی نئی ہو تو کہیں اور دل نہیں لگتا اور پرانی ہوجائے تو بیوی میں دل نہیں لگتا۔  بیوی شروع شروع میں آپ کے تمام کام کرتی ہے بعدازاں کام تمام کرتی ہے ۔ باپردہ بیوی وہ ہوتی ہے جو شوہر کا دیگر تمام عورتوں سے پردہ کروادے۔ مرد کو اپنی برائی اور کمزوری کا احساس بیوی کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ بیوی آغاز میں محبت دیتی ہے اور انجامِ کار بچے۔ تفصیل سے پڑھئے
عبدالعزیز بن سعود نے 1932ء میں آج کے سعودی عرب کی بنیاد رکھتے ہوئے خود کو بادشاہ قرار دیا۔
سعودی عرب کے بانی عبدالعزیز بن سعود کی بائیس بیویاں تھیں۔ ان میں سے ستّرہ بیویوں کے ہاں پینتالیس بیٹے پیدا ہوئے۔ اب السعود کے شاہی خاندان کے شہزادوں کی تعداد سات ہزار سے بھی زائد ہو چکی ہے۔ آل سعود ہی نے تیل کی دولت سے مالا مال اس خلیجی ملک کو سعودی عرب کا نام دیا۔ سعودی عرب کے حکمران خاندان کے شہزادوں اور شہزادیوں کے پاس دولت کی کمی نہیں ہے۔ وفات پا جانے والے شاہ عبداللہ کا تعلق بھی السعود خاندان سے تھا۔ السعود خاندان کا تعلق اٹھارویں صدی میں جزیرہ نما عرب کے ایک مقامی شیخ سعود بن محمد سے ملتا ہے۔ سعودی عرب دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کا نام دو صدیاں پہلے پیدا ہونے والے مقامی حکمران پر رکھا گیا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
موجودہ دور میں پان کا استعمال ایک نشے کے طور پر کیا جاتا ہے۔ بھارت میں حیدرآباد، دکن ، دہلی میں اور پاکستان میں کراچی، حیدرآباد ، لاہور میں پان کا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں موجود تمباکو اور چھالیہ یا سپاری گلے کے کینسر کا موجب بنتا ہے۔ پان میں جن اشیاء کا استعمال کیا جاتا ہے اس میں چونا، کتھا، سونف، گلقند، کٹا ہوا چھالیہ اور تمباکو شامل ہیں۔ ، پان کو ایک پودے کے سبز پتے میں لپیٹ کر دیا جاتا ہے جسے گلوری کہتے ہیں۔ اس کو منہ میں چبا کر کھایا جاتا ہے اس کے چبانے سے ایک سرخ رنگ کا لعاب بنتا ہے جسےتھوکتے رہتے ہیں جو ماحول میں گندگی کا باعث بھی بنتا ہے۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
19 دسمبر عالم اسلام کے عظیم فلسفی "امام غزالی" کا یومِ وصال ہے۔ امام ابو حامد محمد بن احمد الغزالی بلاشبہ پانچویں صدی ہجری کے مجدد ہیں۔ آپ کی پیدائش خراسان کے شہر طابران 1059ء میں ہوئی ۔آپ کی کنیت ابو حامد تھی ،آپ کے خاندان میں سوت اور دھاگے کا کام ہوتا تھا اسی لئے آپ کو غزّالی کہتے ہیں ۔ امام غزالی ابھی پندرہ سال کے تھے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا ،اس وقت آپ کے چھوٹے بھائی احمد غزالی 12، 13 سال کے تھے ۔والد کے انتقال کے بعد ان دونوں حضرات کی تعلیم وتربیت اور پرورش وپرداخت کی ذمہ داری والدِ ماجد علیہ الرحمہ کی وصیت کے مطابق ان کے ایک صوفی دوست ابو حامد احمد بن محمد زاز کانی نے نبھائی اوران حضرات کی تعلیم وتربیت پر اپنا پیسہ بھی صرف کیا ۔ تفصیل سے پڑھئے

انجیر ایک چھوٹا سا خشک میوہ ہے۔جس کے بے شمار فوائد اور متعدد خواص ہیں۔شیریں لذیذ اور اشتہا آور ہوتی ہے اپنی تاثیر میں انجیر گرم تر ہے۔ انجیر کے میٹھے چھال کے اندر چھوٹے چھوٹے سینکڑوں موتیوں جیسے دانے ہوتے ہیں کہا جاتا ہے کہ اگر انجیر کو خوب چبا چبا کر اور ایک ایک دانے کو پیس پیس کر کھائیں تو ہر دانے کی اپنی خوشبو ،لذت اور ٹوٹنے کی الگ الگ آواز ہوتی ہے۔اس اعتبار سے انجیر کا کھانا ایک نہایت دلچسپ اور محسوس کرنے والا عمل بھی ہے .
پھگوڑی انجیر کو بنگالی میں آنجیر، عربی میں تین، انگلش میں Fig، یمنی میں بلس، سنسکرت، ہندی، مرہٹی، گجراتی میں انجیر اور پنجابی میں ہنجیر کہتے ہیں اس کا نباتاتی نام فیکس کیریکا Fixcus Carica ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

ان صاحب کے ہاتھوں میں ایک عدد لینڈ سکیپ ہے۔غور سے دیکھیں یہ تصویر آپ نے کہاں دیکھی ہے۔میرے خیال میں آپ کو زیادہ سوچنا نہیں پڑے گا۔یہ تصویر ونڈوز ایکس پی کا ڈیفالٹ بیک گراؤنڈ ہے۔ مائکروسافٹ نے اس تصویر کو بلس(Bliss) کا نام دیا ہے۔
یہ صاحب جن کا نام چک اورئیر ہے سینٹ ہیلنا کے رہائشی اور پیشہ ور فوٹو گرافر ہیں۔ان کے مطابق انہوں نے پوری زندگی میں کم و بیش پندرہ ہزار تصاویر کھینچی ہیں لیکن جو شہرت اس تصویر کو ملی ہے وہ کسی اور تصویر کے نصیب میں نہیں آسکی۔ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ یہ تصویر دنیا کے ہر کونے میں موجود ہے۔ یہ تصویر جنوری 1996 میں کھینچی گئی تھی جب وہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے علاقے وادئ ناپا میں 121 شاہراہ پر سفر کررہے تھے۔ یہ منظر انہیں اچھا لگا اور انہوں نے جھٹ اس کی تصویر بنا لی۔
چک او رئیر نے یہ نہیں بتایا کہ مائیکروسافٹ نے انہیں اس تصویر کے کتنے پیسے دیئے لیکن یہ ضرور ظاہر کیا کہ یہ بہت بڑی رقم تھی۔

اوبسورنے اول دنیا کا پہلا تجارتی لیپ ٹاپ ہے جو 3 اپریل 1981 کے دن جاری گیا تھا۔اسے لی فلنسٹائن نے ڈیزائن کیا تھا۔اس میں اپنے وقت کے مطابق دو بڑی خصوصیات تھیں۔
پہلی یہ کہ اپنے دور کے دوسرے کمپیوٹرز کی نسبت سستا تھا۔جب آئی بی ایم وغیرہ کئی ہزار ڈالر کی قیمت کے کمپیوٹر بیچ رہے تھے تو اوبسورنے محض 1795 ڈالر کا کمپیوٹر پیش کیا تھا اور دوسری خصوصیت تھی کہ اسے ایک جگہ سے
دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا تھا۔اگرچہ اس کاوزن آج کل کے لیپ ٹاپ کی نسبت بہت زیادہ تھا یعنی ساڑھے دس کلوگرام۔ لیکن ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جاسکتا تھا۔اس میں انٹل کا بنا ہوا 8088 پروسیسر تھا جو x86 پروسیسر سے پہلے کا تھا۔ساتھ اس میں 64 کلوبائٹ کی ریم تھی۔ؔ
ساڑھے پانچ انچ کی کیتھوڈ رے ٹیوب سے بنی سکرین اور سوا پانچ کی دو عدد فلاپی ڈرائیوز لگی تھیں۔اس زمانے میں پرسنل کمپیوٹرز میں ہارڈڈسک نہیں لگائی جاتی تھی بلکہ ایک فلاپی ڈسک ڈال کر آپریٹنگ سسٹم بوٹ کیا جاتا تھا اور دوسری فلاپی ڈسک سے اپلیکشن چلائی جاتی تھیں۔اس میں CP/M 2.2 آپریٹنگ سسٹم تھا۔
کمپنی کے مطابق اس کے گیارہ ہزار یونٹ فروخت ہوئے تھے جس سے کمپنی کو ایک ملین ڈالر سے زیادہ کی آمدن ہوئی تھی۔1983 میں اس کی پیداوار بند کردی گئی تھی۔
چینی صوبہ "جیانگ سو" چاول کی پیداوار کے لحاظ سے مشہور ہے۔لیکن اس صوبے کی ایک اور خاص بات یہاں دنیا کا طویل ترین پل ہے۔اس کا نام ڈیانگ کشنان(Danyang–Kunshan Grand Bridge) پل ہے۔
اس کی لمبائی 164.8 کلومیٹر ہے اور یہ شنگائی اور نانجنگ کے درمیان دریائے یانگٹز کےپر بنایا گیا ہے۔یہ ایک ریلوے پل ہے۔اس کا بہت سارا حصہ دریا کے ساتھ ساتھ ہے جبکہ دریا پر اس کی لمبائی 9 کلومیٹر ہے۔
یہ 2010 میں مکمل ہوا اور 2011 میں عوام کےلئے کھول دیا گیا اور اسی سال اسے گنیز بک ریکارڈ میں دنیا کے طویل ترین پل کے طور شامل کرلیا گیا۔10 ہزار افراد نے اس کی تعمیر میں حصہ لیا اور اس پر 5ء8 ارب ڈالر لاگت آئی ہے۔
زرد کوٹھی کا معرکہ بھی اپنی مثال آپ تھا....زرد کوٹھی مجاھدین کی ایک فارورڈ پوسٹ تھی......یہ مورچہ دہلی کے کشمیری دروازے سے نصف میل دور تھا.........پہلے یہ ڈاک بنگلہ ہوا کرتا تھا.....جنگ آزادی کے متوالوں نے ریت کی بوریاں لگا کر اسے مورچہ بنا دیا .......یہاں دو چھوٹی توپوں اور بیس بندوقوں کے علاوہ ....پانی کے گھڑے..برتن....خوراک ....منجی بستر سب موجود تھا..مجاھدین زرد کوٹھی سے فائرنگ کرکے انگریز فوج کو سارا دن پریشان رکھتے - ہر روز نماز مغرب اور فجر کے بعد ڈیوٹی تبدیل ہوتی...اور تازہ دم سپاہ یہاں پہنچ جاتی... تفصیل سے پڑھئے

قلعہء لاہور، جسے مقامی طور پر شاہی قلعہ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کے صوبہء پنجاب کے شہر لاہور میں واقع ہے۔ یہ قلعہ شہر کے شمال مغربی کونے پر واقع ہے۔ گو کہ اس قلعہ تاریخ زمانہء قدیم سے جا ملتی ہے لیکن اس کی ازسرِ تعمیر مغل بادشاہ اکبر اعظم (1605-1556) نے کروائی جبکہ اکبر کے بعد آنے والی نسلیں بھی تزئین و آرائش کرتی رہیں۔ لہذٰا یہ قلعہ مغلیہ فنِ تعمیر و روایت کا ایک نہایت ہی شاندار نمونہ نظر آتاہے۔ تفصیل سے پڑھئے
مائی ڈئیر تاج الدین،
سلامِ  محبت ،
تمھارا  اِملا کی غلطیوں سے بھرپور مراسلہ ملا،  جسے تم  بدقسمتی سے "محٌبت نامہ" کہتے ہو ۔
کوئی مسرت  نہیں ہوئی ۔
یہ خط بھی تمھارا پچھلے خطوط کی طرح بےترتیب اور بےڈھنگا تھا۔
اگر خود صحیح نہیں لکھ سکتے تو کسی سے لِکھوا لیا کرو۔
خط سے آدھی ملاقات ہوتی ہے اور تم سے یہ آدھی ملاقات بھی  اس قدر دردناک ہوتی ہے کہ بس!
اور ہاں.... یہ جو تم نے میری شان میں قصیدہ لکھا ہے ، یہ دراصل قصیدہ نہیں بلکہ ایک فلمی گانا ہے اور تمھارے
شاید علم  میں نہیں کہ فلم میں یہ گانا  ہیرو  اپنی ماں کے لئے گاتا ہے ۔
اور سُنو! پان کم کھایا کرو۔ خط میں جگہ جگہ پان کے دھبے صاف نظر آتے ھیں۔ اگر پان نہیں چھوڑ سکتے تو کم از کم خط لکھتے وقت تو ھاتھ دھوکے بیٹھا کرو۔
اور یہ جو تم نے ملاقات کی خواہش کا اظہار انتہائی احمقامہ  انداز میں کیا ھے۔
یوں  لگتا ہے کہ جیسے کوئی یتیم بچہ اپنی ظالم  سوتیلی ماں سے ٹوفی کی فرمائش کر رھا ھو، اس یقین کہ ساتھ کہ وہ اسے نہیں دےگی۔
ایک بات تم سے اور کہنی تھی کہ کم از کم اپنا نام تو صحیح لکھا کرو۔یہ "تاجو" کیا ھوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی قصائی یا دودھ والے کا نام ھو۔ مخخف لکھنا ہی  ہے تو صِرف "تاج" لِکھدو۔
آئندہ خط احتیاط سے لِکھنا۔ اُس میں کوئی غلطی نہیں ھونی چاہیے۔
آخر میں تم نے جو شعر لِکھا ہے.. وہ تو اب رکشہ والوں نے لکھنا بھی چھوڑ دیا ہے۔
Oh my God!
مجھے ڈر ہے کہ تم سے عشق کا یہ سلسلہ میری اردو خراب نہ کر دے۔
بس یہی کہنا تھا۔
فقط
تمھاری رضیہ
قصہ بہت مشہورہے۔ ممکن ہے کہ آپ نے کسی اور طریقے سے سُنا ہو۔ مگراب ہمارے طور طریقے ہی کچھ اتنے بگڑ چکے ہیں کہ سیدھی بات بھی سیدھے طریقے سے کرنے کے بجائے ’’وکھرے‘‘ طریقے سے کرتے ہیں۔سو، عینی شاہدوں کی اطلاع کے مطابق ایک روز معروف اورممتاز شاعر مرزا اسداﷲ خاں غالبؔ اپنے لیے کچھ ’’دوا، دارُو‘‘ لینے کو گھر سے باہر نکلے توکیادیکھتے ہیں کہ ’’رُوٹ لگا ہواہے‘‘۔ کسی اہم شخصیت کی سواری گزرنے کو ہے۔آگے جانے کا آرڈر نہیں ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
* پہلی قسم
آپ سنیما ہال میں بیٹھے ہیں۔ ڈبّہ کھول کر سگریٹ نکالتے ہیں۔ برابر کی سیٹ پر بیٹھا تماشائی مفت نوش ہے۔وہ آپ کے ڈبّے کو غور سے دیکھے گا اور کہے گا۔’’کیوں صاحب آپ یہ سگریٹ کہاں سے لیتے ہیں؟بلیک مارکیٹ سے؟‘‘
’’جی ہاں۔‘‘
’’اوہ جبھی۔۔۔ورنہ میں بہت تلاش کر چکا ،کہیں ملتا ہی نہیں۔ بہت اچھا سگریٹ ہے۔‘‘
’’شوق فرمائیے۔‘‘
’’شکریہ‘‘
انٹر ول کے بعد وہ خود آپ سے سگریٹ مانگے گا۔’’صاحب لطف آگیا۔ ناگوارِ خاطر نہ ہو تو ایک اور عنایت فرمائیے ۔‘‘ تفصیل سے پڑھئے
( گرگ آشتی ) ہم ایک ایسے پر فتن دور میں جی رھے ھیں جسے گرگ آشتی کہا جائے تو بے جا نہ ھوگا ۔ گرگ فارسی میں بھیڑئیے کو کہتے ھیں اور آشتی کا مطلب ھے صلح صفائی ، دوستی ۔ یعنی گرگ آشتی سے مراد ھے بھیڑیوں کی سی دوستی اور صلح صفائی ۔ یہ دوستی اور صلح صفائی کیسی ھوتی ھے کہ انسانوں نے اس پہ محاورے بنا ڈالے ۔یہ دیکھنے کے لئے آپ میرے ساتھ مولانا محمد حسین آزاد کو یاد کیجیے ۔کیا غضب کے انشا پرداز تھے ۔ کسقدر دلکش و مسجع مرفع اردو لکھا کرتے تھے کہ دوبارہ ان کا کوئی ثانی ابھی تک پیدا نہیں ھوا ۔ تفصیل سے پڑھئے
ایک رات اسے معلوم ہوا کہ شہزادہ ابوبکر شراب کے نشے میں دھت....گھروں میں لوٹ مار کر رہا ہے تو اسے گدی سے پکڑ بادشاہ کے پاس لے آیا...دوسرے شہزادوں کو بھی شہر میں خرمستیاں کرتے ہوئے پکڑا.......بہادر شاہ ظفر نے اپنے بچوں کے کرتوت دیکھ کر یہی کہا ہوگا.."سالے تن جمے...تنوں ای نکمے......"
چناچہ اسٹیبلشمنٹ خم ٹھونک کر بخت خان کے مقابل آگئ...اسے انگریز کا جاسوس کہا گیا.....اس کی گورنری کا عہدہ دربار میں چیلینج ہوا...ساتھ ہی.....شہزادہ مغل بخت نے فوج کو بخت خان کے خلاف بھڑکانا شروع کردیا. تفصیل سے پڑھئے
محترمہ فاطمہ جناح بانی پاکستان محمد علی جناح کی نہ صرف خیال رکھنے والی مشفق بہن بھی تھیں بلکہ وہ جناح صاحب کی سیاسی شریک کار بھی تھیں۔ جناح صاحب کی وفات کے بعد لوگ انہیں اسی قدر منزلت سے دیکھتے تھے جس طرح جناح صاحب کو۔ لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جناح صاحب کی وفات کے بعد انہیں سیاست سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔  تفصیل سے پڑھئے
بادام اور آلو میں زہرہوسکتا ہے آپ میری اس پوسٹ سے چونک جائیں۔کہ آلو اور بادام تو ہم بڑے شوق سے کھاتے ہیں ۔ تو اس میں زہر کہاں سے آگیا ۔ لیکن یہ ایک حقیقت کہ بہت سی غذاؤں میں سے چند ایسی بھی ہوتی ہیں جو کسی حد تک انسانی صحت کے لیے مضر بھی ہوتی ہیں- درحقیقت ان غذاؤں کے بعض حصے اپنے اندر زہریلی قوت رکھتے ہیں۔
جیسے آلو۔۔ آلو ایک ایسی غذا ہے جو ہمارے گھروں میں عام کھائی جاتی ہے لیکن کیا کبھی آپ نے یہ سنا ہے کہ آلو میں بھی زہر ہوتا ہے؟- تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
قضاء نمازوں کو پڑهنے کا طریقه وهی هے جو ادا نمازورں کا هے.
صرف نیت میں " قضاء " نماز کا خیال کرنا هوگا اگر قضاء نمازیں بهت زیاده هیں اور ان کی تعداد بهی معلوم نهیں هے تو اس کا بهتر طریقه یه هے که ایک تعداد اندازے سے مقر ر کرلیں مثلا:
کسی نے دو سال سے نمازیں قضاء کی هو یا جس عمر سے نماز فرض هوئی هے اندازے سے معلوم کرے که اتنے سالوں سے نمازوں کی ادائیگی میں کوتاهی کی هے .
پهر هر وقتی نماز کے ساته ایک یا جتنے هوسکے قضاء نماز بهی اس کے ساته پڑهتے رهیں.
اور هر نماز کی قضاء کرتے وقت یه نیت کرلیں که اس وقت کی مثلا ظهر کی جتنی نمازیں آپ کے ذمه هیں ان میں سے پهلی قضاء پڑهتا هوں یعنی دل میں اراده کرے که ان قضاء نمازوں میں جو پهلی هے وه قضاء کر رهی هو.
اسی طرح دوباره جب قضاء پڑهیں تو پهر اس وقت کی قضاء نماز مثلا ، عصر ، فجر یا جو بهی هو وه که کر اس وقت کی جتنی نمازیں میرے ذمه هیں ان میں سے پهلی قضاء پڑه رهی هوں.
------------------------------------------------------
جتنی رکعتیں اصل ادا نماز کی هیں اتنی هی رکعتیں قضاء نماز کی پڑهنی هے .
فرض نماز کے علاوه ، نماز وتر واجب هے اس کی بهی قضاء پڑهنی ضروری هے.
سنتوں کی قضاء نهیں ........... صرف نماز فجر کی سنتیں اسی دن میں اشراق کا وقت شروع هونے سے لے کر اسی دن کے زوال تک قضاء پڑه سکتے هیں اس دن میں زوال کے بعد وه بهی نهیں هے.
-----------------------------------------------------
قضاء نماز هر وقت ادا کرسکتے هیں صرف تین مکروه اوقات کے علاوه باقی جس دن جس وقت چاهے ادا کرسکتے هیں.
1__ سورج طلوع هونے کے وقت.
2__ عین زوال کے وقت جب سورج بالکل اوپر هو.
3__ سورج کے غروب هونے کے وقت .
__________________________________________________
* شرح التنویر: ج2 ص76،77 ،66 __ فتاوی عالمگیری: ج1 ص131 *
حضرت انس بن مالک رضی الله عنه کی روایت هے که فرمایا رسول الله صلی الله علیه وسلم نے:
( من نسی صلاته او نام عنها فکفارتها ان یصلیها اذا ذکرها .... صحیح مسلم: ج1 ص411 )
جو شخص نماز ادا کرنا بهول گیا یا سوگیا تو اس کا کفاره یه هے که یاد آنےپر نماز قضا کرلے.
ایک روایت میں آپ صلی الله علیه وسلم کا یه ارشاد مروی هے.
( اذا رقد احدکم عن الصلوته او غفل عنها فلیصلها اذا ذکرها فان الله یقول ، اوقم الصلوته لذکری..... سوره طه 14 )
اگر تم میں سے کوئی آدمی سوگیا یا نماز ادا کرنا بهول گیا تو یاد آنے پر قضا کر لے کیونکه الله تعالی کا فرمان هے " اور میرے ذکر کے لئے نماز قائم کرو "
لا کفارته لها ، الا ذلک واقم الصلاته لذکری ....... نهیں کفاره هے مگر یهی ، پهر راوی نے دلیل کے طور پر آیت اقم الصلوته لذکری پڑهی.
( صحیح بخاری شریف ، باب من نسی صلوته فلیصل اذا ذکر ص84 نمبر 597 )
ابوداود شریف ، باب فی من نام عن صلوته او نسیها ص70نمبر 435 )
اس حدیث اور آیت سے معلوم هوا که فوت شده نماز پڑهنا فرضا هے.

گستاخِ رسولؐ "ابی بن خلف" حضورﷺ کے ہاتھوں ۳ ہجری میں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "بشر منافق" حضرت عمرؓ کے ہاتھوں۳ ہجری میں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "اروہ)ابو لہب کی بیوی(" کا فرشتے نے گلا گھونٹ دیا۔
گستاخِ رسولؐ "ابو جہل" دو ننھے مجاہدوں معاذؓ و معوذؓ کے ہاتھوں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "امیہ بن خلف" حضرت بلالؓ کے ہاتھوں ۲ہجری میں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "نصر بن حارث" حضرت علیؓ کے ہاتھوں۲ ہجری میں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "عصما)یہودی عورت(" ۱ نابینا صحابی حضرت عمیر بن عدیؓ کے ہاتھوں ۲ ہجری میں قتل ہوئی
گستاخِ رسولؐ "ابو عفک" حضرت سالم بن عمرؓ کے ہاتھوں ۳ ہجری میں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "کعب بن اشرف" حضرت ابو نائلہؓ کے ہاتھوں ۳ ہجری میں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "ابورافع" حضرت عبداللہ ؓ کے ہاتھوں ۳ ہجری میں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "ابوعزہ جمع" حضرت عاصم بن ثابتؓ کے ہاتھوں ۳ ہجری میں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "حارث بن طلال " حضرت علیؓ کے ہاتھوں ۸ ہجری میں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "عقبہ بن ابی معیط" حضرت علیؓ کے ہاتھوں۲ ہجری میں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "ابن خطل" حضرت ابو برزہ ؓ کے ہاتھوں ۸ ہجری میں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "حویرث نقید" حضرت علی ؓ کے ہاتھوں ۸ ہجری میں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "قریبہ )گستاخ باندی(" فتح مکہ کے موقع پر قتل ہوئی۔
۱ گستاخ شخص )نام معلوم نہیں( خلیفہ ہادی نے قتل کروا دیا۔
گستاخِ رسولؐ " ریجی فالڈ )عیسائی گورنر(" سلطان صلاح الدین ایوبی رح کے ہاتھوں قتل ہوا۔
"یولو جیئس پادری" فرزند ابو عبدالرحمن اندلس کے ہاتھوں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "راجپال" غازی علم دین شہید رح کے ہاتھوں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "نتھورام" غازی عبدالقیوم شہید رح کے ہاتھوں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "ڈاکٹر رام گوپال" غازی مرید حسین شہید رح کے ہاتھوں ۱۹۳۶ میں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "چرن داس" میاں محمد شہید رح کے ہاتھوں ۱۹۳۷ قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "شردھا نند" غازی قاضی عبدالرشید رح کے ہاتھوں ۱۹۲۶ میں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "چنچل سنگھ" صوفی عبداللہ شہید رح کے ہاتھوں ۱۹۳۸میں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "میجر ہردیال سنگھ" بابو معراج دین شہید رح کے ہاتھوں ۱۹۴۲ میں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "عبدالحق قادیانی" حاجی محمد مانک رح کے ہاتھوں ۱۹۶۷ میں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "بھوشن عرف بھوشو" بابا عبد المنان کے ہاتھوں ۱۹۳۷ میں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "چوہدری کھیم چند" منظور حسین شہید رح کے ہاتھوں ۱۹۴۱ میں قتل ہوا۔
گستاخِ رسولؐ "نینو مہاراج" عبد الخالق قریشی کے ہاتھوں ۱۹۴۶ میں ہاتھوں قتل ہوا۔
"لیکھرام آریہ سماجی" کسی نامعلوم مسلمان کے ہاتھو قتل ہوا
گستاخِ رسولۘ "ویر بھان" بھی کسی نامعلوم مسلمان کے ہاتھوں ۱۹۳۵ میں قتل ہوا
1۔ شریکِ حیات کے لیے زیبائش اِختیار کیجیے:
اپنی شریکِ حیات کے لیے خُوبصورت لباس زیبِ تن کیجیے،خُوشبو لگائیے۔ آپ آخری بار اپنی بیوی کے لیے کب بنے سنورے تھے؟؟  جیسے مرد چاہتے ہیں کہ اُن کی بیویاں اُن کے لیے زیبائش اِختیار کریں،اسی طرح خواتین بھی یہ خواہش رکھتی ہیں کہ اُن کے شوہر بھی اُن کے لیے زیبائش اختیار کریں۔ یاد رکھیے کہ اللہ کے رسولﷺ گھر لوٹتے وقت مسواک استعمال کرتے اور ہمیشہ اچھی خُوشبو پسند فرماتے۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
آج اکیسویں صدی کی مساجد میں مینار کی تعمیرنے ایک لازم شکل اختیارکرلی ہے۔بہت کم ایساہوتاہے کہ مسجد بغیر مینار کے تعمیرکی گئی ہو۔کسی بھی شہرکے منظرنامے میں مینار ہی ایک ایساعنصر ہے جو مسلمانوں کی موجودگی کامظہر ہے۔جب اسلامی تعمیرات کا سلسلہ شروع ہواتو اس وقت دنیاکے بہت بڑے خطے پر اسلام پھیل چکا تھا،مگر بہت عرصہ بعد اسلامی عمارات کے خدوخال واضح ہوناشروع ہوئے۔ابتدائی دہائیوں میں تعمیراتی سازوسامان اورماہرین چونکہ وہی تھے‘جو قبل از اسلام عمارت سازی کے فن سے وابستہ تھے‘ اس لئے عمارات میں کوئی واضح امتیاز نظرنہیں آتا،مگر بعد ازاں تعمیر کے فن نے اتنی ترقی کی کہ مسلم عمارات میں تزئین وآرائش کا ایک اسلامی تشخص ابھرکر سامنے آیا۔ اسلام سے قبل بازنطینی تہذیب اورتعمیرات اپنے پورے عروج پرتھیں اورمربع مینارجو کہ لائٹ ہائوس کے طور پر استعمال ہوتے تھے‘ان کی تعمیر کی ایک قدیم روایت موجودتھی۔یہ اسکندریہ کے فرعونوں کے مینار تھے، جن کی چوٹی پر روشنی کا اہتمام کیاجاتاتھا۔سمندری سفرمیں سمتوں کے تعین کے لئے بھی ان اونچے میناروں سے مددلی جاتی تھی۔اسلام کے آغاز میں اذان کا کو ئی تصورموجودنہیں تھا۔یہ ہجرت مدینہ کے بعدکی بات ہے۔ایک روز رسول اکرم ﷺاصحابؓ کے ساتھ تشریف فرماتھے جب یہ معاملہ زیر بحث تھا۔رابرٹ ہیلن برانڈ نے اپنی کتاب(Islamic Architecture)مطبوعہ 1994ء میں لکھاہے کہ اصحاب رسولؐ مختلف تجاویزپیش کررہے تھے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا ’’کیوں نہ ایک شخص کواذان کے لئے مقرر کردیاجائے ’’حضورپاک ﷺنے فرمایا ’’اٹھوبلال !اورلوگوں کو نماز کے لئے بلائو‘‘۔ ڈوگن کو بان نے اپنی کتاب(Muslim Religious Architecture)مطبوعہ 1974ء میں مسجد میں مینار کے تعارف کے بارے میں تفصیل سے لکھاہے ’’حضور ؐکی حیات ِطیبہ کے دوران موذن چھت یا چبوترہ پر کھڑاہوکراذان دیتاتھا۔چاروں خلفائے راشدین کے زمانے میں بھی اذان کے لئے باقاعدہ مینار کا تصور موجود نہ تھا۔ہندوستان‘ایران اورانطولیہ میں چودہویں ا ورپندرھویں صدی تک بھی چھوٹی مساجد میں اذان کے لئے مینارکی لازمی تعمیر کی روایت نہیں ملتی‘‘۔(مینار کے ارتقاء کے تین مراحل،از: جارج مائیکل) امجد بہومل پروچیزکا نے اپنی کتاب (Mosques) مطبوعہ 1986ء میں مساجد میں مینارکے اولین تعارف کے بارے میںلکھاہے۔ ’’جیساکہ ہمیں بالادھوری (al-Baladhori)نے بتایاکہ بصرہ کے گورنر زیاد نے کچی اینٹوں کی ایک مسجد میںپتھر کا مینار 665-666عیسوی میں تعمیر کیا۔آج اس کے بارے میں مستند معلومات موجود نہیں ہیں کہ وہ کیسانظر آتاتھا تاہم حضرت معاویہؓکے حکم کے تحت مسیلمہ نے فسطاط (قاہرہ)میں پہلے سے موجود مسجد عمر کی تعمیرنو(671-73)کے موقع پرچارعدد مینار تعمیر کئے۔مصر (Egypt)میں مساجد میں تعمیر کئے جانے والے میناروں میں یہ میناراولین حیثیت کے حامل قرارپائے ہیں۔ان میناروں کی چوٹی تک رسائی کے لئے بیرونی سیڑھیاں تعمیرکی گئی تھیں۔ الغرض کم وبیش تمام مصنفین نے ان اولین میناروں کے لئے خصوصاً’’Sawama‘‘جس کی جمع صوامی (Sawami)ہے ‘کالفظ استعمال کیاہے۔ صوما کالفظ قبل از اسلام مصری گرجاگھروں میں’’مقدس چاردیواری‘‘ (Sacred Enclosure) کے لئے رائج تھا۔ کریسویل (Creswel)سے پہلے کا مصنف گوٹ ہیل(Gotthiel)اس سے متفق نہیں ہے وہ لکھتاہے کہ ’’ صوما کیاہے؟ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے‘‘تاہم اس کے بارے میں کافی لوگ متفق ہیں کہ ’’صوما‘‘اس وقت گرجا گھروں کے مربع میناروں کے لئے استعمال ہوتاتھا جو ابتدائی مصری میناروں کیلئے ایک ماڈل کی حیثیت اختیار کرگیا۔کریسویل کاخیال ہے ’’چونکہ احکامات دمشق سے آئے تھے اس لئے ان میناروں کی تشکیل مربع صورت میں ہی ہوئی‘‘۔(پلان جامع مسجد ابن طولون قاہرہ،از: رابرٹ ہیلن برانڈ) (ڈاکٹر غافر شہزاد کی کتاب ’’ لاہور کے مینار‘‘ سے ماخوذ)
میں نے کچھ لوگوں سے سنا ہے کہ لوگ ہیلو کہنے سے اس لئے منع کرتے ہیں کہ وہ "Hell" اور" O" کو دو معنوں میں لیتے ہیں اور اس کا ترجمہ ۔ اوئے جہنمی کرتے ہیں۔ العیاذ بااللہ۔ لیکن یہ بالکل غلط تشریح ہے۔ ہاں بحثیت مسلمان ہمیں ہمیشہ ٹیلی فون سنتے ہوئے السلام علیکم ہی کہنا چاہئے۔ کہ یہ ایک اچھی دعاہے اور سنت رسولﷺ بھی۔
لیکن ہیلو کا مطلب اوئے جہنمی نہیں۔ آئیے میرے پیج کے دوستوں کو بتاتے ہیں کہ یہ لفظ آخر کیسے بنا۔
آج دنیا بھر میں لوگ ٹیلی فونی گفتگو کا آغاز لفظ ہیلو سے کرتے ہیں۔جس طرح ایک جسم میں خلئیے (cells) بنتے اور مٹتے رہتے ہیں اسی طرح ایک زندہ زبان میں بھی الفاظ بنتے بگڑتے اور متروک ہوتے رہتے ہیں۔
زندہ زبان سے مراد وہ زبان ہے جسے لوگ ترسیلِ خیالات کے لئے استعمال کرتے ہیں جبکہ مردہ زبانیں وہ ہیں جن کا عملی استعمال اب ختم ہو چکا ہے اور لوگ تحریر و تقریر کے لئے اب انہیں استعمال نہیں کرتے مثلا سنسکرت اور لاطینی یہ دونوں زبانیں ماضی میں علم و ادب کی زبانیں تھیں اور قدیم علوم کے بہت سے اہم ذخائر انہی زبانوں میں محفوظ ہیں۔
یورپ کی زندہ زبانوں میں بہت سے ایسے الفاظ ہیں جن کی جڑیں ہمیں لاطینی یا قدیم یونانی زبانوں میں ملتی ہیں۔ ہر زندہ زبان جہاں قدیم زبانوں سے رس حاصل کرتی ہے وہیں اپنے آس پاس کی زبانوں سے بھی متاثر ہوتی ہےمثلا اُردو میں اگر قدیم مقامی زبانوں اور سنسکرت کے الفاظ کا سراغ ملتا ہے تو بعد میں اس نے فارسی اور عربی سے بھی استفادہ کیا ہےاور آج کی پاکستانی اُردو میں پنجابی اور دیگر مقامی زبانوں کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔
انگریزی بھی ایک زندہ زبان ہے۔ اسکا علمی اور ادبی ذخیرہ الفاظ اگرچہ یورپ کی کلاسیکی زبانوں سے آیا ہے لیکن دنیا بھر پر انگریزوں کی حکومت کے باعث انگریزی کو دنیا کی مختلف زبانوں سے واسطہ پڑتا رہا اور اور یوں کئی زبانوں کے الفاظ انگریزی میں شامل ہوتے رہے۔
کیا آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ آج کل انگریزی کا سب سے زیادہ بولا جانے والا لفظ کونسا ہے؟
’Hello‘
جی ہاں۔ ہیلو دنیا کا سب سے زیادہ بولا جانے والا لفظ ہے۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ قدیم فرانسیسی لفظ ’Hola‘ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے ’کیسے ہو‘ اور یہ فرانسیسی لفظ غالباً 1066 عیسوی کے نارمن حملے کے وقت انگلستان پہنچا تھا۔
لیکن دو تین صدیوں میں اس لفظ کی صورت خاصی تبدیل ہو گئی ہے اور انگریز شاعر چاسر کے زمانے تک یعنی 1300 کے بعد یہ لفظ Hallow کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ مزید دو سو سال گزرنے پر یعنی شیکپیر کے زمانے میں یہ لفظ Halloo کی صورت میں ڈھل گیا۔ اور شکاریوں اور ملاحوں کے ہتھے چڑھا تو اِس لفظ کی بہت سی شکلیں نمودار ہوئیں مثلاً Halloa, hallooa, hollo
سن 1800 تک اِس لفظ کی ایک خاص شکل متعین ہو چکی تھی اور وہ تھیHullo
کچھ عرصے کے بعد جب ٹیلی فون ایجاد ہوگیا تو اِس لفظ کو نئی زندگی ملی۔ شروع شروع میں جب اِس آلے کی کارکردگی مشکوک تھی تو ہیلو کہنے کی بجائے لوگ پوچھا کرتے تھے ?Are you there
لیکن معروف امریکی موجد تھامس ایڈسن کو اتنا لمبا جملہ پسند نہ تھا۔ اُس نے جب پہلی مرتبہ فون کیا تو اُسے یقین تھا کہ دوسری جانب اُس کی آواز پہنچ رہی ہے چناچہ اُس نے صرف اتنا کہا Hello
وہ دن اور آج کا دن ــ دنیا بھر میں ہم ٹیلی فونی گفتگو کا آغاز اسی لفظ سے کرتے ہیں۔
تو اس لفظ کا اصل ماخذ فرانسیسی لفظ ہے جس کے معنی ہیں ۔ کیسے ہو۔ نہ کہ "اوئے جہنمی"
بشکریہ دلچسپ معلومات پیج
ہم ۔ میک اور پی سی اور ایپل کی دیگر مصنوعات دونوں استعمال کرتے ہیں۔ ایپل کی مصنوعات جیسے میک ۔ آئی بک۔ آئی پیڈ۔ آئی فون وغیرہ پہ تو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا کہ جیسے ۔ .exe فائلز اور دیگر بہت مختلف فائلز۔ اپیل کی مصنوعات میں انسٹال نہیں ہوتیں ۔ ایپل کا اپنا طریقہ کار اور ایپس انسٹالیشن کا معاملہ مختلف ہے۔اور اگر آپ نے ایپیل کی مصنوعات کو " جیل بریک" نہیں کر رکھا تو پھر تقریبا ناممکن ہے کہ کوئی مسئلہ ہو ۔
مگر پی سی یعنی کمپیوٹرز اور ایڈرائیڈ یوزرز کو احتیاط برتنی چاہئیے۔
exe. فائلز یا اس اسطرح کی دیگر پروگرامز فائلز کو اگر آپ اجازت دے دیں گے تو آپ کے کمپیوٹرز کے حفاظتی فلٹرز ۔(آنٹی وائرس۔ فائر والز، اور دیگر بہت سے حفاظتی فلٹرز) نقصان دہ پروگرامز کو انسٹال کر دیں گے۔ ممکن ہے کہ آپ کے کمپیوٹر کے حفاظتی فلٹرز آپ کو وارننگ جاری کریں اور نہ بھی کریں۔ تو ایک دفعہ اسطرح کے پروگرامز انسٹال ہو کر درد سر بن جاتے ہیں ۔
دنیا میں کوئی ایسا سپائی وائر۔ یا نقصان دہ (وائرس۔ ٹروجنز وغیرہ) یا مفتے کی تشہیر کرنے والے پروگرام نہیں ہوتا جسے کامیابی سے کمپیوٹر سے نکال باہر نہ کیا جاسکتا ہو۔ لیکن بعض اوقات ان کا پتہ نہیں چلتا یا جیب پتہ چلتا ہے تو بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے اور یہ بہت نقصان پہنچا چکے ہوتے ہیں۔ اور انہیں ریموو کرنے کی سردردی الگ سے ہوتی ہے۔
احتیاطیں۔ اور حفاظتی تدابیر بہت سی ہیں۔ مگر چند ایک لازمی کریں۔
۱-: اپنی انتہائی نجی اور ذاتی ۔ بنکاری۔ کاروباری معلومات ممکنہ حد تک انٹر نیٹ پہ نامعلوم لوگوں سے کبھی بھی کسی سے شیئر نہ کریں۔ انتہائی نجی ۔ ذاتی۔ بنکاری سے متعلقہ ۔ اور کاروباری معلومات اپنے کمپیوٹر پہ محفوظ کرنے سے گریز کریں۔ اگر کسی ناگزیر وجہ سے کمپیوٹر یا انٹرنیٹ پہ اسطرح کی معلومات اپ لوؤڈ کرنی پڑ جائیں تو ہمیشہ پہلے انھیں اپنے کسی مخصوص خفیہ کوڈز میں میں کنورٹ کر لیں۔
۲-: کوئی بھی پروگرام۔ مووی۔ تصویر یا کچھ اسطرح کی وہ ویب سائٹس جن سے آپ کے کمپیوٹرز کے حفاظتی فلٹرز آپ کو کھولنے سے روکیں۔ وہ مت کھولیں۔
۳-: مشکوک اور نامعلوم ای میلز کو کھولنے سے گریز کریں۔ مسیسینجرز یا کسی دوسرے طریقے سے بھیجنے گئے نامعلوم یا مشکوک افراد کی طرف سے بھیجے جانے والے لنکس کو مت کھولیں۔ ان پہ کلک مت کریں۔
۴-: پروگرامز کو اپ ڈیٹ کرتے وقت یا انسٹال کرتے وقت منظور کرنے یا نہ کرنے کی آپشن سے قبل اس کی شرائط ضرور پڑھیں۔ اگر معاملہ مشکوک ہو تو نامنظور کردیں۔
۵-: یو ایس بی ۔ پین ڈرائیزو ۔ میموری کارڈز۔ سی ڈی ۔ ایکسٹرنل ہارڈ ڈسک۔ اسطرح کی دیر اشئیاء اگر معتبر حوالے کے بغیر آپ کو دے تو اسے اپنے پی سی یا ائنڈرایڈز ٹیبلٹس سے مت آپریٹ کریں۔ اور انہیں اپنے کمپیوٹر سے مت لگائیں۔ نہ ایسا کرنے کی کسی اور کو اجازت دیں کہ وہ اپنی ڈوائیسز یا سی ڈی کو آپ کے کمپیوٹر پہ استعمال میں لائے۔
۶-: اپنے معتبر حوالے سے خریدے گئے آنٹی وائرس۔ آنٹی سپائی وائرز اور فائر وال یا جو بھی آپ کو دستیاب ہو اسے ہمیشہ انٹرنیٹ سے "اپ ڈیٹ " رکھیں۔
۷-: اس کے باوجود آپ کے کمپیوٹر کو کبھی مسئلہ ہو جائے۔ تو گھبرائیں نہیں۔ اگر آپ مسئلے کو حل نہیں کر سکتے تو فوری طور پہ کسی معتبر ماہر کی خدمات حاصل کریں۔
میں ‌نے سوال کیا “آپ کافی کیوں ‌پیتے ہیں ؟”
انھوں نے جواب دیا “آپ کیوں نہیں پیتے ؟”
“مجھے اس میں سگار کی سی بو آتی ہے۔ “
“اگر آپ کا اشارہ اس کی سوندھی سوندھی خوشبو کی طرف ہے تو یہ آپ کی قوتِ شامہ کی کوتاہی ہے۔ “
گو کہ ان کا اشارہ صریحاً میری ناک کی طرف تھا، تاہم رفعِ شر کی خاطر میں ‌نے کہا
“تھوڑی دیر کے لیے یہ مان لیتا ہوں کہ کافی میں سے واقعی بھینی بھینی خوشبو آتی ہے۔ مگر یہ کہاں کی منطق ہے کہ جو چیز ناک کو پسند ہو وہ حلق میں انڈیل لی جائے۔ اگر ایسا ہی ہے تو کافی کا عطر کیوں نہ کشید کیا جائے تاکہ ادبی محفلوں میں ایک دوسرے کے لگایا کریں۔ “- تفصیل سے پڑھئے
مسلم امہ کی چودہ سو سالہ تاریخ میں دینی مدرسے کا تصور سب سے پہلے برصغیر میں انگریز گورنر جنرل وارن ہیسٹنگز نے 1781 میں کلکتہ مدرسہ کھول کر پیدا کیا۔ اس سے قبل بغداد کے دارالحکومت سے شروع ہونے والی مدارس کی تحریک جو 1100 سے 1500 تک طلیطلہ کے تراجم کی انتھک کوششوں سے ہم آہنگ ہو کر دنیا بھر کے علوم کی قائد بنی، اس کے زیر اثر قائم ہونے والے تمام مدارس علم میں کوئی تحصیص نہیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک سید الانبیاء ﷺ کی حدیث کے مصداق علم مومن کا گمشدہ مال تھا۔ تفصیل سے پڑھئے
اس کی تاریخ کے بارے میں اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن اس کے لذیذ ہونے پر کسی کو اختلاف نہیں- travelmultan.blogspot.com
کسی کے سامنے دو الفاظ 'ملتان' اور 'سردی' بولے جائیں تو تیسرا لفظ سننے والے کی زبان سے خود بہ خود ادا ہو جائے گا اور وہ ہے ۔۔۔ سوہن حلوہ۔ اگر آم گرمیوں کا تحفہ ہے تو سوہن حلوہ سردیوں کی سوغات ہے۔ کوئی بھی رت ہو اہل ملتان اپنے عزیز و اقارب اور دوست احباب کو نہیں بھولتے۔ اخلاص، محبت، دوستی اور تعلق کے اظہار کا جو سلیقہ اور طریقہ ملتانیوں کے ہاں مروج ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سردیاں شروع ہوتے ہی ملتانی اپنے ان عزیز و اقارب اور دوستوں کی فہرستیں بنانا شروع کر دیتے ہیں جن میں انہوں نے یہ میٹھی سوغات بانٹنی ہوتی ہے۔ زیادہ اہمیت کے حامل وہ دوست احباب اور رشتہ دار ہوتے ہیں جو ملتان سے باہر کسی شہر یا ملک میں قیام پذیر ہوں۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ڈنر پر جانے کا فائدہ ہی کیا اگر میں ویٹر کے Fajita یا Lasagna کی ادائیگی پر نہ ہنسوں؟ پاکستان میں لوگ ہمیشہ ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ طرح طرح کے گروپس، طرح طرح کی آراء، اور طرح طرح کے پس منظر۔ لیکن مجھے خوشی ہے کہ ایسے ماحول میں بھی ہمارے پاس ایک ایسا ٹھوس معیار ہے جس سے ہم اچھے اور برے کی پہچان کرسکتے ہیں۔ اور یہ معیار ہے 'انگلش'۔ تفصیل سے پڑھئے
جعلی نوٹوں کی کرنسی کی گردش کے دوران موجودگی ایک اکائی کا معمولی جزو ہوسکتا ہے تاہم اس وقت کیا ہو جب ایک نوٹ آپ کے پاس ہو؟ کس طرح آپ ایک جعلی نوٹ کو آگے بڑھانے کے امکانات کو کم کرسکتے ہیں؟ ایسے موضوعات بہت زیادہ زیربحث نہیں آتے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان جعلی کرنسی کو پکڑنے اور روک تھام کے لیے بہترین اقدامات کیے ہیں اور تمام زیرگردش نوٹوں کے ڈیزائن گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران تبدیل کرکے ان میں ایسے سیکیورٹی اقدامات کیے گئے جو ان کی نقل بنانا مشکل بنادیتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
شادی کا لفظ شاد سے نکلا ہے جسکے معنی خوشی کے ہیں۔ مرد و زن کے سن بلوغت کو پہنچنے سے لے کر کسی بھی عمر میں باہمی رضامندی سے با ضابطہ یکجا ہو جانے کو دراصل شادی کا نا م دیا جاسکتا ہے ۔لیکن بہت سی شادیاں مختلف وجوہات کی بنا پر باہمی رضامندی کے بغیر بھی ہو جاتی ہیں۔ شادی دنیا کے تمام مزاہب میں اپنے اپنے عقیدوں کی بنیاد پر مختلف طریقوں سے انجام دی جاتی ہے۔ شائد ہی دنیا کا کوئی مرد و زن ہو جسکے جوان ہوتے ہی شادی کے لفظ سے دل میں گدگدی نہ ہوئی ہو۔ شادی ایک فطری عمل ہے ۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers