کیا آپ "یاجوج ماجوج" کے بارے میں کچھ دلچسپ و عجیب جاننا چاہتے ہیں جن کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی آیا ہے جن کو حضرت ذوالقرنین نے ایک دیوار کے پیچھے قید کردیا ہوا ہے، لیکن وہ نکلیں گے۔کیسے اور کب ؟ جانئیے ان کے متعلق کچھ دلچسپ و عجیب.
مشرقی ہندوستان سے ملحق اندرون سندھ کو دریائے سندھ کے زرخیر میدانوں اور ریتیلے ٹیلوں کی بناء پر جانا جاتا ہے مگر یہاں ایسے چٹانی سلسلے بھی موجود ہیں جو اسے بالکل منفرد شکل دیتے ہیں۔
یہ چٹانیں روہڑی اور خیرپور کے اضلاع میں دیکھی جاسکتی ہیں اگرچہ یہاں آبادی کافی کم ہے مگر پھر بھی بڑی تعداد میں سیاح یہاں کے چند اہم مقامات جیسے مزارات، مندروں اور خیرپور میں واقع معروف کوٹ ڈیجی قلعے کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
حضرت سیدنا ابو حازم علیہ رحمۃ اللہ المُنعم فرماتے ہیں :'' جب حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز علیہ رحمۃاللہ المجید خلیفہ بن گئے تو ایک دن میں ا ن سے ملاقات کے لئے گیا۔ وہ کچھ لوگو ں میں تشریف فرماتھے ، میں انہیں نہ پہچان سکا لیکن انہوں نے مجھے پہچان لیا اور فرمایا:'' اے ابو حازم ( علیہ رحمۃ اللہ المُنعم)! میرے قریب آؤ ، میں ان کے قریب گیااور عرض کی:'' کیا آپ ہی امیر المؤمنین عمر بن عبد العزیز (علیہ رحمۃاللہ المجید) ہیں؟'' انہوں نے فرما یا:''جی ہاں میں ہی عمر بن عبدالعزیز ہوں۔'' تفصیل سے پڑھئے
چند انمول موتی- دنیا آٹھ چیزوں سے قائم ہے:
(۱)۔ خدا کی رحمت سے۔ (۲)۔ رسول کی رسالت سے۔ (۳)۔ حکماء کی حکمت سے۔ (۴)۔ عابدوں کی عبادت سے۔ (۵)۔ عالموں کی پند و نصیحت سے۔ (۶)۔ بادشاہوں کی عدالت سے۔ (۷)۔ بہادروں کی شجاعت سے۔ (۸)۔ کریموں کی سخاوت سے۔
چار چیزوں کو تھوڑا نہ سمجھو:
(۱)۔ قرض۔ (۲)۔ مرض۔(۳)۔ دشمنی۔ (۴)۔ آگ
چار چیزوں کی قلت اچھی ہے:
(۱)۔ قلعت الطعام۔ (۲)۔ قلت الکلام۔ (۳)۔ قلت المنام۔ (۴)۔ قلت الاختلاط مع الانام۔ تفصیل سے پڑھئے

حضرت سیدنا عبداللہ بن الفرج العابد علیہ رحمۃاللہ الماجد فرماتے ہیں :'' ایک مرتبہ مجھے کسی تعمیر ی کام کے لئے مزدور کی ضرورت پڑی، میں بازار آیا اور کسی ایسے مزدور کو تلاش کرنے لگا جو میری خواہش کے مطابق ہو، یکایک میری نظر ایک نوجوان پر پڑی جو سب سے آخر میں بیٹھا ہو ا تھا۔ چہرہ شرافت وعبادت کے نور سے چمک رہا تھا ، اس کا جسم بہت ہی کمزور تھا ، اس کے سامنے ایک زنبیل اور رسی پڑی ہوئی تھی،اس نے اُون کاجبہ پہنا ہوا تھا اور ایک موٹی چادر کا تہبند باندھا ہوا تھا ۔ تفصیل سے پڑھئے
کارپوریشنز کو شکایت ہے کہ پاکستانی یونیورسٹیاں اچھی کوالٹی کے بزنس گریجویٹس پیدا نہیں کررہیں، اور یہ شکایات درست ہیں - پاکستانی یونیورسٹیوں سے بی بی اے اور ایم بی اے کی ڈگریاں حاصل کرنے والے طلبا کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ان میں شاید ہی کسی کو حقیقی دنیا کا تجربہ ہو، جبکہ بزنس میں حقیقی دنیا ہی سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
کورس کی کتابیں رٹنا صرف تب مددگار ہوسکتا ہے- تفصیل سے پڑھئے
سوال: کرسمس ڈے منانا اور اس موقعہ پر میری کرسمس کہنا یا خاص اس دن غیروں کی طرف سے منعقدہ مجالس و تقاریب میں شریک ہونا کیسا ہے..؟
جواب:
کرسمس(Christmas) دو الفاظ کرائسٹ(Christ)اور ماس (Mass)کا مرکب ہے۔ کرائسٹ(Christ)مسیح کو کہتے ہیں..
اورماس (Mass) اجتماع ، اکٹھا ہوناہے یعنی مسیح کے لیے اکٹھا ہونا، اس کا مفہوم یہ ہوا: مسیحی اجتماع یایومِ میلاد مسیح ۔ (یعنی عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا دن)- دنیا میں بے شمار لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو محض نمود و نمائش کے لیے اپنی تاریخ پیدائش کچھ ایسے دنوں سے منسوب کر لیتے ہیں جو قومی یا عالمی سطح پر معروف ہوتے ہیں۔
ایسے لوگوں کے یوم ولادت پر مبارک باد دینا بھی غلط ہے- تفصیل سے پڑھئے

قسطاط کی فتح کے بعد عمرو نے چند روز تک یہاں قیام کیا۔ اور یہیں سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا کہ فسطاط فتح ہو چکا۔ اجازت ہو تو اسکندریہ پر فوجیں بڑھائی جائیں۔ وہاں سے منظوری آئی، عمرو نے کوچ کا حکم دیا۔ اتفاق سے عمرو کے خیمہ میں ایک کبوتر نے گھونسلا بنا لیا تھا۔ خیمہ اکھاڑا جانے لگا تو عمرو کی نگاہ پڑی، حکم دیا کہ اس کو یہیں رہنے دو کہ ہمارے مہمان کو تکلیف نہ ہونے پائے۔ چونکہ عربی میں خیمہ کو فسطاط کہتے ہیں اور عمرو نے اسکندریہ سے واپس آ کر اسی خیمہ کے قریب شہر بسایا، اس لئے خود شہر بھی فسطاط کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اور آج تک یہی نام لیا جاتا ہے۔ بہر حال 21 ہجری میں عمرو نے اسکندریہ کا رخ کیا۔  تفصیل سے پڑھئے
حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے ایک مرتبہ خداوند قدوس کے دربار میں یہ عرض کیا کہ یا اللہ تو مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ فرمائے گا؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابراہیم کیا اس پر تمہارا ایمان نہیں ہے، تو آپ نے عرض کیا کہ کیوں نہیں؟ میں اس پر ایمان تو رکھتا ہوں لیکن میری تمنا یہ ہے کہ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تاکہ میرے دل کو قرار آجائے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم چار پرندوں کو پالو اور ان کو خوب کھلا پلا کر اچھی طرح ہلا لو پھر تم انہیں ذبح کر کے اور ان کا قیمہ بنا کر اپنے گرد و نواح کے چند پہاڑوں پر تھوڑا تھوڑا گوشت رکھ دو۔ پھر ان پرندوں کو پکارو تو وہ پرندے زندہ ہو کر دوڑتے ہوئے تمہارے پاس آجائیں گے اور تم مردوں کے زندہ ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے۔ تفصیل سے پڑھئے
اميرالمومنين حضرت عمر رضي اللہ عنہ اکثر اوقات حضرت عبداللہ بن عباس رضي اللہ عنہ سے مسلئے پوچھتے رہتے تھے۔
حضرت عبداللہ رضي اللہ عنہ بن عباس رضي اللہ عنہ کو حضور اکرم صلي اللہ عليہ وسلم کي دعا تھي۔ حضور صلي اللہ عليہ وسلم نے باري تعاليٰ کے حضور دعا فرمائي تھي کہ الٰہي عبداللہ رضي اللہ عنہ بن عباس رضي اللہ عنہ کو کتاب اور حکمت سکھا دے۔اس دعا کي بدولت حضرت عبداللہ رضي اللہ عنہ کي علمي معلومات بہت وسيع تھيں۔ تفصیل سے پڑھئے
 احادیث کی روشنی میں دہشت گرد (خارجیوں) کی علامات کی مجموعی تصویر
1. أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ.
’’وہ کم سن لڑکے ہوں گے۔‘‘

بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539، رقم : 6531
مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 746، رقم : 1066      تفصیل سے پڑھئے

کوئی ایسا سائنسی پروجیکٹ جو 1950 میں شروع کیا گیا ہو اور 1973 میں بظاہر روک دیا گیا ہو (درحقیقت جاری ہو )وہ 2014 میں ترقی کی کس منزل پر ہو گا ؟؟؟
اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ 1961 میں آئی بی ایم کی طرف سے بنائی جانے والی ہارڈ ڈسک کی میموری محض 205 ایم بی تھی ۔اور اس ہارڈ ڈسک کی اونچائی ایک اعشاریہ تین میٹر جبکہ چوڑائی ایک اعشاریہ آٹھ میٹر تھی ۔ اور آج ہم ٹیرا بائٹ ہارڈ ڈسک جیب میں لیے گھوم رہے ہیں۔
اب آئیے مذکورہ بالا پروجیکٹ کی طرف جس کا کوڈ نام " ایم کے الٹرا " ہے ۔آپ گوگل پر MK ULTRA تلاش کیجیے اور جا بجا پھیلی متعلقہ دستاویزات اور وڈیوز کا مطالعہ کیجیے شاید کہیں کوئی کُھرا مل جائے جو ہمیں ہمارے اصلی قاتل تک لے جائے ۔ اس پوسٹ میں صرف ویکیپیڈیا کا لنک پیش ہے ۔البتہ یہ پوسٹ شئیر کرنے کی تمام تر ذمہ داری آپ پر ہے ۔ دماغی صحت بحال ہونے پر اس حوالے سے تفصیلی مقالے کا ارادہ ہے بشرط زندگی ۔ انشا ءاللہ

http://en.wikipedia.org/wiki/Project_MKUltra
‎ایک پہلو یہ بھی ہے 
 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کوئی ایسا سائنسی پروجیکٹ جو 1950 میں شروع کیا گیا ہو اور 1973 میں بظاہر روک دیا گیا ہو (درحقیقت جاری ہو )وہ 2014 میں ترقی کی کس منزل پر ہو گا ؟؟؟
اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ 1961 میں آئی بی ایم کی طرف سے بنائی جانے والی ہارڈ ڈسک کی میموری محض 205 ایم بی تھی ۔اور اس ہارڈ ڈسک کی اونچائی ایک اعشاریہ تین میٹر جبکہ چوڑائی ایک اعشاریہ آٹھ میٹر تھی ۔ اور آج ہم ٹیرا بائٹ ہارڈ ڈسک جیب میں لیے گھوم رہے ہیں۔
اب آئیے مذکورہ بالا پروجیکٹ کی طرف جس کا کوڈ نام " ایم کے الٹرا " ہے ۔آپ گوگل پر MK ULTRA تلاش کیجیے اور جا بجا پھیلی متعلقہ دستاویزات اور وڈیوز کا مطالعہ کیجیے شاید کہیں کوئی کُھرا مل جائے جو ہمیں ہمارے اصلی قاتل تک لے جائے ۔ اس پوسٹ میں صرف ویکیپیڈیا کا لنک پیش ہے ۔البتہ یہ پوسٹ شئیر کرنے کی تمام تر ذمہ داری آپ پر ہے ۔ دماغی صحت بحال ہونے پر اس حوالے سے تفصیلی مقالے کا ارادہ ہے بشرط زندگی ۔ انشا ء اللہ 

http://en.wikipedia.org/wiki/Project_MKUltra‎
ہم مطالبہ کرتے ہیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جغرافیائی طور پر قریب علاقوں کو ملا کر آزاد ریاستیں تشکیل دی جائیں اور وہ ریاستیں ان علاقوں پر مشتمل ہوں جہاں مسلمان تعداد میں زیادہ ہیں، جیسے کہ ہندوستان کا شمال مغربی اور مشرقی علاقہ، اور ان علاقوں کو ملا کر آزاد خود مختار مسلمان ریاستیں تشکیل دی جائیں جن میں صوبے آئینی طور پر خود مختار اور آزاد ہوں۔“ تفصیل سے پڑھئے
یورپ کی دلدلوں سے دریافت ہونے والے *** ان جسموں کے مالک بھینٹ چڑھے یا سیاسی کش مکش کی نذر ہوئے؟محققین جستجو میں مصروف *** شمالی یورپ کے دلدلی علاقے اپنے اندر ہزاروں سال پرانی پراسرار کہانیاں چھپائے ایک عرصے سے خاموش تھے بالآخر انھوں نے اپنے لبوں پر لگی خاموشی کی مہر توڑ ڈالی اور ہزاروں سال پرانے قتل عام کی گواہی دینے کے لیے تیار ہوگئے۔ 1898 میں ڈنمارک کے دلدلی علاقے Nederfrederiksmose میں کھدائی کے دوران لوہے کے زمانے سے تعلق رکھنے والا سب سے پہلا انسانی جسم (بوگ) دریافت ہوا۔ اس کے بعد شمالی یورپ مثلاً برطانیہ، آئر لینڈ، ڈنمارک، ہالینڈ، شمالی جرمنی اور جنوبی سویڈن کے دلدلی علاقوں سے سیکڑوں کی تعداد میں مدفون اجسام دریافت ہوئے۔ تفصیل سے پڑھئے
ٹام اینڈ جیری بلا شعبہ دنیا کے مقبول ترین کارٹو ن ہیں جنہیں دنیا کے کروڑوں بچے روزانہ شوق سے دیکھتے ہیں۔دلچسب بات یہ ہے کہ ان کارٹونوں میں صرف بچوں کی تفریح ہی نہیں بلکہ بڑوںکے لیے زندگی کے چند اہم ترین سبق بھی ہیں ۔ اگر آپ نے کبھی ان پہلوﺅں پر توجہ نہیں دی تو زرا ان باتوں کو غور سے پڑھئے ۔
1) سائز کی کو ئی اہمیت نہیں: -
آپ نے دیکھا کہ ننھا جیری بڑی سی بلی ٹام کو کیسے تگنی کا ناچ نچا دیتا ہے ۔ بظاہر چھوٹا اور کمزور نظرآنے والا مخالف بہت مشکل ثابت ہو سکتا ہے لہذا کسی کی ظاہری حالت وصور ت کو دیکھ کر غلط اندازہ نہ لگائیں ۔
2) اتفاق ضروری ہے-:
اگرچہ ٹام اورجیر ی آپس میں ہمہ وقت لڑتے رہتے ہیں لیکن جب بھی کوئی تیسر ا دشمن سامنے آئے تو وہ متحد ہو جاتے ہیں ۔
3) مل بانٹ کر کھائیں:-
محبت کرنے والوں میں لڑائیاں بھی ہو جاتی ہیں لیکن ان کی وجہ سے روٹھ کر منہ نہ پھیریں بلکہ اکھٹے رہیں اور ملکر لطف اندوز ہوں ۔
4) اظہار محبت:-
ٹام کے معاشقے اظہار محبت کے لےے بھی بہترین رہنمائی کرتے ہیں ۔
5) ناکامی کامیابی کی بنیاد ہے -:
جیری ننھا ضرور ہے اور کمزور بھی لیکن کوئی ناکامی اسے مایو س نہیں کرتی اور بالا ٓخر وہ کامیاب ضرور ہوتا ہے ۔
6) پر اعتماد رہیں :-
چاہے حالات کیسے بھی سخت اورمشکل ہوں اپنی ذات پر اعتما د رکھئے ۔
7) دوستی انمول تحفہ ہے -:
اگرچہ ٹام اور جیری کی لڑائیاں مثال بن چکی ہیں لیکن ان کی دوستی بھی ساتھ ساتھ چلتی ہے اور ان کے لیے حقیقی خوشی کا باعث بنتی ہے ۔
8) خوش رہئے:-
لڑائی جھگڑے اور نوک جھونک کے ساتھ خوش رہنا ضروری ہے ۔
9) اعتبار کیجئے :-
اپنے پیاروں سے اختلاف اور ناراضگی کی وجہ سے ان پر اعتبار کبھی ختم نہ کریں ۔
10) پر عزم رہیں :-
مسائل سے گھبرا کر دلبرداشتہ نہ ہوںبلکہ ہمیسہ توانائی سے بھرپور رہیں اور پر موقعے اور ہر لمحے کی خوشی سے لطف اندوز ہوں

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

دنیا بھر کی حکومتیں اکثر اپنی عوام کی بہتری کے لیے مختلف پابندیاں عائد کرتی رہتی ہیں اور عوام کو ان پابندیوں کا لازماً احترام کرنا ہوتا ہے- لیکن مختلف ممالک میں چند ایسی عجیب و غریب پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں جو انتہائی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہیں٬ جبکہ خود حکومتوں کے پاس بھی ان پابندیوں کی کوئی خاص وضاحتیں بھی نہیں ہیں- ایسے ہی کچھ پابندیوں کے متعلق آپ کو آج کی پوسٹ میں بتاتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے 
1. کیا کبھی کسی میڈیا نے یہ بتایا کہ نیسٹلے﴿Nestle﴾ کمپنی خود مانتی ہے کہ وہ اپنی چاکلیٹ کٹ کیٹ ﴿Kit Kat﴾ میں گاےٴ کے گوشت کا رس ملاتی ہے.
2. کیا میڈیا نے کبھی بتلایا کہ مدراس ہائی کورٹ میں فیر اینڈ لولی Fair&Lovelyکمپنی پر جب مقدمہ کیا گیا تھا تب کمپنی نے خود مانا تھا کہ ہم کریم میں سور کی چربی کا تیل ملاتے ہیں.
3. میڈیا نے کبھی یہ بتلایا کہ کولگیٹ ﴿Colgate﴾ کمپنی جب اپنے ملک امریکہ یا یورپ میں Colgate بیچتی ہے تو اس پر وارننگ لکھی ہوتی ہے- تفصیل سے پڑھئے

قرآنِ مجید کی دوسری سورہ (ترتیب سعودی کے لحاظ سے) "سورۃ بقرہ" ہے، جس کا مطلب ہے "گائے"۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اِس سورہ کی وجہ تسمیہ "بقرہ" یعنی گائے کیوں ہے، اور اُس گائے کا کیا واقعہ ہے۔۔؟
آئیے واقعہ ملاحظہ فرمائیے۔۔!!!
اس کا واقعہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک بہت ہی نیک اور صالح بزرگ تھے، ان کا ایک ہی بچہ تھا جو نابالغ تھا۔ اور ان کے پاس فقط ایک گائے کی بچھیا تھی۔ ان بزرگ نے اپنی وفات کے قریب اس بچھیا کو جنگل میں لے جا کر ایک جھاڑی کے پاس یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ "یااللہ عزوجل! میں اس بچھیا کو اس وقت تک تیری امانت میں دیتا ہوں کہ میرا بچہ بالغ ہو جائے۔۔۔!"

9مارچ1986ع کو روزنامہ جنگ لاہور میں ایک رپورٹ شایع ہوئی جس میں یہ بتایا گیا کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو سید اکبر نے نہیں بلکہ ایک جرمن قادیانی کنزے نے قتل کیا تھا اور کنزے کی پرورش قادیانی لیڈر(آنجہانی) سر ظفراللہ نے کی تھی یہ انکشاف سراغرساںجیمز سالومن ونسینٹ کی یادوں کے حوالے سے کیا گیا ہے جیمز نے لکہا ہے اس جرمن باشندے کنزے نے عیسائیت ترک کرکے قادیانیت اختیار کرلی تھی اور قادیانی گھرانی میں شادی کے بعد وہ پاکستان میں مقیم ہوگیا تھا جیمز کے مطابق کنزے آج کل مشرقی برلن میں مقیم ہے کنزے(آنجہانی) ظفراللہ کے بھائی(انجہانی) نصراللہ کے پاس باقاعدگی سے آیا کرتا تھا جو اس وقت ایڈیشنل کسٹوڈین تھا اسے گرفتاری سے پہلے ملک سے باہر بہیج دیا گیا کمپنی باغ(لیاقت پارک)راولپنڈی میں کنزے نے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو گولی ماری تو پولیس نے جو پوری طرح ملوث تھی اس وقت کے سازشی سیاستدانوں اور بیورو کریٹس کی ھدایت پر سید اکبر کو گولی ماردی اور پھر سید اکبر ہی قاتل کی حیثیت سے مشھور کردیا گیا حالانکہ سید اکبر کیموفلاج تھا کنزے نے اس وقت پٹھانوں والا لباس پہن رکھا تھا اور وزیر اعظم لیاقت علی خان کو قتل کرنے کے بعد سیدھا ربوہ پہنچا جہاں سے باہر بہیج دیا گیا-
بحوالہ:- تحریک ختم نبوت میں بلوچستان کا حصہ
مصنف:- حاجی فیاض حسن سجاد صاحب چیف رپورٹر روزنامہ"جنگ"کوئٹہ
ترتیب:- رحیم بخش براہوئی/رسول آبادی

بادشاہتوں  کے  زمانے  میں  ہاتھیوں  کی  بڑی  قدر  کی  جاتی  تھی۔  ہاتھی  رکھنا  شان وشوکت  کی  علامت  سمجھی  جاتی  تھی۔  انہی  دنوں  سفید  ہاتھی  کی  اصطلاح  نے  جنم  لیا۔  سفید  ہاتھی  سے  مراد  کوئی  ایسی  چیز  لی  جاتی  ہے  جس  کی  دیکھ بھال  پر  اچھا  خاصا  خرچ  آتا  ہو  لیکن  عملی  طور  پر  ا س  چیز  کی  کوئی  افادیت  نہ  ہو۔  مملکت  پاکستانیہ  اوّل  روز  سے  ہی  ایسا  ایک  سفید  ہاتھی  پال  رہی  ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
پاکستان اگر چہ آبادی کی کثرت اور وسائل کی قلت کا شکار ہے۔ لیکن کوئی بھی اخبار اٹھا کر دیکھ لیں یا کسی بھی شہر کے درو دیوار کی عبارت پڑھ لیں، گلی گلی کھلے کلینک ہوں یا خواتین کی کوئی محفل، بے اولادی، بانجھ پن یا اولاد نہ ہونے کی شکایت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
پنجاب کا عظیم ثپوت جسے فراموش کر دیا گیا لُوک راج” کا بانی دُلا بھٹی ساندل بار کا علاقہ دوآبہ رچنا کا جنوبی حصہ لوئر باری دوآب سے گوجرانولہ، شیخوپورہ، ننکانہ، جڑانوالہ، حافظ آباد، چنیوٹ، فیصل آباد وغیرہ تک پھیلا ہوا ہے۔ تقریبا چار صدیاں قبل اس علاقے نے ظالمانہ نظام کے خلاف ایک زبردست مزاحمتی تحریک کو جنم دیا تھا جس نے سلطنتِ مغلیہ کو ہلا کے رکھ دیا تھا۔ تفصیل سے پڑھئے
خلیفہ سوم حضرت عثمان ابن عفان اور ان کی بیٹیوں کی شادیاں دنیا کے کئی ایک قدیم قبائلی معاشروں کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پدر سری (Patriarchal) معاشروں میں شادی محض ایک مرد اور عورت کےملاپ کا نام نہیں تھا۔ نہ تو اس کا واحد اور بنیادی مقصد جسمانی ضروریات کی تسکین تصور کیا جاتا تھا اور نہ ہی اپنی جائداد کے ورثا کا حصول۔ تفصیل سے پڑھئے
داستان ان سرفروشوں کی جو تبدیلی کاخواب لے کے نکلے تھے......!!!! احوال ان وطن پرستوں کا جو تخت لندن کا خواب دیکھ بیٹھے تھے..ایک تاریخی دستاویز......ایک عبرت انگیز کتھا......ایک نئے انداز سے.......ایک نئے زاویے سے....
غدر سے جنگ آزادی تک پھیلی ایک چشم کشاء تحریر..... 1857کا احوال.......میری نظر سےتین حصوں میں..تفصیل سے پڑھئے

فیس بک کی تنگ کرنے والی چیزیں ٹھیک کریں

دوستوں کو نیوز فیڈ سے غائب کریں

فیس بک نیوز فیڈ میں اکثر ایسی پوسٹس سامنے آجاتی ہیں جنھیں ہم دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ ایسی پوسٹس کو ڈیلیٹ کیے بنا نیوز فیڈ سے غائب کیا جا سکتا ہے لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں۔ کوئی نہ کوئی دوست ایسا ہوتا ہے جو تواتر سے ایسی چیزیں شیئر کرتا رہتا ہے جن سے آپ کو الجھن ہوتی ہے اور آپ انھیں دیکھنا پسند نہیں کرتے لیکن دوست کو اَن فرینڈ بھی نہیں کرنا چاہتے۔ تو اس مسئلے کا بڑا آسان سا حل موجود ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
چند چھوٹے لیکن اہم ٹولز

بعض اوقات ہمیں ایسے چھوٹے ٹولز کی ضرورت پڑتی ہے جن کو چلاتے ہی کوئی مسئلہ ٹھیک ہو جائے جیسے کہ ٹمپریری فائلز ڈیلیٹ کرنا یا پرنٹر کے کام نہ کرنے کی صورت میں اس کی سروس کو دوبارہ سے چلانا وغیرہ۔
اس لیے Some small tools کے نام سے ایک چھوٹا سا بنڈل موجود ہے جس میں انتہائی کارآمد چھوٹے چھوٹے آٹھ ٹولز کو جمع کیا گیا ہے۔
تفصیل سے پڑھئے


یو ایس بی فلیش ڈرائیو سے سسٹم کی ریم بڑھائیں

اتنی زیادہ اسپیس کی یو ایس بی فلیش ڈرائیو پاس ہوتے ہوئے بھی لوگ ’’ریڈی بوسٹ‘‘ کی مدد سے اپنے سسٹم کی میموری یعنی ریم(RAM)نہیں بڑھاتے بلکہ سسٹم میں لگی ریم پر ہی اکتفا کیے رہتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ اپنا شمار ان لوگوں میں کرنا پسند نہیں کریں گے۔ تو اس کے لیے دو جی سے زائد اسپیس والی یو ایس بی لیں (آج کل سبھی کے پاس اس سے کئی زیادہ اسپیس کی یو ایس بی موجود ہے) اور سسٹم میں لگائیں۔ مائی کمپیوٹر کھول کر یو ایس بی پر رائٹ کلک کر کے اس کے پراپرٹیز میں آجائیں۔ تفصیل سے پڑھئے


یو ایس بی سے ونڈوز انسٹال کریں

یو ایس بی فلیش ڈرائیوز کی عام دستیابی سے سی ڈی اور ڈی وی ڈیز کا استعمال ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اب آپ باآسانی ونڈوز بھی یو ایس بی سے انسٹال کر سکتے ہیں۔ ڈی وی ڈی اسکریچ پڑنے سے جلد خراب ہو جاتی ہے لیکن یو ایس بی کے استعمال سے ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ ونڈوز انسٹالیشن فائلز کو یو ایس بی میں منتقل کرنے کے لیے ’’ون ٹو فلیش‘‘ سافٹ ویئر موجود ہے۔ یہ سافٹ ویئر ونڈوز کی ڈی وی ڈی یا سی ڈی سے تمام فائلز کو مکمل طور پر یو ایس بی میں منتقل کر دیتا ہے اس کے علاوہ یو ایس بی کو بوٹ ایبل بھی بنا دیتا ہے تاکہ آپ باآسانی ونڈوز انسٹال کر سکیں۔
دستیابی: مفت
فائل سائز: 142KB

ڈاؤن لوڈ کریں
مزید رہنمائی کے لیے ڈیویلپرز کی ویب سائٹ وزٹ کریں
ونڈوز 8 کو یو ایس بی سے انسٹال کیجئے
ونڈوز کی انسٹالیشن کے لیے آپ نے ضرور ڈی وی ڈی یا سی ڈی استعمال کی ہو گی۔ ان انسٹالیشن ڈسکس کا خراب نکلنا کوئی بڑی بات نہیں، یہ اکثر خراب نکلتی ہیں۔ اب ونڈوز 8 کا زمانہ ہے کیا اب بھی آپ ونڈوز انسٹال کرنے کے لیے سی ڈی یا ڈی وی ڈی کا سہارا لیں گے؟ تفصیل سے پڑھئے
فولڈر پر بنا کسی سافٹ ویئر کے پاس ورڈ لگائیں
فولڈر پر پاس ورڈ لگانے کے کئی طریقے موجود ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر طریقوں میں سافٹ ویئر استعمال ہوتے ہیں۔ اس ٹپ کی بدولت آپ باآسانی ایک پاس ورڈ سے محفوظ فولڈر بنا سکتے ہیں۔ لیکن اسے پہلے ایک نیا فولڈر بنا کراور اس میں چند عام فائلیں کاپی کر کے آزمائیں، جب اچھی طرح سمجھ آجائے تب اپنا اہم ڈیٹا اس فولڈر میں رکھیں، تاکہ کسی قسم کا نقصان نہ ہو۔ اس کام کے لیے کہیں بھی ایک نیا فولڈر بنا لیں۔ فولڈر کے اندر رائٹ کلک کر کے New کے مینو سے Text document منتخب کر لیں۔ تفصیل سے پڑھئے


کمپیوٹر کو پہلے سے تیز رفتار بنائیے
ہماری ہمیشہ خواہش ہوتی ہے کہ ہمارا سسٹم بہتر سے بہتر کارکردگی پیش کرے۔ کام کے دوران ہمیں اس پر کوئی ایرر نظر نہ آئے اور رفتار بھی بہتر ملے۔ لیکن ان سب کے لیے آپ کو اپنے کمپیوٹر کا خیال رکھنا ہو گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کمپیوٹر کا خیال کیسے رکھا جائے؟؟ تو آئیے اس مضمون میں آپ کو چند گُر بتاتے ہیں جن کو آزما کر آپ اپنے کمپیوٹر کی کارکردگی اور رفتار میں خاطرخواہ اضافہ کر سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ مضمون ونڈوز ایکس پی کے لیے لکھا گیا ہے لیکن ونڈوز کے دیگر صارفین کے لیے بھی اتنا ہی مفید ثابت ہو گا۔ تفصیل سے پڑھئے

کریڈٹ کارڈ فراڈ کیسے ہوتے ہیں

کریڈٹ کارڈ فراڈ ہر سال اربوں ڈالر نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ کریڈٹ کارڈ ایک عالمی حیثیت رکھتے ہیں اور دنیا کے ہر کونے میں قابلِ قبول ہیں۔ امریکا کے کسی بینک کا جاری کردہ کریڈٹ کارڈ کراچی میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور پاکستان کے کسی بھی شہر میں موجود کسی بینک سے بنوایا گیا کریڈٹ کارڈ یورپ ہو یا امریکا، کہیں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کریڈٹ کارڈ حاصل کرنے کے لیے کسی بینک کا اکاؤنٹ ہولڈر ہونا بھی ضروری نہیں، بلکہ اپنی مالی حیثیت کے اعتبار سے اسے باآسانی حاصل کیا جا سکتا ہے ( یہ اور بات ہے کہ ہر کریڈٹ کارڈ کے لئے بینک اندرونی طور پر ایک بینک اکائونٹ بنا تا ہے)۔  تفصیل سے پڑھئے
جب بات بلاگنگ کی ہو تو ذہن میں فوراً ورڈ پریس کا نام آتا ہے۔ ورڈ پریس اس وقت بلاگنگ کی دنیا میں انتہائی مقبول ہے۔ ورڈ پریس کی مدد سے ایک سادہ بلاگ سے لے کر ای اسٹور تک بنایا جا سکتا ہے۔ اگر آپ ورڈ پریس استعمال کرتے ہیں یا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو Instant WordPress ضرور آزمائیں۔ ’’انسٹینٹ ورڈ پریس‘‘ کو آپ ایک پورٹ ایبل ورڈ پریس کہہ سکتے ہیں۔ جس میں ورڈ پریس، اپاچی، پی ایچ پی اور مائی ایس کیو ایل موجود ہوتا ہے۔ لیکن کسی بھی چیز کچھ انسٹال کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ سب کچھ اس پورٹ ایبل سافٹ ویئر کے اندر موجود ہے۔ اگر آپ کے پاس ورڈ پریس بلاگ ہے اور آپ اپنے بلاگ پر کوئی نیا تھیم یا پلگ ان استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ پہلے چیک کر لیا جائے کہ یہ بلاگ کے ساتھ چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ نہیں۔ ایسی صورت میں یہ پورٹ ایبل ورڈ پریس آپ کے بے حد کام آسکتا ہے۔ آپ جو ٹیسٹنگ چاہیں اس پر سرانجام دے سکتے ہیں۔ اس پورٹ ایبل ورڈ پریس میں ڈیٹا بیس کو منظم کرنے کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ اگر آپ بلاگ شروع کرنا چاہتے ہیں اور ورڈ پریس کو سیکھنا چاہتے ہیں تو یہ سافٹ ویئر آپ کے لیے بے حد کارآمد ثابت ہو گا۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب انٹرنیٹ کی بہت ضرورت ہوتی ہے یہ چلنا بند کر دیتا ہے۔ ہم بڑے مزے سے کمپیوٹر آن کر کے آرام دہ کرسی پر بیٹھ کر اپنا کام مکمل کرنے کے لیے انٹرنیٹ سے رجوع کرتے ہیں اور پتا چلتا ہے اس کی طبیعت ٹھیک نہیں اور یہ بے چارہ چلنے سے قاصر ہے! تفصیل سے پڑھئے
 دلوں کے تارسے چھیڑ دینے والا وہ محاورہ سنا ہےآپ نے،،،، بچے اپنے اور دوسرے کی بیوی زیادہ اچھے لگتے ہیں۔۔۔! بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی،،،! تاہم یہ اودھم پرور محاورا گھر میں زبان پہ لانے کا ہرگز نہیں،،، ورنہ دونوں ہی مواقع ہاتھ سے جائینگے۔۔۔ ِادھر آپ کے بچے اپکے نزدیک پھٹکنے نہیں دیئے جائینگے اور ُادھر آپ کسی کی بیوی کے قریب پھٹکنے کے قابل بھی نہیں رہنے دیئے جائیں گے۔۔۔ تاہم کئیوں کے مطابق "ایسا سوچنے میں کوئی مضائقہ نہیں ، کہ اسکے بنا زندگی میں بھی کوئی ذائقہ نہیں"۔۔۔
اہل ذوق کے لیئے طنز و مزاح سے بھرپور اور دلچسپ تحریر ضیاء محی الدین صاحب کی سحر انگیز آواز میں پڑھیئے سنیئے اور لطف لیجیئے۔ عام طور پر یہ سمجھاجاتا ہے کہ بد ذائقہ کھانا پکانے کا ہنر صرف تعلیمیافتہ بیگمات کو آتا ہے ۔لیکن ہم اعدادوشمار سے ثابت کرسکتے ہیں کہ پیشہ ور خانساماں اس فن میں کسی سے پیچھے نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہرشخص یہ سمجھتاہے کہ اسے ہنسنا اور کھانا آتا ہے۔اسی وجہ سے پچھلے سو برس سے یہ فن کوئی ترقی نہیں کرسکے۔ایک دن ہم نے اپنے دوست مرزا عبدالودود بیگ سے شکایتاً کہا کہ اب وہ خانساماں جوستر قسم کے پلاؤ پکا سکتے تھے، رفتہ رفتہ ناپید ہوتے جارہے ہیں۔جواب میں انھوں نے بالکل الٹی بات کہی۔ تفصیل سے پڑھئے
یہ بات حیران کن نہیں کہ جن لوگوں کے پاس بے انتہا پیسے ہوتے ہیں وہ ان لوگوں سے زیادہ خوش ہوتے ہیں جن کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تاہم آپ کی خوشی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ ان پیسوں کا استعمال کس طرح کرتے ہیں۔ خوشی کا تصور جو ہمیں عام طور پر بتایا جاتا ہے وہ بالکل غلط ہے۔
وہ گاڑی یا موبائل جو آپ کو پسند ہے وہ صرف کچھ دیر کے لیے ہی آپ کو خوشی فراہم کرتا ہے لیکن اس کے برعکس اپنے اہلخانہ کے ساتھ وقت بتانا آپ کے لیے زیادہ اور دیرپا خوشی کا باعث ہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے دنیا بھر میں متعدد سائیکالوجیکل مطالعات میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
دنیا میں ایسی عمارات کی کمی نہیں جو تاریخی ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں اور اپنے اپنے ممالک کی شان بھی ہوتی ہیں مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ امریکی مجسمہ آزادی سے لے کر ایفل ٹاور تک ان کی نقول کی بھی کمی نہیں مگر ان کاپی کیٹس کا سب سے بڑا ہدف تاج محل ہی بنتا ہے۔ جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ اصل تاج محل 1631 سے 1648 کے درمیان مغل بادشاہ شاہ جہاں کے دور میں سفید سنگِ مرمر سے ان کی اہلیہ کی یاد میں تعمیر کیا گیا تھا۔ تفصیل سے پڑھئے
 اپنی اپنی مرضی کےاسلام، شریعت، فرقوی خیالات، خلافت اور نشاۃ ثانیہ کے مامے یہ مضمون بھلے نہ پڑھیں۔ اپنے آپ پر بھی مہربانی کریں، اور مجھ پر بھی کہ میرے بلاگ کا کمنٹ سیکشن سب کے لیے کھُلا ہے اور اس میں تبلیغ سے لیکر دھمکی تک، سب لکھا جا سکتا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے

مشیر نیازی۔ “خان صاحب الیکشن کا نتیجہ نکل آیا ہے۔ مرکز میں حکومت بنانے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے۔ ہم پارٹی پوزیشن کے حساب سے پارلیمنٹ میں تیسرے نمبر پر آئے ہیں”۔ 
پریشان خان “یہ ناممکن ہے۔ میرے جلسے میں تو خوب لوگ آتے تھے۔ نوجوان مجھ پر خوب فدا تھے۔ پھر میں الیکشن کیسے ہار سکتا ہوں؟ ہم نے تو کلین سویپ کرنا تھا۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد کے سارے لبرل میرے ووٹر تھے”۔
 مشیر نیازی۔ “خان صاحب لاہور کراچی سے تو آپ کو زیادہ سیٹیں نہیں ملیں۔ دھاندلی ہو گئی ہے۔ لیکن حالات اتنے برے نہیں ہیں۔ سرحد میں آپ کو ووٹ مل گئے ہیں۔ وہاں آپ کی حکومت ہے”۔ تفصیل سے پڑھئے
یہ ایک طنزیہ تحریر ہے جو آج کے نام نہاد اسلامسٹوں کی جو قائد اعظم کو حد درجے مذہبی شخصیت ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں، کے جواب میں لکھی گئی ہے۔
قائد اعظم انسان نہیں بلکہ فرشتہ تھے، بلکہ وہ ایک اعلی تعلیم یافتہ ماہر قانون دان اور ایک مہذب شہری نہیں تھے بلکہ بلکہ دیہات میں پلے بڑھے اور مدرسے کے فارغ التحصیل کٹ حجتی ملا تھے، وہ دلیل نہیں بلکہ ڈنڈے کی حکمرانی پر یقین رکھتے تھے۔ کبھی کلین شیو نہیں کی ہمیشہ داڑھی رکھتے تھے، انگریزی لباس اور بودوباش قطعی نہیں رکھتے تھے،
جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں طوفانوں کو نام دینے کی تاریخ بہت نئی ہے- کیا آپ کو معلوم ہے کہ ’طوفان ہُد ہُد‘  دراصل عمان میں پیدا ہوا تھا۔ ہم اس طوفان کے نام کے بارے میں بات کر رہے ہیں نہ کہ طوفان کے بارے میں۔    ہُد ہُد‘ عربی میں ایک پرندے کا نام ہے۔ شسنہ 1953 سے بحر اوقيانُوس میں آنے والے طوفانوں کو نام دیے جاتے ہیں۔ طوفانوں کو نام دینے کی شروعات میامی میں نینل ہریکین سینٹر کی جو اب تک قائم ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
اس ترقی یافتہ زمانے میں ہر وہ شخص جو انٹرنیٹ کا استعمال کرنا جانتا ہے۔ اس کے دل میں یہ خیال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس عظیم عالمی نیٹ ورک کا استعمال حصول دولت کے لئے کیسے کیا جائے۔ شاید ہی کوئی شخص ایسا مل جائے جو تھوڑی اضافی دولت کا خواہشمند نہ ہو۔ اخبارات میں ایسے اشتہارات کی بھرمار ہوتی ہے جن میں لوگوں کو بنا کچھ کئے انٹرنیٹ کے ذریعے دولت کمانے کے لئے مدعو کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے اکثر اشتہار دہندگان کا مقصد عام آدمی کی دولت کی لالچ سے غلط فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔ ایسے اشتہار دہندگان یا تو اپنی فیس وصول کرکے راہ فرار اختیار کرلیتے ہیں یا پھر آپ سے ایسے کام کروانا چاہیں گے جو ناجائز اور غیر اخلاقی ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
ملک کے دو وزرائے اعظم کو قتل کردیا گیا، ملک آدھا رہ گیا مگر کبھی یہ ملک بند نہیں ہوا۔ بس اِسی لیے خان صاحب سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم شہر و سڑکیں تو بند کرسکتیں ہیں مگر ملک بند نہیں کرسکتے۔ عمران خان نے یہ کیا اعلان کر دیا ؟ ملک بند کر دوں گا ؟ لاہور بند کردوں گا. فیصل آباد بند کر دوں گا ، کراچی بند کردوں گا – یہ عمران خان کو کیا ہو گیا ہے ؟ یہ اچانک کیا ہو گیا کہ ملک بند کرنے کے دھمکی دے دی گئی – اور وہ بھی پاکستان ایسے ملک میں جہاں جمہوریت کی پروان چڑھتے درخت کی جڑیں اتنی مضبوط ہو گئی ہیں کہ اب کوئی ملک دشمن انکو کاٹ نہیں سکتا- تفصیل سے پڑھئے
یہ کچھ لوگ .....جو ہم پر دادا اور نانا بن کر مسلط ہیں....کیا یہ خود بھی اس مرحلہء نشاط سے گزرے ہونگے جس سے ہم دوچار ہیں...ارے بھائیو میں کسی سیاسی یا فیس بکی نانا پاٹیکرز کی بات نہیں کر رہا.....اصلی والے نانا دادا...جن کے ہم دوتے پوتے ہیں..اور...جنہیں ہم سدا کے بوڑھے ہی سمجھتے آئے ہیں - ان کا بچپن لڑکپن جوانی کیسی ہو گی....یہ خاصی پر تشویش بات ہے...... تفصیل سے پڑھئے
دالیں شوگر کے مریضوں کےلیے خصوصی طور پر مفید ہیں ان سے خون میں شکر کی سطح نارمل رہتی ہے۔دنیا بھر میں دالوں کا شمار صحت مند ترین کھانوں میں ہوتا ہے ۔چونکہ آج کل اکثر خوتین ملازمت پیشہ ہیں اورانہیں عموماً کوکنگ کے لیے وقت نہیں ملتا چناچہ چند برسوں سے ایسے کھانے جو جلدی سے بن جائیں اور صحت کے لے بھی مفید ہوں ہر فیملی کی ضرورت بنتے جارہے ہیں۔دال ایسی ڈش ہے جو بہت جلد تیار ہوجاتی ہے ۔اورقدرتی طور پر بے پناہ غذائت کی حامل ہوتی ہے حتیٰ کہ اسے گوشت کا متبادل قرار دیا جاتا ہے ۔کیونکہ یہ نباتاتی پروٹین کا اہم ترین ذریعہ ہے ۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ روزانہ تھوڑی دیر کے لیے ویڈیو گیمز کھیلنے سے بچوں کی نشوونما پر مثبت اثرات پڑتے ہیں۔ سائنس دانوں نے اپنی تحقیق میں یہ پایا کہ جو بچے روزانہ ایک گھنٹے سے کم ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں وہ ان بچوں کے مقابلے پر معاشرے سے زیادہ ہم آہنگ ہوتے ہیں جو ویڈیو گیمز بالکل نہیں کھیلتے۔
لیکن جو بچے روزانہ تین گھنٹے سے زیادہ ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں وہ مجموعی طور پر اپنی زندگی سے کم مطمئن پائے گئے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ہر روز انسانی جسم کو وٹامن ای کی تقریباً تیس ملی گرام مقدار درکار ہوتی ہے ۔
عموماً وٹامن ای  چکنائی والی غذاؤں کے ذریعے جسم  میں داخل ہوتا ہے لیکن اگر انسانی جسم میں نظام انہضام اور جگر فعال نہ ہو تو معدہ چکنائی والی غذائیں ہضم نہیں کر پاتا ۔جس کی وجہ سے ومن ای کی کمی ہو جاتی ہے ۔وٹا من ای کی کمی سے جسم میں خون کی کمی ہو جاتی ہے جسے  anemia کہتے ہیں ۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

چہرے کی neatnessمیں اضافہ کے لیے

عموماً لڑکیاں چہرے پر موجود غیر ضروری بالوں کے لیے بہت حربے اپناتی ہیں ۔مگر میں سمجھتی ہوں فیشل ویکسنگ سب سے محفوظ اور موثر طریقہ ہے ۔یہ نہایت آسان عمل ہے ۔لیکن اگر اس میں احتیاط نہ کی جائے تو چہرے کی جلد مختلف انفیکشنز کا شکار ہو سکتی ہے ۔اس لیے ضروری ہے کہ کسی ماہر بیوٹیشن کی مدد حاصل کریں جو چہرے پر استعمال کریں جو چہرے پر استعمال ہونے والی بیوٹی پراڈکٹس سے متعلق آپ کو درست گائڈ لائن دے ۔ تفصیل سے پڑھئے
قریباً سو سال پہلے ایک امریکن موجد نکولا ٹیسلا نےوہ چیزیں ٹھیک کرنا شروع کیں جو کبھی خراب نہیں تھیں۔یہ وہ وقت تھا جب زیادہ تر بلکہ اکثرلوگ موم بتی سے روشنی حاصل کرتے تھے۔ اب کہانی کو تھوڑی دیر کیلئے یہیں روکتے ہیں۔
nicola tesla 1 
ہم میں سے زیادہ تر لوگ تھامس ایڈیسن کو جدید پرکیات کا بانی قرار ستے ہیں ۔برقی بلب تھامس کی شہرت کی بڑی وجہ بنا۔لیکن بلب تھامس کی نہیں بلکہ نکولا ٹیسلا کی ایجاد ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
hawking 1


سٹیفن ہاکنگ کا بچپن انگلستان کے ایک مقام سینٹ البن میں گزرا۔اس کے والد ایک ڈاکٹر تھے ۔ہاکنگ اپنے والد سے بے حد متاثر تھا۔اس نے ارادہ کیا کہ وہ بڑے ہوکر سائنس دان بنے گا لہٰذا اس نے طبیعات کے میدان کا انتخاب کیا ۔۱۹۶۲ء میں آکسفرڈ یونیورسٹی سے طبیعات کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد   وہ پی-ایچ-ڈی کے لیے کیمبرج یونیورسٹی چلا گیا۔اپنے طالب علمی کے زمانے میں ہی اسے پتا چلا کے وہ ایک ایسی بیماری کا شکار ہے جس سے پٹھے کمزور اور ضائع ہو جاتےہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
کیا آپ جانتے ہیں کہ استعمال شدہ کپڑوں' جوتوں اور پرانی دوسری اشیاء کے بازار کو "لنڈا بازار" کیوں کہا جاتا ہے ؟
اس کے متعلق مشہور ہے کہ ایک برطانوی خاتون کا نام Linda لینڈا تھا. وہ بہت رحم دل تھی. اسے غریبوں سے خاص ہمدردی تھی اس نے غریبوں کے لیے کچھ کرنےکا سوچا.۔ چونکہ اس کے پاس اپنے وسائل کم تھے اس لئے اس نے اپنے دوستوں سے عطیات دینے کی درخواست کی۔ تفصیل سے پڑھئے
ملک میں جاری سیاسی کشمکش نے تخلیق کاروں کیلیے ایک نیا راستہ کھول دیا ہے۔ آزادی اور انقلابی مارچ روکنے کیلیے کنٹینرز کے ذریعے راستوں کی بندش عبورکرنے کیلیے اینڈرائڈ پر خصوصی گیم (ایپلی کیشن) متعارف کرادی گئی ہے۔
اس گیم کو ’’کنٹینر رن‘‘ کانام دیا گیا ہے جو Eccentrica Technologies نے ریلیز کیا ہے۔ ایپلی کیشن(گیم) میں عمران خان سے مشابہ کردار کو اسلام آباد کی جانب رواں دواں دکھایا گیا ہے جو راستے میں لگے کنٹینرز کو پھلانگ کر عبور کرتا ہوا پیدل ہی منزل کی جانب گامزن دکھایا گیاہے۔ پاکستان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹس ٹوئٹراور فیس بک کے ساتھ اب اینڈرائڈ ایپلی کیشنز بھی سیاسی ہتھیار بن چکی ہیں تاہم ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں صرف تحریک انصاف ہی اس ہتھیار کو موثر طریقے سے استعمال کررہی ہے۔
اس سے قبل بھی 2012میں اینگری برڈ کی طرز پر بھی ایک لوکل ایپلی کیشن اینگری عمران متعارف کرائی گئی جبکہ حال ہی میں لاہورماڈل ٹائون میں گاڑیوں کا حشر نشرکرنے والے متنازع کردار’’گلوبٹ‘‘ کی طرح اینڈرائڈ گیم متعارف کرایاگیاجس میں گلوبٹ کی طرح گاڑیوں کوتہس نہس کرکے اپنے دل کی بھڑاس نکالی جاسکتی ہے
do this do that stop it
جب تیرا حکم ملا ترک محبت کر دی
دل مگر اس پہ وہ تڑپا کہ قیامت کر دی
حکم سے بات تو منوائی جا سکتی ہے مگر اس بات کی اہمیت واضح نہیں کی جا سکتی۔ میں نے جب بھی کوئی حکم  مانا ہے، ہمیشہ ایک دفعہ کے لیئے مانا ہے،وہ بھی برائے ادب، دوبارہ وہ کام کرنے کی زحمت نہیں کی، اور اسکی واضح وجہ اس بات کا میرے لیئے ‘حکم’ ہونا ہے۔ حکم دیتے دوران آپ محکوم کو حقیر سمجھ رہے ہوتے ہیں، اگرباطنی طور پر ایسا نہیں تو کم از کم ظاہری طور پر تو بہر حال ایسا ہی ہے۔ ‘بات’صرف اسوقت ہی ہو سکتی ہے جب بات کرنیوالے برابری کی سطح پر براجمان ہوں، بصورت دیگر ‘جسکی لاٹھی اسکی بھینس’والی مثال صادق آتی ہے۔ اب بھینس کو بالکل خبر نہیں ہوا کرتی کہ اسے ‘ایسا ویسا’ کیوں کہا جا رہا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے

٭سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند دل کو تحفظ فراہم کرتی ہے:

نیند تو سب کو ہی پیاری ہوتی ہے مگر کچھ لوگ اتنے زیادہ مصروف رہنے کے عادی ہوتے ہیں کہ بہت کم سو پاتے ہیں اور اگر کوئی شخص رات میں چھ گھنٹے سے بھی کم سوتا ہو تو اس میں دل کے امراض کا خطرہ سات سے آٹھ گھنٹے تک سونے والوں کے مقابلے میں دوگنا ہوتا ہے ۔نیدر لینڈ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار پبلک ہیلتھ اینڈ دی انوائرمنٹ اور ویلینگن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ سات یااس سے زائد گھنٹے کی نیند دل کی صحت کو بڑھاتی ہے اور ورزش ،خوراک ،تمباکو نوشی وغیرہ کی روایتی نصیحتوں پر عمل نہ بھی کیا جائے تو بھی دل کے امراض کے ہاتھوں بہت سی زندگیوں کوبہتر نیند سے بچایا جا سکتا ہے ۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
کمہار کا یہ گھر.......ایک کچے کمرے اور ایک چھپر پر مشتمل تھا.....بارش شام سے مونسلا دھار ہو رہی تھی....میاں بیوی....دونوں کو ایک ہی فکر کھائے جا رہی تھی....." آوی" کا کیا ہوگا- کچے گھڑے...شاید اس بار بھی پکنے سے پہلے دم توڑ جائیں......کمہارن بار بار آوی کے پاس جا کر دیکھتی..... تفصیل سے پڑھئے
ہماری دنیا پیشوں کی کثرت کی دنیا ہے، اور پیشوں کی بہتات نے لفظ ’’پیشہ ور‘‘ کو تقریباً ایک خطاب اور ایک اعزاز بنادیا ہے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ لفظ پیشہ ور میں ایک جادو ہے، اور یہ جادو اُس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب پیشہ ور کو ’’پروفیشنل‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہمارے زمانے میں پیشہ واریت اتنی بڑھی ہے کہ لفظ پروفیشنل کے ساتھ ’’ازم‘‘ کا بھی اضافہ ہوگیا ہے، اور ’’پروفیشنل ازم‘‘ کی اصطلاح چغلی کھا رہی ہے کہ ہمارے زمانے میں پروفیشنل ازم تقریباً ایک ’’نظریہ‘‘ بن گیا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
اسلامی بینکنگ اور فائنانس دور جدید کی ایک اصطلاح ہے لیکن اس کا تعلق معاملات سے اور اسلام میں معامات کو بڑی اہمیت حاصل ہے لہٰذا اس وجہ سے بھی اس موضوع کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اور اس کے مطالعے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ تجارت کے متعلق بہت ساری حدیثیں موجود ہیں جو مختلف کتب احادیث میں بکھری ہوئی ہیں۔ قرآن نے بھی اچھے تاجروں کی خوبصورت لفظوں میں تعریف کی ہے نیز ان کو بشارت بھی دی گئی ہے کہ نیک ایماندار تجار حضرات قیامت کے دن شہداء اور صدیقین کے ساتھ اُٹھائے جائیں گے۔ تفصیل سے پڑھئے
دنیا کے تمام بازاروں کی طرح شیئر مارکیٹ بھی ایک بازار ہے لیکن اس کی نوعیت اور ماہیت عام مارکیٹ سے تھوڑی مختلف ہے۔ آج کل اس مارکیٹ کی اہمیت روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے اور زیادہ تر پڑھے لکھے تعلیم یافتہ لوگ اس کے قریب آرہے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگ زیادہ تر نوکری پیشہ ہوتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
ایک زمانہ وہ تھا جب دنیا کے افق پر اسلام کا پرچم لہرارہا تھا اور پوری انسانی برادری خوشی کے ساتھ زندگی گزاررہی تھیں۔لیکن گزشتہ چند صدیوں سے جو عظیم انقلاب دنیا میں برپا ہوا جس کے نتیجے میں ہر طرف تباہی وبربادی ہے ۔پوری زندگی کا نظام درھم برھم ہو چکا ہے اور انسان انسان کیلئے تباہی کے اسباب پیدا کررہاہے ۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ایک دفعہ ڈیرہ اسمعیل خان سے ہمارے ایک چچا زاد ہمیں ملنے کھرڑیانوالہ تشریف لائے... میں اس وقت 8 سال کا تھا.... گھر میں عجیب سی چہل پہل ہو گئ ..فورا ہی ایک مرغا قتل ہوا....باجرے کا حلوہ بنا....لسی تازہ کی گئ.... ... مہمان بھی لسی کی طرع کھٹا ہی تھا.....ہمارے لیے نہ تو مٹھائ لایا...نہ پھل فروٹ....شاید گھر سے یہی ھدایت لےکے آیا تھا کہ چھوٹوں کو پیار اور بڑوں کو سلام دینا.  تفصیل سے پڑھئے
اعلان نبوت کے چند روز بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات مکہ کی ایک گلی سے گزر رہے تھے کہ انہیں ایک گھر میں سے کسی کے رونے کی آواز آئی ۔ آواز میں اتنا درد تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے اختیار اس گھر میں داخل ہوگئے۔ دیکھا تو ایک نوجوان جو کہ حبشہ کا معلوم ہوتا ہے چکی پیس رہا ہے اور زارو قطار رو رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رونے کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ میں ایک غلام ہوں ۔ تفصیل سے پڑھئے

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers