اگر دنیا میں صرف لڑکیاں ہی ہوتیں۔۔۔۔ تو یقین جانئے نہ ایٹم بم ایجاد ہوتا۔۔۔۔ نہ ہی کسی طرح کے دوسرے ویپن آف مَیس ڈسٹرکشن ۔۔۔ بلکہ ان کی جگہ "ٹِڈابم"، "چھپکلی میزائل" اور "لیزر گائیڈڈ کاکروچ میزائل" ہوتے۔۔۔۔!!! امن ہی امن ہوتا، نہ ماحول کو خطرہ، نہ دنیا کے بھسم ہونے کا ڈر۔۔!
ایک دفعہ مجھے لڑکیوں کی لڑائی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔۔۔ دو لڑکیاں صرف ایک دوسرے کے بال کھینچ رہی تھیں۔ لڑائی کے اختتام پر فاتح اور مفتوح دونوں لڑکیاں باقاعدہ ہچکیاں لے کے زاروقطار رو رہی تھیں۔
لڑکیاں گاڑی چلانے میں بہت محتاط ہوتی ہیں۔ ان کے گاڑی سڑک پر لاتے ہی دوسرے گاڑیوں والے فوراً محتاط ہو جاتے ہیں۔انہیں صرف گاڑی چلانا آتی ہے۔گاڑی کیسے چلتی ہے؟ ان کے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں۔ اگر کبھی کوئی لڑکی غلطی سے انجن کا ہُڈ کھول کر اندر جھانک لے تو فوراً غش کھا کر گر پڑے۔ان کے نزدیک کاربوریڑ اور ریڈی ایٹر میں صرف سپیلنگ کا فرق ہوتا ہے۔ قارئین ! کیا آپ نے اپنی زندگی میں کسی لڑکی کو گاڑی کا ٹائر تبدیل کرتے دیکھا ہے۔۔۔۔؟ کبھی نہیں!!! کبھی دیکھیں گے بھی نہیں!!! تفصیل سے پڑھئے

بوڑھے بہادر شاہ ظفر کی نبض ہر وقت اس کی جوان ملکہ زینت محل کے ہاتھ میں رہتی تھی۔ وہ جو سبق دیتی تھی، بادشاہ اس پر چلتے رہتے۔ یوں لال قلعہ کی چار دیواری تک محدود مغل سلطنت میں بھی اصل اقتدار ایک عورت کو حاصل تھا۔ بادشاہ اس کے اشاروں پر چلتا تھا۔ افیون لال قلعہ میں مدت سے استعمال ہو رہی تھی، تمام شہزادے اس کے رسیا تھے۔ تمباکو نوشی بھی بہت زیادہ ہوتی تھی۔ بادشاہ حقے کی نے اپنے سے علیحدہ نہیں ہونے دیتے تھے۔ شعر و شاعری کا مشغلہ بھی جاری رہتا، ذوقؔ استاد تھے۔ غالب بھی ’’مصاحبی‘‘ کا دعویٰ کرتے تھے (اگرچہ 1857ء کے ہنگامے کے بعد اس خصوصی تعلق سے انکار کرنے والوں میں وہ بھی شامل تھے) بہادر شاہ ظفر کی شاعری مصنوعی جذبات کی روکھی پھیکی شاعری ہے تاہم جلا وطنی کے زمانے کی غزلیات حقیقی کرب کی نشاندہی کرتی ہیں اور عمدہ شاعری کا نمونہ ہیں۔ بڑھاپے میں جوانی کی سی صحت رکھنے کے لیے بادشاہ کو ہر وقت طاقت و قوت کی دوائوں کی ضرورت رہتی تھی۔ حکیم احسن اللہ، شاہی طبیب تھا۔ یہ حکیم لاجواب تھا اور حکیمانِ وقت میں انتخاب تھا۔ بادشاہ کی نبض اس کے ہاتھ آئی، اس نے وہ ادویات مقویات بادشاہ کو کھلائیں کہ عہد پیری میں نخوت ِشباب مزاج پیدا ہوئی اور وہ مفرحات استعمال میں لایا کہ طبیعت نے کیفیت معاشرت کی دکھلائی۔‘‘ (نتائج المعانی۔ محمود بیگ راحت)


کاکا اور وریام پڑوسی تھے........... ایک دن بکریوں کو پہلے پانی پلانے پر جھگڑا ہو گیا- وریام نے کاکے کی خوب گھونسہ افزائ کی.... جبکہ کاکے نے منجی کا پاوا وریام کے سر پر دے مارا......... وریام کا سر پھٹ گیا اور لوگ اسے ہسپتال لے گئے- کاکا یہ کھڑاک کر کے بہت پریشان تھا - ایک بہی خواہ نے مشورہ دیا کہ اگر ایف آئ آر پہلے درج کرا دو تو تمہاری پوزیشن مظبوط ہو جائے گی....... تفصیل سے پڑھئے

 اس واقعے میں بہت سی ہدایات ہیں مثلا۔۔۔ یہ کے حضرت سلمان علیہ السلام جن کو ایسی بے مثال حکومت اور سلطنت حاصل تھی کے صرف ساری دنیا پر ہی نہیں بلکہ جنات اور طیور اور ہوا پر بھی اُن کی حکومت تھی ۔ مگر ان سب سامانوں کے باوجود موت سے ان کو بھی نجات نہ تھی اور یہ موت تو مقررہ وقت پر آنی تھی بیت المقدس کی تعمیر جو حضرت داؤد علیہ السلام نے شروع کی پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کی تکمیل فرمائی، اس میں کچھ کام تعمیر کا باقی تھا اور یہ تعمیر کا کام جنات کے سپرد تھا جن کی طبعیت میں سرکشی غالب تھی۔۔۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے خوف سے جنات کام کرتے تھے ان کی وفات کا جنات کو علم ہوجائے تو فورا کام چھوڑ بیٹھیں اور تعمیر رہ جائے۔ تفصیل سے پڑھئے
تابوتِ سکینہ ایک صندوق کا نام ہے جو شمشاد کی لکڑی کا بنا ہوا تھا۔اس صندوق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور ان کی جوتیاں، حضرت ہارون علیہ السلام کا عمامہ، حضرت سلمان علیہ السلام کی انگوٹھی، توراة کی تختیوں کے چند ٹکڑے، کچھ من و سلویٰ اور انبیاءعلیہ السلام کی صورتوں کے حلیئے وغیرہ موجود تھے۔بنی اسرائیل میںیہ صندوق بڑا ہی مقدس اور بابرکت سمجھا جاتاتھا۔یہ لوگ جب کفار سے جہاد کرتے اور کفار کے لشکروں کی کثرت اور شان و شوکت دیکھ کر سہم جاتے تو وہ اس صندوق کو اپنے لشکر کے ساتھ رکھ لیتے تھے۔ اس صندوق سے رحمتوں اور برکتوں کا ایسا ظہور ہوتا کہ ان کے دلوں میں سکون و اطمینان پیدا ہوجاتا اور ان کے لرزتے ہوئے دل پتھروں کی چٹانوں سے زیادہ مضبوط ہوجاتے۔ آسمان سے فتح و نصرت نازل ہوتی اور یہ جنگ میں فتح یاب ہوجاتے تھے۔ تفصیل سے پڑھئے

قاضی عیاض مالکیؒ اہل علم کے طبقے میں محتاج تعارف نہیں۔ آپؒ کی البیلی کتاب ’’الشفائ‘‘ نے آپ کا تعارف چار دانگ عالم میں کردیا ہے۔ تاہم عام قارئین کے لیے آپؒ کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ہمارے لیے نافع فرمائے۔ آمین---------حضرت قاضی عیاضؒ اندلس کے مشہور عالمِ دین ہیں۔ اپنے وقت میں آپ کے علوم کا طوطی بولتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپؒ کو گوں ناگوں صفات سے نوازا تھا۔ نحو، ادب، فقہ اور تاریخ میں خاص طور پر یدطولیٰ رکھتے تھے۔ تفصیل سے پڑھئے

کسی گاوں میں ایک نو جوان رہتا تھا۔۔ پڑھائی  لکھائی جب ختم ہوئی تو والدین نے نوکری کے لئے دباو ڈالنا شروع کر دیا۔ کئی  مہینے وہ نوکری کی تلاش میں پھرتا رہا لیکن کہین نوکری نہ ملی۔۔ ایک دن تھک ہار کر خود سے بولا رزق تو اللہ کی ذات نے دینا ہے۔ اب میں نوکری کی تلاش میں نہیں پھروں گا بلکہ  سکوں سے زندگی گزاروں گا۔۔ اللہ رازق ہے تو گھر بیٹھے ہی رزق دے گا۔۔ تفصیل سے پڑھئے

(چھوٹے بھائ کے نام خط لکھئے اور وضاحت کیجئے کہ آپ نے کن حالات میں اپنے گھر کو چھوڑا....)
مورخہ 30 اکتوبر
11 الفورڈ اسٹریٹ
ٹورینٹو پوسٹ بکس 34690
پیارے بھائ
اسلام علیکم......
میں خیریت سے ہوں اور آپ کی خیریت خداوند تعالی سے نیک مطلوب "چاہتا" ہوں.....بعد از احوال آنکہ....بندہ .معذرت خواہ ہے کہ جاتے ہوئے خواہ مخواہ تلخی ہو گئ.........امید ہے معاف فرمادیویں گے....دراصل بندہ یورپ کے معطر ماحول میں رہ کر اس قدر عطاری صفت ہو گیا ہے کہ محلے کی نہاری صفت خوشبو سے بھی دماغ پھٹتا ہے......کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے.... تفصیل سے پڑھئے

محبت کیا ہے.....؟؟
  ہم لوگ مادہ پرست ہیں ہماری محبتیں تو اب غیر محرموں ،مال و دولت ،نفسانی خواہشات،دنیاوی ترقی،دنیاوی شان و شوکت تک رہ گئی ہیں ہم اس محبت میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں کہ حلال و حرام کا فرق تک دکھائی نہیں دیتا
آئیے میں آپ کو دکھاتا ہوں محبت کیا ہوتی ہے
چودہ سو سال قبل رات کی تاریکی میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دو جہانوں کے سردار،خیر البشر صلی اللہ علیہ وسلم گڑاگڑا کر اللہ سے ان لوگوں کے لیے معافی اور عفو و درگزر کی درخواست کر رہےہیں جن لوگوں کا ابھی وجود تک نہیں ہے- تفصیل سے پڑھئے
دجال یہودیوں کی نسل سے ہوگا جس کا قد ٹھگنا ہو گا ،دونوں پاؤں ٹیڑھے ہو نگے ۔ جسم پر بالوں کی بھر مار ہوگی ،
رنگ سرخ یا گندمی ہو گا سر کے بال حبشیوں کی طرح ہونگے،ناک چونچ کی طرح ہو گی، بائیں آنکھ سے کانا ہو گا دائیں آنکھ میں انگور کے بقدر ناخنہ ہو گا۔ اس کے ماتھے پر ک، ا، ف، ر لکھا ہوگا، جسے ہر مسلمان بآسانی پڑھ سکے گا ،
اس کی آنکھ سوئی ہوگی مگر دل جاگتا رہے گا شروع میں وہ ایمان واصلاح کا دعویٰ لے کر اٹھے گا، لیکن جیسے ہی تھوڑے بہت متبعین میسر ہوں گے وہ نبوت اور پھر خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ اس کی سواری بھی اتنی بڑی ہو گی کہ اسکے دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ ہی چالیس گز کاہو گا . تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

اگر آپ واقعی اس بارےمیں فکر مند ہیں اور صحیح معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کو توجہ کے ساتھ مکمل پڑھ یں ۔
بہت سے لوگ پوچھ رہے ہیں داعش کو کس نے بنایا اور داعش کیوں بنی اور اس میں کون لوگ ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ ۔ ۔
جہاں تک میری معلومات ہے تو یہ داعش کوئی آج کی تنظیم نہیں ، یہ تو بہت پہلے سے اپنی ویڈیو شایع کر رتی ہے ، امریکہ کے عراق پر حملہ کرنے کے بعد اس تنظیم کی ویڈیو آنا شروع ہوئی جس میں سنائپر سے امریکی و عراقی فوجیوں کو مارتا دکھایا گیا اور امریکی ٹینک اور بکتربند گاڑیوں کو زمیں میں نصب بارود سے اُڑاتا دکھایا گیا- تفصیل سے پڑھئے

میرے لیے یہ بات بے حد تشویشناک ہے کہ میں اور میراخاندان صحت مند تفریح سے محروم ہو چکے ہیں۔ کھانے کی میز سے لے کر تعطیلات تک ہمارے پاس خوش ہونے اور خوشی کا اظہار کرنے کے مواقع اس قدر کم ہوچکے ہیں کہ سوشل میڈیا ویب سائٹس اور ٹی وی پروگرامز کے سوا کوئی تفریح باقی نہیں رہی۔ کبھی کبھار تہواروں پررشتہ داروں سے رسمی ملاقاتوں، خریداری، خاندانی تقریبات یا کہیں باہر کھانا کھانے جیسی سرگرمیوں کے بہانے گھرسے نکلنے کے مواقع کے سواخاندان خصوصاً خواتین کے لئے باہر نکلنا ممکن نہیں رہا۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا مگر مجھے تو اب لگنے لگا ہے کہ پاکستانی سیاست کا دماغ بھی نہیں ہوتا۔ کہنے کو تو میرا دل بھی بہت کچھ چاہتا ہے مگر کیا کروں صاحب نہ تو میں کسی پارٹی کا چئیرمین ہوں نہ ہی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر، نہ سندھ کا وزیرِجیل خانہ جات اور نہ ہی پاکستان کا وفاقی وزیرِ داخلہ، نہ قائد انقلاب ہوں اور نہ کسی مذہبی جماعت کا امیر۔ میں تو غریب ہوں بلکہ عجیب و غریب جسے صبح کی روشنی نکلنے سے رات کی تاریکی طاری ہونے تک ہر تاریخ، دن اور مہینہ بہتری کی ایک امید کے سہارے گزارنا پڑتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میری پھر بھی مزے میں گزر جاتی ہے اور پھر ایک دنگزارا کرتے کرتے میں ہی گزر جاتا ہوں۔ تفصیل سے پڑھئے
کسی بھی ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ نوجوان ہوتے ہیں۔ ان کو جذبے، صلاحیتوں اور آگے بڑھنے کی امنگ سے لبریز ہونے کی وجہ سے معاشرے کا سب سے فعال طبقہ تصور کیا جاتا ہے۔ جس بھی قوم نے ترقی کی اس نے نوجوان طبقے پر گہری توجہ دی۔ کیونکہ نوجوان جس مقصد کے لیے میدان میں نکل آئیں تو آخری دم تک مقصد حاصل کرنے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار میاں جی کو دیکھا تھا.........سرخ و سفید لمبی داڑھی...سر پر پگڑی اور ہاتھ میں لمبی سی ڈانگ.....میں اسے بچے اٹھانے والا پٹھان سمجھا........ .اور بھاگ کر چارپائ کے نیچے چھپ گیا....پتا نییں کتوں کو میاں جی سے کیا پرخاش تھی کہ انہیں دیکھتے ہی بے تحاشا بھونکتے تھے..... تفصیل سے پڑھئے
“نہیں نہیں یہ نہیں ہوسکتا “نپولین چیخ اٹھا ۔۔۔
یہ فرانس کا بادشاہ نپولین سوم تھا ۔ اسے جب فوج کا بجٹ دکھایا گیا تو اس کی حیرت کی انتہاء نہ رہی جب اس نے بجٹ کا ایک بڑا حصہ مکھن کے لیے پایا جو کہ فوجیوں کو ناشتے میں ڈبل روٹی پر لگا کر کھلایا جاتا تھا۔
نپولین سوم کا یہ قول مشہور تھا کہ اپنی عوام کی ضروریات اچھی طرح پوری کرو اور دوسرے ممالک سے اچھے تعلقات رکھو تمہاری حکومت کوئی نہیں گرا سکتا- تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ضلع بہاولنگر ..... تحصیل ہارون آباد ..... چک ساٹھ فور آر...... یہ ایک خالص زرعی گاؤں ہے.....اور اس کے باسی انتہائ محنتی اور ملنسار ہیں.چاچا طفیل یہاں کا ایک متوسط زمیندار ہے....شام ہوتے ہی اس کی بیٹھک پر دوستوں کا میلا سا لگ جاتا ہے....اسکے مصاحبان خاص میں ماسٹر اللہ داد....حنیف گھوڑا ...بابا رونقی ...اور شیر عالم سر فہرست ہیں...نزیر دکاندار بھی محفل کا پارٹ تائم ممبر ہے اور دکان اور چاچے طفیل کے درمیان روزانہ دس بیس چکر لگاتا ہے. تفصیل سے پڑھئے
al-quran
اسلام علیکم ۔ آج میں نے سوچا کہ قرآن مجید کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ کیا جائے اس لئے اس کی سورتوں اور آیات کی ترتیب کے حوالے سے لکھنا شروع کر رہا ہوں۔
سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل صحابہ کو کاتب وحی مقرر فرمایا تھا
۱حضرت ابوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ ،
۲ عمرفاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ،
۳ عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ،
۴ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ،
۵ معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ،
۶ زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ،
۷ ابی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ،
۸ خالد بن ولیدرضی اللہ تعالٰی عنہ،
۹ ثابت بن قیس رضی اللہ تعالٰی عنہ،۔ تفصیل سے پڑھئے
یوایس بی یعنی Universal Serial Bus کی ضرورت ہر اس شخص کو پڑتی ہے جو کمپیوٹر استعمال کرتا ہے۔ یو بی ایس کو مختلف الیکٹرانک ڈیوائسز کو جوڑنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ فلاپی ڈسک کے مقابلے میں یوایس بی کے ذریعے ڈیٹا ٹرانسفر کرنا زیادہ آسان اور تیزرفتار ہے۔ تاہم یہ امر ہر یوزر کے لیے تشویش ناک ہوگا کہ آسانی فراہم کرنے اور وقت بچانے والی یوایس بی آپ کے کمپیوٹر کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
گذشتہ دنوں لاس ویگاس میں منعقد ہونے والی  Black Hat Hackers Conference کے دوران جرمن محققین نے یوایس بی چپ میں وائرس اور مال ویئر کی نشان دہی کرکے ساری دنیا کو پریشانی سے دوچار کردیا ہے۔
کانفرنس کے موقع پر کیے جانے والے تجربات میں وائرس کا شکار ایک یوایس بی کو جب کمپیوٹر سے لگایا گیا تو کمپیوٹر نے اسے بہ طور کی بورڈ پہچانا۔ مزید تشویش ناک امر یہ ہے کہ یوایس بی میں موجود وائرس آپ کے کمپیوٹر کی دبائی جانے والی ہر ’’کی‘‘ کا حساب رکھ سکتا ہے۔ اس طرح نہ صرف آپ کی ذاتی معلومات بل کہ خفیہ ترین پاس ورڈز بھی بغیر کسی تگ ودو کے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
مزید خطرناک بات یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی اینٹی وائرس ایسی یوایس بی کو شناخت نہیں کرسکتا، چناں چہ یوزر کو کبھی بھی اپنے کمپیوٹر کے ہیک ہوجانے کا پتا نہیں چلے گا۔
فی الوقت یوایس بی کے ذریعے ہیکنگ کا کوئی توڑ دریافت نہیں کیا جاسکا ہے۔ جب تک اس کا توڑ دریافت نہیں کیا جاتا آپ اپنے کمپیوٹر میں یو ایس بی لگانے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیجیے۔
پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک شخص اکیلا جنگل میں چلا گیا ۔اس نے وہاں ایک جھونپڑی بنائی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہوگیا ۔بھوک لگتی تو وہیں جنگل سے پھل وغیرۃ توڑ کر کھا لیتا  اورپانی ،پانی کی تو کوئی تنگی نہ تھی پاس ہی ایک صاف اور ٹھنڈے پانی کا چشمہ بہہ رہا تھا جب دل کرے جاکر پانی پی لو ،وضو کرلو ۔وہ جنگل میں صرف اللہ کی عبادت کرنے اور اسے راضی کرنےکی غرض سے آیا تھا۔سو وہ ہر وقت عبادت میں غرق رہتا ۔جنگل میں آنے کے تقریباً ایک ہفتہ کے بعد اسے خیال آیا کے مجھے کیسے پتہ چلےگا کہ میرا  اللہ مجھ سے راضی ہو ا ہے یا نہیں ۔کافی دیر سوچتا رہا پھر اسکے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔اس نے جنگل سے ایک سوکھی لکڑی لی اور اسے اپنی جھونپڑی نما گھر کے سامنے گاڑ دیا ۔اور اللہ سے دُعا مانگی :- تفصیل سے پڑھئے
ڈاکٹر ہرمن بورہیو کے انتقال کے بعد ان کا سامان کھولا گیا‘ سامان میں تین سوٹ‘ لکھنے کے چار قلم‘ کاغذوں کے درجنوں دستے‘ ایک چھتری‘ ایک بیڈ‘ ایک رائٹنگ ٹیبل‘ ایک آرام کرسی‘ کھانے کے چند برتن اور ایک کتاب تھی‘ کتاب مخملی غلاف میں لپٹی تھی‘ غلاف کھولا گیا ‘ کاغذ کا لفافہ برآمد ہوا‘ لفافے پر سیل لگی تھی اور سیل کے ساتھ ڈاکٹر ہرمن بورہیو کے ہاتھ سے لکھی تحریر تھی ” یہ کتاب میری پوری زندگی کی طبی تحقیق کا نچوڑ ہے‘ تفصیل سے پڑھئے
”مکھن“یہ وہ لفظ تھا جس نے پچھلے  ایک گھنٹے سے مجھے تنگ کر رکھا تھا۔ میں حسبِ معمول اتوار کو بچوں کا اسلام پڑھ رہا تھا۔پڑھتے پڑھتے اشتیاق احمد کی تحریر ”مکھن کی کہانی “پر نظر پڑی ۔تحریر  پڑھنی شروع کی ،پڑھتا گیا اور آخر ختم کر کے اٹھا۔تحریر کا مختصر خلاصہ بیان کیے دیتا ہوں۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
’ کونتریبٹور‘ کو ملنے والی رقم کا ایک حصہ گوگل کو جاتا ہے- گوگل نے ایک ایسے منصوبے کا اعلان کیا ہے جو انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو اشتہارات کے بغیر ویب سائٹیں دیکھنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔’ کنٹریبیٹور‘ نامی سروس کو صارفین ایک سے تین ڈالر کی ماہانہ فیس دے کر اشتہارات کے بغیر ویب سائٹیں دیکھ سکیں گے۔ اس سہولت کو استعمال کرنے والے صارفین جب اس سکیم کے ساتھ جڑی ہوئی کس بھی ویب سائٹ کا دورہ کریں گے تو اشتہارات کے بجائے انھیں ’پکسلیٹڈ‘ یا مختلف حصوں میں تقسیم ہوئے نمونے نظر آئیں گے۔ تفصیل سے پڑھئے
”ہوائی قلعے اور شاہی قلعے میں کیا فرق ہے“میرا یہ سوال دوستوں کو پسند آیا اور سب گہرائی میں جانے لگے۔ حالانکہ شاہی قلعے بھی آجکل ہوائی قلعے بن چکے ہیں۔ ۔ اور ہوائی قلعے بنانے والے شاہی قلعوں سے بھی بڑے بڑے قلعے بنا رہے ہیں اور جاگتے میں سہانے خواب دکھا رہے ہیں۔محمد فائید نے ہمیں شرمندہ کر دیا جب شاہی قلعہ میں پھرتے ہوئے اچانک وہ بول اٹھا۔ تفصیل سے پڑھئے
جمعہ عیدالمومنین ہے۔ مبارک و مقدس دن جس کی فضیلت قرآن مجید میں ہے۔عام مسلمانوں کے لئے ہمیشہ سے جمعہ کی زبردست اہمیت رہی ہے۔ کیوں کہ کم از کم اس ایک دن تو وہ واقعی مسلمان نظر آتا ہے۔ مساجد نمازیوں سے تنگ دامنی کاشکوہ کرتی ہیں۔اتنی تعداد میں مسلمانوں کو دیکھ کر دیگر ابنائے وطن پر ایک عجیب سا رعب دبدبہ طاری ہوجاتا‘ اور وہ اکثر یہ سوچنے کے لئے مجبور ہوجاتے کہ اگر پانچوں وقت مسلمان اتنی تعداد میں مساجد میں آنے لگیں تو کیا ہوگا‘ دوسری اقوام کو ہمیشہ نفسیاتی طور پر احساس کمتری کا شکار رہنا ہوگا۔ عام مسلمان اِس دن کا خاص طور پر اہتمام کرتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
سنگترہ قدرت کے عمدہ تحائف میں سے ایک ہے۔ یہ ترش پھلوں میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔ سنگترے کا اصل وطن جنوبی چین ہے۔
شفا بخش قوت اور طبی استعمال:۔ سنگترہ پہلے سے ہضم شدہ غذا کی ایک صورت ہے کیونکہ سورج کی شعاعوں سے اس میں موجود نشاستہ آسانی سے جذب ہوجانے والی شوگر میں تبدیل ہو چکا ہوتا ہے۔ چنانچہ کھانے کے فوراً بعد سنگترے کی شوگر خون میں جذب ہو جاتی ہے اور فوراً بدن کو حرارت اور توانائی مہیا کرتی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
حدیث میں علماء کو ورثۃ الانبیاء کہا گیا ہے ۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ مسلمانوں کے معاملات ومسائل سے جو دلچسپی نہ لے وہ ہم میں سے نہیں ۔ چونکہ پیغمبر کو اپنی امت کی فکر ہمیشہ لاحق رہتی ہے اس لئے امت کے مسائل کی فکر کرنا اور امت کی پریشانیوں سے بیچین ہونا اور ان کے غم کو اپنا غم بنانا اوامت کی صحیح فکری رہنمائی کرنا پیغمبروں کی وراثت ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ اہل علم جنہوں نے اسلامی دنیاکے حالات پر اپنی نگاہ رکھی ہے اور جنہوں نے عالم اسلام کے غم کو اپنا غم بنایا ہے ۔ تفصیل سے پڑھئے
* آج کے دور کو سائنس کی ترقیات اور چمک ودمک کا دور کہاجاتاہے اور اس کی ایجادات میں سب سے زیادہ اور تیزی کے ساتھ فروغ پانے والی ایجاد الیکٹرانک میڈیا( برقی ذرائع ابلاغ) ہیں جنکی ایک قسم ٹیلی ویژن ہے جو بذاتِ خود تو بری نہیں لیکن اس کا بیجا استعمال ضرور نقصا ن دہ ہے، ٹیلی ویژن کے پھیلاؤ کا یہ عالم ہے کہ آج ہر گھر میں اس کی پہونچ ہوگئی ہے ، کھاتے پیتے شہری ہی نہیں،جھگیوں اور مواضعات میں رہنے والے بھی ٹی وی دیکھ کر اپنی تفریح کا سامان کرلیتے ہیں خاص طور پر جب سے سیٹلائٹ چینل اور کیبل ٹی وی کا چلن بڑھا ہے توٹی وی کا دائرہ بڑھتا جارہا ہے- تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
میں نے اپنی ڈیوٹی ساتھی سیکیوریٹی گارڈ کے حوالے کی اور ٹوپی سنبھالتا بینک بلڈنگ سے باہر آگیا.....فیڈرل گورنمنٹ کاج سے فیصل ایوینیو کی طرف جاتے ہوئے سوچا ایوبیہ مارکیٹ سے کچھ سامان پارچہ جات خریدتا چلوں....کہ اچانک.... دھماکے کی آواز سنی....اور کچھ لوگوں کو روڈ کی طرف بھاگتے دیکھا.....میں بھی تجسس کے گھوڑے پر سوار اس طرف دوڑا.....ایکسیڈنٹ بلا کا تھا ایک کار اور بس کا..........تفصیل سے پڑھئے
انا پرستی کا مطلب ہے ہر حال میں اپنی بات پر ڈٹے رہنا چاہے وہ غلط ہو یا ٹھیک ہو، دوسرے لفظوں میں بضد ہو جانے کو انا پرستی کہتے ہیں . انا پرستی میں کبھی کبھی انسان حیوانیت کی تمام حدیں پار کر جاتا ہے. دنیا کے ہر انسان میں انا کا مادہ پایا جاتا ہے کبھی انسان چھوٹی چھوٹی باتوں کو انا کا مسلہ بنا لیتا ہے اور کبھی بڑی بڑی رنجشوں کو ہوا میں اڑا دیتا ہے ،ہر معاشرے اور علاقے کے افراد ، یا پھر ہر خاندان کی کلچرل انتھروپولوجی(cultural anthropology) ایک دوسرے سے یکساں نہیں ہوتی- تفصیل سے پڑھئے
سفید لٹھے کی تہمد......دو گھوڑا بوسکی کی گھیرے دار قمیض.... .....سر چٹو کی طرع صاف......کندھے پر دھرا طرع دار پٹکا.....اور..چم چم کرتی سھراب سائیکل کے ہینڈل سے جھولتا چرمی بستہ.....یہ لحیم شحیم شخص.....ہر 6 ماہ بعد ہمارے ڈیرے پر وارد ہوتا.....اور دیکھتے ہی دیکھتے ڈیرے کی پرسکون فضاء میں ہلچل مچ جاتی....بالکل وہی ہلچل جو میرے پرائمری سکول میں ADO صاحب کے دورے سے مچتی تھی- اس ناگہانی آفت پر میری پہلی پناہ ماں کی گود ہوتی .اور میں سوندھی گود کے دریچوں سے چھپ چھپ کر اس دیوہیکل مخلوق کو دیکھتا...... تفصیل سے پڑھئے
آج میری بیش قیمت گھڑی گودی پر ورکنگ کے دوران سمندر میں گر گئ - اسکی قیمت تقریبا 1800 روپے پاکستانی تھی-6 ماہ پہلے خریدی تھی-اس سودے میں میں نے اپنے ذاتی خزانے کو 3000 کا نقصان پہنچایا- کیونکہ گھڑی خریدنے کے کچھ عرصہ بعد پتا چلا کہ یہ جعلی ہے- تفصیل سے پڑھئے
دوسری عورت کے ساتھ ڈیٹ ايك رلادینےوالی تحریر- شادی کے اکیس برس کے بعد آخر میری بیوی کے دل میں نیکی لہرائی کچھ کہنے سے پہلے وہ جھجکی،شرمائی
اپنے دل کی وسعت پر تھوڑا اِترائی
پھر بولی
آج اس عورت کو تم ڈیٹ پہ لے جاؤ
جو تمہاری چاہت میں دیوانی ہے
جس کی بھیگی آنکھوں میں ویرانی ہے
مجھ کو تم سے پیار بہت ہے
تم سے دو لمحے کی دُوری،گو کارِ دشوار بہت ہے
پر میرا دل نرم بہت ہے
آنکھوں میں بھی شرم بہت ہے
اور اس بات کا علم ہے مجھ کو
وہ عورت بھی تم سے ملنے کی طالب ہے
چاہ تمہاری اس کے دل پر بھی غالب ہے
وہ تنہا ہے ،دوری کا دکھ سہتے سہتے اُوب چکی ہے
اکلاپے کے ساگر میں وہ چپکے چپکے ڈوب چکی ہے
میری بیوی نے جس عورت سے ملنے کی چھٹی دی تھی
میری ماں تھی-   تفصیل سے پڑھئے
انسانی زندگی کے تین اہم دور ہیں ۔ بچپن ، جوانی ، بڑھاپا - انسانی زندگی کا سب سے اہم ترین دور جوانی کا دور ہوتا ہے ، اس دور میں انسان کے اندر نشاط وچستی او رطاقت وقوت کا ایک لاوا پک رہا ہوتا ہے ، ایک خطرناک جسدی طاقت اسے کچھ کر گزرنے پر مجبور کرانسانی زندگی کا سب سے اہم دور رہی ہوتی ہے ، اس دوران نفسانی خواہشات انسان کو بہکانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ...... اس دور میں انسان کو ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔ تفصیل سے پڑھئے
پروین شاکرکو کھوئے ہوؤں کی جستجو کرنے والی شاعرہ کہا جاتا ہے۔ بھارتی صحافی رضوان احمد نے اس منفرد شاعرہ کی منائی جانے والی برسی کی مناسبت سے کچھ یادیں ان الفاظ میں رقم کی ہیں- پروین شاکراردو شاعری میں ایک تتلی کی طرح رونما ہوئیں اور قوس قزح کے رنگ بکھیر کرفضا میں غائب ہو گئیں۔ تفصیل سے پڑھئے
تاریخی شہر بیت المقدس (یروشلم) میں ایک چھوٹا سا کونہ ایسا ہے جو ہمیشہ سے ہندوستان سے منسوب رہا ہے۔ اگر ہمیشہ نہیں تو گذشتہ آٹھ سو برس کی تاریخ تو ہمیں یہی بتاتی ہے اور اس جگہ کے موجودہ متولی کا دعویٰ ہے کہ ان کا گھرانہ آنے والی نسلوں تک یہاں بھارت کا پرچم لہراتا رہے گا۔ سنہ 1200 کے لگ بھگ جب صلاح الدین ایوبی کی فوجوں نے صلیبیوں کو یروشلم سے نکال باہر کیا تو ہندوستان سے آئے ہوئے ایک درویش نے اس شہر میں قدم رکھا۔ تفصیل سے پڑھئے
تینوں درویش اپنا اپنا احوال حاضر کر چکے تو چوتھے رفیق پر توجہ کی جو ایک خستہ رداء اوڑھے اونگھ رہا تھا -یاران بدبخت کی آہٹ پا کر اس کفنی پوش نے آنکھیں واء کیں...پہلو بدلا...بارے گڈری سے ایک ولائیتی سگار نکال آتش دکھائ.....اور یوں گویا ہوا :- تفصیل سے پڑھئے
آج کل ہر نوجوان کا سرورق اس قدر درد ناک ہے ۔ کتاب کھولنے سے پہلے ہی دل ڈولنے لگتا ہے ۔ پاکستان کی نوجوان نسل تین حصوں میں تقسیم ہے ۔
کچھ کے ہاتھوں میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گٹار
کچھ کے ہاتھوں میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہتھیار
دوراہے پر کھڑے.......... بیر وزگار    
ہر چہرہ اپنی بے بسی کا عملی نمونہ پیش کر رہا ہے عملی صلاحیت سے مستفید ہونے والا نوجوان طبقہ بھی روزگار نہ ملنے کے سبب مالی مشکلات سے دو چار ہے ۔ اور ان نوجوانوں نے مشکلات سے نمٹنے کے لیے اپنی سوچ کا دھارا تبدیل کر لیا تاکہ پیٹ کی آگ کو بجھایا جا سکے۔ نوجوان نسل نے منشیات اور اسمگنگ کا دھندا اختیار کیا اور ذلت و رسوائی کا راستہ اپنا کر من کی آگ کو بجھانا چاہا ۔

دل آج پھر کوئے ملامت کو جائےہے
پندار کا صنم کدہ ویراں کئے ہوئے

یہ جائزہ چند پڑھے لکھے جوانوں کا ہے اب اس طبقے کے برعکس ان نوجوانوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالیے جو علم کے زیور سے نا آشنا ہے ۔ جن کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں۔ ان کے ہاتھوں میں قلم کے بجائے کلاشنکوف ہے ۔ آخر اس طبقے نے بھی تو گزر بسر کرنی ہے ۔ نوجوانوں کا یہ گروہ لوٹ مار ۔ ڈاکہ زنی اور دیگر گھناؤنے جرائم ملوث ہو جاتا ہے ۔ بعض نوجوان حالات سے تنگ آکر خود کشی کا راستہ اپنا لیتے ہیں ۔ آخر اس کی ذمہ داری والدین پر ہے یا حکمرانوں پر ۔ لیکن میرے اس نظریے سے شاید چند ایک کو اختلاف ہو میں ارباب اختیار کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتی ہوں ۔ اس لیے کہ والدین یہ نہیں چاہتے کہ ان کی اولاد زیور تعلیم سے آراستہ نہ ہو لیکن ان کے پاس مالی وسائل نہ ہونے کے باعث ان کی اولاد بےراہ ر وی کا شکار ہو جاتی ہے ۔ نوجوانوں کو تعلیم اور روز گارکے مو اقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی نے اپنے دور حکومت میں فرمایا کہ دریا نیل ۔۔ کے کنارے اگر کوئی کتا بھی بھوک سے مر جائے روزِمحشر مجھے اس کا جواب دینا ہو گا ۔۔ کاش ہمارے اربابِ اقتدارو اختیار دونوں اپنے فرائض منصبی کو سمجھ سکیں اور پاکستان کی نوجوان نسل جس نے مستقبل قریب میں ملک کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے اس پر توجہ دیں تاکہ نوجوانانِ پاکستان کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔
 
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
 میرے اکثر دوست سوال کرتے ہیں کہ جمہوریت کیا ہے ؟ تم جمہوریت اور کرپٹ سیاستدانو ں کے بجائے فوج پر تنقید کیوں کرتے ہو؟فوجی دور میں جمہوریت سے زیا دہ ترقیا تی کام ہوتے ہیں ، جمہوریت میں چند خاندانو ں کی حکمرانی ہے وغیرہ وغیرہ۔ میں اپنے دوستوں کو ہمیشہ قا ئل کرنے کی ناکا م کوشش کرتا ہوں کہ جمہوریت ہی وہ نظا م حکو مت ہے جس میںعا م آدمی کی آواز سنی جاسکتی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
عورت اور مرد دریا کے دو کنارے ہوتے ہیں جو متوازی ہوتے ہیں مگر ان کے بغیر زندگی کا بڑھنا ممکن نہیں ہوتا۔
جیساکہ آپ نے پڑھا ہی ہوگا کہ پاکستان ایک بار پھر صنفی مساوات کی عالمی فہرست میں بدترین ممالک میں سے ایک قرار پایا ہے حالانکہ یہ مساوات کیسے ہوسکتی ہے جب پہلے ہی صنف نازک کو موئے مردوﺅں پر برتری حاصل ہے۔
یقین نہیں آتا ؟ تفصیل سے پڑھئے
بلوچستان میں ’’قلعہ میری‘‘ کے نام کے دو قلعے موسوم ہیں۔ ایک ’’قلعہ میری‘‘ کوئٹہ چھائونی میں ہے۔ یہ مٹی کا بنا ہوا ہے دوسرا قلات میں ہے۔ ’’ قلعہ میری‘‘کوئٹہ کو دور سے دیکھیں تو ایک پراسرار افق کے طور پر دکھائی دیتا ہے اس قلعے پر انگریزوں نے 1875ء کے بعد قبضہ کیا تھا اس وقت یہ قلعہ خان قلات کی ملکیت تھا۔ انگریزوں نے اسے 99 سال کے لیے خان قلات سے مانگا تھا اور اسے Arsnel کے طور پر استعمال کیا تھا۔ دوسرا’’قلعہ میری‘‘ قلات، کسی سیاح کو سفر کی دعوت دیتا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
کالم نگار بنیے اخبارات میں ’’پُرکشش بَنیے‘‘ اور ’’اکاؤنٹنٹ بَنیے‘‘ کی سرخیاں پڑھ کر ہم چونک جایا کرتے تھے۔ خیر اکاؤنٹنٹ کا ’’بنیا‘‘ ہونا تو سمجھ میں آتا ہے، مگر بنیے کا ذکر چھڑتے ہی توند، گنجے سر، لالچ، خود غرضی اور سفاکی سے بھری آنکھوں والے جس ساہو کار کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے، اس میں کشش کہاں! لہٰذا ایک روز ہم نے اپنے دوست ’’داناہوشیار پوری‘‘ سے پوچھا، ’’کیا بنیے بھی پُرکشش ہوتے ہیں؟‘‘ بولے ’’آپ نے یقیناً عالمی مالیاتی اداروں کے حکام اور بینکوں کے منتظمین کو نہیں دیکھا۔  تفصیل سے پڑھئے
تیسرا درویش چوکڑی بھر بیٹھا - پھر جیب سے ایک نقرئ ڈبیا ,کہ جس پر زرنگار جڑے تھے , نکالی , اس سے ایک کامل چٹکی نسوار کی ڈالی اور ایک باریک پچکاری مار یوں گویا ہوا;
یہ سرگزشت مری ذرا کان دھر سنو
مجھ کو فلک نے کردیا زیروزبر سنو
اے یاران آوارہ گرد ! یہ فقیر آزاد منش تین ماہ سے کچھ اوپر اس دھرنے میں موجود ہے -میری پیدائش اور ملک اس درویش کا میراں شاہ شمالی وزیرستان ہے- تفصیل سے پڑھئے

حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، رحمتِ عالم، نورِ مجسَّم شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''بےشک اللہ عزوجل اپنے بندوں میں سے ان کو زیادہ پسند فرماتا ہے جو مخلص ، پر ہیز گار اور گمنام ہوتے ہیں ، جن کے چہرے گرد آلود ، بھوک کی وجہ سے پیٹ کمر سے ملے ہوئے ، اور بال بکھرے ہوئے ہوں ، اگر وہ امراء کے پاس جانا چاہیں تو انہیں اجازت نہ ملے ، اگر کسی محفل میں موجود نہ ہوں تو کوئی ان کے متعلق سوال نہ کرے ، اوراگر موجود ہوں تو کوئی انہیں اہمیت نہ دے ، اگر وہ کسی سے ملاقات کریں تو لوگ ان کی ملاقات سے خوش نہ ہوں ، اگر وہ بیمار ہوجائیں تو کوئی ان کی عیادت نہ کرے ، اور جب مرجائیں تو لوگ ان کے جنازہ میں شریک نہ ہوں ۔ تفصیل سے پڑھئے
انسان کی فطرت میں یہ چیز داخل ہے کہ وہ غموں اور دکھوں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور خوشیوں، مسرتوں کی تلاش میں رہتا ہے، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ وہ ہمیشہ شادمانی و رحمت سے ہمکنار رہے اور رنج و الم سے یکسر محفوظ سطح پر موجوں کا اضطراب جس طرح روايتی دریا کا پتہ دیتا ہے اسی طرح زندگی کے دکھ تسلسل حیات کی غمازی کرتے ہیں، دکھ کے بعد سکھ اور سکھ کے بعد دکھ کا آنا فطری امر ہے۔
دکھ ہمارے لیے صبر و استقلال، نفسیاتی جزبات، عقل و ہمدردی اور ایمان کے تحفے لے کر آتا ہے اگر ان تحفوں سے منہ پھیر لیں تو ہم کو بزدلی، کمزوری، مایوسی جیسی کیفیات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔
دکھ کی شدت میں انسان کو خدا تعالی یاد آتا ہے اور انسان خدا تعالی کے نزدیک ہو جاتا ہے۔
اگر انسان سکھ و آسائش کی زندگی بسر کرنا چاہتا ہے تو دوستوں سے مخلصانہ اور دشمنوں سے عفو و درگزر کا رویہ رکھنا چاہۓ۔
زندگی میں دکھ اور بے اطمینانی کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے حال سے کبھی مطمن نہیں ہوتے۔
سکھ حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دوسروں کو سکھ پنہچایا جاۓ۔
زندگی کا سب سے بڑا یقین یہ ہے کہ کوئ ہم سے محبت کرتا ہے۔
سکھ باہر سے ملنے والی چیز نہیں ہے بلکہ وہ ہمارے اندر موجود ہے لیکن غرور چھوڑے بغیر اسے نہیں پایا جا سکتا۔
کوئ کسی کے دکھ پوری طرح نہیں بانٹ سکتا کیونکہ ہر دکھ کی تہہ میں اس شخص کے ذاتی راز ہوتے ہیں۔
انسانی عظمت کے نکھار کے لیے صبر و تحمل کی اشد ضرورت ہے جو شخص مصائب کے وقت صبر کا مظاہرہ کرتا ہے اور اللہ کی رضا پر راضی رہتا ہے تو وہ کبھی شکست سے دوچار نہیں ہوتا، جب تسلیم و رضا کا جزبہ کسی قلب و ذہن میں جا گزیں ہو جاۓ تو پھر غموں سے غم نہیں آتا اور سکھ سے سکھ نہیں آتا۔
نت نئے بل کھاتا سونامی..........شاہراہ دستور سے ٹکرا کر ناکام و نامراد لوٹا
اور...اب ...مضافاتی....ساحلوں سے ٹکرا کر شرمندگی دھو رہا ہے.....
خالی کینٹینر سے ٹیک لگائے........".پہلا درویش" یہ سوچ رہا ہے کہ کہ اگر "چندے کی بارشیں" وقت پر ہو گئیں......یا.... کینیڈا سے کوئ نیا نسخہء انقلاب شیخ کے ہاتھ لگ گیا...... تفصیل سے پڑھئے

کنور اطہر علی خاں کی پیدائش علی گڑھ کے قصبہ پٹل کے ایک معزز خاندان میں22فروری سنہ 1933کو ہوئی تھی۔ ان کی ابتدائی تعلیم علی گڑھ میں ہی ہوئی۔علی گڑھ کے قصبہ پٹل سے ہجرت کر کے وہ سنہ 1949میں کراچی چلے گئے تھے او روہاں مشہور اخبار ” جنگ “ کے انتظامی شعبے سے وابستہ ہوئے او رترقی کر کے چیف اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر پہنچے۔
اطہر نفیس نے ایک منفرد شاعر کی حیثیت سے ادب میں اپنا مقام بنایا۔ اطہر نفیس کو کم وقت ملا اور صرف 47برس کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی زندگی میں تو ان کا شعری مجموعہ شائع نہیں ہو سکا لیکن انتقال کے بعد احمد ندیم قاسمی نے اسے”کلام“ کے نام سے شائع کیا۔کم عرصے میں ہی انہوں نے اپنی منفرد آواز کے نقوش چھوڑے۔ تفصیل سے پڑھئے

آج 23 نومبر اردو کے عظیم افسانہ نگار کرشن چندر کا یوم پیدائش ھے۔
تاریخ پیدائش : 23 نومبر 1914ء
تاریخ وفات : 08 مارچ 1977 ء
کرشن چندر اردو کے مشہور و معروف افسانہ نگار ہیں۔ ان کی پیدائش 23 نومبر 1914 کو وزیر آباد، ضلع گجرانوالہ، پنجاب (پاکستان) میں ہوئی تھی۔ ان کے والد گوری شنکر چوپڑا میڈیکل افسر تھے جنہوں نے کرشن چندر کی تعلیم کا خاص خیال رکھا۔ کرشن چندر نے چونکہ تعلیم کا آغاز اردو اور فارسی سے کیا تھا اس لئے اردو پر ان کی گرفت کافی اچھی تھی۔ تفصیل سے پڑھئے

ہندوستان میں ایک جگہ مشاعرہ تھا۔
ردیف دیا گیا:
"دل بنا دیا"
اب شعراء کو اس پر شعر کہنا تھے۔
سب سے پہلے حیدر دہلوی نے اس ردیف کو یوں استعمال کیا:
اک دل پہ ختم قدرتِ تخلیق ہوگئی
سب کچھ بنا دیا جو مِرا دل بنا دیا
اس شعر پر ایسا شور مچا کہ بس ہوگئی ، لوگوں نے سوچا کہ اس سے بہتر کون گرہ لگا سکے گا؟
لیکن جگر مراد آبادی نے ایک گرہ ایسی لگائی کہ سب کے ذہن سے حیدر دہلوی کا شعر محو ہوگیا۔
انہوں نے کہا:
بے تابیاں سمیٹ کر سارے جہان کی
جب کچھ نہ بَن سکا تو مِرا دل بنا دیا۔
میں آپ کو بتاتا چلوں کہ حیدر دہلوی اپنے وقت کے استاد تھےاور خیام الہند کہلاتے تھے۔ جگر کے کلام کو سنتے ہی وہ سکتے کی کیفیت میں آگئے، جگر کو گلے سے لگایا،ان کے ہاتھ چومے اور وہ صفحات جن پر ان کی شاعری درج تھی جگر کے پاوں میں ڈال دیے۔
اس واقعے سے قبل دہلی کی لال قلعہ میں ایک طرحی مشاعرہ تھا۔ قافیہ " دل" رکھا گیا تھا۔ اُس وقت تقریبا سبھی استاد شعراء موجود تھے۔ان میں سیماب اکبرآبادی اور جگر مرادآبادی بھی تھے۔سیماب نے اس قافیہ کو یوں باندھا۔۔۔۔۔
خاکِ پروانہ،رگِ گل،عرقِ شبنم سے
اُس نے ترکیب تو سوچی تھی مگر دل نہ بنا
شعر ایسا ہوا کہ شور مچ گیا کہ اس سے بہتر کوئی کیا قافیہ باندھے گا؟۔ سب کی نظریں جگر پر جمی ہوئی تھیں۔
معاملہ دل کا ہو اور جگر چُوک جائیں۔۔وہ شعر پڑھا کہ سیماب کو شعر لوگوں کے دماغ سے محو ہوگیا۔
زندگانی کو مرے عقدہء مشکل نہ بنا
برق رکھ دے مرے سینے میں، مگر دل نہ بنا

خواجہ غلام فرید (1901۔1844) پنجاب میں صوفیانہ مسلک چشتیہ کے احیاء کا سرا خواجہ نور محمد مہاردی کے سر ہے ۔ یہاں مٹھن کوٹ کے مرکز کے نگران خواجہ محمد عاقل تھے جو خواجہ نور محمد مہاروی کے خلفیہ اور خواجہ غلام فرید کے جد امجد تھے ۔ خواجہ فرید 1844ء میں یہیں پیدا ہوئے ۔ تفصیل سے پڑھئے
بیس سالہ باربر مارک جو ایک پیشہ ور حجام تھا بیٹھے بٹھائے...عجیب الجھن میں گرفتار ہو گیا.....غلطی اس کی اپنی تھی.... ایک مشہور امریکی شخصیت اس سے بال کٹوا بیٹھی....اس نے چپکے سے بال سنبھال کر رکھ لیے.....اور لگے ہاتھوں 3 ہزار امریکی ڈالرز میں بیچ کھائے....خبر اخبار میں چھپ گئ....اور اس سنکی بڈھے تک بھی پہنچ گئ....جس کے بال تھے....حجام کو کورٹ میں گھسیٹا...پیسے برامد کروائے اور ایک چرچ کو صدقہ کردیے. تفصیل سے پڑھئے
پہلی جنگ عظیم کے دوران فرانس کے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ’جنگ جیسے اہم معاملے کو فوجی جرنیلوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا‘ اس لئے فوج اور فوجی جرنیلوں کی استعداد کار کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جاناضروری ہے۔لیکن فوج کو ہمارے معاشرے میں جو مقام حاصل ہے، اس کے پیش نظر فوجی افسران، خاص طور پر اعلیٰ افسران کی ذہنیت (اور ذہنی استعداد) کے متعلق اردو ذرائع ابلاغ میں بہت کم لکھا گیا ہے۔ پاکستانی فوج اور اسکی اعلیٰ کمان کی جنگی صلاحیتوں اور منصوبہ بندی پر اک نظر ڈالنے کی خاطر یہ سلسلہ مضامین پیش خدمت ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
'قلعہ ایک ہی وقت میں دفاع، حکومتی ایوان، اور مقامی حکمرانوں کی رہائش کے کام آتا ہے'۔ (رچرڈ ایف برٹن، سندھ ری وزیٹڈ)- سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے بیچوں بیچ ایک عظیم الشان قلعے کی باقیات موجود ہیں۔ کبھی اس کی شان و شوکت کے چرچے ہر جگہ ہوا کرتے تھے، آج اس شان و شوکت کا صرف کچھ حصہ ہی باقی بچا ہے۔ ہاں ایک دیو ہیکل دروازہ اب بھی موجود ہے، اور اپنی خستہ حالی کی دہائی دیتا نظر آتا ہے۔ پکے قلعے کی کہانی ایک دلچسپ کہانی ہے، جس میں مختلف حکمرانوں کے عروج و زوال کی داستانیں موجود ہیں۔ قلعے کی باقیات اب بھی اس کے شاندار ماضی سے لے کر اس کی موجودہ حالتِ زار کی کہانی بیان کرتی نظر آتی ہیں۔  تفصیل سے پڑھئے
مصطفیٰ کمال پاشا (اتاترک) محض اس لیے عظیم نہیں تھے کہ ان میں بیک وقت اک سپہ سالار اور سیاسی مدبر کی اعلیٰ خوبیاں پائی جاتی تھیں، اور نہ ہی وہ اس لیے عظیم تھے کہ وہ جدید ترکی کے معمار تھے۔ وہ اس لیے عظیم تھے کہ انہوں نے ترکوں اور ترکی کو تعصب، شکست اور تنہائی کے گہرے گڑھے میں گرنے سے نہ صرف بچایا بلکہ خلافت، امامت و بادشاہت کو مسترد کر کے ترک وطنی ریاست (Turkish Republic) بنائی اور اقوام عالم میں ترکوں کو اپنے پاؤں پر دوبارہ کھڑا کر دیا۔  تفصیل سے پڑھئے
"یہ لیجیے سونامی موبائل........لانگ لائف....تین سال کی گارنٹی کے ساتھ.....فری سروس" دکاندار نے ایک گول مول سا زنگ خوردہ موبائل دراز سے جھاڑ پونچھ کے نکالا."اس کی کیا خصوصیت ہے" ہم نے چرخہ رہٹ اور ہل کے زمانے کے اس موبائل کو الٹتے پلٹتے سوال کیا.....
"ہمیشہ بے وقت کی راگنی بجا کر قوم کو جگاتا ہے....پہلے ڈی جے بٹ کا گیت بجے گا.....آپ نہیں جاگتے تو...عطاءاللہ نیازی کے نوحے اور بین گونجیں گے.....اور اگر آپ پھر بھی ڈھیٹ بن کے سوئے رہے تو....کپتان کی آواز میں گالیوں کا طوفان آئے گا....." دکاندار نے وضاحت کی...
"بیٹری کتنی دیر چلتی ہے " ہم نے ایک اچھے کسٹمر کی طرع سوال کیا
"اس کے ساتھ قادری چارجر فری ہے.........یہ کینیڈا سے فلی چارج ہو کر آتا ہے.....پھر سونامی موبائل کو چارج کرتا ہے....." دکاندار نے ایک ٹوپی بردار چارجر ہمیں دکھاتے ہوئے کہا
"اس کی ڈائریکٹری ...... میں تمام بکاؤ صحافیوں کے موبائل نمبرز موجود ہیں......آپ جی بھر کے گالیاں دے سکتے ہیں.....جب جی بھر جائے تو کال خود بخود کٹ جائے گی......اور یہ کال بھی فری ہے- " دکاندار نے ایک اور شوشہ چھوڑا
"اول تو میں اخبار پڑھتا ہی نہیں....اور اگر پڑھ لوں تو یہ نہیں دیکھتا کہ کس نے لکھا ہے.....بلکہ یہ دیکھتا ہوں کہ کیا لکھا ہے-" ہم نے معزرت خوانہ انداز اختیار کیا......
"بھائ اس میں لڑکیوں کے نمبر بھی ہیں" دکاندار نے سرگوشی کی
""پورے پاکستان کی نیک چلن عورتیں میری مائیں بہنیں ہیں......سوائے ہماری زوجہ محترمہ کے" ہم نے روکھا ہو کر جواب دیا
"اوہ....تو اس کا مطلب ہے آپ پٹواری ہیں......پھر تو یہ آپ کےلیے بے کار ہے" دکاندار نے موبائل ہمارے ہاتھ سے واپس لیتے ہوئے کہا-
"نہیں.....میں پٹواری نہیں ہوں..........میں پاکستانی ہوں..... ایک سچا پاکستانی-
یہ کہ کر میں دکان سے چل پڑا......پیچھے سے دکاندار کی آواز آئ... . " چہرے کے داغ دھبے دور کرنے کے نسخے بھی.....".. میں نے پلٹ کر جواب دیا "عمل برے ہوں تو بڑی سے بڑی کرم بھی چہرے کے داغ دھبے دور نہیں کر سکتی "....
اور تیز تیز قدم اٹھاتا مارکیٹ سے باہر آگیا.
(یونیورسٹی آف سرگودھا کے پیج پہ ایک بڑبونگ پہ پیش کردہ کچھ معروضات/محمد هارون العلوي)
اللہ کے بندے ! کیسے باتیں پھیلاتے ھو؟ ایک یونیورسٹی کے پیج پہ اس قدر بے تکی ہانکتے ھوئے "مبنی بر شَر" پوسٹنگ دیکھ کے دلی صدمات میں کچھ بھی اضافہ تو نہیں ھوا، البتہ ایسی پوسٹ کو پھیلانے والے 4 درجن سے زائد لوگوں اور 5 سو سے اوپر پسند کرنے والوں کی تعداد سے دل خاصا سرشار ھوا۔  تفصیل سے پڑھئے
عورت کا مطلب ہے چھپی ہوئی چیز ۔ اللہ نے پردہ فرض کیا ہے اس کا منکر یعنی اس کو فرض نا ماننے والا کفر میں چلا جاتا ہے ۔ سانس گھٹنا یا دوسری قسم کے بہانے ان سب سے پردہ کا فرض ساقط نہیں ہوتا ۔ اگر کبھی کسی نقاب والی عورت نے کوئی غلط کام کیا ہو اس وجہ سے پردہ چھوڑنا نہایت جہالت بے وقوفی اور اللہ کے قہر کو دعوت دینے والی بات ہے۔ اگر کبھی کوئی ڈاکٹر غلط آپریشن کردیتا ہے یا اکثر اپنے پیشے سے نا انصافی کرتے ہیں تو ایسے منطقی لوگ ڈاکٹر بننا یا بچوں کو بنانا بھی چھوڑ دیا کریں نیز آنکھ کا پردہ ہے یا دل کا پردہ ہے یہ کہنے والی خواتین و حضرات سے ایک سوال ہے کہ کیا صحابیات کے دلوں سے زیادہ پاک دل ہے ان کا؟  تفصیل سے پڑھئے

اکتوبر 1937 ....لکھنؤ کی ایک روپیلی صبح ...آل انڈیا مسلم لیگ کا پچیسواں یوم تاسیس تھا- اس موقع پر مسلم لیگ کے کچھ سرکردہ رہنما ایک وجیہ اور بظاہر دبلے پتلے شخص کو گھیرے خوش گپیوں میں مصروف تھے.....ًمحمد علی جناح مخصوص پینٹ کوٹ اور انگریزی ہیٹ میں مسرور.. مطمئن.. اور پرعزم لگ رہے تھے - تفصیل سے پڑھئے
دوسرا درویش چار زانو ہو بیٹھا پھر سگریٹ کو نرم کرتا ....سلگاتا... یوں گویا ہوا !! مری کہانی کو سمجھے نہ کوئ افسانہ
مرا تعارف انصافین ہوں دیوانہ
جنون بیٹھنے دیتا نہیں خدا کی قسم
بدل کے ہم ہی دکھائیں گے رنگ مے خانہ

صاحبو یہ درویش...کہ تبدیلی جس کا خواب ہے....اور آزادی جس کا جنون....ملک پنڈ دادنخان کا رہنے ولا ہے......اور. 3 ماہ سے اس دھرنے میں قائم و دائم ہے ...... والد گرامی اس درویش کے محکمہ زراعت میں پٹواری تھے.......چنانچہ آنکھ کھولی تو گھر میں ایک پٹوارخانہ کھلا دیکھا...... تفصیل سے پڑھئے
ایک دفعہ خلیفہ مامون الرشید کے مشہور جنرل طاہر بن حسین کو کسی شخص نے مغلظات بکیں مگر وہ خاموشی سے سنتا چلا گیا۔ ایک دوست نے یہ ماجرا جو دیکھا تو کہا کہ طاہر تم مامون الرشید کے سب سے بڑے جنرل ہو اور گالیاں خاموشی سے سنتے ہو، آخر اس شخص کو سزا کیوں نہیں دیتے؟
جنرل طاہر نے جواب دیا کہ....!
"مچھر کو مارنے کے لیے طاقت کا استعمال فضول سی بات ہے-"
اس دوست نے پھر کہا ’’لیکن تم اس کو جواب میں گالیاں تو دے سکتے ہو تاکہ اس کی زبان بند ہوجائے‘‘
جنرل نے جواب دیا:’’میں کسی ایسی لڑائی میں حصہ نہیں لینا چاہتا جس میں غالب مغلوب سے زیادہ ذلیل ہو جاتا ہے‘‘
٣:~ ایک مرتبہ بلخ کے قاضی ابو عبداﷲ کو کسی عالم نے ناراض ہوکر نہایت برا خط لکھا۔ اس خط میں قاضی پر لعنت اور گالیوں کی بوچھاڑ کی گئی تھی۔ عقل مند اور تحمل مزاج قاضی نے خط پڑھا اور جواب میں چند سطریں لکھ کر 20 سیر صابن روانہ کردیا۔
قاضی نے اپنے خط میں لکھا تھا..!
’’آپ کا خط موصول ہوا، نہایت عمدہ 20 سیر صابن خدمت میں ارسال ہے۔ اس سے اپنی زبان، قلم اور اعمال نامہ دھونے کا کام لیجیے اور اگر یہ نا کافی ہو تو لکھیے تاکہ مزید صابن ارسال کردیاجائے۔‘‘
د:~ کہتے ہیں کہ خوارزم شاہی خاندان کا بادشاہ تکش ایک بار اپنے قریبی سردار نصیر الدین سے ناراض ہوگیا اور اس نے اپنے ایک سپہ سالار کو اس کا سرکاٹ کر لانے کا حکم دیا۔ نصیر الدین نے سپہ سالار کی بہت خوشامد کی اور اسے اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ اسے تکش بادشاہ کے سامنے پیش کردے۔ جب بادشاہ کے سامنے نصیر الدین پہنچا تو اس نے بادشاہ کی خدمت میں سلام عرض کیا اور بولا..!
’’آپ نے میرا سر مانگا تھا مگر میں نے سوچا کہ میں یہ امانت خود آپ کی خدمت میں پیش کرونگا، میں سر اپنی گردن پر اٹھاکر لایا ہوں۔‘‘
اس کا یوں شیریں جواب سن کر بادشاہ تکش کا غصہ ختم ہو گیا اور اس نے نصیر الدین کو معاف کردیا۔

بلا شبہ اخلاقیات میں بڑی طاقت ہے مگر اخلاقیات کا مظاہرہ کرنا آسان نہیں، اس کی قیمت بھی چکانا پڑتی ہے، خاص کر اپنے ماتحت افراد کے ساتھ اخلاقیات کا مظاہرہ آسان نہیں، نوکروں، ملازمین کے ساتھ معاملات میں نرمی یا اخلاقیات کا برتاؤ انھیں بد اخلاق بنادیتاہے لیکن دوسری طرف اگر ماتحت اپنے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرے تو اسے بے وقوف یا احمق سمجھا جاتاہے اور اس کے جائز مطالبات کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔

ڈاکٹر نوید انصاری کے کالم سے ماخوذ.
آپﷺ کازمانہ نبوت صرف ۲۳ سال ہے۔ جن میں سے ابتدائی تین سال تو انتہائی خفیہ تبلیغ کے ہیں۔ باقی بیس سال میں اس محسن انسانیت پر کم و بیش اٹھارہ دفعہ قاتلانہ حملے یا آپؐ کو ختم کرنے کے لئے سازشیں ہوتی رہیں۔
ان میں سے دس حملے یا سازشیں تو مشرکین مکہ سے تعلق رکھتی ہیں، تین یہود سے، تین بدوی قبائل سے، ایک منافقین سے اور ایک شاہِ ایران خسرو پرویز سے۔  تفصیل سے پڑھئے
"ایک بادشاہ نے اپنی رعایا پر ظلم و ستم کرکے بہت ساخزانہ جمع کیا تھا ۔ اور شہر سے باہر جنگل بیابان میں ایک خفیہ غار میں چھپا دیا تھا اس خزانہ کی دو چابیاں تھیں ایک بادشاہ کے پاس دوسری اس کے معتمد وزیر کے پاس ان دو کے علاوہ کسی کو اس خفیہ خزانہ کا پتہ نہیں تھا..." تفصیل سے پڑھئے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کہا کرتے تھےکہ ...'' اللّٰہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں (زمانہ نبوی میں) بھوک کے مارے زمین پر اپنے پیٹ کے بل لیٹ جاتا تھا اور کبھی میں بھوک کے مارے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا۔"
ایک دن میں اس راستے پر بیٹھ گیا جس سے صحابہ نکلتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ گزرے اور میں نےان سے کتاب اللّٰہ کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا، میرے پوچھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھلا دیں مگر وہ چلے گئےاور کچھ نہیں کیا۔ تفصیل سے پڑھئے
دوسرا درویش سر کھجاتا اور سگریٹ میں چرس بھرتا ہوا یوں گویا ہوا !!
صاحبو یہ فقیر لاچار کہ ملک جسکا پنڈ دادنخان ضلع جہلم ہے ایک ماہ سے اس دھرنے میں موجود ہے- والد گرامی اس سیاہ کار کے محکمہ زراعت میں پٹواری تھے اور بندہ ان کی پہلی اور آخری اولاد- طبیعت شروع ہی سے لا ابالی تھی اورشعروادب کا ذوق پایا تھا چنانچہ گاہ گاہ والد گرامی سے چھتر پریڈ بھی کراتا رہا - تفصیل سے پڑھئے
انسانیت والا معاملہ ہمارے اندر سے گمنامی کی فضاؤں میں اڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ گو کہ ہم انسان ہیں لیکن بہت کم لوگ اس دنیا میں جو انسانیت کا مظاہرہ کر تے ہیں کہ اگر وہ کسی کو تکلیف میں دیکھیں تو اسے اپنی ہی تکلیف سمجھتے ہیں-میں نے جتنا بھی سیکھا اس دنیا میں مشاہدات کی روشنی میں سیکھا۔ ورنہ ہماری کتابیں ہمیں وہ حقیقت نہیں دکھاتیں جو ہمارے روز مرہ سے مماثلت رکھتے ہوں۔ ہمارامعاشرہ اور یہاں کے بسنے والے آدم زادوں کے رویوں سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔
لوہا کوٹنا محنت کی نشانی ہے اور پیشہء داؤدی ہے اس پر اعتراض چہ معنی ندارد!!!! کسی سیاستدان کو فوجی کی پیداوار کہنا پرانا محاورہ ہے....لیکن آپ اس اعتراض کا جواب اس لئے نہیں دیا جا سکتا کہ یہاں میرے اور آپ کے باٹ مختلف ہیں.... میں ضیاء شہید کو مرد مومن مرد حق کہتا ہوں جس نے جہاد افغانستان کی سعادت حاصل کر کے سرخ ریچھ کا راستہ روکا...یہ صرف میرا نہیں....تقریبا ہر پٹواری کا یہی عقیدہ ہے..... تفصیل سے پڑھئے
آخر دنیا بھر میں ہونے والے ان سرویز کا طریقہ کار کیا ہے؟ اور آبادی کے کس حصے کے لوگوں سے لیا جاتا ہے۔ کہ میں اب تک کئی بہاریں دیکھ چکا ہوں لیکن آج تک کوئی سروے کرنے والا میرے پاس تو نہیں آیا۔۔۔کیا آپ کے پاس آیا ہے؟ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ہر دس میں سے پانچ خواتین کے سروں میں جوئیں پائی جاتی ہیں۔ ایک دوسرے سروے کے مطابق عورتوں کے مقابلے میں مرد چٹخارے دار مسالوں کے شوقین ہوتے ہیں۔ ہر پانچ میں سے چار مرد چٹخاروں کو پسند کرتے ہیں۔ جبکہ ایک مزید ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ہر دس میں سے آٹھ نوجوانوں کا پسندیدہ کھیل فٹ بال ہے لیکن کھیلتے کرکٹ ہیں۔ یہ اور اس قسم کے بیسیوں اوٹ پٹانگ سروے آپ پڑھتے رہے ہوں گے۔ تفصیل سے پڑھئے
شعبہ صحافت سے وابستہ ہونے کے ناطے انسان کی مصروفیت دوگنی ہوجاتی ہے،ہمہ وقت زندگی مصروف رہتی ہے۔ایک دن انتہائی مصروفیت سے فراغت نصیب ہوئی،تو سوچا کچھ وقت دوستوں اور یاروں کے ساتھ گزاروں،کیوں نہ ان سے ملوں،اسی طرح چار،پانچ دوستوں پر مشتمل ٹولے کا ملن ہوا۔انسان کی زندگی جب اس حد تک مصروف ہوجاتی ہے اور کبھی دوستوں سے ملنے کا شرف حاصل ہوجائے تو ماضی کی خوشگوار یادوں میں کھونا ایک فطری عمل ہے، تفصیل سے پڑھئے
اگر یہ کہا جائے کہ گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈز دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اور سب سے زیادہ دلچسپ کتابوں میں سے ایک ہے تو غلط نہ ہوگا۔ دنیا بھر کے حیران کن ریکارڈز پر مشتمل اس کتاب کے پاس یہ ریکارڈ بھی ہے کہ یہ کاپی رائٹ والی کتابوں میں سے دنیا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے۔ اس کتاب کے وجود میں آنے کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔
یہ 1951ءکی بات ہے کہ مشہور امریکی کاروباری شخصیت اور صنعتکار ہو بیور آئر لینڈ میں دریائے سیلینی کے کنارے شکار کررہے تھے۔ جب انہوں نے ایک پرندے کو شکار کرنے کی کوشش کی تو وہ پُھر سے اُڑ گیا۔ یہ پرندہ مرغابی سے ملتا جلتا گولڈن پلوور تھا۔ نشانہ خطا جانے پر ہوبیور نے یہ وجہ بتائی کہ یہ پرندہ یورپ کا سب سے تیز رفتار پرندہ تھا اور یوں دوستوں کے ساتھ اس کی یہ بحث شروع ہوگئی کہ سب سے تیز رفتار پرندہ گولڈن پلوور ہے یا ریڈ گروز۔ جب فیصلہ کرنے کے لئے مختلف کتابوں میں یہ معلومات ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی تو کسی بھی کتاب میں یورپ کے تیزرفتار ترین پدندے کا ذکر نہ ملا۔ یہ معلومات نہ ملنے پر ہوبیور کو اتنی مایوسی ہوئی کہ اس نے خود ایک ایسی کتاب بنانے کا فیصلہ کرلیا جس میں ہر شعبہ میں بہترین شخص، جانور یا چیز کا ذکر ہوگا۔ اس کتاب کو گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کا نام دیا گیا اور اس کا پہلا ایڈیشن اگست 1955ءمیں لندن سے شائع کیا گیا جو کہ شائقین کو مفت تقسیم کیا گیا۔ اس کتاب نے منظر عام پر آتے ہی بے پناہ مقبولیت حاصل کرلی اور پھر ہر آنے والے دن کے ساتھ اس کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ اب اسے ہر سال ستمبر یا اکتوبر کے مہینے میں شائع کیا جاتا ہے اور دنیا بھر میں لوگ اسے شائع ہوتے ہی دیکھنے کے لئے بے تاب رہتے ہیں۔
کیا آپ دنیا کی سب سے قیمتی گائے کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں جس کا ذکر قرآن میں بھی ہے۔ بلکہ اسی گائے کے نام پر قرآن پاک کی سب سے بڑی سورت کا نام بھی رکھا گیا ہے۔ یعنی سورہ بقرہ پارہ۱،البقرۃ:۶۷تا۸۳  میں اس گائے کا ذکر کچھ یوں ہے۔ تفصیل سے پڑھئے

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers